39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 39:1

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ Open ayah 39:1 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب (اور) حکمت والے کی طرف سے ہے

تفسیر 1، تنزیل الکتاب ، اصل عبارت یوں ہے، ھذاتنزیل الکتاب ، اور بعض نے کہا ہے کہ ، تنزیل الکتاب ، مبتداء ہے اور اس کی خبر، من اللہ العزیز الحکیم، ہے یہاں اس کتاب کا اتارنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اللہ کے غیر سے نہیں ہے۔
Ayah 39:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَؕ Open ayah 39:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو خدا کی عبادت کرو (یعنی) اسکی عبادت کو (شرک سے) خالص کر کے

2، انا انزلنا الیک الکتاب بالحق ، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو باطل بغیرفائدہ کے نہیں اتارا۔ ، فاعبد اللہ مخلصالہ الدین، یہاں عبادت بمعنی طاعت کے ہے۔
Ayah 39:3

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۘ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ١ؕ۬ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ Open ayah 39:3 in the Quran reader

دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا) ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کر دے گا بیشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا

3، الا للہ الذین الخالص، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ مراد اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہے کہ دین خالص کا مستحق اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ایسا دین جو شرک سے خالص ہے وہی اللہ کے لیے ہے۔ ، والذین اتخذوا من دونہ، یعنی اللہ کے سوا، اولیاء ، یعنی بتوں کو، مانعبد ھم ، یعنی انہوں نے کہا کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے۔ ، الا لیقربونا الی اللہ زلفی، اور اسی طرح ابن مسعودؓ اور ابن عباس ؓ نے پڑھا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اس وجہ سے کہا کہ جب ان کو کہا جاتا تمہارارب کون ہے ؟ اور کس نے تمہیں پیدا کیا ہے ؟ اور کس نے آسمانوں و زمین کو پیداکیا ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں اللہ نے ۔ تو ان کو کہا جاتا کہ پھر تم بتوں کی عبادت کرتے ہو اس کا کیا مطلب ہے ؟ تو وہ کہتے کہ ہم ان کی عبادت کرتے ہیں تا کہ وہ یہ ہمیں اللہ کے ہاں مرتبہ میں قریب کردیں۔ ، زلفی، بمعنی قربی ہے اور یہ اسم ہے جس کو مصدر کی جگہ (مفعول مطلق) لایاگیا ہے۔ گویا کہ یوں کہا ہے کہ ، الا لیقربونا الی اللہ تقریبا، اور وہ ہماری سفارش کریں عنداللہ۔ ، ان اللہ یحکم بینھم، قیامت کے دن، فیماھم فیہ یختلفون، دین کے معاملہ میں ، ان اللہ لا یھدی من ھو کاذب کفار، اپنے دین کی طرف جھوٹ بولنے والے کی رہنمائی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود سفارش کریں گے تو اللہ کے سوامعبود بنالینا ان کے جھوٹے اور کافرہونے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 39:4

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 39:4 in the Quran reader

اگر خدا کسی کو اپنا بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا انتخاب کرلیتا وہ پاک ہے وہی تو خدا یکتا (اور) غالب ہے

4، لو اراد اللہ ان یتخذولدالا صطفی البتہ اختیار کرلیتا ۔ ، ممایخلق مایشائ، یعنی فرشتے جیسا کہ انہوں نے کہا تھا، لواردنا ان نتخذلھو الاتخذناہ من لدنا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکی بیان کرتے ہوئے فرمایا :، سبحانہ، وہ اس بات سے پاک ہے اور ہراس چیز سے پاک ہے جو اس کی پاکی کے لائق نہیں ہے۔ ، ھو اللہ الواحد القھار،
Ayah 39:5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ۚ یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 39:5 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے (اور) وہی رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو بس میں کر رکھا ہے سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے دیکھو وہی غالب (اور) بخشنے والا ہے

تفسیر 5۔ ، خلق السموت والارض بالحق یکور اللیل علی النھارویکورالنھار علی اللیل ، قتاد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو اس سے ڈھانپ لیتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے کہ ، یغشی اللیل النھار، اور بعض نے کہا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے پر داخل ہوتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے، یولج اللیل فی النھار ویولج النھار فی اللیل، اور حسن اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ رات کو کم کرکے دن کو زیادہ کردیتے ہیں اور دن کو چھوٹا کرکے رات کو بڑا کردیتے ہیں۔ پس جو وقت رات سے کم ہوا وہ دن میں داخل ہوگیا اور جو وقت دن سے کم ہواوہ رات میں داخل ہوگیا اور وقت کم ہونے کی آخری حدنوگھنٹے اور زیادہ ہونے کی آخری حدپندرہ گھنٹے ہے اور تکویر کی اصل لپیٹنا اور جمع کرنا ہے اور اسی سے، کو رالعما مۃ، پگڑی کے بل کو کہتے ہیں۔ ، وسخرالشمس والقمرکل یجری لاجل مسمی الا ھو العزیزالغفار،
Ayah 39:6

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ؕ یَخْلُقُكُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 39:6 in the Quran reader

اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا ہے پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چار پایوں میں سے آٹھ جوڑے بنائے وہی تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں (پہلے) ایک طرح پھر دوسری طرح تین اندھیروں میں بناتا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

