43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 43:1

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

مکی ہے اور اس کی نواسی (89) آیات ہیں۔
Ayahs 43:2–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

حٰم۔

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کتاب روشن کی قسم

تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔ ، حم، والکتاب المبین، اس کتاب کی قسم کھائی ہے جس نے ہدایت کے راستوں کو گمراہی کے راستوں سے واضح کیا اور امت جس شریعت کی محتاج ہے اس کو واضح کیا۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے تاکہ تم سمجھو

3، انا جعلناہ قرآنا عربیا لعلکم تعقلون، باری تعالیٰ کا قول ، جعلناہ، یعنی ہم نے اس کتاب کو عربی بنایا اور کہا گیا ہے کہ ہم نے اس کو بیان کیا اور کہا گیا ہے کہ ہم نے اس کا نام رکھا اور کہا گیا ہے کہ ہم نے اس کی صفت بیان کی ہے۔ کہا جاتا ہے ، جعل فلان زیدا اعلم الناس، یعنی اس نے زید کی یہ صفت بیان کی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان، وجعلو ا الملائکۃ الذین ھم عبادالرحمن اناثا، میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان، جعلوا القرآن عضین، میں اور اللہ تعالیٰ کے قول ، اجعلتم سقایۃ الحاج، ان تمام میں جعل وصف اور تسمیہ کے معنی میں ہے۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

4، وانہ، یعنی قرآن، فی ام الکتاب، لوح محفوظ میں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ام الکتاب بمعنی اصل الکتاب حکم دیا کہ تو لکھ جن چیزوں کے پیدا کرنے کا باری تعالیٰ کا ارادہ تھا۔ پس کتاب اس کے پاس ہے۔ پھر پڑھا، وانہ فی ام الکتاب ، لدینا، پس قرآن اللہ کے نزدیک لوح محفوظ میں ثابت ہے ۔ جیسا کہ کہا، بل ھوقرآن مجید فی لوح محفوظ،۔۔۔۔۔۔ ، لعلی حکیم ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے مرتبہ اور شرافت کی خبردے رہے ہیں۔ یعنی اے اہل مکہ ! کیا تم قرآن کو جھٹلا تے ہو۔ پس بیشک وہ ہمارے ہاں بہت بلند معززباطل سے محکم ہے۔
Ayahs 43:6–7

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے لوگوں میں بھی بہت سے پیغمبر بھیجے تھے

5، افنضرب عنکم الذکر صفحا، کہاجاتا ہے ، ضربت عنہ واضربت عنہ، جب تو اس کو چھوڑدے اور اس سے رک جائے اور صفح مصد رہے ان کے وقول صفحت عنہ کا یہ بولاجاتا ہے جب تو اس سے اعراض کرے اور یہ اس کے پھر نے اور تیرے چہرے اور گردن کے پھیر نے کے وقت ہے اور ذکر سے مراد قرآن ہے اس کا معنی یہ ہے کہ کیا ہم تم سے وحی کو چھوڑدیں اور قرآن اتارناروک دیں، نہ تمہیں حکم دیں اور نہ تمہیں منع کریں۔ اس وجہ سے کہ تم اپنے کفر میں حد سے بڑھ گئے ہو اور ایمان کو چھوڑدیا ہے ؟ یہ استفہمام بمعنی انکار ہے یعنی ہم ایسانہ کریں گے اور یہ قتادہ (رح) اور ایک جماعت کا قول ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر یہ قرآن اس وقت اٹھالیاجاتا جس اس امت کے پہلے لوگوں نے اس کا انکار کیا تو وہ سب ہلاک ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان پر بیس سال یا اس سے زائد جو اللہ نے چاہا، اس کو باربار نازل کیا۔ کیے جاؤ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ کیا ہم تم کو بیکار چھوڑدیں نہ تم کو حکم دیں اور نہ نہی کریں ۔ مجاہد اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کیا ہم تم سے اعراض کریں اور تمہیں چھوڑدیں اور تمہارے کفرپر تمہیں کوئی سزانہ دیں۔ ، ان کنتم قوما مسرفین، اہل مدینہ ، حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ہمزہ کی زیر کے ساتھ ، اذکنتم ، کے معنی پر پڑھا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کافرمان، وانتم الا علون ان کنتم مؤمنین، ہے اور دیگر حضرات نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ ، ان کنتم مسرفین، کے معنی پر۔ یعنی مشرکین۔
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

