Explained with ayahs 9–10
دو متحارب " مسلمان جماعتوں " میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے
یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان میں صلح کرا دیں آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے حضرت امام بخاری نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔ خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے، اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول للہ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر حضرت حسن بن علی بھی تھے آپ کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور…
Read the full tafseer →سورة الْحُجُرٰت 18
یہ آیت دنیا کے تمام مسلمانوں کی ایک عالمگیر برادری قائم کرتی ہے اور یہ اسی کی برکت ہے کہ کسی دوسرے دین یا مسلک کے پیروؤں میں وہ اخوت نہیں پائی گئی ہے جو مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اس حکم کی اہمیت اور اس کے تقاضوں کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے بکثرت ارشادات میں بیان فرمایا ہے جن سے اس کی پوری روح سمجھ میں آسکتی ہے۔
حضرت جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے تین باتوں پر بیعت لی تھی۔ ایک یہ کہ نماز قائم کروں گا۔ دوسرے یہ کہ زکوٰۃ دیتا رہوں گا۔ تیسرے یہ کہ ہر مسلمان کا خیر خواہ رہوں گا (بخاری، کتاب الایمان)۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
خلاصہ تفسیر
اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کردو (یعنی جھگڑے کی بنیاد کو رفع کر کے لڑائی موقوف کرا دو) پھر اگر (اصلاح کی کوشش کے بعد بھی) ان میں کا ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے (اور لڑائی بند نہ کرے) تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع ہوجاوے (حکم خدا سے مراد لڑائی بند کرنا ہے) پھر اگر وہ (زیادتی کرنے والا فرقہ حکم خدا کی طرف) رجوع ہوجاوے (یعنی لڑائی بند کر دے) تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کردو (یعنی حدود شرعیہ کے موافق اس معاملہ کو طے کردو محض لڑائی بند کرنے پر اکتفا نہ کرو اگر صلح مصالحت نہ ہوئی تو پھر بھی…
Read the full tafseer →انما المومنون اخوۃ فاصلحوابین اخویکم واتقوا اللہ لعلکم ترحمون 10
یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ان کے درمیان کسی نزاع کا برپا ہونا ہی اول تو ان کی باہمی اخوت کے مناقی ہے لیکن شیطان کی انگیخت سے کوئی نزاع برپا ہو ہی جائے تو دوسرے مسلمانوں کو ان کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ اس آگ کو مزید بھڑکانے کی واتقوا اللہ لعلکم ترحمون یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اگر تمہارے ہاتھوں کوئی ایسا کام ہوا جو بھائیوں اور بھائیوں کے درمیان قتل و خون کا سبب ہوا یا تم محض قومی، قبائلی، علاقائی یا سیاسی مصلحتوں کی خاطر کسی پہلو سے اس خون خرابے میں حصہ لینے والے بنے تو یاد رکھو کہ اللہ کی پکڑ سے نہیں…
Read the full tafseer →10۔ 1 یہ پچھلے حکم کی ہی تاکید ہے یعنی جب مومن سب آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان سب کی اصل ایمان ہوئی اس لیے اس اصل کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والے آپس میں نہ لڑیں بلکہ ایک دوسرے کے دست و باز و ہمدرد وغم گسار اور مونس و خیر خواہ بن کر رہیں اور کبھی غلط فہمی سے ان کے درمیان بعد اور نفرت پیدا ہوجائے تو اسے دور کر کے انہیں آپس میں دوبارہ جوڑ دیا جائے مزید دیکھئے (مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بالْكُفْرِ ۭاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ) 9۔ التوبہ :17)
10۔ 1 اور ہر معاملے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
4: سورت کے شروع میں جو حکم دیا گیا تھا، اور جس کی تشریح اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گذری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کرام کبھی کوئی رائے ہی پیش نہ کریں، بلکہ رائے قائم کر کے اس پر اصرار سے منع فرمایا گیا تھا، اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مناسب موقع پر کوئی رائے دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیه وسلم کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تمہاری ہر رائے پر عمل ضرور کریں، بلکہ آپ مصلحت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے، اور اگر وہ تمہاری رائے کے خلاف ہو، تب بھی تمہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ تمہاری ہر بات پر عمل کرنے سے خود تمہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جیسا…
