49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سورة الحجرات مدنی ہے اور اس کی اٹھارہ 18 آیتیں ہیں خواص سورة الحجرات 1، یہ سورة اگر لکھ کر گھر میں لگادی جائے تو اس گھر میں شیطان نہیں آتا۔ 2، اور اگر یہ سورة لکھ کر اور دھو کردودھ والی عورت کو پلادیا جائے تو اس کا دودھ بہت ہوجاتا ہے۔ 3، اگر عورت حاملہ ہو اور یہ سورة اسے لکھ کردھوکرپلادی جائے تو بچہ ماں کے پیٹ میں ہر تکلیف سے محفوظ رہتا ہے۔ 4، اگر کوئی آدمی نزع کی تکلیف میں ہو اس کے پاس بیٹھ کر کوئی سورة حجرات کی تلاوت کرے تو اس پر موت کی سختی کو آسان کردیاجاتا ہے۔ ق۔۔۔۔۔۔ کذلک الخروج 1، اگر کوئی درخت پھل نہ اٹھا تاہویادرخت کو پھل تو لگتا ہو مگر محفوظ نہیں رہتا تو موسم بہار کی پہلی بارش کا پانی کسی پاک چکنے برتن یا کسی نئے شیشہ کے برتن میں لے کر ان آیتوں میں سے ہر ایک کو کاغذ کے ایک ٹکڑاپر گلاب وزعفران سے لکھ کر باقی پانی سے طلوع فجر کے وقت کے وقت ان ٹکڑوں کو دھولے اور دھوتے وقت ان آیتوں کو سات بارپڑھے اور پانی درخت کی جڑ میں چھڑک دے ۔ ان شاء اللہ اس درخت کو بہت پھل لگے گا۔ 2، مذکورہ بالا طریقہ سے بنائے ہوئے پانی میں بیج بھگو کر کاشت کیا جائے تو کھیتی بہت عمدہ ہوتی ہے۔ 3، کسی کے پیٹ میں تکلیف ہو خواہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوتوان آیات کو لکھ کر بارش کے پانی سی دھوکرا سے پلادیاجائے۔ 4، کسی بچہ کے دانت آسانی سے نکلتے نظرنہ آتے ہوں تو اس بچہ کو یہ آیات بارش کے پانی سے دھو کر پلادیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے دانت بآسانی نکل آئیں گ۔ 5، کوئی آدمی کسی معاملہ میں خوف زدہ ہو تو اسے بھی اگر یہ آیات لکھ کر اور بارش کے پانی سے دھوکرا سے پلادی جائیں تو اس کا خوف جاتا رہے گا۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

مومنو ! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا سنتا جانتا ہے

1 ۔” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ یعقوب (رح) نے ” لا تقدموا “ تاء اور دال کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے تقدم سے۔ یعنی (تم آگے نہ بڑھو)” لاتقدموا “ اور دیگر حضرات نے تاء کی پیش اور دال کی زیر کے ساتھ تقدیم سے پڑھا ہے اور یہ لازمی باب ہے تقدم کے معنی میں۔ بین اور تبین کی مثل اور کہا گیا ہے کہ یہ اپنے ظاہر پر متعدی ہے اور مفعول محذوف ہے یعنی ” لا تقدموا القول والفعل بین یدی اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے آگے کسی قول وفعل کو نہ کرو۔ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ عرب کہتے ہیں ” لا تقدم بین یدی الامام وبین یدالرب “ یعنی اس کے بغیر امرونہی میں جلدی نہ کر۔ بین الیدین کا معنی سامنے اور پیچھے ہے۔ یعنی ان دونوں کے امر اور نہی سے آگے نہ بڑھو۔ اور انہوں نے اس کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ شعبی (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ یوم الاضحی کو قربانی کے بارے میں ہے اور یہی حسین ؓ کا قول ہے۔ یعنی تم نبی کریم ﷺ کے ذبح کرنے سے پہلے ذبح نہ کرو۔ حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں یوم نحر میں خطبہ دیا، فرمایا کہ ہم اس دن میں پہلا کام یہ کریں گے کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر ہم لوٹیں گے تو قربانی کریں گے۔ پس جس نے یہ کیا تو وہ ہماری سنت کو پہنچ گیا اور جس نے ہمارے نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کیا تو وہ گوشت ہے جس کو اس نے اپنے گھر والوں کے لئے جلدی کرلیا ہے، یہ قربانی سے کچھ فائدہ نہ دے گا۔ مسروق (رح) نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ یوم شک کے روزے سے نہی کے بارے میں ہے یعنی تم روزہ نہ رکھو اس سے پہلے کہ تمہارے نبی روزہ رکھیں۔ ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر ؓ نے ان کو خبر دی کہ بنو تمیم کا ایک قافلہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا قعقاع معبد بن زرارۃ کو امیر بنایا جائے اور حضرت عمر ؓ نے کہا بلکہ اقرع بن حابس ؓ کو تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا کہ آپ ؓ نے میری مخالفت کا ارادہ کیا ہوا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا میں نے آپ ؓ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ پس ان دونوں حضرات کا جھگڑا ہوا حتیٰ کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ اور نافع (رح) نے ابن عمر ؓ سے عن ابی ملیکہ نے اس کو روایت کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ پس نازل ہوئی ” یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ اللہ تعالیٰ کے قول ” اجر عظیم “ تک اور زیادہ کیا ہے کہ ابن زبیر ؓ نے کہا کہ اس آیت کے بعد حضرت عمر ؓ اتنی آواز میں بھی بات نہ کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو سنادیں حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) خود قابل فہم آوازکا تقاضا کرتے اور اپنے والد یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ذکر نہیں کیا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ کہتے تھے اگر اس بارے میں نازل کی جاتی اور اس میں کیا جاتا تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ناپسند کیا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی قتال اور دین کے شرائع کے بارے میں کسی امر کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بغیر نہ کرو۔ ” واتقوا اللہ “ اس کے حق کو ضائع کرنے اور اس کے امر کی مخالفت کرنے میں ” ان اللہ سمیع “ تمہارے اقوال کو ” علیم “ تمہارے افعال کو۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

