45. Surah Al-Jaathiya

الجاثيةCrouching · 37 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 45:1–4

حٰمٓۚ Open ayah 45:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 45:2 in the Quran reader

حٰم۔

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 45:3 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) دانا (کی طرف) سے ہے

وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ Open ayah 45:4 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت) کی نشانیاں ہیں

مکمل سورت سوائے آیت نمبر 14 کے مکی ہے کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی سینتیس (37) آیات ہیں۔ سورة الدخان کے بعد نازل ہوئی۔ خواص سورة الجاثیہ 1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص سورة جاثیہ پڑھے وہ قیامت کے دن حساب کے وقت نہیں درے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔ 2، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص سورة جا ثیہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت کی ہر سختی وتنگی سے محفوظ رکھیں گے۔ 3، جو آدمی اس سورت کو لکھ کر اپنے پاس رکھے یاگلے میں لٹکائے وہ ہر چغل خور کی چغل خوری سے محفوظ رہے گا اور کوئی اس کی غیبت نہیں کرے گا۔ 4، اگر بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے گلے میں سورة جاثیہ لکھ کر لٹکا دی جائے تو وہ بچہ ہر سختی سے محفوظ رہے گا۔ حم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوقنون 1، پاک صاف ہوکرروزہ رکھے اور روزہ کے ساتھ جھاؤ کی لکڑی پر ان آیات کو لکھ کر اس لکڑی کو کنوئیں یانہر میں چھوڑ دے ۔ پھر وہاں سے پانی لے کر پودوں اور درختوں کی جڑوں میں چھڑکے گا تو وہ خوب پھلیں پھولیں گے۔ یا اپنے کاروبار کی جگہ میں کہیں چھڑکے گا تو خوب رزق ملے گا۔ ویل لکل افاک اثیم۔۔۔۔۔۔۔۔ الیم تک اور ولقد فتناقبلھم قوم فرعون وماکانو امنظرین تک یاولھم عذاب عظیم تک اگر کسی آدمی سے کوئی کام کرانا ہوتوان آیات کو اپنی داہنی ہتھیلی پر تن بارلکھ کر بند کرلے یا دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی اس پر رکھ دے اور مطلوبہ آدمی کے سامنے جاکرہتھیلی کھول دے تو وہ آدمی اس کا کام پوراکردے گا۔ 1، اگر کسی دشمن کی کشتی وغیرہ غرق کرنا مقصود ہو تو پکی ہوئی مٹی کی سات ٹھیکریاں لے۔ جب تہائی رات گزرنے کے بعد اٹھ کر پاک صاف ہو تو ان ٹھیکر یوں میں سے ہر ایک کو تین تین بار پلٹائے اور سات باران پر تکبیر پڑھے پھر ان پر ان آیات کو سات دفعہ لکھ کر یہ پڑھے۔ لارجعۃ ولانجعۃ ولاقوۃ ولا سلطان ولدید ولا بطش ولا نصر ولا ظفر ولا استظھار ولا غلبۃ ولا اقتدارلفلان بن فلانۃ (دشمن کا نام اور اس کی ماں کا) پھر ان ٹھیکر یوں کو خوب کوٹ کر کشتی یا کسی میں پھینک دے توعجیب نظارہ دیکھ گا۔ الذین سخرلکم البحر۔۔۔۔۔۔۔۔ یتفکرون جو شخص جنگل یادریامیں شکار کرنا چاہے وہ قلعی کاپیالہ لے کر جب چاند منزل فرغ موخر میں ہو اس پیالہ سے ایک تختی سے بنواکر اس پر ان آیات کو کندہ کر ا کے اس جال میں رکھ دے اور جال کو دریایا جنگل میں جہاں ڈالے گا شکار ہر طرف سے جال میں جمع ہوجائے گا۔ اور اگر ان آیات کو جھاؤ کی لکڑی کی ایک تختی پر لکھ کر جال کے ایک سرے سے باندھ دے تو اس جال میں بہت عمدہ شکار پھنسے گا۔ اور اگر شکاری اس تختی کو جنگل میں لے جائے تو پرندے اور جانور اس شکار کے پاس آجمع ہوں گے۔
Ayah 45:5

وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 45:5 in the Quran reader

اور تمہاری پیدائش میں بھی اور جانوروں میں بھی جن کو وہ پھیلاتا ہے یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

4، وفی خلقکم ومایبث من دابۃ آیات، حمزہ اور کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے (آیات) اور ، تصریف الریاح آیات، تاء کی زیر کے ساتھ ان دونوں میں پڑھا ہے ، رد کرتے ہوئے اس کے قول، لایات، پر اور وہ نصب کی جگہ میں ہے۔ اور دیگر حضرات نے ان دونوں کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ استئاف پر۔ اس بناء پر کہ عرب کہتے ہیں، ان لی علیک مالا وعلی اخیک مال، دوسرے کو نصب دیتے ہیں اور اس کو رفع بھی دیتے ہیں۔ ، لقوم یوقنون، کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
Ayah 45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 45:6 in the Quran reader

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

5، واختلاف اللیل والنھار وما انزل اللہ من السماء من رزق، یعنی وہ بارش جو بندوں کے رزق کا سبب ہے۔ ، فاحیابہ الارض بعد موتھا وتصریف الریاح آیات لقوم یعقلون،
Ayah 45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 45:7 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں تو یہ خدا اور اسکی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

6، تلک آیات اللہ نتلوھا علیک بالحق، مراد یہ ہے کہ یہ جو ہم نے آپ پر اللہ کی آیات بیان کیں ہم ان کو آپ پر حق کے ساتھ بیان کرتے ہیں ، فبای حدیث بعد اللہ ، اللہ کی کتاب کے بعد، وآیاتہ یؤمنون، ابن عامر ، حمزہ ، کسائی ، ابوبکر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ، تؤمنون، تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ اے محمد ﷺ آپ ان کو کہہ دیں کہ کون سی بات پر تم ایمان لاتے ہو ؟ اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayahs 45:8–9

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 45:8 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ Open ayah 45:9 in the Quran reader

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

7، ویل لکل افاک اثیم، جھوٹا گناہ گار یعنی نضربن حارث۔
Ayah 45:10

مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ Open ayah 45:10 in the Quran reader

اور جب ہماری آیتیں اسے معلوم ہوتی ہیں تو ان کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

9، واذا علم من آیاتنا، مقاتل (رح) فرماتے ہیں قرآن میں سے ، شیئا اتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین، یہاں جمع کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ باری تعالیٰ کے قول ، لکل افاک اثیم، کی طرف رد کرتے ہوئے۔
Ayah 45:11

هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ Open ayah 45:11 in the Quran reader

ان کے سامنے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ وہی (کام) آئیں گے جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

10، من ورائھم، ان کے سامنے، جھنم، یعنی وہ دنیا میں اپنے اموال کے ساتھ نفع اٹھا نے والے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔ ، ولا یغنی عنھم ماکسبوا، اموال میں سے، شیئا ولا مااتخذوا من دون اللہ اولیائ، اور نہ وہ جن معبودوں کی وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کرتے ہیں۔ ، ولھم عذاب عظیم،
Ayahs 45:12–13

اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ Open ayah 45:12 in the Quran reader

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 45:13 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو

11، ھذا، یعنی یہ قرآن ، ھدی، گمراہی سے بیان ہے۔ ، والذین کفروابایات ربھم لھم عذاب من رجزالیم،
Ayah 45:14

قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 45:14 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنے (حکم) سے تمہارے کام میں لگا دیا جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے اس میں (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں

13، وسخرلکم مافی السموات ومافی الارض، اور اس کی تسخیر کا معنی یہ ہے کہ اس نے اس کو پیداکیا ہمارے منافع کے لیے۔ پس وہ ہمارے تابع ہیں کیونکہ ہم ان سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ ، جمیعا منہ، پس تم اللہ کا شریک نہ بناؤ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ، جمیعا منہ، یہ تمام اس کی طرف سے رحمت ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تمام اس کا فضل و احسان ہے۔ ، ان فی ذ(رح) لک لایات لقوم یتفکرون،
Ayahs 45:15–16

