Ayahs 49:1–5لغات القرآن آیت نمبر (1 تا 5) ۔
لا تقد موا (تم آگے نہ بڑھو) ۔ لا تر فعوا (بلند مت کرو) ۔ اصوات (صوت) (آوازیں) ۔ لا تجھروا (چلاؤمت۔ شور مت کرو) ۔ تحبط (ضائع کرتا ہے) ۔ یغضون (دھیما کرتے ہیں۔ نیچی کرتے ہیں) ۔ امتحن ( امتحان لیا۔ آزمایا) ۔ ینادون (وہ آوازیں دیتے ہیں) ۔ وراء (پیچھے) ۔ الحجرات (الحجرۃ) (حجرے۔ کمرے) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 1 تا 5 ) ۔” سورة الحجرات میں اہل ایمان کو رسول اللہ ﷺ سے ملنے اور آپ کی خدمت میں حاضری کے آداب و احکامات، آپ ﷺ سے محبت اور اصلاح نفس کے بنیادی اصول سکھائے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت سے دنیا اور آخرت کی تمام کامرانیاں حاصل ہو سکیں۔
اصل میں مدینہ منورہ کے آس پاس کی بستیوں میں رہنے والے نئے نئے مسلمان ابتداء میں بہت سے ان اصولوں سے واقف نہ تھے جو اللہ کے محبوب نبی اور رسول اللہ ﷺ سے فیض حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ تھے سادو اور بےتکلف معاشرہ تھا جس کی وجہ سے بعض قبیلوں کے سردار جب آپ کے پاس آتے اور آپ کو گھر سے باہر نہ دیکھتے تو رواج کے مطابق گھرکے باہر سے آپ کو آوازیں دیتے اور کہتے ” یا محمد اخرج الینا “ اے محمد ﷺ ہمارے لئے باہرآئیے۔ اسی طرح جب آپ کسی مجلس میں کچھ ارشاد فرماتے یا آپ تشریف رکھتے تھے تو آپس میں اس طرح زور زور سے بالتے کہ جس سے آپ ﷺ کی آواز دب جاتی یا جب آپ چلتے تو لوگ آپ سے آگے چلتے یا بہت سی باتوں میں مشورہ مانگے بغیر اپنی رائے دیدیتے ۔ ان تمام باتوں سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی اس لئے ان آیات میں اہل ایمان کی تربیت کے لئے چند بنیادی اصولوں کو بتایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پہلا اصول یہ ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی رائے مت چلاؤ۔ جب آپ کوئی فیصلہ فرما رہے ہوں تو اپنی رائے پیش نہ کرو۔ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ وہ تمہاری ہر بات کو سنتا ہے اور تمہارے ہر معاملے کی پوری حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر رسول اللہ ﷺ کسی بات میں مشورہ طلب فرمائیں تو اپنی رائے اور مشورہ پیش کیا جائے اگر مشورہ نہ فرمائیں تو اپنی رائے سے کوئی بات نہ کریں۔
بعض علماء و مفسرین نے اس آیت کا مفہوم یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اس اصول کے تحت اپنے کسی بڑے اور بزرگ کے آگے آگے چلنا اور دوسرے معاشرتیآداب میں پہل کرنا مناسب نہیں ہے چناچہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ حضرت ابودردائ ؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے آگے چل رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اے ابو درداء ؓ تم ایسے شخص کے آگے چل رہے ہو جو دنیا اور آخرت میں تم سے بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں سورج کا طلوع و غروب کسی ایسے شخص پر نہیں ہوا جو انبیاء کے بعد ابوبکر سے بہتر و افضل ہو۔ (روح البیان) ۔
دوسرا ادب یہ سکھایا گیا کہ جب اہل ایمان رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھیں تو اپنی آواز کو نبی کریم ﷺ کی آواز سے اونچا اور بلند نہ کریں اور اس طرح بات نہ کریں جس طرح وہ آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔ فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے سارے اعمال غارت ہوجائیں اور تمہیں اس کی خبر بھی نہ ہو۔ ادب یہ سکھایا گیا کہ وہ جب آپ کی مجلس میں آئیں تو ادب و احترام کا پیکر بن کر آئیں۔ دھیمی آواز سے بات کریں اور شور نہ مچائیں۔
علماء مفسرین نے اس ادب کے ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے بزرگوں سے بات چیت اور گفتگو کرتے وقت ان کے مرتبے اور مقام کا لحاظ رکھا جائے اور گفتگو میں کوئی ایسا طریقہ اخیتار نہ کریں جس سے ان کے بزرگوں کو یا والدین کو کسی طرح کی تکلیف پہنچے۔
سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ محتاط ہوگئے اور ایک دن عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم اب مرتے دم تک آپ سے اسی طرح بولوں گا جیسے کوئی سر گوشی کرتا ہے۔ (در منثور) ۔
سیدنا حضرت عمر فاروق کی آواز اس قدر اونچی تھی کہ اگر مکہ کے کسی پہاڑ پر گفتگو کر رہے ہوتے تو شہر مکہ تک آپ کی آواز پہنچتی تھی لیکن اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں اس قدر آہستہ بولنے لگے تھے کہ بعض صحابہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ان سے پوچھتے کہ اے عمر ؓ تم نے ہم سے کچھ کہا ہے ؟
اسی طرح حضرت ثابت بن قیس ؓ کی آواز کافی بلند تھی وہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بہت روئے اور اپنی آواز کو بہت پست کرلیا۔ (درمنثور) ۔
