Ayahs 44:1–3مکی ہے اور اس کی انسٹھ (59) آیات ہیں
خواص سورة الدخان
1، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص رات کے وقت سورة حم الدخان پڑھے سترہزار فرشتے اس کے لئے مغفرت کی دعا مانگتے ہیں اور صبح تک اس کے سب گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
2، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے عالم ملکوت میں سورة حم کا نام، مبارکہ، ہے کیونکہ اس کے پر ھنے والے پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے برکت بھیجتے ہیں۔
3، حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص اس سورة کو جمعہ کی رات کو پڑھے وہ صبح تک بخش دیاجاتا ہے اور جو جمعہ کے دن کو پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناتے ہیں۔
4، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص جمعہ کی رات سورة حم دخان اور سورة یسین کو یقین کے ساتھ ثواب کی نیت سے پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے سب گذشتہ گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔
5، جو شخص اس سورة کو لکھ کر اپنے پاس رکھے وہ ہر شیطان سے محفوظ رہتا ہے اور لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔
6 جو شخص پیچش کامریض ہو وہ اس سورة کو لکھ کردھوکرپی لے تو فائدہ ہوگا۔
حم ورب ابائکم والاولین تک
جو آدمی ان آیات کو شعبان کی پہلی رات میں عشاء کے بعد دس بار پڑھے پھر چودھویں رات کو تیس مرتبہ پڑھے اور پھر جو دعامانگنی ہومانگے بہت جلدقبول ہوگی۔
ان المتقین فی مقام امین الخ جس آدمی کو اندیشہ ہو کہ میرا مدمقابل مجھے مغلوب ولاجواب کردے گا تو وہ پاک صاف ہوکر اور پاکیزہ لباس پہن کر عصر کی نماز کے بعد ان آیتوں کو کسی پاکیزہ اور نئے سفید کپڑے میں عرق گلاب اور مشک اور زعفران اور کافور سے لکھ کر اپنی جیب میں رکھے اور اپنے مدمقابل سے ملے تو ان شاء اللہ اس پر غالب آئے گا۔
Ayah 44:4(3) انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ، قتادہ اور ابن زید رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ لیلۃ القد رہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو لیلۃ القدر میں ام الکتاب سے اسمان دنیا کی طرف اتارا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) تھوڑا تھوڑا کرکے بیس سال نبی کریم ﷺ پرلے کر اترے اور دیگر حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ شعبان کی پندرہ کی رات ہے۔ قاسم بن محمد اپنے والد یاچچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا کی طرف اترتے ہیں۔ پس ہر نفس کی مغفرت کرتے ہیں ، سوائے اس انسان کے جس کے دل میں بغض ہو یا اللہ کے ساتھ شرک کرنے والاہو۔ ، اناکنا منذرین،
Ayah 44:54، فیھا، یعنی مبارک رات میں، یفرق، تفصیل کی جاتی ہے۔ ، کل امرحکیم، محکم امر کی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ام الکتاب سے لیلۃ القدر میں آئندہ سال میں ہونے والے خیر و شر اور ملنے والے رزق اور لوگوں کی عمریں حتی کہ حج کرنے والوں کا کہ فلاں فلاں حج کرے گا لکھ لیاجاتا ہے۔
حسن، مجاہد اور قتادہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ رمضان کی لیلۃ القدر میں ہر مدت اور عمل اور پیدائش اور رزق اور جو اس سال میں ہونا ہوتا ہے پختہ کردیاجاتا ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ شعبان کی پندرہ کی رات ہے کہ اس میں سال کا امرپختہ کردیا جاتا ہے اور زندوں کو مردوں میں لکھاجاتا ہے۔ پس نہ ان میں کوئی زیادہ کیا جاتا ہے اور نہ کوئی کم کیا جاتا ہے۔
