48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

خواص سورة فتح 1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص رمضان کی پہلی رات نفلوں میں یہ سورة پڑھے وہ اس سال ہر قسم کی آفت و مصیبت سے محفوظ رہے گا۔ 2، ایک عارف کہتے ہیں جو آدمی رمضان کا چاند دیکھتے ہی تین بارسورئہ فتح پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو فراخ دست رکھیں گے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہرچیز کا خلاصہ اور مغزہوتا ہے اور قرآن شریف کا مغزمفصل ہے۔ حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے سات لمبی ایتیں تورات کی جگہ پر اور آیات مثانی انجیل کی اور زبور کی جگہ مرحمت فرمائی ہیں۔ اور مجھے مفصل سے اعزازوفضیلت بخشی ہے۔ جو شخص مفصل کو لکھ کر لڑائی یا خوف میں اپنے پاس رکھے تو وہ امن میں رہتا ہے۔ (مفصل کو لکھ کر اور دھوکر اگر پیچش) نکسیر اور سردی کے بخاروالے کو پلایاجائے تو شفا ہوگی۔ انافتحنا لک فتحامبینا۔۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ علیماحکیما جوآدمی یہ چاہے کہ اسے قبولیت عامہ حاصل ہو تو وہ پاک وصاف ہوکران آیات کو عرق گلاب) مشک اور زعفران کے ساتھ ہرن کے چمڑے پر لکھے اور اس چمڑے کو اپنی پگڑی یاٹوپی میں رکھ کر سر میں رکھے۔ جوآدمی دشمنوں کے مقابلہ میں فتح چاہتا ہو وہ جمعرات کی پہلی اور دوسری ساعت میں زردتا بنے کی گول پتری پر ان آیات کو کندہ کرائے اور اپنی ڈھال (یادوسرے دفاعی سامان) میں میخ سے جو ڑدے اور اسے ساتھ لے کر دشمن کے مقابلہ پرچلاجائے۔ محمد رسول اللہ۔۔۔۔۔۔۔ سورة کے آخرتک جوشخص ان آیات کو 14 رمضان کو یا 24 تاریخ کو سفید ریشمی کپڑے میں عرق گلاب اور مشک وکافور سے لکھ کرہرن کے چمڑے میں لپیٹ کر اپنے پاس رکھے وہ ہر آفت سے محفوظ رہے گا۔ اگر درخت سے باندھ دے تو اس میں خوب برکت ہوگی۔ اگر کوئی بوڑھا شخص اپنے پاس رکھے تو وہ طاقت ور رہے گا۔ اس آیت میں سارے کے سارے حروف تہجی موجود ہیں اور اسی طرح سورة آل عمران کی آیت ثم انزل علیکم الخ میں بھی تمام حروف تہجی پائے جاتے ہیں۔ جو شخص ان دوآیتوں کو کثرت سے بڑے اس کی دعاضرور قبول ہوتی ہے۔ اور اس کو تنگدستی سے نجات ملتی ہے اور نیکی کے کاموں میں اس کے بہت مددگار بن جاتے ہیں اور دنیا وآخرت کی بھلائی ملتی ہے۔ سورۃ الفتح مدنی ہے اور اس کی انتیس آیتیں ہیں سورۃ فتح کا شان نزول زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں جارہے تھے تو حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا۔ پھر سوال کیا، آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا۔ پھر سوال کیا آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا۔ تو حضرت عمر ؓ نے کا، اے عمر ! تیری ماں گم پائے تو نے تین مرتبہ حضور ﷺ پر سوال کا تکرار کیا، ہر مرتبہ آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور لوگوں سے آگے نکل گیا اور مجھے خوف ہوا کہ میرے بارے میں قرآن نازل ہوگا۔ پس تھوڑی دیر میں ہی میں نے ایک آواز لگانے والے کی آواز سنی کہ میرا نام لے کر آواز لگارہا ہے تو میں نے کہا تحقیق میں تو پہلے ہی ڈر رہا تھا کہ میرے بارے قرآن نازل ہوگا تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تحقیق آج رات مجھ پر ایک سورت اتاری گئی ہے وہ مجھ پر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر پڑھا ” انا فتحنالک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر “ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر ” انا فتحنالک فتحا بینا “ آیت کے آخر تک نازل ہوئی۔ آپ (علیہ السلام) حدیبیہ سے لوٹ رہے تھے اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ پر سفر کی تھکان اور غم کے ملے جلے اثرات تھے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ پر ایک آیت نازل ہوئی ہے وہ مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔ پس جب اللہ کے نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی تو قوم میں سے ایک شخص نے کہا آپ (علیہ السلام) کو مبارک باد ہو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بیان کردیا کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ کیا معاملہ کریں گے ؟ پس ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بعدوالی آیت نازل فرمائی۔ ” لید خل المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار “ آیت کے ختم تک۔
Ayah 48:2

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

(اے محمد) ﷺ ہم نے تم کو فتح دی فتح بھی صریح و صاف

انا فتحنالک فتحا کی تفسیر 1 ۔” انا فتحنا لک فتحا مبینا “ اس فتح کی تعیین میں اختلاف ہوا ہے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ یہ فتح مکہ ہے اور مجاہدہ (رح) فرماتے ہیں فتح خیبر ہے اور اکثر حضرات اس بات پر ہیں کہ صلح حدیبیہ ہے اور فتح کا معنی بند اور پیچیدہ چیز کھ کھلنا اور مشرکین کے ساتھ حدیبیہ کی صلح مشکل تھی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا۔ قتادہ (رح) نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ صلح حدیبیہ ہے۔ حضرت براء ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تم فتح مکہ کو فتح شمار کرتے حالانکہ فتح مکہ تو فتح ہے ہی، ہم تو حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کو فتح شمار کرتے تھے، ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ چودہ سو تھے اور حدیبیہ ایک کنواں ہے ہم نے اس کو کھینچا تو اس میں ایک قطرہ بھی پانی کا نہ تھا۔ یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ (علیہ السلام) اس کے پاس آئے اور اس کو منڈیر پر بیٹھ گئے، پھر پانی کا ایک برتن منگوایا، پھر وضو کیا، پھر کلی کی اور دعا کی، پھر اس ک و اس کنویں میں ڈال دیا، پھر ہم نے اس کو تھوڑی دیر چھوڑا، پھر اس نے جو ہم نے چاہا ہمارے برتن وغیرہ بھر دیئے اور شعبی (رح) باری تعالیٰ کے قول ” انا فتحنا لک فتحا مبینا “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ فتح حدیبیہ ہے اور انہوں نے خیبر کی کھجوریں کھائیں اور ہدی اپنی جگہ تک پہنچ گئی اور روم فارس پر غالب آگئے تو مومنین اہل کتاب کے مجوسیوں پر غالب آنے سے خوش ہوئے۔ زہری (رح) فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ سے بڑی کو فتح نہ تھی کیونکہ مشرکین مسلمانوں کے ساتھ مل جل گئے، ان کی بات سنتے تو اسلام ان کے دلوں میں جگہ بنا گیا۔ تین سالوں میں بہت زیادہ لوگ اسلام لے آئے اور اسلام کا لشکر بڑھ گیا۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” انا فتحنا لک فتحا مبینا “ یعنی ہم نے آپ (علیہ السلام) کے لئے یہ واضح فیصلہ کردیا اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ” انا فتحنا لک فتحا مبینا “ بغیر قتال کے اور صلح فتح مبین میں سے ہے۔ کہا گیا ہے کہ لام باری تعالیٰ کے قول ” لیغفر “ میں لام کے ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کو فتح مبین دی تاکہ آپ (علیہ السلام) کے لئے مغفرت کے ساتھ مکمل نعمت فتح کی صورت میں جمع ہوجائے اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے قول ” واستغفر لذنبک وللمومنین والمومنات “ کی طرف لوٹایا گیا ہے۔
Ayah 48:3