Read the full tafseer →انما المؤمنون اخوۃ ۔۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (49 : 10) “ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو ، اور اللہ سے ڈرو امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ”۔ اس اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ جماعت مسلمہ کے درمیان محبت ، سلامتی ، تعاون اور اتحاد اصل الاصول ہو اور خلاف و اختلاف اور جنگ وجدال شاذو نادر ہی ہوں اور اس اصول کے قیام کے لئے دوسرے مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر زیادتی کرنے والے مومنین کے خلاف لڑیں یہاں تک کہ وہ انصاف کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ اسلامی سوسائٹی کا اصل الاصول ہے۔ یہ ایک نہایت ہی اہم اقدام ہے اور فیصلہ کن انداز میں ہے۔
اس…
Read the full tafseer →1 یعنی صلح اور جنگ کی ہر ایک حالت میں یہ ملحوظ رہے کہ دو بھائیوں کی لڑائی دو بھائیوں کی مصالحت ہے۔ دشمنوں اور کافروں کی طرح برتاؤ نہ کیا جائے۔ جب دو بھائی آپس میں ٹکرا جائیں تو یوں ہی ان کے حال پر نہ چھوڑ دو ، بلکہ اصلاح ذات البین کی پوری کوشش کرو۔ اور ایسی کوشش کرتے وقت خدا سے ڈرتے رہو کہ کسی کی بیجا طرفداری یا انتقامی جذبہ سے کام لینے کی نوبت نہ آئے۔
Read the full tafseer →آیت 10{ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ } ”یقینا تمام اہل ِایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ‘ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کر ادیا کرو۔“
{ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } ”اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو ‘ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“
جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ ان دو بڑے احکام کے بعد اب چھ چھوٹے احکام اگلی دو آیات میں جمع کردیے گئے۔ اس طرح کہ ہر آیت میں تین احکام ہیں۔ کسی معاشرے یا کسی تنظیم کے اندر انفرادی اور اجتماعی سطح پر جہاں بڑے بڑے اختلافات پیدا ہوتے ہیں وہاں ایسی غلط فہمیاں بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں جو بظاہر بہت چھوٹی محسوس ہوتی ہیں ‘…
Read the full tafseer →13 لڑائی کی روک تھام :۔ یعنی جب تم صلح کرانے لگو تو اس بات کو ملحوظ رکھو کہ تم دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا رہے ہو۔ لہذا پورے عدل و انصاف کو ملحوظ رکھ کر اور اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ کام اس طرح سرانجام دو کہ نہ کسی فریق کی حق تلفی ہو اور نہ ہی کسی پر زیادتی ہو۔ اگر تم ان کے درمیان عدل و انصاف سے صلح کرا دو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی فرمائے گا۔ اور یہ مہربانی انفرادی طور پر صلح کرانے والی جماعت پر بھی ہوسکتی ہے۔ اور اجتماعی طور پر بھی یعنی اللہ تمہاری جماعت کو اس کا شیرازہ بکھرنے سے بچالے گا اس کی ساکھ بحال اور قوت برقرار رہے گی۔
یہ آیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک عالمگیر برادری میں…
Read the full tafseer →14۔ (اور جب بھائی ہی ہیں، تو بھائیوں بھائیوں میں لڑائی ہی کیسی) السام یعنی دین فطرت نے ایک طرف تو غربت، امارت وغیرہ کے مختلف طبقات قائم رکھے اور ان کے مٹاڈالنے کی خلاف فطرت کوشش میں قوت اور وقت کو ضائع نہیں کیا، لیکن دوسری طرف یہ بھی بتادیا کہ دین کا اشتراک ہر مادی، مالی نسبی، نسلی تفریق و امتیاز سے بالاتر ہے اور بڑے چھوٹے امیر غریب شریف غیر شریف سب کو اخوت کے رشتہ میں پر وکر صحیح اور سچی سوشلزم (اشتراکیت) کی بنیاد قائم کردی۔ یہیں سے یہ بھی نکل آیا کہ مسلم قومیت کی بنیاد نسلی، وطنی، لسانی وغیرہ نہیں۔ صرف اعتقادی ہے۔ اور اشتراک واخوت کا سنگ بنیاد صرف وحدت کلمہ ہے۔ (آیت) ” اخوۃ “۔ اخوت کا رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
شان نزول :
وان طائفتان من المومنین (آلایۃ) کے سبب نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان فرمائے ہیں جن میں خود مسلمانوں کے دو گروہوں میں باہم تصادم ہوا اور کوئی بعید نہیں کہ یہ سب ہی واقعات کا مجموعہ سبب نزول ہوا ہو یا نزول کسی ایک واقعہ میں ہوا ہو اور دوسرے واقعات کو اس کے مطابق پا کر ان کو بھی سبب نزول میں شریک کردیا گیا، اس آیت کے اصل مخاطب تو وہ اولوالامر اور ملکوک ہیں جن کو قتال و جہاد کے وسائل حاصل ہوں۔ (روح المعانی، معارف) اور بالواسطہ تمام مسلمان مخاطب ہیں کہ اولوالامر کی اعانت کریں اور جہاں کوئی امام و امیر بادشاہ نہ ہو، وہاں حکم یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دونوں کو فرمائش کر کے ترک قتال…
Read the full tafseer →انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم واتقوا اللہ لعلکم ترحمون .
