Ayah 46:1سورة الاحقاف
مکی ہے اور اس کی پینتیس (35) آیات ہیں
خواص سورة الاحقاف
1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص سورة احقاف کو پڑھے ۔ اسے دنیا کی ہر ہر چیز کی تعداد کے برابر دس نیکیاں ملیں گی اور دس دس برائیاں نامہ اعمال سے مٹائی جائیں گی اور دس دس درجات بلند ہوگے۔
2، جو شخص اس سورة کو لکھ کر اپنے گلے میں لٹکائے وہ بیداری ونیند ہر حالت میں جنات اور دیگر ہر خوفناک چیز کے شر سے محفوظ رہے گا۔
3، اگر اس سورة کو لکھ سرہانے کے نیچے رکھ کر سوجائے تو رات کو کوئی چوریاجن وغیرہ اس کے قریب نہ آئے گا۔
واذکر اخاعاد۔۔۔۔۔۔۔ وکذلک تجزی المجرمین
اگر کوئی بےدین ظالم و فرعون صفت دشمن ہو تو اس کے ہلاک و برباد کرنے کے لئے یہ آیات بہت مفید ہیں۔ طریقہ یہ ہے کہ سات بیکار کنوؤں کا پانی لاکر اس پر ان آیات کو ہفتہ کے دن سے لے کر جمعہ کے دن تک سات دن مسلسل چاند کے آخری عشرہ میں پڑھے) ہر روزسورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے وقت سات سات بارپڑھے پھر آئندہ ہفتہ کے دن اس پانی کو چار گھڑوں میں ڈال کر کسی نابالغ لڑکے کے ہاتھوں انہیں کسی الگ کونہ میں رکھوادے۔ جب ضرورت ہوتودشمن کے گھریاجہاں چاہے اس پانی کو چھڑکوادے۔ بہت جلد مقصد حاصل ہوجائے گا۔
مگر اس بات کا دھیان ضرور رہے کہ یہ عمل اسی کے لئے کیا جائے جو بےدین وملحد اور ظالم ہونا حق کسی پر ایساعمل کرنا سخت گناہ ہے۔
واذصرفنا الیک نفرا من الجن۔۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین
ان آیات کو پڑھنے سے جن بہت جلد حاضر ہوجاتے ہیں۔ ان آیتوں کو ہر عزیمت کے بعد پڑھے۔
Ayah 46:32 تنزل الکتاب من اللہ العزیز الحکیم
Ayah 46:43 ۔ ماخلقنا السموات والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی۔ یعنی قیامت کے دن۔ اور یہ وہ مدت ہے جس تک آسمانوں وزمینوں کی انتہا ہوگی اور یہ اشارہ ہے ان دونوں کے فناء ہونے کی طرف۔ ” والذین کفروا اعما انذروا “ قرآن میں بعث و حساب کے ذریعے ڈرائے گئے ” معرضون “۔
Ayah 46:54 ۔ ” قل اراء یتم ما تدعون من دون اللہ ارونی ماذا خلقوا من الارض ام لھم شرک فی السموات ایتونی بکتاب من قبل ھذا “ یعنی ایسی کتاب کے ساتھ جو تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن سے پہلے آئی ہو اس میں تمہاری باتوں کا بیان ہو۔ ” اواثارۃ من علم “ کلبی (رح) فرماتے ہیں یعنی باقی علم جو پہلوں کی طرف منسوب ہو۔ مجاہد، عکرمہ اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) سے روایت ہو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں خاص علم اور اس کلمہ کی اصل اثر سے ہے بمعنی روایت۔ کہا جاتا ہے ” اثرات الحدیث اثراً واثارۃ “ او اسی سے مشتق کرکے خبر کو اثر کہا جاتا ہے۔ ” ان کنتم صادقین “۔
Ayah 46:65 ۔” ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لایستجیب لہ “ یعنی بت کہ ان کے عبادت کرنے والے جو بھی مانگیں وہ کسی چیز کا جواب نہیں دیتے۔ ” الی یوم القیامۃ “ یعنی ہمیشہ جب تک دنیا ہوگی۔ ” وھم عن دعائھم غافلون “ اس لئے کہ وہ جمادات ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں۔
Ayah 46:76 ۔” واذا حشر الناس کانوالھم اعداء وکانوا بعبادتھم کافرین “ انکار کرنے والے۔ اس کا بیان اس قول ” تبرانا الیک ماکانوا ایانا یعبدون “ ہے۔
Ayah 46:87 ۔” واذاتتلیٰ علیھم آیاتنا بینات قال الذین کفروا للحق لما جآء ھم ھذا سحر مبین “ وہ قرآن کو جادو کہتے تھے۔
Ayah 46:98 ۔” ام یقولون افتراہ “ محمد ﷺ اپنی طرف سے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” قل “ اے محمد (ﷺ) !” ان افریتہ فلا تملکون لی من اللہ شیئا “ تم قدرت نہیں رکھتے کہ مجھ سے اس کے عذاب کو دور کرسکو۔ اگر وہ مجھے میرے افتراء پر عذاب دے ۔ پس میں تمہاری وجہ سے اللہ پر کیسے جھوٹ گھڑ سکتا ہوں۔ ” ھواعلم “ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ ” بما تفیضون فیہ “ تم قرآن کی تکذیب اور اس کو جادو کہنے میں دلچسپی رکھتے ہو۔ ” کفی بہ شھیدا بینی وبینکم “ کہ قرآن اس کی طرف سے آیا ہے۔ ” وھوالغفور الرحیم “ تم سے عذاب کو موخر کرنے میں۔ زجاج حمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ان کی توبہ کی طرف دعوت ہے۔ اس کا معنی ہے بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے جو توبہ کرے اس کو بخشنے والا، اس پر رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 46:109 ۔” قل ماکنت بدعا من الرسل “ یعنی بدیع نصف اور نصیف کی مثل اور بدع کی جمع ابداع ہے۔ میں پہلا رسول نہیں ہوں۔ تحقیق مجھ سے پہلے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) بھیجے گئے ہیں۔ پس تم میری نبوت کا کیسے انکار کرتے ہو۔ ” وماادری مایعفل بی ولا بکم “
وماادری ما یفعل بی کی تفسیر
علماء حمہم اللہ نے اس آیت کے معنی میں اختلاف کیا ہے۔ پس ان میں سے بعض سے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے میں نہیں جانتا کہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرکین خوش ہوگئے۔ پس وہ کہنے لگے ” لات وعزی “ کی قسم ہمارا اور محمد ﷺ کا معاملہ اللہ کے نزدیک ایک ہی ہے اور اس کو ہم پر خصوصیت اور فضیلت نہیں ہے۔ اگر جو کچھ وہ کہتے ہیں انہوں نے خود نہ گھڑا ہوتا تو جس نے ان کو بھیجا ہے وہ ان کو خبر دیتا کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ نے ” لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “ نازل کی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے فرمایا اے اللہ کے نبی ! (ﷺ) آپ کے لئے خوشخبری ہے۔ ہم نے جان لیا کہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ، پس ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ” لیدخل المومنین والمومنات جنات “ اور آیت ” وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضل کبیرا “ نازل کی تو اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا کہ نبی کریم ﷺ اور مومنین کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔
اور یہ انس ؓ قتادہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ کا قول ہے۔ ان حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کی مغفرت کی خبر دینے سے پہلے کی آیت ہے اور آپ (علیہ السلام) کے ذنوب کی مغفرت کی خبر حدیبیہ والے سال دی ہے۔ پس اس نے اس کو منسوخ کردیا۔ ام العلاء انصاریہ ؓ فرماتی تھیں کہ جب مہاجرین مدینہ آئے تو ان کی رہائش دینے کے لئے انصار نے قرعہ اندازی کی۔ فرماتی ہیں کہ ہمارے حصہ میں عثمان بن مظعون ؓ کا نام نکلا۔ پھر وہ مریض ہوگئے، ہم نے ان کی تیمارداری کی، پھر وہ فوت ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں نے کہا اے ابو السائب تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، میری تجھ پر گواہی ہے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تیرا اعزاز و اکرام کیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے تجھے کس نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اکرام کیا ہے ؟ تو میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بہرحال وہ پس تحقیق اس کے پاس اس کے رب کی طرف سے متعین آیا ہے۔
اور بیشک میں اس کے لئے خیر کی امید کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ تمہارے ساتھ اور میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ام العلاء ؓ نے کہا اللہ کی قسم ! میں اس کے بعد کبھی کسی کی پاکی بیان نہ کروں گی۔ ام العلاء کہتی ہیں کہ پھر میں نے خواب میں عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کے لئے ایک جاری چشمہ دیکھا تو میں نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ کو بیان کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ اس کا عمل ہے اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ اس کا قول ” وماادری ما یفعل بی ولابکم “ دنیا کے بارے میں ہے۔ بہرحال آخرت کے بارے میں تو آپ (علیہ السلام) جانتے تھے کہ وہ آپ (علیہ السلام) جنت میں ہوں گے اور جس نے آپ ﷺ کی تکذیب کی پس وہ جہنم میں ہوگا۔
پھر اس میں ان کا اختلاف ہوا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب نبی کریم ﷺ کے ساتھیوں پر مصائب شدید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں خواب میں ایک زمین دیکھی جو کھجور کے درختوں والی تھی کہ آپ (علیہ السلام) اس کی طرف ہجرت کریں گے تو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا آپ اس زمین کی طرف کب ہجرت کریں گے جو آپ (علیہ السلام) کو دکھائی گئی ہے تو آپ (علیہ السلام) نے سکوت فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ” وماادری مایفعل بی ولابکم “ یعنی کیا میں اپنی جگہ رہتا ہوں یا میں اور تم اس زمین کی طرف نکلیں گے جو مجھے دکھائی گئی تھی اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ” وماادری مایفعل بی ولابکم “
یعنی دنیا میں میرے اور تمہارے معاملہ کا انجام کیا ہوگا کہ میں تمہارے ساتھ تمہاری جگہ میں رہوں گا یا میں یہاں سے چلا جائوں۔ جیسا کہ مجھے سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) چلے گئے یا قتل کیا جائوں گا جس طرح مجھ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) قتل کیے گئے اور تم اے تصدیق کرنے والے، میں نہیں جانتا کہ تم میرے ساتھ نکلو گے یا چھوڑے جائو گے یا اے تکذیب کرنے والو ! تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ کیا تم پر آسمان سے پتھر پھینکے جائیں گے یا تمہیں زمین میں دھنسایا جائے یا تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ جیسا کہ پہلی تکذیب کرنے والی امتوں کے ساتھ کیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ آپ (علیہ السلام) کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گا۔ پس فرمایا : ھوالذی ارسل رسولہ بالھدودین الحق لیظھرہ علی الذین کلہ “ اور آپ ﷺ کی امت کے بارے میں فرمایا : ” وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون “ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ آپ (علیہ السلام) اور آپ کی امت کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ یہ سدی (رح) کا قول ہے۔
” ان اتبع الا مایوحیٰ الی “ یعنی میں تو صرف قرآن کی اتباع کرتا ہوں اور اپنی طرف سے کوئی نئی بات نہیں گھڑتا۔ ” وما انا الانذیر مبین “۔
Ayah 46:11تفسیر
10 ۔” قل ارایتم “ اس کا معنی ہے تم مجھے خبر دو کہ تم کیا کہتے ہو “۔ ” ان کان “ یعنی قرآن۔” من عنداللہ وکفرتم بہ “ اے مشرکین !” وشھد شاھد من بنی اسرائیل علیٰ مثلہ “ مثل صلہ ہے یعنی اس پر کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ” فامن “ یعنی شاہد۔” واستکبرتم “ اس پر ایمان لانے سے اور اس کے قول ” ان کان من عنداللہ “ کا جواب محذوف ہے۔ ” الیس قد ظلمتم “ کی تقدیر پر۔ اس محذوف پر اس کا قول ” ان اللہ لایھدی القوم الظالمین “ دلالت کرتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا جواب ” فمن اضل منکم “ ہے۔ جیسا کہ سورة السجدہ میں فرمایا ہے اور اس شاہد میں اختلاف ہے۔ قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن سلام ؓ ہیں کہ انہوں نے مصطفیٰ ﷺ کی نبوت کی گواہی دی اور ان پر ایمان لائے اور یہود نے تکبر کیا۔ پس وہ ایمان نہیں لائے۔
تین باتوں کے متعلق صرف نبی ہی بتلا سکتے ہیں
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے جب نبی کریم ﷺ کے آنے کا سنا تو وہ زمین میں کھجوروں کے درختوں کی دیکھ بھال کررہے تھے تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہا میں آپ (علیہ السلام) سے تین باتوں کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ ان کو صرف نبی ہی جانتے ہیں۔ پس قیامت کی علامات میں سے پہلی علامت کیا ہے ؟ اور جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہوگا ؟ اور کیا چیز بچے کو اس کے باپ یا اس کی ماں کی طرف کھینچتی ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے ان کے بارے میں ابھی جبرائیل (علیہ السلام) نے خبر دی ہے۔ انہوں نے پوچھا جبرئیل ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ اس نے کہا یہ فرشتوں میں سے یہود کا دشمن ہے۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت پڑھی ” قل من کان عدوا الجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ “ پس قیامت کی پہلی علامت آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف ہانکے گی اور بہرحال جنتی جو پہلا کھانا کھائیں گے پس وہ مچھلی کے جگر کا گوشت ہے۔