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 45:15 in the Quran reader

مومنوں سے کہہ دو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو اعمال کے بدلے میں مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں تاکہ وہ ان لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 45:16 in the Quran reader

جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر آؤ گے

14، ، قل للذین امنوایغفرواللذین لایرجعون ایام اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں ڈرتے اور اس کی سزا کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ بنی غفار کے ایک شخص نے مکہ میں آپ ؓ کو گالیاں دیں تو حضرت عمرؓ نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا توا للہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو حکم دیا کہ اس کو معاف کردے اور قرظی اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اہل مکہ سے رسول اللہ ﷺ کے چندساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ لوگ قتال کے حکم سے پہلے مشرکین کی طرف سے سخت تکلیفوں میں تھے تو انہوں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ ﷺ کو کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ پھر اس کو قتال کی آیت نے منسوخ کردیا۔ ، لیجزی قوما، ابن عامر، حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ، لنجزی، نون کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ بدلہ دیں اور ابو جعفر (رح) نے، لیجزی، پہلی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ تاکہ قوم کو بدلہ دیاجائے۔ ، بما کانوایکسبون،
Ayah 45:17

وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 45:17 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (ہدایت) اور حکومت اور نبوت بخشی اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں اور انہیں اہل عالم پر فضیلت دی

16، ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتاب، تو ریت ۔ ، والحکم والنبوۃ ورزقناھم منالطیبات ، حلال چیزیں یعنی من وسلوی ، وفضلنا ھم علی العالمین، یعنی ان کے زمانہ کے جہان والوں پر۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں جہان والوں میں سے کوئی ایک اللہ پر معزز اور پسند یدہ نہ تھا۔
Ayah 45:18

ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 45:18 in the Quran reader

اور ان کو دین کے بارے میں دلیلیں عطا کیں تو انہوں نے جو اختلاف کیا تو علم آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے کیا بیشک تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے فیصلہ کرے گا

17، وآتیناھم بینا ت من الامر، یعنی علم محمد ﷺ کی بعثت کا اور آپ (علیہ السلام) کا امر جوان کے لیے بیان کیا۔ ، فما اختلفوا الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیا ان ربک یقضی بینھم یوم القیا مۃ فیما کانوافیہ یختلفون،
Ayah 45:19

اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 45:19 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو دین کے کھلے راستے پر (قائم) کردیا تو اسی (رستے) پر چلے چلو اور نادانوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلنا

تفسیر 18۔ ، ثم جعلناک ، اے محمد ! (ﷺ) ، علی شریعۃ، موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سنت وطریقہ۔ ، من الامر، دین سے۔ ، فاتبعھا ولاتتبع اھواء الذین لا یعلمون ، یعنی کافروں کی مراد اور یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ (علیہ السلام) کو کہتے تھے کہ آپ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں کیونکہ وہ تجھ سے افضل تھے۔
Ayah 45:20

هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 45:20 in the Quran reader

یہ خدا کے سامنے تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے اور ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور خدا پرہیزگاروں کا دوست ہے

19، انھم لن یغنواعنکم من اللہ شیئا، اگر آپ ان کی خواہشات کی اتباع کریں تو وہ آپ سے اللہ کے عذاب کو دور نہ کرسکیں گے۔ ، وان الظالمین بعضھم اولیاء بعض واللہ ولی المتقین،
Ayah 45:21

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ Open ayah 45:21 in the Quran reader

یہ قرآن لوگوں کے لئے دانائی کی باتیں ہیں اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے

20، ھذا، یعنی قرآن ۔ ، بصائر، علامات ہیں۔ ، للناس ، حدودواحکام میں کہ وہ اس کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ ، وھد ی ورحمۃ لقوم یؤقنون،
Ayahs 45:22–23

وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 45:22 in the Quran reader

جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور انکی زندگی اور موت یکساں ہوگی یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں

اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 45:23 in the Quran reader

اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

21، ام حسب، بلکہ کافی ہے۔ ، الذین اجترا السیئات ، کفر اور نافرمانیوں کا ارتکاب کیا۔ ، ان نجعلھم کالذین امنو اوعملوا الصالحات، یہ آیت مشرکین مکہ کے دچندلوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے مؤ منین کو کہا کہ اگر جو تم کہتے ہو حق ہے تو ہم آخرت میں بھی تم پر فضیلت رکھیں گے۔ جیسا کہ ہم تم پر دنیا میں فضیلت رکھتے ہیں۔ ، سواء محیاھم، حمزہ اور کسائی اور حفص اور یعقوب رحمہم اللہ نے، سوائ، کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی ہم ان کو برابر کردیں گے۔ یعنی کیا ان کا گمان ہے کہ کافروں کی زندگی، ومما تھم، مؤ منین کی زندگی اور ان کی موت کی طرح برابر ہے ہرگز نہیں۔ اور دیگر حضرات نے پیش کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء خبر ہونے کی بناء پر یعنی، محیاھم ومما تھم سواء ، پس ضمیران دونوں میں مؤمنوں اور کافروں سب کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس کا معنی ہے مؤمن اپنی زندگی اور موت میں مؤمن ہے یعنی دنیا وآخرت میں اور کافر اپنی زندگی وموت میں کافر ہے یعنی دنیا وآخرت میں ، ساء مایحکمون، برا ہے وہ جو فیصلہ کرتے ہیں۔ مسروق (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے اہل مکہ میں سے ایک شخص نے کہا یہ تیرے بھائی تمیم داری کا مقام ہے، میں نے ان کو ایک رات صبح تک یا صبح کے قریب تک دیکھا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کی ایک آیت پڑھی ، اس کو باربار پڑھتے رہے، رکوع اور سجدہ میں بھی اور روتے رہے۔ ، ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلھم کالذین امنواوعملوا الصلحت سواء محیا ھم ومماتھم، ساء مایحکمون، پوری آیت۔
Ayah 45:24

وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 45:24 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اب خدا کے سوا اس کو کون راہ راست پر لاسکتا ہے ؟ بھلا تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟

23، افرایت من اتخذا الھہ ھواہ، ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ یہ کافر اس نے اپنا دین اپنی خواہش کو بنایا۔ پس دل میں جو خیال آتا ہے اس کو کر گزرتا ہے اس لیے کہ وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ اس کا خوف رکھتا ہے اور جو چیز اللہ نے حرام کی اس کو حرام نہیں سمجھتا۔ اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنا معبوداپنی خواہش کو بنالیا ہے۔ پس اسی کی عبادت کرتا ہے جب کوئی چیزپہلے خدا سے اچھی ملتی اس کو پھینک دیتے اور توڑدیتے اور دوسرے کی عبادت شروع کردیتے۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا نام ھوی رکھا گیا۔ اس لیے کہ وہ اپنے صاحب کے ساتھ جہنم میں گرجائے گا۔ ، واضلہ اللہ علی علم، اپنی طرف سے۔ اس کیا مر کے انجام کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ اس کے علم میں سبقت کرچکا کہ وہ گمراہ ہوگا اس کے پیدا کرنے سے پہلے۔ ، ختم، مہرلگائی۔ ، عل سمعہ، پس وہ ہدایت کو نہیں سنتا۔ ، وقلبہ، پس وہ ہدایت کو نہیں سمجھتا۔ ، وجعل علی بصرہ غشاوۃ، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے ، غشوۃ، غین کے زبر اور شین کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ، غشاوۃ، پڑھا ہے پردہ ، پس وہ ہدایت کو نہیں دیکھ سکتا۔ ، فمن یھدیہ من بعد اللہ ، یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد کون اس کو ہدایت دے گا۔ ، افلاتذکرون،
Ayahs 45:25–27