7، وما یاتیھم ، یعنی اور نہیں آتا تھا ان کے پاس ۔ ، من نبی الاکانوابہ یستھزؤن ، جیسا آپ (علیہ السلام) کی قوم آپ (علیہ السلام) کا مذاق اڑاتی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی ہے۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

8، فاھلکنا اشد منھم بطشا، یعنی آپ (علیہ السلام) کی قوم سے بھ زیادہ طاقت ور وہ پہلے لوگ جن کو رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ ، ومضی مثل الاولین، یعنی ان کی صفت اور ان کا طریقہ اور ان کی سزا۔ پس ان لوگوں کا انجام اسی طرح ہلاک ہے۔
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو کہہ دیں گے کہ ان کو غالب اور علم والے (خدا) نے پیدا کیا ہے

9، ولئن سالتھم، یعنی اپنی قوم سے سوال کرتے۔ ، من خلق السموات والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم ، اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ان کا خالق ہے اور اللہ کی عزت وعلم کا اقرار کرتے ہیں ۔ پھر اس کے غیر کی پوجا کرتے ہیں اور بعث پر اس کی قدرت کا انکار کرتے ہیں اپنی انتہائی جہالت کی وجہ سے۔ یہاں تک کہ ان کی خبرختم ہوگئی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی کاریگری پر دلالت کرنے والی چیزوں کی ابتداء کی۔ اور فرمایا :
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

10، الذی جعل لکم الارض مھداوجعل لکم فیھا سبلالعلکم تھتدون، سفر میں اپنے مقاصد کی طرف۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے ایک اندازے کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کیا اسی طرح تم (زمین سے) نکالے جاؤ گے

11، والذی نزل من السماء ماء بقدر، یعنی تمہاری ضرورت کے مطابق ۔ اس طرح نہیں جیسے قوم نوح (علیہ السلام) پر بغیر اندازہ کے اتارا۔ یہاں تک کہ ان کو ہلاک کردیا۔ ، فانشرنا، ہم نے زندہ کیا ۔ ، بہ بلدۃ میتا کدلک ، یعنی جس طرح ہم نے اس مردہ شہر کو بارش کے ذریعہ زندہ کیا۔ اسی طرح ، تخرجون، اپنی قبروں سے زندہ۔
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

اور جس نے تمام قسم کے حیوانات پیدا کیے اور تمہارے لئے کشتیاں اور چارپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

12، والذی خلق الازواج کلھا، یعنی تمام قسموں کو۔ ، وجعل لکم من الفلک والانعام ماترکبون، خشکی اور سمندر میں۔
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب ان پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

تفسیر 13۔ ، لتستواعلی ظھورہ، یہاں ضمیر کو ذکر کیا ہے اس لیے کہ اس ضمیر کو، ما، کی طرف لوٹا یا ہے۔ ، ثم، تذکروانعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ، خشکی اور سمندر میں سوار یوں کو قابو میں کرنے کی۔ ، وتقولوا سبحان الذی سخرلناھذا، اس کو ہمارے تابع بنایا۔ ، وماکنالہ مقرنین، طاقت رکھنے والے اور کہا گیا ہے کہ ضبط کرنے والے۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