اور جب آدمی کا پانی عورت کے پانی پر سبقت کرجائے تو لڑکا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی سبقت کر جائے تو لڑکی ہوتی۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے کہا ” اشھد ان لاالہ الا اللہ وانک رسول اللہ “ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) یہود بہتان لگانے والی قوم ہے، اگر انہوں نے میرے اسلام کو جان لیا، آپ (علیہ السلام) کے ان سے سوال کرنے سے پہلے تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے ۔ پس یہود آئے تو آپ (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا، عبداللہ تم میں کیسے آدمی ہیں ؟ وہ کہنے لگے ہم میں سے بہترین شخص اور ہم میں سے بہترین کے بیٹے ہیں اور ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا، بتائو اگر عبداللہ بن سلام ؓ اسلام لے آئیں تو ؟ تو وہ کہنے لگے اللہ تعالیٰ اس ک و اس سے پناہ دیں۔ پس عبداللہ نکلے اور کہا ” اشھدان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ “ تو وہ کہنے لگے ہم میں سے برے اور ہم میں سے برے کے بیٹے ہیں۔ پس ان میں نقص نکالے تو عبداللہ ؓ سے کہا اے اللہ کے رسول (ﷺ ) میں اس چیز سے ڈرتا تھا۔ عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کسی زمین پر چلتے ہوئے شخص کے لئے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ وہ جنتی ہے، سوائے عبداللہ بن سلام ؓ کے اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ” وشھد شاھد من بنی اسرائیل علی مثلہ “ اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ شاہد موسیٰ بن عمر ان (علیہ السلام) ہیں۔
مسروق (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! یہ آیت عبداللہ بن سلام ؓ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی۔ اس لئے آل حم مکہ میں نازل ہوئی ہیں اور عبداللہ بن سلام ؓ مدینہ میں اسلام لائے ہیں اور یہ آیت ایک جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول اللہ ﷺ کا آپ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا اور قرآن کی مثل توریت ہے۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے توریت پر گواہی دی اور محمد ﷺ نے قرآن پر اور ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک نبی تھے، وہ ایمان لائے اور تم نے تکبر کیا۔ پس تم ایمان نہیں لائے۔
Ayah 46:1211 ۔” وقال الذین کفروا “ یہود میں سے ۔ ” للذین امنوا لو کان “ محمد ﷺ کا دین۔ ” خیر اً ما سبقونا الیہ “ یعنی عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا جس چیز کی طرف محمد (ﷺ ) ہمیں بلاتے ہیں اگر وہ خیر ہوتی تو فلاں اور فلاں ہم سے اس کی طرف سبقت نہ کرتے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ” الذین کفروا “ اسد اور غطفان مراد ہیں۔ ” قالوا للذین امنوا “ یعنی جھینہ اور مزینہ مراد ہیں جو دین محمد ﷺ لائے ہیں اگر وہ خیر ہوتا تو ہم سے چروا ہے اس کی طرف سبقت نہ کرتے۔ ” واذلم یھتدوا بہ “ یعنی قرآن کے ذریعے جیسا کہ اہل ایمان نے اس کے ذریعے ہدایت حاصل کی۔ ” فسیقولون ھذا افک قدیم “ جیسا کہ انہوں نے کہا تھا ” اساطیر الاولین “۔
Ayah 46:1312 ۔” ومن قبلہ “ یعنی اور قرآن سے پہلے۔ ” کتاب موسیٰ “ یعنی توریت ” اماما “ اس کی اقتداء کی جائے۔ ” ورحمۃ “ اللہ کی طرف سے اس کے لئے جو ایمان لایا۔ ان دونوں کا نصب حال ہونے کی بناء پر ہے۔ کسائی (رح) کے نزدیک اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں اضمار ہے یعنی ہم نے اس ک و امام اور رحمت بنایا اور کلام میں محذوف ہے۔ اس کی تقدیر ولقدمہ کتاب موسیٰ ” اماما ولم یھتدوا بہ “ ہے جیسا کہ پہلی آیت میں فرمایا ہے ” واذا لم یھتدوا بہ “…” وھذا کتاب مصدق “ یعنی قرآن ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے ہیں۔ ” لسانا عربیا “ یہ حال کی بناء پر نصب ہے اور کہا گیا ہے کہ یلسان عربی۔ ” لینذر الذین ظلموا “ یعنی مشرکین مکہ۔ اہل حجاز، اہل شام اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” لتنذر “ تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کی بناء پر اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی الکتاب ” وبشری للمحسنین “…” وبشری “ محل رفع میں ہے یعنی ” ھذا کتاب مصدق وبشری “۔
Ayah 46:1413 ۔ ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔
Ayah 46:1514 ۔ ” اولئک اصحاب الجنۃ خالدین فیھا جزاء بما کانوا یعملون “۔
Ayah 46:1615 ۔ ” ووصینا الانسان بوالدیہ احسانا “ اور اہل کوفہ رحمہم اللہ نے ” احسانا “ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” وبالوالدین احسانا “ کی طرح۔ ” حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا “ سخت مشقت مراد ہے۔ اہل حجاز اور ابو عمر و (رح) نے ” کرھا “ کاف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے دونوں میں اور دیگر حضرات نے ان دونوں کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔
” وحملہ وفضالہ “ اس کا دودھ چھڑانا اور یعقوب (رح) نے ” وفصلہ “ بغیر الف کے پڑھا۔ ” ثلاثون شھرا “ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ اور رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت چوبیش مہینے ہیں۔ عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عورت کا حمل نو ماہ ہو تو اکیس مہینے دودھ پلائے اور جب حمل چھ ماہ ہو تو چوبیس ماہ دودھ پلائے۔ ” حتی اذا بلغ اشدہ “ اپنی قوت کی انتہاء کو اور عنفوان شباب کو اور یہ اٹھارہ سال سے چالیس سال تک کا وقت ہے۔ پس یہ مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” وبلغ اربعین سنۃ “ کا۔
حتی اذا بلغ اشدہ کی تفسیر