صحابہ کرام ؓ کے اس ادب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور اکرم ﷺ کے روضہء اقدس پر حاضری کے وقت آپ کی تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ پورے ادب و احترام کے ساتھ آہستہ آواز سے درود سلام پڑھا جائے۔ زور سے سلام پڑھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اسی طرح جس جگہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی پڑھائی جارہی ہوں وہاں بھی آپ کے کلام کا ادب یہ ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نرم اور دھیمی آواز سے بولتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ نے نیکی اور پرہیز گاری کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کی خطائیں معاف کردی گئی ہیں اور ان کے لئے بہت زیادہ اجر وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اہل ایمان کو تیسرا ادب یہ سکھایا گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آرام کا خیال بھی کھیں اگر آپ اپنے گھر کے اندر ہوں تو آپ کو باہر سے اس طرح آوازیں نہ دی جائیں جس طرح عام طور پر ایک دوسرے کو آوازیں دی جاتی ہیں بلکہ آپ کے احترام کا تقاضایہ ہے کہ جب آپ باہر تشریف لے آئیں تو آپ سے ادب و احترام کے ساتھ گفتگو کی جائے اور آپ کے باہر آنے کا انتظار کیا جائے۔
صحابہ کرام ؓ تہ حضور اکرم ﷺ کے فیض صحبت سے ادب و احترام کا پیکربن چکے تھے لیکن جو لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ان کے سردار حضور اکرم ﷺ کو اپنے رواج کے مطابق گھر کے باہر سے آوازیں دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ ناسمجھ ہیں ان کو حضور اکرم ﷺ کے باہر تشریف لانے کا انتظار کرنا چاہیے اسی میں ان کے لئے بہتری ہے بہر حال اگر ناسمجھی میں غلطی ہوگئی ہو تو اللہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔
Ayahs 49:6–8لغار القرآن آیت نمبر ( 6 تا 8) ۔
نبا (خبر) ۔ تبینو ا (چھان بین کرلیا کرو) ۔ ان تصیبوا (یہ کہ تم پہنچ جاؤ۔ یہ کہ تم جا پڑو) ۔ جھالتہ (نادانی۔ ناوقفیت) ۔ فعلتم (تم نے کیا) ۔ لعنتم (البتہ تم مصیبت میں پڑجاتے) ۔ حبب (محبوب بنا دیا۔ محبت ڈال دی) ۔ زینہ (اس کو خوبصورت بنادیا) ۔ کرہ (نفرت ڈال دی) ۔ الفسوق (گناہ۔ نافرمانی) ۔ العصیان (نافرمانی) ۔ راشدون (راہ پائے ہوئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (6 تا 8) ۔ ” عام آدمی کی لغزش، غلطی اور نافرمانی کو گناہ اور فسق کہا جاتا ہے لیکن بعض ایسی با عظمت اور اہم شخصیات جو دوسروں کے لئے نمونہ ہوتی ہیں ان کی ممولی سی بات لغزش اور بھول بھی بڑی بات سمجھی جاتی ہے اور ان کی شخصیت کی عظمت کی وجہ سے اس کو گناہ اور نافرمانی کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مثلاً اللہ کے نبی اور رسول ” معصوم عن الخطا “ ہوتے ہیں۔ جن سے نہ تو کسی گناہ کے سر زد ہونے یا گناہ کرنے کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ وہ گناہ کرتے ہیں نہ ان کی طرف گناہ کی نسبت کی جاسکتی ہے۔ اس کے باوجود اگر ان سے کوئی معمولی غلطی یا بھول چوک ہوجائے تو اس کو گناہ کہہ دیا جاتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے۔ اب ان گناہوں سے مراد ہرگز وہ گناہ نہیں ہیں جیسے عام لوگ گناہ کرتے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ دین اسلام کے فروغ کی جدہ جہد میں کہیں کوئی کمی یا کوتاہی وہ گئی ہو، کوئی لغزش یا بھول ہوگئی ہو یا آئندہ ہونے کا امکان ہو تو اللہ نے اس کو معاف کردیا ہے۔ اسی طرح آپ کی نسبت کی وجہ سے آپ کے جاں نثار صحابہ ؓ کا رتبہ اور مقام بھی بہت بلند ہے اور وہ کائنات کی بہترین مخلوق ہیں اس لئے ان کی کوئی معمولی سی لغزش اور بھول چوک بھی بڑی اہم ہے۔ اس لئے کسی مقام پر اس کو فسق بھی کہہ دیا گیا ہے۔ نبی اور صحابی میں فرق یہ ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور صحابی معصوم نہیں ہوتا۔ اگر کسی صحابی سے کوئی گناہ ہوجائے تو حضور اکرم ﷺ کی صحبت اور تربیت کی وجہ سے اس کو فوراً ہی توبہ کی توفیق مل جاتی ہے کیونکہ اللہ نے ان کے لئے فرمادیا ہے کہ ” اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں ۔ اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ رضائے الہٰی گناہوں کی معافی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ زیر مطالعہ آیات میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اہل ایمان کو ایک اصولی بات بتائی گئی ہے۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے والد قبیلہ بن مصطلق کے سردار حارث ضرار حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے دین اسلام قبول کرلیا۔ آپ ﷺ نے ان کو دین اسلام کی بنیادی تعلیمات تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ زکوۃ بھی ادا کریں۔ حضرت حارث ؓ نے کہا کہ میں اپنے قبیلے والوں کو بھی اسلام کو دعوت دوں گا اور اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو میں ان سے زکوۃ کی ادائیگی کے لئے کہوں گا۔ جو لوگ میری بات مان لیں گے ان سے زکوۃ وصول کر کے آپ کی خدمت میں بھیج دون گا۔ آپ فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو اپنا کوئی قاصد بھیج دیجئے میں زکوۃ اس کے حوالے کر دوں گا۔ چناچہ حضرت حارث دولت ایمان سے مالا مال جب اپنے قبیلے میں پہنچے اور انہوں نے اپنے قبیلے والوں کو بتایا تو قبیلے والوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ حضرت حارث ؓ نے مسلمانوں سے زکوۃ وصول کرلی اور انتظار کرنے لگے جب متعین تاریخ گذر گئی اور آپ کی طرف سے کوئی نمائندہ یا قاصد نہیں آیا تو انہیں تشویش ہوئی اور وہ سوچنے لگے کہ کہیں کسی بات پر نبی کریم ﷺ ہم سے ناراض تو نہیں ہوگئے ؟ ورنہ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ وعدے کے مطابق کسی کو نہ بھیجتے۔ حضرت حارث ؓ نے اپنے اس اندیشے کا ذکر قبیلے کے بڑے لوگوں سے کیا۔ سب نے طے کیا کہ ہم سب مل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر زکوۃ پیش کریں گے۔ یہ طے کر کے وہ لوگ روانہ ہوگئے۔
ادھر یہ واقعہ پیش آیا کہ نبی کریم ﷺ نے مقرر وعدے کے مطابق حضرت ولید ابن عقبہ ابن ابی معیط کو اپنا قاصد بنا کر زکوۃ کی رقم وصول کرنے کے لئے قبیلہ بنو مصطلق روانہ کردیا۔ حضرت ولید آپ کے حکم کی تعمیل میں روانہ تو ہوگئے مگر وہ اس خیال سے سخت پریشان تھے کہ ان کی اور حضرت حارث کے قبیلے کی پہلے سے زبردست دشمنی چلی آرہی تھی کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ پرانی دشمنی کی بنا پر ان کو قتل کردیں۔ جب وہ قبیلہ بنو مصطلق کے قریب پہنچے اور اس قبیلے کے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا قاصد پہنچنے ہی والا ہے تو بہت سے لوگ استقبال کے لئے اپنی بستی سے باہر جمع ہوگئے۔ جب حضرت ولید نے ان بہت سے لوگوں کو دیکھا تو وہ یہ سمجھے کہ یہ لوگ مجھے قتل کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں وہ وہیں سے پلٹ گئے اور آپ ﷺ کے پاس آکر یہ بات بنا دی کہ قبیلے والوں نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنے پر بھی آمادہ تھے۔ یہ بات سن کر نبی کریم ﷺ کو سخت بنادی کہ قبیلے والوں نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنے پر بھی آمادہ تھے۔ یہ بات سن کر نبی کریم ﷺ کو سخت افسوس ہوا اور صحابہ کرام ؓ میں اشتعال پھیل گیا۔ تمام صحابہ ؓ یہ چاہتے تھے کہ ایسے لوگوں کو فوری طور پر سزا دی جائے ۔ آپ نے حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں مجاہدین کا ایک دستہ روانہ فرمادیا تاکہ وہ حالات معلوم کر کے مناسب کاروائی کریں۔ ادھرحضرت حارث اپنے ذمہ دار لوگوں کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لئے روانہ ہوگئے۔ مدینہ منورہ کے قریب حضرت خالد اور حضرت حارث کی ملاقات ہوئی۔ حضرت حارث نے پوچھا کہ آپ کن لوگوں کے لئے نکلے ہیں۔ حضرت حارث کے پوچھنے پر انہوں نے حضرت ولید کا واقعہ بیان کیا اس پر حضرت حارث ؓ نے قسم کھا کر کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے میں نے تو ولید ابن عقبہ کو دیکھا تک نہیں اور نہ وہ میاے پاس آئے۔ حضور اکرم ﷺ نے حجرت ولید ابن عقبہ سے بلا کر پوچھا انہوں نے اس کا اقرار کرلیا۔ اس کے بعد زیر مطالعہ آیات نازل ہوئیں۔ ان آیات میں ایک بنیادی بات ارشاد فرما دی گئی ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کی پوری تحقیق کرلی جائے کیونکہ عام طور پر حالات کی خرابی اور لڑائی جھگڑوں کی ابتداء بےتحقیق باتوں سے ہوا کرتی ہے۔ ارشاد ہے۔
اے ایمان والو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (نافرمان) شخص کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی پوری طرح جانچ پڑتال کرلیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیخبر ی میں تم کسی قوم پر چڑھ دوڑو اور پھر بعد میں تم اپنے کئے پر شرمندگی محسوس کرو۔ تم اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ کے رسول تمہارے درمیان موجود ہیں۔ اگر وہ تمہاری بہت سی باتوں کو مان لیں تو تم بڑی مشکل میں پڑجائو گے۔
اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا کردی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پسندیدہ بنا دیا ہے اور کفرو فسق سے تم نفرت کرتے ہو۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و کرم سے سیدھے راستے پر ہیں۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور ہر بات کی حکمت سے واقف ہے۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ
(1) ۔ اہل ایمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ کسی بات اور اطلاع پر اس وقت تک عمل نہ کریں جب تک اس کی پوری تحقیق نہ کرلی جائے۔ بےتحقیق بات پر عمل کرنے سے سوائے شرمندگی کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتال
(2) ۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو مصطلق کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھانا نہیں چاہتے تھے لیکن صحاب کرام ؓ کے اشتعال کو دیکھتے ہوئے آپ نے پورے معاملہ کی تحقیق کے لئے حضرت کالد بن ولید کی سربراہی میں مجاہد ین کا ایک دستہ بھیج دیا تھا۔ تاکہ بروقت کوئی کاروائی کی جاسکے۔
(3) ۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ صحابہ کرام وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے نزدیک ایمان انتہائی پسندیدہ اور محبوب تھا اور وہ کفر و فسق اور ہر طرح کی نافرمانیوں سے نفرت کرتے تھے۔ لہٰذا اگر کبھی نادانستگی میں ان سے بھول چوک ہوجائے تو ان کو توبہ کی توفیق عطا کردی جاتی ہے۔ ؓ و رضواعنہ
Ayahs 49:9–10لغات القرآن آیت نمبر (9 تا 10) ۔
طائفتان (دو جماعتیں۔ دو گروہ) ۔ بغت (زیادتی کی ) ۔ حتی تفی (یہاں تک کہ لوٹ آئے) ۔ المقسطین (انصاف کرنے والے) ۔ اخوۃ ا (اخ) بھائی) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 9 تا 10 ) ۔ ” دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ تر اختلافات اور باہمی جھگڑے بعض غلط مہمیوں، بد ظنیوں، خاندانی اور قوم اور قبیلے کے تعْصبات کی وجہ سے جڑ پکڑ تے ہیں۔ اگر ان چیزوں سے بچا جائے تو کبھی جھگڑے نہ ہوں اور وہ لوگ جو بدگمانیاں پیدا کر کے معمولی جھگڑوں اور اختلافات کو قتل و غارت گری تک پہنچا دیتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہر وہ بات جس سے لڑائی جھگڑے کا اندیشہ ہو یا اسلامی سلطنت کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو اس خبر کو ذمہ داروں تک پہنچا دیا جائے تاکہ وہ اس کی پوری تحقیق کر کے معاملہ کی جڑ تک پہنچ سکیں۔ بغیر تحقیق اور معلومات کے اگر کوئی قدم اٹھایا جائے گا تو اس سے نہ صرف آپس میں بد مزگی پیدا ہوگی بلکہ بعد میں آدمی کو پچھتانا پڑے گا۔
زیر مطالعہ آیات میں اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اگر ان میں آپس کے اختلافات کی وجہ سے بات قتل و قتال تک پہنچ جائے تو یہ ہر مومن کی ذمہ داری ہے کہ آگ بھڑکنے سے پہلے اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کھڑے ہوجائیں اور آپس میں صلح کرانے کی ہر ممکن کوشش کریں لیکن ان میں کسی ایک کی طرف داری خاندانی اور قومی تعصب کی وجہ سے نہ کریں بلکہ عدل و انصاف کا دامن تھامے رہیں کیونکہ اگر وہ محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے مصالحت کی کوشش کریں گے تو ان پر اللہ کی رحمتوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ اس وت تک اس بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ”۔ اگر صلح اور مصالحت کی ہر کوشش باکام ہوجائے تو پھر وہ یہ دیکھیں کہ کون حق پر ہے۔ اور کس کی طرف سے زیادتی ہو رہی ہے۔ جو حق پر ہو اس کا ساتھ دیا جائے اور زیدتی کرنے والے سے اس وقت تک لڑیں جب تک یہ فتنہ دب نہ جائے۔
نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف اس حد تک نہیں پہنچا کہ جس کی نوبت باہمی جنگ وجدال اور قتال تک پہنچے۔ البتہ صحابہ کرام ؓ کے دور میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن میں بات انتہا تک پہنچ گئی۔ صلح کرانے والوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی کوشش کی لیکن غلط فہمیاں پیدا کرنے والوں نے صلح کی ہوکشش کو ناکام بنادیا جس سے باہمی جنگ کی نوبت تک آئی اور صحابہ میں سے جس نے بھی اپنے اجتہاد کے مطابق جس کو صحیح سمجھا اس کا ساتھ دیا۔ لیکن یہ جنگیں کفرو اسلام کی جنگیں نہ تھیں کہ ان میں سے ایک جماعت تو کافر ہوگئی تھی اور دوسری مسلمان رہی تھی بلکہ یہ ان کے آپس کے معاملات تھے جو خلاف فطرت بات نہ تھی۔ اگر کوئی صحابہ کرام ؓ کے آپس کے معاملات کو کفر و اسلام کی جنگ قرار دیتا ہے تو وہ سخت ناانصافی کرتا ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام ؓ کے سامنے نبی کریم ﷺ کے یہ ارشادات ہمیشہ رہبر و رہنما رہے ہیں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور اگر ان کے درمیان کبھی کسی بات پر کسی غلط فہمی کی وجہ سے سخت اختلاف یا جھگڑا پیدا ہوجائے تو وہ آپس میں اسلامی جذبے کے تحت پھر سے ایک ہوجاتے ہیں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔
مومنوں کی مثال آپس کی محبت، کگانگت، وابستگی اور ایک دوسرے پر شفقت و محبت کا معاملہ ایسا ہے جیسے ایک جسم کا ہوتا ہے۔ اگر جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو آدمی بخار اور بےخوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے۔ فرمایا مومن ایک دوسرے کے لئے دیوار کی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں کہ ایک (اینٹ) دوسرے سے قوت و طاقت حاصل کرتی ہے۔ (بخاری و ترمذی)
حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اس کو ذلیک و رسوا نہیں کرتا کیونکہ ایک آدمی کے لئے یہی بری بات ہے کہ وہ اپنے بھائی کی توہین کرے۔ (مسند احمد)