مسلمان تو سب بھائی ہیں۔ اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ: یعنی تمام مؤمنوں کی اصل ایک ہے یعنی سب کی (مشترک) اصل ایمان ہے اور ایمان ہی حیات ابدی کا موجب ہے۔ اس لیے تمام اہل ایمان بھائی ‘ بھائی ہیں اور چونکہ اس اصل کی پیدائش گاہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے اس لیے آپ ﷺ تمام مؤمنوں کے باپ اور آپ ﷺ کی بیبیاں تمام مسلمانوں کی مائیں قرار پائیں۔
بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ : تثنیہ کا صیغہ (دو بھائی) خصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ اختلاف کم سے کم دو آدمیوں…
Read the full tafseer →مسلمان تو سب اشتراک فی الدین کی وجہ سے بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان کتاب اللہ کے ذریعہ سے اصلاح کرا دیا کرو اور اصلاح کے وقت اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے اور عذاب نہ ہو۔
Read the full tafseer →(1) انما المومنون اخوۃ : لڑائی سے باز رکھنے کا سب سے موثر ذریعہ لڑنے والوں کو قربات کا احساس دلانا ہے کہ دیکھو تم کس سے لڑر ہے ہو ؟ اپنے ہی بھائی سے، یہ کتنی بری بات ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی دینی قربات کا احساس دلایا، جو نسبی قربات سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے جو لوگ نسبی قرابت کے باوجود ایک دوسرے کے شدید دشمن تھے، جیسا کہ اوس اور خزرج کا معاملہ تھا ، اللہ کی نعمت سے اسلام کی بدولت بھائی بھائی بن گئے۔
(دیکھیے آل عمران : 103) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(المسلم اخو المسلم لا یظلمہ، ولا یسلمہ) (بخاری، خ المظالم، باب لایظلم المسلم المسلم ولایسلمہ : 2332، عن ابن عمر…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: یعنی دین و حرمت میں بھائی بھائی ہیں یہ رشتہ نسب میں نہیں اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے : دینی اخوت نسبی اخوت سے زیادہ قوی ہے کیونکہ نسبی اخوت دینی مخالفت کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے اور دینی اخوت نسبی مخالفت کے باوجود ختم نہیں ہوتی۔
صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (1) باہم حسد نہ کر باہم بغض نہ کرو جاسوسی نہ کرو خبر معلوم کرنے کی کوشش نہ کرو کیا باہم بھائو پر بھائو نہ کیا کروبھائی بھائی بنتے ہوئے اللہ کے بندے بن جائو۔ ایک روایت میں ہے کہ ” باہم حسد نہ کیا کرو، بھائو پر بھائو نہ لگایا کرو، باہم بغض نہ کیا کرو، آپس میں دشمنی نہ…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” انما المؤمنون اخوۃ “
15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن سرین (رح) سے روایت کیا کہ وہ (آیت ) ” انما المؤمنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم “ میں ”’ اخواتکم “ کو یاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔
16:۔ ابن مردویہ (رح) نے اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔ ابن مردویہ (رح) نے اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عاصم (رح) سے روایت کیا کہ عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اس کے مثل کوئی چیز نہیں دیکھی جتنا میں اس سے اعراض کیا جو اس آیت میں ہے (آیت ) ” وان طآئفتن من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “ الایہ
17:۔ احمد نے فہید بن مطرف الغفاری…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ سارے ایمان لانے والے ] اِخْوَةٌ [بھائی ہیں ] فَاَصْلِحُوْا [ توصلح کراؤ] بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ ۚ [ اپنے دونوں بھائی کے درمیان ] وَاتَّقُوا اللّٰهَ [ اور تقوی اختیار کرو اللہ کا ] لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ [ شاید تم لوگوں پر رحم کیا جائے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا ﴿ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ ﴾ کہ سارے مومن ایمانی رشتہ کی وجہ سے آپس