41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayahs 41:1–2

حٰمٓۚ Open ayah 41:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

حٰم۔

تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔ ، حم ، تنزیل من الرحمن ارحیم، اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ تنزیل مبتداء ہے اور اس کی خبر اللہ تعالیٰ کافرمان۔
Ayahs 41:3–4

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

3، کتا ب فصلت آیاتہ، ہے۔ اس کی آیات بیان کی گئی ہیں، قرآنا عربیا لقوم یعلمون، عربی زبان میں اور اگر ان کی زبان کے علاوہ کسی زبان میں ہوتا تو وہ اس کونہ جانتے اور قرآنا کا نصب بیان کے اس پر واقع ہونے کی وجہ سے ہے یعنی ، فصلنا ہ قرآنا، یعنی ہم نے اس کو بیان کیا یعنی قرآن کا۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں

4، بشیراونذیرا، یہ دونوں صفتیں قرآن مجید کی ہیں یعنی اللہ کے اولیاء کو خوشخبری دینے والا اور اس کی دشمنوں کو ڈانے والا ہے۔ ، فاعرض اکثرھم فھم لایسمعون، یعنی تکبر کی وجہ سے اس کی طرف کان نہیں دھرتے۔
Ayah 41:6

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہرا پن ہے) اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

5، وقالوا، یعنی مکہ کے مشرکین ، قلوبنا فی اکنۃ، پردوں میں ہیں۔ ، مما تدعونا الیہ ، تو جو وہ کہتے ہیں ہم نہیں سمجھتے۔ ، وفی آذاننا وقر، بہراپن ہے۔ پس ہم ان کی کہی ہوئی بات نہیں سنتے اور معنی یہ ہے کہ ہم قبول کو چھوڑنے اور آپ کے نزدیک اس شخص کی طرح جو نہ سمجھتا ہے اور نہ سنتا ہے۔ ، ومن بیننا وبینک حجاب، دین میں اختلاف ہے اور ملت میں رکاوٹ ہے تو ہم آپ کی کہی ہوئی بات میں آپ کی موافقت نہ کریں گے ۔ ، فاعمل ، آپ اپنے دین پر، اننا عاملون، ہمارے دین پر۔
Ayah 41:7

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں (بھی) آدمی ہوں جیسے تم (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

6، قل انما انا بشرمثلکم ، یعنی تم میں سے کسی ایک کی طرح اور اگر وحی نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ دعوت دیتا اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول یوحی الی انما الھکم الہ واحد، حسن (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو تواضع کی تعلیم دی۔ ، فاستقیموا الیہ، اس کی طرف فرمانبرداری کرتے متوجہ ہوجاؤ اور اس کے راستے سے اعراض نہ کرو۔ ، واستغفروہ، اپنے گناہوں سے۔ ، وویل للمشرکین،
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

7، الذین لا یؤتون الزکاۃ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو لاالہ الا اللہ کہتے ہیں یہ نفس کی زکٰوۃ ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ شرک سے توحید کے ذریعے پاک نہیں کرتے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ زکوۃ کا اقرار نہیں کرتے اور اس کے دینے کو واجب نہیں سمجھتے ۔ اور وہ فرماتے ہیں کہ زکواسلام کا پل ہے جو اس کو طے کرلے گا وہ نجات پالے گا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ہلاک ہوگیا اور ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ طاعت میں خرچ نہیں کرتے اور صدقہ نہیں کرتے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اپنے اعمال کو پاک نہیں کرتے۔ ، وھم بالا خرۃ ھم کافرون،
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

اجرغیر ممنون کی وضاحت تفسیر 8۔ ، ان (رح) الذین امنوا وعملوا الصحات لھم اجرغیر ممنون، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ختم نہ ہونے والا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ کم نہ ہوگا اور اسی سے ممنون ہے اس لیے کہ وہ انسان کا احسان اور قوت کم کرتا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان پر اس کا احسان نہیں جتایاجائے گا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حساب نہ ہوگا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مریضوں اور اپاہجوں اور بوڑھوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب وہ طاعت سے عاجز ہوجائیں تو ان کے لیے تندرستی میں جو اعمال کرتے تھے اسی کی طرح اجرلکھاجائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ جب عبادت کے کسی اچھے طریقے پر ہو، پھر مریض ہوجائے تو اس فرشتے کو کہاجاتا ہے جو اس کی نگرانی پر مقرر ہے کہ تو اس کی تندرستی والے عمل کی مثل لکھ۔ یہاں تک کہ میں اس کو تندرست کردوں یا اپنے پاس بلالوں۔
Ayah 41:10