اللہ تعالیٰ نے زیر مطالعہ آیات میں فرمایا ہے کہ اگر دو بھائیوں میں شدید اختلاف ہوجائے تو ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرانے کی کوشش کریں کیونکہ اللہ کو وہ لوگ بہت پسند ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہوئے ہمیشہ عدل و انصاف سے کام لیتے ہیں۔ فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
Ayahs 49:11–12لغات القرآن آیت نمبر (11 تا 12 ) ۔
لا یسخر (مذاق نہ اڑائے) ۔ لا تلمزوا (طعنے مت دو ) ۔ لا تنابزوا (برے نام نہ رکھو) ۔ القاب (لقب۔ نام رکھنا) ۔ بئس (برا ہے) ۔ لم یتب (توبہ نہ کی) ۔ اجتنبوا (بچتے رہو) ۔ لا تجسسوا (ٹوہ میں نہ لگو) ۔ لا یغتب (غیبت نہیں کرتا) ۔ ایحب (کیا پسند ہے ؟ ) ۔ ان یا کل (یہ کہ وہ کھائے) ۔ لحم (گوشت ) ۔ کر ھتم (تم نے برا سمجھا ) ۔
تشریح : آیت نمبر (11 تا 12 ) ۔ ” آپس میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، طعنے دینا، کسی کو برے الفاظ و القاب سے پکارنا، بدگمانیاں کرنا، دوسرے کے عیب تلاش کرنا اور پیٹھ پیچھے اپنے بھائیوں کی غیبت کرنا یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے فسادات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور ملت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان سب برائیوں اور گناہوں سے بچنے کی سخت تاکید گی ہے۔ ایک مومن سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایمان لانے کے بعد طعنے دینے، بدکلامی کرنے اور بد زبانی کرنے جیسی برائیوں میں مبتلا ہوگا۔ مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ محبت و اخلاص کا پیکر ہوتا ہے جس سے کسی کو کسی طرح کی اذیت نہیں پہنچتی۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم اس وقت تک کامل مومن نہیں بن سکتے جب تک تم میں باہمی محبت و اخلاص نہ پیدا ہوجائے۔ انسانی تکبر کو توڑنے کے لئے آپ نے فرمایا کہ ” کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل کرنے لگو تو تمہارے درمیان محبت پیدا ہوجائے اور وہ یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرو اور اس کو (اپنے معاشرہ میں) خوب رواج دے کر عام کردو۔
جب کوئی آدمی ہر وقت دوسرے کی نجی زندگی اور اس کے حالات کی کھوج میں لگ جاتا ہے اور بد گمانیوں کے دائرے میں گھومنے لگتا ہے تو وہ اپنی اصلاح اور اپنے عیبوں پر نگاہ کرنے سے محروم ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے : ” تم اپنے بھائی کے عیب کو ظاہر نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اس کو تو معاف کر دے اور تمہیں اس (عیب) میں مبتلا کر دے۔
زیر مطالعہ آیات میں ان ہی باتوں کو بیان فرمایا گیا ہے جن کی تفصیل یہ ہے۔
(1) ۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرد یا عورت کسی دوسرے شخص یا کسی گروہ کا مذاق نہ اڑائے کیونکہ ممکن ہے جن لوگوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہ مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں۔ اصل میں کسی کا مذاق اڑانا، پھبتیاں کسنا اور جملے بازی کرنا اس کو ذلیل و رسوا کرنا اور اس کی دل شکنی کرنے کے علاوہ تکبر اور غرور کا بھی ایک انداز ہے۔ کیونکہ جب کوئی کسی کا مذاق اڑاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بہتر اور افضل و اعلیٰ سمجھتا ہے یعنی وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں تو ہر عیب سے پاک ہوں سارے عیب اور خرابیاں دوسروں کے اندر موجود ہیں۔ یہ تکبر کا انداز ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے اور ایسے شخص یا گروہ کا اپنی ہر اصلاح سے محروم فرما دیتے ہیں کیونکہ ایمان لانے کے بعد فسق و نافرمانی کا ہر اندازا انتہائی ناپسندیدہ ہے اگر اس نے اپنی اصلاح کی فکر نہ کی تو اس کا شمار ظلموں اور بےانصافوں میں ہوگا۔
(2) ۔ بدگمانیوں سے بچنا
اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی کے دل میں کسی کی طرف سے کوئی بد گمانی اور غلط خیال قائم ہوجائے تو اس کی ہر اچھی بات بھی اس کو بری لگنے لگتی ہے۔ اس لئے ہر طرح کی بدگمانیوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ یہی بدگمانیاں بڑھتے بڑھتے بعض بناہوں کا سبب بن جاتی ہیں۔ بدگمان آدمی دوسروں پر تہمت و الزام لگانے سے بھی باز نہیں آتا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی فرمایا ہے۔
وایا کم و الظن فان الظن اکذب الحدیث : ” یعنی تم بعض گمانوں سے بچا کرو کیونکہ گمان ایک جھوٹی بات کا نام ہے۔ “
(3) ۔ تجسس۔
جب کوئی شخص کسی کے متعلق بدگمان ہوجاتا ہے تو پھر یہ دائرہ پھیلنا شروع ہوجاتا ہے اور گمان کرنے والا دوسرے کے عیب کی جستجو اور تلاش میں لگ جاتا ہے جو کہ گناہ ہے اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” مسلمانوں کی غیبت نہ کرو نہ کسی کے عیب تلاش کرو۔ کیونکہ جو شخص کسی مسلمان کے عیب تلاش کرتا ہے تو اللہ اس کو اس کے گھر کے اندر بھی رسوا اور ذلیل کر کے چھوڑتا ہے۔ (قرطبی) ۔
