Ayahs 42:1–2تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔۔ حم عسق، حسین بن فضل (رح) سے سوال کیا گیا کہ ، حم عسق ، کو لکھنے میں جداکیوں لکھاجاتا ہے حالانکہ یہ ، کھیعص، کو لکھنے میں جدا نہیں کیا جاتا ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس لیے کہ یہ سورتیں ایسی ہیں کہ ان کے شروع میں، حم، آتا ہے تو اس کی اس جیسی دوسری صورتوں کے طرزپر جاری کیا گیا ہے۔ پس حم مبتداء ہے اور ، عسق، اس کی خب رہے اور اس لیے کہ یہ دونوں دوآیتیں شمار کی گئی ہیں اور اس جیسے دوسرے مقطعات جیسے، کھیعص، اور، المص، اور، المر، یہ ایک آیت شمار کیے گئے ہیں۔
حروف مقطعات کی تفسیر
اور کہا گیا ہے اس لیے کہ مفسرین رحمہم اللہ کا، کھیعص، اور اس کے ہم مثل کے حروف تہجی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ، حم، میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے اس کو فعل بنایا ہے حروف میں شمار نہیں کیا اور کہا ہے کہ ، حم، کا معنی ( ، قضی ماھو کائن، یعنی جو چیزیں آئندہ ہونے والی ہیں ان کا فیصلہ کردیا ہے) کیا ہے اور عکر مہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ح اس کا حلم ہے م اس کی مجد (بزرگی) ہے۔ ع اس کا علم س کی سنا وہ اور ق سے ۔ اس کی قدرت اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی قسم کھائی ہے اور شہربن حوشب اور عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں کہ ح حرب (جنگ) ہے کہ اس قریش کے ذلیل کو عزت دی گئی اور عزت والے کو ذلت دی گئی۔ ، م، ملک ہے جو ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف تبدیل ہوتارہا ہے۔ ، ع، قریش کے دشمن جوان کا ارادہ کرتے ہیں۔ ، س، سیئی برائی جوان میں ہوتی تھیں۔ ، ق، اللہ کی قدرت جو اس کی مخلوق میں نافذ ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ ہر صاحب کتاب نبی پر، حم عسق، کی وحی کی گئی ہے۔
Ayahs 42:3–43، پس اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، کذلک یوحی الیک ، اور ابن کثیر (رح) نے، یوحی، حاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان کی دلیل باری تعالیٰ کا قول ، اوحینا الیک ، ہے۔ ، والی الذین من قبلک ، اس قرأت پر اللہ تعالیٰ کا قول، اللہ العزیز الحکیم، فاعل کا بیان ہے۔
گویا کہ سوال کیا گیا کہ وحی کون کرتا ہے تو جواب دیا گیا اللہ العزیز الحکیم۔ اور دیگر حضرات نے، یوحی، حاء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ آپ کی طرف اور ان انبیاء (علیہم السلام) کی طرف جو آپ (علیہ السلام) سے پہلے تھے۔ اللہ غالب حکمت والا۔ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مراد غیب کی خبریں ہیں۔
Ayahs 42:5–65، تکادالسموات یتفطرن من فوقھن ، یعنی ہر آسمان اپنے سے نچلے آسمان کے اوپر پھٹ جائے۔ مشرکین کے قول کی وجہ سے۔ اس کی نظیر سورة مریم میں ہے۔ ، وقالوا اتخذالرحمن ولدالقد جئتم شیئا اداتکادالسموات یتفطرن منہ والملائکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض، مؤمنین کے لیے۔ ، الا ان اللہ ھو الغفورالرحیم،
Ayah 42:76، والذین اتخذامن دونہ اولیاء اللہ حفیظ علیھم، ان کے اعمال کانگران ہے اور ان پر شمارکرائے گاتا کہ ان کو اس کا بدلہ دے۔ وماانت علیھم بوکیل، اللہ نے آپ (علیہ السلام) کو ان پر نگران نہیں بنایا کہ آپ (علیہ السلام) سے ان کے بارے میں مؤاخذہ ہو۔
Ayah 42:87، وکذلک، اس کی مثل جو ہم نے ذکر کیا۔ ، اوحینا الیک قرآنا عربیا لتنذر ام القری، مکہ کے رہنے والوں کو۔ ومن حولھا، یعنی تمام زمین کے علاقوں کو۔ ، وتنذریوم الجمع ، یعنی تاکہ آپ (علیہ السلام) ان کو جمع ہونے کے دن یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ اولین وآخرین اور آسمان والوں اور زمین والوں کو جمع کریں گے۔ ، لاریب فیہ ، اس جمع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، یہ ہوکر رہے گا۔ پھر جمع کے بعد وہ جداکیے جائیں گے۔ ، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر،
یہ کتابیں کون سی تھیں اور ان میں کیا تھا
حضرت عبد اللہ بن عمر وؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے تشریف لائے، اپنی ہتھیلیوں کو بندکیے ہوئے آپ (علیہ السلام) کے پاس دوکتابیں تھیں تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھاکیاتم جانتے ہو کہ یہ دوکون سی کتابیں ہیں ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ! اے اللہ کے رسول ! یہ کہ آپ خود ہمیں خبردے دیں تو آپ (علیہ السلام) نے دائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب رب العمین کی طرف سے ہے۔ اس میں جنتیوں اور ان کے آباء و اجداد اور قبیلوں کے نام اور ان کی تعداد لکھی ہوئی ہے۔ ان کے اپنے آباء کی پشتوں میں نطفہ بن کر قرار پکڑنے سے پہلے اور ماؤں کے رحموں میں نطفہ کے قرار پکڑنے سے پہلے ۔ جب وہ گارے کی شکل میں تھے ۔ پس نہ ان میں کوئی زائد ہوگا اور نہ کوئی ان میں سے کم ہوگا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت کے دن تک کی اجمالی فہرست ہے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے ۔ اس میں جہنمیوں اور ان کے آباء و اجداد اور قبیلوں کے نام اور ان کی تعداد ہے۔ یہ نام ان کے آباء کی تپشتوں اور ماؤں کے رحموں میں نطفہ کی شکل میں ٹھہرنے سے پہلے لکھے گئے ہیں جب وہ گارے کی شکل میں تھے۔