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 45:25 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو صرف دنیا ہی کی ہے کہ (یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں تو زمانہ مار دیتا ہے اور ان کو اس کا کچھ علم نہیں صرف ظن سے کام لیتے ہیں

قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 45:26 in the Quran reader

اور جب ان کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو ان کی یہی حجت ہوتی ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 45:27 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

تفسیر 24۔ ، وقالوا، یعنی بعث کا انکار کرنے والے، ماھی الاحیاتنا الدنیا، یعنی زندگی صرف دنیا کی زندگی ہے۔ ، نموت ونحیا، یعنی آباء مرجاتے ہیں اور اولادزندہ رکھی جاتی ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی ہم مرجاتے ہیں اور ہم زندہ ہوتے ہیں پس واؤجمع کے لیے ہے۔ ، ومایھلکنا الاالدھر، یعنی زمانے کا گزرنا اور عمرکا لمبا ہونا اور رات ودن کا آناجانا ہمیں فناکرتا ہے۔ ، ومالھم بذلک، یعنی جو انہوں نے کہا ہے، من علم ، یعنی انہوں نے یہ کسی علم سے نہیں کہا۔ ، ان ھم الا یظنون، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بندہ یہ نہ کہے اے زمانہ کی خرابی کیونکہ میں زمانہ ہوں رات ودن کو بھیجتا ہوں۔ پس جب میں چاہوں ان دونوں کو قبض کرلوں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ ہی زمانہ ہیں اور انگور (کی لکڑی ) کو کرم ہرگز نہ کہے کیونکہ کرم مسلمان آدمی ہے اور حدیث کا معنی یہ ہے کہ عرب کی حالت یہ تھی کہ زمانہ کی مذمت کرتے تھے اور مصائب کے وقت اس کو برا بھلاکہتے تھے۔ اس لیے جوان کو ناپسند چیز یا تکلیف پہنچی اس کی نسبت زمانہ کی طرف کرتے تھے ۔ پس وہ کہتے تھے، اصابتھم قوارع الدھر، ان کو زمانہ کی مصیبتیں پہنچی ہیں اور، باء ھم الدھر، ان کو زمانہ نے ہلاک کردیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خبردی۔ ، وما یھلکنا الا الدھر، پس جب ان کو کوئی سختی پہنچتی اور اس کی نسبت وہ زمانہ کی طرف کردیتے تو اس کے فاعل کو برابھلاکہتے تو یہ سب وشتم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتا اس لیے کہ ان تمام امور کا فاعل حقیقی اللہ تعالیٰ ہے جن کی نسبت وہ زمانے کی طرف کرتے تھے۔ پس ان کو زمانے کو برابھلاکہنے سے روکا گیا۔
Ayah 45:28

وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:28 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے اور جس روز قیامت برپا ہوگی اس روز اہل باطل خسارے میں پڑجائیں گے

27، قل اللہ یحییکم ثم یجمعکم الی یوم القیمۃ، یعنی قیامت کے دن کیلئے۔ ، لاریب فیہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون، اللہ ملک السموات والارض ویوم تقوم الساعۃ یومئذ یخسرالمبطلون، یعنی کافر جو اصحاب باطل ہیں اس دن ان کا خسارہ ظاہر ہوگا۔ اس طرح کہ وہ جہنم کی طرف جائیں گے۔
Ayah 45:29

هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 45:29 in the Quran reader

اور تم ہر ایک فرقے کو دیکھو گے کہ گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوگا اور ہر ایک جماعت اپنی کتاب اعمال کی طرف بلائی جائے گی جو کچھ تم کرتے رہے ہو آج تم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا

28، وتری کل امۃ جاثیۃ، گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا اور یہ حاکم کے سامنے جھگڑا کرنے والے کی طرح کا بیٹھنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا ا نتظار کرتا ہوگا۔ سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں کہ بیشک قیامت میں ایک گھڑی ہے جو دس سال کی ہوگی ۔ لوگ اس میں اپنے گھٹنوں کے بل گریں گے حتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) رب کو پکاریں گے میں تجھ سے صرف اپنی ذات کا سوال کرتاہوں۔ ، کل امۃ تدعی الی کتابھا، جس میں اس کے اعمال ہوں گے اور یعقوب (رح) نے، کل امۃ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور ان کو کہاجائے گا۔ ، الیوم تجزون ماکنتم تعملو،
Ayahs 45:30–32

