Explained with ayahs 9–10
دو متحارب " مسلمان جماعتوں " میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان میں صلح کرا دیں آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے حضرت امام بخاری نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔ خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے، اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول للہ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر حضرت حسن بن علی بھی تھے آپ کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 12
یہ نہیں فرمایا کہ " جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑیں "، بلکہ فرمایا یہ ہے کہ اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں "۔ ان الفاظ سے یہ بات خود بخود نکلتی ہے کہ آپس میں لڑنا مسلمانوں کا معمول نہیں ہے اور نہیں ہونا چاہیے۔ نہ ان سے یہ امر متوقع ہے کہ وہ مومن ہوتے ہوئے آپس میں لڑا کریں گے۔ البتہ اگر کبھی ایسا ہوجائے تو اس صورت میں وہ طریق کار اختیار کرنا چاہیے جو آگے بیان کیا جا رہا ہے۔ علاوہ بریں گروہ کے لیے بھی " فرقہ " کے بجائے " طائفہ " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ عربی زبان میں فرقہ بڑے گروہ کے لیے اور طائفہ چھوٹے گروہ کے لیے بولا جاتا ہے اس سے بھی یہ بات مترشح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
خلاصہ تفسیر
اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کردو (یعنی جھگڑے کی بنیاد کو رفع کر کے لڑائی موقوف کرا دو) پھر اگر (اصلاح کی کوشش کے بعد بھی) ان میں کا ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے (اور لڑائی بند نہ کرے) تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع ہوجاوے (حکم خدا سے مراد لڑائی بند کرنا ہے) پھر اگر وہ (زیادتی کرنے والا فرقہ حکم خدا کی طرف) رجوع ہوجاوے (یعنی لڑائی بند کر دے) تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کردو (یعنی حدود شرعیہ کے موافق اس معاملہ کو طے کردو محض لڑائی بند کرنے پر اکتفا نہ کرو اگر صلح مصالحت نہ ہوئی تو پھر بھی…
Read the full tafseer →وان طآئفتن من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھا فان بغت احدھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفی الی امر اللہ فان فآءت فاصلحوا بنھما بالعدل وا قسطوا ط ان اللہ یغب المقسطین 9
یہ امر واضح رہے کہ حضرت ولید سیدنا عثمان غین کے رشتہ دار بھ تھے۔
اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں تصادم ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری
اوپر کی آیت میں اس بات کی ممانعت فرمائی گی ہے کہ کسی فاسق کی روایت پر اعتماد کر کے مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ہو مسلمانوں کی کسی جماعت کے خلاف کوئی اقدام کر بیٹھیں۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہ اگر آپس میں لڑ پڑیں تو دوسرے مسلمانوں یا ان کی حکومت کو کیا رویہ اختیار…
Read the full tafseer →9۔ 1 اور اس صلح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں قرآن و حدیث کی طرف بلایا جائے یعنی ان کی روشنی میں ان کے اختلاف کا حل تلاش کیا جائے۔
9۔ 2 یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے احکام کے مطابق اپنا اختلاف دور کرنے پر آمادہ نہ ہو بلکہ بغاوت کی روش اختیار کرے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ سب مل کر بغاوت کرنے والے گروہ سے لڑائی کریں تاکہ وہ اللہ کے حکم کو ماننے کے لیے تیار ہوجائے۔
9۔ 3 یعنی باغی گروہ بغاوت سے باز آجائے تو پھر عدل کے ساتھ یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں دونوں گروہوں کے درمیان صلح کرا دی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