پس ان میں کوئی نام زائد ہوگا اور نہ کوئی کم ہوگا۔ یہ قیامت کے دن تک کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجمالی فہرست ہے تو حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم عمل کرتے رہو اور سیدھی راہ پرچلو اور قریب ہوجاؤ۔ پس بیشک جنت والوں کے لیے جنتیوں کے اعمال کا خاتمہ لکھاگیا ہے۔ ، اگرچہ جو عمل بھی کرے اور جہنمی کے لیے جہنمیوں والے عمل کا خاتمہ لکھا گیا ہے۔ اگر چہ جع عمل بھی کرے۔ پھر فرمایا ، فریق فی الجۃ، اللہ کے فضل سے۔ وفریق فی السعیر، اللہ تعالیٰ کے انصاف کی وجہ سے۔
Ayah 42:9تفسیر 8، ولوشاء اللہ لجعلم امۃ واحدۃ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دین پر اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں خہ ملت اسلام پر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول، ولوشاء اللہ لجعلھم علی الھدی، ہے۔ ، ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ، دین اسلام میں ، والظالمون، کافر لوگ ، مالھم من ولی، جوان سے عذاب ہٹائے۔ ، ولا نصیر، جوان کو آگ سے بچائے۔
Ayah 42:109، ام اتخذوا، بلکہ ان کافروں نے بنالیا ہے۔ ، من دونہ، یعنی اللہ کے سوا۔ ، اولیاء فاللہ ھوالولی، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ) ! آپ (علیہ السلام) اور آپ کے متبعین کا ولی ہے۔ ، وھو یحی الموتی وھوعلی کل شیء قدیر،
Ayah 42:1110، وما اختلفتم فیہ من شیئ، دین کے معاملہ میں، فحکمہ الی اللہ، اس معاملہ میں قیامت کے دن ایساواضح فیصلہ کریں گے کہ شک زائل ہوجائے گا۔ ، ذلکم اللہ ، جو باہم اختلاف کرنے والوں کا فیصلہ کرے گا۔ وہی، ربی علیہ توکلت والیہ انیب،
Ayah 42:1211، فاطرالسموات والارض جعل لکم من انفسکم ازواجا، تمہاری تخلیق کی مثل میں سے بیویاں ۔ کہا گیا ہے کہ ، من انفسکم، اس وجہ سے کہا ہے کہ حضرت حواء (علیہما السلام) کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کیا تھا۔ ، ومن الانعام ازواجا، مذکرو مؤنث کی اقسام ۔ ، یذرؤکم، تم کو پیدا کرتا ہے۔ ، فیہ، رحم میں ۔ اور کہا گیا ہے کہ فی باء کے معنی میں ہے یعنی ، یذرؤکم بہ، (تمہیں اس کے ذریعے پیداکرتا ہے) اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے، تمہیں نکاح کے ذریعے زیادہ کرتا ہے۔ ،۔۔۔۔۔۔ ، لیس کمثلہ شیء ، مثل صلہ ہے یعنی وہ کسی چیز کی طرح نہیں ہے۔ پس مثل کو تاکید کے لیے داخل کیا گیا ہے جیسے باری تعالیٰ کا قول ، فان امنوابمثل ماامنتم بہ، ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ کاف صلہ ہے۔ اصل عبارت یوں بنے گی۔ ، لیس مثلہ شیئ، (اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے) ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ ، وھوالسمیع البصیر،
Ayah 42:13تفسیر 12۔ ، لہ مقالید السموات والارض، آسمان و زمین میں پوشیدہ رزق کو چابیاں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ بارش اور نباتات، یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر، اس لیے کہ رزق کی چابیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ ، انہ بکل شیء علیم،
Ayah 42:1413، شرع لکم من الدین، بیان کیا اور طریقہ جاری کیا تمہارے لیے۔ ، ماوصی بہ نوحا، یہ انبیاء شریعت میں سے پہلے ہیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے اے محمد ﷺ آپ کو اور ان کو وصیت کی ایک دین کی۔ ، والذی اوحینا الیک، قرآن اور شرائع اسلام میں سے، وما وصینا بہ ابراھیم و موسیٰ و عیسیٰ ، اس آیت کی توجیہ میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے۔
قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حلال کو حلال کرنا اور حرام کو حرام کرنا مراد ہے اور حکم (رح) فرماتے ہیں کہ ماؤں ، بیٹیوں اور ہوبہنوں کو حرام قرار دینا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے اور اللہ کی فرمانبرداری کا اقرار کرنے کی وصیت کی ہے۔ پس یہ اس کا دین ہے جوان کے لیے مقرر کیا تھا اور کہا گیا ہے کہ وہ توحید اور شرک سے برأت ظاہرکرتا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو اس کے بعد ذکر کیا گیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ، ان اقیموا لذین ولاتتفرقوافیہ، ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کو دین اور الفت اور جماعت قائم کرنے کے لیے بھیجا ہے اور فرقہ بندی اور مخالفت کو چھوڑنے کے لیے۔ ، کبرعلی المشرکین ماتدعوھم الیہ، توحید اور بتوں کو چھوڑنے کی طرف۔ پھر فرمایا :، اللہ یجتبی الیہ من یشائ، اپنے دین کے لیے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ ، ویھدی الیہ من ینیب، اس کی فرمانبرداری کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