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تم کو سیدھے راستے چلائے

2 ۔” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر…ولید خل المومنین والمومنات جنات۔ الایۃ “ محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا، فسبح بحمد ربک واستغفرہ “ کی طرف لوٹ رہی ہے ۔” ماتقدم من ذنبک “ جاہلیت میں رسالت سے پہلے اور ” وما تاخر “ اس سورت کے نزول کے وقت تک اور کہا گیا ہے کہ ” وما تاخر “ ان میں سے جو آگے ہوں گے اور یہ ان لوگوں کے طریقہ پر جو انبیاء (علیہم السلام) سے صغائر کے صادر ہونے کو ممکن قرار دیتے ہیں اور سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں ” ماتقدم “ جو جاہلیت میں عمل کیے اور ” ماتاخر “ ہر وہ چیز جو ابھی عمل میں نہیں آئی اور اس کی مثل کلام تاکید کے لئے ذکر کی جاتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اعطی من راہ ولم یرہ “ کہ جس کو دیکھا اس کو بھی دیا اور جس کو نہیں دیکھا اس کو بھی دیا اور ” ضرب من لقیہ ومن لم یلقہ “ جس کو ملا اس کو بھی مار اور جس کو نہیں ملا اس کو بھی۔ عطاء خراسانی (رح) فرماتے ہیں ” ماتقدم بن ذنبک “ یعنی آپ کے والدین آدم وحوا (علیہما السلام) کی لغزش آپ (علیہ السلام) کی برکت سے ” وما تاخر “ آپ (علیہ السلام) کی امت کے گناہ آپ (علیہ السلام) کی دعا کے ذریعہ سے۔ ” ویتم نعمتہ علیک “ نبوت اور حکمت کے ذریعے۔ ” ویھدیک صراطا مستقیما “ یعنی آپ (علیہ السلام) کو اس پر ثابت قدم رکھیں گے اور معنی یہ ہے کہ تاکہ آپ (علیہ السلام) کے لئے فتح کے ساتھ نعمت کا مکمل ہونا مغفرت کے ساتھ اور صراط مستقیم یعنی اسلام کی طرف ہدایت پر جمع ہوجائیں اور کہا گیا ہے کہ ” ویھدیک “ یعنی ” یھدی ھدی “ آپ کے ذریعے ہدایت دے گا۔
Ayah 48:4

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے

3 ۔” وینصرک اللہ نصر آعزیزا “ غالب اور کہا گیا ہے عزت والی۔
Ayah 48:5

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

4 ۔” ھوالذی انزل السکینۃ “ اطمینان ووقار۔ ” فی قلوب المومنین “ تاکہ ان کے دل پریشان نہ ہوں۔ اس سے جوان پر مصائب آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں سکینہ کا لفظ ہے اس سے اطمینان مراد ہے سوائے اس کے جو سورة البقرہ میں ہے۔ ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو لاالہ الا اللہ کی شہادت کے ساتھ بھیجا۔ پس جب انہوں نے اس کی تصدیق کرلی تو ان کو نماز کا حکم زائد کیا۔ پھر زکوٰۃ پھر روزے پھر حج پھر جہاد۔ حتیٰ کہ ان کے لئے ان کے دین کو مکمل کردیا۔ پس جب بھی کسی چیز کا حکم دیئے جاتے تو وہ اس کی تصدیق کرتے تو ان کی تصدیق میں تصدیق زیادہ ہوتی اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ان کے یقین کے ساتھ یقین کو زیادہ کیا۔ کلبی (رح) اللہ فرماتے ہیں یہ حدیبیہ کے بارے میں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے خواب کو حق کے ساتھ سچ کردیا۔ ” واللہ جنود السموات والارض وکان اللہ علیما حکیما “
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے انکے گناہوں کو دور کر دے اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

5 ۔” لیدخل المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ویکفر عنھم سیئا تھم ودکان ذلک عنداللہ فوا عظیما “ اور تحقیق ہم نے حضرت انس ؓ سے ذکر کیا ہے کہ جب آیت ” لیغفرلک اللہ “ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا آپ (علیہ السلام) کے لئے مبارک ہو۔ پس ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا تو آیت نازل ہوئی ” لیدخل المومنین والمومنات جنات “
Ayah 48:7

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے

6 ۔” ویعذب المنافقین والمنافقات والمشرکین والمشرکات “ اس سے مدینہ میں منافقین اور مکہ میں مشرکین مراد ہیں۔ ” الظانین باللہ ظن السوئ “ کہ محمد ﷺ اور مومنین کی مدد نہ کی جائے گی۔ ” علیھم دائر ۃ السوء “ عذاب اور ہلاکت کے ساتھ ۔ ” وغضب اللہ علیھم والعنھم واعدلھم جھنم وسائت مصیرا “۔
Ayah 48:8

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

7 ۔” وللہ جنود السموات والارض وکان اللہ عزیزا حکیما۔
Ayah 48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

اور ہم نے (اے محمد) ﷺ تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے

8 ۔ اناارسلناک شاھدا ومبشرا ونذیرا۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