4: سورت کے شروع میں جو حکم دیا گیا تھا، اور جس کی تشریح اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گذری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کرام کبھی کوئی رائے ہی پیش نہ کریں، بلکہ رائے قائم کر کے اس پر اصرار سے منع فرمایا گیا تھا، اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مناسب موقع پر کوئی رائے دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه وسلم کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تمہاری ہر رائے پر عمل ضرور کریں، بلکہ آپ مصلحت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے، اور اگر وہ تمہاری رائے کے خلاف ہو، تب بھی تمہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ تمہاری ہر بات پر عمل کرنے سے خود تمہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جیسا…
Read the full tafseer →وان طائفتین من المؤمنین ۔۔۔۔۔ یحب المقسطین (9) انما المؤمنون اخوۃ ۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (10) (49 : 9 تا 10) “ اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑجائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ”۔
یہ ایک عملی قانون ہے اور یہ خود اسلامی معاشرے…
Read the full tafseer →6 یعنی ان تمام پیش بندیوں کے باوجود اگر اتفاق سے مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو پوری کوشش کرو کہ اختلاف رفع ہوجائے۔ اس میں اگر کامیابی نہ ہو اور کوئی فریق دوسرے پر چڑھا چلا جائے اور ظلم و زیادتی ہی پر کمر باندھ لے تو یکسو ہو کر نہ بیٹھ رہو، بلکہ جس کی زیادتی ہو سب مسلمان مل کر اس سے لڑائی کریں۔ یہاں تک کہ وہ فریق مجبور ہو کر اپنی زیادتیوں سے باز آئے اور خدا کے حکم کی طرف رجوع ہو کر صلح کے لیے اپنے کو پیش کر دے۔ اس وقت چاہیے کہ مسلمان دونوں فریق کے درمیان مساوات و انصاف کے ساتھ صلح اور میل ملاپ کرا دیں۔ کسی ایک کی طرف داری میں جادہ حق سے ادھر ادھر نہ جھکیں۔ (تنبیہ) آیت کا نزول…
Read the full tafseer →آیت 9 { وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا } ”اور اگر اہل ِایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔“
اہل ایمان بھی تو آخر انسان ہیں۔ ان کے درمیان بھی اختلافات ہوسکتے ہیں اور کسی خاص صورت حال میں اختلافات بڑھ کر جنگ اور قتال پر بھی منتج ہوسکتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت علی رض اور حضرت عائشہ رض کے درمیان یا حضرت علی رض اور امیر معاویہ رض کے درمیان اختلافات جنگ کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ چناچہ اگر کہیں ایسی صورت حال پیدا ہو تو امت مسلمہ کے تمام افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متحارب فریقین کے درمیان صلح کروائیں۔ اگر…
Read the full tafseer →10 آپس میں لڑائی کرنا مومنوں کا کام نہیں :۔ اس جملہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لڑنا مومنوں کا کام نہیں۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے۔
(1) سیدنا ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ فرماتے تھے : جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر لڑ پڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں میں نے پوچھا : یہ تو رہا قاتل مگر مقتول کا کیا قصور ؟ فرمایا : وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا (بخاری۔ کتاب الایمان۔ باب وان طائفتان۔۔ مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب اذا توجہ المسلمان بسیفہما)
(2) احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں اس شخص کی مدد کرنے چلا۔ (راستہ میں) مجھے ابو بکرہ ملے اور پوچھا : کہاں جاتے…
Read the full tafseer →11۔ یعنی امر بابہ النزاع رفع کرا کے لڑائی موقوف کرادو ..... خوب خیال رہے کہ باہمی جنگ کی حالت میں بھی قرآن دونوں فریقوں کو مسلمان ہی تسلیم کرتا ہے، مجرد جنگ دائرہ اسلام سے خارج نہیں کردیتی۔
12۔ (اور وہ حکم الہی یہاں صلح وترک قتال کا ہے) یہ حکم اصالتا امام مسلمین کے لئے ہے۔ وہ نہ ہو تو عامہ مسلمین کو ہے بشرط قدرت واستطاعت۔ بعض حنابلہ نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ باغیوں سے قتال، جہاد کفار سے اہم تروافضل ہے۔ اور سند میں حضرت علی ؓ کے عمل کو پیش کیا ہے کہ آپ نے اپنے دور خلافت میں بجائے جہاد کے قتال اہل بغاوت ہی کو جاری رکھا۔ وصرح بعض الحنابلۃ بان قتال الباغین افضل من الجھاد احتجاجا بان علیا کرم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
شان نزول :