Ayah 42:1514، وما تفرقوا، یعنی مختلف ادیان کے لوگوں نے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے یعنی اہل کتاب جیسا کہ ، سورة المنفکین، میں ذکرکیاگیا ہے۔ ، وما تفرق الذین اوتوا الکتاب، الایہ ۔ ، الامن بعد ماجاء ھم العلم ، اس بات کا کہ فرقت گمراہی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے یہ کام کیا۔ ، بغیا بینھم ، م سرکشی کی وجہ سے۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی محمد ﷺ پر سرکشی کرتے ہوئے۔ ، ولولاکلمۃ سبت من ربک، ان سے عذاب کو مؤ خر کرنے میں۔ ، الی اجل مسمی، اور وہ قیامت کا دن ہے۔ ، لقضی بینھم، ایمان لانے والوں اور کافروں کے درمیان یعنی دنیا میں مکذبین پر عذاب اتاردیاجاتا ۔
، وان الذین اور ثوا الکتاب، یعنی یہودونصاری۔ ، من بعد ھم، ان کے انبیاء (علیہم السلام) کے بعد اور کہا گیا ہے کہ گزشتہ امتوں کے بعد اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مشرکین مکہ سے پہلے ۔ ، لفی شک منہ مریب، یعنی محمد ﷺ کے بارے میں ۔
Ayah 42:1615، فلذلک فادع، یعنی اس کی طرف جیسا کہ کہا جاتا ہے دعوت الی فلان ولفلان۔ یعنی میں نے فلاں اور فلاں کی طرف دعوت دی اور یہ اشارہ ہے اس کی طرف جو انبیاء (علیہم السلام) کو توحید کی وصیت کی گئی تھی۔
، واستقم کما امرت ، یعنی اس دین پر ثابت قدم رہیں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ۔ ، ولا تتبع اھواء ھم وقل امنت بما انزل اللہ من کتاب، یعنی میں اللہ کی تمام کتابوں پر ایمان لاتاہوں۔ ، وامرت لاعدل بینکم ، اس کا کہ تمہارے درمیان انصاف کروں۔ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم پر اللہ نے جو احکام فرض کیے ہیں اس سے زیادہ نہ کروں اور کہا گیا ہے کہ تاکہ میں تمہارے درمیان تمام حالات اور چیزوں میں انصاف کروں۔ ، اللہ ربن اوربکم لنا اعمالنا ولکم اعمالکم ، یعنی ہمارا معبودایک ہے اور اگر مارے اعمال مختلف ہوں گے تو ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دیاجائے گا۔ ، لاحجۃ، کوئی جگڑا نہیں ہے۔ ، بیننا وبینکم ، اس کو قتال کی آیت نے منسوخ کردیا ہے۔
پس جب قتال کا حکم نہیں دیا گیا تھا اور دعوت کا حکم دیا گیا تھا تو آپ (علیہ السلام) کی اور جو لوگ اس کو قبول نہیں کریں گے ان کے درمیان کوئی جھگڑانہ ہوگا۔ ، اللہ یجمع بیننا، معاد میں فیصلہ کرنے کے لیے ۔ ، والیہ المصیر،
Ayah 42:17تفسیر 16۔ ، والذین یحاجون فی اللہ، اللہ تعالیٰ کے دین کے بارے میں اس کے نبی (علیہ السلام) سے جگڑا کرتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لوگ یہود ہیں انہوں نے کہا ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اور ہمارے نبی (علیہ السلام) بھی تمہارے نبی سے پہلے ہیں توہم تم سے بہتر ہیں تو یہ ان کا جھگڑا ہے۔ ، من بعدمااستجیب لہ، یعنی لوگوں نے اس کو قبول کیا اور اسلام لے آئے اور آپ (علیہ السلام) کے دین میں داخل ہوگئے۔ آپ (علیہ السلام) کے معجزات ظاہرہونے کی وجہ کو قبول کیا اور اسلام لے آئے اور آپ (علیہ السلام) کے دین میں داخل ہوگئے۔ آپ (علیہ السلام) کے معجزات ظاہر ہونے کی وجہ سے ۔ ، حجتھم داحضۃ، ان کا جھگڑاباطل ہے۔ ، عند ربھم وعلیھم غضب ولھم عذاب شدید، آخرت میں۔
Ayah 42:1817، اللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان، قتادہ، مجاہد اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ انصاف کے ساتھ۔ عدل کا نام میزان (ترازو) رکھا گیا ہے اس لیے کہ میزان انصاف اور برابری کا آلہ (پیمانہ) ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پوری چیزدینے کا حکم دیا ہے اور کمی کرنے سے روکا ہے۔
، ومایدریک لعل الساعۃ قریب، یہاں، قریبۃ، مؤنث نہیں ذکر کیا۔ اس لیے کہ الساعۃ مؤنث غیر حقیقی ہے اور عبارت کی اصل الوقت قریب ہے اور کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا آنا قریب ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے قیامت کا تذکرہ کیا۔ آپ (علیہ السلام) کے پاس مشرکین کی ایک جماعت بیٹھی تھی تو وہ جھٹلانے کے لیے پوچھنے لگے کب ہوگی قیامت ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 42:1918، یستعجل بھا الذین لایؤمنون بھا، یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ نہیں آئے گی۔ ، والذین امنوا مشفقون، یعنی ڈرتے ہیں۔ ، منھا ویعلمون انھا الحق، کہ وہ آنے والی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ، الاان الذین بمارون، جھگڑتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ان کو شک ہوتا ہے۔ ، فی الساعۃ لفی ضلال بعید،