2 ۔” یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھرو الہ بالقول کجھر بعضکم لبعض “ ان کو حکم دیا کہ وہ آپ (علیہ السلام) کی تعظیم کریں اور آپ (علیہ السلام) کے پاس اپنی آوازیں بلند نہ کریں اور آپ (علیہ السلام) کو ایسے آواز نہ دیں جیسے وہ آپس میں ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں۔ ” ان تحبط اعمالکم “ تاکہ تمہاری نیکیاں ضائع نہ ہوجائیں اور کہا گیا اس خوف سے کہ تمہاری نیکیاں ضائع ہوجائیں۔ ” وانتم لاتشعرون “۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے آواز بلند کرنے کے متعلق آیات حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت ” یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم “ کے نزول کے کے بعد حضرت ثابت بن قیس ؓ اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری سے رک گئے اور کہنے لگے : میں دوزخی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ ؓ سے دریافت کیا ابو عمر ثابت ؓ کا کیا حال ہے ؟ کیا وہ بیمار ہوگئے ؟ حضرت سعد ؓ نے عرض کیا (یارسول اللہ) وہ میرے ہمسائے ہیں مجھے تو ان کے بیمار ہونے کا علم نہیں، کوئی اور وجہ ہوگی۔ حضرت سعد حضرت ثابت ؓ کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کا قول ان سے بیان کیا۔ حضرت ثابت ؓ نے کہا : یہ آیت نازل ہوگئی ہے اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے تم سب سے زیادہ اونچی آواز سے کلام کرتا ہوں۔ اس لئے میں دوزخی ہوگیا۔ سعد ؓ نے ثابت ؓ کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے جاکر عرض کردی۔ فرمایا : (وہ دوزخی نہیں) بلکہ اہل جنت میں سے ہے۔ ابن جریر نے محمد بن ثابت بن قیس بن شماس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ بغوی نے اس کا ذکر کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت ؓ راستہ ہی میں بیٹھ کر رونے لگے۔ حضرت عاصم بن عدی ؓ ادھر سے گزرے اور رونے کا سبب دریافت کیا۔ حضرت ثابت ؓ نے کہا یہ آیت نازل ہوگئی ہے اور مجھے خوف ہے کہ کہیں میرے ہی متعلق نازل ہوئی کیونکہ میری آواز اونچی ہے، مجھے اپنے اعمال کے برباد ہوجانے اور دوزخی ہوجانے کا ڈر ہے۔ حضرت عاصم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر یہ بات عرض کردی اور ادھر ثابت ؓ پر گریہ کا ایسا غلبہ ہوا کہ انہوں نے گھر جاکر اپنی بی بی جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا : جب میں اپنے گھوڑے کے بندھنے کی جگہ جائوں تو گھوڑے کا دھنکنا مضبوط طور پر میرے پائوں میں کس کر کھونٹے سے باندھ دینا۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ حضرت ثابت ؓ نے کہا اب میں باہر نہیں نکلوں گا، یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یارسول اللہ ﷺ مجھ سے راضی ہوجائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عاصم کو حکم دیا، جاکر ثابت کو بلا لائو۔ حسب الحکم حضرت عاصم ؓ اول اسی جگہ گئے جہاں ثابت ؓ کو دیکھا تھا۔ جب وہاں نہ ملے تو ان کے گھر گئے جاکر دیکھا کہ ثابت گھوڑے کی کوٹھری میں بند ہیں۔ عاصم نے کہا یارسول اللہ ﷺ تم کو طلب فرما رہے ہیں۔ ثابت ؓ نے کہا دھنکنا توڑ دو ۔ اس کے بعد دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ثابت تمہارے رونے کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ثابت ؓ نے کہا حضور ﷺ میری آواز اونچی ہے، مجھے خوف ہے کہ یہ آیت میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ قابل ستائش زندگی گزارو گے اور شہادت کی موت مارے جائو گے اور جنت میں داخل ہوجائو گے۔ ثابت ؓ نے کہا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشخبری پر راضی ہوں۔ میں اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے کبھی اونچی آواز نہیں کروں گا۔ اس پر یہ آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقوے کے لئے آزما لیے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

3 ۔” ان الذین یغضون…………………واجر عظیم۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا : ہم اپنے سامنے جنتی یعنی ثابت بن قیس ؓ ؓ کو جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی چلتے پھرتے دیکھتے تھے کہ یہ زندہ جنتی ہیں اور ان ہی سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا تم قابل ستائش زندگی گزارو گے اور شہادت کی موت مارے جائو گے اور جنت میں چلے جائو گے۔ حضرت ثابت کی شہادت اور آپ کی وصیت جب جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے مقابلہ ہوا تو ثابت کو (شروع میں) مسلمانوں میں کچھ شکست کی حالت نظر آئی بلکہ ایک جماعت تو شکست کھا کر بھاگ بھی پڑی۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت ثابت ؓ نے کہا : ان لوگوں پر افسوس ہے۔ پھر حضرت سالم ؓ سے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ کی ہمرکابی میں تو ہم اللہ کے دشمنوں سے اس طرح نہیں لڑتے تھے۔ اس قول کے بعد دونوں حضرات نے توبہ کی۔ پھر اتنا سخت قتال کیا کہ حضرت ثابت ؓ شہید ہوگئے ۔ اس وقت آپ ؓ زرہ پہنے ہوئے تھے۔ مرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے کسی نے آپ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں آپ نے اس صحابی کو بتایا کہ میری زرہ ایک مسلمان اتار کر لشکرکے کنارہ پر ایک جگہ لے گیا۔ وہاں گھوڑا رسی سے بندھا ہوا ہے اور زرہ پر پتھر کی ایک ہانڈی رکھ دی ہے۔ تم خالد بن ولید ؓ سے جاکر کہہ دو کہ وہ میری زرہ اس شخص سے واپس لے لیں اور رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے جاکر یہ بات کہہ دو کہ مجھ پر کچھ قرض ہے، وہ ادا کردیا جائے اور میرا فلاں غلام آزاد ہے (یعنی میں آزاد کرتا ہوں) اس صحابی نے حضرت خالد ؓ سے جاکر یہ بات کہہ دی۔ حضرت خالد ؓ نے جاکر دیکھا تو زرہ اور گھوڑا ویسے ہی پایا جیسا بیان کیا تھا، آپ نے زرہ واپس لے لی۔ حضرت خالد ؓ نے یہ خواب حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے جاکر بیان کردیا تو آپ نے حضرت ثابت ؓ کی وصیت پوری کردی۔ حضرت مالک بن انس ؓ نے فرمایا اس وصیت کے علاوہ وہ کسی ایسی (منامی) وصیت معلوم نہیں جس کو پورا کیا گیا ہو۔ طبرانی اور ابویعلی نے حسن سند کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت زید بن ارقم ؓ نے فرمایا : کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے حجروں کی طرف آئے اور پکارنے لگے : یا محمد ! (یا محمد باہر آئو) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