14، وانا الی ربنا لمنقلبون ، آخرت میں لوٹنے والے ہیں ۔ علی بن ربیعہ (رح) نے خبردی ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کے پاس حاضر تھے کہ وہ سوار ہونے لگے۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھاتو کہابسم اللہ پھر جب ٹھیک بیٹھ گئے تو کہا الحمد للہ، پھر کہا، سبحان الذی سخرلنا ھذا وماکنا مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون، پھر تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور تین مرتبہ تکبیر کہی۔ پھر کہا، لاالہ الا اللہ ظلمت نفسی فاغفرلی ذنوبی فانہ لا یغفرالذنوب الا انت، پھر مسکرائے تو علی بن ربیعہ نے پوچھا کس چیز نے آپ کو ہنسا یا اے امیر المؤمنین ؟ تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا جیسا میں نے کیا اور آپ (علیہ السلام) نے بھی یہی کلمات کہے جو میں نے کہے ۔ پھر آپ (علیہ السلام) بھی مسکرائے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! (ﷺ) آپ (علیہ السلام) کس چیز نے ہنسایا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بندہ یا فرمایا کہ مجھے بندہ پر تعجب ہوا کہ جب وہ کہتا ہے، ، لاالہ الا اللہ ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لا یغفرالذنوب الا انت، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی گناہ کو نہیں بخش سکتا۔
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی بیشک انسان صریح ناشکرا ہے

15، وجعلو الہ من عبادہ جزء ا، یعنی حصہ اور وہ ان کا قول فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہاں جعل کا معنی کسی چیز کا حکم کرنا ہے۔ جیسا کہ تو کہے ، جعلت زیدا افضل الناس ، یعنی میں نے اس کی یہ صفت بیان کی اور اس کا حکم لگایا۔ ، ان الانسان، یعنی کافر، لکفور، اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا ہے۔ ، مبین، کلاناشکرا۔
Ayah 43:17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دے دئیے

16، ام اتخذمما یخلق بنات، یہ استفہام ڈانٹ اور انکار کے لیے ہے۔ فرماتے ہیں کہ تمہارے رب نے اپنے لیے بیٹیاں بنائی ہیں۔ ، واصفاکم بالبنین، یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ، افاصفاکم ربکم بالبنین واتخذ من الملائکۃ اناثا، کی طرح ہے۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

17، واذا بشراحدھم بما ضرب للرحمن مثلا، اس کی جو اللہ کے مشابہ بنایا ہے کیونکہ ہرچیز کی اولاد اس کے مشابہ ہوئی ہے۔ یعنی جب ان میں سے کسی کو بیٹیوں کی خوشخبری دی جاتی ہے جیسا کہ سورة النحل میں ذکر کیا گیا ہے۔ ، واذا بشر احدھم بالانثی ،۔۔۔۔۔۔۔ ، ظل وجھہ مسوداوھو کظیم، غصہ اور غم ہے۔
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات نہ کرسکے (خدا کی) بیٹی ہوسکتی ہے ؟

18، اومن ینشا ، حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے، ینشا، یاء کے پیش اور نون کے زبر اور شین کی شد کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی پرورش کیا جاتا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کی زبر اور نون کے سکون شین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی اگتا اور بڑا ہوتا ہے۔ فی الحلیۃ زینت میں یعنی عورتیں۔ ، وھو فی اخصام غیر مبین، جھگڑا میں دلیل واضح نہیں کرسکتا اپنی کمزوری اور کم عقلی کی وجہ سے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ ہے کہ بہت کم ایسا ہے کہ جب عورت اپنی دلیل دینے کے لیے گفتگوکرے تو وہ اپنے خلاف ہی دلیل دے بیٹھتی ہے۔ ، اومن، اس میں تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ رفع ابتداء کی وجہ سے۔ نصب اضمار کی وجہ سے اصل عبارت ، اومن ینشؤافی الحلیۃ یجعلونہ بنات اللہ ، اور جر اللہ تعالیٰ کے قول ، مما یخلق ، اور، بما ضرب، پر لوٹا تے ہوئے۔
Ayah 43:20

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں (خدا کی) بیٹیاں مقرر کیا، کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ؟ عنقریب ان کی شہادت لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس کی جائے گی