Ayah 42:2019، اللہ لطیف بعبادہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بڑا مہربان۔ عکرمہ نے کہا بندوں سے بھلائی کرنے والا۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ لطیف بمعنی نرمی کرنے والا ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ نیک وگناہ گار پر مہربانی کرنے والا ہے کہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو بھوک سے ہلاک نہیں کرتا ۔ اس پر قول باری تعالیٰ ، یرزق من یشائ، دالالت کرتا ہے اور مؤمن وکافر اور ہر ذی روح جس کو اللہ تعالیٰ رزق دیتے ہیں۔ پس وہ ان میں سے جس کو اللہ چاہے تو رزق دے۔ جعفربن محمد صادق (رح) فرماتے ہیں کہ رزق میں اللہ تعالیٰ کالطف دوطریقوں سے ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ تیرا رزق پاکیزہ چیزوں میں سے مقرر کیا اور دوسرایہ کہ یکبارگی تجھے نہیں دے دیا۔ ، وھو القوی العزیز،
Ayah 42:21تفسیر 20۔ ، من کان یرید حرث الاخرۃ، حرث کا معنی لغت میں کمائی کرنا۔ یعنی جو شخص اپنے عمل سے آخرت کا اراد کرے۔ ، نزدلہ فی حرثہ، دوگناکرکے ایک کے بدلہ میں دس اور اس سے بھی زیادہ جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہیں۔ ، ومن کان یرید حرث الدنیا، اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرے۔ ، نؤتہ منھا، قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم اس کو اتنی مقدار دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تقسیم کی ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :، عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرین، ومالہ فی الاخرۃ من نصیب، اس لیے کہ اس نے آخرت کے لیے عمل نہیں کیا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کو بلندی ، مدد اور زمین پر قدرت دینے کی بشارت دی گئی ہے۔ پس جو شخص ان میں سے آخرت کے عمل کو دنیا کے لیے کرے گا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
Ayah 42:2221، ام لھم شرکاء شرعوالھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ ، یعنی کفار مکہ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا ان کے معبود ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسادین مقرر کیا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی ؟ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان کے لیے اسلام کے علاوہ دین مقررکیا ہے۔ ، ولو لاکلمۃ الفصل، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے درمیان کلمہ فصل کرنے میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان سے عذاب قیامت کے دن تک مؤ خر کردیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :، لقضی بینھم، تو ان لوگوں کے عذاب سے فراغت ہوچکی ہوتی جو آپ (علیہ السلام) کی دنیا میں تکذیب کرتے ہیں۔
وان الظالمین، مشرکین، لھم عذاب الیم، آخرت میں۔
Ayah 42:2322، تری الظالمین، مشرکین کو قیامت کے دن ، مشفقین، کا پنتے ہوئے۔ ، مماکسبواوھو واقع بھم، ان کے اعمال کی جزاء ان پر واقع ہوگی ۔ ، والذین امنو اعملوا الصالحات فی روضات الجنات لھم مایشاؤن عند ربھم ذ(رح) لک ھوالفضل الکبیر،
Ayah 42:2423، ذلک الذی، جو میں نے جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا ۔ ، یبشر اللہ عبادہ الذین امنواعملوالصالحات، کیوں کہ اس کے اہل ہیں ۔ ، قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی،
الاالمودۃ فی القربی کی تفسیر
طاؤس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ، الا المودۃ فی القربی، کے بارے میں سوال کیا گیا تو ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھے تعجب ہے کہ قریش کی کوئی ایسی شاخ نہ تھی جس میں نبی کریم ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم میری اور اپنی رشتہ داری کو ملاؤ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ آل محمد ﷺ کے قریبی رشتہ دار اور اسی طرح شعبی اور طاؤس رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے فرمایا، الاالمودۃ فی القربی، یعنی تم میری قرابت کی حفاظت کرو اور مجھ سے محبت کرو اور میرے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو اور اسی کی طرف مجاہد ، قتادہ عکرمہ، مقاتل ، سدی اور ضحاک رحمہم اللہ گئے ہیں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں جس چیز کی طرف تمہیں بلاتاہوں اس پر کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا مگر یہ کہ تم میری حفاظت کروہماری رشتہ داری کی وجہ سے۔ اور اس طرح نہیں ہے جیسا کہ جھوٹے لوگ کہتے ہیں ۔