سدی اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سعد بن ابی وقاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور واقعہ پہلے گزر چکا ہے اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے والد ابوقحافہ عثمان بن عمرو اور والدہ ام الخیر بنت صخر بن عمرو کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ آیت ابوبکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ان کے والدین دونوں اسلام لے آئے اور مہاجرین میں سے کسی اور کو یہ خصوصیت نہیں ملی کہ ان کے والدین دونوں اسلام لے آئے ہوں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ان دونوں کے بارے میں وصیت کی اور یہ حکم ان بعد ہر شخص کو لازم ہوگیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اٹھارہ سال میں حضور ﷺ کی صحبت اختیار کی شام کی طرف تجارت میں، اس وقت نبی کریم ﷺ کی عمر بیس سال تھی۔ پس جب آپ (علیہ السلام) چالیس سال کے ہوئے اور نبوت ملی تو آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور اپنے رب سے دعا کی ” قال رب اوزعنی “ مجھے الہام کر۔ ” ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی “ ہدایت اور ایمان کے ساتھ۔ ” وان اعمل صالحا ترضاہ “۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی۔ پس انہوں نے نو (9) اہل ایمان کو خرید کر آزاد کیا جن کو اللہ تعالیٰ کے دین کی وجہ سے عذاب دیاجارہا تھا اور ہر خیر کے کام پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی اور یہ بھی دعا کی۔ ” واصلح لی فی ذریتی “ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے قبول کی۔ پس ان کی تمام اولاد ایمان لائی۔ پس ان کے والدین اور اولاد سب اسلام لے آئے۔ ان کے والدابو قحافہ ؓ خود حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کے بیٹے عبدالرحمن بن ابی بکر اور عبدالرحمن کے بیٹے ابو عتیق سب نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا اور یہ خصوصیت کسی اور صحابی ؓ کو حاصل نہیں ہوئی۔” انی تبت الیک وانی من المسلمین “۔
Ayah 46:1716 ۔ ” اولئک الذین نتقبل عنھم احسن ماعملوا “ یعنی ان کے نیک اعمال جو انہوں نے دنیا میں کیے۔ یہ تمام حسن ہیں اور احسن بمعنی حسن ہے۔ پس ان کو اس پر ثواب دیں گے ” ونتجاوز عن سیئا تھم “ پس ہم ان کو اس پر کوئی عتاب نہ کریں گے۔ حمزہ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” نتقبل۔ ونتجاوز “ کو نون کے ساتھ پڑھا ہے اور ” احسن “ کو نصب کے ساتھ اور دیگر حضرات نے یاء اور اس کے پیش کے ساتھ اور احسن کو مرفوع ” فی اصحاب الجنۃ “ جنتیوں کے ساتھ۔ ” وعد الصدق اللذی کانوا یوعدون “ اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ” وعداللہ المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار ہے “۔
Ayah 46:1817 ۔ ” والذی قال لوالدیہ “ جب ان دونوں نے اس کو اللہ پر ایمان لانے اور بعث کا اقرار کرنے کی دعوت دی۔ ” اف لکما “ یہ ناپسندیدگی کا کلمہ ہے۔ ” اتعداننی ان اخرج “ اپنی قبر سے زندہ ” وقد خلت القرون من قبلی “ پس ان میں سے کوئی نہیں اٹھایا گیا۔ ” وھما یستغیثان اللہ “ وہ دونوں اس پر اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرتے تھے اور اس کو کہتے تھے ” ویلک امن ان وعد اللہ حق فیقول ما ھذا “ نہیں ہے وہ جس کی طرف تم دونوں مجھے بلاتے ہو۔ ” الا اساطیر الاولین “ ابن عباس ؓ اور سدی ، مجاہد رحمہما اللہ فرماتے ہیں :
یہ عبداللہ کے بارے میں نازل ہوئی اور کہا گیا ہے کہ عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے اسلام لانے سے پہلے، اس کے والدین اس کو اسلام کی طرف بلاتے تھے اور وہ انکار کرتا تھا اور کہتا تھا میرے لئے عبداللہ بن جدعان ، عامر بن کعب اور قریش کے سرداروں کو زندہ کرو حتیٰ کہ میں ان سے پوچھوں اس کے بارے میں جو تم کہتے ہو اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اس کا انکار کیا ہے کہ یہ آیت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ایک کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو والدین کا نافرمان تھا۔ اسی بات کو حسن اور قتادہ رحمہما اللہ نے کہا۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ جس نے یہ کہا ہے کہ یہ عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کے اسلام لانے سے پہلے اس کے قول کو اللہ تعالیٰ کا یہ قول باطل کرنا ہے۔
Ayah 46:1918 ۔ ” اولئک الذین حق علیھم القول “ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ یہ لوگ ان پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہے اور عبدالرحمن تو مومن تھے اور بڑے فضیلت والے مسلمانوں میں سے تھے پس وہ ان میں سے نہیں ہوسکتے جن پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہے۔ ” اولئک الذین حق علیھم العذاب “ کا معنی ان پر عذاب واجب ہوگیا۔ ” فی امم “ امتوں کے ساتھ۔ ” قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانوا خاسرین “۔
Ayah 46:20تفسیر :
19 ۔ ” ولکل درجات مما عملوا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اسلام کی طرف سبقت کرنے والے مراد ہیں۔ پس یہ ان سے افضل ہے جو ان سے بعد ایمان لائے۔ اگرچہ ایک گھڑی ہی کیوں نہ ہو۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کی وجہ سے فضائل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے اور کہا گیا ہے کہ ” ولکل “ یعنی مومنین و کافروں کے دونوں فریقوں کے لئے درجات یعنی اللہ کے ہاں قیامت کے دن منازل و مراتب ہیں۔ ان کے اعمال کی وجہ سے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کے بدلہ میں ان کو جزا دیں گے۔ ابن زید حمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ بیان ہے کہ جہنمیوں کے درجات انتہائی نیچے تک ہوں گے اور جنتیوں کے درجات انتہائی بلندی پر ہوں گے۔ ” ولیوفیھم “ ابن کثیر، اہل بصرہ اور عاصم رحمہم اللہ نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ۔ ” اعمالھم “ تاکہ ان کے لئے ان کے اعمال کا ثواب مکمل ہوجائے۔ ” وھم لا یظلمون “۔
Ayah 46:2120 ۔” ویوم یعرض الذین کفروا علی النار “ پس ان کو کہا جائے گا۔ ” اذھبتم طیبا تکم فی حیاتکم الدنیا “ ابن کثیر ، ابن عامر، ابوجعفر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” اذھبتم “ استفہام کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن عامر (رح) نے دوہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر استفہام کے خبر کی بناء پر پڑھا ہے اور یہ دونوں فصیح ہیں۔ اس لئے کہ عرب ڈانٹ کے لئے استفہام لاتے ہیں اور استفہام کو چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ پس تو کہے گا ” اذھبت ففعلت کذا ؟ “…” واستمتعتم بھا “ فرمایا کہ تم اپنی لذات لے گئے اور تم نے ان سے نفع اٹھالیا۔ ” فالیوم تجزون عذاب الھون “ یعنی وہ عذاب جس میں ذلت و رسوائی ہو۔ ” بما کنتم تستکبرون “ تم تکبر کرتے ہو۔ ” فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تفسقون “ پس جب اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دنیا میں لذات سے لطف اندوز ہونے پر ڈانٹا ہے تو نبی کریم ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور نیک لوگوں نے دنیا میں لذات سے اجتناب کر ترجیح دی آخرت کے ثواب کی امید میں۔