تاکہ (مسلمانو ! ) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اسکو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

9 ۔” لتومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ “ یعنی تم اس کی مدد ونصرت کرو۔ ” وتوقروہ “ تم اس کی تعظیم کرو۔ یہ تمام ضمیریں نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہیں اور یہاں وقف ہے۔ ” وتسبحوہ “ یعنی تم اللہ کی تسبیح کرو۔ مراد ہے کہ اس کے لئے نماز پڑھو۔ ” بکرۃ واصیلا “ صبح اور شام کو۔ ابن کثیر اور ابوعمرو رحمہما اللہ نے ” ولیومنوا یعزروہ، یوقروہ ، ویسبحوہ “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ان سب میں اللہ تعالیٰ کیف رمان ” فی قلوب المومنین “ کی وجہ سے اور دیگر حضرات نے ان سب میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

واقعہ حدیبیہ اور بیعت رضوان 10 ۔” ان الذین یبایعونک “ اے محمد ! (ﷺ ) حدیبیہ میں کہ وہ فرار نہ ہوں گے۔ ” انما یباعیون اللہ “ اس لئے کہ انہوں نے اپنا آپ اللہ تعالیٰ کو جنت کے بدلہ میں بیچ دیا تھا۔ یزید بن ابوعبید فرماتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن اکوع ؓ سے پوچھا آپ لوگوں نے کس چیز پر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی حدیبیہ کے دن ؟ تو انہوں نے فرمایا موت پر۔ معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ اے مخاطب ! تو مجھے درخت والے دن دیکھنا کہ نبی کریم ﷺ لوگوں سے بیعت کررہے تھے اور اس کی ٹہنیوں میں سے ایک ٹہنی کو نبی کریم ﷺ کے سر سے اٹھارہا تھا اور ہم چودہ سو افراد تھے۔ فرمایا ہم نے آپ (علیہ السلام) سے موت پر بیعت نہیں کی تھی لیکن ہم نے آپ (علیہ السلام) سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔ ابوعیسیٰ (امام ترمذی (رح)) فرماتے ہیں کہ دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے۔ ایک جماعت نے آپ (علیہ السلام) سے موت پر بیعت کی۔ یعنی ہم آپ (علیہ السلام) کے سامنے مرتے رہیں گے پیچھے نہ ہٹیں گے جب تک ہم قتل نہ کردیئے جائیں اور دوسرے حضرات نے بیعت کی کہ ہم بھاگیں گے نہیں۔ ” یداللہ فوق ایدیھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان سے خیر کا وعدہ کیا اس کے پورا کرنے کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑتے تھے اور آپ (علیہ السلام) سے بیعت کرتے تھے اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہوتا تھا بیعت میں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ان پر ہدایت کی نعمت اس سے اوپر ہے جو انہوں نے بیعت کا عمل کیا۔ ” فمن نکث “ بیعت کو توڑ دیا۔ ” فانما یکنث علی نفسہ “ اس پر اس کا وبال ہے۔ ” ومن اوفی بما عاھد علیہ اللہ “ بیعت پر ثابت قدمرہا۔ ” فسیوتیہ “ اہل عراق نے ” فسیو تیہ “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” اجر اعظیما “ اور وہ جنت ہے۔
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے ؟ (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے

11 ۔ ” سیقول ک المخلفون من الاعراب ‘ ‘ ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی بنو غفار، مزینہ، جہینہ، اشجع اور اسلم کے بدولوگ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حدیبیہ کے سال مکہ کی طرف عمرہ کے ارادہ سے جانے کا ارادہ کیا تو مدینہ کے اردگرد بدو اور دیہاتی لوگوں سے بھی کوچ کا مطالبہ کیا تاکہ وہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلیں قریش سے بچائو کے لئے کہ وہ کہیں جنگ کا ارادہ نہ کرلیں یا آپ علیہ اسلام کو بیت اللہ سے روک دیں تو آپ (علیہ السلام) نے عمرہ کا احرام باندھا اور اپنے ساتھ ہدی کو ہانکا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ آپ (علیہ السلام) جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے تو اس سفر سے بہت سے بدو لوگ بوجھل ہوگئے اور پیچھے رہ گئے اور مصروفیات کے عذر بیان کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں آیت نازل کی ” سیقول لک المخلفون من الاعراب “ یعنی وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی صحبت سے پیچھے کردیا۔ پس جب آپ (علیہ السلام) اپنے سفر سے ان کی طرف لوٹیں گے تو آپ (علیہ السلام) ان کے پیچھے رہ جانے پر عتاب کریں گے۔ ” شغلتنا اموالنا “ یعنی عورتوں اور اولاد نے یعنی ہمارے لئے کوئی ایسا شخص نہ تھا پیچھے ان کے پاس رہتا۔ ” فاستغفرلنا “ کہ ہم آپ (علیہ السلام) سے پیچھے رہ گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کی ان کے عذر بیان کرنے میں۔ پس فرمایا ” یقولون بالسنتھم مالیس فی قلوبھم “ استغفار کے معاملہ سے کیوں کہ ان کو پرواہ نہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں۔ ” قل فمن یملک لکم من اللہ شیئا ان اراد بکم ضرا “۔ ” اوارد بکم نفعا “ حمزہ اور کسائی (رح) نے ” ضرا “ ضاد کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اس کے زبر کے ساتھ۔ اس لئے کہ اس کے مقابلہ میں نفع کا ذکر ہے اور نفع ” ضر “ کی ضد ہے۔ یہ اس وجہ سے کہا کہ ان کا گمان تھا کہ ان کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہ جانا ان سے نقصان کو دور کردے گا اور ان کے لئے جلدی نفع لائے گا ان کے نفس اور اموال کی سلامتی کا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں اس میں سے کسی چیز کا ارادہ کرتے تو کوئی اس کے دور کرنے پر قادر نہیں ہے۔ ” بل کان اللہ بما تعملون خبیرا “۔
Ayah 48:13

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخر کار) تم ہلاکت میں پڑگئے

12 ۔” بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیھم ابدا “ یعنی تم نے گمان کیا کہ دشمن ان کا قلع قمع کردیں گے۔ پس وہ نہ لوٹیں گے۔ ” وزین ذلک فی قلوبکم “ شیطان نے یہ گمان تمہارے دلوں میں مزین کردیا۔ ” وظننتم ظن السوئ “ کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی سر کا کھانا ہیں پس وہ نہ لوٹیں گے۔ پس تم ان کے ساتھ کہاں جارہے ہو ؟ تم انتظار کرو اس کا جوان کا معاملہ ہوگا۔ ” وکنتم قوما بورا “ ھلاک، خیر کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے

13 ۔” ومن لم یومن باللہ ورسولہ فانا اعتدنا للکافرین سعیرا۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

14 ۔ وللہ ملک السموات والارض یغفرلن یشاء ویعذب من یشاء وکان اللہ غفورا رحیما “
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجئے کہ آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح خدا نے پہلے تو فرما دیا ہے پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

15 ۔” سیقول المخلفون “ یعنی یہ لوگ جو حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے۔ ” اذا انطلقتم “ اے مومنو ! تم چلے گئے۔ ” الی مغانم لتاخذوھا “ یعنی خیبر کی غنیمتیں۔ ” ذرونا نتبعکم “ خیبر کی طرف ہم تمہارے سال خیبر والوں کے قتال میں حاضر ہوں گے۔ یہ اس وجہ سے کہا کہ جب مسلمان حدیبیہ سے لوٹے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے خیبر کی فتح کا وعدہ کیا اور اس کی غنیمتیں خاص ان کے لئے مقرر کیں جو حدیبیہ میں حاضر ہوئے تھے یہ غنیمت اہل مکہ کی غنیمت کا عوض تھی کیونکہ وہاں سے مسلمان صلح کر آئے تھے اور کچھ غنیمت نہ ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” یریدون ان یبدلوا کلام اللہ “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ” کلم اللہ “ بغیر الف کے کلمہ کی جمع پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ” کلام اللہ “ پڑھا ہے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ اہل حدیبیہ سے جو خیبر کی غنیمت صرف ان کو دینے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اس کو تبدیل کردیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا تھا کہ ان میں سے کوئی نہ جائے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فاستا ذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابدا “ ہے اور پہلا قول زیادہ درست ہے اور اس پر اکثر اہل تاویل ہیں۔ ” قل لن تتبعونا “ خیبر کی طرف۔ ” کذالکم قال اللہ من قبل “ یعنی ہمارے تمہاری طرف لوٹنے سے پہلے کہ خیبر کی غنیمت اس کے لئے ہے جو حدیبیہ میں حاضر ہوا، ان کے علاوہ کے لئے اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ ” فسیقولون بل تحسدوننا “ یعنی تمہیں حسد روکتا ہے اس سے کہ ہم تمہارے ساتھ غنیمت حاصل کریں۔ ” بل کانوا لا یفقھون “ وہ اللہ کی طرف سے یہ نہیں جانتے کہ دین میں ان کے لئے کیا فوائد اور ان پر کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ” الا قلیلا “ ان میں سے اور یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق کی۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم جلد ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلا دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا

اولی باس شدید سے کون لوگ مراد ہیں 16 ۔” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید “ ابن عباس ؓ مجاہد اور عطاء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اہل فارس ہیں اور کعب (رح) فرماتے ہیں اہل روم ہیں اور حسن (رح) فرماتے ہیں اہل فارس وروم ہیں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ہوازن وثقیف ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہوازن وغطفان ہیں حنین کے دن۔ زہری، مقاتل رحمہما اللہ اور ایک جماعت کہتی ہے کہ یہ اہل یمامہ میں سے بنو حنیفہ ہیں جو مسیلمہ کذاب کے ساتھی تھے۔ رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ ہم یہ آیت پڑھتے تھے اور یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بنو حنیفہ کے قتال کی طرف دعوت دی تو ہم نے جان لیا کہ یہ وہی لوگ ہیں۔ ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے ان کو فارس کے قتال کی طرف دعوت دی اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کی تاویل ابھی تک نہیں آئی۔ ” تقاتلونھم اویسلمون فاتطیعوا یوتکم اللہ اجرا حسنا “ یعنی جنت ” وان تتولوا “ تم اعراض کرو۔ ” کما تو لیتم من قبل “ حدیبیہ کے سال ” یعذبکم عذاب الیما “ اور وہ آگ ہے۔ پس جب یہ آیت نازل ہوئی تو اپاہج لوگ کہنے لگے یارسول اللہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ؟
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

17 ۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔ ” لیس علی الاعمیٰ حرج “ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے میں۔ ” ولا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج ومن یطع اللہ ورسولہ یدخلہ جات تجری من تحتھا الانھار ومن یتول یعذبہ عذابا الیما “
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

(اے پیغمبر) ﷺ جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا اور جو (صدق و خلوص) انکے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی

درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ کرام کی تعداد 18 ۔” لقد ؓ عن المومنین اذ یبایعونک “ حدیبیہ میں اس بات پر کہ وہ قریش سے قتال کریں گے اور بھاگیں گے نہیں۔ ” تحت الشجرۃ “ اور یہ ببول کا درخت تھا۔ سعید ابن المسیب (رح) فرماتے ہیں کہ میرے والد نے بیان کیا ہے یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ فرماتے ہیں پس جب ہم آئندہ سال نکلے تو ہم اس کو بھول گئے، پس ہم اس پر قادر نہ ہوسکے اور روایت کیا گیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ درخت کے ختم ہونے کے بعد وہاں سے گزرے تو فرمایا کہاں تھا ؟ تو بعض کہنے لگے یہاں تھا اور بعض کہنے لگے وہاں تھا۔ پس جب ان کا اختلاف زیادہ ہوگیا تو آپ ؓ نے فرمایا تم چلو درخت جا چکا ہے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیبیہ کے دن کہا تم تمام زمین والوں میں سے بہتر ہو اور ہم چودہ سو تھے اور اگر میں آج دیکھ سکتا ہوں تو تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔ ابوالزبیر نے خبر دی ہے کہ انہوں نے جابر ؓ کو سنا کہ ان سے پوچھا جارہا ہے کہ وہ حدیبیہ کے دن کتنے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا چودہ سو تو ہم نے آپ (علیہ السلام) کی بیعت کی اور عمر ؓ آپ (علیہ السلام) کے ہاتھ کو درخت کے نیچے پکڑے ہوئے تھے اور وہ ببول کا درخت تھا۔ پس ہم سب نے آپ (علیہ السلام) سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے کہ وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔ سالم نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم پندرہ سو تھے اور عبداللہ بن ابی اوفی ؓ فرماتے ہیں کہ درخت والے تیرہ سو افراد تھے۔ اور اس بیعت کا سبب جو محمد بن اسحاق نے اہل علم سے ذکر کیا ہے وہ یہ رسول اللہ ﷺ نے جب حدیبیہ پر پڑائو ڈالا تو فراش بن امیہ خزاعی ؓ کو بلایا اور ان کو قریش کی طرف بھیجا اور اپنے ایک اونٹ پر سوار کیا جس کو ثعلب کہا جاتا تھا تاکہ وہ قریش کے معززین کو بتائیں کہ آپ (علیہ السلام) کس مقصد کے لئے آئے ہیں تو ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹ کی ٹانگیں کاٹ دیں اور فراش ؓ کے قتل کا ارادہ کیا تو مختلف قبیلوں کے لوگوں نے ان کو اس کام سے روکا تو انہوں نے فراش ؓ کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو بلایا تاکہ ان کو مکہ کی طرف بھیجیں تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے قریش سے اپنی جان پر خوف ہے اور بنوعدی بن کعب میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان کو مجھ سے رو کے اور تحقیق قریش میری ان سے دشمنی اور میری ان کے بارے میں سختی کو خوب جانتے ہیں لیکن میں آپ (علیہ السلام) کی ایسے شخص پر رہنمائی کرتا ہوں جو قریش کے یہاں مجھ سے زیادہ معزز ہیں وہ عمان بن عفان ؓ ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور ان کو ابوسفیان اور معززین قریش کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کو بتائیں کہ نبی کریم ﷺ لڑائی کے لئے نہیں آئے۔ آپ (علیہ السلام) تو صرف اس بیت اللہ کی زیارت اور اس کی حرمت کی تعظیم کرنے آئے ہیں۔ تو حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ مکہ کی طرف گئے تو آپ ؓ کی ملاقات مکہ میں داخل ہوتے ہی ابان بن سعید بن عاص سے ہوگئی یا مکہ میں داخل ہونے سے پہلے تو آپ ؓ اپنی سواری سے اتر آئے اور اس کو اپنے ساتھ سوار کرلیا۔ پھر اس کو اپنا ردیف بنایا اور اس نے آپ ؓ کو پناہ دی حتیٰ کہ آپ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے پیغام کو پہنچادیا تو جب حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچا کہ فارغ ہوئے تو ابوسفیان اور دیگر پیغام کہ پہنچا دیا تو جب حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچا کہ فارغ ہوئے تو ابوسفیان اور دیگر معززین قریش نے حضرت عثمان ؓ کو کہا اگر آپ چاہیں تو بیت اللہ کا طواف کرلیں تو حضرت عثمان ؓ نے جواب دیا میں ایسا نہ کروں گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا طواف کرلیں تو قریش نے حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کو اپنے پاس روک لیا اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ قتل کردیئے گئے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس قوم سے مقابلہ نہ کرلیں اور لوگوں کو بیعت کی طرف بلایا۔ پس بیعت رضوان درخت کے نیچے ہوئی اور لوگ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے موت پر بیعت کی۔ بکیر بن اشجع (رح) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے موت پر بیعت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلکہ اس پر بیعت کرو کہ جتنی تم طاقت رکھو گے۔ جابر بن عبداللہ اور معقل بن یسار ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ سے موت پر بیعت نہیں کی لیکن ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم نہیں بھاگیں گے۔ پہلا شخص جس نے بیعت رضوان کی وہ بنی اسد کا ایک شخص تھا جس کو ابوسنان بن وہب کہا جاتا تھا اور حاضرین میں سے کوئی اس بیعت سے پیچھے نہیں رہا، سوائے جد بن قیس بنو مسلمہ کا بھائی۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ گویا کہ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنی اونٹنی کے پیٹ کو چمٹا ہوا ہے اس کے ذریعے لوگوں سے چھپ رہا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس خبر آئی کہ عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کے بارے میں جو پہلے خبر آئی وہ جھوٹی تھی۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ان میں سے کوئی جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” فعلم مافی قلوبھم “ صدق اور وفاء میں سے ” فانزل السکینۃ “ اطمینان اور رضا۔ ” علیھم واثابھم فتحاقریبا “ یعنی فتح خیبر۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتیں جو انہوں نے حاصل کیں اور خدا غالب حکمت والا ہے

19 ۔” ومغانم کثیرۃ یا خذونھا “ یہود خیبر کے اموال سے اور خیبر زمینوں اور اموال والا علاقہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو صحابہ کرام ؓ کے درمیان تقسیم کردیا۔ ” وکان اللہ عزیزا حکیما “
Ayah 48:21

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

خدا نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے کہ تم ان کو حاصل کرو گے تو اس نے غنیمت کی تمہارے لئے جلدی فرمائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئیے غرض یہ تھی کہ یہ مومنوں کے لئے (خدا کی) قدرت کا نمونہ ہے اور وہ تم کو سیدھے راستے پر چلائے