میں بھائی بھائی ہیں (اول تو انہیں خود ہی بھائی بھائی ہونے کا لحاظ رکھنا لازم ہے آپس میں لڑائی نہ کریں میل محبت کے ساتھ رہیں کسی کی طرف سے کوئی خطا ہوجائے حقوق کی ادائیگی میں بھول چوک ہوجائے تو درگزر کرتے رہیں لفظ ﴿اِخْوَۃٌ﴾ میں اس بات کو واضح فرما دیا) اور اگر دو جماعتوں میں کوئی بگاڑ ہوجائے اور کوئی فریق درگزر کرنے کو تیار نہ ہو جس سے جنگ وجدال کی نوبت آسکتی ہے تو دوسرے مسلمان اس وقت کے اہم تقاضے کو پورا کریں یعنی دونوں فریق کے درمیان باہمی صلح کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ان دونوں کی اصلاح اور صلاح اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ترغیب وتاکید باہمی اخوت وہمدردی وتنبیہ وتہدید برتحقیر وتذلیل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وان طآئفتن من ال مومنین ...... الی ....... فاولٓئک ھم الظلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اس امر پر تنبیہ کی گئی تھی کہ کسی غیر مستند اور غیر معتبر بات کو سن کر اس پر یقین نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی تحقیق کرلی جائے محض افواہوں سے متاثر ہو کر جذبات میں مغلوب ہوجانا بہت سے مفاسد اور فتنوں کا ذریعہ ہے اور باہمی منازعت وخصومت کا اس سے دروازہ کھل جاتا ہے تو ان آیات میں اس کے بالمقابل ایسی ہدایت وتعلیم دی جارہی ہے کہ مسلمان قوم کو چاہئے کہ وحدت واخوت قائم رکھے، باہمی منازعت اور اختلاف وخصومت سے پوری طرح بچے اور اگر…
Read the full tafseer →9:۔ ” انما المؤمنون “ یہ ماقبل سے متعلق ہے اور اصلاح احوال کی ترغیب و تلقین ہے تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں ان کے درمیان اسلامی اخوت کا جو رشتہ ہے وہ ناقابل انقطاع ہے۔ اس لیے اگر دو مسلمان بھائیوں کے درمیان کبھی تلخی پیدا ہوجائے تو اس کی اصلاح کرنے کوشش کرو اور اس سے ہوا دینے کی کوشش نہ کرو۔ اور ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہو اور مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے میں کبھی کوتاہی اور سستی نہ کرو تاکہ تم پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر طریقے سے بسر کرنے اور نظام حکومت کو صحیح طریقے پر قائم کرنے سے متعلق اس سورة میں بڑے اہم اصول و ضوابط بیان فرمائے ہیں ۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، اور ہر حالت میں اللہ سے ڈرتے ہو ۔ پیغمبر خدا کی مجلس میں اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور نہ ہی آپ کے سامنے زور سے بولو ۔ پھر فرمایا کہ اگر کوئی جھوٹا آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس پر بلا تحقیق عمل نہ شروع کردو بلکہ اس کی اچھی طرح تفتیش کرلو تا کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو ۔ جس سے بعد میں پشیمان ہونا پڑے ۔ فرمایا یہ…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ 10 ۧ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ترکیب : ان تصیبوا مفعول لہ ای خشیۃ ذلک بجہالۃ حال من الفاعل ای جاھلین۔ لویطیعکم مستانف ویجوزان یکون فی موضع الحال و العامل فیہ الاستقرار کقولک مررت برجل لوکلمۃ کلمنی فکما جاز و قوعہ صفۃ للنکرۃ جاز وقوعہ حالا فضلا مفعول لہ طائفتان فاعل فعل محذوف اخویکم بالتثنیۃ والجمع الاخوۃ جمع الاخ۔
چوتھا حکم : یا ایہا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبافتبینوا کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو جانچ لیا کرو یہ نہیں کہ جو کسی سے سنا یقین کرلیا اور اس پر کاربند ہوگئے کیونکہ ایسی صورتوں میں باہم لڑانے کے لیے بہت سے جھوٹے افسانے غماز بنا لایا کرتے ہیں ان پر باور کر کے کسی سے لڑ پڑے یا رنجیدہ ہو کر ان کے…
Read the full tafseer →اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُواللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (الحجرات : 10)
(مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اپنے بھائیوں کے مابین مصالحت کرائو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔ )
مسلمانوں کے درمیان رشتہ اخوت کا تقاضا
گزشتہ آیت میں مسلمانوں کے اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو باقی مسلمانوں کو جس طرح لڑنے والوں کے درمیان مصالحت کی کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ اسے ان کے لیے لازم ٹھہرایا گیا، پیش نظر آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ اور وہ وجہ یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد تمہارے درمیان ایک نئی اخوت قائم ہوگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : بد گمانی پیدا کرنے اور افواہ اٹھانے کا نتیجہ عام طور پر اختلافات کی صورت میں رونما ہوتا ہے اور اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے اس لیے اس کا حل پیش کیا گیا ہے۔
اگر مومنوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے درمیان صلح کروانے کی پرخلوص کوشش کریں۔ اگر متحارب گروپوں میں سے کوئی گروپ دوسرے پر زیادتی کرنے والا ہو اور وہ صلح کرنے پر آمادہ نہ ہو تو صلح کروانے والے مسلمان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر اللہ کا حکم ماننے یعنی صلح کرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اگر وہ صلح پر آمادہ ہوجائے تو پھر عدل و انصاف کے ساتھ…
Read the full tafseer →مسلمانوں میں باہمی مخاصمت کی تاکید :
آیت 10 : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ (مسلمان تو سب بھائی ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو) یہ آیت اس اصلاح کی ذمہ داری کے مضمون کو پختہ کرنے کے لئے لائے۔ کہ اگر ان کے مابین مخالفت پھوٹ پڑے تو درستگی کرو۔ اور اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ایمان نے مسلمانوں کے اندر ایک قریبی تعلق اور چمٹی رہنے والی مناسبت پیدا کردی ہے۔ اگر بھائی فضیلت نہ دیں تو اس میں کمی نہ آئے گی۔ پھر یہ عامہ مستمرہ ہے کہ جب دو بھائیوں میں ایسی چیز پھوٹ پڑے تو سب پر لازم ہے کہ اس کے دور کرنے کے لئے اٹھیں اور صلح سے اس کو ختم کریں پھر دینی…
Read the full tafseer →9 ۔” وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو کہا گیا اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس جاتے تو آپ (علیہ السلام) دراز گوش پر سوار ہوکر اس کی طرف چل پڑے اور مسلمان آپ (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے لگے اور وہ شورزدہ زمین تھی۔ پس جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس آئے تو اس نے کا مجھ سے دور ہٹو، اللہ کی قسم ! مجھے آپ (علیہ السلام) کے گدھے کی بدبو تکلیف دیتی ہے تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم حضور ﷺ کا دراز گوش تجھ سے زیادہ عمدہ خوشبو والا ہے تو عبداللہ کی قوم کا ایک شخص غصہ ہوگیا اور آپس میں دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا تو ہر ایک کے ساتھ بھی غصہ ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9۔ 10۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک اور اسامہ بن زید سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ منافقوں کے سردار عبد اللہ بن ابی کے ظاہری اسلام لانے سے پہلے ایک روز اللہ کے رسول ﷺ خچر پر سوار ہو کر عبد اللہ کی ہدایت کے لئے اس کے گھر پر گئے تو عبد اللہ آپ کے وہاں جانے سے ناخوش ہوا اور اپنی ناک پر کپڑا ڈھانک کر یہ کہنے لگا کہ آپ کے خچر کی بو سے میرا دماغ پریشان ہوگیا عبد اللہ کی یہ بات سن کر ایک انصاری صحابی نے عبد اللہ کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ تیرے جسم کی بو سے اللہ کے رسول کے حجر کی بو اچھی ہے اس انصاری صحابی کے اس جواب کو سن کر بعض انصاری صحابی عبد اللہ کے طرف دار بن گئے اور بعض اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