عثمان بن محمد بن مغیرہ بن اخنس ؓ نے خبردی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک کی مدتیں (عمریں) طے کی جاتی ہیں حتی کہ ایک شخص نکاح کرتا ہے اس کی اولاد ہوتی ہے حالانکہ اس کا نام مردوں میں نکل چکا ہوتا ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہ کی رات کو تمام فیصلے کردیتے ہیں اور لیلۃ القدر میں متعلقہ ارباب کو حوالہ کردیتے ہیں۔
Ayah 44:65، امرا، یعنی ہم نے اتارا امرکو، من عندنا، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو اس معنی پر نصب دیا گیا ہے۔ ، فیھا یفرق کل امرحکیم فرقاوامرا، یعنی آپ حکم دیں حکم دینا اس کے بیان کا۔ ، اناکنا مرسلین ، محمد ﷺ اور جو آپ (علیہ السلام) سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) تھے۔
Ayah 44:7تفسیر 6۔ ، رحمۃ من ربک ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میری طرف میری مخلوق پر شفقت ہے اور میرا ان پر انعام ہے کہ ان کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں رحمت کے لیے اتارا۔
Ayahs 44:8–9(7) رب السموات والارض ومابینھا، اہل کوفہ نے ، رب ، پر زیرپڑھی ہے اس کو باری تعالیٰ کے قول، من ربک، پر لوٹاتے ہوئے اور دیگر حضرات نے اس کو پیش دی ہے باری تعالیٰ کے قول ، ھوالسمیع العلیم، پر لوٹا تے ہوئے اور کہا گیا ہے کہ ابتداء کی وجہ سے۔ ، ان کنتم موقنین، کہ اللہ آسمانوں وزمینون کا رب ہے۔
Ayah 44:109، بل ھم فی شک، اس قرآن سے۔ ، یلعبون، اس کے ساتھ کھیل کو د کرتے ہیں۔
Ayahs 44:11–12اس کی اصل عبارت ، ھو عذاب الھی، ہے۔ یعنی یہ خدا کا عذاب ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ان کے کلام کی حکایت ہو جو اس کے بعد ہے یعنی، یقول لون ھذا عذاب الیم،
دخان سے کیا مرادہے
اس دھویں میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے مسروق (رح) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کندہ میں یہ حدیث بیان کررہا تھا کہ قیامت کے دن ایک دھواں آئے گا جو منافقوں کے کانوں اور آنکھوں کو پکڑلے گا اور مؤ منوں کی زکام کی حالت کی طرح حالت ہوگی تو ہم گھبراگئے تو میں ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آیا، آپ ٹیک لگاکربیٹھے تھے سیدھے ہوکربیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ جو شخص جانتا ہے وہک ہے اور جو نہیں جانتا وہ کہے اللہ اعلم کیونکہ یہ بھی علم میں سے ہے کہ جو بات نہ جانتا ہو اس کے بارے میں کہے اللہ ورسولہ اعلم کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا :، قل مااسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین، اور بیشک قریش نے اسلام لانے میں سستی کی تو آپ (علیہ السلام) نے ان پر بددعا کی اور کہا اے اللہ ! تو میری ان کے خلایوسف علیہ اس السلام کی قحط کی طرح کے قحط کے ذریعے مدکرتوان کو قحط نے آپکڑاحتی کہ وہ اس کی وجہ سے ہلاک ہوگئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے اور آدمی آسمان و زمین کے درمیان دھویں کی سی حالت دیکھتا تھا تو ابوسفیان آیا اور کہا اے محمد ! (ﷺ) آپ تشریف لائے صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور آپ (علیہ السلام) کی قوم ہلاک ہوگئی ہے تو آپ (علیہ السلام) ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ۔ پھر ، فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین، سے ، انکم عائدون، تک پڑھا۔ کیا بھلاان سے آخرت کا عذاب دورکیاجائے گا جب وہ آئے گا ؟ پھر وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کافرمان۔ ، یوم نبطش البطشۃ الکبری، یعنی بدر کے دن۔ ، الم غلبت الروم، سے ، سیغلبون، تک اور روم تحقیق گزرچکا اور اسی کو اعمش سے روایت کیا گیا ہے۔