تفسیر 19، وجعلوا الملائکۃ الذین ھم عبادالرحمن اناثا، اہل کوفہ اور ابوعمرورحمہم اللہ نے ، عبادالرحمن، باء کے ساتھ اور اس کے بعد الف ہے اور دال کی پیش ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کافرمان، بل عباد مکرمون ہے اور دیگر حضرات نے۔ ، عند الرحمن ، نمون اور دال کی زبر کے ساتھ ظرف ہو نیکی بناء پر پڑھا ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے فرمان، ان الذین عند ربک، کی طرح ہے۔ ، اشھدواخلقھم، اہل مدینہ نے اس کو نائب فاعل پڑھا ہے اور ہمزہ استفہام کے بعد ہمزہ کو لین پڑھا ہے۔ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق میں حاضر تھے اور دیگر حضرات نے شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کیا وہ ان کی تخلیق میں حاضر تھے جب وہ پیداکیے گئے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ، ام خلقنا الملائکۃ اناثا وھم شاھدون، کی طرح ہے۔ ، ستکتب شھادتھم ، فرشتوں پر کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ، ویسئلون ، اس کے بارے میں کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ بات کی تو ان سے نبی کریم ﷺ نے پوچھاکس نے تمہیں خبردی ہے کہ وہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ؟ وہ کہنے لگے ہم نے اپنے آباء واجد اد سے سنا تھا اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ستکتب شھادتھم ویسئلون ، اس کے بارے میں آخرت میں۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

20، وقالوا لوشاء الرحمن ماعبدناھم، یعنی فرشتوں کی ۔ اسی بات کو قتادہ ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ نے کہا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں یعنی بتوں کی اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے ان کی عادت پر جلد سزا نہیں دی کیونکہ وہ سے ان کی عبادت کرنے پر راضی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مالھم بذلک من علم، جو وہ کہتے ہیں وہ اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں کہ ، اللہ تعالیٰ ہم سے ان کی عبادت پر راضی ہے۔ ، اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی باتوں میں اندازے لگا رہے ہیں۔ ، ان ھم الا یخرصون، اپنے اس قول میں کہ فرشتے مؤنث ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔
Ayah 43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے سند پکڑتے ہیں

21، ام اتیناھم کتابا من قبلہ، یعنی قرآن سے پہلے کہ وہ اللہ کے غیر کی عبادت کریں۔ ، فھم بہ مستمسکون،
Ayah 43:23

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

22، بل قالوا انا وجد آباء نا علی امۃ، دین اور ملت پر۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ امام پر۔ ، وانا علی آثارھم مھتدون، انہوں نے اپنے آپ کو اپنے پہلے آباء کی اتباع پر ہدایت یافتہ بنایا ہے۔
Ayah 43:24

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم سے پہلے کسی بستی میں ہدایت کرنے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم قدم بقدم ان ہی کے پیچھے چلتے ہیں

23، وکذلک ماارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا، اس کے مال دار اور سردار، انا وجدنا آباء ناعلی امۃ وانا علی آثارھم مقتدون، ان کی،
Ayahs 43:25–26

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

پیغمبر نے کہا اگرچہ میں تمہارے پاس ایسا (دین) لاؤں کہ جس راستے پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا اس سے کہیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے کہنے لگے کہ جو (دین) تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا

تفسیر 24۔ ، قال، ابن عامر اور حفص رحمہما اللہ نے ، قال، کو ماضی کا صیغہ اور دیگر حضرات نے ، قل، امرکا صیغہ پڑھا ہے۔ ، اولوجئتکم، ابو جعفر (رح) نے ، جئنا کم، جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے واحد کا صیغہ پڑھا ہے۔ ، باھدی، درست دین۔ ، مماوجدتم علیہ آباء کم، زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (علیہ السلام) نے ان کو فرمایا کہ کیا تم اس دین کی پیروی کروگے جس پر تم نے اپنے آباء کو پایا۔ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت والا دین لایا ہوں تو انہوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ، قالوا انابما ارسلتم بہ کافرون،
Ayahs 43:27–28

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ جن چیزوں کو تم پوجتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے سیدھا راستہ دکھائے گا

(26۔ 27) ۔۔۔۔۔۔ ، واذ قال ابراھیم لابیہ وقومہ اننی براء ، یعنی بری ہوں ۔ براء کا تثنیہ اور جمع اور مؤنث نہیں آتا کیوں کہ یہ مصدر ہے جس کو صفت کی جگہ رکھا گیا ہے۔ ، مماتعبدون الا الذی فطرنی فانہ سیھدین، مجھے اپنے دین کے لیے رہنمائی کرے گا۔
Ayah 43:29

