40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 40:1

حٰمٓۚ Open ayah 40:1 in the Quran reader

شروع اللہ کے نام کے ساتھ جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے

خواص سورة غافر 1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص جنت کے سرسبز باغات کا مالک بننا چاہتا ہے تو اسے وہ ، حم، والی سورتوں کو پڑھنا چاہیے۔ 2، حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہر شی کا مغزہوتا ہے اور قرآن کریم کا مغزحم دالی سورتیں ہیں۔ 3، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جو شخص حم المومن سے لے کر الیہ المصیر تک اور آیۃ الکرسی صبح کے وقت پڑھے وہ شام تک محفوظ رہے گا اور اگر شام کو پڑھے وہ صبح تک حفاظت میں رہے گا۔ 4، اور اسی طرح دعامانگنی چاہیے۔ یاغافر الذنب اعفرلی یا قابل التوب تقبل توبتی یاشدید العقاب اعف عنی یاذا الطول تطول علی بخیرک 5 اگر یہ سورة رات کے وقت لکھ کر باغ یادکان کی دیوار لگائی جائے تو اس میں بہت برکت ہوگی۔ 6، اگر کسی آدمی کو زخم ہوں تو اس کے گلے میں سورة غافرلکھ کر پہنادی جائے اس کے زخم اچھے ہوجائیں گے۔ 7، اگر اس سورة کو لکھ کر اس کے پانی سے آٹا گوندھ کروروٹی پکالی جائے۔ جب وہ روٹی سوکھ جائے تو پیس کر برتن میں محفوظ کر کے رکھ دے۔ جس آدمی کے دل یاجگر یاتلی میں دردررہتا ہوا سے وہ سفوف تھوڑاساکھلایاجائے یاپلایاجائے درد ختم ہوجائے گا۔ رفیع الدرجات ذوالعرش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الحساب اگر کسی سے کوئی معلومات حاصل کرنی ہوں اور وہ نہ بتارہا ہو تو اس آیت کو ہرن کے چمڑے پر جب وہ سویا ہواہوخواہ مرد ہے یا عورت اس کے سینہ پر رکھ دی جائے تو خود بخودیتا دے گا بشرطیکہ اس کے ان رازوں کی کسی اور کو خبرنہ دی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی پردہ پوشی پسند ہے۔ فستذکرون مااقول لکم۔ پوری آیت جو شخص ان آیات کو لکھ کرپ اس رکھے تو ظالم اسے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ الذی جعل لکم الانعام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنکرون اگر کسی دودھ والے جانور کادودھ کم ہوگیا ہو تو یہ آیت کسی پاک صاف برتن میں لکھ کر اس پانی سے دولے جس پر کبھی زھوپ نہ پڑی ہو پھر اس دودھ والے جانورکوپلادے اور اس کے کھانے والے چارہ پر بھی چھڑکے تو دودھ بہت ہوجائے گا۔ 1، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص حم السجدہ پڑھے اسے اس سورة کے حروف کا دس گناثواب ملتا ہے۔ 2، جو شخص اس سورة کو لکھ کر گلے میں ڈالے پابارش کے پانی سے دھوکر اس پانی سے سرمہ پیسے تو وہ سرمہ آنکھ کی سفیدی اور رمد اور ناخنہ وغیرہ آنکھ کی بیماریوں میں مفید ہے اور اگر سرمہ نہ ملے تو اسی پانی سے آنکھوں کو دھوتا رہے۔ سنریھم آیاتنا۔۔۔۔۔۔۔۔ سورة کے اخیرتک جب کوئی مظلوم بےکس ہو اس لئے وہ ظالم کو ظلم سے روک نہ سکتا ہو تو ان آیات کو کسی نابالغ کنواری لڑکی کے کپڑے کے ٹکڑے میں لکھے اور اس کے بعد یہ لکھے۔ کذلک یری اللہ فلان بن فلانۃ لغلان بن فلانۃ بحولہ وقوتہ من آیاتہ العظمی وقدرتہ الباھر مایروع حالہ ، ویقل فی الظلم عزمہ ویصمت السانہ پھر اس کو نابالغ لڑکی کے ہاتھ سے ظالم کے سرہانے کے نیچے اس طریقہ سے رکھوائے کہ اسے معلوم نہ ہو تو وہ ظالم خواب میں ایسے نظارے دیکھے گا جن سے خوفزدہ ہوکروہ اپنے ظلم وستم سے رک جائے گا۔ یہ مکی ہے اور اس کی پچاسی آیات ہیں ۔ ابوالا حوص نے حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنے گھروالوں کے لیے ٹھکانہ تلاش کرنے کے لیے چلاتو اس کا گزربارش کے زیراثر (سرسبز) جگہ سے ہواتو وہ اس میں تعجب کرتا ہواچلتا جارہا تھا کہ اچانک وہ سرسبز باغات پر پہنچا تو کہنے لگا کہ میں پہلی جگہ سے تعجب کررہا تھا۔ یہ اس سے بھی زیادہ عجیب ہے تو اس کہا گیا کہ پہلی بارانی زمین کی مثال قرآن کی عظمت کی مثال ہے اور ان سرسبز باغوں کی مثال قرآن میں آل ، حم، کی مثال ہے۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہرچیز کا ایک خلاصہ (مغز) ہوتا ہے اور قرآن کا مغزحوامیم ہیں اور ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں آل حم میں واقع ہوجاؤں تو میں ایسے باغات میں چلا جاتا ہوں کہ ان سے میوے حاصل کرتا ہوں ۔ سعد بن ابراہیم (رح) فرماتے ہیں کہ آل حوامیم کا نام دلہنیں رکھا جاتا تھا۔
Ayahs 40:2–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

