Ayah 38:1تفسیر 1۔ ، ص، بعض نے کہا کہ یہ قسم ہے بعض نے کہا کہ یہ سورة کا نام ہے جیسا کہ ہم نے ہر سورة کی ابتداء میں حروف تہجی کے متعلق بیان کیا۔ محمد بن کعب القرظی کا بیان ہے کہ اللہ کے نام یعنی صمد اور صادق الو عد کی کنجی ہے ۔ ضحاک کا قول ہے کہ ص کا معنی ہے صدق اللہ ، اللہ نے سچ فرمایا۔ ابن عباس ؓ کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ ص کا معنی ہے صدق محمد رسول اللہ، والقرآن ذی الذکر، یہ بیان ہے عقل مندلوگوں کے لیے۔
ابن عباس ؓ ، مقاتل ، ضحاک نے اس کا ترجمہ شرف سے کیا ہے ۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کافرمان، وانہ لذکر لک ولقومک ، واؤقسمیہ ہے ۔ اس کے جواب قسم میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا جواب قسم ماقبل میں گزر چکا ہے اور وہ (ص) ہے ۔ عبارت اس طرح ہوگی، اقسم باللہ بالقرآن ان محمدا قدصدق، ، کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم کھائی ہے کہ محمد ( ﷺ ) نے سچ کہا ہے۔ فراء کا قول ہے کہ ص کا معنی ہے کہ ، وجب وحق، کے معنی میں ہے ۔ ، والقرآن ، جیسا کہ تونے کہا۔ بعض نے کہا کہ جواب قسم محذوف ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی ۔ ، والقرآن ذی الذکر مالامر، جیسا کہ کفار کہتے ہیں اور یہ محذوف پر دلالت کرتا ہے۔
Ayah 38:22، بل الذین کفروا، قتادہ کا قول ہے کہ بل اس جگہ اعراض کے لیے نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے اور یہ جملہ قسم کا جواب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے، ق والقرآن المجید بل عجبوا، بعض نے کہا کہ یہاں تقدیم وتا خیر ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی۔ ، بل الذین کفروا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، فی عزۃ وشقاق، قرآن ذکروالا ہے اور نصیحت والا ہے۔
اخفش کا قول ہے جس مضمون کے لیے قسم کے ساتھ کلام کیا گیا ہے، ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب، اور دوسری جگہ ذکر کیا گیا۔ ، تاللہ ان کنا، اور ایک اور جگہ فرمایا، والسماء والطارق ان کل نفس ، بعض نے کہا کہ جواب قسم یہ ان ھذالرزقنا، ہے۔ کسائی کا قول ہے کہ جواب قسم یہ ہے کہ ، ان ذلک لحق تخاصم اھل النار، یہ بعید ہے کیوں کہ اس قسم کے درمیان خلل پیدا ہوجائے گا۔ جواب بہت سارے قصص اور اخبار کثیرہ پر مبنی ہے۔
قتیبی کا قول ہے بل ایک کلام کے تدارک اور دوسرے کلام کی نفی کے لیے ہے کیوں کہ اللہ نے ، ص والقرآن ذی الذ کر، کی قسم کھاکر فرمایا کہ جو کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں اور حق سے روگردانی محض تکبر کی وجہ سے کررہے ہیں ۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 38:33، کم اھلکنا من قبلھم من قرن، جو ماقبل میں امتیں گزرچکی ہیں۔ ، فنا دوا، نزول عذاب کے وقت فریا درسی کے لیے بہت چیختے چلاتے ہیں۔ ، ولات حین مناص، نزول عذاب کے وقت ان کے لیے فرار ممکن نہیں تھا۔ مناص مصدر ہے ناص ینوص سے ، نوص پیچھے رہ جانے کو کہاجاتا ہے اور مناص جائے پنا ہ کو کہتے ہیں۔ لات اہل یمن کی لغت نہیں ہے۔
نحویین کے نزدیک یہھی اور لا سے مرکب ہے اور آخر میں تاء بڑھادی گئی۔ جیسا کہ ان کا قول ، رب وربت وتم وتمت ، اس کا اصل ھا تھا اور اس کے ساتھ لاکو ملالیا ۔ اور، لائ، کہنے لگے۔ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ لاء اور حالت وصل میں انہیں تاء اور وقف کی صورت میں لات ہے۔ کسائی کے نزدیک حالت وقف میں لاہ پڑھاجائے گا ۔ بعض کا خیال ہے کہ لاء پر وقف ہے اور تاء کا تعلق حین سے ہے۔ یعنی، لاتحین، ابوعبیدہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ میں نے مصحف عثمانی میں اسی طرح لکھاپایا ہے۔ جیسا کہ ابی وجزہ ساعدی کا قول ہے۔
العاطفون تحین مامن عاطف والمطعمون زمان مامن مطعم