وان طائفتان من المومنین (آلایۃ) کے سبب نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان فرمائے ہیں جن میں خود مسلمانوں کے دو گروہوں میں باہم تصادم ہوا اور کوئی بعید نہیں کہ یہ سب ہی واقعات کا مجموعہ سبب نزول ہوا ہو یا نزول کسی ایک واقعہ میں ہوا ہو اور دوسرے واقعات کو اس کے مطابق پا کر ان کو بھی سبب نزول میں شریک کردیا گیا، اس آیت کے اصل مخاطب تو وہ اولوالامر اور ملکوک ہیں جن کو قتال و جہاد کے وسائل حاصل ہوں۔ (روح المعانی، معارف) اور بالواسطہ تمام مسلمان مخاطب ہیں کہ اولوالامر کی اعانت کریں اور جہاں کوئی امام و امیر بادشاہ نہ ہو، وہاں حکم یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دونوں کو فرمائش کر کے ترک قتال…
Read the full tafseer →وان طائفتان من المومنین اقتلوا فاصلحوا بینھما فان بغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفی الی امر اللہ . اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کر دو
پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔ اس حد تک کہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔
اِقْتَتَلُوْا : باہم لڑ پڑیں۔
فَاَصْلِحُوْا : اصلاح کا یہ مطلب ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے اور اس کی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور دونوں گروہوں کو آپس کی عداوت اور بغض چھوڑ دینے کی ہدایت اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ کو قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔
فَاِنْ بَغَتْ : یعنی ایک گروہ اگر…
Read the full tafseer →اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں کتاب اللہ کے ذریعے صلح کردو۔ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور ان کی جماعت ان دونوں گروہوں کی تیز کلامی پر کچھ لڑائی ہوگئی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات سے منع کردیا اور صلح کا حکم دیا کہ پھر بھی اگر ابن سلول منافق کا گروہ دوسرے پر یعنی حضرت عبداللہ بن رواحہ کی جماعت پر زیادتی کرے اور حکم الہی کے مطابق صلح پر آمادہ نہ ہو تو اس گروہ سے لڑو جو کہ طلم و زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے فیصلہ پر آمادہ ہوجائے۔
شان نزول : وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (الخ)
بخاری و مسلم نے حضرت انس سے…
Read the full tafseer →(1) وان طآئفین من المومنین اقتلوا فاصلحوا بینھما : فاسق لوگوں کی خبر پر بلاتحقیق اعتماد کرلینے سے کئی دفعہ آپ س میں لڑائی ہوجاتی ہے اور کئی دفعہ ہر قسم کی پیش بندی کے باوجود لڑائی ہوجاتی ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی کے موقع پر ان لوگوں پر لازم ہے جو اس لڑائی میں شریک نہیں کہ لڑنے والوں کے درمیان صلح کروا دیں۔ ان کے لئے جائز نہیں کہ مسلمانوں کو لڑتے ہوئے ان کے حال پر چھوڑ دیں اور تماشا دیکھتے رہیں۔
(2) سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے :(ان اھل قباء اقتتلوا حتی تراموا بالحجارۃ فاخبر رسول اللہ ﷺ بذلک فقال اذھبوا بنا نصلح بینھم) (بخاری، الصلح ، باب قول الامام لاصحابہ اذھبوا…:…
Read the full tafseer →اس میں دس مسائل ہیں :۔
مسئلہ نمبر 1:۔ معتمر بن سلیمان، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں (2) انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی : کاش آپ عبداللہ بن ابی کے ہاں جاتے : نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے آپ گدھے پر سوار ہوئے اور مسلمان ساتھ چل رہے تھے۔ یہ سوریدہ زمین تھی جب نبی کریم ﷺ اس کے پاس آئے تو اس نے کہا : مجھ سے دور ہی رہیئے اللہ کی قسم : آپ کے گدھے کی بو مجھے اذیت دیتی ہے تو ایک انصاری نے کہا : اللہ کی قسم : رسول اللہ ﷺ کا گدھا خوشبو میں تجھ سے بڑھ کر ہے عبداللہ کے لئے اس کی قوم کا ایک فرد غصے میں آگیا ہر ایک کے لئے اس کے ساتھی غصے میں آگئے ان کے درمیان شاخوں، ہاتھوں او…
