Ayah 49:11۔ خوب سننے والا سارے الفاظ واقوال کا، خوب جاننے والا سارے احوال و اعمال کا۔ ظاہر و باطن کی بڑی چھوٹی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں۔ (آیت) ” لا ..... رسولہ “۔ یعنی جب تک رسول اللہ ﷺ اذن صریح نہ دے دیں یا قرینہ سے اذن صریح نہ معلوم ہوجائے، اپنی طرف سے کسی قول یا فعل میں مبادرت نہ کرو، یہ حکم تو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تھا۔ اب حضور ﷺ کے بعد اس پر عمل یوں ہوگا کہ پہلے تو ہر مسئلہ میں آپ ﷺ کے قول یا فعل کی صراحت تلاش کی جائے گی، اور جب صراحت نہ ملے گی تو نصوص منقول میں فکروتامل کرکے انہیں سے استنباط کیا جائے گا۔
Ayah 49:22۔ (جس وقت کہ آپ سے کلام کررہے ہو) (آیت) ” لا ..... النبی “۔ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں اپنی آواز کے پست رکھنے کا حکم اس وقت کے لیے نہیں، جبکہ گفتگو آپس میں ہورہی ہو۔ (آیت) ” لاترفعوا “۔ کی نہی کو فقہاء نے اپنی اصطلاح میں نہی تحریمی قرار دیا ہے۔ اور بعض فقہاء نے اس ایک لفظ سے نتائج ذیل برآمد کیے ہیں :۔
(1) آپ ﷺ کے حضور میں گفتگو زور سے نہ کی جائے نہ اپنی بات کو اس طرح بالا کیا جائے، جس سے ارشاد والا کی تردید نکل رہی ہو۔ یہ تو صاف عبارۃ النص ہے۔
(2) درشت کلامی، لڑائی جھگڑا اور ہر قسم کی بےادبی آپ ﷺ کے مواجہہ میں ناجائز ہے۔ یہ دلالۃ النص ہوئی۔
(3) زیادہ بک بک آپ ﷺ کے مواجہہ میں ممنوع ہے۔ یہ بقاعدۂ اشارۃ النص نکلا۔
(4) آپ ﷺ کے حضور میں گستاخی، بےباک بن جانا یا خائف وباادب نہ رہنا ناجائز ہے۔ یہ اقتضاء النص سے ثابت ہوا۔
3۔ مطلب یہ ہوا کہ مسلمان تو اتباع رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی تعظیم واحترام کا مدعی رہتا ہے اس الترام کا ترک آپ ﷺ کے لیے طبعا ناگواری وانقباض کا باعث ہوسکتا ہے اور یہ تاذی رسول ممکن ہے کہ بعض حالات میں حبط اعمال کا سبب بن جائے۔ اس لیے قاعدہ یہی ہے کہ عملا ہر حال میں ادب ملحوظ رکھو۔
Ayah 49:34۔ (تو تم جو اجر ومغفرت کے حریص ہو، کیوں نہ اسی امتحان میں پورے اتروگے) احادیث صحیح میں آتا ہے کہ آیہ (آیت) ” لاترفعوا اصواتکم “۔ الخ کے نزول کے بعد سے فلاں اور فلاں صحابی اس باب میں بڑے خائف اور محتاط ہوگئے تھے اور غایت احتیاط سے کام لینے لگے تھے۔ (آیت) ” الذین ..... للتقوی “۔ یعنی اس باب میں دو صفت کمال تقوی کے ساتھ موصوف ہیں۔
Ayah 49:45۔ (ورنہ ایسی جسارت نہ کرتے) شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ بنی تمیم کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ مکان کے اندر تشریف رکھتے تھے، ان لوگوں نے باہر ہی سے آپ ﷺ کو پکارنا شروع کردیا وہ بھی محض نام لے کر کہ ” یا محمد اخرج الینا “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور امت کو ہمیشہ کے لیے ادب کی تعلیم عملی مل گئی۔
Ayah 49:56۔ (اس لیے وہ لوگ اب بھی توبہ کرلیں تو معام ہوجائیں گے) (آیت) ” لکان خیرا لھم “۔ یہ بات ان کے حق میں بہتر اس لیے ہے کہ یہ ان کے ادب واحترام کا ثبوت ہوتا۔ (آیت) ” الیھم “۔ یعنی آپ ﷺ خاص انہیں سے ملنے کو باہر تشریف لائیں، یہ نہیں کہ آپ ﷺ کسی بھی ضرورت سے باہر تشریف لے آئیں، اور یہ لوگ آپ ﷺ پر ہجوم کرنے لگیں۔ رسول کے ادب واحترام کے علاوہ عام افراد امت کو انضباط اوقات کی تعلیم بھی آیت سے ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ تک لیے بایں خوش اخلاقی یہ ممکن نہ تھا کہ خلقت سے چوبیس گھنٹہ گھرے ہوئے رہیں اور اپنے لیے کوئی فارغ وقت سرے سے رکھیں ہی نہیں۔