دنیا میں نفع ترک کرنے کے بیان میں
حضرت عمر ؓ سے روایت کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (علیہ السلام) ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ تحقیق چٹائی کے نشانات آپ (علیہ السلام) کے پہلو پر نمایاں تھے، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ آپ (علیہ السلام) کی امت پر وسعت دیں کیونکہ فارس وروم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فراوانی دی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ قوم ان کی لذتیں دنیا کی زندگی میں ان کو جلدی دی گئی ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ آل محمد (ﷺ ) نے جو کی روٹی سے دو دن لگاتار پیٹ نہیں بھرا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ البتہ تحقیق ہم پر ایسا مہینہ بھی آتا کہ ہم اس میں آگ نہ جلاتے اور ہمارے لئے صرف پانی اور کھجور ہوتی۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ انصار کی عورتوں کو جزائے خیر دیں کہ وہ بسا اوقات ہمیں کچھ دودھ ہدیہ کردیتی تھیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لگاتار کئی راتیں بھوکے رہتے اور آپ (علیہ السلام) کے گھر والوں کے پاس رات کا کھانا نہ ہوتا تھا اور ان کی اکثر روٹی جو کی روٹی ہوتی تھی۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تحقیق میں اللہ کے راستے میں اتنا ڈرایا گیا ہوں جتنا کوئی بھی نہیں ڈرایا گیا اور تحقیق اللہ کے راستہ میں اتنی تکلیف دی گئی جو کسی کو نہیں دی گئی اور تحقیق مجھ پر تیس رات ودن ایسے آئے کہ میرے اور بلال کے لئے اتنا کھانا نہ تھا جس سے ایک شخص پیٹ بھرے سوائے تھوڑی سی کھجور کے جس کو بلال کی بغل چھپالے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تحقیق میں نے اصحاب صفہ سے ستر لوگوں کو دیکھا کہ ان میں سے کسی آدمی پر پوری چادر نہ ہوتی تھی یا تو تہبند یا چھوٹی چادر ہوتی جس کو وہ اپنی گردنوں میں باندھ لیتے۔ پس ان میں سے بعض کے وہ آدھی پنڈلیوں تک پہنچتیں اور ان میں سے بعض کے ٹخنوں تک پہنچتیں۔ پس اس کو اپنے ہاتھ سے جمع کرلیتا۔ اس بات کو ناپسند سمجھتے ہوئے کہ اس کا ننگیز دیکھا جائے۔
ابراہیم (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے تو انہوں نے فرمایا مصعب بن عمیر ؓ شہید کیے گئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ پس ان کو ایک چادر میں کفن دیا گیا۔ اگر اس کے ساتھ ان کا سر ڈھانپا جاتا تو ان کے پائوں ظاہر ہوجاتے اور اگر ان کے پائوں ڈھانپے جاتے تو سر ظاہر ہوجاتا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حمزہ ؓ شہید کیے گئے حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ پس ان کے کفن کا کوئی کپڑا نہیں تھا، صرف ایک چادر تھی، پھر ہمارے لئے دنیا کف فراوانی دی گئی یا فرمایا ہمیں دنیا دی گئی اور تحقیق ہمیں ڈر ہے کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہمیں جلدی دے دیا گیا ہو۔ پھر رونے لگا۔ یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے میرے ہاتھ میں گوشت دیکھا تو پوچھا اے جابر یہ کیا ہے ؟ تو میں نے کہا میرا دل گوشت کھانے کو چاہا تو میں نے اس کو خرید لیا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے جابر ! کیا جب بھی تیرا دل کسی چیز کو چاہے گا تو اس کو خرید لے گا ؟ کیا تو اس آیت سے نہیں ڈرتا۔ ” اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا “۔
Ayah 46:22تفسیر :
21 ۔” واذکر اخاعاد “ یعنی ھود (علیہ السلام) کو ” اذانذر قومہ بالا حقاف “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حقاف عمان اور مھرۃ کے درمیان وادی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ قوم عاد کی منزلیں یمن میں حضرموت میں ایک جگہ میں تھیں جس کو مھرۃ کہا جاتا ہے اور اس کی طرف مھری اونٹ منسوب ہیں اور اہل عاد موسم بہار میں سفر کرتے تھے۔ پھر جب پیاس تنگ کرتی تو اپنے گھروں کی طرف لوٹ آتے اور یہ قبیلہ ارم میں سے تھے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ عاد یمن کا قبیلہ ہے۔ یہ لوگ ریتلی زمین میں رہتے تھے جو سمندر کے قریب تھی۔ اس جگہ کو شحر کہا جاتا تھا اور احقاف حقف کی جمع ہے اور وہ لمبے ٹیڑھے ریت کے ٹیلے کو کہتے ہیں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ ریت کا اونچا ٹیلہ پہاڑ کی طرح لیکن بلندی میں پہاڑ کو نہ پہنچا ہو۔ کسائی (رح) فرماتے ہیں ریت کا گول ٹیلہ ” وقد خلت النذر ، گزر چکے ہیں رسول۔ ” من بین یدیہ “ یعنی ھود (علیہ السلام) سے پہلے۔ ” ومن خلفہ “ ان کی قوم کی طرف۔ ” الاتعبدوا الا اللہ انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم “۔
Ayah 46:2322 ۔” قالوا اجئتنا لتافکنا “ تاکہ تو ہمیں پھیر دے۔ ” عن آلھتنا “ یعنی ان کی عبادت سے۔ ” فاتنا بما تعدنا “ عذاب کا۔ ” ان کنت من الصادقین “ کہ عذاب ہم پر اترنے والا ہے۔
Ayah 46:2423 ۔” قال “ ہود (علیہ السلام) نے ۔ ” انما العلم عند اللہ “ اور وہ جانتا ہے کہ کب تمہارے پاس عذاب آئے گا۔ ” وابلغکم ماارسلت بہ “ تمہاری طرف وحی۔ ” ولکنی اراکم قوما تجھلون “۔
Ayah 46:2524 ۔” فلما راوہو “ یعنی جو وہ عذاب کا وعدہ کیے جاتے ہیں۔ ” عارضا “ بادل جو آسمان کے کنارے میں ظاہر ہوگا، پھر آسمان پر چھا جائے گا۔ ” مستقبل اودیتھم “ پس ان پر سیاہ بادل ظاہر ہوئے ان کی ایک وادی سے جس کو مغیث کہا جاتا تھا اور اس سے پہلے ان سے بارش روک لی گئی تھی۔ پس جب انہوں نے اس بادل کو دیکھا تو خوش ہوگئے۔ ” قالوا ھذا عارض ممطرنا “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” بل ھوما استعجلتم بہ ریح فیھا عذاب الیم “ پس وہ ہوا خیموں اور کجاووں کو اتنا بلند اٹھا کرلے گئی کہ دیکھنے والے کو لگتا کہ وہ ٹڈیاں ہیں۔
Ayah 46:26قوم عاد پر عذاب کا واقعہ