Read the full tafseer →1:۔ احمد والبخاری ومسلم وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلیں چناچہ آپ گدھے پر سوار ہو کر چل پڑے اور مسلمانوں کی ایک جماعت بھی ساتھ تھی اور وہ دلدلی زمین تھی جب آپ ﷺ اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا مجھ سے دور رہو اللہ کی قسم مجھے تمہارے گدھے کی بو نے تکلیف دی ہے، انصار میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے گدھے کی بو تجھ سے زیادہ اچھی عمدہ ہے۔ یہ سن کر اس کی قوم کے لوگ غصہ ہوگئے نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے ساتھ غضبناک ہوگئے اور ان کے درمیان چھڑی ہاتھوں اور…
Read the full tafseer →وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ [ اور اگر کوئی دو جماعت ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں میں سے ] اقْتَتَلُوْا [ آپس میں لڑ پڑیں ] فَاَصْلِحُوْا [ تو تم لوگ صلح کراؤ] بَيْنَهُمَا ۚ [ ان دونوں کے درمیان ] فَاِنْۢ بَغَتْ [ پھر اگر سرکشی کرے ] اِحْدٰىهُمَا [ ان دونوں کی کوئی ایک ] عَلَي الْاُخْرٰى [ دوسری پر ] فَقَاتِلُوا [تو تم جنگ کرو ] الَّتِيْ [ اس سے جس نے ] تَبْغِيْ [ سرکشی کی ] حَتّٰى تَفِيْۗءَ [ یہاں تک کہ وہ پلٹ آئے ] اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ [ اللہ کے حکم کی طرف ] فَاِنْ فَاۗءَتْ [ پھر اگر وہ پلٹ آئے ] فَاَصْلِحُوْا [تو (پھر ) صلح کراؤ] بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ [ ان دونوں کے درمیان برابری سے ]…
Read the full tafseer →مومنین کی دو جماعتوں میں قتال ہو تو انصاف کے ساتھ صلح کرا دو ، سب مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اگر آپ عبد اللہ بن ابی کے پاس تشریف لے جاتے تو اچھا ہوتا۔ عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین تھا اسلام کے اور مسلمانوں کے خلاف خود یہ اور اس کے ساتھی کچھ نہ کچھ حرکتیں کرتے رہتے تھے جس شخص نے اس کے پاس آنے کی رائے دی تھی اس کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ آپ خود ہی اس کے پاس تشریف لے جائیں گے تو ممکن ہے اس کا مخالفانہ جذبہ ختم ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مسلمان ہی ہوجائے رسول اللہ ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوکر روانہ ہوگئے اور آپ کے ساتھ دیگر مسلمان بھی تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترغیب وتاکید باہمی اخوت وہمدردی وتنبیہ وتہدید برتحقیر وتذلیل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وان طآئفتن من ال مومنین ...... الی ....... فاولٓئک ھم الظلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اس امر پر تنبیہ کی گئی تھی کہ کسی غیر مستند اور غیر معتبر بات کو سن کر اس پر یقین نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی تحقیق کرلی جائے محض افواہوں سے متاثر ہو کر جذبات میں مغلوب ہوجانا بہت سے مفاسد اور فتنوں کا ذریعہ ہے اور باہمی منازعت وخصومت کا اس سے دروازہ کھل جاتا ہے تو ان آیات میں اس کے بالمقابل ایسی ہدایت وتعلیم دی جارہی ہے کہ مسلمان قوم کو چاہئے کہ وحدت واخوت قائم رکھے، باہمی منازعت اور اختلاف وخصومت سے پوری طرح بچے اور اگر…
Read the full tafseer →8:۔ ” وان طائفتان “ یہ چوتھا قانون ہے پیغمبر (علیہ السلام) کی اطاعت کے بعد تم پر لازم ہے کہ تم مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی کوشش کرو، تاکہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق قائم رہے اگر مسلمانوں کی دو جماعتوں میں لڑائی جھگڑا ہوجائے تو ان کے درمیان صلح صفائی کرا دو ۔ اگر دونوں میں ایک جماعت پند و نصیحت کو قبول نہیں کرتی اور صلح پر آمادہ نہیں ہوتی، بلکہ ناحق زیادتی پر اتر آتی ہے تو اس باغی جماعت سے یہاں تک قتال کرو کہ وہ اللہ کے حکم یعنی صلح پر آمادہ ہوجائے۔ اگر باغی جماعت صلح پر آمادہ ہوجائے تو دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور کسی پر زیادتی نہ ہونے دو ۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر طریقے سے بسر کرنے اور نظام حکومت کو صحیح طریقے پر قائم کرنے سے متعلق اس سورة میں بڑے اہم اصول و ضوابط بیان فرمائے ہیں ۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، اور ہر حالت میں اللہ سے ڈرتے ہو ۔ پیغمبر خدا کی مجلس میں اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور نہ ہی آپ کے سامنے زور سے بولو ۔ پھر فرمایا کہ اگر کوئی جھوٹا آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس پر بلا تحقیق عمل نہ شروع کردو بلکہ اس کی اچھی طرح تفتیش کرلو تا کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو ۔ جس سے بعد میں پشیمان ہونا پڑے ۔ فرمایا یہ…