Ayah 49:67۔ (تو ایسے امکانات جب رسول اللہ ﷺ کی خود حیات مبارک میں تھے تو اب تو ظاہر ہے کہ یہ احتمالات بہت زائد ہیں) (آیت) ” بنبا “ نباء سے اس سیاق میں مراد ایسی چیز ہے جس میں کسی کی شکایت نکلتی ہو، اور اس پر عمل کرنے سے کسی کا ضرر لازم آتا ہو۔ (آیت) ” فتبینوا “۔ یعنی بلاتحقیق عمل نہ کربیٹھو، بلکہ عمل سے قبل خوب چھان بین کرلو۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ اس اجمالی حکم تحقیق کے اندر چند تفصیلات ہیں :۔
(1) تحقیق واجب۔ مثلا خلیفہ جب یہ سنے کہ فلاں شخص مرتد ہورہا ہے یا فلاں شخص قتل و غارت کا اقدام کررہا ہے وقس علی ہذا۔ ایسے موقع پر تحقیق نہ کرنے سے کسی واجب کا فوت لازم آتا ہے۔
(2) تحقیق جائز۔ مثلا کسی نے یہ سنا کہ فلاں شخص مجھے مالی یا جسمانی ضرر پہنچانا چاہتا ہے، دفع مضرت کے لئے ایسے موقع پر یہ تحقیق بالکل جائز ہے۔
(3) تحقیق حرام۔..... مثلا کسی کے لیے یہ سنا کہ وہ خفیہ شراب پیتا ہے ایسے موقع پر تحقیق نہ کرنے سے اپنا کوئی ضرر نہیں اور تحقیق کرنے سے اس شخص کی رسوائی وفضیحت ہوتی ہے۔
Ayah 49:78۔ (اور اس وقت الٹے خود تم ہی کو ندامت ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے بجائے اپنی رائے مبارک پر عمل کے ناحق ہم لوگوں کے مشورے سے موافقت کی) (آیت) ” واعلموا ...... اللہ “۔ (اور رسول اللہ ﷺ کا تمہارے درمیان میں موجود ہونا ایک انتہائی نعمت ہے، جس کے ادائے حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ کسی معاملہ میں آپ ﷺ کی رائے کے خلاف عمل نہ کیا جائے) (آیت) ” واعلموا “۔ علم ظاہر ہے کہ بیان استحضار کے مفہوم میں ہے۔ (آیت) ” لو .... الامر “۔ ظاہر ہے کہ یہ احتمال صرف امور دنیوی وتجربی سے متعلق ہوسکتا ہے۔ ورنہ احکام شریعت میں تو اس کی گنجائش سرے سے تھی ہی نہیں۔
Ayah 49:89۔ (اور ایسے ہی خلفاء، خلفاء راشدین کہلانے کے مستحق ہیں) (آیت) ” ولکن ..... نعمۃ “۔ یعنی تم میں تو یہ ساری خوبیاں موجود ہیں، اور انہیں کے تقاضہ سے تمہیں ہر وقت رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی رہتی ہے اور یہی تمہیں بڑی مصیبتوں سے بچائے رکھتی ہے۔ اور یہ سراسر اللہ ہی کے فضل وکرم کا نتیجہ تو ہے۔ ساری آیت ایک قرآنی مدح صحابہ ہے۔ (آیت) ” الایمان “۔ ایمان۔ سے اس سیاق میں مراد ایمان کامل ہے۔ (آیت) ” الفسوق “۔ یعنی بڑے گناہ۔ (آیت) ” العصیان “۔ یعنی چھوٹے گناہ۔
10۔ چناچہ اپنے اس علم کامل و محیط کی بناء پر وہی ہر ہر حکم کی حکمتوں اور مصلحتوں کو بھی خوب جانتا ہے اور اپنی صفت حکمت کاملہ ہی کے تقاضہ سے اس نے یہ احکام صادر کئے ہیں اور ان کی تعمیل واجب کی ہے۔
Ayah 49:911۔ یعنی امر بابہ النزاع رفع کرا کے لڑائی موقوف کرادو ..... خوب خیال رہے کہ باہمی جنگ کی حالت میں بھی قرآن دونوں فریقوں کو مسلمان ہی تسلیم کرتا ہے، مجرد جنگ دائرہ اسلام سے خارج نہیں کردیتی۔