Ayah 44:13تفسیر 12۔ ، ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون، پس اس کو کہا گیا اگر ہم ان سے دور کردیں تو وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ پس آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، پس ان سے عذاب کو دور کردیا گیا تو وہ کفر کی طرف لوٹے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے بدر کے دن انتقام لیا۔ پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کافرمان، فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین، سے، انامنتقمون، تک ۔ حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں۔ لزام اور روم اور بطشہ (پکڑ) اور چاند اور دھواں اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ دھواں قیامت کے قائم ہونے سے پہلے آئے گا، ابھی تک نہیں آیا۔ پس کفار اور منافقین کے کانوں میں داخل ہوگیا حتی کہ وہ بھنے ہوئے سر کی طرح ہوگیا اور مؤمن کو اس سے زکام کی کیفیت کی طرح پیش آئے گا اور ساری زمین اس گھر کی طرح ہوجائے گی جس آگ جلائی گئی ہو۔
اور یہی ابن عباس ؓ، ابن عمر ؓ اور حسن (رح) کا قول ہے۔ ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ میں نے حذیفہ بن یمان ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی ابتدائی آیات میں سے دھواں اور عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا اترنا اور آگ جو عدن سے نکلے گی، لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی، جب وہ دوپہرکا آرام کریں گے تو ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی۔ حذیفہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) دھواں کیا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت تلاوت کی۔ ، یوم تاتی السماء بد خان مبین، مشرق ومغرب کے مابین کو بھردے گا، چالیس دن ورات رہے گا۔ بہرحال مومن کو صرف زکام کی سی کیفیت ہوگی اور کافرپس وہ نشہ والے شخص کی طرح ہوگا اس کے نتھنوں اور کانوں اور پیچھے سے دھواں نکلے گا۔
Ayah 44:1413، انی لھم الذکری، کہاں سے ان کے لیے نصیحت حاصل کرنا ہے ؟ فرماتے ہیں کہ کیسے وہ نصیحت حاصل کریں گے ؟ ، وقد جاء ھم رسول مبین، جس کا سچ ظاہ رہے۔ یعنی محمد ﷺ۔
Ayah 44:1514، ثم تولواعنہ، اس سے اعراض کیا۔ ، وقالوامعلم، یعنی اس کو کوئی انسان سکھانا ہے۔ ، مجنون،
Ayah 44:1615، اناکاشفو : العذاب، یعنی بھوک کا عذاب۔ ، قلیلا، یعنی تھوڑازمانہ ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن تک، انکم عائدون، اپنے کفر کی طرف۔
Ayah 44:1716، یوم نبطش البطشۃ الکبری، اور وہ بدرکادن ہے۔ ، انا منتقمون، اور یہ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اکثر علماء رحمہم اللہ کا قول ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ قیامت کا دن اور یہی بات عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے۔
Ayah 44:18تفسیر 17۔ ، ولقد فتنا، ہم نے آزمایا۔ ، قبلھم ، ان لوگوں سے پہلے، قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم، اللہ پر اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) بن عمران ہیں۔
Ayah 44:1918، ان ادوا الی عباد اللہ ، یعنی بنی اسرائیل تو ان کو چھوڑدے اور تکلیفیں نہ دے۔ ، انی لکم رسول امین، وحی پر۔
Ayah 44:2019، وان لاتعلواعلی اللہ، یعنی اس کی فرمانبرداری چھوڑکر اس پر جبرنہ کرو۔ ، انی آتیکم بسلطان مبین، واضح دلیل میری بات کے سچا ہونے پر۔ پس جب انہوں نے یہ بات کی تو آپ (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکیاں دینے لگے۔
Ayah 44:2120، پس موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، وانی عذت بربی وربکم ان ترجمون، یہ کہ تم مجھے قتل کرو اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھے برابھلاکہو اور تم کہو کہ وہ جادوگ رہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم مجھے پتھرمارو۔