Read the full tafseer →وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا 0 ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىہُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللہِ 0 ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا 0 ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ 9
طَّائِفَةُ
وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی:
فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ترکیب : ان تصیبوا مفعول لہ ای خشیۃ ذلک بجہالۃ حال من الفاعل ای جاھلین۔ لویطیعکم مستانف ویجوزان یکون فی موضع الحال و العامل فیہ الاستقرار کقولک مررت برجل لوکلمۃ کلمنی فکما جاز و قوعہ صفۃ للنکرۃ جاز وقوعہ حالا فضلا مفعول لہ طائفتان فاعل فعل محذوف اخویکم بالتثنیۃ والجمع الاخوۃ جمع الاخ۔
چوتھا حکم : یا ایہا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبافتبینوا کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو جانچ لیا کرو یہ نہیں کہ جو کسی سے سنا یقین کرلیا اور اس پر کاربند ہوگئے کیونکہ ایسی صورتوں میں باہم لڑانے کے لیے بہت سے جھوٹے افسانے غماز بنا لایا کرتے ہیں ان پر باور کر کے کسی سے لڑ پڑے یا رنجیدہ ہو کر ان کے…
Read the full tafseer →وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ م بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓ ئَ اِلٰٓی اَمْرِاللّٰہِ ج فَاِنْ فَآئَ تْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (الحجرات : 9)
(اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرائو، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پس وہ اگر پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، بیشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : بد گمانی پیدا کرنے اور افواہ اٹھانے کا نتیجہ عام طور پر اختلافات کی صورت میں رونما ہوتا ہے اور اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے اس لیے اس کا حل پیش کیا گیا ہے۔
اگر مومنوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے درمیان صلح کروانے کی پرخلوص کوشش کریں۔ اگر متحارب گروپوں میں سے کوئی گروپ دوسرے پر زیادتی کرنے والا ہو اور وہ صلح کرنے پر آمادہ نہ ہو تو صلح کروانے والے مسلمان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر اللہ کا حکم ماننے یعنی صلح کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اگر وہ صلح پر آمادہ ہوجائے تو پھر عدل و انصاف کے ساتھ…
Read the full tafseer →اوس و خزرج کی باہمی لے دَے :
آیت 9 : وَاِنْ طَآپفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا (اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں) رسول اللہ ﷺ ایک مجلس کے پاس رکے جس میں بعض انصار بھی تھے۔ آپ ﷺ گدھے پر سوار تھے۔ گدھے نے پیشاب کیا تو عبداللہ بن ابی اپنی ناک بند کر کے کہنے لگا۔ اپنے گدھے کو جانے دو اس کی بدبو نے ہمیں تکلیف پہنچائی ہے۔ اس پر عبداللہ بن رواحہ نے کہا رسول اللہ ﷺ کے گدھے کا پیشاب تیری کستوری سے زیادہ خوشبودار ہے۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور ان کے درمیان بات لمبی ہوگئی۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو سخت سست اور قمچیاں بھرنے کی پہنچ گئی۔ دونوں کے حمایتی آئے…
Read the full tafseer →8 ۔” فضلا “ یعنی یہ فضل ہے۔ ” من اللہ ونعمۃ واللہ علیم حکیم “