(4) ۔ غیبت
غیبت در حقیقت معشرہ کی وہ خرابی ہے جو اس معاشرہ کو بد ترین نتائج سے دو چار کردیتی ہے کیونکہ غیبت اس کو کہتے ہیں کہ کسی مسلمان کے بپٹھ پیچھے ایسی بات کہی جائے کہ اگر اس شخص کے منہ پر وہی بات کہی جائے تو اس کو اذیت پہنچے۔ لیکن اگر کسی کے پیٹھ پیچھے ایسی بات کہی جائے جو اس میں نہیں ہے تو اس کو اتہام و الزام لیتے ہیں۔ غیبت اور کسی پر غلط الزام لگانا دونوں ہی سخت گناہ ہیں جس کی معافی تو بہ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ غیبت کرنے والا درحقیقت اپنے بھائی کی عزت کی دھجیاں بکھیرنے والا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو گوارہ کرسکتا ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ یقینا وہ کسی حال میں اس کو گوارا نہیں کرسکتا۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میرا ایک ایسی جماعت پر گذر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے بدن کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائی کی غیبت کرتے اور اس کی آبرو سے کھیلتے تھے (بغوی) ۔ اللہ تعالیٰ نے غیبت کی بری عادت سے بچنے کی سخت تاکید کی ہے اور فرمادیا ہے کہ اگر تم نے اس بری عادت سے توبہ نہ کی تو سخت نقصان اٹھائو گے اور اگر تم نے توبہ کرلی تو اللہ تمہاری توبہ کو قبول کرنے والا مہربان ہے۔
(5) ۔ طعنے دینا۔
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ ” لمز “ سے بچیں ۔ لمز کے معنی ہیں کسی کے عیب نکالنا اور اس کو طعنے دینا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص کسی کو کسی طرح سے بھی طعنے دیتا ہے یا اس کے عیب تلاش کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے وہ نہ صرف اس کی توہین کرتا ہے بلکہ اس کے عیب تلاش کرنے اور طعنے دینے میں اس بات کو بھول جاتا ہے کہ وہ خود کتنے عیبوں میں مبتلا ہے اس طرح وہ پنی اصلاح سے غافل ہوجاتا ہے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر وہ جاتا ہے۔ اسے ہر شخص میں عیب ہی عیب نظر آتے ہیں۔ یہ بھی تکبر اور غرور کی ایک شکل ہے جو اللہ کے نزدیک سخت باپسند یدہ ہے۔
(6) ۔ برے القاب سے پکارنا۔
بعض لوگ اپنی بڑائی اور برتری ثابت کرنے کے لئے دوسرے شخص کو ایسے برے برے الفاظ اور القاب سے یاد کرتے ہیں جو اس کی توہین ہوتی ہے۔ جیسے کسی کو اندھا، لولا، لنگڑا اور کانا کہہ دیا۔ کسی کی ذات میں کیڑے نکال دیئے اسی طرح اگر کسی سے غفلت میں کوئی گناہ ہوگیا اور اس نے اللہ سے معافی بھی مانگ لی تو اب یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔ کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اس کے گناہ کا نام لے کر اس کو پکارے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کو ایسے گناہ پر شرم دلائے جس سے اس نے توبہ کرلی ہے تو ہو سکتا ہے اللہ اس شرم دلانے والے کو اس گناہ میں مبتلا کر کے اسے ذلیل و رسوا کردے۔ (الحدیث)
اس سے معلوم ہوا کہ برے القاب و الفاظ ہی نہیں بلکہ کسی کو اس کے گناہوں پر شرم دلانا یا اس کو ذلیل و رسوا کرنا ایک غلط حرکت ہے جس کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایک مومن کو دوسرے مومن پر یہ حق ہے کہ وہ اس کو ایسے نام اور لقب سے پکارے جو اسے پسند ہو۔
حضور اکر م ﷺ کی سیرت پاک کے مطالعہ سے بھی یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آپ نے دوسروں کو ایسے الفاظ سے یاد فرمایا ہے جس سے ان کی عزت میں چارچاند لگ گئے ہیں اور صحابہ کرام ؓ نے بھی ان القابات کو اپنے نام کا حصہ قرار دیا ہے جیسے
٭ صدیق ‘ فاروق ‘ غنی ‘ بوتراب ‘ اسد اللہ ‘ سیف اللہ ‘ امین الامت ‘ ابوہریرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی رسول اللہ ﷺ کی اس مبارک سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Ayah 49:13لغات القرآن : آیت نمبر 13 :
خلقنا (ہم نے پیدا کیا) ذکر (مرد) انثی (عورت) شعوب (خاندان) ‘ قبائل (قبیلے) ‘ لتعارفوا (تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو) ‘ اکرم (سب سے زیادہ عزت والا) ‘ اتقی (بہت زیادہ پرہیز گار) ۔
تشریح : آیت نمبر 13 :