20 ۔” وعدکم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا “ اور یہ وہ فتوحات ہیں جو ان کو قیامت کے دن تک دی جائیں گی۔ ” فعجل لکم ھذہ “ یعنی خیبر۔ ” وکف ایدی الناس عنکم “ اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب ارادہ کیا اور خیبر والوں کا محاصرہ کیا تو بنواسد اور غطفان کے قبائل نے ارادہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے عیال اور اولاد پر مدینہ میں غارت گری کریں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال کر ان کے ہاتھوں کو روک دیا اور کہا گیا ہے کہ ” کف ایدی الناس عنکم، یعنی اہل مکہ کے ہاتھوں کو صلح کے ذریعے روک دیا۔ ” ولتکون “ ان کو روکنا اور تمہاری سلامتی ” آیۃ للمومنین “ آپ کی سچائی پر اور وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کی موجودگی اور عدم موجودگی ان کی حفاظت وچوکیداری کا متولی ہے۔ ” ویھدیکم صراط مستقیما “ تمہیں اسلام پر ثابت قدم رکھے اور تمہیں صلح حدیبیہ اور فتح خیبر کی وجہ سے بصیرت اور یقین زیادہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ جب حدیبیہ سے لوٹے تو ذی الحجہ کے بقیہ ایام اور محرم کا کچھ حصہ مدینہ میں قیام کیا۔ پھر محرم کیا خیر حصہ میں 7 ہجری میں خیبر کی طرف نکلے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب ہمارے ساتھ کسی قوم سے جہاد کرتے تو ان پر صبح تک حملہ نہ کرتے تھے اور ان کی طرف دیکھتے تھے۔ پس اگر اذان سنتے تو ان سے رک جاتے اور اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کردیتے۔ فرماتے ہیں پھر ہم خیبر کی طرف نکلے تو ہم رات کو ان کے پاس پہنچے۔ پھر جب صبح ہوئی اور آپ (علیہ السلام) نے اذان نہیں سنی تو سوار ہوئے اور میں ابو طلحہ ؓ کے پیچھے سوار ہوا اور بیشک میرے پائو نبی کریم ﷺ کے قدم مبارک کو چھو رہے تھے۔ فرماتے ہیں پس وہ خیبر والے ہماری طرف اپنے اوزار وغیرہ لے کر نکلے جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے محمد اللہ کی قسم ! محمد اور خمیس (لشکر) تو انہوں نے قلعہ میں پناہ حاصل کی جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا تو کہا اللہ اکبر ! اللہ اکبر ! خیبر برباد ہوگیا۔ بیشک ہم جب کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بری صبح ہے۔ حضرت علی ؓ کے ہاتھ خیبر کے قلعہ کی فتح کی پیش گوئی ایاس بن سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہم خیبر کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو میرے چچا عامر رجزیہ اشعار پڑھنے لگے : ” اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ حاصل کرسکتے اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں۔ پس تو ہمارے قدم جماا، اگر ہماری دشمن سے مڈ بھیڑہو اور ہم پر سکینہ کو نازل فرما، بیشک پہلے لوگوں نے ہم پر ظلم کیا “۔ تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کون ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میں عامر، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تیرا رب تیری مغفرت کرے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بھی خاص کسی انسان کے لئے استغفار کیا ہے تو وہ شہید ہوا ہے۔ فرماتے ہیں پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے آواز دی اس وقت وہ اپنے اونٹ پر تھے۔ اے اللہ کے نبی آپ نے ہمیں عامر کے ساتھ نفع کیوں نہیں دیا ؟ فرماتے ہیں پھر جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار سونتے نکلا اور وہ یہ کہہ رہا تھا : ” خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس بہادر جنگجو، جب جنگ سامنے آئے اور شعلے مارے “۔ فرماتے ہیں کہ اس کے سامنے میرے چچا عامر ظاہر ہوئے اور کہا ” تحقیق خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں ، ہتھیارورں سے لیس بہادر موت کی پرواہ نہ کرنے والا “۔ فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے تلوار چلائی تو مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال میں گھس گئی اور عامر نیچے گرے تو ان کی اپنی تلوار لوٹ کر ان کو لگی اور ان کی رگ اکحل کاٹ ڈالی۔ سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نکلا تو نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ ؓ کہہ رہے تھے کہ عامر ؓ کا عمل باطل ہوگیا، انہوں نے خودکشی کی ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ کس نے کہا ہے ؟ میں نے عرض کیا آپ (علیہ السلام) کے صحابہ میں سے چند لوگوں نے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے یہ کہا ہے اس نے جھوٹ کہا بلکہ اس کے لئے اس کا اجردومرتبہ ہے۔ پھر مجھے حضرت علی ؓ کی طرف بھیجا، ان کی آنکھ میں تکلیف تھی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں پھر میں حضرت علی ؓ کے پاس آیا تو میں ان کو راستہ دکھاتا ہوا لایا کیونکہ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی حتیٰ کہ میں ان کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا تو آپ (علیہ السلام) نے لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا، وہ فوراً تندرست ہوگئے اور ان کو جھنڈا دیا اور مرحب نکلا اور کہا : ” خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس بہادر تجربہ کار، جب جنگیں سامنے آئیں شعلے مارتی ہوئی “۔ تو حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” میں وہ شخص ہوں میرا نام میری ماں نے حیدررکھا، جنگل کے سیر کی طرح رعب دار، میں تم لوگوں کو تلوار کے ساتھ بہت زیادہ قتل کروں گا “۔ فرماتے ہیں پھر مرحب کے سر پر تلوار ماری اور اس کو قتل کردیا۔ پھر حضرت علی ؓ کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔ خیبر کی حدیث سہل بن سعد، انس اور ابی ہریرہ ؓ نے بھی روایت کی ہے۔ اس سے کچھ باتیں زائد ہیں اور کچھ کم اور اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سر میں درد ہوا جس کی وجہ سے آپ (علیہ السلام) لوگوں کی طرف نہ نکل سکے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا لیا، پھر کھڑے ہوئے اور زور دار لڑائی کی، پھر لوٹ آئے، پھر حضرت عمر ؓ نے جھنڈا تھاما اور پہلے سے بھی زیادہ شدید لڑائی کی۔ پھر لوگ آئے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو فرمایا کہ کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دیں گے۔ پھر حضرت علی ؓ کو بلوایا اور جھنڈا ان کو دے دیا اور ان کو فرمایا تو چل اور واپس نہ متوجہ ہو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ آپ ؓ کو فتح دے دیں۔ پس وہ خیبر شہر آئے، پس مرحب نکلا جو قلعہ کا مالک تھا اور اس کے سر پر خود تھا وہ اشعار کہتا آیا، حضرت علی ؓ مقابلہ کے لئے سامنے آئے تو اس کو تلوار ماری جس نے اس کا مضبوط خود چیر دیا اور سر کو چیرتے ہوئے داڑھوں تک پہنچ گئی۔ پھر مرحب کے بعد اس کا بھائی یا سر نکلا شعر پڑھتا ہوا تو اس کے مقابل کے لئے زبیر بن عوام ؓ نکلے تو ان کی والدہ صفیہ بنت عبدالمطلب ؓ کہنے لگیں یارسول اللہ کیا میرا بیٹا قتل کردیا جائے گا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں بلکہ تیرا بیٹا ان شاء اللہ اس کو قتل کردے گا۔ پھر ان کی مڈبھیڑ ہوئی تو حضرت زبیر ؓ نے اس کو قتل کردیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ ان کے قلعے فتح کرتے رہے اور جنگجو لوگوں کو قتل کرتے رہے اور ان کی اولاد کو قید کرتے اور مال سمیٹتے رہے۔ محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ خیبر کا پہلا قلعہ جو فتح کیا گیا حصن ناعم ہے اس کے پاس محمود بن سلمہ ؓ قتل کیے گئے، یہود نے ان پر پتھر پھینکا تھا جس کی وجہ سے ان کو قتل کردیا۔ پھر عموص ابن ابی الحقیق کا قلعہ فتح کیا گیا، وہاں سے لونڈیاں ملیں۔ ان میں سے صفیہ بنت حیی بن اخطب بھی تھیں۔ حضرت بلال ان کو اور ایک دوسری عورت کو لے کر آئے تو ان دونوں کے ساتھ یہود کے مقتولین پر گزر ہوا تو حضرت صفیہ ؓ کے ساتھ والی عورت نے جب ان کی لاشیں دیکھیں تو چیخنے اور چہرے پر تھپڑ مارنے لگی اور اپنے سر پر مٹی ڈالی۔ پس جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا اس شیطانہ کو مجھ سے دور کرو اور حضرت صفیہ ؓ کے بارے میں حکم دیا تو ان کو آپ (علیہ السلام) کے پیچھے جگہ دی گئی اور ان پر چادر ڈالی گئی تو مسلمانوں نے پہچان لیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنے لئے چن لیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے جب اس یہود یہ کا یہ حال دیکھا تو حضرت بلال ؓ کو فرمایا کہ اے بلال ! کیا تجھ سے رحمت چھین لی گئی ہے تو دو عورتوں کے ساتھ ان کے مقتول مردوں پر گزر رہا تھا۔ حضرت صفیہ کنانہ ربیع بن ابی الحقیق کی دلہن تھیں، انہوں نے خواب میں دیکھا کہ چاند ان کو گود میں آگیا ہے تو اپنا خواب اپنے خاوند کو سنایا تو اس نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو حجاز کے بادشاہ محمد ﷺ کی خواہش کرتی ہے۔ پھر ان کے چہرے پر ایسا زور دار تھپڑ مارا کہ اس سے ان کی آنکھ سبز ہوگئی۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے تو اس کا اثر باقی تھا تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا یہ کیا ہوا تو انہوں نے وہ واقعہ سنادیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان کا خاوند کنانہ بن ربیع لایا گیا، اس کے پاس بنو نضر کا خزانہ تھا۔ آپ (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا تو اس نے انکار کردیا کہ مجھے اس کی جگہ کا علم نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس یہود کا ایک شخص لایا گیا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو کہا کہ میں نے کنانہ کو دیکھا ہے کہ یہ کھنڈر کا روزانہ چکر لگاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے کنانہ کو فرمایا کہ اگر ہم نے اس کو تیرے پاس پایاتو ہم تجھے قتل کردیں گے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کھنڈر کو کھودنے کا حکم دیا تو اس سے ان کا کچھ خزانہ مل گیا۔ پھر اس سے باقی کے بارے میں پوچھا تو اس نے دینے سے انکار کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے زبیر بن عوام ؓ کو حکم دیا کہ اس کو تکلیف دیں تاکہ جو اس کے پاس ہے یہ وہ بتادے تو زبیر ؓ اس کے سینہ پر گھونسے مارتے رہے حتیٰ کہ وہ مرنے کے قریب ہوگیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کو محمد بن مسلم کے حوالے کردیا۔ انہوں نے اپنے بھائی محمود بن مسلم کے بدلہ اس کی گردن ماری دی۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کیا تو ہم نے اس کے پاس صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور ابوطلحہ ؓ سوار ہوئے، میں ابو طلحہ ؓ کا ردیف بن گیا۔ پس نبی کریم ﷺ خیبر کی گلیوں میں سواری چلاتے رہے اور میرے گھٹنے اللہ کے نبی ﷺ کی ران کو چھو رہے تھے۔ پھر آپ (علیہ السلام) کی ران سے تہبند کھسک گئی حتیٰ کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کی اولاد کی سفیدی کو دیکھا ۔ پس جب آپ ﷺ بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا اللہ اکبر ! خیبر برباد ہوگیا۔ بیشک ہم جب کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی بری صبح ہوتی ہے۔ یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ فرماتے ہیں کہ قوم اپنے کاموں کے لئے نکلی تو وہ کہنے لگے محمد ( ﷺ ) ۔ اسی بات کو عبدالعزیز نے کہا ہے اور ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا کہ خمیس یعنی لشکر۔ فرماتے ہیں کہ ہمیں مال غنیمت ملا اور قیدی تو حضرت وحید ؓ آئے اور کہا اے اللہ کے نبی ( ﷺ ) ! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی دیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تو جا اور ایک لونڈی لے لے تو انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لیا تو ایک شخص آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں آیا اور کہا اے اللہ کے نبی ! ( ﷺ ) آپ (علیہ السلام) نے وحیہ کو صفیہ بنت حیی دے دی۔ وہ قریظہ و نضیر کی سیدہ ہے وہ تو صرف آپ (علیہ السلام) ہی کے لئے مناسب ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا وحیہ کو اس کے ساتھ بلائو۔ وحیہ ؓ اس کو لائے تو آپ (علیہ السلام) نے جب حضرت صفیہ ؓ کو دیکھا تو فرمایا آپ ؓ اس کے علاوہ کوئی باندی لے لیں۔ فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ نے ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کیا تو اس (راوی) کو آپ (علیہ السلام) راستہ میں تھے تو ام سلیم نے ان کو آپ (علیہ السلام) کے لئے تیار کیا اور رات کو ہدیہ کیا تو صبح نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس کے پاس کوئی چیز ہو اس کو لے آئے اور چمڑے کا ایک ٹکڑا بچھایا گیا۔ پس ایک شخص کھجور لایا اور دوسرا گھی۔ راوی فرماتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے ستوکا بھی ذکر کیا۔ پھر انہوں نے حلوہ بنایا۔ پس یہ رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ تھا۔ صحیحین میں آیا کہ حضرت عبداللہ بن اوفیٰ نے فرمای : خیبر کے (قیام کے) زمانہ میں ہم سخت بھوک میں مبتلا ہوگئے (کھانے کی بڑی قلت تھی) خیبر کی جنگ کے دن کچھ پالتو گدھے ہمارے ہاتھ لگ گئے، ہم نے انہی کو ذبح کرکے ہانڈیاں چڑھا دیں، ہانڈیوں میں ابال آیا ہی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے منادی نے ندادی : ” ہانڈی الٹ دو ، گدھوں کا گوشت بالکل نہ کھائو “۔ حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت کو فروخت کرنے اور وضع حمل سے پہلے حاملہ (لونڈی) سے صحت کرنے کی رسول اللہ ﷺ نے ممانعت فرمادی اور فرمایا : کیا دوسرے کی کھیتی کو تم اپنے پانی سے سیراب کرو گے ؟ اور پالتو گدھے کے گوشت اور ہر نوک دار دانت (یعنی کیلوں) والے جانور کے گوشت سے بھی منع فرمادیا۔ (رواہ الدار قطنی) محمد بن عمرو کا بیان ہے بیس یا تیس گدھے ذبح کیے تھے۔ شیخین نے حضرت انس ؓ کی روایت سے اور ابن سعد وابو نعیم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اور بعض دوسرے علماء نے حضرت جابر، حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ، نیز زہری نے بیان کیا کہ مرحب کی بھتیجی، سلام بن مشکم کی بیوی زینب نے لوگوں سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو بکری کے کس عضو کا گوشت پسند ہے۔ لوگوں نے کہا دست کا۔ زینب نے پوری بکری کا گوشت زہر آلود کرکے بھون کر حضرت صفیہ کے پاس بطور ہدیہ بھیجا اور دست میں زیادہ زہر ملا دیا۔ رسول اللہ ﷺ جب حضرت صفیہ کے پاس تشریف لائے۔ حضرت بشر بن برائہ بن معرور اس وقت حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ حضرت صفیہ نے بھنی ہوئی (پوری) بکری خدمت میں پیش کی۔ حضور ﷺ نے بکری کا دست لے کر کچھ گوشت اس میں سے نوچا (اور منہ میں رکھ کر) گھمایا اور بشر نے ہڈی لے کر اس میں سے گوشت نوچ کر منہ میں لیا۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ بشر نے تو اس کو نگل لیا مگر رسول اللہ ﷺ نے تھوک دیا۔ زہری کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں سے ایک ٹکڑا لیا اور حضرت بشر نے بھی ایک لقمہ لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاتھ کھینچ لو، یہ بکری مجھے اطلاع دے رہی ہے کہ وہ زہر آلود ہے۔ حضرت بشر نے کہا : قسم ہے اس کی جس نے آپ کو عزت بخشی ہے ! میںے بھی اپنے نوالہ میں یہ بات محسوس کی تھی لیکن آپ کے سامنے میں نے کھانے کو منہ سے پھینک دینا پسند نہیں کیا۔ جب آپ نے اپنے منہ کے اندر نوالہ کو ناگوار محسوس نہیں کیا تو میں آپ کی جان سے اپنی جان کو عزیز رکھتا، میں ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ مجھے یہی خیال تھا کہ نوالہ میں خرابی ہونے کے باوجود آپ نے توڑا ہو، ایسا ہو نہیں سکتا۔ حضرت بشر اپنی جگہ سے اٹھنے بھی نہ پائے کہ طیلسان (چادر سبز یازرد) کی طرح آپ کا رنگ ہوگیا اور وفات ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو ہند کو بلوا کر اپنے کندھے پر پچھنے (خون بھرے سینگھ) لگوائے۔ رسول اللہ ﷺ تو بچ گئے لیکن یہ دکھ وقت وفات تک رہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : زہریلی بکری کا جو لقمہ خیبر کے دن میں نے کھایا تھا ، اس کا اثر میں برابر محسوس کرتا رہا (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ) رسول اللہ ﷺ شہید ہوئے۔ حضور ﷺ نے اس یہودن کو طلب فرمایا اور ارشاد فرمایا : کیا تونے بکری (کے گوشت) زہر آلود کیا تھا ؟ یہودن نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ کہنے لگی : میری قوم کی جو درگت آپ نے بنائی، آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میں نے خیال کیا کہ اگر یہ شخص بادشاہ ہے تو میں اس سے نجات پاجائوں گی اور اگر نبی ہے تو اس کو اطلاع مل جائے گی۔ (اس اقرار کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے اس سے درگزر فرمائی۔ عبدالرزاق نے مصنف میں بوساطت معمر، زہری کا قول نقل کیا ہے کہ وہ عورت مسلمان ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا۔ سلیمان تیمی نے اس پر جزم کیا ہے اور روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں کہ اس عورت نے کہا : اور اگر آپ جھوٹے ہیں تو میرے ذریعہ سے لوگوں کو آپ (کی فتنہ انگیزی) سے سکھ مل جائے گا۔ اب مجھ پر ظاہر ہوگیا کہ آپ سچے ہیں، میں آپ کو اور آپ کے پاس جو لوگ موجود ہیں، ان کو گواہ بنائی ہوں کہ میں آپ کے دین پر ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ جب وہ مسلمان ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے تعرض نہیں کیا۔
Ayah 48:22