مجاہد (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ مگر یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور اس کی طاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو اور یہی حسن (رح) کا قول ہے ۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب مراد ہے فرماتے ہیں کہ مگر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اور اس سے محبت کرنا طاعت اور نیک عمل کے ذریعے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مگر یہ کہ تم میرے رشتہ داروں اور اولاد سے محبت کرو اور ان کے بارے میں میری رعایت کرو اور یہی سعید بن جبیر اور عمرو بن شعیب رحمہما اللہ کا قول ہے اور آپ (علیہ السلام) کی قرابت ۔ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور ان کے بیٹوں کے بارے میں اختلاف ہوا ہے اور ان کے بارے میں آیت ، انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت، نازل ہوئی ہے۔
زید بن ارقم ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تم میں دو وزنی چیزیں چھوڑرہاہوں کتاب اللہ اور میرے اہل بیت۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں اللہ کی یاددلاتاہوں ۔ زید بن ارقم ؓ سے کہا گیا کہ آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں ؟ تو فرمایا کہ وہ آل علی ؓ ، آل عقیل ، آل جعفر اور آل عباس ؓ علیہم اجمعین ہیں۔ ابن عمر ؓ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ تم محمد ﷺ کے اہل بیت کے بارے میں ان کا خیال رکھو اور کہا گیا ہے کہ یہ آپ (علیہ السلام) کے وہ قریبی رشتہ دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور ان میں خمس تقسیم کیا جاتا ہے اور وہ بنوہاشم اور بنوالمطلب ہیں جو آپ (علیہ السلام) سے جاہلیت اور اسلام میں جدا نہیں ہوئے اور ایک قوم نے کہا ہے کہ یہ آیت مسوخ ہے یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی۔
مشرکین رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور اس میں ان کو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے اور آپ سے صلہ رحمی کا حکم دیا۔ پس آپ (علیہ السلام) نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور انصارنے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ (علیہ السلام) کی مدد کی تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند آئی کہ آپ (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کے بھائی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ملادیں تو فرمایا، وما اسئلکم علیہ من اجران اجری الا علی رب العالمین، تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا، قل ماسالتکم من اجر فھو لکم ان اجری الا علی اللہ ، تو یہ اس آیت اور اللہ تعالیٰ کے قول ، قل مااسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین، اور اس جیسی دوسری آیات سے منسوخ ہوگئی ہے اور اسی طرف ضحاک بن مزاحم اور حسین بن فضل رحمہما اللہ گئے ہیں۔ اور یہ قول پسند یدہ نہیں ہے اس لیے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے اقارب کی محبت اور آپ (علیہ السلام) اور آپ کے اقارب کی تکلیف سے رکنا اور اللہ کی طاعت سے قرب حاصل کرنا اور نیک عمل کرنا یہ سب دین کے فرائض میں سے ہیں اور یہ اسلاف کے اقوال ہیں تو یہ جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کے منسوخ ہونے کا قول جائز نہیں ہے اور باری تعالیٰ کا قول ، الا المودۃ فی القربی، یہ پہلی کلام کے ساتھ اسثناء متصل نہیں ہے کہ یہ ادائیگی رسالت مقابلہ میں اجر بن جائے بلکہ یہ استثناء منقطع ہے اور اس کا معنی ہے تاکہ میں تمہیں یاد دلاؤں قریبی رشتہ داروں کی محبت اور تمہیں یاددلاؤں تمہاری مجھ سے قرابت۔ جیسا کہ ہم نے زید بن ارقم ؓ کی حدیث میں روایت کیا ہے، اذکرکم اللہ فی اھل بیتی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا، یعنی جو شخص طاعت کرے گا ہم اس کے لیے اس میں اچھائی کو زیادہ کردیں گے، دگنا کرکے، ان اللہ غفور، گناہوں کو، شکور، تھوڑی چیزکاحتی کہ اس کودوگناکردیتا ہے۔