وان طائفتن من المومنین سے کون لوگ مراد ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 10۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک اور اسامہ بن زید سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی کے ظاہری اسلام لانے سے پہلے ایک روز اللہ کے رسول ﷺ خچر پر سوار ہو کر عبد اللہ کی ہدایت کے لئے اس کے گھر پر گئے تو عبد اللہ آپ کے وہاں جانے سے ناخوش ہوا اور اپنی ناک پر کپڑا ڈھانک کر یہ کہنے لگا کہ آپ کے خچر کی بو سے میرا دماغ پریشان ہوگیا عبد اللہ کی یہ بات سن کر ایک انصاری صحابی نے عبد اللہ کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ تیرے جسم کی بو سے اللہ کے رسول کے حجر کی بو اچھی ہے اس انصاری صحابی کے اس جواب کو سن کر بعض انصاری صحابی عبد اللہ کے طرف دار بن گئے اور بعض اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یہ آیت کریمہ، اہل ایمان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے اور ایک دوسرے سے لڑائی کرنے سے روکنے کو متضمن ہے، نیز یہ کہ جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دیگر اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان دو گروہوں کے درمیان پڑ کر، جس کے ذریعے سے ان کے مابین صلح ہوجائے اور ان کے درمیان اصلاح کے ذریعے سے، اس بہت بڑے شر کی تلافی کریں اور وہ ذرائع اختیار کریں جو صلح پر منتج ہوتے ہوں۔
اگر وہ دونوں گروہ باہم صلح کرلیں تو بہت اچھی بات ہے (فان بغت احدلھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ) ” اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع…
Read the full tafseer →باغیوں کے خلاف قتال کا بیان
قول باری ہے (وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحو ا بینھما۔ اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں برسرپیکار ہوجائیں تو ان کے درمیان اصلاح کرادو) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے حسن بصری سے کہ مسلمانوں کے کچھ افراد کے درمیان کوئی تنازعہ تھا جو سلجھ نہ سکا اور پھر یہ لوگ ہاتھا پابی اور جو تم پیزار پر اتر آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی۔
معمر کہتے ہیں کہ قتادہ نے کہا ہے کہ دو شخصوں کے درمیان کسی حق کے سلسلے میں کوئی جھگڑا تھا۔ یہ دونوں اس کے متعلق ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔…
Read the full tafseer →[ 21] مسلمانوں کے درمیان باہمی لڑائی سے متعلق ہدایات :
سو اس ارشاد سے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان تصادم کی صورت میں اصلاح احوال کا حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ارتکاب کبیرہ سے خروج عن الدین لازم نہیں آتا جس طرح کہ معتزلہ وغیرہ کہتے ہیں۔ یہاں پر قتال بین المسلمین جیسے کبیرہ کے ارتکاب کے باوجود ان دونوں گروہوں کو مومن قرار دیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہ اس کی بنا پر ان سے وصف ایمان کو سلب کرلیا گیا ہو۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اپنی صحیح میں معتزلہ کے خلاف اس آیت کریمہ سے یہی استدلال کیا ہے۔ بہرکیف اس میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
معاشرتی زندگی کا ایک اور اصول
تشریح : ان آیات میں مسلمانوں کے نظام حیات کے ایک بہت اہم پہلو کے لیے اسلام کے مخصوص اصول و قوانین اور ضابطے بیان کیے گئے ہیں۔ اور ایک بہت بڑا راز بتایا گیا ہے کہ مسلمان اعتقاد، دین اور تعلیمات میں برابر ہیں۔ کیونکہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اسلام کا پابند ہے، لہٰذا ان سب کو بھائی بھائی کہنا بالکل مناسب ہے۔ تو اس بھائی چارے کی تعریف رسول کریم ﷺ نے اس طرح کی ہے۔ فرماتے ہیں ” تم مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کرنے اور محبت و شفقت میں جسم انسانی کی طرح دیکھو گے کہ اس کے ایک عضو میں تکلیف ہو تو بدن کے سارے اعضاء بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتے ہیں (بخاری)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔
اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔
نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 7 یعنی دونوں کو سمجھائو اور حق بات ماننے کے لئے کہو۔ یہ خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو دونوں گروہوں میں شامل نہ ہوں۔ صحیحین میں حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت ایک مرتبہ ایک گدھے پر سوار ہو کر انصار کی ایک مجلس میں گئے جس میں عبداللہ بن ابی منافق بھی تھا۔ وہ بدبخت کہنے لگا ذرا ہٹ کر بیٹھو مجھے تمہارے گدننے کی بدبو سے تکلف ہو رہی ہے۔ ای کا نصاری کہنے لگا ” خ دا کی قسم ! آنحضرت کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ عبداللہ یہ سن کر غصہ میں آگیا اور دونوں طرف کے لوگ جھڑپوں، جوتوں اور گھونسوں سے باہم مار پٹائی کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (شوکانی) یہ حدیث مختلف الفاظ اور سیاق کے ساتھ کتب حدیث میں…