12۔ (اور وہ حکم الہی یہاں صلح وترک قتال کا ہے) یہ حکم اصالتا امام مسلمین کے لئے ہے۔ وہ نہ ہو تو عامہ مسلمین کو ہے بشرط قدرت واستطاعت۔ بعض حنابلہ نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ باغیوں سے قتال، جہاد کفار سے اہم تروافضل ہے۔ اور سند میں حضرت علی ؓ کے عمل کو پیش کیا ہے کہ آپ نے اپنے دور خلافت میں بجائے جہاد کے قتال اہل بغاوت ہی کو جاری رکھا۔ وصرح بعض الحنابلۃ بان قتال الباغین افضل من الجھاد احتجاجا بان علیا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اشتغل فی زمان خلافتہ بقتالھم دون الجھاد (روح) لیکن محققین حنفیہ کی تحقیق میں یہ مطلق صورت میں درست نہیں بلکہ صرف اس صورت میں صحیح ہے جب باغیوں کی وجہ سے اتنا بڑا فساد ہوجائے کہ ان سے قتال کرنا کافروں سے جہاد سے بڑھ کر ضروری ہوجائے، والحق ان ذلک لیس علی اطلاقہ بل اذاخشی من ترک قتالھم مفسدۃ عظیمۃ رفعھا اعظم من مصلحۃ الجھاد (روح) (آیت) ” فان ...... الاخری “۔ یعنی سعی اصلاح ومصالحت کے باوجود بھی وہ صلح نہ کرے اور جنگ برابر جاری رکھے۔ (آیت) ” فان ..... تبغی “۔ فقہاء نے آیت سے یہ بھی نکالا ہے کہ قتال فساد عقائد کی بناء پر نہ کیا جائے گا بلکہ جرم بغاوت کی بناء پر کیا جائے گا۔ وفی ھذہ الایۃ دلالۃ علی ان اعتقاد مذاھب اھل البغی لایوجب قتالھم مالم یقاتلوا (جصاص) فانما امر بقتالھم اذا بغوا علی غیرھم بالقتال (جصاص) (آیت) ” من ال مومنین اقتتلوا “۔ یہ امر بہت زیادہ قابل لحاظ ہے کہ جنگ وجدال کرنے والے ان دونوں گروہوں کو ایک کے ناحق پر ہونے کے باوجود قرآن مجید ” مومن “ ہی کہتا ہے۔ قتال اور پھر بغاوت سے بڑھ کر شدید جرم اور کون ہوسکتا ہے ؟ اس کے باوجود بھی باغی بہرحال مومن ہی رہتا ہے۔ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ اکابر اہل سنت نے یہیں سے یہ مسئلہ (خوارج ومعتزلہ کے برعکس) نکالا ہے کہ بڑے سے بڑے گناہ سے بھی مومن دائرہ اسلام و ایمان سے خارج نہیں ہوجاتا۔ سماھم مومنین مع الاقتتال وبھذا استدل البخاری وغیرہ علی انہ لایخرج عن الایمان بالمعصیۃ وان عظمت لاکمایقولہ الخوارج ومن تابعھم من المعتزلۃ ونحوھم (ابن کثیر) ھذدلیل علی ان ال مومن بالکبیرۃ لایخرج عن کونہ مومنا لان الباغی جعلہ من احدی الطائفتین وسماھما مومنین (کبیر)
13۔ جب کوئی فریق معقول فیصلہ نہ سن رہا ہو تو ثالث کو غصہ آجانا امر طبعی ہے اس کی روک تھام کے لئے مزید ترغیب توازن قائم رکھنے کی ہے۔ (آیت) ” فاصلحو ابینھما بالعدل “۔ یعنی محض ترک قتال کو کافی نہ سمجھو، بلکہ نفس معاملہ قانون شریعت کے ماتحت طے کرادو، فقہاء نے کہا ہے کہ جو مسلمان فریق شکست کھائے، نہ اس کا مال مال غنیمت سمجھا جائے گا اور نہ اس کے قیدی لونڈی غلام بنائے جائیں گے۔ البتہ توبہ کے وقت تک وہ قید رہیں گے اور ان کا مال قرق، بعد توبہ انہیں بھی رہائی مل جائے گی اور ان کا مال بھی انہیں واپس دے دیا جائے گا۔ مزید تفصیلات فقہ کی کتابوں میں ملیں گی، (آیت) ” واقسطوا “۔ یہ تاکید ہے اس کی کہ اپنے فیصلہ کو تمامتر عدل پر مبنی رکھو، کسی فریق سے انتقام یا غصہ کا جذبہ اپنے اوپر نہ غالب آنے دو ۔