یہ آیت کریمہ، اہل ایمان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے اور ایک دوسرے سے لڑائی کرنے سے روکنے کو متضمن ہے، نیز یہ کہ جب اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو دیگر اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ ان دو گروہوں کے درمیان پڑ کر، جس کے ذریعے سے ان کے مابین صلح ہوجائے اور ان کے درمیان اصلاح کے ذریعے سے، اس بہت بڑے شر کی تلافی کریں اور وہ ذرائع اختیار کریں جو صلح پر منتج ہوتے ہوں۔
اگر وہ دونوں گروہ باہم صلح کرلیں تو بہت اچھی بات ہے (فان بغت احدلھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ) ” اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو، حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع…
Read the full tafseer →فریقین میں حتی الامکان صلح کروانا واجب ہے
قول باری (انما المومنون اخوۃ فاصلحوا بین اخویکم، بیشک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کردیا کرو) یعنی مسلمان ایک دوسرے کے دینی بھائی ہیں جس طرح یہ قول باری ہے۔
(فان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم، اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو (آخر) وہ تمہارے دین کے تو بھائی ہی ہیں اور تمہارے دوست) اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ دینی جہت سے مسلمانوں پر ایک دوسرے کی طرف سے بھائی کے لفظ کا اطلاق جائز ہے۔
قول باری (فاصلحوا بین اخویکم) ا س پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص کو آپس میں دشمنی رکھنے والے دو مسلمانوں کی…
Read the full tafseer →[ 28] ایمان والے آپس میں بھائی بھائی :
سو ارشاد فرمایا گیا اور " انما " کے کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ دینی و ایمانی اخوت کی بنا پر۔ جو کہ نسبی اخوت سے بھی کہیں بڑھ کر بڑی چیز اور قوی رشتہ ہے۔ پس اسلام گویا بمنزلہ باپ کے ہے اور سب مسلمان بمنزلہ اس کی اولاد کے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے کہ " جب لوگ قیس و تمیم۔ اپنے آباؤ واجداد۔ پر فخر کریں گے تو میں صرف اسلام پر فخر کروں گا کہ وہی میرا باپ ہے۔ اس کے سوا میرا کوئی باپ نہیں "۔ ابی الاسلام لا اب لی سواہ۔ اذا افتخروا بقیس اوتمیم۔ سو اخوت اسلامی بہت بڑی چیز ہے اور یہ رشتہ بڑا ہی مبارک و مسعود رشتہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
معاشرتی زندگی کا ایک اور اصول
تشریح : ان آیات میں مسلمانوں کے نظام حیات کے ایک بہت اہم پہلو کے لیے اسلام کے مخصوص اصول و قوانین اور ضابطے بیان کیے گئے ہیں۔ اور ایک بہت بڑا راز بتایا گیا ہے کہ مسلمان اعتقاد، دین اور تعلیمات میں برابر ہیں۔ کیونکہ مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اسلام کا پابند ہے، لہٰذا ان سب کو بھائی بھائی کہنا بالکل مناسب ہے۔ تو اس بھائی چارے کی تعریف رسول کریم ﷺ نے اس طرح کی ہے۔ فرماتے ہیں ” تم مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کرنے اور محبت و شفقت میں جسم انسانی کی طرح دیکھو گے کہ اس کے ایک عضو میں تکلیف ہو تو بدن کے سارے اعضاء بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتے ہیں (بخاری)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1 تا 10۔
اسرار ومعارف۔
نیز اصلاح عالم کی جہاد کی غرض یہی ہے کہ پہلے اصلاح نفس کی ضرورت ہے جس کی بنیاد ادب واحترام نبوی پر ہے چہ جائیکہ کوئی اطاعت وغلامی میں پس وپیش کرے۔ حد ادب یہ ہے کہ کبھی کسی کام میں یا کسی بات میں رسول اللہ پر سبقت نہ کیا کرو کہ یہ ایسے ہے جیسے اللہ کی ذات پر کسی نے سبقت کی کہ آپ کا ارشاد ہی اللہ کا ارشاد ہے اور اس معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ وہ سب کچھ سنتا ہے اور جانتا ہے ۔
اصلاح نفس کی بنیاد ادب ہے بارگاہ نبوی میں اس کی ضرورت قرآن نے بتادی علماء مشائخ وارث نبوت ہو کر ادب کے مستحق ہیں۔
نیز اپنی آواز کو پست رکھا کرو اور کبھی بھی نبی کریم کی آواز سے بلندآواز میں بات نہ کرو…