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 45:30 in the Quran reader

یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کر دے گی جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 45:31 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت (کے باغ) میں داخل کرے گا یہی صریح کامیابی ہے

وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ Open ayah 45:32 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا (ان سے کہا جائے گا کہ) بھلا ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم نافرمان لوگ تھے

29، ھذاکتابنا، یعنی محافظین کا رجسڑ۔ ، ینطق علیکم بالحق، جو تمہارے خلاف شافی بیان کی گوائی دے گی ۔ پس گویا کہ وہ بول رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ کتاب سے مراد محفوظ ہے۔ ، اناکنا نستنسخ ماکنتم تعملون، یعنی ہم فرشتوں کو حکم دیں تمہارے اعمال کے نسخ یعنی ان کی کتابت اور تم پر اثبات کا اور کہا گیا ہے کہ ، تستنسخ، یعنی تاخذ نسخہ یہ اس وجہ سے کہ دوفرشتے انسان کے ہر عمل کو بلند کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اس میں سے وہ عمل ثابت کرتے ہیں جس میں اس کے لیے ثواب یاعقاب ہو اور ان میں سے لغوعمل کو پھینک دیتے ہیں۔ جیسے ان کا قول ادھر آ اور چلاجا وغیرہ۔ اور کہا گیا ہے لوح محفوظ سے لکھنا مراد ہے کہ فرشتے ہر سال لوح محفوظ سے بنی آدم سے ہونے والے اعمال کو لکھ لیتے ہیں اور نقل کرنا اصل سے ہی ہوسکتا ہے۔ پس ایک کتاب کو دوسری سے نقل کیا جاتا ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ، تستنسخ، یعنی ثابت کیا جاتا ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں لکھاجاتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ محفوظ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 45:33–34

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 45:33 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا تھا کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کچھ شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا

وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 45:34 in the Quran reader

اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اڑاتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا

32، واذا قیل ان وعداللہ حق والساعۃ لاریب فیھا، حمزہ (رح) نے، والساعۃ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس کا عطف وعد پر ہے اور دیگر حضرات نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے ۔ ، قلتم ماندری ما الساعۃ ان نظن الا ظنا، یعنی ہم اس کو نہیں جانتے مگر وہم اور اندازہ۔ ، ومانحن بمستیقنین، کہ وہ ہونے والی ہے۔
Ayah 45:35

ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 45:35 in the Quran reader

اور کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں

34، وقیل الیوم ننساکم ، ہم تمہیں آگ میں چھوڑین گے۔ ، کما نسیتم لقاء یومکم ھذا، تم نے اس دن کی ملاقات کے لیے ایمان وعمل کو چھوڑدیا۔ ، وماکم الناروما لکم من نصرین،
Ayahs 45:36–37

فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 45:36 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو مذاق بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو آج یہ لوگ نہ دوزخ سے نکالیں جائیں گے اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی

وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 45:37 in the Quran reader

پس خدا ہی کو ہر طرح کی تعریف (سزاوار) ہے جو آسمانوں کا مالک اور زمین کا مالک (اور) تمام جہان کا پروردگار ہے

35، ذلکم بانکم اتخذتم ایت اللہ ھزواوغرتکم الحیوۃ الدنیا، حتی کہ تم نے کہا نہ کوئی بعث ہوگا اور نہ کوئی حساب۔ ، فالیوم لا یخرجون منھا، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے یاء کے زبر اور راء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کی پیش اور راء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، ولا ھم یستعتبون، ان سے یہ مطالبہ نہ کیا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی طرف لوٹ آئیں کیوں کہ اس دن کوئی عذر اور توبہ قبول نہ کی جائے گی۔