Ayah 44:2221، وان لم تؤمنوالی فاعتزلون، پس تم مجھے چھوڑدونہ میرے ساتھ ہو اور نہ میرے خلاف اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پس تم ہاتھ اور زبان کے ساتھ مجھے تکلیف دینے سے جدا ہوجاؤ۔ پس وہ ایمان نہ لائے۔
Ayah 44:2322، فدعاربہ ان ھئولاء قوم مجرمون، مشرک ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے دعاقبول کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت قوم کو لے جائیں۔
Ayah 44:2423، فاسربعبادی لیلا، یعنی بنی اسرائیل کو۔ ، انکم متبعون، تمہارے پیچھے فرعون اور اس کی قوم آئے گی۔
Ayah 44:2524، واترک البحر، جب آپ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی اس کو پار کرلیں ۔ ، رھوا، اس کی حالت وہیئت پر ساکن اس کو لاٹھی مارنے اور اس میں داخل ہونے کے بعد۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) پانی کو حکم نہ دیں کہ وہ اپنی حالت پر لوٹ آئے۔ آپ (علیہ السلام) اس کو چھوڑیہاں تک کہ آل فرعون اس میں داخل ہوجائیں اور رھو کی اصل سکون ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے کہ آپ (علیہ السلام) سمندرکوساکن چھوڑدیں۔ پس مصدر کے ساتھ نام رکھا ہے۔ اصل ذارھو تھی اور کعب (رح) فرماتے ہیں آپ (علیہ السلام) اس کے راستے بنے ہوئے چھوڑدیں۔
قتادہ (رح) فرماتے ہیں خشک راستے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندرپاکر لیا تو ارادہ ہوا کہ سمندرکوعصا (لاٹھی) ماریں تاکہ وہ مل جائے اور یہ خوف ہوا کہ کہیں فرعون اور اس کا لشکر پیچھے نہ آجائے تو آپ (علیہ السلام) کو کہا گیا، اترک البحررھوا انھم جندمغرقون، موسیٰ (علیہ السلام) کو خبردی کہ اللہ تعالیٰ ان کو غرق کردیں گے تا کہ اس سمندرکو اس کی حالت پر چھوڑنے میں ان کے دل کا اطمینان ہوجائے۔ پھر وہ ذکر کیا جو انہوں نے مصر میں چھوڑا۔
Ayah 44:26(25۔۔۔۔۔۔۔۔ کم ترکوا، یعنی غرق کے بعد۔ ، من جنات وعیون،
Ayah 44:2726، وزروع ومقام کریم، عزت والی جگہ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں معززعمدہ۔
Ayah 44:2827، ونعمۃ، اور سامان اور پر آسائش زندگی۔ ، کانوافیھا فاکھین، نازونعم میں میوے کھاتے اکڑتے تھے۔
Ayah 44:29تفسیر 28۔ ، کذلک، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اسی طرح میں کرتا ہوں اس کے ساتھ جو میری نافرمانی کرے۔ ، وارثنا ھاقوما آخرین، یعنی بنی اسرائیل۔
Ayah 44:3029، فمابکت علیھم السماء والارض، یہ اس وجہ سے کہا کہ مؤمن جب مرجاتا ہے تو چالیس دن تک اس پر آسمان و زمین روتے ہیں اور یہ مؤمن لوگ اب ان کا کوئی نیک عمل آسمان کی طرف بلند نہ ہوگا تو اس کے فقدان پر آسمان روتا ہے اور زمین پر نیک عمل نہ ہوگا تو زمین اس پر روتی ہے ۔ انس بن مالک ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہر بندہ کے لیے آسمان میں دودروازے ہیں۔ ایک دروازہ اس سے اس کا رزق نکلتا ہے اور ایک دروازہ اس میں اس بندہ کا عمل داخل ہوتا ہے۔ پس جب وہ بندہ مرجاتا ہے تو یہ سلسلہ بندہوجاتا ہے تو وہ دونوں دروازے اس پر روتے ہیں۔ پھر یہ آیت، فما بکت علیھم السماء والارض، تلاوت کی۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان کارونا اس کے اطراف کا سرخ ہوجانا ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ جب حسین بن علی ؓ کو شہید کیا گیا تو ان پر آسمان رویا اور اس کارونا اس کا سرخ ہوجانا ہے۔ ، وماکانوامنظرین، جب ان کو عذاب پکڑے گا تو ان کو توبہ اور کسی اور چیز کی مہلت نہ دی جائے گی۔