Read the full tafseer →(49:9) وان طائفتن ۔۔ اقتتلوا۔ جملہ شرط ہے فاصلحوا بینھما جواب شرط۔ ان شرطیہ۔ طائفتن تثنیہ ہے طائفۃ کا۔ گروہ۔ جماعت۔ کچھ لوگ۔ بعض لوگ۔ ایک اور ایک سے زائد سب کو کہتے ہیں۔ طوف (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ اقتتلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اقتتال (افتعال) مصدر۔ انہوں نے قتال کیا۔ وہ آپس میں لڑ پڑے۔
فاصلحوا :جواب شرط اصلحوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصلاح (افعال) مصدر۔ تم صلح کرادو۔ تم ملاپ کرادو۔
فان بغت :عاطفہ۔ ان شرطیہ بغت ماضی واحد مؤنث غائب بغی (باب ضرب) مصدر۔ اس نے سرکشی کی۔ اس نے بغاوت کی۔ وہ سرکشی کرے یا بغاوت کرے۔ وہ زیادتی کرے۔
احدھما۔ ان دونوں میں سے ایک۔ ان دونوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
لغات القرآن آیت نمبر (9 تا 10) ۔
طائفتان (دو جماعتیں۔ دو گروہ) ۔ بغت (زیادتی کی ) ۔ حتی تفی (یہاں تک کہ لوٹ آئے) ۔ المقسطین (انصاف کرنے والے) ۔ اخوۃ ا (اخ) بھائی) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 9 تا 10 ) ۔ ” دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ تر اختلافات اور باہمی جھگڑے بعض غلط مہمیوں، بد ظنیوں، خاندانی اور قوم اور قبیلے کے تعْصبات کی وجہ سے جڑ پکڑ تے ہیں۔ اگر ان چیزوں سے بچا جائے تو کبھی جھگڑے نہ ہوں اور وہ لوگ جو بدگمانیاں پیدا کر کے معمولی جھگڑوں اور اختلافات کو قتل و غارت گری تک پہنچا دیتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہر وہ بات جس سے لڑائی جھگڑے کا اندیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اسلامی اخوت کا تقاضا باہمی صلح کی کوشش۔
1) شان نزول۔ نبی ﷺ دراز گوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے انصار کی مجلس پر گزر ہوا وہاں تھوڑا سا توقف کیا اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابن ابی نے ناک بند کرلی، حضرت عبداللہ بن رواحہ نے فرمایا کہ حضور کے دراز گوش کا پیشاب ترے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے حضور تشریف لے گئے ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ پڑیں، اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو نبی واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تمہارے آپس میں دو فرقے پیدا ہوجائیں اور آپس میں لڑیں تو اول تو صلح کرادو اور اگر وہ صلح نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[8] کیونکہ اس لڑائی کا حکم اللہ نے دیا ہے اس لئے واجب ہے اور جہاد کے حکم میں ہے۔ اس حکم کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو طاقت استعمال کر کے زیادتی کا ازالہ کرنے پر قادر ہوں۔
[9] اللہ کے حکم سے مراد یہ ہے کہ کتاب و سنت کی رو سے جو بات حق ہو اسے باغی گروہ قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے۔[10] یہ آیت مسلمانوں کی باہمی جنگ کے بارے میں شرعی قانون کی اصل بنیاد ہے۔ اس قانون کی کوئی تشریح رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہیں ملتی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جنگ کی کبھی نوبت ہی نہیں آئی۔ اس قانون کی مستند تشریح اس وقت ہوئی جب سیّدنا علی ؓ کے عہد خلافت میں خود مسلمانوں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں۔ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ف 1: عنیہ بن حصن انفراری اور اقرع بن حابس کوئی ستر آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺ سے ملنے کے لئے آئے ۔ حضور ﷺ اس وقت حرم میں تشریف فرما تھے یہ لگے زور زور سے آوازیں دینے ، اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ کہ اس طرح آپ کو مخاطب کرنا بےادبی اور بےعقلی ہے ۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ اطلاع کرادیتے اور پھر انتظار کرتے حتیٰ کہ حضور ﷺ تشریف لے آتے اور ان کی معروضات کو توجہ سے سن لیتے ۔ یاد رہے کہ یہ حکم اس وقت پیغمبر جلالت قدر کے تحفظ کے لئے ضروری تھا ۔ اور اسلام چونکہ ہر زمانے کے لئے موجب خیروبرکت ہے اس لئے اب اس کے یہ معنے ہونگے ۔ کہ دین میں خواہ مخواہ موشگافیاں کرنا درست نہیں ہیں جب تک کہ سنت خود کسی مسئلہ کی…