Read the full tafseer →ف 2 جیسا کہ حدیث میں ہے۔ ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اسے بےیارو مددگار چھوڑتا ہے۔ “ دوسری حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(49:10) اخویکم، مضاف مضاف الیہ۔ اخوی دو بھائی۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ تمہارے دو بھائی ۔ تثنیہ کا صیغہ خصوصیت کے ساتھ اس لئے استعمال کیا کہ اختلاف کم سے کم دو آدمیوں میں ہی ہوتا ہے (اس سے زائد کی نفی نہیں ہوتی)
واتقوا اللّٰہ ۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یعنی اس کے حکم کے خلاف نہ کرو۔
لعلکم۔ شاید کہ تم۔ اس امید پر کہ تم ۔ لعل حرف ترجی ہے بمعنی شاید کہ :۔ امید ہے کہ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حاکمانہ ، شاہانہ طرز کلام کے مطابق یہ لفظ تعلیل و تحقیق کے لئے استعمال کیا ہے (قاموس القرآن)
ترحمون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ رحمۃ (باب سمع) مصدر۔ تم پر رحم کیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
لغات القرآن آیت نمبر (9 تا 10) ۔
طائفتان (دو جماعتیں۔ دو گروہ) ۔ بغت (زیادتی کی ) ۔ حتی تفی (یہاں تک کہ لوٹ آئے) ۔ المقسطین (انصاف کرنے والے) ۔ اخوۃ ا (اخ) بھائی) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 9 تا 10 ) ۔ ” دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ تر اختلافات اور باہمی جھگڑے بعض غلط مہمیوں، بد ظنیوں، خاندانی اور قوم اور قبیلے کے تعْصبات کی وجہ سے جڑ پکڑ تے ہیں۔ اگر ان چیزوں سے بچا جائے تو کبھی جھگڑے نہ ہوں اور وہ لوگ جو بدگمانیاں پیدا کر کے معمولی جھگڑوں اور اختلافات کو قتل و غارت گری تک پہنچا دیتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہر وہ بات جس سے لڑائی جھگڑے کا اندیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اسلامی اخوت کا تقاضا باہمی صلح کی کوشش۔
1) شان نزول۔ نبی ﷺ دراز گوش پر سوار تشریف لے جاتے تھے انصار کی مجلس پر گزر ہوا وہاں تھوڑا سا توقف کیا اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو ابن ابی نے ناک بند کرلی، حضرت عبداللہ بن رواحہ نے فرمایا کہ حضور کے دراز گوش کا پیشاب ترے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے حضور تشریف لے گئے ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑ پڑیں، اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچی تو نبی واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اے مسلمانو اگر تمہارے آپس میں دو فرقے پیدا ہوجائیں اور آپس میں لڑیں تو اول تو صلح کرادو اور اگر وہ صلح نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[8] کیونکہ اس لڑائی کا حکم اللہ نے دیا ہے اس لئے واجب ہے اور جہاد کے حکم میں ہے۔ اس حکم کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو طاقت استعمال کر کے زیادتی کا ازالہ کرنے پر قادر ہوں۔
[9] اللہ کے حکم سے مراد یہ ہے کہ کتاب و سنت کی رو سے جو بات حق ہو اسے باغی گروہ قبول کرنے پر آمادہ ہوجائے۔[10] یہ آیت مسلمانوں کی باہمی جنگ کے بارے میں شرعی قانون کی اصل بنیاد ہے۔ اس قانون کی کوئی تشریح رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہیں ملتی کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان جنگ کی کبھی نوبت ہی نہیں آئی۔ اس قانون کی مستند تشریح اس وقت ہوئی جب سیّدنا علی ؓ کے عہد خلافت میں خود مسلمانوں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں۔ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
اسلامی اخوت
1: اسلام ایک ایسا مستحکم اور مضبوط رشتہ ہے ۔ جو کبھی نہیں ٹوٹتا اور جس پر رنگ وبو کا اختلاف قطعاً اثر انداز نہیں ہوتا ۔ مسلمان نام ہے ۔ ایک ایسی ہیئت اجتماعیہ کا ہو ساری کائنات میں موجود ہے ۔ اور جغرافیائی حدود اس میں داخل انداز نہیں ہوتیں ۔ مومن تعبیر ہے ۔ وحدت واخوت سے ۔ یک جہتی اور یکسانی سے اس عمائفہ نیک نہاد کی عادات میں ، تہذیب میں اور خیالات و افکار میں نہایت نمایاں اتحاد ہوتا ہے ۔ یہ لوگ دنیا میں اس لئے آئے ہیں ۔ کہ تمام نوع کی نسلی اور قومی امتیازات مٹادیں ۔ اور تمام تفریقات کو ختم کردیں ۔ جو مصنوعی ہیں ۔ اور اتحاد انسانی کے دشمنوں نے وضع کررکھی ہیں ۔ اور ساری انسانیت کو…