4 ۔” ان الذین…………………یعقلون ۔ “ (جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ ﷺ کو پکارتے ہیں، بلا شبہ ان میں اکثر کو عقل نہیں) ۔ حجرت اور حجرت حجرۃ کی جمع ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حجرات حجر کی اور حجر حجرۃ کی جمع ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (قبیلہ) ابن العنبرہ کی طرف ایک جہادی دستہ عینیہ بن حصین فزاری ؓ کے زیر کمانڈ روانہ کیا۔ جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ عیینہ کا رخ ہماری طرف ہے تو وہ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ عیینہ نے ان کے اہل و عیال کو قید کرلیا اور لاکر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ کچھ وقفہ کے بعد ان کے مرد اپنے بچوں کو زر فدیہ ادا کرکے رہا کرانے کے لئے آگئے جس وقت وہ آئے تھے دوپہر کا وقت تھا۔ رسول اللہ ﷺ کسی بی بی کے حجرہ میں قیلولہ فرما رہے تھے۔ ان کے بچوں نے جب اپنے باپوں کو دیکھا تو بےتاب ہوکر رونے لگے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہر بی بی کا ایک مخصوص حجرہ تھا۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے برآمد ہونے سے پہلے ہی جلدی میں پکارنے لگے : محمد ! باہر آئیے۔ غرض (شور مچا کر) حضور ﷺ کو بیدار کردیا۔ آپ ﷺ باہر تشریف لے آئے۔ ان لوگوں نے کہا محمد ﷺ ! فدیہ لے کر ہمارے اہل و عیال کو رہا کردو۔ اس وقت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا اللہ آپ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اپنے اور ان لوگوں کے درمیان کسی تیسرے شخص کو (بطور پنچ) مقرر کردو۔ رسول اللہ ﷺ نے وحی پانے کے بعد فرمایا : سبرہ بن عمرو تمہارا ہم مذہب ہے۔ کیا تم لوگ اس کو میرے اور اپنے درمیان ثالث بنانا پسند کرو گے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں۔ سبرہ نے کہا جب تک میرا چچا اعوربن بشامہ یہاں موجود نہ ہوگا میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا (یعنی اعور سے فیصلہ کر ائوں گا، خود کوئی فیصلہ نہیں کروں گا) لوگ راضی ہوگئے۔ اعور نے فیصلہ دیا کہ ان کے آدھے اہل و عیال کو بغیر معاوضہ کے آزاد کیا جائے اور باقی نصف کو فدیہ لے کر رہا کردیا جائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں اس پر راضی ہوں۔ چناچہ نصف کو بلا معاوضہ اور نصف کو فدیہ لے کر رہا کردیا اور اللہ نے آیت :
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

5 ۔ ان الذین ینادونک ……………………غفوررحیم ۔ بغوی نے قتادہ اور جابر کی روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ یہ آیت (یعنی یہ آیت اور اس کے بعد کی عبارت) بنی تمیم کے کچھ خانہ بدوش، بدویوں کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے دروازہ پر (پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو) آوازیں دی تھیں۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ دروازہ پر پہنچ کر انہوں نے پکار مچائی : محمد ! (ﷺ ) باہر نکل کر آئو۔ ہماری طرف سے (کسی کی) تعریف (اس کے لئے) باعث زینت ہے اور ہماری طرف سے (کسی کی) مذمت موجب عیب ہے۔ آواز سن کر حضور ﷺ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ ایسا تو بس اللہ ہے جس کی طرف سے کسی کی ستائش موجب زینت اور مذمت موجب عیب ہے۔ دیہاتی بولے : ہم اپنے شاعر اور خطیب کو ساتھ لے کر آئے ہیں۔ حضور ﷺ نے ثابت بن قیس ؓ سے فرمایا : اٹھو ! ان کو جواب دو ۔ حضرت ثابت ؓ رسول اللہ ﷺ کے خطیب تھے۔ حسب الحکم آپ نے بنی تمیم کے خطیب کو جواب دیا۔ پھر ان کا شاعر کھڑا ہوا اور اس نے کچھ اشعار پڑھے۔ حضور ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ کو حکم دیا، اٹھو ! ان کو جواب دو ۔ حضرت حسان ؓ نے اٹھ کر جواب دیا۔ یہ بات دیکھ کر اقرع بن حابس (تمیمی) نے کہا : محمد ﷺ کے پاس تو ہر خیر جمع ہے۔ ہمارا خطیب بولا (تو ان کا خطیب بھی بولا اور ہمارے خطیب پر غالب آیا، پھر ہمارے شاعر نے کچھ اشعار پڑھے تو ان کے شاعر نے جواب دیا) پس (ہمارے شاعر سے) تمہارا شاعر بہتر اور احسن ثابت ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچا اور بول پڑا : ” اشھدان لا الہ الا اللہ واشھدانک رسولہ “ حضور ﷺ نے فرمایا : اس سے پہلے (تجھ سے) جو جرائم ہوگئے ہیں (وہ سب معاف ہوگئے) ان کا کوئی ضرر تجھے نہیں پہنچے گا۔ (یعنی کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا) اس کے بعد ان سب کو رسول اللہ ﷺ نے (کچھ نقد اور) لباس عطا فرمایا۔ قافلہ میں ایک (بچہ) کمسنی کی وجہ سے رہ گیا تھا جس کا نام عمروبن اصم تھا۔ (قافلہ کے مال اور جانوروں کی نگرانی کے لئے یہ لوگ اس کو چھوڑ آئے تھے) حضور ﷺ نے اس کو بھی اتنا ہی (حصہ) دیا، جتنا ان لوگوں میں سے ایک ایک کو دیا تھا۔ بعض لوگوں نے اس لڑکے کو (اپنے مقابلہ میں) حقیر قرار دیا (اور پورا حصہ دینے پر اعتراض کیا) اس پر ان کے آپس میں حضور ﷺ کے سامنے شوروغل ہونے لگا۔ اس وقت آیات ” یایھا الذین امنوا لا ترفعوا……تا……غفوررحیم “ تک نازل ہوئیں۔ ” واللہ غفور رحیم “ یعنی اللہ بڑا مہربان ہے۔ اسی لئے اس نے (تم کو سزا نہیں دی بلکہ) صرف نصیحت کردی اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم نہ کرنے والوں اور بےادبی کرنے والوں کو تنبیہ کردی کیونکہ یہ بےادب لوگ جاہل اور بےعقل ہیں۔
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

