Explained with ayahs 29–34
کاہن کی پہچان
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے کاہن اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ الحمد اللہ آپ نہ تو جنات والے ہیں نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا ؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہوجائے گا پھر اپنے نبی ﷺ کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو ادھر میں بھی…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 26
دوسرے الفاظ میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ قریش کے جو لوگ قرآن کو محمد ﷺ کا اپنا تصنیف کردہ کلام کہتے ہیں خود ان کا دل یہ جانتا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں ہو سکتا، اور دوسرے وہ لوگ بھی جو اہل زبان ہیں نہ صرف یہ کہ اسے سن کر صاف محسوس کرلیتے ہیں کہ یہ انسانی کلام سے بہت اعلیٰ وارفع ہے بلکہ ان میں سے جو شخص بھی محمد ﷺ سے واقف ہے وہ کبھی یہ گمان نہیں کرسکتا کہ یہ واقعی آپ ہی کا کلام ہے۔ پس صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ قرآن کو آپ کی تصنیف قرار دینے والے دراصل ایمان نہیں لانا چاہتے اسلیے وہ طرح طرح کے جھوٹے بہانے گھڑ رہے ہیں جن میں سے ایک بہانہ یہ بھی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(امر یقولون نقولہ بل لا یومنون فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانو صدقین) (33، 34)
(ایک اور الزام کا جواب)۔۔ یہ ان کے ایک اور الزام کا حوالہ اور اس کا جواب ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو گھڑا تو انہوں نے خود ہے لیکن اپنی نبوت کی دھونس جمانے کے لیے دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ سے ان پر اتارا ہے۔ تقول کے معنی کسی پر جھوٹا بہتان لگانے کے ہیں، یہی مضمون دوسرے مقامات میں (بد فترہ) سے ادا کیا گیا ہے، یعنی ان کے نزدیک یہ کتاب ہے تو ان کی اپنی طبع زاد لیکن عوام فریبی کے لیے جھوٹ موٹ یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ (بل لا یومنون) یہ اصل حقیقت کا…
Read the full tafseer →33۔ 1 یعنی قرآن گھڑنے کے الزام پر ان کو آمادہ کرنے والا بھی ان کا کفر ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
8: یہ چیلنج قرآن کریم نے کئی مقامات پر دیا ہے کہ اگر تم قرآن کریم کو گھڑا ہوا کلام کہتے ہو، تو تم لوگوں میں بڑے بڑے ادیب، شاعر اور فصیح وبلیغ لوگ موجود ہیں، وہ سب مل کر قرآن کریم جیسا کلام بنا کرلے آئیں۔ (دیکھئے سورة بقرہ : 23، سورة یونس : 38، سورة ہود : 13 اور سورة بنی اسرائیل : 88) لیکن اس کھلے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے ان میں سے کوئی آگے نہیں بڑھا۔
Read the full tafseer →ام یقولون تقولہ (25 : 33) ” کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے یہ خود گھڑ لیا ہے “ اور اس کے بعد جلد ہی اصل حقیقت بتادی جاتی ہے۔
بل لا یومنون (25 : 33) ” اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے “ ان کے دلوں کو شعور ایمان حاصل نہیں ہے۔ یہی بےشعوری ہے جو ان کے منہ سے یہ بات کہلواتی ہے اور یہ قول یہ لوگ تب ہی کہتے ہیں کہ ایمان کی نعمت سے یہ لوگ محروم ہیں۔ اگر یہ قرآن کی حقیقت کا ادراک کرلیتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ یہ انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں ہے اور اس کے حامل صادق وامین ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ پیغمبر جو کچھ سنا رہا ہے وہ اللہ کا کلام نہیں ؟ بلکہ اپنے دل سے گھڑ لایا ؟ اور جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کردیا ؟ سو نہ ماننے کے ہزار بہانے۔ جو شخص ایک بات پر یقین نہ رکھے اور اسے تسلیم نہ کرنا چاہے وہ اسی طرح کے بےسروپا احتمالات نکالا کرتا ہے ورنہ آدمی ماننا چاہے تو اتنی بات سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ وہ دنیا کی تمام طاقتوں کو اکٹھا کر کے بھی اس قرآن کا مثل نہیں لاسکتے۔ اور جیسے خدا کی زمین جیسی زمین، اور اس کے آسمان جیسا آسمان بنانا کسی سے ممکن نہیں، اس کے قرآن جیسا قرآن بنا لانا بھی محال ہے۔