6، خلقکم من نفس واحدۃ، یعنی آدم (علیہ السلام) سے، ثم جعل منھا زوجھا، یعنی جواء علیہماالسلام ، وانزل لکم من الانعام ، اس جگہ انزال کا معنی ابتداء پیداکرنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، انزلنا علیکم لباس یواری ، میں انزال احداث وانشاء کے معنی میں ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ انزال کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانی اتار اجوکپاس کے اگنے کا سبب ہے جس سے لباس بنتا ہے اور ان نباتات کے اگنے کا سبب ہے جس کے ذریعے چوپایوں کی بقاء ہے اور بعض نے کہا ہے کہ، وانزل لکم من الانعام، کا معنی یہ ہے کہ ان کو تمہارے لئے مہمانی اور رزق بنایا ہے۔ ، ثمانیۃ ازواج ، قسمیں ، اس کی تفسیر سورة الانعام میں گزرچکی ہے۔ ، یخلقکم فی بطون امھا تکم خلقا من بعد خلق، پہلے نطفہ پھر جماہواخون پھر گوشت کالو تھڑاجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے، وقد خلقکم اطوارا، فی ظلمات ثلاث، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پیٹ کی تاریکی اور رحم کی تاریکی اور مشیت کی تاریکی مراد ہے۔ ، ذلکم اللہ، یعنی جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا۔ ، ربکم لہ الملک لاالہ الا ھو فانی تصرفون، اس بیان کے بعد حق کے راستے سے۔
Ayah 39:7

اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ١۫ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ١ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 39:7 in the Quran reader

اگر ناشکری کرو گے تو خدا تم سے بےپرواہ ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر شکر کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لئے پسند کرے گا اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تم کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے پھر جو کچھ تم کرتے رہے وہ تم کو بتائے گا وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں تک سے آگاہ ہے

7، ان تکفروفان اللہ غنی عنکم ولا یرضی لعبادہ الکفر، ابن عباس ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مؤ من بندوں کے کفر پر راضی نہیں ہوتا اور یہ مؤ من بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ـ: ان عبادی لیس لک علیھم سلطان، تو یہ آیت الفاظ کے اعتبار سے تو عام ہے لیکن معنی کے اعتبار سے خاص ہے۔ جیسا کو عموم پر جاری کیا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کے بھی کفر پر راضی نہیں ہے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ اس بات پر راضی نہیں کہ اس کے بندے اس کا کفرکریں اور یہی بات حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے اور یہی اسلاف کا قول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ کافرکا کفر اللہ کو پسندیدہ نہیں ہے۔ اگر کریں اور یہی بات حضرت قتادہ (رح) سے مروی ہے اور یہی اسلاف کا قول ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ کافر کا کفر اللہ کو پسند یدہ نہیں ہے۔ اگر چہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہے۔ ، وان تشکروا، اپنے رب پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو۔ ، یرضہ لکم، پھر تم کو اس پر ثواب دے گا۔ ابو عمر (رح) نے، یرضہ لکم ، کو ھاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور اہل مدینہ اور عاصم اور حمزہ رحمہم اللہ اس ھاء کو اچک لیتے ہیں اور باقی حضرات اشباع کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ، ولا تروروازوۃ وزراخری ثم الی ربکم مرجعکم فیئبکم بما کنتم تعملون انہ علیم بذات الصدور،
Ayah 39:8

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا١ۖۗ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ Open ayah 39:8 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اسکی طرف دل سے رجوع کرتا ہے پھر جب وہ اسکو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے راستہ سے گمراہ کرے کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے پھر تو تو دوزخیوں میں ہوگا

تفسیر 8، واذامس الانسان ضردعاربہ منیبا الیہ، اس کی طرف فریاد کرتے ہوئے لوٹے، لتم اذا خولہ نعمۃ منہ، اس کو اپنی طرف سے نعمت دے۔ ، نسی، وہ چھوڑدے۔ ، ماکان یدعوا الیہ من قبل ، یعنی اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کے دور کرنے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا تھا۔ ، وجعل للہ اندادا، یعنی بتوں کو، لیضل عن سبیلہ، تاکہ اللہ کے دین سے پھسل جائے۔ ، قل، اس کافرکو، تمتع بکفرک قلیلا، دنیا میں اپنی موت تک، ان من اصحاب النار، بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ابوحذیفہ بن مغیرہ مخزومی کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عام ہے ہر کافر کے بارے میں ۔
Ayah 39:9

اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:9 in the Quran reader

(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں

9، امن ھو قانت، ابن کثیر اور نافع اور حمزہ رحمہم اللہ نے ، امن ، کو میم کی تخفیف (بغیر شد) کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے میم کی شد کے ساتھ۔ پس جن حضرات نے میم پر شد پڑھی ہے اس کی دو وجہ ہیں ۔ (1) ان میں سے ایک یہ ہے کہ میم، ام، میں صلہ ہے تو کلام کا معنی استفہام ہوگا اور اس سوال کا جواب محذوف ہوگا اس کی عبارت یوں ہوگی، امن ھو قانت کمن ھوغیرقانت ؟ ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام ، یعنی ، کمن لم یشرح مدرہ، کی طرف ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کا عطف ہے استفہام پر۔ اس کی عبارت یوں ہے :، الذی جعل للہ اندادا اخیر ام ھو قانت ؟ اور جس نے میم کی تخفیف (بغیر شد) کے ساتھ پڑھا ہے تو یہ الف استفہام کا ہے اپنے معنی پر داخل ہوا ہے یعنی، ھذاکالذین جعل للہ اندادا، یعنی کیا یہ شخص اس کی طرح ہے جس نے اللہ کے ساتھ شریک بنائے اور بعض نے کہا ہے کہ الف، امن ، میں حرف نداء کے معنی میں ہے اس کی اصل عبارت ہے، یامن ھوقانت، اے وہ آدمی جو فرمانبردار ہے اور عرب یاء کی طرح الف سے بھی ندادیتے ہیں۔ پس وہ کہتے ہیں اپنی فلاں اور یا بنی فلاں۔ تو اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ آپ فرمادیجئے تو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑاسانفع اٹھا لے ۔ بیشک تو جہنم والوں میں سے ہے اور اے وہ شخص جو فرمانبردار ہے، اناء اللیل، بیشک تو جنت والوں میں سے ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اور ایک روایت میں عطاء کا بھی یہی قول ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی الہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر وعمرؓ کے بارے نازل ہوئی ہے اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور کلبی (رح) روایت ہے کہ یہ آیت ابن مسعود اور عمار اور سلیمان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور القانت وہ شخص جو فرمانبر داری پر قائم ہو اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ قنوت قرآن کی قرأت اور لمباقیام کرنا ہے اور ، اناء اللیل، سے مراد رات کی گھڑیاں ہیں ۔ ، ساجداوقائما، یعنی نماز میں، یحذرالا خرۃ، آخرت کا خوف رکھتا ہے۔ ، ویر جوا رحمۃ ربہ، یعنی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جوان میں سے کوئی کام نہیں کرتا۔ ، قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون، اور بعض نے کہا ہے کہ جاننے والوں سے عمار اور نہ جاننے والوں سے ابو حذیفہ مخزومی مراد ہیں۔ ، انمایتذکر اولوا الالباب،
Ayah 39:10

قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 39:10 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور خدا کی زمین کشادہ ہے جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار ثواب ملے گا

10، قل یاعباد الذین امنوا اتقواربکم ، اس کی اطاعت کرکے اور اس کی نافرمانیوں سے بچ کر۔ ، للذین احسنوافی ھذہ الدنیا حسنۃ، جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے۔ ، حسنۃ، جنت ہے۔ اس کے قائل قتادہ ہیں اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں ، حسنۃ، یعنی صحت اور عافیت ہے۔ ، وارض اللہ واسعۃ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی تم مکہ سے کوچ کرو اور اس آیت میں ایسے شہر سے ہجرت کرنے پر ابھارا گیا ہے جہاں معاصی ظاہر ہورہے ہوں اور بعض نے کہا ہے کہ آیت حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ جس شخص کو کسی شہر میں گناہوں کا حکم دیاجائے وہ وہاں سے کسی دوسرے شہردوڑجائے۔ انما یوفی الصبرون سے کون لوگ مراد ہیں ، انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب ، یعنی جو لوگ اپنے دین پر صبر کرتے ہیں اور تکلیف کی وجہ سے اس کو نہیں چھوڑ تے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت جعفربن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنا دین سخت مصائب کے باو جود بھی نہیں چھوڑا اور صبر کیا اور ہجرت کی ۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ مصائب زوہ لوگوں کو لایا جائے گا اور ان کے لیے ترازو نہیں مقررکیاجائے گا اور ان کے لیے دفتر نہیں کھولاجائے گا اور ان پر اجر بغیر حساب کے بہایاجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :، انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب ، حتی کہ دنیا میں عافیت کی زندگی گزارنے والے یہ تمنا کریں گے کہ ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے جاتے ۔ یہ تمنا مصیبت زدہ لوگوں کے فضل کو دیکھ کر کریں گے۔
Ayah 39:11

قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ Open ayah 39:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسکی بندگی کروں

تفسیر 11، قل انی امرت ان اعبد اللہ مخلصا لہ الدین، اس کے لیے توحید کو خالص کرتے ہوئے کہ میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔
Ayah 39:12

وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 39:12 in the Quran reader

اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ میں سب سے اول مسلمان بنوں

12، وامر ت لان اکون اول المسلمین، اس امت میں سے۔
Ayahs 39:13–14

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 39:13 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْۙ Open ayah 39:14 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے دین کو (شرک سے) خالص کر کے اس کی عبادت کرتا ہوں

13، قل انی اخاف ان عصیت ربی، اور اس کے غیر کی عبادت کروں۔ ، عذاب یوم عظیم ، اور یہ اس وقت کہا جب آپ (علیہ السلام) کو آپ کے آباء کے دین کی طرف بلایا گیا۔
Ayah 39:15

فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَا ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 39:15 in the Quran reader

تو تم اس کے سوا جس کی چاہو پرستش کرو کہہ دو نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو نقصان میں ڈالا دیکھو یہی صریح نقصان ہے