Read the full tafseer →(9) اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ اور دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے مابین اصلاح کردو یعنی اختلاف اور مابہ النزاع امور کو رفع کر ا کے دونوں میں صلح کرادو، پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو جو گروہ اور جو جماعت زیادتی کرتی ہے تم اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف رجوع ہوجائے یعنی قتال ترک کردے پھر اگر وہ زیادتی کرنے والا فریق رجوع ہوجائے تو ان دونوں کے مابین انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کیا کرو بیشک اللہ تعالیٰ انٹاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور بلا شبہ اللہ تعالیٰ کو خوش آتے ہیں انصاف والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ف 3۔ اس کے نزول کا واقعہ اس طرح ہوا (اور پھر حکم عام ہے) کہ حضور ﷺ نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیجا، اور ایک روایت میں بنی وکیعہ آیا ہے، ولید میں اور ان میں زمانہ جاہلیت میں کچھ عداوت تھی، ولید کو ہاں جاتے ہوئے کچھ اندیشہ ہوا، ان لوگوں نے سن کر استقبال کیا، ولید کو یہ گمان ہوا کہ یہ لوگ بارداہ قتل آئے ہیں، واپس آکر اپنے خیال کے موافق کہہ دیا کہ وہ تو مخالفت اسلام ہوگئے، آپ ﷺ نے حضرت خالد کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ خوب تحقیق کرنا، اور جلدی مت کرنا، چناچہ انہوں نے وہاں بجز اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا، آکر آپ ﷺ کا اطمینان کردیا، اس پر یہ حکم نازل…
Read the full tafseer →دو مسلمان جماعتیں اگر آپس میں بھڑ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری
9 ۔ (وان طائفتین من المومنین اقتتلوا) ” اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑپریں “ (طائفۃ) کیا ہے ؟ (طائفۃ) گروہ یا جماعت کو کہتے ہیں اور اس کا مطلب ہے ” بعض لوگ “ ” کچھ لوگ “ ۔ ایک اور ایک سے زائد طائفہ کہلاتا ہے طرف سے اسم فاعل کا صغیہ واحد مونث۔ علامہ بدرالدین عینی (رح) نے عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں بیان کیا ہے کہ لغت میں طائفہ کے معنی کسی شے کے ایک قطعہ یا ٹکڑے کے ہیں جیسا کہ عباب میں ہے کہ الطائفۃ من الشی القطعۃ جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ (ولیشھد عذابھما طائفۃ من المومنین) (2:24) ” ان دونوں کو عذاب دیتے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
Linkage
In the foregoing verses the rights of the Prophet were set out. They also laid down the mannerism in which he should be treated. The verses prohibited any act that would annoy or hurt him. Now this set of verses [ 9-10] establishes the manners, mores, injunctions, and mutual rights and obligations to be observed in individual and social life. The common value of all these rules is to avoid causing any inconvenience to the members of the society.
Occasion of Revelation
The commentators have narrated several incidents as a background of the revelation of these verses. Among them is the…
Read the full tafseer →12 Instead of saying: "When two parties of the believers fight mutually", it has been said: °If two parties of the believers fall to mutual fighting." From these words it by itself follows that mutual fighting is not the character of the Muslims, nor should it be. It is not expected that being the believers they would fight mutually. However, if such a thing ever happens, the procedure that follows should be adopted. Moreover, the word ta 'ifah has been used for a group instead of firqah: the words ta'ifah and firqah in Arabic are used for a large group and a small group respectively. This…
Read the full tafseer →