(وہ ایسے وقت مہربانی کرتے ہیں جب کوئی مہربان موجود نہیں ہوتا اور ایسے وقت کھانا کھلاتے ہیں جب کوئی شخص کھانا کھلانیوالا نہیں ہوتا) ۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کفار مکہ جب جنگ کرتے تھے تو لڑائی میں سرمست ہوجاتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتا تھامناص، اس پر اللہ نے فرمایا، ولات حین مناص ، یعنی مناص کہنے کا وہ وقت نہ تھا یعنی نہ کوئی جائے پناہ تھی اور نہ بھاگ جانے کا مقام۔ جب اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن ان پر عذاب نازل کیا تو وہ کہنے لگے مناص اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ولات حین مناص،
Ayah 38:44، وعجبوا، اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، بل الذین کفروا،۔۔۔۔۔۔ ، ان جاء ھم منذرمنھم، رسول وہ بھی ان ہی میں سے تھا جوان کو ڈرارہا تھا۔ ، وقال الکافرون ھذاساحرکذاب،
Ayah 38:55، اجعل الا لھۃ الھا واحدا ، جب حضرت عمر بن خطاب ؓ مسلمان ہوگئے تو قریش کو آپ کا مسلمان ہوجانا بڑاشاق گزرا لیکن مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی ۔ ولید بن مغیرہ نے سرداران قریش کی ایک جماعت کو جو تعداد میں پچیس تھے جمع کرکے کہا ، چلو ابوطالب کے پاس چلیں۔ ولید بن مغیرہ کی عمر سب سے زیادہ تھی۔ حسب مشورہ سب لوگ ابو طالب کے پاس گئے اور ان سے کہا آپ ہمارے بزرگ اور سردار ہیں اور ان بیوقوف لوگوں کی حرکتوں سے آپ واقف ہیں ، ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمارا اپنے بھتیجے سے تصفیہ کر اد یجئے ۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلوایا۔ جب آپ ﷺ تشریف لے آئے تو ابو طالب نے کہا میرے بھیتجے ، یہ تمہاری قوم والے تم سے کچھ درخواست کر چاہتے ہیں تم اپنی رائے بالکل ہی ان کے خلاف نہ کرنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، تم لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہو۔ قریش نے کہا تم ہمارے معبودوں کا ذکر چھوڑدو اور ہم تم تمہارے معبود سے نہیں روکیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا، کیا تم لوگ مجھ سے ایک بات کا وعدہ کرتے ہو جس کی وجہ تم عرب کے حاکم بن جاؤ گے اور عجمی بھی تمہارے فرمانبردار ہوجائیں گے۔ ابوجہل بولا اگر ایسی بات ہے تو ہم ایک نہیں اس جیسی دس باتیں مان لیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہہ دو ۔ یہ سنتے ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور منتشر ہوگئے اور کہنے لگے، اجعل الالھۃ الھا واحدا، ساری مخلوق ایک خدا کا کلام کیسے سن سکتی ہے ؟ ، ان ھذالشیء عجاب،
عجیب اور عجاب کا فرق بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ انوکھی بات جس کی نظیر ہو، عجیب کہلاتی ہے اور بینظیر ہو تو اس کو عجاب کہتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے، رجل ، کریم وکرام ، اور کبیر، کبار، طویل طوال اور عریض عراض کی طرح ہے۔
Ayah 38:66، والطلق الملاء منھم ان امشواواصبرواعلی آلھتکم ، قریش کے سروار ابو طالب کی مجلس سے اٹھ کر چل دیئے۔ بعض بعض کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ چلو اور اپنے معبودوں کے ساتھ جمع رہو۔ یعنی اپنے معبودوں پر چابت قدم رہو۔ ، ان ھذا لشیء براد، جب حضرت عمر ؓ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو ایک خاص قوت حاصل ہوگئی اس پر کافروں نے کہا، ان ھذالشیء براد ، بعض نے کہا کہ اس سے مراداہل الارض ہیں ۔
Ayah 38:77، ماسمعنا بھذا، جو کچھ محمد ( ﷺ ) کہہ رہے ہیں یہ اس سے پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنا۔ ، فی الملۃ الا خرۃ، حضرت ابن عباس ؓ، کلبی ، مقاتل نے کہا کہ ، الملۃ الا خرۃ، سے مراد عیسائیت ہے۔ آخری مذہب یہی تھا۔ عیسائی بھی توحید کے قائل نہیں تھے بلکہ خدا کو تین ، اقانیم، میں تیسراکہتے تھے۔ مجاہد اور قتادہ سے مراد ہے، الملۃ الا خرۃ، سے قریش کا مذہب جس پر وہ چلتے تھے۔ ، ان ھذا الا اختلاق، جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔
Ayah 38:88، أأنزل علیہ الذکر، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، من بیننا ، یعنی یہ نہ ہمارا بزرگ ہے اور نہ ہی مال وعزت والا یہ اہل مکہ کہتے تھے۔ ، بل ھم فی شک من ذکری، وہی اور جو چیز میرے اور پر اتری ہے اس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں۔ بل لما یذو قوا عذاب ، انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا، اگر عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو اس طرح نہ کہتے۔
Ayah 38:9تفسیر 9۔ ، ام عندھم، کیا تمہارے پاس ، خزائن رحمۃ ربک ، تمہارے رب کی طرف سے نعمت ، اس سے مراد نبوت کے خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں۔ ، العزیز الو ھاب ، سب پر غالب جس پر کوئی غالب نہیں ۔ وہاب وہ بڑا داتا جس کو جو کچھ دینا چاہتا ہے دیتا ہے۔
Ayah 38:1010، ام لھم ملک السموات والارض وما بینھما، یہ ان کے اختیار نہیں ہے۔ ، فلیرتقوافی الاسباب، یعنی عالم سماوی اور ارض کے نظم میں اس کو کچھ دخل نہیں تو سیڑھیاں لگا کر آسمان چڑھ کر عرش تک پہنچ کر اس متمکن ہوں اور وہاں سے اس کا ئنات کا انتظام چلائیں اور جس پر چاہیں وحی نازل کی۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے اسباب سے مراد ہیں آسمان کے دروازے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچنے کا راستہ ، کہیں تک پہنچنے کا ذریعہ اور سبب ہو خواہ راستہ ہو، دروازہ ہویا کچھ اور ہو اس کو سبب کہا جاتا ہے۔ یہ امر بطور توبیخ اور عاجز کرنے کے لیے ہے۔
Ayah 38:1111، جند ماھنا لک، یعنی یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک شکست خوردہ حقیر بھیڑ ہے۔ ماصلہ ہے ، مھزوم، مغلوب ہیں۔ ، منالاحزاب، اس سے مراد قریش کے لشکر ہیں۔ قتاہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرمادیا تھا جب آپ ﷺ مکہ میں تھے، انہ سیھزم جند المشرکین، کہ عنقریب کافروں کی جماعت کو شکست ہوجائے گی اور یہ پیٹھ موڑکربھاگ جائیں گے۔ چناچہ اس کا ظہور بدر کے دن ہوگیا۔ ، ھنالک، سے اشارہ بدر کی لڑائی میں کافروں کی قتل گاہوں کی طرف ہے۔ پھر آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
Ayah 38:12اوتاد کی تفسیریں
12، کذبت قبلھم قوم نوح وعاد و فرعون ذوالا وتاد، حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب نے ذوالا وتاد کا ترجمہ کیا مضبوط عمارتوں والا۔ بعض نے کہا کہ قوی پائیدار حکومت والا۔ قتیبی نے کہا کہ عرب بولتے ہیں وہ لوگ گڑھی ہوئی میخوں والی عزت کے مالک ہیں۔ یعنی لازوال قوی عزت ان کو حاصل ہے۔
ضحاک کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے مضبوط قوت گرفت والا ۔ عطیہ نے کہا کثیر لشکروں والا اور بڑے جتھوں والا جس طرح کسی چیز کو مضبوط بنانے کے لیے اس میں کیلیں یا میخیں تھونک دی جاتی ہیں اسی طرح فرعون کی قوم نے اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط اور طاقت وربنارکھا تھا۔ فوجوں کی میخیں (اوتاد) اس لیے کہاجاتا ہے کہ سفر کی حالت میں پڑاؤپر وہ بہت سے ڈیرے ، خیمے لگاتے اور میخوں سے ان کو باندھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول عطیہ سے یہی آیا ہے ۔ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ نے کہا کہ اوتاد وتد کی جمع ہے۔ فرعون جب کسی پر عتاب کرتا تھا تو اس کو چت کرکے زمین سے کچھ اوپر ہر ہاتھ اور ٹانگ ایک ایک ستون میں ٹھونک دیتا تھا۔ اسی طرح وہ چت معلق رہتا تھا، نہ اوپر جاسکتا تھا اور نہ نیچے زمین پر گرسکتا تھا۔ اسی طرح مرجاتا تھا۔
مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ جس شخص کو سزادینی ہوتی فرعون اس کو زمین پرچت لٹاتا، پھر اس کے ہاتھ پاؤں علیحدہ علیحدہ پھیلا کرچومیخا کردیتا تھا۔ سدی کا قول ہے کہ چومیخا مضبوط کرکے بچھو اور سانپ اس پر چھوڑدیتا تھا۔ قتادہ اور عطاء (رح) نے کہا کہ فرعون کے پاس کچھ پارٹیاں تھیں ، کھیل کے میدان تھے، میخیں تھیں ، اس کے سامنے کھلاڑی میخوں پر کھیلتے تھے اور کرتب دکھاتے تھے۔
Ayah 38:1313، وثمود وقوم لوط واصحاب الا یکۃ اولئک الا حزاب ، وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور مکہ کے مشرکین بھی انہی جماعتوں میں سے ایک جماعت تھی۔