Ayah 42:25تفسیر 24۔ ، ام یقولون، بلکہ وہ یعنی کفار مکہ کہتے ہیں۔ ، افتری علی اللہ کذبافان یشا اللہ یختم علی قلبک، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہم کے دل کو صبر سے باندھ دیتے ہیں تاکہ ان کی تکلیفیں آپ پر گراں نہ ہوں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی آپ کے دل پر مہرلگادیں گے تو آپ کو قرآن اور جو کچھ آپ کو دیا ہے وہ بھلادیتے ۔ پس ان کو خبردی کہ اگر وہ اللہ پر جھوٹ گھڑلیتا تو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ویسا کرتے جس کی خبر اس آیت میں دی ہے۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا ، ویمح اللہ الباطل، کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ، تقدیر عبارت یوں ہے، واللہ بمحوا الباطل، پس یہ محل رفع میں ہے لیکن اس سے واؤ لفظوں میں حذف کردی گئی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، ویدع الانسان، اور، سندع الزبانیۃ، سے حذف کیا گیا ہے۔ خبردی ہے کہ جو وہ کہتے ہیں وہ باطل ہے اللہ تعالیٰ اس کو مٹادیں گے۔ ، ویحق الحق بکلماتہ، یعنی اسلام کو اپنی اتاری ہوئی کتاب کے ذریعے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے یہ کرو دکھایا کہ ان کے باطل کو مٹادیا اور اسلام کے کلمہ کو بلند کیا۔ ، انہ علیم بذات الصو ور، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت ، قل لا اسالکم علیہ اجر ا الاالمودۃ فی القربی، نازل ہوئی تو ایک قوم کے دل میں اس کی وجہ سے کچھ شک پیدا ہوگیا کہ آپ (علیہ السلام) کی مراد آپ کے بعد ہمیں آپ کے اقارب پر ابھارنے کی ہے تو جبریل (علیہ السلام) آئے اور آپ (علیہ السلام) کو خبردی کہ انہوں نے آپ پر تہمت لگائی ہے اور یہ آیت نازل کی تو جس قوم نے تہمت لگائی تھی وہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ) کیا ہم اس کی گواہی دیں کہ (علیہ السلام) سچے ہیں ؟
Ayah 42:26توبہ کرنے والوں سے اللہ کتنا خوش ہوتا ہے
25، تو نازل ہوا، وھوالذین یقبل التوبۃ عن عبادہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے اس کے اولیاء اور اہل طاعت مراد ہیں۔ کہا گیا ہے کہ توبہ نیت اور عمل سے گناہوں کو چھوڑنا اور نیت اور عمل سے عبادت پر متوجہ ہونا ہے۔ سہل بن عبد اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ توبہ مذموم احوال سے محمود احوال کی طرف منتقل ہونے کا نام ہے۔ ، ویعفوا عن السیئات ، جب وہ تو نہ کرلیں تو وہ ان سے مؤ اخذہ نہیں کرے گا۔ حارث بن سوید (رح) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں۔
میراخیال ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا جو جنگل بیابان میں ہو اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، اس پر اس کا کھانا پینا ہو تو وہ کہیں اتر کرسوگیا، جب وہ بیدارہواتو اس کی سواری گم ہوچکی تھی تو وہ اس کی تلاش میں ادھر ادھر چکرلگا تارہایہاں تک کہ اس کو سخت پیاس لگی تو وہ کہنے لگا جہاں میری سواری گم ہوئی تھی میں وہاں جاکرمرجاتا ہوں تو وہ لوٹا تو اس کو غشی آگئی۔ پھر ہوش آیاتو اس کے پاس اس کا کھانا پینا۔ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے جب وہ توبہ کرے اس سے زیادہ خوشی ہوتے ہیں جو تم میں سے کوئی ایک اس وقت خوش ہو جب وہ اپنی سواری پر صحراء میں ہو اور وہ سواری اس سے جدا ہوجائے۔ اس پر اس کا کھانا اور پینا ہو تو وہ اس سے ناامید ہوگیا اور ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے سائے میں لیٹ گیا اور تحقیق وہ اپنی سواری سے ناامید ہوچکا تھا ۔ پس وہ اسی حالت میں تھا کہ وہ سواری اس کے کھڑی تھی تو اس نے اس کی لگام پکڑلی۔ پھر خوشی کی انتہا کی وجہ سے کہنے لگا، اے اللہ ! تو میرابندہ اور میں تیرارب ہوں ، اس بندہ نے فرط مسرت سے غلطی کردی۔ ، ویعفواعن السیئات ، پس وہ اس کو مٹادے گا جب وہ توبہ کریں گے۔ ، ویعلم ماتفعلون،
حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ، تفعلون، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ مشرکین کو خطاب ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس لیے کہ یہ جملہ قوم کے متعلق دوخبروں کے درمیان ہے۔ اس جملہ سے پہلے کہا ، یقبل التوبۃ عن عبادہ، اور اس کے بعد کہا، ویزیدھم من فضلہ،
Ayah 42:27تفسیر 26۔ ، ویستجیب الذین امنوا، یعنی جو ایمان لائے ان کو جواب دیتا۔ ، وعملوا الصالحات، جب وہ اس کو پکاریں اور عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ، وثبت الذین امنوا،۔۔۔۔۔۔ ، ویزید ھم من فضلہ، ان کے اعمال کے ثواب کے علاوہ اس کے فضل سے اور ابوصالح (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان کے بھائیوں کے حق میں ان کی سفارش قبول کریں گے اور ان کو اپنا فضل زیادہ کریں گے۔ ، والکافرون لھم عذاب شدید،
Ayah 42:2827، ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ، خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں کہ تو ہم نے اس کی تمنا کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی، ولوبسط اللہ الررز، اللہ تعالیٰ رزق کو کشادہ کریں ۔ ، لعبادہ لبغوا، تو وہ سرکشی کرتے ۔ ، فی الارض، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی سرکشی ان کا ایک گھر کے بعد دوسراگھر اور ایک سواری کے بعد دوسری سواری اور لباس کے بعد لباس طلب کرنا ہے۔