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

اور یہی بات اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (خدا کی طرف) رجوع رہیں

28، وجعلھا، یعنی اس کلمہ کو، کلمۃ باقیۃ فی عقبہ، مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی کلہ توحید اور الاالہ الا اللہ ہے کلمہ باقی رہنے والا اس کی عقب یعنی اولاد میں ۔ قتا دہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیشہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور توحید کے قائل رہیں گے اور قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی اس وصیت کو جو اپنے نبی کو کی باقی رکھا ان کی نسل اور اولاد میں اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ، ووصی بھا ابراھیم بنیہ ویعقوب، ہے۔ اور ابن زید (رح) فرماتے ہیں ان کا قول ، اسلمت لرب العالمین ، مراد ہے اور پڑھا، ھو سما کم المسلمین ، ۔۔۔۔۔ ، لعلھم یرجعون، شاید کہ اہل مکہ اس دین کی پیروی کریں اور جس دین پر ہیں اس سے دین ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹ آئیں اور سدی (رح) فرماتے ہیں شاید کہ وہ توبہ کرلیں اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کی طرف لوٹ آئیں۔
Ayahs 43:30–31

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ میں ان کفار کو اور انکے باپ دادا کو متمتع کرتا رہا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف بیان کرنے والا پیغمبر آپہنچا

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے

29، بل متعت ھؤلاء وآبائھم یعنی مشرکین دنیامیں اور میں نے ان کے کفر پر دنیا میں جلدی ان کو سزا نہیں دی۔ ، حتی جاء ھم الحق ، یعنی قرآن۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں حق سے اسلام مراد ہے ۔ ، ورسول مبین، ان کے لیے احکام کو بیان کرے اور وہ محمد ﷺ ہیں اور ان احکام کا حق یہ تھا کہ وہ آپ (علیہ السلام) کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نافرمانی کی۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں (یعنی مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟

31، وقالوالولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم ، اس سے ان کی مراد مکہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی تھا۔ اس کو قتادہ (رح) نے کہا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مکہ میں عتبہ بن ربیعہ اور طائف میں ابن عبدیا لیل ثقفی مراد تھا اور کہا گیا ہے کہ مکہ میں ولید بن مغیر ہ اور طائف میں حبیب بن عمر وبن عمیر ثقفی مراد تھا اور یہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے۔
Ayah 43:33

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

کیا یہ لوگ تمہارے پروردگار کی رحمت کو بانٹتے ہیں ؟ ہم نے ان میں ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں تقسیم کردیا اور ایک کے دوسرے پر درجے بلند کئے تاکہ ایک دوسرے سے خدمت لے اور جو کچھ یہ جمع کرتے ہیں تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے

تفسیر 32۔ ، اھم یقسمون رحمۃ ربک، یعنی نبوت کو۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ کیا ان کے ہاتھوں میں رسالت کی چابیاں ہیں کہ جہاں چاہیں اس کو رکھیں ؟ پھر فرمایا، نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا، پس ہم نے اس کو مال دار اور اس کو فقیر اور اس کو بادشاہ اور اس کو رعایابنادیا۔ پس جیسے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت دی جیسے ہم نے چاہا اسی طرح ہم نے جس کو چاہارسالت کے لیے چن لیا۔ ، ورفعنا بعضھم فوق بعض درجات، غنا اور مال کے ساتھ ۔ ، لیتخذ بعضھم بعضا سخریا، تاکہ ان میں سے بعض دوسرے بعض سے خدمت لیں ۔ پس مال دارلوگ اپنے مال اور اجرت کے ذریعے فقراء کو کام میں تابع کریں ۔ پس ان میں سے بعض دوسرے بعض کے لیے معاش کا سبب ہوجائیں ۔ یہ اپنے مال کے ذریعے اور وہ اپنے اعمال (محنتوں) کے ذریعے تو اس سے جہان کا نظام قائم ہوگا ۔ قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان میں سے بعض اپنے مال کے بدلہ میں دوسرے بعض کی عبودیت اور ملک کے مالک ہوں۔ ، ورحمۃ ربک ، یعنی جنت، خیر، ایمان والوں کے لیے۔ ، مما یجمعون، اس سے جو کفارمال جمع کرتے ہیں۔
Ayah 43:34