مومنو ! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

6 ۔” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنیا فتبینوا “ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جنگ کے بعد بنوالمصطلق کی طرف بھیجا۔ اس کے اور بنوالمصطلق کے درمیان دور جاہلیت میں دشمنی تھی۔ جب ان لوگوں نے اس کے آنے کی خبر سنی تو رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے اس کی تعظیم کی۔ شیطان نے اس کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ یہ لوگ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ خوفزدہ ہوگیا اور راستہ سے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس آگیا اور کہا بنو المصطلق نے صدقات دینے سے انکار کردیا ہے اور مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کو سخت غصہ آیا اور پختہ ارادہ فرمایا کہ ان سے لڑائی کریں۔ ادھر بنوالمصطلق کو اس کے واپس جانے کی خبر پہنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کرنے لگے یارسول اللہ ! ( ﷺ ) ہم نے آپ (علیہ السلام) کے قاصد کے آنے کا سنا تو ہم اس کے استقبال کے لئے نکلے کہ اس کا اعزاز واکرم کریں اور ہم اس کو اللہ تعالیٰ کا وہ حق ادا کریں جس کو ہم نے قبول کیا ہے لیکن اس کو واپسی کی ضرورت پیش آگئی تو ہم ڈر گئے کہ شاید اس کی راستہ سے واپسی آپ (علیہ السلام) کے کے کسی خط کی وجہ سے ہے جو ہم سے ناراضگی کی وجہ سے آپ (علیہ السلام) نے بھیجا ہوگا اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب اور اس کے رسول ﷺ کے غضب سے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو مہتم سمجھا (ان کی بات پر اعتماد نہ ہوا) اور خالد بن ولید ؓ کو خفیہ طور پر ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ اس کی قوم کا خدمت اقدس میں آنا ان پر مخفی رکھیں اور ان کو کہا آپ جاکر دیکھو۔ پس اگر آپ ؓ ان سے وہ بات دیکھو جوان کے ایمان پر دلالت کرے تو ان کے اموال کی زکوٰۃ وصول کرو اور اگر ایسی بات نہ دیکھو تو ان کے ساتھ وہ معاملہ کرو جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے تو حضرت خالد ؓ نے ایسا کیا وہاں جاکر مغرب اور عشاء کی اذان ان سے سنی تو ان سے ان کے صدقات وصول کیے اور ان میں طاعت اور خیر کے کام دیکھے تو رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے اور ساری بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق “ یعنی ولید بن عقبہ ” بنبا “ کسی خبر کے ساتھ ” فتبینوا ان تصیبوا “ تاکہ تم قتل و قتال تک نہ پہنچ جائو۔ ” قوما “ براء ” بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین “ تمہاری غلطی سے قتال کی وجہ سے۔
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

7 ۔” واعلموا ان فیکم رسول اللہ “ پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس سے کہ تم باطل بات یا جھوٹ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو خبر دے دیں گے اور وہ تمہارے احوال پہچان جائیں گے۔ پس تم رسوا ہوجائو گے۔ ” لو یطیعکم “ یعنی رسول اللہ ﷺ ” فی کثیر من الامر “ جن کی تم ان کو خبر دیتے ہو۔ پس تمہاری رائے پر فیصلہ کردیں۔ ” لعنتم “ تم گناہگار ہوجائو اور ہلاک ہوجائو، لعنت گناہ اور ہلاک ہونا۔ ” ولکن اللہ حبب الیکم الایمان “ پس اس کو تمہاری طرف تمام ادیان سے زیادہ محبوب کردیا۔ ” وزینہ “ کو اچھا کردیا۔ ” فی قلوبکم “ حتی کہ تم نے اس کو اختیار کیا اور تم نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی ہے۔ ” وکرہ الیکم الکفر والفسوق “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جھوٹ مراد ہے۔ ” والعصیان “ اللہ تعالیٰ کی تمام نافرمانیاں۔ پھر خطاب سے خبر کی طرف لوٹے ہیں اور فرمایا ” اولئک ھم الراشدون “ ہدایت یافتہ ہیں۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

8 ۔” فضلا “ یعنی یہ فضل ہے۔ ” من اللہ ونعمۃ واللہ علیم حکیم “ وان طائفتن من المومنین سے کون لوگ مراد ہیں
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

9 ۔” وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو کہا گیا اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس جاتے تو آپ (علیہ السلام) دراز گوش پر سوار ہوکر اس کی طرف چل پڑے اور مسلمان آپ (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے لگے اور وہ شورزدہ زمین تھی۔ پس جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس آئے تو اس نے کا مجھ سے دور ہٹو، اللہ کی قسم ! مجھے آپ (علیہ السلام) کے گدھے کی بدبو تکلیف دیتی ہے تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا اللہ کی قسم حضور ﷺ کا دراز گوش تجھ سے زیادہ عمدہ خوشبو والا ہے تو عبداللہ کی قوم کا ایک شخص غصہ ہوگیا اور آپس میں دونوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا تو ہر ایک کے ساتھ بھی غصہ ہوگئے تو ان کے درمیان چھڑیوں، ہاتھوں اور جوتوں سے مارا ماری ہوئی تو ہمیں خبر پہنچی کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے “ وان طائفعان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “ اور روایت کیا گیا ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو پڑھا تو ان کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے رک گئے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت انصار کے دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ان دونوں میں کسی حق کی وجہ سے جھگڑا تھا تو ایک نے دوسرے کو کہا میں تجھ سے اپنا حق زبردستی لے لوں گے کیونکہ میرا قبیلہ زیادہ ہے اور دوسرے نے اس کو دعوت دی کہ اللہ کے نبی ﷺ سے فیصلہ کر الیتے ہیں تو اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو معاملہ ایسے ہی ان کے درمیان چلتا رہا حتیٰ کے وہ لڑپڑے اور ایک دوسرے کو ہاتھوں اور جوتوں سے مارا، کوئی تلوار کے ساتھ حملہ نہیں ہوا۔ سفیان نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ انصار کی ایک عورت تھی جس کو ام زید کہا جاتا تھا، ایک شخص کے نکاح میں تھی۔ اس عورت اور اس کے خاوند میں کچھ جھگڑا تھا تو خاوند نے اس کو گھر میں قید کرلیا۔ اس عورت کی قوم کو یہ خبر پہنچی تو وہ لوگ آگئے۔ ادھر سے مرد کی قوم آگئی تو ہاتھوں اور جوتوں کی لڑائی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما “ اللہ کی کتاب کے فیصلہ کی طرف بلا کر اور اس فیصلہ پر جس میں ان دونوں کی رضامندی ہو۔ ” فان بغت احدھما “ زیادتی کرے ان میں سے ایک ” علی الاخری “ اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ” فقاتلوا التی تبغی حتی تفی “ وہ لوٹے۔ ” الی امر اللہ “ اس کی کتاب اور اس کے حکم کی طرف۔ ” فان فائت “ حی کی طرف لوٹ آئے۔ ” فاصلحوا بینھما بالعدل “ ان دونوں کو انصاف اور اللہ کے حکم پر راضی ہونے پر آمادہ کرنے کے ساتھ۔ ” واقسطوا “ تم انصاف کرو۔ ” ان اللہ یحب المقسطین “
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے

انما المومنون اخوۃ کی تفسیر اور شان نزول 10 ۔” انما المومنون اخوۃ “ دین اور ولایت میں ” فاصلحوا بین اخویکم “ جب وہ دونوں اختلاف کریں اور لڑنے لگیں اور یعقوب (رح) نے ” بین اخوتکم “ ناء کے ساتھ جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ ” واتقوا اللہ “ پس تم اس کی نافرمانی نہ کرو اور اس کے امر کی مخالفت نہ کرو ” لعلکم ترحمون “ سالم (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو گالیاں دیتا ہے جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرتے ہیں اور جو کسی مسلمان سے کوئی غم ومشقت دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس سے قیامت کے دن کی مشقتوں میں سے مشقت دور کریں گے اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالیں گے۔ اور ان دو آیتوں میں اس پر دلیل ہے کہ بغی ایمان کے نام کو زائل نہیں کرتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مومنین بھائی رکھا ہے، ان کے باغی ہونے کے باوجود۔ اس پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جو حارث اعور سے روایت کی گئی ہے کہ علی بن ابی طالب ؓ سے سوال کیا گیا اور وہ اہل جمل اور صفین کے قتال میں پیشوا تھے۔ کیا وہ مشرک ہیں ؟ تو آپ ؓ نے فرمایا نہیں۔ شرک سے وہ لوگ بھاگے ہیں۔ پھر پوچھا گیا، کیا وہ منافق ہیں ؟ تو فرمایا نہیں۔ بیشک منافقین اللہ کا ذکر نہیں کرتے مگر تھوڑا۔ کہا گیا پھر ان کا کیا حال ہے ؟ فرمایا ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی اور شرعی باغی وہ شخص ہے جو عادل امام سے خروج کرے۔ پس جب ایک جماعت جمع ہوجائے ان کے لئے قوت و طاقت ہو، اور وہ عادل امام کی اطاعت سے کسی محتمل تاویل کی وجہ سے رک جائیں اور اپنا امام مقرر کرلیں تو ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ امام ان کی طرف لشکر بھیجے اور ان کو اپنی اطاعت کی طرف بلائے۔ پس اگر وہ کوئی اشکال ظاہر کریں تو اس کو زائل کرے۔ اور اگر وہ کوئی اشکال نہ ذکر کریں اور اپنی بغاوت پر اصرار کریں تو امام ان سے لڑائی کرے گا حتیٰ کہ وہ اس کی اطاعت کی طرف لوٹ آئیں۔ پھر ان کے قتال کا حکم یہ ہے کہ ان میں سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا اور ان کے قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا اور ان زخمیوں کو فوراً نہیں مارا جائے گا۔ حضرت علی ؓ کے منادی نے جنگ جمل کے دن آواز لگائی۔ خبردار ! پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا اور زخمی کو قتل نہیں کیا جائے گا اور جنگ صفین میں حضرت علی ؓ کے پاس ایک قیدی لایا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا : میں تجھے باندھ کر قتل نہ کروں گا۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور دونوں گروہوں میں سے کوئی دوسرے کی جان ومال کا جو نقصان کردے اس کی کوئی ضمان نہ ہوگی۔ ابن شہاب (رح) فرماتے ہیں کہ اس فتنہ میں خون ریزی ہوئی۔ بعض میں قاتل و مقتول کو پہچانا گیا اور بہت سارا مال ضائع ہو۔ پھر لوگوں کے درمیان جنگ ختم ہوئی اور ان پر حکم جاری ہوا۔ پس مجھے معلوم نہیں کہ ان میں سے کسی سے قصاص لیا گیا ہو اور کسی کے مال کا تاوان لیا گیا ہو۔ بہرحال جن باغیوں میں یہ تین شرائط جمع نہ ہوں، بایں طور کہ وہ تھوڑی سی جماعت ہو ان کے لئے روکنے کی قوت نہ ہو یا کوئی تاویل نہ ہو یا انہوں نے امام مقرر نہ کیا ہو تو ان کی کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اگر وہ مسلمانوں کو نہ چھیڑیں اور قتال نہ کریں۔ پس اگر وہ ایسا کریں تو وہ قطاع الطریق (ڈاکو) ہیں اور روایت کیا گیا ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ مسجد کے کونے پر کہہ رہا ہے ” لا حکم الا للہ “ کہ فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کا ہے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ کلمہ حق ہے اس سے مراد باطل لی گئی ہے۔ تمہارے لئے ہم پر تین چیزیں ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی مساجد سے نہ روکیں گے کہ تم اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو اور ہم تمہیں مال فئی سے نہ روکیں گے جب تک تمہارے ہاتھ میں ہمارے ہاتھوں کے ساتھ ہوں گے اور ہم تمہارے سے قتال میں پہل نہ کریں گے۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

مومنو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام (رکھو) ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم کا شان نزول 11 ۔” یایھا الذین امنوا لا یسخرقوم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان کی قوت سماعت کم تھی، یہ جب بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے اور صحابہ کرام ؓ مجلس میں ان سے پہلے جگہ بنا چکے ہوتے تو ان کے لئے مجلس کو کشادہ کردیتے حتیٰ کہ یہ آپ (علیہ السلام) کے پہلو میں بیٹھ جاتے اور آپ (علیہ السلام) کے ارشادات سن لیتے تو یہ ایک دن آئے اور فجر کی ایک رکعت ان سے چھوٹ گئی تھی جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرام ؓ نے مجلس میں اپنی جگہیں بنالیں تو ہر شخص نے اپنی جگہ پر بخل کیا اور ان کے لئے وسعت نہ کی۔ پھر ایک شخص آیا اور بیٹھنے کی جگہ نہ ملی تو کھڑا رہ گیا۔ جب ثابت ؓ نماز سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے، لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اور ساتھ یہ کہتے جاتے مجلس میں کشادگی کرو تو صحابہ کرام ؓ کشادگی کرنے لگے حتیٰ کہ یہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئے اور ثابت ؓ اور حضور ﷺ کے درمیان ایک شخص کا فاصلہ تھا تو اس آدمی کو کہا جگہ دے تو اس نے کہا آپ ؓ کو جگہ مل گئی، بیٹھ جائو تو ثابت ؓ اس کے پیچھے غصہ میں بیٹھ گئے۔ پھر جب تاریکی چھٹی تو ثابت ؓ نے اس کے پہلو میں ہاتھ مار کر کہا کون ہے ؟ اس نے کہا میں فلاں ہوں تو حضرت ثابت ؓ نے کہا فلانی کا بیٹا اور اس کی ماں کا ذکر کیا جس کی وجہ سے جاہلیت میں اس کو عار دلائی جاتی تھی تو اس شخص نے اپنا سر جھکا لیا اور شرمندہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنوتمیم کے اس وفد کے بارے میں نازل ہوئی جن کا ہم نے تذکرہ کیا یہ لوگ فقراء صحابہ کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے عمار، خباب، بلال، صہیب، سلمان اور سالم مولی ابی حذیفہ ؓ ان کے پراگندہ مال کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایمان لانے والوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی۔ ” یایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم “ یعنی مرد مردوں سے اور قوم اسم ہے رجال اور نساء کی جمع لائی جاتی ہے اور کبھی اس کو رجال کے ساتھ خاص کردیا جاتا ہے۔ ” عسیٰ ان یکونوا خیر ا منھم ولا نساء من نساء عسیٰ ان یکن خیرا منھن “ حضرت انس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ کو چھوٹے قد کا طعنہ دیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت صفیہ بنت حیی بن اخطب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان کو عورتوں نے کہا یہود یہ بن یہودیین ” ولا تلمزوا انفسکم “ یعنی تم ایک دوسرے کے عیب نہ نکالو اور ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔ ” ولا تنابزوا بالالقاب “ تنا بزباب تفاعل نبز سے بمعنی لقب اور وہ یہ ہے کہ انسان کو اس کے نام کے علاوہ کس چیز سے پکارا جائے۔ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں وہ آدمی کا دوسرے کو، اے فاسق ! اے منافق ! اے کافر ! کہنا ہے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہودی و نصرانی اسلام لے آتا تو اس اسلام کے بعد یا یہودی یا نصرانی کہا جاتا تو اس سے روکا گیا ہے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کو کہہ یا کلب یا حمار یا خنزیر اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ” تنابز بالالقاب “ یہ ہے کہ کسی نے برے عمل کیے ہوں پھر وہ ان سے توبہ کرلے تو روکا گیا ہے کہ اس کے گزشتہ اعمال کی وجہ سے اس کو عار نہ دلائی جائے۔ ” بئس الاسم الفسوق بعدالایمان “ یعنی ایمان لانے اور توبہ کرنے کے بعد اے یہودی ! یا اے فاسق ! کہنا برانام ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جس نے وہ کام کیا جس سے روکا گیا ہے جیسے مذاق اڑانا، عیب نکالنا، لقب بگاڑنا تو وہ فاسق ہے اور ایمان کے بعد فاسق کا نام برا ہے ۔ پس تم ایسا نہ کرو کہ جس کی وجہ سے تم فسوق کے نام کے مستحق ہوجائو۔ ” ومن لم یتب “ اس سے۔ ” فاولئک ھم الظالمون “۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