15، فاعبدوا ماشئتم من دونہ، یہ امرڈانٹ دوھم کی کے لیے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کافرمان، اعلمو اماشئتم ، ہے۔ ، قل ان الخاسرین الذین خسروا انفسھم واھلیھم ، یعنی ان کی بیویاں اور ان کے خادم ۔ ، یوم القیامۃ الا ذلک ھو الخسران المبین، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے جنت میں ایک ٹھکانہ اور بیوی بنائی ہے اب جو شخص اللہ کی تابعد اری کرے گا تو وہ ٹھکانہ اور بیوی اس کو ملے گی اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو جہنم میں داخل ہوگا اور وہ ٹھکانہ اور بیوی اس کے علاوہ کسی اس شخص کو مل جائے گی جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور کہا گیا ہے کہ نفس کا خسارہ جہنم میں داخل ہونے کی وجہ سے ہے اور اہل کا خسارہ اس طرح ہے کہ اس شخص اور اس کے اہل خانہ کے درمیان تفریق ہوجائے گی اور یہ کھلا واضح خسارہ ہے۔
Ayah 39:16

لَهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنْ تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ١ؕ ذٰلِكَ یُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهٖ عِبَادَهٗ١ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 39:16 in the Quran reader

ان کے اوپر تو آگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے (اس کے) فرش ہوں گے یہ وہ (عذاب) ہے جس سے خدا اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تو اے میرے بندو مجھ سے ڈرتے رہو

16، لھم من فوقھم ظلل من النار، جہنم کے تہہ بتہہ شعلے اور اس کا دھواں ہے۔ ، ومن تحتھم ظلل، آگ کے کچھونے اور فرش ہیں جن کی انتہا جہنم کی گہرائی ہے۔ آیت کریمہ میں نچلے طبقہ کا نام ، ظلل، (سائبان) رکھا گیا ہے کیونکہ ہر طبقہ اپنے سے نچلوں کے لیے سائبان ہے۔ اس کی مثال دوسری آیت میں یہ ہے :، لھم من جھنم مھاد ومن فوقھم غواش۔۔۔۔۔۔۔ ذلک یخوف اللہ بہ عبادہ یا عباد فاتقون،
Ayah 39:17

وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَ اَنَابُوْۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰى١ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِۙ Open ayah 39:17 in the Quran reader

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا تو ان کے لئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

تفسیر 17۔۔۔۔۔۔۔ والذین اجتنبوالطاغوت، بتوں سے بچ کر، ان یعبد وھا وانا بوا الی اللہ ، اللہ کی عبادت کی طرف لوٹتے ہیں۔ ، لھم البشری، دنیا میں جنت کی اور آخرت میں مغفرت کی بشارت ہے۔ ، فبشرعباد اپنے بندوں کو اس کی خوشخبری سنادو۔
Ayah 39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 39:18 in the Quran reader

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں

18، الذین یستمعون القول ، قول سے مراد قرآن ہے، فیتبعون احسنہ، ، فیتبعون احسنہ کی تفسیر سدی (رح) فرماتے ہیں کہ احسن وہ ہے جس کا ان کو حکم دیا گیا اور انہوں نے اس پر عمل کیا اور کہا گیا ہے کہ احسن یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ظالم سے انتقام لینے اور اس کو معاف کرنے دونوں کا ذکر کیا ہے اور ان دونوں حکموں میں معاف کردینا احسن ہے اور بعض نے کہا ہے کہ عزیمتوں کا ذکر ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ لوگ قرآن اور غیر قرآن کو سنتے ہیں لیکن اتباع قرآن کی کرتے ہیں اور عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابوبکرؓ نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے تو آپ ؓ کے پاس حضرت عثمان و عبدالرحمن بن عوف ، طلحہ اور زبیر اور سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید ؓ آئے تو ان سب نے آپ ؓ سے سوال کیا تو آپ ؓ نے ان کو اپنے ایمان کی خبردے دی تو یہ حضرات بھی ایمان لے آئے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ، فبشرعباد الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ، اور یہ تمام حسن ہے۔ ، اولئک الذین ھداھم اللہ واولئک ھم اولوا الا لباب، ابن زید (رح) فرماتے ہیں کہ، والذین اجتنبوا الطاغوت، سے دوآیتیں تین افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو زمانہ جاہلیت میں بھی کلمہ لاالہ الا اللہ کہا کرتے تھے۔ زید بن عمر وبن نفیل ، ابوذرغفاری اور سلمان فارسی ؓ اور احسن لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔
Ayah 39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ١ؕ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ Open ayah 39:19 in the Quran reader

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے ؟

کلمۃ العذاب کی مختلف تفاسیر 19، افمن حق علیہ کلمۃ العذا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ علم الٰہی میں جس کے بارے میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ جہنمیوں میں سے ہے اور بعض نے کہا ہے کہ، کلمۃ العذاب، سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ، لا ملان جھنم، ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ، کلمۃ العذاب، سے مراد فرمان باری تعالیٰ ہے کہ، ھئولاء فی النار ولا ابا لی، کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ، افانت تنقذمن فی النار، یعنی تو اس پر قادر نہیں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے ابولہب اور اس کی اولاد مراد ہے۔
Ayah 39:20