Ayahs 44:31–3230، ولقد نجینا بنی اسرائیل من العذاب المھین، بیٹوں کے قتل کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے اور مشقت والے کاموں سے۔
Ayah 44:3332، ولقد اخترناھم، یعنی بنی اسرائیل کے مؤمنوں کو۔ ، علی علم، ان کے بارے میں ، علی العالمین، ان کے زمانہ کے جہان والوں پر۔
Ayah 44:3433، وآتیناھم من الایات مافیہ بلاء مبین، قتادہ (رح) فرماتے ہیں واضح نعمت ہے سمندرکوپھاڑنے اور بادلوں کے سایہ کرنے اور من وسلوی اتارنے میں اور وہ نعمتیں جو ہم نے ان پر کیں ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی آز مائش کی نرمی اور سختی کے ساتھ اور پڑھا، ونبلوکم بالشروالخیرفتنۃ،
Ayah 44:3534، ان ھئولائ، یعنی مکہ کے مشرکین، لیقولون،
Ayah 44:3635، انھی الاموتتناالاولی، یعنی صرف وہی موت ہے جو ہم دنیا میں مرجائیں گے۔ پھر اس کے بعد اٹھنا نہ ہوگا اور وہ اس کا قول، وما نحن بمنشرین، اٹھائے جانے والے ہمارے مرنے کے بعد۔
Ayah 44:3736، فأ توابابائنا، جو مرگئے ہیں۔ ، ان کنتم صادقین، کہ ہم مرنے کے بعد زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ پھر ان کو گزشتہ امتوں کے مثل عذاب سے ڈرایا اور فرمایا۔
Ayahs 44:38–3937، اھم خیرام قوم تبع، یعنی وہ ان سے بہتر نہیں ہیں یعنی تعداد اور قوت میں قوم تبع سے زیادہ نہیں ہیں۔
قوم تبع کا واقعہ
قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ تبع حمیری ہے اور یہ یمن کے بادشاہوں میں سے تھا۔ اس کا نام تبع اس وجہ سے رکھا گیا کہ اس کے متبعین بہت زیادہ تھے اور ان میں سے ہر بادشاہ کا نام تبع رکھا جاتا تھا۔ اس لیے کہ وہ پہلے کاتابع ہوتا تھا۔ یہ بادشاہ آگ کی پوجا کرتا تھا، اسلالے آیا اور اپنی قوم حمیر کو اسلام کی طرف بلایا۔ انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کا واقعہ وہ ہے جو محمد بن اسحاق وغیرہ اور عکرمہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے ذکر کیا ہے کہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ تبع الاخر تھا۔ اس کا نام ابوکرب اسعد بن ملیک تھا۔ جب یہ مشرق سے متوجہ ہواتو مدینہ کا راستہ اختیار کیا۔ وہ پہلے جب یہاں سے گزرا تھا تو ان کے درمیان اپنا بیٹا چھوڑ گیا تھا وہ جنگ میں مارا گیا، پھر یہ واپس آیاتو اس نے پکا ارادہ کیا کہ مدینہ کو تباہ کردوں گا اور اس کے اہل کو جڑ سے اکھاڑدوں گا۔ جب اس کے آنے کی خبر سنی تو مقابلہ کے لیے انصارکا قبیلہ جمع ہوگیا اور اس سے لڑائی کے لیے مدینہ سے نکل آئے ، انصار سارادن اس سے لڑائی کرتے اور رات کو اس کی مہمان نوازی کرتے ۔ اس کو یہ بات بڑی عجیب لگی اور یہ کہنے لگا بیشک یہ لوگ بڑے معزز ہیں۔
اسی اثناء میں اس کے پاس دوعالم آئے، ان کا نام کعب اور اسد تھا، یہ دونوں بنوقریظہ کے علماء میں سے تھے اور دونوں چچازاد بھائی تھے۔ جب ان دونوں نے سنا کہ یہ مدینہ اور اس کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو دونوں نے اس کو کہا اے بادشاہ ! ایسانہ کر کیونکہ اگر تو نے اپنے ارادہ سے باز آنے سے انکار کیا تو تیرے اور مدینہ کے درمیان رکاوٹ ہوجائے گی اور تجھ پر جلد عذاب آنے سے ہم بےخوف نہیں ہیں کیونکہ اس مدینہ کی طرف ایک عظیم الشان ہجرت کرنے والے ہیں جو قریش کے خاندان سے ہوں گے، ان کا نام محمد (ﷺ) جائے پیدائش مکہ ہوگا اور یہ ان کا دارالہجرت ہے اور جس جگہ تو ہے یہاں ان کے ساتھیوں اور اپنے دشمنوں کے قتل اور زخم کا بڑامعاملہ ہوگا۔ تبع نے پوچھا، ان سے کون قتال کرے گا حالانکہ وہ تو نبی ہوں گے ؟