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

9، قل انئنبکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین، اتوار اور سوموار کے دن۔ ، وتجعلون لہ انداداذالک رب العالمین،
Ayah 41:11

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اسکے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

10، وجعل فیھا، یعنی زمین میں، رواسی، پہاڑجمے ہوئے، من فوقھا، زمین کے اوپر، وبارک فیھا، یعنی زمین میں ان سمندروں ، نہروں ، درختوں اور پہلوں کے سات جو اس میں پیداکیے ہیں۔ ہرشی کا رزق اللہ نے تقسیم کردیاہے ، وقدرفیھا اقواتھا، حسن اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ زمین میں بندوں اور مویشیوں کے رزق تقسیم کیے گئے ہیں اور عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ہر شہر میں وہ رزق مقرر کیا گیا جو دوسرے میں نہیں مقرر کیا گیا تا کہ انسان ایک شہر سے دوسرے شہرتک تجارت کرکے اپنی معاش کا انتظام کرسکیں۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ روٹی کا ایک حصہ زمین کے لیے مقرر کیا اور جو کا ایک حصہ کے لیے اور مچھلی کو ایک حصہ کے لیے اور اسی طرح تمام انسانوں کی روزی ہے۔ ، فی اربعۃ ایام، مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے اور روزیوں کو مقرر کیا دودونوں میں یعنی منگل اور بدھ تو یہ اتوار اور سوموار کے ساتھ مل کر کل چاردن ہوگئے ۔ تذکرہ میں آخر کو اول پر لوٹایا۔ جیسا کہ تو کہتے میں نے گزشتہ کل ایک عورت سے شادی کی اور آج دو سے اور ان دو میں سے ایک وہی ہے جس سے گزشتہ کل شادی کرچکا ہے۔ ، سواء للسائذین، ابو جعفر (رح) نے ، سوائ، پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع یعنی، ھی سوائ، اور یعقوب (رح) نے زیر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ باری تعالیٰ کے قول ، فی اربعۃ ایام، کی صفت ہے اور دیگر حضرات نے ، سوائ، کو مصدر کی بناء پر منصوب پڑھا ہے۔ یعنی، استوت سوائ، اور اس کا معنی یہ ہے کہ یہ اس کے بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے برابر ہے۔ قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ جو اس بارے میں سوال کرے گا تو اس کا معاملہ اسی طرح برابر ہے نہ اس میں کمی ہے اور نہ زیادتی۔ یہ جواب اس کے لیے ہے جو سوال کرے کہ زمین اور اس کی روزی کتنے دن میں پیداکیے گئے ؟
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

تفسیر 11۔۔۔۔۔ ، ثم استوی الی السماء ، یعنی آسمان کی تخلیق کا ارادہ کیا۔ ، وھی دخان، اور یہ دھواں پانی کے بخارات تھے ۔ ، فقال لھا وللارض ائتیاطوعا او کرھا، یعنی جو میں تمہیں حکم دوں وہ کروجی سے کہاجاتا ہے ، ائت ماھذا الاحسن، یعنی اس اچھے کام کو کر اور طاؤس (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ، ائتیا، بمعنی اعطیا ہے۔ یعنی جو بندوں کی مصلحتوں کے لیے میں نے تم میں منافع پیداکیے ہیں ان کونکالو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے آسمان تو اپنا سورج ، چاند اور ستارے طلوع کر اور اے زمین تو اپنی نہریں کھول اور اپنے پھل اور نباتات نکال اور ان دونوں کو کہا کہ جو میں نے حکم دیا ہے اس کو کر گزروبخو شی ورنہ میں تمہیں اس پر مجبورکردوں گا حتی کہ تم اس کو بادل نخواستہ کروگے تو انہوں نے بخو شی قبول کیا۔ ، قالتا اتینا طائعین، یہاں طائعتین نہیں کہا اس لیے کہ اس کے ذریعے کے ساتھ بخوشی یہ کام کریں گے) پھر جب ان کو قول (گفتگو) کے ساتھ متصف کیا ہے تو جمع میں ان کو ذوالعقول کے قائم مقام کردیا ہے۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے (کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں) سے محفوظ رکھا یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