Ayah 38:14تفسیر 14، ان کل ، ان میں سے تمام جماعتوں نے ، الا کذب الرسل فحق عقاب ، ابن پر عذاب واجب ہے اور ہم نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا۔
Ayah 38:1515، وماینظر، یہ لوگ انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ھولا، کفار مکہ ، الا صیحۃ واحدۃ، اور وہ نفخہ صو رہے۔ ، مالھا من فواق، حمزہ اور کسائی نے، فواق، فاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء کے نزدیک فاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ یہ دو ونوں لگات درست ہیں۔ قریش کی لغت میں فتحہ ہے اور تمیم کی لغت میں ضمہ ہے۔ ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا کہ فواق کا معنی ہے واپس ہونا ۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ کیا مہلت۔ ضحاک کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے پھیرنا، موڑنا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ چیخ جو اپنے مقررہ وقت پر آئے گی جو عذاب کی صورت میں ہوگی تو اس کونہ کوئی لوٹا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کو پھیر سکتا ہے۔ بعض نے ضمہ اور فتحہ کی صورت میں فرق بیان کیا ہے ۔ ابوعبیدہ اور فراء نے کہا کہ فواق کا معنی ہے آرام ، افاقہ اور فواق اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کو دوہنے اور پھر دودھ اتار نے کے لیے چھوڑدینے اور پھر دوہنے کے درمیان ہوتا ہے۔ فواق : اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دیتے وقت اس مقدار کی بھی مہلت نہیں ردیں گے۔ بعض نے کہا کہ یہ دونوں رجوع سے مستعار لیے گئے کیونکہ دودھ دوبارہ تھنوں میں لوٹ آتا ہے ۔ جب اس کے بچے کو اس کے تھنوں کے قریب چھوڑدیاجاتا ہے ۔ اسی سے ہے مریض کا افاقہ پانا صحت کی طرف۔
Ayah 38:1616، وقالواربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب ، سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں ہمارا لکھا ہواحساب۔ قط اس صحیفہ کو کہا جاتا ہے جس میں سب کچھ شمار کردیا گیا ہو۔ کلبی کا بیان ہے کہ جب سورة الحاقہ نازل ہوئی ، فامامن اوتی کتابہ بیمینہ، ۔۔۔۔۔ ، وامامن اوتی کتابہ بشمالہ ، تو مکہ کے کافروں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا، اے ہمارے رب ! ہمارا لکھا ہواتو ا بھی دے دے۔ سعید بن جبیر تابعی (رح) نے کہا کہ کافروں کی مراد یہ تھی کہ محمد ﷺ جس جنت کا ذکرفرماتے ہیں، اس کے اندرہماراجو نصیب اور حصہ ہو وہ ہم کو یہیں دیدے۔
حسن ، قتادہ، مجاہد اور سدی رحمہم اللہ کا قول ہے کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ جس عذاب آخرت کی محمد ﷺ ہم کو دھمکی دیتے ہیں اس کا ہمارا مقررہ حصہ یہیں دنیا میں ہم کودے دے۔ عطاء کا قول ہے کہ یہ نضربن حارث کا قول تھا۔ اس نے کہا تھا، اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عند ک فامطر علینا حجارۃ من السمائ، اے اللہ ! اگر یہی حق ہے اور تیری طرف سے نازل ہوا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں سے بارش کردے۔ مجاہد کا قول ہے کہ ، قطنا، سے مراد حساب ہے ۔ جیسا کہ کتاب کے حساب کو قط کہاجاتا ہے۔ ابوعبیدہ اور کسائی نے کہا کہ ، القط، سے مراد جوائز ہے۔
Ayah 38:17تفسیر 17، اصبر علی مایقولون، کفار جو کچھ آپ کی تکذیب کرنے کے متعلق کہتے ہیں۔ ، واذکر عبد نا داوذا الا ید، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ عبادت میں بڑے قوت دار تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ اللہ کو پسند حضرت داؤ (علیہ السلام) کانفل روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے، ایک دن ناغہ کرتے تھے اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز اللہ کے نزدیک حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ہے۔ داؤ (علیہ السلام) آدھی رات سوتے تھے، ایک تہائی رات نماز پڑھتے تھے۔ پھر آخرت میں پوری رات کا چھٹاحصہ سوجاتے تھے۔ بعض نے کہا کہ اپنی بادشاہت کی ملک میں بہت مضبوط تھے۔ ، انہ اواب، ہرناپسندیدہ کام پر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کے ذریعے رجوع کرتے تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں۔ یعنی اللہ کے بڑے اطاعت گزار تھے۔ سعید بن جبیر تابعی (رح) نے کہا کہ اللہ کی بہت پاکی بیان کرنے والے تھے۔ جبشی زبان میں ، اوب، کا معنی ہے تسبیح کرنے والا۔