Read the full tafseer →(10) سوائے اس کے نہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب حکم شرع کے تابع ہوں تو انصاف سے صلح کروادو ایک کی طرف داری نہ کرو۔ یہ حکم ہے خانہ جنگی کا جو مسلمان آپس میں لڑپڑیں۔
خلاصہ : یہ ہے کہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں اگر جنگ ہوجائے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ آپس میں سمجھا بجھا کر مابہ النزاع امور کو ختم کر ا کے اصلاح کردیں اور دونوں پارٹیوں میں صلح کرادیں اور اگر باوجود اصلاح کی اور صلح کی کوشش کے کسی جماعت کی زیادتی دیکھو یعنی وہ قتال کے ترک پر آمادہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
ف 3۔ اس کے نزول کا واقعہ اس طرح ہوا (اور پھر حکم عام ہے) کہ حضور ﷺ نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیجا، اور ایک روایت میں بنی وکیعہ آیا ہے، ولید میں اور ان میں زمانہ جاہلیت میں کچھ عداوت تھی، ولید کو ہاں جاتے ہوئے کچھ اندیشہ ہوا، ان لوگوں نے سن کر استقبال کیا، ولید کو یہ گمان ہوا کہ یہ لوگ بارداہ قتل آئے ہیں، واپس آکر اپنے خیال کے موافق کہہ دیا کہ وہ تو مخالفت اسلام ہوگئے، آپ ﷺ نے حضرت خالد کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ خوب تحقیق کرنا، اور جلدی مت کرنا، چناچہ انہوں نے وہاں بجز اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا، آکر آپ ﷺ کا اطمینان کردیا، اس پر یہ حکم نازل…
Read the full tafseer →سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لیے اگر کوئی پرخاش ہے تو اس کو ختم کرا دو
10 ۔ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور بھائیوں کے درمیان شکر رنجی اور پرخاش کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اور فی الواقع انسان اس معاملہ میں اکثر بخیل ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق کو تو حق سمجھتا ہے لیکن دوسرے کے حق کا کبھی خیال نہیں کرتا حالانکہ حقیقی اور سچی بات تو یہ ہے کہ جس طرح ” م “ اپنا حق ” عین “ پر سمجھتا ہے اس کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ ” عین “ کا حق بھی مجھ پر اسی طرح کا ہونا چاہیے نہیں بلکہ اس طرح کا حق ” عین “ کا مجھ پر بھی ہے لیکن اس طرح کی سوچ بہت کم دیکھی گئی ہے بلکہ ہر شخص اپنے ہی حق کا رونا روتا نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
Linkage
In the foregoing verses the rights of the Prophet were set out. They also laid down the mannerism in which he should be treated. The verses prohibited any act that would annoy or hurt him. Now this set of verses [ 9-10] establishes the manners, mores, injunctions, and mutual rights and obligations to be observed in individual and social life. The common value of all these rules is to avoid causing any inconvenience to the members of the society.
Occasion of Revelation
The commentators have narrated several incidents as a background of the revelation of these verses. Among them is the…
Read the full tafseer →18 This verse establishes a universal brotherhood of aII the Muslims of the world, and it is by virtue of this that the sort of fraternity that exists among the Muslims exists among the followers of no other religion and creed. The importance of this Command and its demands have been explained by the Holy Prophet in many of his Traditions from which one can understand its full significance and spirit - Hadrat Jarir bin 'Abdullah says: The Holy Prophet took a pledge from Me on three things: That I will establish the Prayer; that I will continue to pay the zakat: and that I will remain a…
Read the full tafseer →