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ Open ayah 39:20 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (یہ) خدا کا وعدہ ہے خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا

20، لکن الذین اتقواربھم لھم غرف من فوقھا غرف مبنیہ، یعنی جنت میں بلند رہائیش اور ان کے اوپر ان سے بھی بلند رہائش گاہ ہوگی۔ ، تجری من تحتھا الانھار ووعداللہ لایخلف اللہ المیعاد، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سے ان بالا خانوں کا وعدہ کیا ہے جس کی خلاف ورزی نہ ہوگی۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ نے نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اہل جنت اپنے سے اوپر بالا خانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم تاریک رات میں چمکدار ستارے کو مشرق یا مغرب کے افق میں دیکھتے ہو۔ یہ (فاصلہ) ان کے درمیان مرتبے کے فرق کی وجہ سے ہوگا۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ انبیاء (علیہم السلام) کے درجات ہیں کہ ان تک ان کے علاوہ کوئی نہیں پہنچ سکے گا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی۔
Ayah 39:21

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُهٗ حُطَامًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 39:21 in the Quran reader

کتا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہو گئی ہے) پھر اسے چورا چورا کردیتا ہے بیشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے

21، الم تران اللہ انزل من السماء ماء فسل کہ ، اس پانی کو داخل کردیا۔ ، ینابیع، چشموں اور نہروں میں۔ ، فی الارض، شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ زمین کا ہر پانی آسمان سے اترا ہے۔ ، ثم یخرج بہ، پانی کے ذریعے، زرعا مختلفا الوانہ، مسرخ اور زرد اور سبز مختلف کی کھیتیاں پیداکیں۔ ثم یھیج ، خشک ہوجاتا ہے ۔ ، فتراہ، اس کی سرسبزی اور رونق کے بعد، مصفرالم یجعلہ حطاما، ٹکڑے ٹوٹے ہوئے، ان فی ذلک لذکری لاولی الالباب،
Ayah 39:22

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 39:22 in the Quran reader

بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو (تو کیا وہ سخت دل کافر کی طرح ہوسکتا ہے ؟ ) پس ان پر افسوس ہے جن کے دل خدا کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں

تفسیر 22۔ ، افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام، جس کے دل کو حق کے قبول کرنے کی توفیق دی۔ ، فھوعلی نور من ربہ، کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے سخت کردیا ہو۔ شرح صدر سے کیا مراد ہے حضرت عبدا للہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت، افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ، کی تلاوت فرمائی۔ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! اس کے سینہ کا کھلنا کیسے ہوگا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ نور جب دل میں داخل ہوجاتا ہے تو دل کھل کر کشادہ ہوجاتا ہے۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس کی علامت کیا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع کرنا، دھوکے کے گھر سے کنارہ کش ہونا اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنا۔ ، فویل للقاسیۃ قلوبھم من ذکراللہ اولئک فی ضلال مبین، مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ کسی بندہ کو دل کی سختی سے بڑی کوئی سزا نہیں دی گئی اور اللہ تعالیٰ جس قوم پر غصہ ہوتے ہیں ان سے رحمت کو کھینچ لیتے ہیں۔
Ayah 39:23

اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 39:23 in the Quran reader

خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

23، اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا، اس کی بعض آیات دوسری بعض کے حسن میں مشابہ ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں نہ ان میں کوئی تناقض ہے اور نہ کوئی اختلاف۔ ، مثالی ، وعدہ اور وعید، امر اور نہی اور خبروں و احکام کا تذکرہ ان میں بار بار ہے۔ تقشعر، کا نپتے اور خشوع ا (رح) (رح) ختیار کرتے ہیں۔ ، منہ جلودالذین یخشون ربھم، اقشعر ارخوف کے وقت انسان کی جلد میں نظیر آنے کو کہتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ آیت میں جلود سے دل مراد ہیں یعنی ان لوگوں کے دل جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔ ، ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ، یعنی اللہ کے ذکر کے لیے۔ یعنی جب عذاب کی آیات ذکر کی جائیں تو اللہ سے ڈرنے والوں کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب رحمت کی آیات ذکر کی جائیں تو ان کے دل سکون پاتے اور نرم ہوجاتے ہیں ۔ جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور معنی کی حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل خوف سے کانپتے ہیں اور امید کے وقت نرم ہوجاتے ہیں۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ کے رونگھٹے اللہ کے خوف سے کھڑے ہوجائیں تو اس کے گناہ اس سے اتنی تیزی سے گرتے ہیں جیسے خشک درخت کے پتے تیزی سے گرتے ہیں۔ یزید بن عبد اللہ بن الہادنے اسی سند سے روایت کی ہے اور فرمایا کہ جب بندہ کے رونگھٹے اللہ کے خوف سے کھڑے ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کردیتے ہیں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اولیاء اللہ کی صفت ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ ان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اللہ کے ذکر سے ان کے دل اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ ان کی یہ صفت نہیں بیان کی کہ ان کی عقل چلی جاتی ہے اور ان پر غشی طاری ہوجاتی ہے یہ علامات بد عتیوں میں ظاہر ہوتی ہیں اور شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں۔ عبد اللہ بن عروہ بن زبیرؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی دادی حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ سے پوچھا کہ جب قرآن پڑھاجاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ان کی حالت ایسے ہوتی تھی جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے کہ ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوتے تھے اور رونگھٹے کھڑے ہوتے تھے تو عبد اللہ کہتے ہیں میں نے ان سے سوال کیا آج کل کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ غشی کی حالت میں گرپڑتے ہیں ؟ تو اسماء ؓ نے فرمایا میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں شیطان مردود سے اور اسی سند کے ساتھ ابن عمر ؓ نے خبردی ہے کہ ایک عراقی شخص ان کے سامنے گرتا پڑتاگزراتو انہوں نے پوچھا اس کو کیا ہوگیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا جب اس پر قرآن پڑھا جائے یا اللہ کا ذکر سنے تو اس کی یہ حالت ہوجاتی ہے تو ابن عمر ؓ نے فرمایا بیشک ہم اللہ سے ڈرتے ہیں لیکن ہم یوں نہیں گرتے اور ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ بیشک شیطان ان میں سے کسی کے پیٹ میں داخل ہوجاتا ہے۔ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کا یہ طرز نہ تھا اور ابن سیرین (رح) سے ذکر کیا گیا ہے کہ جو لوگ قرآن پڑھے جانے کے وقت اوندھے گرپڑتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی گھر کی چھت پر بیٹھ جائے اپنے پاؤں پھیلاکر، پھر قرآن مجید ابتداء سے آخرتک اس پر پڑھاجائے۔ پھر اگر وہ خود کو نیچے گرالے تو وہ سچا ہے۔ ، ذ(رح) لک، یعنی اچھی بات، ھدی اللہ یھدی بہ من یشاء ومن یضلل فمالہ من ھاد،
Ayah 39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ قِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:24 in the Quran reader

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو ؟ ) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اسکے مزے چکھو

افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب کی تفسیر تفسیر 24۔ ، افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب، یعنی اس کی شدت ۔ ، یوم القیامۃ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو آگ میں اوندھا کرکے پھینکا جائے گا تو اس کے جسم میں سب سے پہلے چہرے کو آگ چھوئے گی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ کافر کے ہاتھ گردن پر باندھ کر اس کو آگ میں پھینکا جائے گا اور اس کی گردن میں گندھک کی ایک چٹان بڑے پہاڑ کی مانندہوگی تو اس چٹان سے آگ کے شعلے پکڑے گی اور وہ چٹان اس کی گردن میں ہوگی تو اس کی تپش اور لپٹوں کو وہ اپنے چہرے سے دور کرنے کی طاقت نہ رکھے گا کیونکہ اس کے ہاتھ اور گردن بیڑی میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور آیت کا مجازیہ ہے، افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب کمن ھو آمن من العذاب، یعنی یہ شخص اس کی طرح ہوسکتا ہے عذاب سے امن میں ہو۔ ، وقیل، یعنی دو وغ کہیں گے، للظالمین ذوقواماکنتم تکسبون، یعنی اس کا وبال۔
Ayahs 39:25–26

كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 39:25 in the Quran reader

جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی تکذیب کی تھی تو ان پر عذاب ایسی جگہ سے آگیا کہ ان کو خبر ہی نہ تھی

فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:26 in the Quran reader

پھر ان کو خدا نے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش یہ سمجھ رکھتے

25، کذب الذین من قبلھم، کفار مکہ سے پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ ، فاتاھم العذاب من حیث لا یشعرون، یعنی وہ مطمئن اور عذاب سے غافل تھے۔
Ayah 39:27

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 39:27 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے لئے) اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کیں ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

تفسیر 27۔ ، ولقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل لعلھم یتذکو ون، نصیحت حاصل کرلیں۔
Ayah 39:28

قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 39:28 in the Quran reader

(یہ) قرآن عربی (ہے) جس میں کوئی عیب (اور اختلاف) نہیں تاکہ وہ ڈر مانیں

28، قرانا عریبا، حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ ، غیرذی عوج ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مختلف نہیں ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں یہ مخلوق نہیں ہے اور یہ بات مالک بن انس (رح) سے بھی مروی ہے اور سفیان بن عیینہ اور ستر (70) تابعین سے نقل کیا گیا ہے کہ قرآن مجید نہ خالق ہے اور مخلوق ۔ ، لعلھم یتقون ، کفر اور تکذیب سے۔
Ayah 39:29

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْهِ شُرَكَآءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ۚ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:29 in the Quran reader

خدا ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک شخص ہے جس میں کئی (آدمی) شریک ہیں (مختلف المزاج اور) بدخو ایک آدمی خاص ایک شخص کا (غلام) ہے بھلا دونوں کی حالت برابر ہے ؟ (نہیں) الحمد للہ بلکہ اکثر لوگ نہیں جانتے