حم

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب و دانا کی طرف سے ہے

تفسیر 1۔ ، حم، حروف تہجی کے بارے میں کلام پہلے گزرچکی ہے۔ سدی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ، حم، اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے اور عکر مہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ، الرو ثم ، اور نون رحمن کے حروف تہجی ہیں اور سعید بن جبیر اور عطاء خراسانی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ حاء اللہ تعالیٰ کے اسماء حکیم ، حمید، حی ، حلیم، حنان کا پہلاحرف ہے اور میم اس کے اسماء ملک ، مجید، منان کا پہلاحرف ہے اور ضحاک وکسائی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو چیزیں آئندہ ہونے والی ہیں اللہ نے ان کا فیصلہ کردیا ہے۔ گویا کہ انہوں نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کا معنی ، حم، حاء کے پیش اور میم کی شد کے ساتھ ہے اور حمزہ کسائی اور ابوبکر رحمہم اللہ نے ، حم، کو حاء کی زیر اور باقی حضرات نے حاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کی طرف پھر کر جانا ہے

3 غافرالذنب، گناہوں پر پردہ ڈالنے والا ۔ ، وقابل التوب ، یعنی توبہ کر یہ مصر رہے۔ ، تاب، یتوب، توبا، اور کہا گیا ہے کہ ، توب، توبۃ، کی جمع ہے جیسے ، دومۃ ، اور دوم حومۃ اور حوم ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں، غافرالذنب، اس شخص کے لیے ہے جس نے لاالہ الا اللہ کہا (وقابل التوب) اس شخص کیلئے جس نے، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کہا (شدید العقاب) اس شخص کیلئے جس نے لاالہ الا اللہ نہ کہاہو۔ ، ذی الطول، مستغنی ہے ان سے جو، لا الہ الا اللہ ، نہ کہیں۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ذی الطول یعنی وسعت اور غنی والا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ فضل والا ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں نعمتوں والا ہے اور کہا گیا ہے کہ قدرت والا ہے اور طول کی اصل وہ انعام ہے جس کی مدت صاحب انعام پر لمبی ہو۔ ، لا الا ھوالیہ المصیر،
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

تفسیر 4۔ ، مایجادل فی آیا ت اللہ ، تکذیب و انکار کے ذریعے اللہ کی آیات مقابلہ کرنے میں ، الا الذین کفروا، ابوالعالیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ دوآیتیں ان لوگوں کے بارے میں سخت ہیں جو قرآن کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ۔ ، مایجادل فی آیات اللہ الا الذین کفروا، اور، ان الذین اختلفوافی الکتاب لفی شقاق بعید، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بیشک دجال نے قرآن میں کفر کیا ۔ حضرت عمر وبن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے چندلوگوں کوسنا کہ وہ قرآن میں جھگڑاکر رہے ہیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ اللہ کی کتاب کے بعض کو بعض پر مار نے لگے (تقابل کرنے لگے) حالانکہ اللہ کی کتاب اپنے دوسرے حصہ کی تصدیق کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے تو تم اس کے ایک حصہ سے دوسرے کی تکذیب نہ کیا کرو۔ پس جو تم اس کا علم رکھتے ہو اس کو کہو اور جس سے ناواقف ہو تو اس کو اس کے عالم کی طرف سپرد کردو۔ فلایغررک تقلبھم فی البلاد، ان کا شہروں میں تجارت کے لیے آنا جانا اور کفر کے باوجود محفوظ رہنا کیوں کہ ان کے معاملہ کا انجام عذاب ہے۔ اس کی نظیرقول باری تعالیٰ ، لایغرنک تقلب الذین کفروافی البلاد، ہے۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور امتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بےہودہ (شبہات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

5، کذبت قبلھم قوم نوح والاحزاب من بعد ھم، یہ وہ کافر ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اپنے انبیاء کی تکذیب کے لیے گروہ بنالیے۔ ، وھمت کل امۃ برسلھم لیا خذوہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تاکہ اس کو قتل کردیں اور اس کو ہلاک کریں اور کہاگیا ہے تاکہ ان کو قید کرلیں کیوں کہ قیدی کو اخیذکہتے ہیں۔ ، وجادلوا بالباطل لیدحضوا، تاکہ وہ باطل کردیں ۔ ، بہ الحق، ایسا کہ جس کو رسول لائے ہیں اور ان کا جھگڑا ان کے اس قول ، ان انتم الا بشرمثلنا، اور، لولاانزل علینا الملائکۃ ، اور اس کی مثل تھا۔ ، فاخذتھم فکیف کان عقاب،
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں

6، وکذلک حقت کدمۃ ربک ، یعنی جیسے کلمہ عذاب جھٹلانے والی امتوں پر ثابت ہواوی سے ہی، علی الذین کفروا، آپ (علیہ السلام) کو قوم میں سے ، انھم اصحاب النار، اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ ، لا نھم اوبانھم ، یعنی اس لیے یا اس وجہ سے کہ وہ جہنم والے ہیں۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اسکے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کیلئے بخشش مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ سے بچا لے

تفسیر 7۔ ، الذین یحملون العرش ومن حولہ، عرش کو اٹھا نے والے اور اس کا چکر لگانے والے کروبین ہیں اور یہ فرشتوں کے سردار ہیں۔ حاملین عرش اور دوسرے ملائکہ کے بارے میں فیصلہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرش کو اٹھا نے والے فرشتوں کے ٹخنوں سے پاؤں کے نچلے حصے تک سو سال کی مسافت ہے اور روایت کیا گیا ہے کہ ان کے پاؤں زمین کی گہرائی میں ہیں اور آسمان ان کے نصف بدن تک آتے ہیں اور وہ یہ تسبیح کرتے ہیں، سبحان ذی العزۃ والجبروت سبحان ذی الملک والملکوت سبحان الحی الذی لایموت سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح، اور میسرۃ بن عبدربہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاؤں نچلی زمین میں اور ان کے سرعرش کے نیچے ہیں اور وہ خشوع کی حالت میں ہیں ۔ اپنے سر نہیں اٹھا تے، یہ ساتویں آسمان والوں سے زیادہ خوف رکھتے ہیں اور ساتویں آسمان والے اپنے سے نچلے آسمان والوں سے زیادہ سخت خوف رکھتے ہیں اور اس آسمان والے اپنے سے نچلے آسمان والوں سے زیادہ سخت خوف رکھتے ہیں اور مجاہدہ (رح) فرماتے ہیں کہ فرشتوں اور عرش کے درمیان نور کے سترپردے ہیں اور محمد بن منکدر (رح) نے حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اجازت دی گئی کہ میں عرش کو اٹھا نے والے اللہ کے فرشتوں میں سے کسی ایک سے گفتگوکروں۔ اس کے کانوں کی لو سے اس کے کندھے تک سات سو سال کی مسافت تھی۔ جعفر بن محمد عن ابیہ عن جدہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ عرش پایوں میں سے ایک پائے سے دوسرے پائے تک تیز رفتار اڑنے والے پرندے کے تیس ہزار سال اڑنے کی مسافت اور عرش کو ہر دن نور کے ستر ہزار رنگ چڑھائے جاتے ہیں۔ اللہ خالی مخلوق میں سے کوئی اس کی طرف دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اور تمام اشیاء عرش میں ایسے ہیں جیسے ایک انگوٹھی چٹیل میدان میں ہو اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ساتویں آسمان اور عرش کے درمیان سترہزار نور کے حجاب ہیں اور ظلمت (تاریکی) ونور کے حجاب اور ظلمت (تاریکی) کے حجاب ہیں۔ وہب بن منبہ (رح) فرماتے ہیں کہ عرش کے اردگرد فرشتوں کی سترہزار صفیں ہیں آگے پیچھے ستر ہزار صفیں ہیں ان کے ہاتھ ان کی گردنوں کی طرف ہیں جن کو انہوں نے کندھوں پر رکھا ہوا ہے۔ پھر جب یہ ان لوگوں کی تکبیر وتہلیل سنتے ہیں تو اپنی آوازوں کو بلند کرتے ہیں اور کہتے ہیں، سبحانک وبحمدک مااعظمک واجلک انت اللہ لا الہ غیرک انت الاکبرالخلق کلھم لک راجعون، اور ان کے پیچھے فرشتوں کی ایک لاکھ صفیں ہیں، انہوں نے دائیں ہاتھ بائیں ہوتھوں پر رکھے ہوئے ہیں ان میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا الفاظ میں تسبیح کہتا ہے، ان میں سے ایک کے دونوں پروں کے درمیان تین سو سال کی مسافت ہے اور اس کے کان کو لو سے کے کندھے تک چارسوسال کی مسافت ہے اور اللہ تعالیٰ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں سے سترآگ کے پردوں اور ستر تاریکی کے پردوں اور ستر نور کے پردوں اور ستربرف کے پردوں اور ستر پانی کے پردوں اور ان چیزوں کے ذریعے پوشیدہ ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ فرمایا اور ان حاملین عرش فرشتوں اور ان کے اردگرد کے فرشتوں کے لیے چارچہرے ہیں ایک بیل کا، ایک شیرکا، ایک گدھ کا، ایک انسان کا اور ان میں سے ہر ایک کے چارپر ہیں۔ دوپر اس کے چہرے پر ہیں اس خوف سے کہ وہ عرش کی طرف دیکھے گا توبیہوش ہوجائے اور دوپر تو وہ ان پرندوں کی طرح ان کو حرکت دے کر اڑ سکتا ہے۔ ان کی کلام صرف تسبیح وتحمید ہے۔ ، یسبحون بحمد ربھم ویؤمنون بہ، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ شہربن حوشب ؓ فرماتے ہیں کہ عرش کو اٹھا نے والے آٹھ ہیں ، ان میں سے چار یہ کہتے ہیں، سبحان اللھم وبحمدک لک الحمد علی حلمک بعد علمک، اور ان میں سے چاریہ کہتے ہیں، سبحانک اللھم وبحمدک لک الحمد علی عفوک بعد قدرتک، اور گویا کہ وہ سب بنی آدم کے گناہوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ، ویستغفرون للذین امنواربنا، یعنی وہ کہتے ہیں ، ربنا، (اے ہمارے پروردگار) ، وسعت کل شیء رحمۃ و علما ، کہا گیا ہے کہ نصب تفسیر کی وجہ سے ہے اور کہا گیا ہے کہ نقل کی بناء پر ہے یعنی تیری رحمت اور تیراعلم ہرچیز پر وسیع ہے۔ ، فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک، تیرے دین کو، وقھم عذاب الجحیم ، طرف (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے مؤمن بندوں کے سب سے زیادہ خیرخواہ فرشتے ہیں اور مخلوق میں سب زیادہ مؤ منین کے مخالف شیاطین ہیں ۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو انکے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی بیشک تو غالب حکمت والا ہے