12 ۔ ” یایھا الذین امنا اجنبوا کثیرا من الظن “ کہا گیا ہے کہ یہ آیت دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی کی غیبت کی تھی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر جہاد یا ویسے سفر کرتے تو ایک ضرورت مند شخص کو دو مال دار آدمیوں کے ساتھ ملا دیتے وہ ان دونوں کی خدمت کرتا اور ان سے آگے پڑائو کی جگہ جاتا اور ان کی ضروریات کھانے پینے کی تیار کرتا تو سلمان فارسی ؓ کو کسی سفر میں دو آدمیوں کے ساتھ ملادیا تو حضرت سلمان ؓ منزل پر ان سے پہلے پہنچے۔ وہاں جاکر ان کو نیند آگئی، ان کے لئے کچھ تیار نہ کرسکے۔ پس جب وہ دونوں آئے تو ان کو کہا کیا تیار کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کچھ نہیں، مجھے نیند آگئی تھی۔ ان دونوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس جائو اور ان سے ہمارے لے کھانا مانگو۔ حضرت سلمان ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کھانا مانگا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اسامہ بن زید ؓ کے پاس جائو ان کو کہو، اگر ان کے پاس سالن اور کھانا زائد ہے تو آپ کو دے دیں اور اسامہ رسول اللہ ﷺ کی سواری پر ان کے خزانچی تھے تو حضرت سلمان ؓ ان کے پاس گئے، انہوں نے کہا میرے پاس کچھ نہیں ہے تو سلمان ؓ ان دونوں کے پاس آئے اور ان کو بتادیا، تو وہ کہنے لگے اسامہ کے پاس کھانا تھا لیکن اس نے بخل کیا۔ پھر انہوں نے سلمان ؓ کو صحابہ کرام ؓ کی جماعت کی طرف بھیجا، ان کے پاس بھی کچھ نہ ملا وہ واپس آئے تو ان دونوں نے کہا اگر ہم آپ ؓ کو بئرسمیحہ پر بھیجتے تو اس کا پانی بھی خشک ہوجاتا، پھر وہ دونوں تجس سے چل پڑے کہ کیا اسامہ کے پاس وہ چیز ہے جس کا ہمارے لئے ان کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا۔ پس جب یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ (علیہ السلام) نے ان دونوں کو کہا مجھے کیا ہوگیا کہ میں تمہارے منہ سے گوشت کی بدبو محسوس کررہا ہوں۔ ان دونوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم نے تو آج کے دن گوشت نہیں کھایا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم بھول گئے تم نے سلمان اور اسامہ ؓ کا گوشت کھایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن “ اور مراد یہ ہے کہ اہل خیر کے بارے میں براگمان رکھنے سے بچو۔ ” ان بعض الظن “ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ ظن دو قسم کے ہیں، ان میں سے ایک گناہ ہے وہ یہ کہ تو گمان کرے اور اس کو زبان سے بیان کردے اور دوسرا گناہ نہیں ہے وہ یہ کہ تو گمان کرے لیکن منہ سے بولے نہ۔ ” ولا تجسوا “ تجسس لوگوں کے عیب تلاش کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے پوشیدہ عیوب کو تلاش کرنے سے روکا ہے تاکہ وہ چیز ظاہر نہ ہوجائے جس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈالا ہے۔ تجسس اور لوگوں کے عیب کے پیچھے نہ پڑو حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ظن سے بچو کیونکہ ظن سب سے جھوٹی بات ہے اور چھپ کر کسی کی بات نہ سنو اور تجسس نہ کرو اور ایک دوسرے سے بڑھ کر بولی نہ لگائو اور مبالغہ نہ کرو اور باہم حسدنہ کرو اور باہم بغض نہ رکھو اور باہم دشمنی نہ کرو اور ہوجائو اللہ کے بندے بھائی بھائی۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے وہ جماعت ! جو اپنی زبان سے ایمان لے آئی ہے اور ایمان اس کے دلوں تک نہیں پہنچا، تم مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے پوشیدہ عیبوں کے پیچھے نہ لگو کیونکہ جو مسلمانوں کے عیبوں کے پیچھے پڑتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور جس کے عیبوں کے پیچھے اللہ تعالیٰ پڑجائیں اس کو رسوا کردیتے ہیں۔ اگرچہ وہ کجاوہ کے اندر ہی کیوں نہ ہو اور ابن عمر ؓ نے ایک دن کعبہ کی طرف دیکھا اور فرمایا تیری کتنی عظمت ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے اور مومن کی حرمت اللہ تعالیٰ کے ہاں تجھ سے بڑی ہے۔ زید بن وہب کہتے ہیں کہ ابن مسعود ؓ کہ کہا گیا کہ کیا آپ کے لئے ولید بن عقبہ میں کچھ ہے کہ اس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم تجس سے روکے گئے ہیں۔ پس اگر ہمارے لئے کوئی چیز ظاہر ہوگی تو ہم اس کو لے لیں گے۔ غیبت اور بہتان باندھنے کی نہی حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتا ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : تیرا تیرے بھائی کی اس چیز کو ذکر کرنا جو اس کو ناپسند ہو۔ کہا گیا آپ کا کیا خیال ہے اگر میرے بھائی میں وہ بات ہو جو میں کہہ رہا ہوں ؟ فرمایا کہ اگر اس میں وہ بات ہو جو تو کہہ رہا ہے تو تونے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں وہ نہ ہو جو تو کہہ رہا ہے تو تونے اس پر بہتان باندھا۔ عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص کا تذکرہ کیا اور کہا کہ وہ خود نہیں کھاتا حتیٰ کہ اس کو کھلایا جائے اور سوار نہیں ہوتا حتیٰ کہ سوار کیا جائے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی غیبت کی ہے تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ہم نے وہی بات بیان کی ہے جو اس میں ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تجھے کافی ہے جب تو اپنے بھائی کی وہ بات ذکر کرے جو اس میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب ان کو کہا گیا ” ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا “ تو انہوں نے کہا نہیں تو کہا گیا ” فکر ھتموہ “ یعنی جیسے تم نے اس کو ناپسند کیا ہے تو اس کی عدم موجودگی میں اس کا براتذکرہ کرنے سے بچو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی تاویل یہ ہے کہ تیرا اس شخص کا ذکر کرنا جو حاضر نہیں ہے تیرے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے مرتبہ میں ہے کہ اس کو بھی یہ محسوس نہ ہوگا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب مجھے معراج کرایا گیا تو میرا ایک قوم پر گزر ہوا، ان کے لوہے کے ناخن تھے، اس کے ذریعے اپنے چہروں اور گوشتوں کو نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا اے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔ میمون بن یسا (رح) فرماتے ہیں کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے سامنے ایک حبشی کی لاش لائی گئی۔ اور ایک کہنے والے نے کہا تو اس کو کھا، میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! میں اس کو کیوں کھائوں ؟ تو اس نے کہا اس وجہ سے کہ تونے فلاں کے غلام کی غیبت کی تھی تو میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے اس کا تذکرہ خیر کیا نہ تذکرہ شر تو کسی کو اپنے پاس کسی کی غیبت کرنے دیتے تھے۔ ” واتقواللہ ان اللہ تواب رحیم “۔
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے

13 ۔” یایھا الناس انا خلقنا کم من ذکروانثیٰ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ثابت بن قیس ؓ اور ان کے جگہ نہ دینے والے شخص کو اس کی ماں کی عار دلانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کس نے فلانی کا تذکرہ کیا ہے ؟ تو ثابت ؓ نے کہا میں نے یارسول اللہ ! تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھ۔ انہوں نے دیکھا تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا اے ثابت ! تونے کیا دیکھا ؟ انہوں نے کہا میں نے سفید، سرخ اور سیاہ چہرے دیکھے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک تو ان سے فضیلت نہیں پاسکتا مگر صرف دین اور تقویٰ میں ۔ پس ثابت ؓ اور اس شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس نے جگہ نہ دی تھی۔ ” یایھا الذین امنوا اذ ا قیل لکم تفسحوا فی المجالس فافسحوا “ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ کو حکم دیا وہ کعبہ کی چھت پر چڑھ گئے اور اذان دی۔ تو عتاب بن اسید بن ابی العیص نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میرے والد کی روح قبض کرلی حتیٰ کہ اس نے آج کے دن کا یہ منظر نہیں دیکھا۔ حارث بن ہشام نے کہا کیا محمد ( ﷺ ) کو اس کالے کوے کے علاوہ کوئی موذن نہ ملا تھا اور سہیل بن عمرو نے کہا اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتے ہوں گے تو اس کو تبدیل کردیں گے۔ اور ابوسفیان نے کہا میں کچھ نہیں کہتا اس خوف سے کہ آسمانوں کا رب اس کی خبر دے گا تو جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کے اقوال کی خبر دی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے اقرار کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نسب پر فخر کرنے اور کثرت مال پر فخر کرنے اور فقراء کو گھٹیا سمجھنے پر ان کو ڈانٹا۔ پس فرمایا ” یایھا لناس انا خلقنا کم من ذکرو انثیٰ “ یعنی آدم وحواء (علیہما السلام) یعنی تم سب نسب میں برابر ہو۔ ” وجعلنا کم شعوبا “ شعب کی جمع ہے شین کی زبر کے ساتھ اور یہ قبائل کی اصل جیسے ربیعہ، مضر، اوس، خزرج وغیرہ ہیں۔ ان کو شعب کا نام دیا گیا اس لئے کہ یہ ادھر ادھر نکلی ہوئی ہیں اور اصل میں جمع بھی ہیں جیسے درخت کی ٹہنیوں کی شاخیں اور شعب اضداد میں سے ہے کہا جاتا ہے شعب یعنی جمع ہوگیا اور شعب یعنی جدا ہوگیا۔ ” و قبائل “ یہ شعوب کے علاوہ ہیں اس کا واحد قبیلہ ہے اور وہ جیسے شیبان ہے بکر سے اور دارم ہے تمیم سے اور عمائر سے کم بطون ہیں اس کا واحد بطن ہے اور وہ جیسے قریش میں سے بنو غالب اور بنولوی اور بطون سے کم افخاذ ہیں اس کا واحد فخذ ہے اور وہ جیسے بنولوی میں سے بنو ہاشم اور بنو امیہ ہیں۔ پھر فصائل اور عشائر اس کا واحد فصیلۃ اور عشیرۃ ہے اور عشیرہ کے بعد کوئی خاندان ایسا نہیں جس کی صفت بیان کی جائے اور کہا گیا ہے کہ شعوب عجم کے اور قبائل عرب کے اور اسباط بنی اسرائیل کے اور ابو ورق (رح) فرماتے ہیں کہ شعوب ان لوگوں کے جو کسی شخص کی طرف نسبت نہیں کرتے بلکہ شہروں اور بستیوں کی طرف نسبت کرتے ہیں اور قبائل وہ عرب جو اپنے آباء کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ ” لتعارفوا “ تاکہ تم ایک دوسرے کو نسب کے قریب اور دور ہونے میں پہچان لو، نہ اس لئے کہ تم ایک دوسرے پر فخر کرو۔ پھر خبر دی کہ ان میں مرتبہ میں بلند ترین اللہ کے ہاں وہ ہے جو ان میں سے زیادہ متقی ہے۔ پس فرمایا ” ان اکرامکم عنداللہ اتقاکم ان اللہ علیم خبیر “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ بیان ہے کہ سب سے بڑا اعزاز تقویٰ ہے اور سب سے بڑی ملامت گناہ کرنا ہے۔ حضرت سمرہ جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کا کرم مال داری اور آخرت کا کرم تقویٰ ہے۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر طواف کیا۔ اپنے نیزے سے ارکان کا استلام کیا۔ جب یہاں سے نکلے تو اونٹنی کے بٹھانے کی جگہ نہ تھی تو آپ (علیہ السلام) لوگوں کے ہاتھوں پر اونٹنی سے اترے، پھر کھڑے ہوئے ، ان کو خطبہ دیا۔ اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی اور کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تم سے عیب اور آباء پر تکبر کرنے کو نکال دیا ہے۔ سوائے اس کے نہیں کہ لوگ تو دوہی قسم کے ہیں ایک نیک، متقی اللہ کے ہاں معزز اور گنہگار، بدبخت اللہ کے ہاں ذلیل۔ پھر آیت ” یایھا الناس انا خلقنا کم من ذکرو انثیٰ “ تلاوت کی ۔ پھر فرمایا ” اقول قولی ھذا واستغفر اللہ لی ولکم “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون زیادہ معزز ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان میں سے اللہ کے ہاں زیادہ معزز ان میں سے زیادہ تقویٰ والا ہے تو انہوں نے کہا اس کے بارے میں ہم آپ (علیہ السلام) سے نہیں پوچھ رہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ” اکرم الناس “ یوسف (علیہ السلام) اللہ کے نبی، اللہ کے نبی کے بیٹے، وہ اللہ کے نبی کے بیٹے، وہ اللہ کے نبی خلیل اللہ کے بیٹے تو انہوں نے کہا اس کے بارے میں ہم نہیں پوچھ رہے ۔ آپ (علیہ السلام) نے پوچھا عرب کے قبائل کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم میں سے جاہلیت میں بہترین لوگ اسلام میں بھی بہترین لوگ ہیں۔ جب وہ دین کی سمجھ رکھیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتے لیکن وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ) یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا اور اگر تم خدا اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