29، ضرب اللہ مثلا رجلا، کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ رجلا پر نصب اس وجہ سے ہے کہ یہ مثلا کی تفسیر ہے۔ ، فیہ شرکاء متشاکسون، جھگڑالو، اختلاف کرنے والے، بداخلاق ، عرب کہتے ہیں ، رجل شکس شرس، جب کوئی شخص بداخلاق لوگوں سے مخالفت کرنے والا اور انصاف پر راضی نہ ہوتا ہو۔ ، ورجلا سلما لرجل ، اہل مکہ اور بصرہ نے ، سالما، الف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اس کے لیے خا (رح) لص نہ اس میں کوئی شریک ہو اور نہ کوئی جھگڑا کرنے والا اور دیگر حضرات نے، سلما، لام کے زبر کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور وہ ایسا شخص جس میں کوئی جھگڑا کرنے والا نہ ہو یہ مشتق ہے ان کے قول ، ھولک سلم، سے یعنی تیرے لیے خالص ہے ۔ اس میں تجھ سے کوئی جھگڑنے والا نہیں ۔ ھل یستویان مثلا، یہ مثال اللہ تعالیٰ نے اس کافر کے لیے بیان کی ہے جو مختلف معبودوں کی عبادت کرتا ہے اور مؤ من جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔ پھر فرمایا، الحمدللہ، یعنی ساری تعریفیں صرف اللہ ہی کو جحپتی ہیں۔ اس کے سوادوسرے معبود ین کو نہیں ۔ ، بل اکثر ھم لا یعلمون، جس چیز کی طرف وہ لوٹ رہے ہیں اور آیت میں اکثر سے کل مراد ہے۔
Ayah 39:30

اِنَّكَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّیِّتُوْنَ٘ Open ayah 39:30 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ تم بھی مرجاؤ گے اور یہ بھی مرجائیں گے

30، انک میت، یعنی عنقریب آپ وفات پاجائیں گے۔ ، انھم میتون، یعنی عنقریب تم مرجاؤ گے۔ فراء اور کسائی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ لفظ میت یاء کی شد کے ساتھ ، وہ شخص جو ابھی مرا نہیں اور عنقریب مرجائے گا اور میت تخفیف کے ساتھ وہ شخص جس کی روح جدا ہوگئی ہو اس لیے یہاں تخفیف نہیں کی گئی۔
Ayah 39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠ Open ayah 39:31 in the Quran reader

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا )

آیات کا شان نزول 31، ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی حق اور باطل اور ظالم ومظلوم۔ حضرت زبیربن العوام ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت، لم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون ، نازل ہوئی تو حضرت زبیر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم پر ہمارے دنیا کے خاص گناہ دوبارہ لوٹائے جائیں گے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جی ہاں وہ تم پر لوٹائے جائیں گے حتی کہ ہر حق والے کو اس کا حق اداکردیاجائے گا تو حضرت زبیر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! بیشک یہ معاملہ بہت سخت ہے اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک لمبا عرصہ زندہ رہے اور ہم یہ خیال کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ، ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون، ہم نے کہا کہ ہم کیسے جھگڑیں گے حالانکہ ہمارا دین اور ہماری کتاب ایک ہے ؟ حتی کہ میں نے آپس میں دیکھا کہ ایک دوسرے کے چہرے کو تلوار سے مار رہے ہیں تو میں نے پہچان لیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ ہم کہا کرتے تھے کہ ہمارا رب ایک ہے اور ہمارا دین ایک ہے اور ہمارانبی ایک تو یہ جھگڑا کی سے ہوگا ؟ پھر جب صفین کا واقعہ ہوا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلواریں چلائیں تو ہم نے کہاہاں یہ وہ جھگڑا ہے اور ابراہیم (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب یہ آیت، ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون، نازل ہوئی تو انہوں نے کہ اہم کیسے جھگڑیں گے حالانکہ ہم تو بھائی ہیں ؟ پھر جب حضرت عثمان ؓ شہید کیے گئے تو کہا کیا یہ ہمارا جھگڑا ہے ؟ دنیا پر حقوق العبادپورے کئے جائیں حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس اپنے بھائی کی عزت یا مال پر کوئی ظلم ہو تو آج کے دن اس کو معاف کرالے، اس سے پہلے کہ وہ بدلہ اس سے ایسے دن لیاجائے جس دن نہ کوئی دینار ہوگا اور نہ کوئی اور ہم ۔ پس اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس میں سے اس کے ظلم کے بقدرلیا جائے گا اور اگر نیکی نہ ہوگی تو اس صاحب حق کی برائیاں لے کر اس پر لاددی جائیں گی۔ اصل مفلس کون ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟ تو انہوں نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ کوئی درہم ہو اور نہ کوئی سامان تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے زکوۃ کے ساتھ آئے گا لیکن اس نے کسی کو گولی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو یہ سب اس کی نیکیوں میں سے پورا کیا جائے گا۔ پھر فرمایا کہ اگر اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی، اس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے پہلے تو ان صاحب حق لوگوں کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور اس کو آگ میں ڈال دیاجائے گا۔
Ayah 39:32

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:32 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بولے اور سچی بات جب اس کے پاس پہنچ جائے تو اسے جھٹلائے کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ؟