8، ربنا وادخلھم جنات عدن التی وعدتھم ومن صلح، ایمان لایا، من آبائھم وازواجھم وذریاتھم انک انت العزیز الحکیم، سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ مؤمن جنت میں داخل ہوگا توک ہے گا کہ میراباپ کہا ہے ؟ میری ماں کہا ہے ؟ میری اولاد کہاں ہے ؟ میری بیوی کہاں ہے ؟ تو کہاجائے گا کہ انہوں نے تیرے جیسے عمل نہیں کیے تو وہ کہے گا کہ میں نے اپنے لیے اور ان کے لیے عمل کیے تھے تو کہاجائے گا کہ تم ان کو بھی جنت میں داخل کردو۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

اور انکو عذابوں سے بچائے رکھ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بیشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

9، وقھم السیئات، سزاؤں سے، ومن تقی السیئات ، یعنی اور جس کو تو سزاؤں سے بچالے اور کہا گیا ہے کہ برائیوں کی جزاء سے۔ ، یومئذ فقد رحمتہ وذلک ھوالفوزالعظیم،
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو

10، ان الذین کفرواینادون، قیامت کے دن اور وہ آگ میں ہوں گے اور وہ اپنے نفس کو رنجیدہ کرچکے ہوں گے جب ان پر ان کی برائیاں پیش کی گئی ہوں گی اور عذاب کا مشاہدہ کرچکے ہوں گے تو ان کو کہاجائے گا۔ ، لمقت اللہ اکبرمن مقتکم انفسکم اذتدعون الی الا یمان فتکفرون، یعنی جب دنیا میں تم کو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم انکار تو اس وقت تم پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس سے بڑھی ہوئی تھی جو آج تم پر عذاب اترنے کے وقت تمہیں ہورہی ہے۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے ؟

11، قالو اربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثئتین، ابن عباس ؓ اور قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں مردہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں زندہ کردیا۔ پھر ان کو وہ موت دی جس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ پھر ان کو زندہ کرے گا بعث کے لیے قیامت کے دن ۔ پس یہ دوموتیں اور دوزندگیاں ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتافاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ، کی طرح ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں دنیا میں موت دیئے گئے پھر ان کو زندہ کیا جائے قبر میں سوال کے لیے۔ پھر ان کو موت دی جائے گی ان کی قبروں میں، پھر آخرت میں زندہ کیے جائیں گے۔ ، فاعترفنا بذنوبنا فھل الی خروج من سبیل، یعنی آگ سے دنیا کی طرف نکلنے کا کہ پھر ہم اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور تیری فرمانبرداری کے عمل کریں۔ اس کی نظیر، ھل الیٰ مرد من سبیل ، ہے۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے

12۔ ذلکم بانہ اذادعی اللہ وحدہ کفرتم، اس میں عبارت چھوڑی گئی ہے اس کی ضرورت نہ تھی کیوں کہ ظاہراس پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا مجازیہ ہے کہ ان کو جواب دیا گیا کہ اس کی کوئی راہ نہیں ہے اور یہ عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا اس وجہ سے ہے کہ تمہیں ایک خدا کی طرف بلایا گیا تو تم نے انکار کیا۔ یعنی جب لاالہ الا اللہ کہا گیا تو تم نے انکار کیا اور تم نے کہا، اجعل الا لھۃ الھاواحدا، وان یشرک بہ، اس کے غیر کو، تؤمنوا، تم اس شرک کی تصدیق کرتے ہو۔ ، فالحکم للہ العلی الکبیر، ایسا کہ نہ اس سے کوئی بلند ہے اور نہ کوئی بڑا۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

تفسیر 13۔ ، ھوالذی یریکم آیاتہ وینزل لکم من السماء رزقا، یعنی بارش جو رزق کا سبب ہے۔ ، وما یتذکر، اور ان آیات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا، الا من ینیب ، جو تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

تو خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں

14، فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین، طاعت و عبادت، ولوکرہ الکافرون،
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

وہ مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے

15، رفیع الدرجات، جنت میں انبیاء اور اولیاء کے درجات بلند کرنے والا ہے۔ ، ذوالعرش ، عرش کا خالق ومالک ہے۔ ، یلقی الروح، وحی اتارتا ہے۔ اس کو روح کا نام دیا اس لیے کہ وحی کے ذریعے دل زندہ کیے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ جسم روح کے ذریعے زندہ کیے جاتے ہیں۔ ، من امرہ، ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ اس کے فیصلہ سے اور کہا گیا ہے کہ اس کے قول سے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے حکم کے ذریعے۔ ، علی من یشاء من عبادہ لینذر، یعنی تاکہ نبی (علیہ السلام) وحی کے ذریعے ڈرائیں۔ ، یوم التلاق، اور یعقوب نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تاکہ اے محمد ! آپ ڈرائیں تلاق کے دن سے یعنی جس دن آسمان والے اور زمین والے ملیں گے۔ قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن میں خالق و مخلوق کی ملاقات ہوگی۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ بندوں کی ملاقات ہوگی اور میموں بن مہران (رح) فرماتے ہیں کہ ظالم ومظلوم اور باہم جھگڑنے والوں کی ملاقات ہوگی اور کہا گیا ہے کہ عبادت کرنے والے اور ان کے معبود ین کی ملاقات ہوگی اور کہا گیا ہے کہ اس دن میں آدمی کی اپنے عمل کے ساتھ ملاقات ہوگی۔
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی، آج کس کی بادشاہت ہے ؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے

16، یوم ھم بارزون، اپنی قبروں سے نکلیں گے بالکل ظاہرہوں گے کوئی چیزان کونہ چھپائے گی ۔ ، لایخفی علی اللہ منھم، ان کے اعمال و احوال میں سے ، شیئ، اور اللہ تعالیٰ اس دن مخلوق کے فناء ہونے کے بعد کہیں گے۔ ، لمن الملک الیوم، کوئی اللہ تعالیٰ کو جواب دینے والا نہ ہوگا تو بذات خود جواب دیتے ہوئے فرمائیں گے، للہ الواحدالقھار، جو مخلوق کو موت دے کر غالب آگیا۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی، بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

17، الیوم تجزی کل نفس بماکسبت، نیک کو اس کی نیکی اور برے کو اس کی برائی کا بدلہ دیاجائے گا۔ ، لاظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب،
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہیں ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے

18، وانذرھم یوم الازفہ، یعنی قیامت کے دن سے۔ قیامت کا یہ نام رکھا گیا ہے کیونکہ وہ قریب ہے اس لیے کہ ہر آنے والی چیز قریب ہے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کافرمان، ازفت الازفۃ، ہے۔ یعنی قیامت قریب ہوگئی۔ ، اذالقلوب لدی الحناجر، یہ اس وجہ سے دل اپنی جگہ سے خوف کی وجہ سے ہٹ کر گلے تک پہنچ آئیں گے۔ پھر وہ اپنی جگہ پر واپس نہیں جائیں گے اور ان کے منہ سے باہر بھی نکلیں گے کہ وہ مرجائیں اور راحت حاصل کرسکیں۔ ، کا ظمین، غم زدہ خوف اور غم سے بھرے ہوئے اور، کظم، غصہ اور خوف وغم کا دل میں آنا جانا جس کی وجہ سے دل تنگ ہوجائے۔ ، ماللظالمین من حمیم، کوئی قریب جوان کو نفع دے۔ ، ولا شفیع یطاع، کہ ان کے بارے میں سفارش قبول کی جائے۔
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

تفسیر 19۔ ، یعلم خائنۃ الاعین، یعنی ان کی خیانت کو اور یہ خیانت چوری چپکے ایسی چیز پر نظر پر نظر ڈالنا جس کو دیکھنا حلال نہیں ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ آنکھوں کا اس چیز کی طرف دیکھنا جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔ ، وما تخفی الصدور،
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے، بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