14 ۔” قالت الاعراب امنا “ یہ آیت بنو اسدسن خزیمہ کے چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قحط سالی کے سال آئے اور اسلام کو ظاہر کیا اور اندر سے ایمان نہ لاتے تھے تو ان لوگوں نے مدینہ کے راستے گندگیوں سے خراب کردیئے اور اناج کا بھائو بڑھا دیا اور صبح وشام رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے اور کہتے کہ عرب آپ (علیہ السلام) کے پاس اپنی سواریوں پر تنہا آتے ہیں، ہم آپ (علیہ السلام) کے پاس اناج، عیال اور لونڈیاں لائے ہیں اور ہم نے آپ (علیہ السلام) سے قتال بھی نہیں کیا جیسے کہ بنو فلاں اور بنو فلاں نے قتال کیا۔ وہ نبی کریم ﷺ پر احسان جتاتے تھے اور صدقہ کا ارادہ رکھتے تھے اور کہتے تھے ہمیں کچھ دیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل کی اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ان بدئوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الفتح میں کیا اور وہ جہینہ، مزینہ، اشجع، اسلم اور غفار کے بدو ہیں۔ وہ کہتے تھے ہم ایمان لائے تاکہ وہ ہم سے اپنے مال اور جانوں پر مطمئن ہوجائیں۔ پس جب ان سے حدیبیہ کی طرف کوچ کا مطالبہ کیا گیا تو یہ پیچھے رہ گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ” قالت الاعراب امنا “ ہم نے تصدیق کی۔ ” قل لم تومنوا ولکن قولوا اسلمنا “ ہم تابع ہوگئے اور قتل اور قید کے خوف سے ہم نے سرجھکا لیا۔ ” ولما یدخل الایمان فی قلوبکم “ پس خبر دی کہ ایمان کی حقیقت دل سے تصدیق کرنا ہے اور بیشک زبان سے اقرار کرنا اور بدن سے اس کی شرائع کو ظاہر کرنا، دل سے تصدیق اور اخلاص کے بغیر ایمان نہیں ہوتا۔ عامر بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو کچھ دیا اور میں بھی ان میں بیٹھا تھا۔ آپ (علیہ السلام) نے اس جماعت میں ایک شخص کو چھوڑ دیا، اس کو کچھ نہ دیا حالانکہ وہ ان سب میں مجھے زیادہ اچھا لگتا تھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سرگوشی کی اور کہا آپ (علیہ السلام) کا فلاں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا حالانکہ میں تو اس کو مومن سمجھتا ہوں یا کہا مسلمان سمجھتا ہوں۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے کچھ دیر سکوت فرمایا۔ پھر مجھے اس کے سارے میں میرا علم غالب آگیا، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! (ﷺ ) آپ کا فلاں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ پس اللہ کی قسم ! میں تو اس کو مومن سمجھتا ہوں یا کہا مسلمان سمجھتا ہوں پھر آپ (علیہ السلام) نے تھوڑی دیر سکوت فرمایا۔ پھر مجھے اس کے بارے میں میرا علم غالب ہوا تو میں نے کہا یارسول اللہ آپ کا فلاں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ پس اللہ کی قسم ! میں تو اس کو مومن دیکھتا ہوں یا کہا مسلمان دیکھتا ہوں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بیشک ! میں کسی شخص کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ اس کا غیر مجھے زیادہ پسند ہوتا ہے اس خوف سے کہ وہ اپنے منہ کے بل جہنم میں گرادیاجائے۔ پس اسلام سلم میں داخل ہونا اور وہ تابعداری اور اطاعت کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے اسلم الرجل جب وہ سلامتی میں داخل ہوجائے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اشتی الرجل “ جب وہ سردیوں میں داخل ہوجائے اور اصاف جب وہ گرمیوں میں داخل ہوجائے اور اربع جب وہ بہار میں داخل ہوجائے۔ پس اسلام میں سے وہ ہے جو حقیقت میں زبان، بدن اور دل کے ساتھ طاعت ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ابراہیم (علیہ السلام) کو ” اسلم قال اسلمت لرب العالمین “ اور اس میں سے وہ ہے جو صرف زبان سے تابعدار ہو نہ کہ دل سے اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم “ ” وان تطیعوا اللہ ورسولہ “ ظاہراً و باطناً ، اعلانیہ اور پوشیدہ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تم سے کچھ کم نہ کرے گا۔ کہا جاتا ہے ” التیالت التا “ اور لاتیلیت لیتاً جب کم ہوجائے۔ ” من اعمالکم شیئا “ یعنی تمہارے اعمال کے ثواب میں سے کچھ کم نہ کرے گا۔ ” ان اللہ غفور رحیم “ پھر ایمان کی حقیقت کو بیان کیا۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں

15 ۔” انما المومنون الذین امنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا “ اپنے دین میں شک نہیں کیا۔ ” وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اولئک ھم الصادقون “ اپنے ایمان میں۔ پس جب یہ دو آیتیں نازل ہوئیں تو بدو لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اللہ کی قسمیں کھانے لگے کہ وہ سچے مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کے علاوہ کو پہچان لیا۔
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ؟ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے اور خدا ہر شے کو جانتا ہے

16 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” قل اتعلمون اللہ بدینکم “ تعلیم یہاں خبر دینے کے معنی میں ہے اس لئے ” بدینکم “ کہا اور باء اس پر داخل کی گئی ہے۔ فرماتے ہیں کیا تم اللہ کو اپنے اس دین کی خبر دیتے ہو جس پر تم ہو۔ ” واللہ یعلم مافی السموات ومافی الارض واللہ بکل شیء علیم “ یعنی تمہارے خبر دینے کا محتاج نہیں ہے۔
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا راستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان) ہو

17 ۔” یمنون علیک ان اسلموا قل لا تمنوا علی اسلامکم “ یعنی تم اپنے سلام کو۔ ” بل اللہ یمن علیکم ان ھداکم للایمان “ اور عبداللہ ؓ کے مصحف میں۔ ” اذھداکم للایمان “ ہے۔ ” ان کنتم صادقین “ کہ تم مومن ہو۔