Ayah 49:1014۔ (اور جب بھائی ہی ہیں، تو بھائیوں بھائیوں میں لڑائی ہی کیسی) السام یعنی دین فطرت نے ایک طرف تو غربت، امارت وغیرہ کے مختلف طبقات قائم رکھے اور ان کے مٹاڈالنے کی خلاف فطرت کوشش میں قوت اور وقت کو ضائع نہیں کیا، لیکن دوسری طرف یہ بھی بتادیا کہ دین کا اشتراک ہر مادی، مالی نسبی، نسلی تفریق و امتیاز سے بالاتر ہے اور بڑے چھوٹے امیر غریب شریف غیر شریف سب کو اخوت کے رشتہ میں پر وکر صحیح اور سچی سوشلزم (اشتراکیت) کی بنیاد قائم کردی۔ یہیں سے یہ بھی نکل آیا کہ مسلم قومیت کی بنیاد نسلی، وطنی، لسانی وغیرہ نہیں۔ صرف اعتقادی ہے۔ اور اشتراک واخوت کا سنگ بنیاد صرف وحدت کلمہ ہے۔ (آیت) ” اخوۃ “۔ اخوت کا رشتہ توانتہائی محبت کا مظہر ہے۔ اس کے استحضار کے بعد پھر کیسا جدال، کیسا قتال ؟ اخوۃ، اخ کی جمع، اخوۃ تو حقیقی بھائیوں کے لئے ہے، رشتے ناتے کے بھائیوں کے لئے اخوان آتی ہے۔ قرآن نے یہاں اخوۃ لاکر گویا بتا دیا کہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے تعلق و رشتہ بالکل بھائیوں کا ہے۔ قال بعض اھل اللغۃ الاخوۃ جمع الاخ من النسب والاخوان جمع الاخ من الصداقۃ فاللہ تعالیٰ قال انماالمومنون اخوۃ تاکید اللامر واشارۃ الی ان بینھم مابین الاخوۃ من النسب والاسلام کالاب (کبیر) (آیت) ” انما “۔ کے کلمہ حصر نے اسے صاف کردیا کہ یہ رشتہ اخوت صرف مومن ہی مومن کے درمیان ہے، مومن و کافر کے درمیان نہیں ہوسکتا۔ انما للحصر اے لااخوۃ الابین المومنین واما بین المومن والکافر فلالان الاسلام وھو الجامع (کبیر)
15۔ اس میں کمال ترغیب ہے اصلاح بین المسلمین کی۔ (آیت) ” واتقوا اللہ “۔ تقوی ہی کی ایک اعلی فرد اصلاح بین المسلمین ہے۔ (آیت) ” لعلکم ترحمون “۔ رحمت الہی کا ترتب اسی تقوی شعاری پر ہوگا۔
Ayah 49:1116۔ یعنی کسی کو کیا خبر کہ اللہ کے نزدیک بہتر اور قابل عزت کون ہے، ہنسنے والا ہے یا وہ جس پر ہنسا جارہا ہے۔ اس احساس کو بیدار کرکے قرآن نے گویا معاشرہ اسلامی کے اندر تمسخر وتفضیح کی جڑ ہی کاٹ دی ہے۔ تعلیم ہمارے ہاں کی یہ تھی اور عمل یہ ہے کہ دوسرے پر ہنسنا، بنانا، علانیہ اسکی رسوائی کرنا، عیب نہیں رہا بلکہ داخل ہنر ہوگیا ہے۔ (آیت) ” لایسخر “۔ تمسخر وہ ہنسی ہے جس سے دوسرے کی تحقیر ودل شکنی ودلآزاری ہو اور وہ حرام ہے، باقی ایسی ہنسی جس سے دوسرے کا دل خوش ہو وہ مزاح اور خوش طبعی کہلاتی ہے اور ایسی ہنسی جائز ہے بلکہ بہت سے حالات میں مستحب ہے۔ (آیت) ” قوم من قوم “ َ مراد جنس رجال ہیں خواہ ایک ہو یا بہت سے ہوں۔ (آیت) ” نسآء من نسآء “۔ مراد جنس نساء ہیں خواہ ایک ہو یا بہت سی ہوں حاصل کلام یہ کہ امت کا کوئی سا بھی طبقہ ایک دوسرے کی ہنسی نہ اڑائے۔ (آیت) ” عسی ان یکونوا خیرا منھم۔ عسی ان یکن خیرامنھن “۔ دوسرے پر ہنسی، طنز کی بنیاد عموما کیا ہوا کرتی ہے ؟ یہی ناکہ دوسرے میں فلاں فلاں عیب ہیں اور ہم ان عیوب سے کہیں بالاتر ہیں۔ قرآن مجید نے انتہائی حکیمانہ ژرف نگاہی کے ساتھ اس بنیاد پر ضرب لگادی، اور اس طرح اس عمارت ہی کو منہدم کردیا۔ انسان کو اگر اپنا عیب دار، داغدار ہونا یاد پڑجائے تو دوسرے پر زبان کھولنے کی کبھی ہمت ہی نہ پڑے۔
17۔ (اور یہ سب باتیں گناہ کی ہیں) سبب یہ ہے کہ مسلمان پر گناہ کا نام لگنا ہی برا اور قابل نفرت ہے اور ان حرکتوں کے بعد یہی کہا جائے گا کہ یہ مسلمان، مسلمان ہو کر اللہ کی نافرمانی کرتا ہے ! فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کسی کو عیب دار نام سے یاد کرنا صرف اس صورت میں حرام ہے، جب وہ بلاغرض صحیح ہو، لیکن اگر کوئی شخص پکارا اور پہچانا ہی ایسے نام سے جاتا ہے اور اس میں وہ اپنی کوئی توہین محسوس نہیں کرتا تو اسے اس کے ظاہر میں عیب دار نام سے یاد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں مثلا حکیم نابینا، لنگڑے حافظ، گنجے وکیل، وغیرہ۔ (آیت) ” ولا تلمزوا انفسکم۔ انفسکم “۔ یہاں ” ایک دوسرے کے “ معنی میں ہے جیسا کہ بعض اور مقامات پر بھی قرآن ہی میں آیا ہے۔ عن ابن عبا سؓ وقتادۃ اے لایطعن بعضکم عن بعض (جصاص) (آیت) ” بالالقاب “۔ لقب کے معنی یہاں برے نام کے ہیں یعنی کسی شخص کو ایسے نام سے پکارنا جو اسے ناگوار ہو۔ واللقب ھنا اسم مکروہ عند السامع (ابن العربی)