20، واللہ یقضی بالحق والذین ید عون من دونہ، یعنی بتوں کی۔ ، لایقضون بشی، اس لیے کہ نہ وہ کچھ جانتے ہیں اور نہ کسی چیز پر قادر ہیں۔ نافع (رح) اور ابن عمر ؓ نے، تدعون ، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، ان اللہ ھوالسمیع البصیر،
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ اس نے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا، وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا

21، اولم یسیراوافی الارض فینظرواکیف کان عاقبۃ الذین کانوا من قبلھم کانوا ھم اشد منھم قوۃ، ابن عامر (رح) نے منکم کاف کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے۔ ، وآثارافی الارض، پس ان کو اس نے نفع نہ دیا۔ ، فاخذھم اللہ بذنوبھم وماکان لھم من اللہ من واق، جوان سے عذاب دورکرے۔
Ayahs 40:23–25

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے، سو خدا نے ان کو پکڑلیا بیشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

(22) ۔۔۔۔۔۔ ، ذلک ، یعنی یہ عذاب جوان پر نازل ہوا ہے۔ ، بانھم کانت تاتیھم رسلھم بالبینات فکفروا فاخذھم اللہ انہ قوی شدید العقاب،
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

25، فلما جاء ھم بالحق من عندناقالوا، یعنی فرعون اور اس کی قوم ۔ ، اقتلوا ابناء الذین امنو امعہ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ پہلے قتل عام کے علاوہ ہے۔ اس لیے کہ فرعون بچوں کے قتل سے رک چکا تھا پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی تو بنی اسرائیل پر قتل کا اعادہ کیا تو اس کا معنی یہ ہے کہ ان پر قتل کا اعادہ کرو۔ ، واستحیوں انساء ھم، تاکہ وہ ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور مدد کرنے سے روکیں۔ ، وماکیدالکافرین ، نہیں تھا۔ فرعون اور اس کی قوم کا مکر اور حیلہ ، الا فی ضلال، یعنی ان کی تدبیر باطل ہوگئی اور ان کو اس چیز نے گھیرلیا جس کا اللہ نے ان کے بارے میں ارادہ کیا تھا۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلا لے، مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو (نہ) بدل دے یا ملک میں فساد (نہ پیدا) کردے

26، وقال فرعون، اپنے سرداروں کو، ذرونی اقتل موسیٰ ، اس نے یہ اس وجہ سے کہا کہ فرعون کی قوم کے خاص افراد میں ایسے لوگ بھی تھے جو فرعون کو ہلاکت کے خوف سے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے بازرکھتے تھے۔ ، ولیدع ربہ، یعنی اور چاہیے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کو پکاریں جس نے ان کے گمان کے مطابق ان کو ہماری طرف رسول بناکربھیجا ہے تو وہ ان کو ہم سے بچالے۔ ، انی اخاف ان یبدل، وہ تبدیل کردے۔ ، دینکم، جس تم ہو۔ ، اوان یظھرفی الارض الفساد، یعقوب اور اہل کوفہ نے، اوان یظھر، پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ، وان یظھر، پڑھا ہے اور اہل مدینہ اور بصرہ اور حفص رحمہم اللہ نے، یظھر، یاء کے پیش اور ھاء کی زیر کے ساتھ متعدی پڑھا ہے۔ ، الفساد، اس پر نصب فرمان باری تعالیٰ ، ان یبدل دینکم ، کی وجہ سے ہے تاکہ یہ دونوں فعل ایک ترتیب پر ہوجائیں اور دیگر حضرات نے یاء اور ھاء کے زبر کے ساتھ فعل لازمی پڑھا ہے۔ ، الفساد، پیش کے ساتھ اور فساد سے دین کو تبدیل کرنا اور اس (فرعون) کے علاوہ کی عبادت کرنا ہے۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

تفسیر 27۔ ، وقال موسیٰ ، جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکی دی۔ ، انی عذت بربی وربکم من کل متگبرلایئومن بیوم الحساب،
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے ؟ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا، اور اگر وہ سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا، بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہو

28، وقال رجل مؤمن من آل فرعون یکتم ایمانہ، اس مؤمن کی تعیین میں اختلاف ہے۔ سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہی کہ یہ قبطی تھا فرعون کا چچازاد بھائی اور یہ وہی شخص ہے جس کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ یوں بیان کیا، وجاہ رجل من اقصی المدینۃ یسعی، اور بعض کا قول ہے کہ یہ اسرائیلی تھا اور آیت کی اصل ترتیب یوں ہوگی، وقال رجل مؤمن یکتم ایمانہ من آل فرعون، اور ابن عباس ؓ اور اکثر علماء حمہم اللہ کے نزدیک اس کا نام حزبیل تھا۔ اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا نام جبریل تھا اور کہا گیا ہے کہ جو شخص آل فرعون میں سے ایمان لایا تھا اس کا نام حبیب تھا۔ ، اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ لان یقول الایۃ، یعنی اس لیے کہ وہ کہتا ہے کہ میراپر وردگار اللہ ہے۔ ، وقد جاء کم بلبینات من ربکم وان یک کاذبا فعلیہ کذبہ، تم کو یہ کچھ نقصان دے گا۔ ، وان یک صادقا، تم نے اس کی تکذیب کردی اس کے سچاہونے کے باوجود، یصبکم بعض الذی یعدکم ، ابو عبید (رح) فرماتے ہیں کہ بعض سے کل مراد ہے۔ یعنی اگر تم نے اس کو سچا ہونے کے باوجود قتل کردیا تو تم پر وہ عذاب آئے گا جس کا وہ وعدہ کرتا ہے۔ لیث (رح) فرماتے ہیں کہ بعض کے یہاں صلہ سے مراد یہ ہے، یصبکم الذی یعد کم، یعنی تم کو وہ چیز پہنچے گی جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے اور وہل معانی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حجاج کے بارے میں اپنے ظاہر پر ہے گویا کہ اس نے یہ کہا کہ اس کے سچا ہونے کا کم سے کم نتیجہ یہ ہے کہ تم کو اس کی وعدہ کی ہوئی بعض چیز پہنچے گی اور اس بعض میں ہی تمہاری ہلاکت ہے۔ پس بعض کا ذکر کل کو ثابت کرنے کے لیے ہے۔ ، ان اللہ لایھدی، اپنے دین کی طرف ، من ھومسرف، مشرک ہو۔ ، کذاب، اللہ پر۔ عروہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ کو کہا کہ مجھے بتائیں کہ مشرک نے رسول اللہ ﷺ کے کندھے کو پکڑلیا اور اپنا کپڑا آپ (علیہ السلام) کی گردن میں لپیٹ لیا اور خوب زور سے گلاگھونٹاتوحضرت ابوبکر ؓ آئے اور اس کے کندھے کو پکڑکر اس کو رسول اللہ ﷺ سے دور کیا اور کہا، اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جاء کم بالبینات من ربکم،
Ayah 40:30

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اے قوم ! آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اسکے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

تفسیر 29۔۔۔۔۔۔۔۔ ، یا قوم لکم الملک الیوم ظاھرین فی الارض ، ملک مصر میں غائب ہوگئے۔ ، فمن ینصرنا من باس اللہ ، کون ہمیں اللہ کے عذاب سے بچائے گا۔ ، ان جاء نا، اور معنی یہ ہے کہ آج تمہارے پاس بادشاہت ہے تو تم تکذیب اور نبی کو قتل کرکے اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دوکیوں اگر اللہ کا عذاب آگیا تو تم سے اس کو روکنے والا کوئی نہ ہوگا۔ ، قال فرعون مااریکم ، رائے اور خیرخواہی سے۔ ، الا مااری، اپنی ذات کے لیے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں وہی بات بتارہاہوں جو میں خود جانتا ہوں۔ ، وما اھدیکم الا سبیل الرشاد، یعنی میں تمہیں صرف ہدایت کے راستے کی طرف بلاتاہوں۔
Ayah 40:31

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے میری قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور امتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے

30، وقال الذین امن یا قوم انی خاف علیکم مثل یوم الاحزاب مثل داب قوم نوح وعاد وثمود والذین من بعد ھم ، یعنی تکذیب پر ڈٹ جانے میں ان کی عادت کی طرح ہے یہاں تک کہ ان کے پاس عذاب آگیا۔ ، وما اللہ یرید ظلما للعباد، یعنی ان پر حجت لازم کرنے سے پہلے ان کو ہلاک نہیں کرتا۔
Ayahs 40:32–33

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

(یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے

31، ویاقوم انی اخاف علیکم یوالتناد ، قیامت کے دن تمام لوگوں کو ان کے پیشوا کے ساتھ پکاراجائے گا اور وہ ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ پس جنت والے جہنم والوں کو پکاریں گے اور جہنم والے جنت والوں کو اور اعراف والے بھی پکارے جائیں گے اور سعادت و شقاوت کے ساتھ آوازلگائے جائیں گے کہ سن لوفلاں بن فلاں نیک بخت ہوگیا۔ اس کے بعد وہ کبھی ناکام نہ ہوگا اور فلاں بن فلاں نامراد ہوا۔ اس کے بعد کبھی نیک بخت نہ ہوگا اور موت کو ذبح کرنے کے وقت آوازلگائی جائے گی۔ اے اہل جنت ! ہمشہ کا رہنا ہے اب کوئی موت نہیں ہے اور اہل جہنم ! ہمیشہ کا رہنا ہے اب کوئی موت نہ ہوگی اور ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) نے یوم التناد دال کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی یوم التنافر۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ ایسے بدک کر بھاگیں گے جیسے اونٹ اپنے مالک سے بدک کر بھاگتا ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اسی طرح جب وہ آگ کی آوازسنیں گے تو گھبراکربھاگ کھڑے ہوں گے، پھر وہ جس طرف بھی جائیں گے وہاں فرشتے صف بناکرکھڑے ہوں گے تو وہ آخراس جگہ واپس آجائیں گے جس میں پہلے تھے تو یہ اللہ تعالیٰ کافرمان، والملک علی ارجائھا، اور اس کا قول، یامعشرالجن والانس ان استطعتم ان تنفذوا من اقطارالسموات والارض فانفذوا،
Ayah 40:34