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی جماعت ہوجائیں تو جو لوگ خدا سے انکار کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں (بھی) جن پر وہ چڑھتے ہیں

33، ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ، یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ کافر ہوجائیں گے اور کفر پر جمع ہوجائیں گے۔ ، لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم سقفا من فضۃ، ابن کثیر اور ابوجعفر اور ابو عمر ورحمہم اللہ نے، سقفا ، سین کے زبر اورقاف کے سکون کے ساتھ واحد پڑھا ہے اور اس کا معنی جمع کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ، فخرعلیھم السقف من فوقھم، کی طرح اور دیگر حضرات نے سین اور قاف کے پیش کے ساتھ جمع پڑھا ہے اور یہ سقف کی جمع ہے، رھن، اور، رھن، کی مثل ۔ ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کا تیسر انہیں ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ سقیف کی جمع ہے اور کہا گیا ہے کہ سقوف کی جمع الجمع ہے۔ ، ومعارج ، سیڑھیاں چاندی کی۔ ، علیھا یظھرون، بلند ہوتے اور چڑھتے ۔ کہا جاتا ہے ، ظھرت علی السطح، جب تو اس پر بلند ہوجائے۔
Ayah 43:35

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے دروازے بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ہیں

34، ولبیو تھم ابوابا، چاندی کے، وسررا، یعنی اور ہم ان کے لیے چاندی کے تخت بناتے ۔ ، علیھا یتکئون،
Ayah 43:36

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور (خوب) تجمل و آرائش (کر دیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

35، وزخرفا، یعنی اور البتہ ہم اس کے ساتھ ان کے لیے زخرف یعنی سونے کے بناتے ۔ اس کی نظیر، او یکون لک بیت من زخرف، ہے ۔ ، وان کل ذلک لما متاع الحیا ۃ الدنیا، پس، لما، الا کے معنی میں ہوگا اور دیگر حضرات نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس معنی پر کہ یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑاسانفع ہے۔ پس اس صورت میں ، ان، ابتداء کے لیے اور، ما، صلہ ہوگا۔ مراد یہ ہے کہ یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑاسانفع ہے جو ختم ہوجائے گا۔ ، والا خرۃ عند ربک للمتقین، خاص طور پر یعنی جنت۔ حضرت سہل بن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے وزن کے برابر ہوتی تو کافر کو اللہ تعالیٰ ایک قطرہ پانی بھی نہ پلاتے ۔ مستورد بن شداد سے روایت ہے جو بنوفہر کے بھائی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ میں ان سواروں میں تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مردہ جانور پر ٹھہرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم دیکھتے ہو اس کو کہ اپنے مالکوں پرذ (رح) لیل ہوگئی حتی کہ انہوں نے اس کو یہاں ڈال دیا ؟ تو انہوں نے عرض کیا اس کی ذ(رح) لت میں سے یہ ہے کہ انہوں نے اس کو ڈال دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پس دنیا اللہ کے ہاں اس سے زیادہ ذلیل ہے جو یہ اپنے مالکوں پر ہے۔
Ayah 43:37

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے (یعنی تغافل کرے) ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں تو وہ اس کا ساتھی ہوجاتا ہے۔