12، فقضاھن سبع سموات فی یومین، یعنی ان کو مکمل کیا اور ان کی تخلیق سے فارغ ہوئے۔ ، واوحی فی کل سماء امرھا، عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ہے کہ ہر آسمان میں فرشتے اور سمندر اور برف کے پہاڑ اور ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جن کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ قتا دہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یعنی اس میں اس کا سورج و چاند اور ستارے پیداکیے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جن اوامرونواہی کا ارادہ کیا۔ ان کی وحی ہر آسمان کی طرف کردی اور یہ جمعرات اور جمعہ کے دن ہوا۔ ، وزیناالسماء الدنیا بمصابیح، اور ستاروں کے ساتھ۔ ، وحفظا، اس آسمان کی حفظاکا نصب مصدر کی بناء پر ہے۔ یعنی، حفظناھابلکواکب حفظا من الشیاطین الذین یسترفون السمع، یعنی ہم نے آسمان کی حفاظت کی ستاروں کے ذریعے، حفاظت کرنا ان شیاطین سے جو بات کو اچک لیتے تھے۔ ، ذلک، یہ جو اس کی کاریگری کا ذکرہوا۔ ، تقدیر العزیز، اپنے ملک میں ، العلیم ، اپنی مخلوق کو۔
Ayah 41:14

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسی چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

13، فان اعرضوا، یعنی یہ مشرکین اس بیان کے بعد ایمان لانے سے، فقل انذرتکم ، میں نے تم کو ڈرایا۔ ، صاعقۃ مثل صاعقۃ عاد وثمود، یعنی ان جیسی ہلاکت سے اور، صاعقۃ، ہرچیز میں سے ہلاک کرنے والی۔
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے

14، اذجاء تھم، یعنی عادوثمود کے پاس، الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم، اللہ تعالیٰ کے قول، من بین ایدیھم، سے وہ رسول مراد ہیں جوان کے آباء و اجداد کی طرف اس سے پہلے بھیجے گئے تھے۔ ، من خلفھم، یعنی جو رسول ان کے آباء و اجداد کی طرف بھیجے گئے تھے ان کے بعد وہ رسول جو خودان کی طرف بھیجے گئے جیسے ہودوصالح علیہما السلام۔ پس ضمیر، من بین ایدیھم، میں عاد وثمود کی طرف لوٹ رہی ہے اور، ومن خلفھم، میں، الرسل، کی طرف۔ ، ان لا، اس بات کے ساتھ نہ ، تعبدوا الا اللہ قالوالوشاء ربنا لانزل، ان رسولوں کے بدلے۔ ، ملائکۃ، یعنی اگر ہمارا رب مخلوق کو دعوت دین دینا چاہتا تو فرشتے اتارتا۔ ، فانا بماارسلتم بہ کافرون، ابوجہل اور قریش کے سرداروں کی میٹنگ حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابوجہل نے اور قریش کے کچھ سرداروں نے کہامحمد (ﷺ) کا معاملہ ہماری میں ٹھیک ٹھیک نہیں آتا، کسی ایسے آدمی کو تلاش کروجوشاعری اور کہانت اور جادو سے واقف ہو، وہ جاکر محمد (ﷺ) سے گفتگوکرے، پھر آکر کو صاف صاف بتائے۔ عقبہ بن ربیعہ بولا : واللہ ! میں نے شعر بھی سنے ہیں اور کہانت وسحر کے الفاظ بھی اور مجھے اس سے کچھ واقفیت بھی ہے ، اگر اس میں سے کوئی بات ہوئی تو مجھ سے چھپی نہیں رہے گی۔ غرض عتبہ وہاں سے اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور حضور ﷺ سے کہنے لگا : محمد ! (ﷺ) تم بہتر ہو یا ہاشم ، تم بہتر ہو یا عبدالمطلب تم بہترہویاعبد اللہ ؟ تم ہمارے معبودوں کو کیوں براکہتے اور کیوں ہمارے اسلاف کو گمراہ قراردیتے ہو ؟ اگر تم سرداری کے خواستگار ہو تم ہم اپنے جھنڈے تم کودے دیں گے اور اگر عورت کے خواہش مندہوتوقریش کی دس عورتوں سے جن کو تم پسند کرو، تمہارانکاح کردیں گے اور اگر تم مال کے طلبگار ہو تو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کردیں گے کہ تم بھی دولت مندہوجاؤ گے اور تمہارے بعد آنے والی نسل بھی۔ عقبہ کہتا رہا اور رسول اللہ ﷺ خاموشی سے سنتے رہے۔ جب وہ کہہ چکاتورسول اللہ ﷺ نے پڑھنا شروع کیا :، بسم اللہ الرحمن الرحیم، حم تنزیل من الرحمن الرحیم، کتب فصلت ایتہ قرأناعربیا، آپ نے یہ آیت مثل صعقہ عاد وثمود، تک پڑھی۔ عقبہ نے (ڈرکر) فورا حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کی قسم دے کر خاموش ہوجانے کی درخواست کی۔ پھر لوٹ کر سیدھا اپنے گھر پہنچ گیا، قریش کے پاس نہیں گیا، اپنے گھر میں بیٹھ رہا۔ یہ بات دیکھ کر ابوجہل نے کہا : اے قریش والو ! خدا کی قسم ! ہم کو یہ نظرآتا ہے کہ عتبہ، محمد (ﷺ) کی طرف جھک گیا اور محمد (ﷺ) کے کھانے پر ریجھ گیا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہوسکتی ہے کہ وہ مفلس ہوگیا ہے۔ ذرا اس کے پاس تو چلو۔ قریش والے عتبہ کے پاس گئے اور ابوجہل نے اس سے کیا : عتبہ ! خدا کی قسم ! ہم کو تو ایساد کھائی دیتا ہے کہ تم جو ہمارے پاس نہیں آئے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ تمہاراجھکاؤ محمد (ﷺ) کی طرف ہوگیا اور تم ان کے کھانے پر ریجھ گئے۔ اگر تم ضرورت مندہوتو ہم تمہارے لیے اتنا مال جمع کردیں گے جو محمد (ﷺ) کے کھانے سے تم کو بےنیا، کردے۔ یہ بات سن کر عتبہ کو غصہ آگیا اور قسم کھاکرکہا : آئندہ محمد (ﷺ) سے وہ بات بھی نہیں کرے گا اور بولا : تم لوگ واقف ہو کہ میں قریش کے اندر بڑے مال دار لوگوں میں سے ہوں۔ بات یہ ہوئی کہ میں ان کے پاس گیا تھا اور ان سے پورے حالات بیان کیے تھے لیکن انہوں نے مجھے ایساجواب دیا کہ خدا کی قسم ! نہ وہ شع رہے ، نہ کہانت اور نہ جادو (کے الفاظ) پھر عتبہ نے یہ سورت پڑھ کر سنائی۔ یہ کلام سن کر میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کردیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ چپ ہوجائیں۔ تم جانتے ہو کہ محمد (ﷺ) جب کوئی بات کہتا ہے تو جھوٹ نہیں کہتا، اس سے مجھے ڈرہوگیا کہ کہیں تم پر عذاب آجائے۔ محمد بن کعب قرظی کا بیان ہے کہ ہم سے کہا گیا ہے کہ عتبہ بڑادانش مند سردار تھا۔ قریش کی مجلس میں ایک روز بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت تنہا مسجد (کعبہ) میں تشریف فرما تھے۔ عتبہ نے کہا : اے گروہ قریش ! کیا محمد (ﷺ) کے پاس جاکران سے کچھ گفتگوکروں اور چند باتیں ان کے سامنے رکھوں ، شاید وہ ہماری کوئی بات قبول کرلیں اور ہم ان کی وہ بات پوری کردیں اور وہ پھر ہم سے کچھ تعرض نہ کریں۔ یہ اس زمانہ کا واقعہ ہے کہ حضرت حمزہ مسلمان ہوچکے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھی بڑھتے جارہے تھے۔ قریش نے کہا : ابوالولید ! ایسا ہی کرو، ان کے پاس جاؤ اور بات کرو۔ عتبہ اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا : میرے بھتیجے ! تم جانتے ہو کہ تمہاراکنبہ وسیع ہے اور نسبی لحاظ سے بھی تمہارا ایک خاص مقام ہے لیکن تم نے ایک بری بات کی ہے جس سے قریش کی جماعت میں تم نے پھوٹ ڈال دی اور سب کو بیوقوف قرار دیا اور ان کے معبودوں کی خرابیاں بیان کیں اور ان کے گزشتہ باپ داداکو کافر بتایا۔ ذراکان لگاکرمیری بات سنو، میں چندچیزیں تمہارے سامنے رکھتا ہوں تم ان پر غورکرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابو الولید ! کہو کیا باتیں ہیں ؟ عتبہ نے کہا : بھتیجے ! اگر تم جو کہتے ہو اس سے تمہارا مقصد مال کا حصول ہے تو ہم تمہارے لیے اتنا جمع کردیں گے کہ تم ہم سب سے زیادہ مال دارہوجاؤ گے اور اگر سرداری کے طلبگار ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بنالیں گے اور اگر تم کو کچھ دکھائی دیتا ہے (یعنی جنون یا جن کا اثر ہے) توہم تمہاراعلاج تلاش کریں گے اور ممکن ہے یہ عرہوں جو تمہارے سینہ سے ابلتے ہوں (اور تم ان کو روک نہ سکتے ہوتواے بنی مطلب ! تم کو اس (شاعری) پر وہ قدرت حاصل ہے جو دوسروں کو نہیں ہے ۔ جب عتبہ بات ختم کرچکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوالولید ! کیا تم اپنی بات پوری کرچکے ؟ عتبہ نے کہا : جی ہاں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تواب میری سنو۔ عتبہ نے کہا : سناؤ۔ حضور ﷺ نے پڑھنا شروع کیا، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، حم، تنزیل من الرحمن الرحیم، کتب فصلت ایتہ قرانا عربیا، حضور ﷺ پڑھ رہے تھے اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پشت کے پیچھے لٹکائے، ان پر سہارالگائے خاموشی کے ساتھ کان لگائے من رہا تھا ۔ جب حضور ﷺ آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور فرمایا : ابوالولید ! یہ تمہاری بات کا جواب ہے۔ عتبہ فورا اٹھ گیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف چل دیا۔ اہل مجلس میں سے ایک دوسرے سے خدا کی قسم کھاکرکہا : ابوالولید ! جو خیال لے کر گیا تھا، اس کے خلاف خیال لے کر واپس آرہا ہے۔ جب عتبہ آکربیٹھ گیا تو لوگوں نے پوچھا ابوالولید ! کیا خبرلائے ؟ عتبہ نے کہا : یہ خب رہے کہ میں نے ایسا کلام سنا کہ خدا کی قسم ! میں نے ویسا کلام کبھی نہیں سنا، نہ وہ شع رہے، نہ جادو، نہ کہا نت۔ برادران قریش ! میراکہامانو، اس شخص کو یونہی چھوڑدو، جو کچھ کررہا ہے کرنے دوتم کچھ تعرض نہ کرو، اس سے علیحدہ رہو۔ جو بات میں نے اس سے سنی ہے، خدا کی قسم ! اس کی کچھ حقیقت ہوکر رہے گی۔ اگر عرب اس پر کامیاب ہوجائیں گے تو تمہاراکام ہوجائے گا اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت اور اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی، اس کی وجہ سے تم بڑے خوش نصیب ہوجاؤگے۔ قریش نے کہا : ابوالولید ! واللہ ، اس نے تیرے اوپر جادو کردیا ہے۔ عتبہ نے کہا : میراتمہارے لیے یہی مشورہ ہے، اب تم جوچاہوکرو۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