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے میدان سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذابِ ) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا، اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

تفسیر 33۔ ، یوم تولون مدبرین، حساب کی جگہ سے آگ کی طرف پھر نے والے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بھاگنے والے عاجزنہ کرسکوگے۔ ، مالکم من اللہ من عاصم، جو تم کو اس کے عذاب سے بچائے۔ ، ومن یضلل اللہ فمالہ ماھاد،
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا، اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو

34، ولقد جاء کم یوسف من قبل، یعنی یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) اس سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے۔ ، بالبینات، اس سے یوسف (علیہ السلام) کا قول ، ء ارباب متفرقون خیرام اللہ الواحد القھار، مراد ہے۔ ، فمازلتم فی شک مماجاء کم بہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت سے۔ ، حتی اذا ھلک، وفات پاگئے۔ ، قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا، یعنی تم اپنے کفرپرقائم رہے اور تم نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ تم پر نئی حجت نہ بھیجیں گے۔ ، کذلک یضل اللہ من ھومسرف، مشرک ہو۔ ، مرتاب، شک کرنے والا۔
Ayah 40:36

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے، اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے

تفسیر 35۔۔۔۔۔۔۔۔ ، الذین یجادلون فی آیات اللہ ، زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مسرف اور مرتاب کی تفسیر ہے یعنی جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں یعنی تکذیب کرکے ان کو باطل کرنے میں ۔ ، بغیر سلطان ، بغیرحجت کے ، اتا ھم، اللہ کی طرف سے ، کبرمقتا، یعنی یہ جگڑابڑا ہے ناراضگی میں ۔ ، ھنداللہ وعند الذین امنواکذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبرجبار، ابوعمر و اور ابن عامر رحمہما اللہ نے قلب کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت ہے۔ ، علی کل قلب کل متکبرجبار،
Ayah 40:37

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بنوا تاکہ میں اس پر چڑھ کر راستوں پر پہنچ جاؤں

36، وقال فرعون، اپنے وزیرکو، باھامان ابن لی صرحا، الصرح ایسی واضح عمارت جو دور سے دیکھنے والوں پر بھی مخفی نہ ہو اور اس کی اصل تصریح سے ہے بمعنی اظہار، لعلی ابلغ الاسباب،
Ayah 40:38

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کو اسکے اعمالِ بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ راستے سے روک دیا گیا تھا، اور فرعون کی تدبیر تو بیکار تھی

37، اسباب السموات، یعنی اس کے راستے اور اس کے دروازے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۔ ، فاطلع الی موسیٰ ، اکثر حضرات کی قرأت عین کے پیش کے ساتھ ہے۔ ، ابلغ الاسباب، کے مطابق اور حفص (رح) نے عاصم (رح) سے عین کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی حمید اعرج کی قرأت ہے فاء کے ساتھ ، لعل ، کا جواب ہونے کی بناء پر، وانی لاظنہ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو، کاذبا، اس بات میں جو وہ کہتے ہیں کہ ان کا میرے سوارب ہے۔ ، وکذلک زین لفرعون سوء عملہ وصدعن السبیل، اہل کوفہ اور یعقوب نے، وصد، کو صاد کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے، زین لفرعون، کے مطابق۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت کے راستے سے روک دیا اور دیگر حضرات نے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی فرعون نے لوگوں کو سیدھے راستے سے روک دیا۔ ، وماکید فرعون الا فی تباب، یعنی اللہ تعالیٰ آیات اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نشانیوں کو باطل کرنے میں اس کی ہر تدبیر خسارے اور ہلاکت میں تھی۔
Ayah 40:39

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو ! میرے پیچھے چلو، میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤں

38، وقال الذی امن یا قوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد، ہدایت کا راستہ۔
Ayah 40:40

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

بھائیو ! یہ دنیا کی زندگی (چند روز) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

39، یا قوم انما ھذہ الحیوۃ الدنیامتاع، تھوڑاسانفع ہے جو تم اٹھاؤ گے پھر ختم ہوجائے گا۔ ، وان الا خرۃھی دارلقرار، ایسا جو کبھی ختم نہ ہوگا۔