تفسیر 36۔ ، ومن یعش عن ذکرالرحمان، یعنی رحمان کے ذکر سے اعراض کرے۔ پس اس کی سزا سے نہ ڈرے اور اس کے ثواب کی امید نہ کرے ۔ کہاجاتا ہے، عشوت الی النار اعشواعشوا، جب تو اس کا ارادہ کرے اس کے ذریعے رہنمائی کے لیے اور ، عشوت عنھا، یعنی میں نے اس سے اعراض کیا۔ جیسا کہ کہاجاتا ہے، عدلت الی فلان، (میں فلاں کی طرف مائل ہوا) ، وعدلت عنہ، (میں نے اس سے اعراض کیا) قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کو رحمن کے ذکر یعنی قرآن سے پھیر تا ہے۔ ابوعبید ہ اور اخفش رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی نگاہ اس سے پھیر کر ظلم کرتا ہے۔ خلیل بن احمد (رح) فرماتے ہیں کہ عشو کی اصل کمزورنگاہ سے دیکھنا ہے اور ابن عباس ؓ نے ، ومن یعش، کو شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی وہ اند ھا ہوجاتا ہے۔ کہاجاتا ہے، عش ، یعش ، عشیا، جب کوئی نابینا ہوجائے۔ ، فھواعشی، اور، امرأۃ عشوائ،۔۔۔۔۔ نقیض لہ شیطانا، یعقوب (رح) نے ، یقیض، یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ ۔ ہم اس کے لیے ایک شیطان کو سبب بنادیتے ہیں اور اس کو اس کے ساتھ ملادیتے ہیں اور اس کو اس پر مسلط کردیتے ہیں۔ ، فھولہ قرین ، اس سے جدا نہیں ہوتا ۔ اس کے لے اندھے پن کو مزین کردیتا ہے اور اس کو یہ خیال دلاتا ہے کہ وہ ہدایت پر ہے۔
Ayah 43:38

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

اور یہ (شیطان) ان کو راستے سے روکتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیدھے راستے پر ہیں

37، وانھم ، یعنی شیاطین ، لیصدونھم عن السبیل ، یعنی وہ ان کو ہدایت سے روکیں گے اور ضمیر کو جمع ذکر کیا ہے اس لیے کہ قول باری تعالیٰ ، ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطانا، جمع کی جگہ میں ہے۔ اگر چہ لفظ واحد کے ہیں۔ ، ویحسبون انھم مھتدون، اور بنی آدم کے کفار گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔
Ayah 43:39

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا کہ اے کاش مجھ میں اور تجھ میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ! تو برا ساتھی ہے

38، حتی اذا جاء نا، نشنیہ پڑھا ہے۔ انہوں نے کافر اور اس کا قرین مراد لیا ہے کہ ان دونوں کو ایک سلسلہ میں بنایا گیا ہے۔ ، قال ، افر اپنے شیطان قرین کو، یالیت بینی وبینک بعد المشرقین، یعنی مشرق ومغرب کے مابین کی دوری پس ان میں سے ایک کے نام کو دوسرے پر غلبہ دیا گیا ۔ جیسا کہ سورج و چاند کو قمر ان کہاجاتا ہے اور حضرت ابوبکر وعمر ؓ کو عمران۔ کہا گیا ہے کہ مشرقین سے سردیوں اور گرمیوں کی مشرق مراد ہے اور پہلاقول اصح ہے۔ ، فبئس القرین ، ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ جب کافر کو اٹھایاجائے گا تو اس کے قرین شیطان کے ساتھ ملادیاجائے گا۔ پس وہ اس سے جدانہ ہوگا ۔ یہاتک کہ جہنم تک پہنچ جائے گا۔
Ayah 43:40

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

اور جب تم ظلم کرتے رہے تو آج تمہیں یہ بات فائدہ نہیں دے سکتی کہ تم (سب) عذاب میں شریک ہو

39، ولن ینفعکم الیوم، آخرت میں ، اذظلمتم، تم نے دنیا میں شرک کیا۔ ، انکم فی العذاب مشترکون، یعنی تم کو عذاب میں مشترک ہونا نفع نہ دے گا اور یہ اشتراک تم سے عذاب کو ہکا بھی نہ کرے گا۔ اس لیے کہ کفاروشیاطین میں سے ہر ایک کے لیے عذاب کا وافرحصہ ہوگا۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ تم کو آج کے دن عذر کرنا اور نادم ہونا نفع نہ دے گا۔ پس تم اور تمہارے قرین (ساتھ) آج کے دن عذاب میں مشترک ہو جیسا کہ تم کفر میں مشترک تھے۔