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور (غنیمتیں) دیں جن پر تم قدرت نہیں رکھتے تھے (اور) وہ خدا ہی کی قدرت میں تھیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

21 ۔” واخریٰ لم تقدروا علیھا “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تم سے دوسرے شہر کی فتح کا وعدہ جس پر تم قادر نہ تھے ” قد احاطہ اللہ بھا “ حتیٰ کہ اس کو تمہارے لئے فتح کیا۔ گویا کہ اس کی حفاظت کی اور اس کو تمہارے غیر سے روکے رکھا۔ حتیٰ کہ تم نے اس کو لے لیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ وہ اس کو تمہارے لئے کھول دیں گے اور اس میں ان کا اختلاف ہوا ہے۔ پس ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ وہ فارس وروم ہیں اور عرب فارس اور روم کے قتال پر قادر نہ تھے بلکہ وہ تو ان سے خوفزدہ تھے حتیٰ کہ وہ اس پر اسلام کے ذریعے قادر ہوگئے۔ ضحاک اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ خیبر مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) سے اس کا وعدہ کیا تھا اور ان کو اس کی امید نہ تھی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مم کہ ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں حنین ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں آج کے دن تک جو انہوں نے فتح کیے ہیں سب مراد ہیں۔ ” وکان اللہ علی کل شیء قدیرا “ ۔
Ayah 48:23

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اور اگر تم سے کافر لڑتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے پھر کسی کو نہ دوست پاتے اور نہ مددگار

22 ۔ ” ولو قاتلکم الذین کفروا “ یعنی اسد، غطفان اور اہل خیبر۔ ” لولو الادبار “ البتہ وہ شکست کھاجائیں گے۔ ” ثم لا یجدون ولیا ولا نصیرا “۔
Ayah 48:24

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

(یہی) خدا کی عادت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تم خدا کی عادت کبھی بدلتی نہ دیکھو گے

23 ۔ ” سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل “ یعنی اللہ کے طریقہ کی طرح اس کے اولیاء کی مدد کرنے اور دشمنوں کو مغلوب کرنے میں۔