دنیا پرستوں نے مال و دولت کی بنیاد دیر ساری کائنات کے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ ایک طرف تو غریب مزدور اور محت کش طبقہ ہے دوسری طرف دولت مند ‘ سرمایہ دار اور عیش پسند طبقہ ہے۔ لوگوں کے نزدیک جس کے پاس جتنی دولت ‘ سرمایا اور اونچی بلڈنگیں اور بہتریں سوراریاں ہیں اس کو عزت دار اور بڑا آدمی سمجھا جاتا ہے خواہ اس میں ہزاروں عیب کیوں نہ ہوں اس کے بر خلاف وہ آدمی جس کے پاس مال و دولت نہیں ہے محض اس کی اپنی ذاتی شرافت ہے اور دنیاوی وسائل سے وہ محروم ہے تو اس کو معاشرہ میں چھوٹا آدمی سمجھا جاتا ہے۔ اس طبقاتی تقسیم نے دنیا میں سارے فسادات اور ظلم و جبر کو جنم دیا ہے۔ اسی لئے دین اسلام نے انسانی شرافت اور بڑائی کا معیار مال و دولت اور سرمائے کو نہیں بلکہ تقویٰ اور پرہیز گاری کو قرار دیا ہے۔ وہ شخص جو اللہ سے ڈرتا ہے تقویٰ اور پرہیزگاری کی زندگی گذارتا ہے وہ اللہ کے نزدیک انتہائی معزز اور قابل احترام ہے لیکن وہ سرمایہ دار شخص جو برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہے ‘ اللہ کا نافرمان اور ظالم و جابر ہے وہ دنیا والوں کی نظر میں کتنا ہی باعزت اور بڑا آدمی ہو اللہ کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ نے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے لوگوں کے نزدیک عزت و شرافت کا معیار مال و دولت ہے لیکن اللہ کے نزدیک تقویٰ ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے علان نبوت فرمایا اس وقت بھی رنگ و نسل ‘ زبان ‘ وطن ‘ خاندان ‘ اولاد ‘ مال و دولت اور نسبی شرافت پر فخر کیا جاتا تھا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے اس ادنیٰ اور اعلیٰ کے من گھڑت تصور کو بےبنیاد قرار دے کر تقویٰ و پرہیز گاری کو انسانی شرافت کا معیار قرار دیا چناچہ آ پنے اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ تمام لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں جنہیں مٹی سے پیدا کیا گیا ہے نہ کسی عربی کو عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو عربی پر نہ کسی کالے کو گورے پر اور نہ کسی سفید اور سرخ رنگ والے کو دوسروں پر سوائے تقویٰ کے کوئی بڑائی اور فضیلت حاصل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت (آدم ؐ و حوا (علیہ السلام) ) سے پیدا کیا ہے اور تمہیں قبیلوں اور خاندانوں میں محض ایک دوسرے کو پہچاننے کے لئے تقسیم کیا ہے۔ بیشک اللہ کو ہر بات کا پورا پورا علم ہے اور وہ ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔
صرف دین اسلام ہی وہ دین ہے جس نے ساری دنیا میں پھیلی ہوئی بیشمار مخلوق کی نسلوں اور قوموں کو ملا کر ایک بنایا ہے ورنہ دنیا پر ستوں نے تو لوگوں کو اتنے خانوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا ہے کہ آدمیت کی شکل پہچاننا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
انسانی شکل کا یہ بگاڑ انسان کی خود غرضی ‘ لالچ ‘ رنگ و نسل ‘ زبان ‘ وطن اور قومیت اور اس کی تقسیم سے پیدا ہوا ہے۔ یہ صرف دین اسلام ہی ہے جس نے ساری دنیا کو بتادیا کہ ذات ‘ پات ‘ چھوٹا ‘ بڑا ‘ کالا ‘ گورا ‘ عرب اور عجم ان سب کی اصل ایک ہے کیونکہ اللہ نے سب مردوں اور عورتوں کو ایک ہی ماں باپ سے وجود عطا کیا ہے۔ قبیلہ ‘ خاندان ‘ زبان اور وطن یہ ایک دوسرے کی پہچان کا ذریعہ تو ہیں لیکن ان میں فخر و غرور کی کوئی بات نہیں ہے۔
تاریخ انسانی گواہ ہے کہ قومیتوں ‘ خاندانوں اور قبیلوں پر فخر نے انسان کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ آج پوری دنیا کے تمام خطوں میں شدید کرب اور اذیت میں مبتلا لوگوں کی چیخیں اور آہیں بھی گھٹ کر رہ گئی ہیں۔ نسل پرستی کے نعرے کی ابتدا یہودیوں سے ہوئی ہے جنہوں نے بنی اسرائیل کو اللہ کی منتخب اور پسندیدہ مخلوق قرار دے کر غیر اسرائیلیوں کو حقیر و ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ہندوؤں نے برہمنوں کو ساری عزت و سر بلندی کا مالک قرار دے کر شودروں اور نیچی ذات والوں کو ذلت کے گڑھے میں پھینک دیا ہے۔ افریقہ اور امریکہ میں کالے اور گورے کے فرق نے جو تباہی مچائی ہے اس سے تاریخ بھی شرماجاتی ہے۔ یورپ کے گوروں نے براعظم امریکہ میں ریڈانڈین نسل کے ساتھ جو ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کیا ہے اس کی داستانوں کی گونج سے آج بھی پورا امریکہ لرزرہا ہے۔ یورپ کے سرمایہ دار اگر غریب اور مزدور پر ظلم کی انتہا نہ کردیتے تو کمیونزم اور سوشلزم کا کینسر جنم نہ لیتا۔ ان ہی باتوں کا اثر ہے کہ نازی جرمنوں کے نسل پرستانہ فلسفہ اور نارڈک نسل کی برتری نے دنیا کو پہلی جنگ عظیم کے شعلوں میں دھکیل دیا جس کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم ہوئی۔ ہر ملک نے اپنی حفاظت کے نام پر ایسے ایسے ہتھیار بناڈالے کہ انسان کو بارود کے ڈھیر پر لاکر بٹھا دیا ہے نجانے کب کوئی پاگل اور دیوانہ سر براہ ساری دنیا کو تباہو برباد کرنے کا سبب بن جائے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو متقی اور غیر متقی میں تقسیم کرکے انسانیت پر احسان عظیم کیا ہے اور یہی فلسفہ حیات اب بھی دنیا بھر کے لوگوں کو انسانیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچا سکتا ہے۔ دنیا کے سامریوں نے سرمایہداری کے بچھڑے کو اتنا طاقت ور بنا دیا ہے کہ اس کا مقابلہ مشلک ہے لیکن اللہ کا نظام انسانوں کے ان بتوں کو توڑ نے کی طرف متوجہ ہوچکا ہے اور عجب نہیں کہ اللہ اپنے دین کو ہر نظریہ حیات اور ہر ایک دین پر غالب کرنے کے لئے سوئی ہوئی امت کو جگا کر دنیا کی باگ ڈوران کے ہاتھ میں تھمادے۔