Read the full tafseer →آیت 33{ اَمْ یَـقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَـہٗ ج } ”کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ اس محمد ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے ؟“
تَقَوَّلَ باب تفعل سے ہے اور اس کے معنی تکلف کر کے کچھ کہنے کے ہیں ‘ یعنی قرآن کے بارے میں مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد ﷺ محنت و ریاضت کے ذریعے یہ کلام خود ”موزوں“ کرتے ہیں۔
{ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَ۔ } ”بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ماننے والے نہیں ہیں۔“
Read the full tafseer →26 قرآن سے متعلق قریش کے آپ پر الزامات :۔ ان کے منجملہ الزامات سے ایک یہ بھی تھا کہ قرآن اس نے خود تصنیف کر ڈالا ہے اور پھر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ اور کبھی یہ کہہ دیتے کہ قرآن کسی عجمی عالم سے سیکھ کر ہمیں سنا دیتا ہے اور کہہ دیتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ انہیں یہ الزام لگاتے وقت اتنی بھی شرم نہ آئی کہ جس شخص نے زندگی بھر کسی سے جھوٹ نہ بولا ہو۔ کسی پر الزام نہ لگایا ہو، کسی سے فریب نہ کیا ہو، کیا وہ اللہ پر ایسا الزام لگا سکتا ہے ؟ پھر انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ اس کا کلام تو ہم نبوت سے پہلے بھی سنتے رہے ہیں اور نبوت کے بعد وہ صرف اللہ کا کلام ہی نہیں سناتا اور بھی بہت سی باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
15۔ یعنی اگر واقعی یہ منکرین یہی سمجھتے ہیں کہ قرآن ایک انسانی گڑھت ہے تو یہ بھی تو آخر انسان ہیں اور بڑے ” روشن خیال “۔ عالی دماغ “۔ صاحب زبان قسم کے انسان “۔ یہ خود مل کر کیوں نہیں کوئی ایسی ہی کتاب تیار کردیتے ہیں جو مغز ومعنویت یا زبان وانشاء کسی حیثیت سے بھی اس کی ہم سطح ہو ؟ (آیت) ” بل لایؤمنون “۔ یعنی ان کی یہ تکذیب قرآن وتکذیب رسول کسی عقلی غلط فہمی کا نتیجہ نہیں بلکہ تمامتر ان کی قوت یقین و ایمان کی کمی کا ثمرہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔
ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…
Read the full tafseer →ام یقولون تقولہ بل لا یؤْمنون
یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہ لوگ تصدیق نہیں کرتے
اَمْ یَقُوْلُوْنَ : بلکہ یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے قرآن خود بنا لیا ہے ‘ اللہ کی طرف سے نہیں آیا حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ دشمنی اور فرط عناد کی وجہ سے یہ لوگ مانتے نہیں ہیں اور اس قسم کی باتیں بناتے ہیں۔
Read the full tafseer →ہاں کیا کفار مکہ یوں بھی کہتے ہیں کہ رسول اکرم نے اس قرآن کریم کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے بلکہ یہ لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق ہی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →(امن یقولون تقولہ بل لایومنون :) تقول یتقول تقولاً“ (تفعل) تکلف سے بات بنانا اور گھڑنا۔ ”فلان نقول علی فلان“ فلاں نے فلاں پر جھوٹ گھڑ دیا۔“ یعنی یا وہ قرآن کے متعلق کہتے ہیں کہ نبی نے یہ کلام اپنے پاس سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر نہیں فرمایا کہ نہیں یہ نبی کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے، کیونکہ خود ان کا دل جانتا ہے کہ یہ آپ ﷺ کا اپنا کلام نہیں ہوسکتا۔ جو لوگ اہل زبان ہیں وہ اسے سن کر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔ پھر جو شخص رسول اللہ ﷺ کو جانتا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ نبوت سے پہلے چالیس برس تک کسی انسان پر بھی جھوٹ نہ باندھنے والا شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ام تا مرھم احلا مھم بھذا، احلام سے مراد ان کے عقول ہیں۔ ھذا سے مراد آپ کی ذات پر جھوٹ بولنا ہے۔ ام ھم قوم طاغون ،۔ یا بغیر عقل کے وہ سر کشی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام بل کے معنی میں ہے۔ بلکہ انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے کفر کیا اگرچہ ان کے لئے حق ظاہر ہوا۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ سے کہا گیا : کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم ایمان نہیں لائی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت دانشمند ہونے سے بیان کی ہے ؟ فرمایا : وہ ایسی عقلیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق نصیب نہیں فرمائی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ احلامھم سے مراد ان کے اذہان ہیں کیونکہ عقل کافر کو نہیں دی جاتی اگر اس کے پاس عقل ہوتی تو وہ ایمان لے آتا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔
6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا یہ لوگ کہتے ہیں ] تَـقَوَّلَهٗ ۚ [ اس نے گھڑ لیا اس کو ] بَلْ [ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ ) ] لَّا يُؤْمِنُوْنَ [ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
منکرین اور معاندین کی باتوں کا تردید
ان آیات میں ابتدائی خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے پھر اسی ذیل میں اہل مکہ سے سوال و جواب ہے گویا آپ کے واسطہ سے ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے ارشاد فرمایا کہ آپ نصیحت حق فرماتے رہیں دشمنوں کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں یہ لوگ آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و انعام ہے آپ نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں، نیز ان منکرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ شاعر ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ ان کی موت کا حادثہ ہوجائے تاکہ ان سے ہمارا چھٹکارا ہوجائے اور ہم سے جو خطاب کرتے ہیں اور اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ بند ہوجائے جیسے بہت سے شاعر دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
16:۔ ” ام یقولون تقولہ “ یہ بھی شکوی ہے کبھی کہتے ہیں اس نے یہ قرٓان اپنے پاس سے بنا لیا ہے، یہ بات نہیں، بلکہ وہ چونکہ ایمان نہیں لانا چاہتے، اسلیے محض ضد وعناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں۔ فلکفرہم وعنادھم یرمونہ بھذہ المطاعن مع علمہم ببطلان قولہم وانہ لیس بمتقول لعجز العرب عنہ (مدارک ج 4 ص 146) ۔ ” فلیاتوا بحدیث۔ الایۃ ‘] یہ جواب شکوی ہے۔ اگر وہ اس دعوے میں سچے ہیں کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے اپنے پاس سے بنایا ہے۔ تو وہ بھی ایسا ہی کلام بنا کرلے آئیں۔ اگر محمد صلی اللہ علی ہو سلم محض اہل زبان ہونے کی وجہ سے ایسا کلام بنا سکتے ہیں تو یہ بھی اہل زبان ہیں۔ ایسا کلام بنا سکتے ہیں تو یہ بھی اہل زبان ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔
کہانت اور دیوانگی کی نفی
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَـقَوَّلَہٗ 0 ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُوْنَ 33 ۚ
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔
تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اَمْ یَقُوْلَوْنَ تَقَوَّلَـہٗ ج بَلْ لاَّیُؤْمِنُوْنَ ۔ فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِـہٖٓ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ ۔ (الطور : 33، 34)
(کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے خود ہی گھڑ لیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔ پس یہ اسی شان کا ایک کلام بنا لائیں اگر یہ اپنے قول میں سچے ہیں۔ )
قرآن کے حوالے سے آپ ﷺ پر ایک اور اعتراض اور اس کا جواب
قریش کے ایک اور الزام کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ پر لگاتے تھے اور اس کا جواب دیا گیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ اس قرآن کریم کو آپ نے خود گھڑ لیا ہے۔ تَقَوَّلَ کا معنی ہوتا ہے کسی بات کو خود گھڑ کر دوسرے پر اس کا الزام لگانا۔ اسی بات کو قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کا چوتھا الزام اور اس کا جواب۔