25 ۔” تدمر کل شیئ “ عاد کے مردوں اور ان کے مالوں کو ہلاک کردیا۔ ” بامرربھا “ پہلی بات یہ ہوئی جس کی وجہ سے ان کو معلوم ہوا کہ جو ان کے مرد اور مویشی باہر گئے ہوئے تھے انہوں نے دیکھا کہ ہوا ان کو آسمان و زمین کے درمیان اڑ رہی ہے تو وہ اپنے گھروں میں داخل ہوگئے اور دروازے بند کرلیے تو ہوا آئی اور ان کے دروازوں کو چوکھٹوں سمیت اکھاڑ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا۔ پس اس نے ان پر ریت ڈال دی وہ لوگ اٹھ دن سات راتیں ریت کے نیچے رہے، ان کی آہیں گونجتی تھیں۔ پھر اللہ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے ان پر سے ریت کو ہٹا دیا اور ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کھلکھلا کر ہنستے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ (علیہ السلام) کے منہ کے اندرونی حصہ کی سفیدی نظر آئی ہو۔ آپ (علیہ السلام) جب بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کے اثرات آپ (علیہ السلام) کے چہرے سے معلوم ہوجاتے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوجاتے ہیں بارش کی امید کرتے ہوئے اور آپ (علیہ السلام) جب بادل دیکھتے ہیں تو آپ (علیہ السلام) کے چہرہ پر ناگواری ہوتی ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اے عائشہ ! ؓ مجھے اس سے امن نہیں ہے کہ اس میں عذاب ہو۔ تحقیق ایک قوم کو آندھی کے ذریعے عذاب دیا گیا ہے اور تحقیق ایک قوم نے عذاب دیکھا تو وہ کہنے لگے ” ھذا عارض ممطرنا “ (الآئہ) عطاء (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب بادل کو دیکھتے تو چہرہ انور متغیر ہوجاتا اور (بےچینی کی وجہ سے) گھر میں داخل ہوتے اور نکلتے اور ادھر ادھر چکر لگاتے، پھر جب بارش ہوتی تو یہ کیفیت چلی جاتی اور خوش ہوتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے یہ بات جو میں نے دیکھی آپ (علیہ السلام) کے سامنے ذکر کی تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تجھے کیا خبر شاید کہ اے عائشہ ! ؓ یہ ویسے ہو جیسے قوم عاد نے کہا ” فلما رائوہ عارضا مستقبل او دیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا “۔
” فاصبحوالایری الا مساکنھم “ عاصم ، چمزہ اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” یری “ یاء کی پیش کے ساتھ ” مساکنھم “ نون کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کوئی چیز نہیں دیکھی جاتی تھی صرف ان کے مساکن اور دیگر حضرات نے تاء اور اس کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” مساکنھم “ نصب کے ساتھ یعنی اے محمد ! (ﷺ ) آپ نہیں دیکھیں گے مگر ان کے مساکن اس لئے کہ ان کی رہائشی اور جانور تو ہوا کے ساتھ ہلاک ہوگئے۔ پس صرف ھود (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے باقی رہ گئے۔ ” کذلک نجزی القوم المجرمین “۔
Ayah 46:2726 ۔” ولقد مکناھم فیما ان مکنا کم فیہ “ یعنی ان چیزوں میں جن میں تم کو قدرت نہیں دی جیسے بدن کی قوت اور لمبی عمر اور مال کی کثرت ۔ مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ ” ما “ اس کے قول ” فیما “ میں ” الذی “ کے مرتبہ میں ہے اور ان ماکے مرتبہ میں۔ اور اصل عبارت یوں ہوگی ” ولقد مکناھم فی الذی ما مکنا کم فیہ “
” وجعلنا لھم سمعا وابصارا وافئدۃ فما اغنی عنھم سمعھم ولا ابصارھم ولاافئدتھم من شیء اذا کانوا یجحدوں بایات اللہ وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزون “
Ayah 46:2827 ۔” ولقد اھلکنا ماحولکم “ اے اہل مکہ ! ” من القری “ جیسے ثمود کی حجر اور سدوم کی زمین اور ان دونوں کی مثل۔ ” وصرفنا الایات “ واضح دلائل ” لعلھم یرجعون “ اپنے کفر سے پس وہ نہیں لوٹے تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا، مشرکین مکہ کو ڈرارے ہیں۔
Ayah 46:2928 ۔” فلولا “ پس کیوں نہیں ” نصرھم الذین اتخذوا من دون اللہ قربانا آلھۃ “ یعنی وہ بت جن کو انہوں نے معبود بنالیا ہے۔ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ قربان ہر وہ چیز جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے اور اس کی جمع قرابین ہے جیسے رھبان اور رھابین۔
” بل ضلوا عنھم “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بلکہ گم ہوگئے معبودوں سے ۔ پس عذاب کے اترنے کے وقت ان کو کوئی نفع نہ دیا۔ ” وذلک افکھم “ یعنی ان کا جھوٹ ہے جو وہ کہتے تھے کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں گے اور ان کی سفارش کریں گے۔ ” وماکانوا یفترون “ جھوٹ بولتے تھے کہ وہ معبود ہیں۔
Ayah 46:30واذصرفنا الیک نفرا کی تفسیر
29 ۔” واذا صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القرآن “ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب وفات پاگئے تو رسول اللہ ﷺ تنہا طائف تشریف لے گئے ثقیف نصر اور اس کی قوم سے مدد مانگنے۔ محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ طائف میں ثقیف کے چند لوگوں کے پاس پہنچے اور وہ ان دنوں می ثقیف کے سردار اور معزز لوگ تھے اور یہ تین بھائی تھے عبدیالیل، مسعود، حبیب۔ یہ عمرو بن عمیر کے بیٹے تھے اور ان میں سے ایک کے نکاح میں قریش کی شاخ بنو جمح کی ایک عورت تھی تو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس بیٹھے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور ان ک و بتایا کہ اسلام کی مدد کرنے اور آپ (علیہ السلام) کی قوم کی مخالفت کے وقت آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ٹھہرنے میں کیا ملے گا تو ان میں سے ایک کہنے لگا وہ کعبہ کے کپڑے کو بٹتا تھا، اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے بھیجا ہے۔ دوسرا کہنے لگا اللہ تعالیٰ کو تیرے سوا کوئی نہیں ملے جس کو وہ رسول بنا کر بھیجتے اور تیسرا کہنے لگا، اللہ کی قسم ! میں تجھ سے کبھی بات نہ کروں گا۔ اگر آپ (علیہ السلام) کی طرف سے رسول ہیں۔ جیسا کہ آپ (علیہ السلام) خود کہہ رہے ہیں تو میں آپ کو جواب دوں تو اس میں بہت بڑا خطرہ ہے اور اگر آپ (علیہ السلام) اللہ پر جھوٹ بول رہے ہیں (نعوذ باللہ) تو میرے لئے مناسب نہیں کہ آپ سے بات کروں تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے اٹھ گئے اور آپ (علیہ السلام) ثقیف کی خبر سے ناامید ہوچکے تھے اور ان کو کہا تم نے جو کچھ میرے ساتھ کیا اس کو چھپالو، کسی کو نہ بتانا۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ بات ناپسند ہوئی کہ یہ بات آپ (علیہ السلام) کی قوم تک پہنچے۔ پس وہ اس پر مزیدجرات کریں گے۔ لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا اور اپنے غلاموں اور بیوقوفوں کو آپ (علیہ السلام) کے پیچھے لگا دیا۔ وہ آپ (علیہ السلام) کو برا بھلا کہتے اور آوازیں کستے حتیٰ کہ بہت سارے لوگ جمع ہوگئے اور مجبوراً آپ (علیہ السلام) کو ایک باغ میں پناہ لینی پڑی۔ یہ باغ عتبہ اور شیبہ کا تھا۔ یہ دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور وہ دونوں اس وقت باغ میں تھے تو ثقیف کے آوارہ لوگ واپس چلے گئے۔