، ولکن یننزل، ان کے رزق۔ ، بقدرمایشائ، جیسے چاہتا ہے اپنے بندوں کی طرف نظر کرتے ہوئے اور حکمت کے ساتھ جو اس کی قدرت تقاضا کرتی ہے۔ ، انہ بعبادہ خبیر بصیر،
اولیاء اللہ کی توہین کرنے کا وبال
حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بحوالہ جبرئیل (علیہ السلام) ، باری تعالیٰ کا یہ قول بیان فرمایا ہے کہ جو میرے کسی ولی کی توہین کرتا ہے، وہ مجھ سے جنگ کرنے کے لیے میرامقابلہ کرتا ہے۔ میں اپنے اولیائ (کی حمایت) کے لیے ایسا غضبناک ہوں جیسا غضبناک شیر غضب میں آجاتا ہے ۔ میرامؤمن بندہ میرامقرب (اور کسی طریقہ سے) اتنا نہیں جتنا میرامقررکردہ فریضہ ادا کرنے سے ہوتا ہے اور نوافل کے ذریعہ سے کے ذریعہ سے میرامؤمن بندہ برابرمیرامقرب ہوتا چلاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اسے محبت کرنے لگتا ہوں تو پھر میں اس کے کان اور آنکھیں اور ہاتھ ہوجاتا ہوں اور اس کا مددگار بن جاتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتاہوں اور مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں جس کام کو میں کرنے والا ہوتا ہوں ، اس کے کرنے میں مجھے ایسا تر دد نہیں ہوتا جتنا اپنے مؤمن بندہ کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے۔ اگر وہ مرنے کونا گوار جانتا ہو تو مجھے اس کو دکھ دینا پسند نہیں ہوتا مگر مرنے کے بغیر اس کے لیے کوئی چارہ نہیں ہوتا (اس لیے قبض روح کی تکلیف اس کو دیتا ہوں) میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جو مجھ سے باب عبادت (کھولنے) کی درخواست کرتے ہیں لیکن میں ان کوا س سے روک دیتا ہوں، کہیں ایسانہ ہو کہ ان کے اندرغرورپیدا ہوجائے اور اس سے ان کی حالت بگڑجائے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جن کے ایمان کو صرف مال ہی درست رکھ سکتا ہے۔ اگر میں ان کو غنی کردوں تو مال ان کے ایمان کو خراب کرے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کو صرف جسمانی تندرستی ہی صحیح رکھ سکتی ہے، اگر میں ان کو بیمار کردوں تو بیماری ان کے ایمان کو بگاڑدے اور کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ بیماری ہی ان کے ایمان کو صحیح رکھ سکتی ہے، اگر میں ان کو تندرست کردوں توصحت ان کے ایمان کو خراب کردے۔ میں اپنے بندوں کے کاموں کا اپنے علم کے مطابق انتظام کرتاہوں ، مجھے ان کے دلوں کی حالت معلوم ہے، میں بخوبی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں۔
Ayah 42:29تفسیر 28۔ ، وھو الذی ینزل الغیب، بارش، من بعد ماقنطوا، یعنی لوگوں کے اس سے مایوس ہونے کے بعد ۔ اور یہ چیزان کو شکر کی طرف داعی ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ سے سات سال بارش کو روکے رکھا یہاں تک کہ وہ ناامید ہوگئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی اور ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت یاددلائی۔ ، وینشررحمۃ، اپنی بارش کو برساتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا، وھوالذی یرسل الریاح بشرابین یدی رحمۃ،۔۔۔۔۔۔۔۔ ، وھوالولی، اس کی اطاعت کرنے والوں کے لیے۔ ، ا (رح) لحمید، اپنی مخلوق کے ہاں۔
Ayah 42:3029، ومن آیاتہ خلق السموات والارض ومابث فیھما من دابۃ وھوعلی جمعھم اذا یشاء قدیر، یعنی قیامت کے دن۔
Ayah 42:3130، وما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ، اہل مدینہ اور اہل شام نے، بما کسبت ، بغیرفاء کے پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے۔ پس جس نے فاء کو حذف کیا ہے تو اس نے آیت کے پہلے حصہ کو، الذی اصابکم بماکسبت ایدیکم ، کے معنی میں کیا ہے۔ یعنی جو چیز تم کو پہنچی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے بدلہ میں ہے۔ ، ویعفواعن کثیر، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ لکڑی کی خراش اور قدم کا پھسلنا اور کسی رگ کا پھڑکنا کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور جن گناہوں سے اللہ تعالیٰ درگزر کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ ہیں۔ ابو سخیلہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو قرآن کی افضل آیت کی خبرنہ دوں جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ؟ ، ومااصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفواعن کثیر،
آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے علی ! عنقریب میں تجھے اس کی تفسیر بتاؤں گا جو تمہیں مرض یاسزایا آزمائش دنیا میں آتی ہے ۔ تو وہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ ان پر آخرت میں دوسری مرتبہ عذاب دینے سے بہت بہت معزز ہیں اور جو اللہ تعالیٰ دنیا میں تمہیں معاف کردیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بہت بڑے بردبار ہیں کہ اس معافی کے بعد دوبارہ مؤ اخذہ کریں ۔ عکرمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بندہ کو کوئی ہلکی سی تکلیف یا اس سے اوپر کوئی مصیبت آئے تو وہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو اس کے بغیر معاف نہیں کرتے یا کوئی اونچادرجہ ہوتا ہے جس تک اس کے بغیر بندہ نہیں پہنچاتے۔
Ayah 42:3231، وما انتم بمعجزین فی الارض ، بھاگ کر۔ یعنی تم جہاں بھی ہو مجھے عاجز نہیں کرسکتے اور نہ مجھ سے بھاگ سکتے ہو۔ ، وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر،
Ayah 42:3332، ومن آیاتہ الجوار، یعنی کشتیاں اور اس کا واحد، جاریۃ، اور وہ چلنے والی کشتی ، فی البحر کالاعلام، یعنی پہاڑ۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا واحد علم ہے اور خلیل بن احمد (رح) فرماتے ہیں ہر بلند چیز عرب کے نزدیک علم ہے۔
Ayah 42:3433، ان یشا یسکن الریح، جوان کو چلارہی ہے۔ ، فیضللن، یعنی کشتیاں ، رواکد، ٹھہرجائیں۔
، علی ظھرہ، سمند رکی پشت پر کہ چل نہ سکیں۔ ، ان فی ذ(رح) لک لایات لکل صبارشکور، یعنی ہرمؤمن کے لیے اس لیے کہ مؤمن کی صفت سختی میں صبرکرنا اور نرمی میں شکر کرنا ہے۔
Ayah 42:35تفسیر 34، او یوبقھن، ان کو ہلاک کردے اور غرق کردے۔ ، بماکسبوا، ان کے سواروں نے جو گناہ کیے ہیں ان کی وجہ سے۔ ، ویعف عن کثیر، ان کے گناہوں میں سے پس ان پر کوئی سزا نہیں دیتا۔
Ayah 42:3635، ویعلم، اہل مدینہ اور اہل شام نے، ویعلم، میم کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے استئاف کی بناء پر جی سے اللہ تعالیٰ کا قول سورة برأۃ میں ہے، ویتوب اللہ علی من یشاء ، اور دیگر حضرات نے نصب (زبر) کے ساتھ پڑھا ہے صرف اور جزم کی بناء پر جب اس کا معطوف اس سے پھیر اجائے تو اس پر نصب ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ، ویعلم الصابرین، اس کو جزم کی حالت سے نصب کی طرف پھیراگیا ہے استخفاف (ہلکا) کرنے کے لیے اور لگا تارجزم آنے کونا پسند سمجھنے کی وجہ سے۔
، الذین یجادلون فی آیاتنا مالھم من محیص، یعنی ان لوگوں کو جانتا ہے جو قرآن کی تکذیب کرتے ہیں جب وہ بعث کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹیں گے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ان کے لیے کوئی جائے فرارنہ ہوگی۔
Ayah 42:3736، فما اوتیتم من شیئ، دنیا کی آسائشوں میں سے ، فمتاع الحیوۃ الدنیا، یہ آخرت کا سرخرچ نہیں ہے ۔ ، وما عند اللہ ، ثواب
، خیر وابقی للذین امنواوعلی ربھم یتوکلون، اس میں بیان ہے کہ مؤمن وکافراس بات میں برابر ہیں کہ دنیا ان کے لیے تھوڑاسانفع ہے جس دنیا میں دونوں لطف اندوزہو رہے ہیں۔ پس جب دونوں آخرت میں جائیں گے تو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ مؤمن کیلئے بہت رہے۔
Ayah 42:3837، والذین یجتنبون کبائرالاثم، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ نے، کبیر الا ثم، پڑھا ہے۔ مفرد کا صیغہ یہاں بھی اور سورة النجم میں بھی اور دیگر حضرات نے ، کبائر، جمع کا صیغہ پڑھا ہے اور تحقیق ہم کبائر کا معنی سورة النساء میں ذکر کرچکے ہیں۔ ، والفواحش، سدی (رح) فرماتے ہیں کہ مرادزنا ہے۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ گناہ جو حدواجب کرتاہو۔ ، واذاما غضبواھم یغفرون، برداشت کرتے ہیں اور غصہ کو پی جاتے ہیں۔
Ayah 42:3938، الذین استجابوالربھم، جب وہ ان کو اپنی طاعت کی طرف بلائے تو وہ اس کو لبیک کہتے ہیں۔ ، واقاموا الصلوۃ وامرھم شوری بینھم، جو معاملہ پیش آئے باہم مشورہ کرتے ہیں، جلد بازی نہیں کرتے۔ ، ومما رزقناھم ینفقون،
Ayah 42:4039، والذین اذا صابھم البغی، ظلم اور سرکشی ، ھم ینتصرون، وہ اپنے ظالم سے انتقام لیتے ہیں لیکن حد سے نہیں بڑھتے ۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی دوقسمیں بنائی ہیں ایک قسم اپنے ظالم کو معاف کرتی ہے تو ان کے ذکر سے ابتداء کی اور فرمایا۔
، واذا ماغضبو اھم یغفرون، اور ایک قسم اپنے ظالم سے انتقام لیتے ہیں اور یہ وہ لوگ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے ۔ ابراہیم (رح) فرماتے ہیں اس آیت کے بارے میں کہ وہ لوگ ذلت کو ناپسند کرتے ہیں۔ پس جب قدرت پاتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ مؤ من ہیں جن کو کفارنے مکہ سے نکال دیا۔
اور ان پر سرکشی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین میں قدرت دی حتی کہ انہوں نے اپنے پر ظلم کرنے والوں سے انتقام لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انتقام کو ذکر کیا اور فرمایا :