فہم القرآن میں یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ جب انسان ضد اور تکبر کا شکار ہوجاتا ہے تو اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ اپنے مخالف کے بارے میں کیا کیا ہرزہ سرائی کررہا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ ایک طرف آپ کو مجنون کہتے اور دوسری طرف یہ الزام دیتے تھے کہ آپ اپنی طرف سے قرآن بنا کر پیش کرتے ہیں اور اسے اللہ کا کلام قرار دیتے ہیں۔ ان کا قرآن اور نبی کی ذات پر ایمان نہیں تھا اس لیے انہیں اور پوری دنیا کے جنوں اور انسانوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم بھی ایسا کلام بنا لاؤ اگر تم اپنے الزام میں سچے ہو۔ کیونکہ نبی بھی انسان ہے اور تم بھی انسان…
Read the full tafseer →آیت 33 : اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَہٗ (یہ بھی کہتے ہیں کہ اس قرآن کو انہوں نے خود گھڑ لیا ہے) محمد ﷺ نے خود گھڑ کر بنا لیا ہے۔
بَلْ (بلکہ) یعنی معاملہ اس طرح نہیں جیسا انہوں نے خیال کرلیا ہے۔ لاَّیُؤْمِنُوْنَ (یہ لوگ تصدیق نہیں کرتے) اپنے کفر وعناد کی وجہ سے یہ طعن وتشنیع کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے قول کا بطلان ظاہر و باہر ہے اور نہ ہی آپ گھڑنے والے ہیں ٗ اہل عرب کے اس سے عاجز ہونے کی بناء پر۔ حالانکہ محمد تو عرب میں سے ایک ہیں۔
Read the full tafseer →32 ۔” ام تامرھم احلامھم “ ان کی عقلیں۔ ” بھذا “ کیونکہ عظماء و قریش بڑے عقل مند اور صاحب عقل سمجھے جاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عقول کا عیب نکالا کہ ان کے لئے حق کی باطل سے پہچان مکمل نہیں ہوئی۔ ” ام ھم “ بلکہ وہ ” قوم طاغون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
29۔ 34۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایتیں ہیں کہ موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے اہل مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھا دیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ دیوانے ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو۔ بلکہ تم اللہ کے کلام کے موافق عام لوگوں کو نصیحت کرتے جاؤ یہ لوگ جھوٹے ہیں اللہ نے اپنے فضل سے تم کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ تم اللہ کے رسول ہو۔ عرب میں شاعر بہت ہوتے…
Read the full tafseer →(اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَـقَوَّلَهٗ ۚ ) کیا وہ کہتے ہیں کہ محمد نے خود ہی یہ قرآن گھڑ لیا ہے اور اسے خود اپنی طرف سے کہا ہے (بل لایومنون) بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ پس اگر وہ ایمان لائے ہوتے تو وہ اس طرح کی باتیں نہ کہتے جو انہوں نے کہی ہیں۔
Read the full tafseer →[ 41] عناد و ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ :
سو منکرین و مکذبین کی محرومی کے اصل باعث کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان لانا چاہتے ہی نہیں۔ اس لئے یہ اپنے کفر اور بےایمانی اور ہٹ دھرمی و طغیانی کی بناء پر حق کے مقابلے میں ایسی باتیں کہتے اور کرتے ہیں جو ان کی عقلوں کا بھی ماتم کر رہی ہیں، اور ان کو راہ حق و صواب سے محروم اور مزید دور بھی کرتی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں یہ لوگ ایسی بےتکی اور بےسروپا باتیں کرتے ہیں، معلوم ہوا کہ کفر و بےایمانی اور بدنیتی و بدباطنی جڑ بنیاد ہے تمام شرو فساد کی، والعیاذ باللّٰہ، بہرکیف اس ارشاد میں ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–49
نبوت کے منکر عقل سے عاری
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی کیا ان کی بےجوڑ باتوں کی وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن کو اللہ تعالیٰ کا نہیں بلکہ محمد ﷺ کا اپنا تصنیف کیا ہوا سمجھتے ہیں ؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ زبان دان لوگ ہیں اور خوب سجھتے ہیں کہ کوئی انسان اس قسم کا کلام تصنیف کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ کفر وعناد ان کی طبیعتوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور وہ کسی طور ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →(52:33) ام یقولون : میں ام استفہام انکاری کے لئے ہے۔