18۔ (اپنے حق میں اور اللہ کے یہاں) یعنی حقوق العباد کے تلف کرنے والے۔ اور جو سزا ظالموں کے لئے ہے اس کے مستحق نہ ہوں گے۔ ان تمام احکام میں واضح ہورہا ہے کہ شریعت کو مجلسی اور معاشری اصلاح کے باب میں کس درجہ اہتمام ہے، اور جو معاشرہ ان ہدایات وقوانین پر عامل ہوجائے اس میں کبھی بھی باہمی رنجشیں رخنہ انداز ہوسکتی ہیں ؟ خوب غور کرکے دیکھ لیا جائے کتنی رنجشوں اور عداوتوں کی بنیاد کسی نہ کسی بیہودہ دل لگی، پھبتی گوئی یا کسی کو بنانے کی کوشش ہی پر نکلے گی۔
Ayah 49:1219۔ (اس لئے ضرور ہے کہ اقسام گمان کو سمجھ کر حد ود جواز کے اندر ہو) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ کے ساتھ نیک گمان رکھنا واجب ہے اور حق تعالیٰ اور عام مسلمانوں کے ساتھ بدگمانی ممنوع وناجائز ہے۔ فحسن الظن باللہ فرض وسوء الظن بہ محظور منھی وکذلک سوء الظن بالمسلمین الذین ظاھر ھم العدالۃ محظور مزجور عنہ (جصاص) بدگمانیوں کی عام عادت جو بطور وباء کے ہم لوگوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ آیت اس پر کیسی ضرب لگارہی ہے۔ بات بات پر بلاوجہ بھائیوں سے بدگمانی، بیوی، بچوں سے بدگمانی، پڑوسیوں سے بدگمانی، نوکروں چاکروں سے بدگمانی، گویا بدگمانی کو ہم لوگوں نے اوڑھنا، بچھونا بنارکھا ہے۔ یہ بدگمانی کی خلش اگر دل سے دور ہوجائے تو ہم میں ایک کی زندگی کتنی راحت سے بسر ہونے لگے ، (آیت) ” بعض الظن “۔ بعض جمیع کے مقابلہ میں ہے اور کثیر بھی ” بعض “ کے اندر شامل ہے۔ اقتضت الایۃ النھی عن بعض الظن لاعن جمیعہ (جصاص) فقیہ مفسر علامہ تھانوی (رح) نے ظن کی حسب ذیل قسمیں اور احکام بیان کئے ہیں :۔
(1) ظن واجب۔ مثلا حق تعالیٰ کی ساتھ حسن ظن یا غیر منصوص میں ظن حقیقی۔
(2) ظن مباح۔ یعنی ایسی بدگمانیاں جن کے لئے کھلے ہوئے قرینہ اور قیاس موجود ہوں مثلا ایسے شخص سے فسق کا گمان رکھنا جو شراب خانوں یا قحبہ خانوں میں آمد ورفت رکھتا ہو مگر شرط یہ ہے کہ بدگمانی گمان میں رہے۔ حد یقین تک نہ پہنچا دیا جائے۔ نیز بدگمانیاں جو غیر اختیاری ہوں، یہاں بھی شرط یہ ہے کہ ان کے مقتضاپر عمل نہ کرے بلکہ حتی الامکان انہیں دفع کرتا رہے۔
(3) ظن حرام۔ عقائد دین یا احکام مسائل شریعت، بلادلیل محض اپنے گمان سے گڑھ لینا یا کسی شخص میں خفیف و ضعیف علامات فسق دیکھ کر اس کی طرف سے بدگمانی جمالینا۔
20۔ یعنی اوروں کے عیبوں اور کمزوریوں کی تلاشی و جستجو میں نہ پڑو، تاوقتیکہ کوئی مصلحت یا ضرورت ہی اسکی نہ آپڑے۔ چھپ کر باتیں سننا یا اپنے کو سوتا ہوا بنا کر باتیں سن لینا یہ سب تجسس میں داخل ہے، البتہ اگر کسی سے مضرت پہنچنے کا احتمال ہو اور اپنی یا کسی مسلمان کی حفاظت کی غرض سے اس کے مضرت رساں ارادوں اور تدبیروں کا تجسس کرے گا تو جائز ہے (تھانوی (رح)) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ کسی مسلمان کے چھپے ہوئے عیب کی پردہ دری کرنا ممنوع وناجائز ہے بلکہ اس کی پردہ پوشی کرتے رہنا واجب ہے۔ عن زیدبن وھب قال اتی ابن مسعود ؓ فقیل ھذا فلان تقطر لحیتہ خمرا فقال عبداللہ اناقدنھینا عن التجسس لکن ان یظھرلنا شیء ناخذبہ (جصاص) عن مجاھد خذوا بما ظھر لکم ودعوا ماستر اللہ فنھی اللہ فی ھذہ الایات عن سوء الظن بالمسلم الذی ظاھرہ العدالۃ والسترودل بہ علی انہ یجب تکذیب من قذفہ بالظن (جصاص) فقد اقتضی ذلک النھی عن تحقیق المظنون وعن اظھارہ ونھی عن التجسس بل ام امر الستر علی اھل المعاصی مالم یظھر منھم اصرار (جصاص)
21۔ کسی کی عدم موجودگی میں اس کا یا اس کی کسی چیز کا ذکر اس طرح کرنا کہ اسے ناگوار ہو۔ عام اس سے کہ وہ صحیح ہے یا غلط یہی غیبت ہے اور اسی کو قرآن مجید نے اس شدومد سے روکا ہے۔ حدیث شریف میں غیبت کی تفسیر اس طرح آئی ہے۔” ذکرک اخاک بما یکرہ “۔ اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار گزرے۔ غیبت کا گناہ شدید ہونا اس آیت سے ظاہر ہے۔ حدیث میں ” الغیبۃ اشد من الزنا “۔ تک وارد ہوچکا ہے۔ فقہاء نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے اور مشائخ وصوفیوں نے اس سے بچنے کے طریقے اور تدبیریں بتائی ہیں۔ جن جن موقعوں پر غیبت جائز ہے ان کی تفصیل کتب فقہ میں مل جائے گی، اردو میں مولانا عبد الحی فرنگی محلی کا ایک مبسوط اور مفصل رسالہ اس موضوع پر زجر الشبان والشییۃ عن ارتکاب الغیبۃ کے نام سے موجود ہے۔ قرآن مجید کی ان اخلاقی اور معاشری ہدایتوں پر عمل کرنا اگر ہم لوگ سیکھ جائیں تو آج دنیا میں بھی ایک حد تک جنت کا مزہ آنے لگے۔
22۔ ایسی گھناؤنی چیز سے تشبیہ دے کر قرآن نے ہر مسلمان کا دل ہی غیبت کی طرف سے متنفروبیزار کرددیا ہے۔ وجہ شبہ بعض علماء نے یہ لکھی ہے کہ جس طرح گوشت کے نوچے جانے سے جسم کو جسمانی اذیت ہوتی ہے، آبروریزی سے بھی قلبی تالم ہوتا ہے اور چونکہ وہ شخص سامنے موجود نہیں ہوتا، اس لئے عدم حس میں مشابہ مردہ کے ہے۔
23۔ تو چاہئے کہ اب ساری پچھلی غلطیوں اور بدکرداریوں پر نادم ہو کر اور ان کا تدارک کرکے حق تعالیٰ کے فضل وکرم کے مستحق بن جاؤ۔ (آیت) ” واتقواللہ “۔ بڑی چھوٹی ہر برائی سے بچنے کے لئے آسان ترین نسخہ یہی تقوی الہی ہے۔ جتنی زیادہ کسی کے دل میں خشیت الہی موجود ہوگی، اسی قدر اس کے لیے ہر ترغیب شیطانی ونفسانی کے مقابلہ میں صبر وضبط سے کام لینا اور ثابت قدم رہنا آسان رہے گا۔ (آیت) ” ان اللہ تواب رحیم “۔ بڑی بشارت اس میں اپنی پچھلی غلطیوں اور گناہوں پر نادم ہونے والوں کے حق میں ہے۔ ارشاد گویا یہ ہورہا ہے کہ اب تک جو کچھ بھی کرتے رہے ہو، جن جن بھی اخلاقی آلودگیوں میں مبتلا رہ چکے ہو، اب اس تازہ ہدایت کے بعد ان سے دستبردار ہو اور ان پر نادم ہوتے رہو، کہ حق تعالیٰ بڑے توبہ قبول کرنے والے بھی ہیں۔ اور فضل وکرم کرنے ولالے تو ہی ہیں۔
Ayah 49:1324۔ یعنی آدم وحوا سے۔ اور اس لحاظ سے سارے انسان یکساں وہم سطح ہوئے۔ اے انکم متساو ون فی النسب (معالم) قال تعالیٰ نتیھا علی تساویھم فی البشریۃ (ابن کثیر) فجمیع الناس فی الشرف بالنسبۃ الطینیۃ الی ادم وحوا سواء (ابن کثیر) وحدت نوع انسانی، اسلام میں ایک نظریہ نہیں، ایک موکد حقیقت ہے، اس نے ان تمام جاہلی نظریات کی جڑ کاٹ دی، جو انسان کی مختلف نسلوں کو مختلف مورثوں کی اولاد سمجھتے ہیں اور ہندوستان کی ذات پات والی پیدائشی تفریق کے حق میں اس آیت کا سم ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ دل بذالک علی انہ لافضل لبعضھم علی بعض من جھت النسب، اذ کان جمیعا من اب وام واحدۃ (جصاص) ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی نیز سورة النساء (پ 4) اور سورة الزمر (پ 23) کے حاشیے اسی مضمون سے متعلق۔