تفسیر 15۔ ، فاما عاد فاستکبروافی الارض بغیر الحق وقالو امن اشدمنا قوۃ، پھر وہ جو عاد کے لوگ تھے، وہ دنیا میں ناحق تکبر کرنے لگے اور کہنے لگے : وہ کون ہے جو طاقت میں ہم سے بڑھ کر ہے ؟ ، فاستکبروا، یعنی بغیر استحقاق کے دوسرے لوگوں سے اپنے کو بڑا اور برتر سمجھنے لگے۔
Ayah 41:17

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ انکو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) انکو مدد بھی نہ ملے گی

16، فارسلنا علیھم ریحا ضرصرا، سخت ہوا، من الصرۃ، سے ماخوذ ہے چیخ۔ بعض نے کہا کہ سخت سردی کی ہوا۔ فی ایام نحسات، حاء کے سکون کے ساتھ ۔ دوسرے قراء نے حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ضحاک (رح) کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر تین سال بارش کا قحط لگائے رکھا اور ان پر لگاتار ہوائیں چلتی رہیں بغیر بارش کے۔ ، لنذیقھم عذاب الخزی ، ہول اورز (رح) لت والا عذاب۔ فی الحیوۃ الدنیا والعذاب الا خرۃ اخزی، سخت اہانت والا ۔ ، وھم لاینصرون،
Ayah 41:18

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو انکے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا

17، واما ثمود فھدیناھم، ہم نے ان کو پکارا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے ہم نے ان کے لیے راستہ واضح کردیا۔ بعض نے کہا ہم نے ان کے لیے خیر اور شرکاراستہ اختیار کرلیا۔ ، فاسحبوا العمی علی الھدی، ان کو اختیار دے دیا، ایمان یاکفرکا۔ ، فاخنتھم صاعقۃ العذاب، ہلاک کرنے والا عذاب۔ ، الھون، جوان کو ذلیل ورسوا کردینے والا۔ ، بماکانو ایکسبون،
Ayahs 41:19–20

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے

19، ویوم یحشراعداء اللہ الی النار، نافع اور یعقوب رحمہما اللہ نے، نحشر، نون کے ساتھ اور ، اعداء ، نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء اور اس کے پیش اور شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، اعداء کو مرفوع پڑھا ہے۔ یعنی وہ جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ ، فھم یوزعون، ہانکے جائیں گے جہنم کی طرف ۔ قتادہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے پہلے لوگوں کو روکاجائے گا، پچھلوں کے لیے تاکہ وہ مل جائیں۔
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضاء) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