تفسیر 32، فمن اظلم ممن کذب علی اللہ ، پس اس نے گمان کیا کہ اس کے لیے اولاد اور شریک ہے۔ ، وکذب بالصدق، اور جھٹلایا قرآن کو، اذجاء ہ الیس فی جھنم مثوی، منزل ومقام، للکافرین ، یہ استفہام بمعنی تقری رہے۔
Ayahs 39:33–34

وَ الَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 39:33 in the Quran reader

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَۚۖ Open ayah 39:34 in the Quran reader

وہ جو چاہیں گے ان کے لئے انکے پروردگار کے پاس (موجود) ہے نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے

جاء بالصدق وصدق بہ کی مختلف تفاسیر 33، والذی جاء بالصدق وصدق بہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق، یعنی رسول اللہ ﷺ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کو لائے اور رسول اللہ ﷺ نے خود اس کی تصدیق بھی کی اور مخلوق تک اس کو پہنچایا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق، سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں کہ وہ قرآن لائے اور اس کی محمد ﷺ نے تصدیق کی اور اس کو قبول کیا اور کلبی اور ابوالعالیہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ، والذی جاء بالصدق، سے رسول اللہ ﷺ اور، وصدق بہ، سے ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق ، رسول اللہ ﷺ اور ، وصدق بہ، سے مؤ منین مراد ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :، اولئک ھم المتقون، اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ ، والذی جاء بالصدق، سے انبیاء (علیہم السلام) اور ، وصدق بہ، سے ان کے تبیعن مراد ہیں۔ اس صورت میں ، الذین ، کے معنی میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : مثلھم کمثل الذی استوقدنارا، پھر فرمایا، ذھب اللہ بنورھم ، اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مؤ منین مراد ہیں کہ انہوں نے دنیا میں اس کی تصدیق کی اور آخرت میں اس کو لائیں گے اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قرأت میں، والذین جاؤ ابالصدق وصدق بہ۔۔۔۔۔۔۔ اولئک ھم المتقون،
Ayah 39:35

لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 39:35 in the Quran reader

تاکہ خدا ان سے برائیوں کو جو انہوں نے کیں دور کر دے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے انکو بدلہ دے

35، لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی عملوا، ان کو مغفرت کے ساتھ ڈھا نپ لے گا۔ ، ویجزیھم اجرھم باحسن الذی کانوایعملون، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے نیک اعمال کا ان کو بدلہ دیں گے اور ان کے برے اعمال کا بدلہ نہ دیں گے۔
Ayah 39:36

اَلَیْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ١ؕ وَ یُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍۚ Open ayah 39:36 in the Quran reader

کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور یہ تم کو ان لوگوں سے جو اس کے سوا ہیں (یعنی خدا سے) ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں

36، الیس اللہ بکاف عبدہ ، یعنی محمد ﷺ اور ابوجعفر اور حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے (عبادہ) جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی انبیاء (علیہم السلام) ۔ ان کی قوم نے ان کے بارے میں برائی کا ارادہ کیا۔ جیسا کہ خود باری تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ، وھمت کل امۃ برسولھم لیا خذوہ، تو اللہ تعالیٰ ان کون کے دشمنوں کے شر سے کافی ہوگیا۔ ، ویخوفونک بالذین من دونہ، اور یہ کو برابھلا کہنے سے باز آجائیں یا آپ کو ان کی طرف سے جنون یا کوئی مصیبت پہنچے گی۔ ، ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد،
Ayah 39:37

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ Open ayah 39:37 in the Quran reader

اور جس کو خدا ہدایت دے اسکو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا خدا غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

تفسیر 37۔ ، ومن یھد اللہ فمالہ من مضل الیس اللہ بعزیز ذی انتقام، اپنی سلطنت میں ب اقتدار ہے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے۔
Ayah 39:38

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِهٖ١ؕ قُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ؕ عَلَیْهِ یَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 39:38 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہو کہ بھلا دیکھو تو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو اگر خدا مجھ کو کوئی تکلیف پہچانی چاہے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ یا اگر مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو وہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں ؟ کہہ دو کہ مجھے خدا ہی کافی ہے بھروسا رکھنے والے اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں

38، ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ قل افرایتم ماتدعون من دون اللہ ان ارادنی اللہ بضر، سختی اور مصیبت۔ ، ھل ھن کاشفات ضرہ اوارادنی برحمۃ، نعمت اور برکت کے ساتھ ، ھل ھن ممسکات رحمۃ، اہل بصرہ نے، کاشفات، اور، ممسکات، کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور ، ضرہ، اور ، رحمۃ، کو راء اور تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر تنوین اور راء اور تائ کی زیر کے ساتھ اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو وہ خاموش ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو فرمایا کہ، قل حسبی اللہ، میرا بھروسہ اور اعتماداسی پر ہے۔ ، علیہ یتوکل المتوکلون، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کریں۔
Ayahs 39:39–40

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 39:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے میری قوم ! تم اپنی جگہ پر عمل کئے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کئے جاتا ہوں عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا

مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 39:40 in the Quran reader

کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

( 39۔ 40) ۔۔۔۔۔۔۔۔ ، قل یا قوم اعملواعلی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ وبحل علیہ عذاب مقیم ، یعنی ان پر دائیمی عذاب اترتا ہے۔