25۔ (اس لئے مختلف قوموں میں اور پھر خاندانوں میں تقسیم بنیاد تفاخر کی نہیں ہوسکتی، بنیاد باہمی امتیاز و تعارف کی البتہ ہے) نسل پرستی، قوم پرستی، رنگ پرستی جس میں جاہلیت قدیم سے لے کر جاہلیت جدید تک ساری قومیں مبتلا رہی ہیں، ان پر پوری ضرب اس آیت نے لگا دی ہے۔ (آیت) ” خلقنکم۔ جعلنکم “۔ دونوں لفظوں سے صاف طور پر اشارہ اس طرف کردیا کہ یہ تو جو کچھ کیا، ہم نے کیا ہے، تمہارے امتیاز وافتخار کا اس میں کون سا پہلو ہے ؟ (آیت) ” شعوبا “۔ نوع انسانی کی پہلی اور بڑی تقسیم یعنی قومیں یا نسلیں۔ (آیت) ” قبآئل۔ قدیم انسان کی دوسری اور ضمنی تقسیم، یعنی کنبے اور قبیلے۔
26۔ یعنی اللہ کے ہاں شرف، فضیلت ومقبولیت تمامتر ذاتی پرہیزگاری ہے، نہ کہ فخر نسلی وقومی وآبائی، نہ کسی کے برہمن اور چھتری ہونے میں اس کی عزت نہ کسی کے چمار پارسی ہریجن ہونے میں ذلت، اسلام نے انسانی آبادی کی تقسیم صرف دوہی طبقوں میں رکھی ہے متقی وغیر متقی، اس کے علاوہ اس کے ہاں حقیقی تقسیم نہ امیر و غریب کی ہے نہ نسلی شریف ونسلی رذیل کی، نہ گورے اور کالے کی بلکہ صرف متقی وغیر متقی کی۔ فابان ان الفضیلۃ والرفعۃ انما تستحق بتقوی اللہ وطاعتہ (جصاص) ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
27۔ (اور اس پر روشن ہے کہ کون واقعی کس حد تک پرہیز گا رہے۔ ) سو یہ تقوی بھی دنیا میں کسی کی شیخی، تعلی وتفاخر کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
Ayah 49:1428۔ (تو اس کی مغفرت بےنہایت و رحمت بےپیایاں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع اب بھی حاصل ہیں) (آیت) ” وان ..... رسولہ “۔ یعنی اگر واقعی ایمان لے آؤ۔ اور دل سے اللہ اور رسول کے احکام کی تصدیق کرنے لگو۔ (آیت) ” لا ..... شیئا “۔ اللہ تعالیٰ تو سارے ایمانی کا پورا پورا جر دے گا۔ (آیت) ” ولما .... قلوبکم “۔ محققین اہل سنت نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ اسلام عام ہے اور ایمان اس سے خاص تر ہے۔ وقد استفید من ھذہ الایۃ الکریمۃ ان الایمان اخص من الاسلام کما ھو مذھب اھل السنۃ والجماعۃ (ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ابراہیم نخعی اور قتادہ اور ابن جریر نے بخلاف امام بخاری کے آیت سے یہی استدلال کیا ہے کہ جن لوگوں کا یہاں ذکر ہے۔ وہ منافق نہ تھے، تھے مسلمان ہی، اگرچہ ان کا ایمان کمزور تھا۔ دل ھذا علی ان ھؤلاء الاعراب المذکورین فی ھذہ الایۃ لیسوا بمنافقین وانما ھم مسلمون لم یستحکم الایمان فی قلوبھم فادعوا لانفسھم مقامااعلی مماوصلوا الیہ فادبوا فی ذلک وھذا معنی قول ابن عبا سؓ وابرھیم النخعی وقتادۃ واختارہ ابن جریر وانما قلنا ھذا لان البخاری (رح) ذھب الی ان ھؤلاء کانوا منافقین یظھرون الایمان ولیسوا کذلک (ابن کثیر) کوئی شخص اسلام کا دعوی کررہا ہو تو جزم کے ساتھ اس کی تکذیب (جیسی کہ یہاں وارد ہوئی ہے) کا حق صرف حق تعالیٰ عالم الغیب ہی کو پہنچتا ہے۔ ورنہ بندوں کا کام تو عام طور پر اس مدعی کے بیان کو تسلیم ہی کرلینا ہے۔ اشارۃ ان عمل القلب غیر معلوم واجتناب الظن واجب وانما یحکم بالظاھر فلایقال لمن یفعل فعلا ھو مراثی ولا لمن اسلم ھو منافق ولکن اللہ خبیر بما فی الصدور اذا قال فلان لیس بمومن فحصل الجزم (کبیر) آیت سے ظاہر ہوگیا کہ اسلام اور ایمان کے دو الگ الگ مفہوم ہیں۔ اسلام صرف ایک ضابطہ کی چیز ہے۔ جس کا تعلق قول اور ظاہر سے ہے۔ ایمان اس کے برعکس ایک باطنی حقیقت ہے جس کا تعلق قلب کی تصدیق سے ہے۔ فاخبران حقیقۃ الایمان التصدیق بالقلب وان الاقرار باللسان واظھار مرافعہ بالابدان لایکون ایمانا دون التصدیق بالقلب والاخلاص (معالم)
Ayah 49:1529۔ (اپنے دعوی ایمان وتصدیق میں) (آیت) ” ال مومن ون “۔ یعنی دین کی پوری طرح اور درجہ کمال میں تصدیق کرنے والے۔ مومنین حقیقی، مومنین کامل۔ اے المومنون الکمل (ابن کثیر) فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ اگر کمال تصدیق نہ ہو، نفس تصدیق حاصل ہو جب بھی ایمان ثابت ہوجائے گا۔ (آیت) ” الذین ..... سبیل اللہ “۔ یعنی ہر طرح دین کی خدمت کی، اسی راہ میں سختیاں جھیلیں۔ (آیت) ” ثم لم یرتابوا “۔ زندگی کی کسی منزل اور ماحول کی کسی کشمکش میں بھی ایمان وتصدیق کی شاہراہ سے ڈانواں ڈول نہ ہونا بڑی نعمت ہے۔
Ayah 49:1630۔ (درآنحالیکہ اس کو خبر نہیں) خطاب جھوٹے مدعیان دین ومنافقین اعراب سے ہے کہ اللہ کو تو تمہارے دین کی خبر ہے نہیں اور تم اسے خبر دینا چاہتے ہو، ، مطلب صاف ظاہر ہے کہ تم ایسی جھوٹی اور بےاصل بات زبان سے نکال رہے ہو۔
31۔ (تو ایسے کامل وجامع علم رکھنے والے کو بھلا کوئی کیا بتلائے گا) مشرک جاہلی قوموں کو ٹھوکر اللہ کے صفت علم ہی میں کثرت سے لگی ہے۔ قرآن اسی لئے بار بار اس کو توضیح کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” واللہ .... الارض “۔ یعنی کوئی بھی شے اللہ کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔ (آیت) ” واللہ .... علیم “ َ یعنی جو بھی چیز ہے، اللہ کے احاطہ علم کے اندر ہے۔
Ayah 49:1732۔ (بےلڑے بھڑے بخلاف دوسرے قبائل کے) اشارہ انہیں قبائل بنی اسد وغیرہ کی جانب ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ انہیں نے آکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کہا تھا کہ ہم خاص مراعات کے مستحق ہیں۔ دوسرے کتنے مقابلہ ومقاتلہ کے بعد کہیں ہتھیار رکھتے ہیں، اور ہم کو دیکھئے کہ ہم بغیر کسی جدوجہد کے آپ کی مخالفت سے باز آگئے۔
33۔ یعنی اگر تم واقعی مسلمان ہو بھی گئے ہو (جیسا کہ تمہارا دعوی ہے) تو یہ میرے اوپر احسان کیا ہوا، یہ تو اللہ کا احسان تمہارے اوپر ہوا کہ اس نے تمہیں دائمی نجات کی راہ دکھا دی، اور دنیا میں بھی تمہیں قتل، قید وغیرہ سے بچا دیا۔
Ayah 49:1834۔ (سو اس کے سامنے بھلا کوئی مکروفریب چل سکتا ہے ؟ ) بندہ کو حق تعالیٰ کے علم کے کامل و محیط کل ہونے کا جس درجہ میں استحضار رہے گا۔ اسی نسبت سے اس کا درجہ اخلاص بھی بڑھا ہوا رہے گا۔ (آیت) ” ان .... الارض “۔ موجودات عالم کی کوئی پوشیدہ سے بھی پوشیدہ چیز علم الہی سے پوشیدہ نہیں۔ (آیت) ” واللہ بصیر بما تعملون “۔ بندہ کا براہ راست تعلق تو اللہ کے اسی علم سے ہے جو وہ ان بندوں کے اعمال وجزئیات اعمال سے متعلق رکھتا ہے، اس لئے اس پہلو کی تصریح اور تاکید قرآن مجید میں بار بار آئی ہے۔