تقولہ۔ تقول ماضی واحد مذکر غائب ، تقول (تفعل) مصدر۔ تقول علیہ القول کسی کے خلاف جھوٹ گھڑنا۔ کسی پر جھوٹ تھوپنا۔ تقول اس نے جھوٹ گھڑ لیا ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع قرآن ہے اس نے اس کو جھوٹ گھڑ لیا۔ اس نے اس کو (خود) بنالیا۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے : ولو تقول علینا بعض الا تاویل (69:44) اور اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے۔
بل لا یؤمنون : ان کا یہ کہنا (تقولہ کہنا) صحیح نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ دشمنی اور فرط عناد کی وجہ سے یہ لوگ ایمان ہی نہیں لاتے ۔ اور اس قسم کی باتیں بناتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
(ف 1) شان نزول :
تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایتیں ہیں جب اللہ کا سچا دین روز بروز ترقی کرنے لگا تو موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے مشرکین مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھادیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے نبی ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
[12] یعنی ان کی عقل و دانش نے جس پر انہیں ناز ہے یہ سکھلایا ہے کہ ایک انتہائی صادق، امین، عاقل و فرزانہ اور سچے پیغمبر کو شاعر، کاہن اور دیوانہ کہہ کر نظرانداز کردیا جائے۔ پھر اگر عقل کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے۔ بہت سے متضاد حکم کیسے لگاتے ہیں ؟ آخر ایک شخص بیک وقت شاعر، کاہن اور دیوانہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دل میں سمجھتے سب کچھ ہیں مگر محض سرکشی اور شرارت سے باتیں بناتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
اعمال کی اصلی حیثیت
1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام…
Read the full tafseer →(33) ہاں تو کیا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس نے قرآن کو ازخود گھڑ لیا اور بنا لیا ہے یہ بات نہیں بلکہ اصل بات یہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اس قرآن کی تصدیق نہیں کرتے اور جب ان کا مقصد ایمان نہیں ہے تو مختلف باتیں اور شاخسانے نکالتے ہیں آگے الزامی جواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
ف 6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن گھڑ لیا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے :
33: تقول ، اس نے بنا لیا ہے۔ اس نے گھڑ لیا ہے۔ اس نے باندھ لیا ہے۔ تقول سے جس کے معنی اپنے جی میں گھڑ کر دوسرے کی طرف منسوب کردینے کے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور تقولہ ، میں " ہ " کی ضمیر واحد مذکر غائب ہے یعنی اس نے اس کو اپنے جی میں گھڑ لیا ہے۔ جس طرح مکہ والے خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق عزم و جزم سے کچھ نہ کہہ سکتے بلکہ سرکشی کے عالم میں جو ان کے منہ میں آتا کہہ دیتے بعینہ یہی پوزیشن ان کی قرآن کریم کے متعلق تھی کہ وہ حتمی طور پر قرآن کریم کے متعلق ایک بات نہیں کہتے تھے کبھی کہ اس نے خود گھڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →26 In other words, it means this: The Quraish who think that Muhammad (upon whom be peace) himself is the author of the Qur'an know it in their innermost hearts that it cannot be his word, and those others also whose mother tongue is Arabic not only clearly feel that it is far more sublime and superior to human speech but any one of them who knows Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) personally cannot ever suspect that this is actually his own word and speech. Therefore, the thing plainly is that those who ascribe the authorship of the Qur'an to the Holy Prophet do not, in…
Read the full tafseer →