20، حتی اذا ماجاؤوھا، وہ جہنم پر آجائیں گے۔ ، شھدعلیھم سمعھم وابصارھم وجلودھم ، یعنی ان کے چمڑے۔ ، بما کانوا یعملون، سدی (رح) اور جماعت کہتی ہے کہ جلود سے شرم گاہیں مراد ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان کے اعضاء ان اعمال کو بیان کریں گے جن کو ان کی زبانوں نے چھپالیا ہوگا۔
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

21، وقالوا، یعنی کفار جو جہنم کی طرف جمع کیے جائیں گے۔ ، لجلودھم لم شھدتم علینا قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شیئ، یہاں بات پوری ہوگئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، وھو خلقکم اول مرۃ، یہ ان کے اعضاء کا جواب نہیں ہے۔ ، والیہ ترجعون،
Ayah 41:23

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

22، وما کنتم تستترون ، یعنی جو تم ملکاسمجھتے ہو یہ معنی اکثر اہل علم کے نزدیک ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تم بچتے ہو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تم گمان کرتے ہو۔ ، ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم جلودکم ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم کثیرامما تعملون، حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بیت اللہ کے پاس دد قبیلہ ثقیف کے آدمی اور ایک قریش کا آدمی جمع ہوگئے یادوقریشی اور ایک ثقفی۔ ان کے پیٹوں پرچربی بہت زیادہ اور دلوں میں سمجھ بہت کم تھی ، ان میں سے ایک کہنے لگا کیا تمہاراخیال ہے کہ جو ہم کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سن لیتے ہیں ؟ تو دوسراکہنے لگا اگر ہم بلند آواز سے بولیں تو سن لیتے ہیں اور اگر آہستہ بولیں تو نہیں سنتے تو تیسراکہنے لگا کہ اگر وہ ہماری بلند آوازکوسن لیتا ہے تو ہماری پوشیدہ آواز کو بھی سن لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، وماکنتم تستترون ان یشھد علیکم سمعکم ولاابصارکم ولا جلود کم ولکن ظننتم ان اللہ لایعلم کثیرا مما تعملون، کہاگیا ہے کہ ثقفی عبد یالیل تھا اور اس کے دوقریشی ساتھی ربیعہ اور صفوان بن امیہ تھے۔
Ayah 41:24

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

23، وذلکم ظنکم الذی ظننتم بربکم ارداکم، تمہیں ہلاک کردیا یعنی تمہارے اس گمان نے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اکثر اعمال کو نہیں جانتے تمہیں ہلاک کردیا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تمہیں آگ میں ڈال دیا ہے۔ ، فاصبحتم من الخاسرین، پھر ان کے مال کی خبردیتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر یہ توبہ کریں گے تو انکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

تفسیر 24۔۔۔۔۔۔ ، فان یصبروافاظنار مثوی لھم، ان کا ٹھکانہ ہے۔ ، وان یستعتبوا، وہ رضاکوطلب کریں اور عتبہ کو تلاش کریں۔ ، فماھم من المعتبین، معتب وہ شخص جس کا عتاب قبول کرلیا گیا ہو اور اس نے جو مانگا ہو اس کو قبول کرلیا گیا ہو۔ کہاجاتا ہے، اعتبنی فلان، یعنی اس نے مجھے ناراض کرنے کے بعد راضی کردیا اور، استعتبہ ، یعنی میں نے اس سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھ سے راضی ہوجائے۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں) کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

25، وقضینالھم، یعنی ہم نے بھیجا اور سپر کیا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے تیار کیا اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کا سبب بنایا۔ ، قرنائ، شیطانوں میں سے نظررکھنے والے جنہوں نے ان کو گمراہ کردیا۔ ، فزینوالھم مابین ایدیھم، دنیا کے معاملہ میں سے حتی کہ انہوں نے اس کو آخرت پر ترجیح دی۔ ، وما خلفھم، آخرت کے معاملہ سے۔ پس انہوں نے اس کو اس کی تکذیب اور بعث کے انکار کی طرف بلایا۔ ، وحق علیھم القول فی امم، امتوں کے ساتھ۔ ، قد خلت من قبلھم من الجن والانس انھم کانواخاسرین،
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

26، وقال الذین کفروا، قریش کے مشرکین میں سے، لاتسمعوالھذا القرآن والغوفیہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس میں شوروغل کرو اور وہ ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ جب تم محمد ﷺ کو قرآن پڑھتے دیکھوتو اس کے مقابلے میں شعرورجزیہ کلمات اور لغوباتیں شروع کردیا کرو۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں لغوکروتالیاں اور سیٹیاں بجا کر۔ اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ تم باتیں زیادہ کرنا شروع کردو، جو وہ کہہ رہے ہوں گے وہ ان پر خلط ملط ہوجائے گا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے سامنے چیخنا شروع کردو۔ ، لعلکم تغلبون، محمد ﷺ سے ان کی قرأت پر۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