Ayahs 49:14–18لغات القرآن : آیت نمبر 14 تا 18 :
اسلمنا ( ہم نے ما ن لیا) لایلت (نہ گھٹائے گا) ‘ لم یرتابوا ( انہوں نے شک نہیں کیا) ‘ جاھدوا ( انہوں نے جہاد کیا) ‘ الصدقون) سچ بولنے والے) ‘ اتعلمون ( کیا تم جتاتے ہو۔ سکھاتے ہو) ‘ یمنون ( وہ احسان جتاتے ہیں) یمن (وہ احسان کرتا ہے) ‘ ان ھدا ( یہ کہ اس نے راستہ سمجھایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 14 تا 18 :
سورۃ الحجرات کی ان آخری آیات کے سلسلہ میں علماء مفسرین نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ایک مرتبہ شدید قحط پڑگیا۔ اس دوران قبیلہ بنو اسد کے کچھ لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر بظاہر ایمان قبول کرلیا۔ کہتے ہیں کہ ایمان لانے کا سبب یہ تھا کہ صدقات وغیرہ حاصل کئے جائیں۔ ان لوگوں نے اسلام قبول کرتے ہی طرح طرح کے مطالبے شروع کردیئے اور ان کا انداز ایسا تھا جیسے انہوں نے اسلام قبول کر کے نبی کریم ﷺ پر کوئی بڑا احسان کیا ہے۔ حالانکہ اس بات پر انہیں اللہ اور اس کے رسول کا احسان مند ہونا چاہیے تھا کہ اللہ کی توفیق سے رسول اللہ ﷺ کی غلامی کا شرف حاصل ہوگیا ہے کیونکہ جب تک اللہ کی توفیق نہ ہو اس وقت تک ایمان اور عمل صالح کی توفیق نصیب نہیں ہوتی اور پھر جو شخص اللہ کے لئے کوئی نیک عمل کرتا ہے اس کو جتانے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے بتائے بغیر اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اور اسے ایک ایک عمل اور ایک ایک لمحہ کی خبر ہے ۔ چونکہ ان دیہاتیوں نے ظاہری طور پر ایمان قبول کیا تھا اور ابھی ایمان ان کے دلوں کی گہرائیوں تک نہ پہنچا تھا لہٰذا انہوں نے اپنی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مدینہ کے راستوں میں غلاظت اور گندگی پھیلا دی اور بازاروں میں چیزوں کی قیمتیں بڑھا دیں۔ مدینہ منورہ پہنچ کر انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر یہ احسان رکھا کہ اے نبی ﷺ ! آپ دیکھئے کہ اور لوگ تو آپ سے ایک طویل عرصہ تک جنگ کرتے اور مخالفت کرتے رہے ہیں اور آپ کی مخالفت میں انہوں نے اپنی ساری طاقتیں لگا دی تھیں لیکن ہم نے تو اس طرح ایمان قبول کیا ہے کہ آپ کو جنگ کی زحمت بھی گوارانہ کرا پڑی اس لئے ہم سب سے زیادہ ہر طرح کے فوائد کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ ہم نے اطاعت قبول کرلی ہے اور کچھ اعمال بھی کرنے لگے ہیں لیکن ابھی تک ایمان دلوں کی گہرائیوں تک نہیں پہنچا اس لئے ایمان کا دعویٰ بڑی چیز ہے کیونکہ ابھی تو تم نے صرف اسلام قبول کیا ہے لہٰذا تم اپنے ایمان لانے کا احسان نہ جتائو۔ اس جگہ ” مومن اور مسلم “ کی بحث کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں اسلام کے لغوی معنی مراد لئے گئے ہیں اصطلاحی معنی نہیں کیونکہ اسلام ظاہری اعمال میں فرماں برداری کا اور مخالفت ترک کرنے کا اظہار ہے۔ جب کہ ایمان دل کی گہرائیوں سے تصدیق کرنے اور زبان سے اقرار کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
دیہات کے رہنے والے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ اے نبی آپ فرمادیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ ہم نے اطاعت قبول کرلی کیونکہ ابھی تک ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت (پوری طرح) قبول کرلی تو اللہ تمہارے اعمال میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کرے گا۔ بلاشبہ اللہ مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔ مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے۔ پھر ہر طرح کے شک و شبہ سے دور رہے اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا یہ لوگ اپنے (ایمان کے ) دعوے میں سچے ہیں۔
اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو اپنا دین (طریقہ ) سکھا رہے ؟ حالانکہ اللہ تو آسمانوں اور زمین کی ہر بات سے واقف ہے۔ اور درحقیقت وہی ہر بات کا جاننے والا ہے۔ (اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ پر اسلام لانے کا احسان جتا رہے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ تم مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ چتائو بلکہ تم پر اللہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف ہدایت نصیب کی۔ اگر تم سچے ہو تو ( اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے) ۔ بیشک اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے سارے رازوں سے واقف ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچے ایمان کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ کے اس احسان کو ماننے کی سمجھ عطا فرمائے کہ اگر اس کی توفیق نہ ہوتی تو ہمیں ایمان ہی نصیب نہ ہوتا۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین