Ayah 47:1سورة محمد
مدنی ہے اور اس کی ارتیس (38) آیتیں ہیں
خواص سورة محمد
1، جو شخص اس سورة کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ ضرورا سے جنت کی نہروں سے سیراب کرے گا۔
2، جو شخص اس سورة کو لکھے اور زمزم کے پانی سے دھوکرپی لے تو وہ لوگوں کا محبوب بن جائے گا۔ اس کا حافظہ قوی ہوجائے گاجوبات سنے گا وہ یاد رہے گی۔
3، اس سورة کو لکھ کر اور دھوکر اس کے پانی سے بیمار کونہلایاجائے تو تندرست ہوجائے گا۔
ان الذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔ ولن یترکم اعمالکم
اس آیت کو ڈھال پر کندہ کر ا کے اگر دشمن کا سامنا کرے تو دشمن کو شکست ہوگی۔
ان الذین کفروافتعسالھم۔۔۔۔۔۔۔ فاحبط اعمالھم
اگر دوران جنگ میدان جنگ سے مٹی کی ایک مٹھی لے کر اس پر یہ آیت پڑھ کر دشمن کے چہرے پر ماردے تو دشمن مغلوب اور ذلیل ہوگا۔
Ayah 47:2تفسیر :
1 ۔” الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ اضل اعمالھم “ ان کو باطل کردیا قبول نہیں کیا اور اعمال سے مراد جو وہ کھانا کھلاتے اور صلہ رحمی کرنے جیسے نیک کام کرتے تھے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ کے بارے میں ان کی تدبیریں ومکر کو باطل کردیا اور اس کا نقصان ان ہی پر لوٹادیا۔
Ayah 47:32 ۔” والذین امنوا وعملو الصالحات وامنوا بمانزل علی محمد “ سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ کسی چیز میں آپ ﷺ کی مخالفت نہیں کی۔ ” وھوالحق من ربھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ” الذین کفروا وصدوا “ سے مشرکین مکہ اور ” والذین امنوا وعملوالصالحات “ سے انصار مراد ہیں۔ ” کفر عنھم سیئاتھم واصلح بالھم “ ان کے حال کو ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی زندگی میں ان کو گناہوں سے بچایا۔ یعنی یہ اصلاح ان کے اعمال کی اصلاح کی طرف لوٹتی ہے حتیٰ کہ انہوں نے کوئی نافرمانی نہیں کی۔
Ayah 47:43 ۔” ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الباطل “ شیطان کی۔ ” وان الذین امنوا اتبعوا الحق من ربھم “ یعنی قرآن ” کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم “ ان کی شکلوں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ مومنین کی نیکیوں کی مثالیں اور کافروں کے اعمال کے گمراہ کرنے کو بیان کرتے ہیں۔
Ayah 47:5تفسیر :
4 ۔” فاذا لقیتم الذینکفروا فضرب الرقاب “ یہ نصب ابھارنے کے لئے ہے یعنی ” فاضربوا رقابھم “ یعنی ان کی گردنیں۔ ” حتی اذا ثخنتموھم، قتل کے ذریعے اور تم ان کو مغلوب کردو۔ ” فشدوالوثاق “ یعنی قید میں حتیٰ کہ وہ اس سے چھوٹ نہ سکیں اور قید قتل میں مبالغہ کے بعد ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا ” ما کان لنبی ان یکون لہ اسریٰ حتی یثخن فی الارض “…” فاما منا بعدوا مافدائ “ یعنی ان کو قید کرنے کے بعد یا تو تم ان پر احسان کرو، ان کو بغیر فدیہ کے چھوڑ کر اور یا تم ان سے فدیہ لو۔ علماء رحمہم اللہ کا اس آیت کے حکم میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے کہ یہ منسوخ ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشرد بھم من خلفھم “ اور باری تعالیٰ کے قول ” اقتلوا المشرکین حیث وجدتھوھم “ کی وجہ سے اور اسی قول کی طرف قتادہ ، ضحاک، سدی اور ابن جریج رحمہم اللہ گئے ہیں اور یہی اوزاعی اور اصحاب رائے کا قول ہے۔ ان حضرات نے فرمایا ہے کہ جو کافر قید ہوجائیں ان پر احسان کرنا اور فدیہ لینا جائز نہیں ہے اور دیگر حضرات اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت محکم ہے اور امام کو اختیار ہے کفار کے عاقل مردوں کے بارے میں جب وہ قید ہوجائیں تو ان کو قتل کردے یا غلام بنالے یا ان پر احسان کرکے ان کو بغیر فدیہ کے چھوڑ دے یا مال یا مسلمانوں کے قیدیوں کا فدیہ لے کر چھوڑ دے اور اسی طرف ابن عمر ؓ گئے ہیں اور اسے حسن، عطاء رحمہما اللہ اور اکثر صحابہ ؓ اور علماء رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں اور یہی ثوری ، شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں کی کثرت ہوگی اور ان کی قوت بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ” فاما منا بعد واما فدائ “ اور یہی اصح ہے اور اختیار دینا اس لئے کہ اسی پر رسول اللہ ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے بعد خلفاء نے عمل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک گھڑ سوار دستہ نجا کی طرف بھیجا، وہ لوگ بنو حنیفہ کا ایک شخص پکڑ لائے جس کو ثمامہ بن آثال کہا جاتا تھا۔ یہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ پس اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک سے باندھ دیا تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف نکلے اور فرمایا اے ثمامہ ! تیرے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا اے محمد ! ( ﷺ ) میرے پاس خیر ہے، اگر آپ قتل کریں گے تو خون والے کو قتل کریں گے اور اگر احسان کریں گے تو قدردان پر احسان کریں گے اور اگر آپ (علیہ السلام) مال چاہتے ہیں تو مانگیں جتنا آپ (علیہ السلام) چاہیں گے دیا جائے گا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو اسی حال پر چھوڑدیا۔
آئندہ کل تک پھر اس کو کہا تیرے پاس کیا ہے اے ثمامہ ؟ تو اس نے کہا میرے پاس وہ ہے جو میں نے آپ کو کہا تھا اگر آپ احسان کریں گے تو قدردان پر احسان کریں گے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھوڑدیا حتیٰ کہ اگلے دن اس کو کہا اے ثمامہ تیرے پاس کیا ہے ؟ پس اس نے کہا میرے پاس وہ ہے جو میں نے آپ کو کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو ۔ پس وہ مسجد کے قریب درختوں کے جھنڈ میں گیا، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “ اے محمد ! ( ﷺ ) اللہ کی قسم ! زمین پر آپ (علیہ السلام) کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ چہرہ میرے نزدیک کوئی نہ تھا۔ پس تحقیق اب آپ (علیہ السلام) کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہے میرے نزدیک ۔ اللہ کی قسم ! آپ (علیہ السلام) کے دین سے زیادہ کوئی دین مجھے ناپسند نہ تھا۔ پس اب آپ کا دین تمام دینوں سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ کی قسم ! آپ کے شہر سے زیادہ ناپسندیدہ شہر مجھے کوئی نہ تھا، اب آپ (علیہ السلام) کا شہر تمام شہروں سے زیادہ مجھے محبوب ہے اور بیشک آپ (علیہ السلام) کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا حالانکہ میں عمرہ کا ارادہ کیے ہوا تھا تو اب آپ (علیہ السلام) کی کیا رائے ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو خوشخبری دی اور ان کو حکم دیا کہ وہ عمرہ کرلیں۔ پس جب وہ مکہ آئے تو کسی نے ان کو کہا کیا آپ ؓ بےدین ہوگئے ہیں ؟۔
تو انہوں نے کہا نہیں لیکن میں رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اور اللہ کی قسم ! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے جب تک رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دے دیں۔ حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قید کیا، پھر اس کو باندھ دیا اور ثقیف نے بھی نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے دو کو قید کیا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے فدیہ میں ان دو شخصوں کو آزاد کرایا جن کو ثقیف نے قید کیا تھا۔ قولہ تعالیٰ ” حتی تضع الحرب اوزارھا “ یعنی اپنے بوجھ یعنی حتیٰ کہ جنگ والے ہتھیار رکھ دیں اور جنگ سے باز آجائیں اور وزر کی اصل جو انسان اٹھاتا ہے پس اسلحہ کو اوزار کا نام دیا گیا اس لئے کہ وہ بھی اٹھایا جاتا ہے اور کہا گیا ہے کہ حرب سے لڑنے والے مراد ہیں جیسے شرب اور رکب سے پینے والے اور سوار ہونے والے مراد ہوتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ اوزار بمعنی بت ہے اور معنی یہ ہے کہ جنگ کرنے والے اپنے بتوں کو رکھ دیں بایں طور کہ ان کے کفر سے توبہ کرلیں۔ پس اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لے آئیں اور کہا گیا ہے حتیٰ کہ تمہاری جنگ اور تمہارا اقتال مشرکین گناہوں اور برے اعمال کو رکھ بایں طور کہ وہ اسلام لے آئیں۔
اور آیت کا معنی یہ ہے کہ مشرکین کا قتل اور قید کے ذریعے خون بہائو حتیٰ کہ تمام ملتوی والے اسلام میں داخل ہوجائیں اور دین سارا کا سارا اللہ کے لئے ہوجائے۔ پس اس کے بعد نہ کوئی جہاد ہو اور نہ کوئی قتال اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے نزول کے وقت ہوگا اور حدیث میں نبی کریم ﷺ سے آیا ہے کہ جہاد جاری رہے گا جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے قتال کرے گا اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئیں یا صلح کرلیں اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ حتیٰ کہ صرف مسلمان اور صلح کرنے والے باقی رہ جائیں۔ ” ذلک “ جو میں نے ذکر کیا اور کفار کا حکم بیان کیا۔
” ولویشاء اللہ لانتصر منھم “ پس ان کو ہلاک کردے اور تمہیں ان کے معاملہ میں بغیر قتال کے کافی ہوجائے ” ولکن “ تمہیں قتال کا حکم دینا۔ ” لیبلوا بعضکم ببعض “ پس جو مومنین میں سے قتل کیا جائے وہ ثواب کی طرف لوٹے اور جو کفار میں سے قتل کیا جائے وہ عذاب کی طرف لوٹے۔ ” والذین قتلوا فی سبیل اللہ “ اہل بصرہ اور حفص رحمہم اللہ نے ” قتلوا “ قاف کی پیش اور تاء کی زیر کے ساتھ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی شہداء اور دیگر حضرات نے ” قاتلوا “ الف کے ساتھ مقاتلہ باب سے پڑھا ہے اور وہ مجاہدین ہیں۔ ” فلن یضل اعمالھم “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ یہ آیت احد کے دن نازل ہوئی تھی اور مسلمانوں میں بہت زخم لگے اور قتل ہوئے۔
Ayah 47:65 ۔” سیھدیھم “ دنیا میں ان کی زندگی کے ایام میں درست کاموں کی طرف اور آخرت میں درجات کی طرف ” ویصلح بالھم “ ان کے مد مقابل کو راضی کریں گے اور ان کے اعمال قبول کریں گے۔
Ayah 47:76 ۔” ویدخلھم الجنۃ عرفھا لھم “ یعنی ان کے لئے ان کے جنت میں ٹھکانوں کو بیان کیا حتیٰ کہ وہ سیدھے اپنے ٹھکانوں تک پہنچ جائیں گے کوئی غلطی نہ کریں گے اور نہ کسی سے راہ پوچھیں گے۔ گویا کہ وہ وہاں کے رہائشی ہیں جب سے وہ پیدا کیے گئے۔ پس مومن اپنے ٹھکانہ اور اپنی بیوی اور اپنے گھر کے خادموں کو دنیا کے گھر اور دنیا کے اہل سے زیادہ پہچانتا ہوگا۔ یہ اکثر مفسرین (رح) کا قول ہے۔ عطائؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” عرفھا لھم “ یعنی ان کے لئے اس کو پاکیزہ کیا۔ یہ عرف سے مشتق ہے اور عرف عمدہ خوشبو اور خوشبودار کھانے کو کہتے ہیں۔
Ayah 47:87 ۔” یایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ “ یعنی اس کے دین اور اس کے رسول کی ” ینصرکم “ تمہارے دشمن پر ” ویثبت اقدامکم “ قتال کے وقت۔
Ayah 47:98 ۔” والذین کفروا فتعسالھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دوری ہے ان کے لئے۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے گرنا ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے خسارہ ہے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ان کے لئے بدبختی ہے۔ فرائؒ فرماتے ہیں کہ مصدر کی بناء پر نصب ہے دعا کے طور پر اور کہا گیا ہے کہ دنیا میں لغزش اور آخرت میں آگ میں گرنا اور پھسلنے والے کو تعسا کہا جاتا ہے جب اس کے کھڑے ہونے کا ارادہ نہ کیا ہو۔ ” واضل اعمالھم “ اس لئے کہ وہ شیطان کی فرمانبرداری میں تھا۔
Ayah 47:109 ۔” ذلک “ تعس اور اضلال۔ ” بانھم کرھوا ماانزل اللہ فاحبط اعمالھم “ پھر کفار کو ڈرایا۔
Ayah 47:1110 ۔ پس کہا ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم دمر اللہ علیھم “ یعنی ان کو ہلاک کردیا۔ ” وللکافرین امثالھا “ یعنی وہ ایمان نہیں لائے مشرکین مکہ کو دھمکی دی ہے۔
Ayahs 47:12–1311 ۔ ” ذلک “ جو میں نے ذکر کیا۔ ” بان اللہ مولی الذین امنوا “ ان کا ولی اور مددگار ہے۔ ” وان الکافرین لا یتمتعون “ دنیا میں۔ ” ویاکلون کماتاکل الانعام “ ان کا مقصد صرف ان کے پیٹ اور ان کی شرم گاہیں ہیں اور وہ کل آنے والی چیز سے غافل اور بھولے ہوئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ مومن دنیا میں سفر توشہ جمع کرتا ہے اور منافق زیب وزینت اختیار کرتا ہے اور کافر نفع اٹھاتا ہے۔ ” والنار مثوی لھم “۔
Ayah 47:1413 ۔” وکاین من قریۃھی اشد قوۃ من قریتک “ یعنی اہل مکہ سے قوت میں زیادہ تھے۔ ” التی اخرجتک “ یعنی اس بستی والوں نے آپ (علیہ السلام) کو نکالا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کتنے ہی مرد تھے جو اہل مکہ سے قوت میں زیادہ تھے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ کا قول ” اھلکناھم “ دلالت کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ” اھلکنا ھا “ نہیں فرمایا۔ ” فلا ناصرلھم “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے غار کی طرف نکلے تو مکہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تو اللہ کے شہروں میں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے اور اللہ کے شہروں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا۔ اگر مشرکین مجھے نہ نکالتے تو میں تجھ سے نہ نکلتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 47:1514 ۔” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ اس کے دین سے یقین پر یعنی محمد ﷺ اور مومنین۔ ” کمن زین لہ سوء عملہ واتبعوا اھواء ھم “ یعنی بتوں کی عبادت کی اور وہ ابوجہل اور مشرکین ہیں۔
Ayah 47:1615 ۔” مثل الجنۃ التی وعدالمتقون “ یعنی اس کی صفت ” فیھا انھار من ماء غیر آسن “ تبدیل بدبودار۔ ابن کثیر (رح) نے ” آسن “ قصر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے مد کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے ” اسن الماء یا سن اسنا اور آسن یا سن ویاسنا واجن یا جن ویا جن، اسونا واجونا “ جب پانی متغیر ہوجائے۔
” وانھار من لبن لم یتغیر طعمہ وانھارمن خمر لذۃ “ لذیذ ہے۔ ” للشاربین “ پائوں اور ہاتھوں نے اس ک ومیلا نہیں کیا۔ ” وانھار من عسل مصفی “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سیحان، جیحان، نیل اور فرات جنت کی نہروں میں سے ہیں۔ کعب احبار (رح) فرماتے ہیں کہ نہردجلہ اہل جنت کے پانی کی نہر ہے اور نہر فرات جنتیوں کے دودھ کی نہر ہے اور نہر مصر جنتیوں کی شراب کی نہر ہے اور نہر سیحان جنتیوں کے شہد کی نہر ہے اور یہ چاروں نہریں نہر کوثر سے جاری ہوتی ہیں۔
” ولھم فیھا من کل الثمرات ومغفرۃ من ربھم کمن ھو خالد فی النار “ یعنی جوان نعمتوں میں ہو اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔ ” وسقوا ماء حمیما “ سخت گرم اس پر جہنم جس وقت سے پیدا کی گئی بھڑکائی جارہی ہے جب ان کے قریب کیا جائے گا تو ان کے چہروں کو بھون دے گا اور ان کے سر کی کھال بالوں سمیت اس میں جاگرے گی اور جب اس کو پی لیں گے تو ” فقطع امعاء ھم “ پس ان کے پیچھے سے نکل جائیں گے اور امعاء پیٹ میں جو کچھ ہوتا ہے انتڑیاں وغیرہ اس کو کہتے ہیں اور اس کا واحد معی ہے۔
Ayah 47:1716 ۔ ” ومنھم “ یعنی ان کفار میں سے ” من یستمع الیک “ اور وہ منافقین ہیں جو آپ کی بات سنتے تو ہیں لیکن اس کو سمجھتے نہیں، غفلت اور سستی کی وجہ سے ” حتی اذاخرحوا من عندک “ یعنی پس جب وہ تیرے پاس سے نکلیں۔ ” قالو اللذین اوتوا العلم “ صحابہ کرام ؓ میں سے۔ ” ماذاقال “ محمد ” آنفا “ یعنی ابھی اور یہ ائتناف میں سے ہے ۔ کہا جاتا ہے ” انشفت الامر “ یعنی میں نے اس کی ابتداء کی ہے اور ” انف الشیء “ اس کا اول حصہ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اور منافقین کے عیب بیان کررہے تھے تو جب منافق مسجد سے نکلے تو عبداللہ بن مسعود ؓ سے ” استھزائ “ پوچھنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اور تحقیق میں سوال کیا گیا ان کے بارے میں جن کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ” اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم “ پس وہ ایمان نہیں لائے۔ ” واتبعوا اھواء ھم “ کفر اور نفاق میں۔
Ayah 47:1817 ۔” والذین اھتدوا “ یعنی مومنین۔ ” زادھم “ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ھدی واتاھم تقواھم “ ان کو اس پر عمل کی توفیق دی جو ان کو حکم دیا اور وہ تقویٰ ہے۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ اور ان کو ان کے تقویٰ کا ثواب دیا۔
Ayah 47:1918 ۔” فھل ینظرون الاالساعۃ ان تاتیھم بغتہ “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایک دنیا میں نہیں انتظار کررہا مگر ایسی مال داری کا جو سرکش کردے یا ایسے فقر کا جو ہر چیز بھلا دے یا ایسے مرض کا جو بالکل بےحال کردے یا ایسے بڑھاپے کا جو کسی کام کا نہ چھوڑے یا موت کا جو قبر میں پہنچا دے یا دجال کا پس دجال ایسا غائب شر ہے جس کا انتظار کیا جارہا ہے یا قیامت کا پس قیامت تاریک ترین (بہت بڑا معاملہ ہے) اور کڑوی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” فقد جآء اشراطھا “ یعنی اس کی علامات اس کی واحدشرط ہے اور نبی کریم ﷺ بھی قیامت کی علامات میں سے تھے۔ سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں سے اس طرح اشارہ کیا درمیان والی اور انگوٹھے سے ملی ہوئی انگلی سے اور فرمایا میں اور قیامت ان دونوں کی طرح بھیجے گئے ہیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں ایسی حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے میرے علاوہ کوئی اور تم کو وہ حدیث بیان نہ کرے گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی علامات میں سے یہ ہے کہ علم اٹھالیاجائے گا جہالت زیادہ ہوجائے گی اور زنا کی کثرت ہوجائے گی اور شراب کا پینا عام ہوجائے گا اور مرد کم ہوجائیں گے اور عورتیں زیادہ ہوجائیں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کے لئے ایک نگہبان ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک مجلس میں ایک قوم سے گفتگو کررہے تھے اچانک آپ (علیہ السلام) کے پاس ایک بدو آیا ۔ پس اس نے پوچھا قیامت کب ہوگی ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے اپنی گفتگو جاری رکھی تو قوم میں سے بعض نے کہا حضور ﷺ نے اس کی بات سنی ہے لیکن اس کی بات کو ناپسند سمجھا ہے اور ان میں سے بعض نے کہا بلکہ آپ (علیہ السلام) نے اس کی بات کو نہیں سنا حتیٰ کہ جب آپ (علیہ السلام) نے اپنی بات پوری کرلی تو فرمایا قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا میں ہوں یارسول اللہ ! ( ﷺ ) آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جب معاملہ نااہلوں کی طرف سپرد کیا جائے تو تو قیامت کا انتظار کر۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فانی لھم اذا جاء تھم ذکراھم “ پس ان کے لئے نصیحت حاصل کرنا اور توبہ کرنا کہاں معتبر ہوگا۔ جب ان کے پاس قیامت آجائے گی۔ اس کی نظیر ” یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری “۔
Ayah 47:2019 ۔” فاعلم انہ لاالہ الا اللہ “ کہا گیا ہے کہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد آپ (علیہ السلام) کے علاوہ لوگ ہیں اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی تو اس پر ثابت قدم رہ اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ آپ اپنے علم پر علم کو زیادہ کریں۔ ابوالعالیہ (رح) اور ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ماقبل سے متصل ہے اس کا معنی ہے جب ان کے پاس قیامت آئے گی تو آپ (علیہ السلام) جان لیں کہ نہ کوئی ٹھکانہ ہوگا اور نہ کوئی جائے قرار اس کے قائم ہونے کے وقت مگر اللہ تعالیٰ کی طرف اور کہا گیا ہے کہ ” فاعلم انہ لا الہ الا اللہ “ کہ ممالک اس کے قائم ہونے کے وقت باطل ہوجائیں گے۔ پس اس وقت نہ کسی کے لئے کوئی ملک ہوگا اور نہ حکم سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ ” واستغفرلذنبک “ استغفار کا حکم دیا ہے حالانکہ آپ (علیہ السلام) تو بخشے ہوئے ہیں تاکہ اس کے ذریعے آپ (علیہ السلام) کے لئے سنت جاری ہوجائے۔
اغر مزنی (رح) سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ہر دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وللمومنین والمومنات “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کا اکرام ہے کہ ان کے نبی کو حکم دیا کہ ان گناہوں کے لئے استغفار کریں اور آپ (علیہ السلام) تو ایسی سفارش ہیں جس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
” واللہ یعلم متقلبکم ومثواکم “ ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں دنیا میں تمہارے اعمال کا پلٹنا اور منتشر ہونا اور آخرت میں تمہارا جنت یا جہنم کی طرف ٹھکانہ۔ ابن جریر اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ” متقلبکم “ یعنی تمہارا دن میں اپنی مشغولیات کے لئے پھرنا اور ” مشواکم “ تمہارا رات ک واپنے بستروں کی طرف ٹھکانہ اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ” متقلبکم “ آباء کی پشتوں سے مائوں کے رحموں کی طرف اور ” مثواکم “ تمہارا قبروں میں ٹھکانہ اور معنی یہ ہے کہ وہ تمہارے تمام احوال کو جاننے والا ہے ۔ پس اس پر ان میں سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔
Ayah 47:2120 ۔” ویقول الذین امنوا “ ان کے جہاد پر حرص کی وجہ سے ” لولا نزلت سورة “ آپ ہمیں اس میں جہاد کا حکم دیں۔ ” فاذانزلت سورة محکمۃ وذکر فیھا القتال ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہر وہ سورت جس میں جہاد کا ذکر کیا جائے۔ پس وہ محکم ہے اور یہ منافقین پر قرآن کا سخت ترین حصہ ہے۔ ” رایت الذین فی قلوبھم مرض “ یعنی منافقین ” ینظرون الیک “ آنکھ کے کنارے سے جہاد کو سخت ناپسند سمجھتے ہوئے اور دشمن کی مڈبھیڑ سے بزدلی کی وجہ سے۔ ” نظر المغشی علیہ من الموت “ جیسا کہ وہ شخص جس کی آنکھیں پھٹی ہوئی ہوں موت کے وقت دیکھتا ہے۔ ” فاولیٰ لھم “ وعید اور دھمکی ہے اور دھمکی کے وقت ان کے قول ” اولیٰ لک “ کا معنی یعنی تیرا دوست اور تیرا قریب وہ ہوگا جس کو تو ناپسند کرتا ہے۔
Ayah 47:2221 ۔ پھر فرمایا ” طاعۃ وقول معروف “ یہ مبتداء ہے اس کی خبر محذوف ہے اس کی اصل عبارت طاعت وقول معروف امثل ہے۔ یعنی اگر وہ اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے تو یہ اچھا تھا کہا گیا ہے کہ اس کا مجاز یہ منافقین محکم سورة کے نازل ہونے سے پہلے کہتے تھے۔ ” طاعۃ “ یہ حکایت کی بناء پر مرفوع ہے۔ ” امرنا طاعۃ “ یعنی ہمارا امر طاعت ہے یا ہم سے طاعت ہے اور قول معروف حسن یعنی قول معروف اچھا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ اپنے ماقبل سے متصل ہے اور لام ان کے قول میں باء کے معنی میں ہے۔ اس کا مجاز ” فاولیٰ بھم طاعۃ اللہ ورسولہ وقول معروف بالاجابۃ “ ہے۔ یعنی اگر وہ اطاعت کرتے تو یہ اطاعت اور حق کو قبول کرنا ان کے زیادہ لائق تھا اور عطاء (رح) کی روایت میں ابن عباس ؓ کے قول کا یہی معنی ہے۔ ” فاذا عزم الامر “ یعنی معاملہ پختہ ہوجائے اور قتال کا فرض لازم ہوجائے اور معاملہ پختہ ہوجائے۔ ” فلو صدقوا اللہ “ ایمان اور طاعت کو ظاہر کرنے میں ” لکان خیرالھم “ اور کہا گیا ہے کہ اذا کا جواب محذوف ہے اس کی تقدیر ” فاذا عزم الامر نکلو اوکذبوا فیما وعدوا ولو صدقوا اللہ لکان خیرالھم “ ہے۔
Ayah 47:2322 ۔” فھل عسیتم “ پس شاید کہ تم ” ان تولیتم “ تم قرآن سے اعراض کرو اور اس کے احکام سے جدا ہوجائو۔” ان تفسدوا فی الارض “ اس کی طرف لوٹ جائو جس پر تم جاہلیت میں تھے۔ پس تم زمین میں نافرمانی اور سرکشی اور خون بہا کر فساد پھیلائو۔
اور تم فرقہ بندی کی طرف لوٹ جائو بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کے ذریعے جمع کیا۔ ” وتقطعوا ارحامکم “ یعقوب (رح) نے ” وتقطعوا “ تاء کی زبر کے ساتھ بغیر شد کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ تقطیع سے پڑھا ہے کثرت کے معنی پر رحموں کی وجہ سے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم نے قوم کو کیسے دیکھا جب انہوں نے اللہ کی کتاب سے روگردانی کی کیا انہوں نے حرام خون نہیں بہایا اور قطع رحمی نہیں کی اور رحمن کی نافرمانی نہیں کی ؟ اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ یہ ولایۃ سے ہے۔ مسیب ابن شریک اور فراء رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تمہیں امید ہے کہ اگر تمہیں لوگوں کے معاملہ کا والی بنایا جائے تو تم زمین میں ظلم کے ذریعے فساد مچائو گے۔ یہ بنو امیہ اور بنو ہاشم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس پر علی بن ابی طالب ؓ کی قرات دلالت کرتی ہے۔ ” تولیتم “ تاء اور وائو کے پیش اور لام کی زیر کے ساتھ۔ اللہ فرماتے ہیں اگر میں تمہیں اس کا جائز والی بنادوں تو تم ان کے ساتھ فتنہ میں نکلو گے اور تم ان کی مدد کرو گے۔
Ayah 47:2423 ۔ ” اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم “ حق سے بہرے گونگے اندھے ہیں۔
Ayah 47:2524 ۔” افلایتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا “ پس قرآن کے مواعظ اور احکام نہیں سمجھتے اور ” ام “ …” بل “ کے معنی میں ہے۔ حضرت عروہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ” افلا یتدبرون القرآن ام علیٰ قلوب اقفالھا “ تلاوت کی تو اہل یمن کا ایک نوجوان کہنے لگا ” بل علیٰ قلوب اقفالھا “ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کو کھول دیں یا کشادہ کردیں۔ پس وہ نوجوان حضرت عمر ؓ کے دل میں جگہ بنا لیا حتیٰ کہ جب حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو آپ ؓ نے اس کی بھی انتظامی امور میں مدد لی۔
Ayahs 47:26–2725 ۔” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم “ وہ کفر کی طرف لوٹ گئے۔ ” من بعد تبین لھم الھدی “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اہل کتاب کے کفار ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کی صفات اپنی کتابوں میں پانے کے باوجودان کا انکار کیا اور ابن عباس ؓ اور ضحاک، سدی رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ منافقین ہیں۔ ” الشیطان سول لھم “ ان کے لئے قبیح کو مزین کردیا۔ ” واملی لھم “ اہل ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کی اپنی طرف سے خبر کے طریقہ پر کہ وہ ایسے کریں گے اور یہ قرات یعقوب (رح) سے روایت کی گئی ہے اور دیگر حضرات نے ” واملی لھم “ یعنی منافقین یا یہود “ قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ اور وہ مشرکین ہیں۔ ” سنطیعکم فی بعض الامر “ محمد ﷺ کو یہ پوشیدہ کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خبر دی۔ ” واللہ یعلم اسرار ھم “ اہل کوفہ نے ابوبکر کے علاوہ ہمزہ کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے مصدر کی بناء پر اور باقی حضرات نے اس کی زبر کے ساتھ سر کی جمع پڑھا ہے۔
Ayah 47:2827 ۔” فکیف اذا توفتھم الملائکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم “…
Ayah 47:2928 ۔” ذلک “ یعنی مار ” بانھم اتبعوا مااسخط اللہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس وجہ سے کہ انہوں نے توریت سے چھپایا اور محمد ﷺ کا انکار کیا۔ ” وکرھوا رضوانہ “ انہوں نے ناپسند کیا اس کو جس میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے اور وہ طاعت وایمان ہے۔ ” فاحبط اعمالھم “
Ayah 47:3029 ۔” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض “ یعنی منافقین ” ان لن یخرج اللہ اضغانھم “ یعنی ان کے کینوں کو مومنوں پر ظاہر نہ کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا حتیٰ کہ مومنوں نے ان کے نفاق کو پہچان لیا۔ اس کا واحد ضغن ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کو حسد کو۔
Ayah 47:3130 ۔” ولو نشاء لاریناکھم “ یعنی ہم آپ (علیہ السلام) کو ان کی خبر دیتے اور پہچان کرادیتے۔ ” فلعرفتھم بسیما ھم “ ان کی علامت کے ذریعے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ معنی ہے اگر ہم چاہتے تو منافقین پر ایسی علامت بنادیتے جس کے ذریعے آپ (علیہ السلام) ان کو پہچان لیتے۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ پر منافقین کی کوئی چیز مخفی نہ رہی۔ آپ (علیہ السلام) ان کو ان کی علامت سے پہچان لیتے تھے۔
” ولتعرفنھم فی لحن القول “ اس کے معنی اور مقصد میں اور لحن کے دو معنی ہیں درستگی اور غلطی۔ درستگی کے معنی سے فعل ” لحن، یلحن، لحنا فھولحن “ ہے جب کسی چیز کو سمجھ لے اور اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ہے ” ولعل بعضکم ان یکون الحسن بحجتہ “ بعض یعنی شاید کہ تم میں سے بعض اپنی دلیل کو زیادہ درست طریقہ سے پیش کرسکتا ہو، دوسرے بعض کی بنسبت اور خطاء والے معنی سے فعل ” لحن، یلحن، لحنا فھو لا حن “ ہے اور اس میں اصل کلام کا ازالہ کرنا ہے اس کی جہت سے اور معنی یہ ہے کہ آپ ان کو پہچان لیں گے جو وہ آپ کے امر اور مسلمانوں کے امر کی ہجو کرتے ہیں اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔ پس اس کے بعد کوئی منافق نبی کریم ﷺ کے پاس کلام کرتا تو آپ (علیہ السلام) اس کی گفتگو سے اس کو پہچان لیتے اور اس کی کلام کے انداز سے اس کی خلقت اور عقیدہ کے فساد پر استدلال کرتے۔ ” واللہ یعلم اعمالکم “۔
Ayah 47:3231 ۔” ولنبلونکم “ اور ہم تم سے آزمائش کرنے والے کا معاملہ کریں گے۔ بایں طور کہ ہم تمہیں جہاد اور قتال کا حکم دیں گے۔ ” حتی نعلم المجاھدین منکم والصابرین “ یعنی علم وجود مراد ہے حتیٰ کہ مجاہد اور اپنے دین پر صبر کرنے والا اپنے غیر سے ظاہر ہوجائے۔ ” ونبلواخبارکم “ یعنی ہم اس کو ظاہر کریں اور کھول دیں ان کے انکار کے ساتھ جو قتال سے انکار کردیں اور جہاد پر صبر نہ کریں۔ ابوبکر نے عاصم (رح) سے ” ولیبلونکم حتی یعلم “ پڑھا ہے اور ” یبلو “ یاء کے ساتھ ان میں۔ بوجہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” واللہ یعلم اعمالکم “ کے اور دیگر حضرات نے ان میں نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ولونشاء لارینا کھم “ کی وجہ اور یعقوب (رح) ” ونبلو “ وائو کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ” ولنبلونکم “ پر رد کرتے ہوئے اور دیگر حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” حتی نعلم “ پر رد کرتے ہوئے۔
Ayah 47:3332 ۔” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “ یعنی اللہ کے رسول ﷺ ” وشاقوا الرسول من بعدما تبین لھم الھدی لن یضروا اللہ شیئا “ وہ تو صرف اپنا نقصان کررہے ہیں۔ ” وسیحبط اعمالھم “ پس وہ آخرت میں اس کا کوئی ثواب نہ دیکھیں گے ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بدر کے دن کھانا کھلانے والے ہیں۔ اس کی نظیر اللہ تعالیٰ کا قول ” ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبیل اللہ “ ہے۔
Ayah 47:3433 ۔ یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم “ عطائؒ فرماتے ہیں شک اور نفاق کے ساتھ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ریاء اور شہرت کے ساتھ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ معاصی اور کبیرہ گناہوں کے ساتھ۔ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب یہ سمجھتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہ دے گا۔ جیسا کہ شرک کے ساتھ کوئی عمل نفع نہ دے گا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی پس وہ کبیرہ گناہوں سے ڈرنے لگے اعمال کے ضائع ہونے کے بعد اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر احسان نہ جتائو۔ پس تم اپنے اعمال باطل کردو گے۔ یہ بنواسد کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور عنقریب ہم اس کو سورة الحجرات میں ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 47:3534 ۔” ان الذین کفرواوصدوا عن سبیل اللہ ثم ماتوا وھم کفار فلن یغفر اللہ لھم “ یہ قلیب والے ہیں اور اسکا حکم عام ہے۔
Ayah 47:3635 ۔” فلاتھنوا “ تم کمزور نہ ہو۔ ” وتدعوالی السلم “ یعنی تم صلح کی طرف نہ بلائو۔ ابتداء اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کافروں کو صلح کی طرف دعوت دینے سے منع کیا تھا اور ان کو کفار سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں۔ ” وانتم الاعلون “ غالب ہو۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آخری امر تمہارے لئے ہوگا۔ اگرچہ وہ بعض اوقات میں تم پر غالب آجائیں۔ ” واللہ معکم “ مدد ونصرت کے ساتھ۔ ” ولن یترکم اعمالکم “ تمہارے اعمال کے ثواب میں کچھ کمی نہ کریں گے۔ کہا جاتا ہے ” وترہ، یترہ، وتراً وترۃ “ جب اس کا حق کم ہوجائے ۔ ابن عباس ؓ قتادہ ، مقاتل اور ضحاک رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ تمہارے نیک اعمال پر تم سے ظلم نہ کرے گا بلکہ تم کو ان کا پورا اجر دے گا۔
Ayah 47:3736 ۔ پھر آخرت کی طلب پر ابھارا اور فرمایا ” انما الحیوۃ الدنیا لعب ولھو “ باطل اور دھوکہ ہے۔ ” وان تومنوا وتتقوا “ بےحیائیوں سے۔ ” یوتکم اجور کم “ آخرت میں تمہارے اعمال کی جزائ۔ ” ولا یسالکم “ تمہارا رب۔ ” اموالکم “ اجر دینے کے لئے بلکہ تم کو ایمان اور طاعت کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہیں اس پر ثواب میں جنت دے۔ اس کی نظیر اس کا قول ” ماارید منھم من رزق “ ہے اور کہا گیا ہے کہ محمد ﷺ تم سے تمہارے اموال کا سوال نہیں کرتے۔ اس کی نظیر ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر “ ہے اور کہا گیا ہے کہ آیت کا معنی اللہ اور اس کا رسول تم سے تمہارے تمام اموال کا صدقات میں سوال نہیں کرتے وہ تو صرف تم سے تھوڑا سا یعنی چالیسواں حصہ مانگتے ہیں۔ پس اپنے جب کو خوش کرکے اس کے ذریعے آنکھیں ٹھنڈی کرو۔
Ayah 47:3837 ۔ اسی قول کی طرف ابن عینیہ (رح) گئے ہیں۔ اس پر آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے۔ ” ان یسالکموھا فیحفکم “ یعنی تمہیں مشقت میں مبتلا کردے اور تمام کا سوال کرکے تم کو مشقت میں ڈال دیں۔ کہا جاتا ہے ” احفی فلان فلانا “ جب وہ اس کو مشقت میں ڈال دے اور سوال میں مشقت میں ڈالنا۔ ” تبخلوا “ اس میں پس تم اس کو نہ دیتے۔ ” ویخرج اضغانکم “ تمہارے بغض و دشمنی کو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے کہ اموال کے سوال کرنے میں کینوں کا نکلنا ہے۔