27، فلندیقن الذین کفروا عذابا شدیداولنجزینھم اسوا الذی، یعنی ان کے برے افعال کی وجہ سے۔ ، کانوایعملون، دنیا میں اور وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

28، ذلک، جو میں نے سخت عذاب ذکر کیا۔ ، جزاء اعداء اللہ، پھر اس جزاء کو بیان کرتے ہوئے فرمایا، النار، یعنی وہ جزاء آگ ہے۔ ، لھم فیھا، یعنی آگ میں ، دارالخلد، ایسارہائشی ٹھکانہ ہے جس سے کہیں اور منتقل نہ ہوسکیں گے۔ ، جزآء بماکانوابایاتنا یجحدون،
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

29، وقال الذین کفروا، یعنی آگ میں کہیں گے۔ ، ربنا ارنا الذین اضلانامن الجن والانس، اس سے ان کی مراد ابلیس اور قابیل بن آدم ہیں جس نے اپنے بھائی کو قتل کرکے گناہ کا طریقہ جاری کیا۔ ، نجعلھما تحت اقدامنا، آگ میں، لیکونا من الاسفلین، تاکہ وہ دونوں جہنم کے نچلے درجہ میں ہوجائیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ تاکہ ان دونوں پر ہم سے سخت عذاب ہو۔
Ayah 41:31

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

استقامت سے کیا مراد ہے تفسیر 30۔ ، ان الذین قالواربنا اللہ ثم استقاموا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے استقامت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ استقامت یہ ہے کہ امر اور نہی پر قائم رہ جائے اور لومڑی کی طرح پنیترے نہ بدلے اور حضرت عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا کہ خالص اللہ کے لیے عمل کرو اور حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ فرائض کو ادا کرو اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ فرائض کی ادائیگی پر ڈٹ جاؤ اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کے حکم پر ڈٹ جاؤ۔ پس اس کی فرمانبرداری والے کام کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ مجاہد اور عکرمہ رحمہما اللہ نے فرمایا کہ اس بات کی گواہی پر ڈ ٹ جاؤ کہ سوا کوئی معبود نہیں ہے حتی کہ اللہ کو جاملو اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ معرفت پر ڈٹ جاؤ اور مرتدنہ ہو اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حسن (رح) جب یہ آیت تلاوت فرماتے تو فرماتے ، اللہ ربنا فارزقنا الا ستقامۃ، اے اللہ ! تو ہمارا رب ہے، ہمیں استقامت عطافرما۔ ، تتنزل علیھم الملائکۃ، ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ موت کے وقت۔ قتادہ اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ اپنی قبروں سے کھڑے ہوں گے۔ وکیع بن جراح (رح) فرماتے ہیں کہ خوشخبری تین جگہوں میں ہوگی۔ موت کے وقت اور قبر میں اور بعث کے وقت۔ ، ان لاتخافوا، موت سے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ تم اس پر نہ ڈروجوتم نے آگے آخرت کے لیے بھیجا ہے۔ ، ولا تحزنوا، اس پر جو تم نے پیچھے اہل و عیال چھوڑے ہیں کیونکہ ان تمام کے بارے میں ہم تمہارے پیچھے نگران ہیں اور عطاء بن ابی رباح (رح) فرماتے ہیں کہ اپنے اپنے گنا ہوں پر غم نہ کرو اور ڈرومت کیونکہ میں نے ان کو معاف کردیا۔ ، وابشروابالجنۃ التی کنتم توعدون،
Ayah 41:32

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

31، نحن اولیاؤکم، یہ بات ان کو وہ فرشتے کہیں گے جوان پر بشارت کے ساتھ اتریں گے کہ ہم تمہارے دوست ، تمہارے مددگار اور تمہارے محبوب ہیں۔ ، فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ، یعنی دنیا وآخرت میں ۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتے کہیں گے کہ ہم تمہارے محافظ ہیں جو تمہارے ساتھ دنیا میں تھے اور آخرت میں ہم تمہارے اولیاء ہیں کہیں گے اب ہم تمہارے جنت میں داخل ہونے تک تم سے جدانہ ہوں گے۔ ، ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم، اعزازات اور لذتوں میں سے۔ ، ولکم فیھا، جنت میں ، ماتدعون، جو تم خواہش کرو۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