تو وہ دونوں کہنے لگے ان کی قوم یہاں آئے گی اور یہاں لڑائی کرے گی تو ان دونوں کی بات سن کرتبع مدینہ کے بارے میں اپنے ارادہ سے بازآ گیا۔ پھر ان دونوں نے اس کو اپنے دین کی دعوت دی تو اس نے یہ دعوت قبول کرلی اور ان کے دین کاپیر وکار ہوگیا اور ان کا اکرام کیا اور مدینہ سے چلا گیا اور ان دونوں عالموں اور یہود کے چند لوگوں کو ساتھ لے کریمن کی طرف چل پڑا۔ پس راستہ میں ہذیل کے چندلوگ اس کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم تیری رہنمائی ایک گھر کی طرف کرتے ہیں جس میں موتی ، زمرد اور چاندی کے خزانے ہیں۔ تبع نے پوچھا کون ساگھر ؟ وہ کہنے لگے مکہ میں ایک گھر ہے۔ ہذیل اس کو ہلاک کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کی طرف جو شخص برا ارادہ کرے وہ ہلاک ہوجاتا ہے تو تبع نے یہ بات ان علماء کو ذکر کی تو انہوں نے کہا ہم زمین میں اس گھر علاوہ اللہ کا کوئی گھر نہیں جانتے۔ پس تو اس کو مسجد بنا اور وہاں سے چل اور قربانی کر اورسرمنڈوا۔
اور یہ قوم تیری ہلاکت چاہتی ہے۔ اس لیے جب بھی کسی نے اس کا ارادہ کیا ہے وہ ہلاک ہوگیا ہے۔ پس تو اس کا اعزاز کر اور اس کے پاس وہی کر جو اس کے اہل کرتے ہیں۔ جب انہوں نے یہ بات کہی توتبع نے ہذیل کے ان لوگوں کو پکڑوایا اور ان کے ہاتھ پاؤں کٹوادیئے اور آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں۔ پھر ان کو سولی پرچڑھادیا۔ پھر جب وہ مکہ آیا تو بطائح گھاٹی میں اترا اور بیت اللہ کو پہنائے کپڑے چڑھائے۔ یہ پہلاشخص ہے جس نے بیت اللہ پر کپڑاچڑھایا اور گھاٹی میں چھ ہزار بدنہ ذبح کیے اور چنددن وہاں قیام کیا، طواف کیا اور سرمنڈواکرچلا گیا۔ پھر جب یمن میں داخل ہونے لگا تو اس کی قوم حمیر رکاوٹ بن گئی۔ وہ کہنے لگے تو ہمارے شہر میں داخل نہ ہو کیوں کہ تونے ہمارے دین کو چھوڑدیا ہے توتبع نے ان کو اپنے دین کی دعوت دی اور کہا کہ یہ تمہارے دین سے بہت رہے تو وہ کہنے لگے کہ ہمارا فیصلہ آگ کی طرف ہے اور یمن میں پہاڑ کے نیچے آگ تھی، لوگ اپنے اختلافی معاملات میں اس فیصلہ کراتے تھے، وہ ظالم کو کھاجاتی تھی اور مظلوم کو کچھ نقصان نہ دیتی تھی۔
تبع نے کہاتم نے انصاف کیا۔ پس تبع کی قوم اپنے بتوں اور ان چیزوں کو لے کرنکلی جن کے ذریعے وہ اپنے دین قرب حاصل کرتے تھے اور وہ دونوں عالم اپنے صحیفے اپنی گردن میں ڈال کرنکلے یہاں تک کہ وہ وہاں بیٹھ گئے جہاں سے آگ نکلتی ہے۔ پس آگ نکلی اور ان کو ڈھانپ لیا اور بتوں اور جن کے ساتھ وہ قرب حاصل کرتے تھے ان کو کھاگئی اور حمیر کے جن لوگوں نے ان کو اٹھایا ہوا تھا ان کو بھی اور وہ دونوں عالم اپنے مصاحف کے ساتھ توریت پڑھتے ہوئے نکلے ، ان کی پیشانیوں سے پسینہ بہہ رہا تھا لیکن آگ نے ان کو نقصان نہ پہنچایا تھا اور آگ جہاں سے آئی تھی وہاں چلی گئی۔ اس وقت حمیر ان دونوں کے دین پر آگئے۔ پس اس وجہ سے یہودیت کی اصل یمن میں ہے۔ ابوحاتم (رح) نے رقاشی سے ذکر کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوکرب اسعد الحمیری تبالعہ میں سے وہ نبی کریم محمد ﷺ کی بعث سے سات (700) سو سال پہلے آپ (علیہ السلام) پر ایمان لایا اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی تھیں کہ تم تبع کو برابھلانہ کہوکیون کہ وہ نیک آدمی تھا۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہی شخص ہے جس نے بیت اللہ کو کپڑاپہنا یا اور ذکر کیا گیا ہے کہ کعب (رح) فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تبع کی قوم مذمت کی ہے اس کی مذمت نہیں کی۔
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ تبع کو گالیاں نہ دوکیون کہ وہ اسلام لے آیا تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ تبع نبی تھا یاغیرنبی ۔ ، والذین من قبلھم، کافر امتوں میں سے۔ ، اھلکنا ھم انھم کانوامجرمین،
Ayah 44:4039، ماخلقناھما الابالحق، کہا گیا یعنی حق کے لیے اور وہ فرمانبرداری پر ثواب دینا اور نافرمانی پر سزادینا ہے۔ ، ولکن اکثرھم لایعلمون،