پس آپ (علیہ السلام) انگور کی رسی کے سائے میں بیٹھ گئے اور ربیعہ کے دونوں بیٹے آپ (علیہ السلام) کو دیکھ رہے تھے اور ثقیف کے لوگوں نے جو آپ (علیہ السلام) کو ستایا تھا وہ بھی دیکھ چکے تھے اور تحقیق رسول اللہ ﷺ بنو جمح کی اس عورت سے بھی ملے۔ اس کو بتایا جو اس کے سسرالی رشتہ داروں اور دیوروں سے تکالیف پہنچی۔ جب باغ میں آپ (علیہ السلام) کو اطمینان ہوا تو فرمایا ” اللھم انی اشکوا الیک ضعف قوتی وقلۃ حیلتی وھو انی علی الناس انت ارحم الراحمین۔ انت رب المستضعفین وانت ربی الی من تکلنی الی بعید یتجھمنی اوالی عدو ملکتہ امری ان لم یکن بک علی غضب فلا ابالی ولکن عافیتکھی اوسع علی اعوذ بنور وجھک الذی اشرقت لہ الظلمات وصلح علیہ امر الدنیا والآخرۃ من ان ینزل ہی غضبک اویحل علی سخطک لک العتبیٰ حتی ترضی ولا حول ولا قوۃ الا بک “ پس جب ربیعہ کے بیٹوں نے یہ حالت دیکھی تو ان کو ترس آیا تو انہوں نے اپنے نصرانی غلام کو بلایا جس کو عد اس کہا جاتا تھا، اس کو کہا یہ انگوروں کا گچھا لے اور اس کو اس برتن میں رکھ اور اس آدمی کو پیش کر۔ اس کو کہہ اس کو کھالیں۔ عداس نے ویسے کیا، پھر وہ لایا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا تو آپ (علیہ السلام) نے بسم اللہ پڑھ کر اس کو اٹھا کر کھایا تو عداس آپ (علیہ السلام) کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، پھر کہا اللہ کی قسم ! اس شہر والے یہ کلام نہیں کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو کون سے شہر سے ہے اے عداس ؟ اور تیرا دین کیا ہے ؟ اس نے کہا میں نصرانی ہوں اور نینویٰ کا رہنے والا ہوں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا نیک آدمی یونس بن متی کی بستی سے ؟ اس نے پوچھا آپ کو کیا خبر ہے کہ یونس بن متی کون تھے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ میرے بھائی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں تو عداس فوراً نبی کریم ﷺ کے قدموں میں گرگیا۔
آپ (علیہ السلام) کے سر ہاتھوں اور پائوں کو بوسہ دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ربیعہ کا ایک بیٹا دوسرے سے کہنے لگا اس آدمی نے تیرے غلام کو بگاڑ دیا ہے۔ پس جب عداس ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو کہا تیری بربادی ہوائے عداس ! تجھے کیا ہوگیا تھا کہ اس آدمی کے سر اور ہاتھوں اور پائوں کو بوسہ دے رہا تھا ؟ اس نے کہا اے میرے آقا ! زمین میں اس سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔ تحقیق اس نے مجھے ایسی بات بتائی جو صرف نبی ہی جانتا ہے۔
اس نے کہا تیرا ناس ہو اے عداس ! یہ تجھے تیرے دین سے نہ پھیر دے، تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ ثقیف کی خبر سے ناامید ہوکر مکہ لوٹ آئے۔ حتیٰ کہ جب آپ نخلہ کے مقام پر تھے تورات کے وسط میں نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو یمن کے علاقہ نصیبین کے جن وہاں سے گزرے تو انہوں نے توجہ سے قرآن سنا۔ جب آپ (علیہ السلام) نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے کے لئے پلٹے۔ تحقیق وہ خود ایمان لاچکے تھے اور جوان نے سنا تھا اس کو قبول کرلیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا واقعہ آپ (علیہ السلام) کو بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
لیلۃ الجن کا تفصیلی واقعہ
” واذصرفنا الیک نفرا من الجن “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ عکاظ بازار کی طرف تشریف لے گئے اور تحقیق شیاطین اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوچکی تھی، پس ان پر شہاب چھوڑے گئے تو شیاطین واپس اپنی قوم کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہمارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ ہوگئی ہے اور ہم پر شہاب چھوڑے گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کوئی نئی چیز حائل ہوگئی ہے۔ پس تم زمین کے مشرق ومغرب کا چکر لگائو اور دیکھو کہ تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان کیا چیز حائل ہوتی ہے ؟ پس یہ لوگ پھرے اور تہامہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ نخلہ میں تھے، اپنے ساتھیوں کے ساتھ عکاظ کے ارادہ سے نکلے ہوئے تھے اور اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ پس جب انہوں نے قرآن سنا تو اس کو توجہ سے سنتے رہے۔ پھر کہنے لگے اللہ کی قسم ! یہ چیز تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی ہے۔ پس اس وقت وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے۔ پس کہنے لگے اے ہماری قوم ! انا سمعنا قرآن عجبا یھدی الی الرشد قامنا بہ ولن نشرک بربنا احدا “ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) پر یہ آیت نازل کی۔
” قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن “ اور آپ (علیہ السلام) کی طرف جن کا قول وحی کیا گیا تھا اور روایت کیا گیا ہے کہ جب شہاب کی وجہ سے وہ واپس لوٹے تو ابلیس نے اپنا لشکر معاملہ کی تحقیق کے لئے بھیجا اور پہلا لشکر اہل نصیبین میں سے بھیجا، یہ جنوں میں معزز اور سردار تھے تو ان کو تہامہ کی طرف بھیجا اور ابوحمزہ یمانی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ یہ الشیصبان میں سے تھے اور یہ جنوں میں تعداد میں سب سے زیادہ ہیں اور یہ ابلیس کے لشکروں کا اکثر حصہ ہیں۔ پس جب وہ لوٹے تو کہنے لگے۔ ” انا سمعنا قرآنا عجبا “ اور ایک جماعت نے کہا کہ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ جنوں کو ڈرائیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیں اور ان پر قرآن پڑھیں۔ پس آپ (علیہ السلام) کی طرف نینویٰ کے جنوں کی جماعت کو پھیر اور ان کو جمع کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ آج رات جنوں پر قرآن پڑھوں۔ پس تم میں سے کون میرے پیچھے چلے گا ؟ تو ان سب نے سرجھکا لیے۔ پھر ان سے پوچھا تو انہوں نے سر جھکا لیے۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھا تو انہوں نے سر جھکا لیے تو عبداللہ بن مسعود ؓ آپ (علیہ السلام) کے پیچھے گئے۔
عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ میرے علاوہ کوئی حاضر نہ ہوا تھا۔ پس ہم چلے حتیٰ کہ جب ہم مکہ پر تھے تو نبی کریم ﷺ ایک گھاٹی میں داخل ہوئے جسے شعب الحجون کہا جاتا تھا اور میرے لئے ایک لکیر کھینچ دی۔ پھر مجھے حکم دیا کہ میں اس میں بیٹھ جائوں اور فرمایا میرے واپس لوٹنے تک اس سے نہ نکلنا۔ پھر آپ (علیہ السلام) چلے گئے یہاں تک کہ کھڑے ہو کر قرآن پڑھنا شروع کردیا۔ پس میں نے گدھوں کی مثل چیزوں کو دیکھا جو آپ کی طرف مائل ہورہی ہیں اور بہت زیادہ شور سنا حتیٰ کہ مجھے اللہ کے نبی ﷺ پر خوف ہوا اور آپ (علیہ السلام) کو سخت سیاہی نے ڈھانپ لیا جو میرے اور آپ (علیہ السلام) کے درمیان حائل ہوگئی حتیٰ کہ میں آپ (علیہ السلام) کی آواز نہ سنتا تھا۔ پھر وہ بادل کے ٹکڑوں کی طرح چھٹنے لگے۔ پس رسول اللہ ﷺ فجر کے وقت فارغ ہوئے اور میری طرف آئے اور مجھے فرمایا کیا تو سوگیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔
اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) کئی مرتبہ میرا ارادہ ہوا کہ میں لوگوں سے مدد طلب کروں حتیٰ کہ میں نے آپ (علیہ السلام) کو سنا کہ آپ (علیہ السلام) اپنا عصا کھڑ کھڑا کر ان کو فرما رہے ہیں تم بیٹھ جائو، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تو نکلتا تو مجھے تجھ پر امن نہیں تھا کہ ان میں سے کوئی تجھے اچک لیتا۔ پھر فرمایا کہ کیا تونے کچھ دیکھا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) میں نے سیاہ مردوں کو سفید کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ لوگ نصیبین کے جن تھے، انہوں نے مجھ سے متاع یعنی توشہ کا سوال کیا۔ پس میں نے ان کو ہڈی ، لیدر اور مینگنی کا توشہ دیا۔
پس ان جنوں نے کہا یارسول اللہ ! ( ﷺ ) لوگ ان کو گندہ کردیتے ہیں۔ پس نبی کریم ﷺ نے ہڈی اور لید سے استنجاء کرنے سے روک دیا۔ عبداللہ کہتے ہیں پھر میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ ) ان کو یہ کیسے نفع دے گی ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ جو ہڈی پاتے ہیں جس دن وہ کھائی گئی تھی اس دن اس پر ان کو گوشت ملتا ہے اور لید جوان کو ملتی ہے تو وہ اس میں دانے پاتے ہیں جس دن وہ کھائی گئی تھی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا رسول اللہ میں نے بہت یادہ شور سنا تھا ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جنوں نے اپنے ایک مقتول کے فیصلہ کے لئے مجھے حکم بنایا تو میں نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی پھر میرے پاس آئے اور فرمایا کیا تیرے ساتھ پانی ہے ؟ وہ مانگا تو میں نے آپ کے ہاتھوں پر ڈالا، آپ (علیہ السلام) نے وضو کیا اور فرمایا کھجور پاکیزہ ہے اور اس کا پانی پاک ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ابن مسعود ؓ جب کوفہ تشریف لائے تو کوفہ کے چند شیوخ کو دیکھا تو جب ان کو دیکھا تو انہوں نے اس کو خوفزدہ کردیا۔ پس فرمایا تم ظاہر ہو جائو ان کو کہا گیا یہ لوگ قوم میں سے ہیں۔ پس آپ ؓ نے فرمایا کہ ان کی اس جماعت کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف پھیری گئی تھی یعنی جن۔
حضرت عامر (رح) سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ (رح) سے پوچھا کیا ابن مسعود ؓ سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگوں میں کوئی لیلۃ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے ان کو گم پایا۔ تو ہم نے آپ (علیہ السلام) کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا تو ہم نے آپ (علیہ السلام) کو (نعوذ باللہ) خیال کیا کہ اغوا کیا گیا ہے یا دھوکہ سے قتل کیا گیا ہے۔ عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ پس ہم نے وہ بڑی بری رات گزاری جو کسی قوم نے گزاری ہوگی۔ پس جب ہم نے صبح کی تو آپ (علیہ السلام) حراء کی جانب سے تشریف لارہے تھے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ( ﷺ ) ہم نے آپ کو بہت تلاش کیا لیکن آپ نہیں ملے تو ہم نے بڑی بری رات گزاری جو کسی قوم نے گزاری ہوگی۔ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میرے پاس جنوں کا داعی آیا، میں اس کے ساتھ گیا تو میں نے ان پر قرآن پڑھا۔ عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ پھر آپ (علیہ السلام) ہمیں وہاں لے گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔
فرمایا کہ پھر انہوں نے آپ (علیہ السلام) سے کھانے کا سوال کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہارے لئے ہر ایسی ہڈی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کیا گیا ہو وہ تمہارے ہاتھوں میں آتے ہی پہلے سے وافر گوشت آجائے گا اور ہر مینگنی تمہارے جانورں کا چارہ ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ان دونوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے۔ جانوروں کا چارہ ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ان دونوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے۔ ” واذصرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القرآن “ اس جماعت کی تعداد میں اختلاف ہوا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نصیبین کے جنوں میں سے سات افراد تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو ان کی قوم کی طرف قاصد بنایا اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ نوافراد تھے۔
زربن حبیش ؓ سے روایت ہے یہ ان نو لوگوں میں سے تھے جنہوں نے قرآن کو سنا۔ ” فلما حضروہ قالوا انصتوا “ اور حدیث میں روایت کیا گیا ہے کہ جن تین قسم کے ہیں ایک قسم ان کے پر ہیں جن کے ذریعے ہوا میں اڑتے ہیں اور ایک سانپ اور کتے ہیں۔
اور ایک قسم کہیں پڑائو ڈالتے ہیں، پھر کوش کرتے ہیں۔ پس جب یہ حاضر ہوئے تو ایک دوسرے کو کہنے لگے تم خاموش ہوجائو تاکہ ہم اس کی قرات کو توجہ سے سن سکیں اور ہمارے اور سننے میں کوئی چیز حائل نہ ہو۔ پس وہ خاموش ہوگئے اور قرآن کو توجہ سے سنا حتیٰ کہ قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر گرپڑیں، اپنی شدید حرص کی وجہ سے ۔ ” فلما قضی “ اس کی تلاوت سے فارغ ہوئے۔ ” ولوا الی قومھم “ ان کی طرف پھرے۔ ” منذرین “ ڈرانے والے رسول اللہ ﷺ کے امر کے داعی بن کر۔
Ayah 46:3130 ۔” قالوا یا قومنا انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسیٰ مصدقالما بین یدیہ یھدی الی الحق والی طریق مستقیم “ عطاء رحمہ فرماتے ہیں کہ ان کا دین یہودیت تھا۔ اس لئے انہوں نے کہا ہے ” انا سمعنا کتابا انزل من بعد موسیٰ “۔