(32۔ 33) ۔۔۔۔۔۔ نزلا، رزق ہے۔ ، من غفوررحیم ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ ، اس کی طاعت کی طرف۔ ، وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین، ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ ہیں کہ اس بات کی گواہی کی طرف بلایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ مؤمن ہے جس نے اللہ کی اس بات کی گواہی کی طرف بلایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ مؤمن ہے جس نے اللہ کی دعوت پر لبیک کہا اور خود جو بات قبول کی ، لوگوں کو بھی اس کی طرف بلایا اور پھر نیک عمل کیے اور کہا، اننی من المسلمین، بیشک میں تو مسلمانوں میں سے ہوں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میراخیال ہے کہ یہ آیت مؤ ذنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور عکرمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مؤذن ابوامامہ باہلی ؓ ہیں اور عمل صالحا کہ اذان و اقامت کے درمیان دو رکعت پڑھے اور قیس بن حازم (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اذان و اقامت کے درمیان نماز ہے۔ ہردواذانوں کے درمیان نماز ہے حضرت عبد اللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دواذانوں کے درمیان نماز ہے۔ یہ ارشاد تین مرتبہ فرمایا۔ پھر تیسری مرتبہ فرمایا، لمن شائ، جو چاہے اس کے لیے۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے۔ سفیان (رح) اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ سے مرفوع حدیث ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ اذان و اقامت کے درمیان دعاء رد نہیں کی جاتی۔
Ayahs 41:34–35

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ؟

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے

تفسیر 34، ولاتستوی الحسنۃ ولاالسیئۃ، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ ، لا، یہاں صلہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ، ولاتستوی الحسنۃ والسیئۃ، یعنی صبر اور غصہ اور بردباری و جہالت اور معافی اور برائی۔ ، ادفع بالتیھی احسن، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غصہ کے وقت صبرکاحکم دیا اور جہالت کے وقت بردباری کا اور برائی کے وقت معافی کا۔ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ غصہ کے وقت صبر کا حکم دیا اور جہالت کے وقت بردباری کا اور برائی کے وقت معافی کا۔ ، فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ، یعنی جب تو یہ کرے گا تو تیرادشمن تیرے لیے پست ہوجائے گا اور تو اور تیرادشمن ایسے ہوجاؤگے، کانہ ولی حمیم، جیسے دوست اور قریبی تعلق دار۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ابوسفیان بن حرب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے کہ یہ مسلمانوں سے سخت دشمنی کے بعد نبی کریم ﷺ کے ، صھری، مسرہونے کی وجہ سے نرم ہوگیا۔ پھر جب اسلام لائے تو اسلام کے ولی اور حمایتی ہوگئے۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں

35، وما یلقاھا، اور یہ عادت نہیں دیاجاتا ہے۔ یعنی برائی واچھائی کے ذریعے دور کرنے کی۔ ، الا الذین صبروا، غصہ کو پینے اور ناپسند چیز کو برداشت کرنے پر۔ ، وما یلقھا الاذوحظ عظیم، خیر اور ثواب میں ۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ حظ عظیم جنت ہے۔ یعنی یہ نہیں دیاجاتامگر وہ شخص جس کے لیے جنت واجب ہوچکی۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ سنتا (اور) جانتا ہے

36، واما ینزغنک من الشیطان نزغ فاستعذ باللہ انہ ھوالسمیع ، آپ کے پناہ طلب کرنے اور آپ کے اقوال کو، العلیم، آپ کے افعال و احوال کو۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اسکی نشانیوں میں سے ہیں تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

37، ومن آیہ اللیل والنھار والشمس والقمر لاتسجدواللشمس ولا للقمر واسجد واللہ الذی خلقھن، یہاں ، خلقھن، مؤ نث ضمیر کے ساتھ اس وجہ سے کہا ہے کہ اس کو جمع مکسر کے طریقہ پر جاری کیا ہے اور یہاں مذکرکو مؤنث پر غلبہ دینے کے طریقہ پر جاری نہیں کیا۔ ، ان کنتم ایاہ تعبدون،
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو خدا کو بھی انکی پرواہ نہیں جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں

38، فان استکبروا، سجدوں سے۔ ، فالذین عند ربک ، یعنی فرشتے۔ ، یسبحون لہ باللیل والنھاروھم لایسامون، نہ وہ اکتاتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر 39۔۔۔۔۔۔ ، ومن آیایتہ، اس کی قدرت کے دلائل میں سے۔ ، انک تری الارض خاشعۃ، خشک غبار آلود اس میں کوئی چیزنہ اگی ہو۔ ، فاذا انزلنا علیھا الماء اھتنزت وربت ان الذی احیاھالمحی الموتی انہ علی کل شیء قدیر،