Ayah 38:1818، انا سخرنا الجبال معہ، جیسا کہ ارشاد باری ہے، وسخرنامع داؤ د الجبال ،۔۔۔۔۔۔۔ ، یسبحن، تسبیح کرتے تھے۔ ، بالعشی والاشراق، کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد صبح وشام ہے۔ اشراق کا مطلب ہے روشنی کی چمک کا انتہاء کو پہنچ جانا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس سے صلوۃ اشراق مراد ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا اس آیت کے متعلق کہ اس آیت پر میرا ایمان تو تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا معنی کیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ام ہانی بنت ابو طالب ؓ نے فرمایا کہ ایک روزرسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور وضوکاپانی طلب فرمایا، پھر وضو کیا اور چاشت کی نماز پڑھی اور نماز کے بعد فرمایا، ام ہانی ! یہ اشراق کی نماز ہے۔
Ayah 38:1919، والطیر، اور ہم نے پرندوں کو ان کے لیے مسخر کردیا۔ ، محشورۃ، جو جمع ہوکر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ ، کل لہ اواب، یہ سب حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح پڑھنے میں مطیع تھے۔ بعض نے کہا کہ، لہ اواب کا معنی ہے کہ تسبیح میں برابر مشغول رہتے تھے۔
Ayah 38:20حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت
20، وشددنا ملکہ، یعنی ہم نے ان کی حکومت کو مضبوط متحکم بنادیا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اللہ نے تمام بادشاہوں سے بڑھ کر حضرت داؤد علیہ کو اقتدار عطا فرمایا تھا، ان کے قلعہ کی نگرانی ہر رات 36 ہزار سپاہی کرتے تھے۔
بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی نے کسی بڑے آدمی پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سامنے یہ دعوی کیا کہ اس نے میری گائیں چھین لی ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے مدعی علیہ السلا سے پوچھا اس نے انکار کردیا۔ آپ نے مدعی سے گواہ طلب کیے ، اس کے پاس گواہ نہ تھے۔ آپ نے فرمایا، چلے جاؤ، میں تمہارے معاملے میں غور کرکے فیصلہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے خواب میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ مدعی علیہ کو قتل کردیا جائے۔ بیدارہونے کے بعد آپ نے خیال کیا کہ یہ ایک خواب ہے، میں فیصلہ میں جلدی نہیں کروں گا۔ دوسرے روز پھر یہی خواب آیا لیکن آپ نے خواب کی تعمیل نہیں کی۔ تیسرے روز خواب میں وحی آئی کہ مدعی علیہ کو قتل کردو، سخت سزادو۔ بیدارہونے کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) نے مدعی علیہ کو طلب کیا اور فرمایا ، اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ میں تجھے قتل کرادوں۔ اس نے کہا کیا آپ بغیر ثبوت کے مجھے قتل کرادیں گے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا، ہاں اللہ کی قسم ! میں تیرے معاملہ میں اللہ کا حکم نافذکرکے رہوں گا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) مجھے قتل کرادیں گے توبولا آپ عجلت سے کام نہ لیں، میں آپ کو اصل واقعہ بتائے دیتا ہوں میرے لیے اس جرم کی یہ سزا تجویز نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ میری پکڑ ایک اور جرم میں ہوئی ہے ، میںنی اس مدعی کے باپ کو دھوکادے کر اچانک قتل کردیا تھا ، اس کی مجھے یہ سزادی گئی ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور قتل کرادیا۔ اس واقعہ سے بنی اسرائیل کے دلوں پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ہیبت چھاگئی اور آپ کی حکومت بڑی مستحکم ہوگئی ۔
، واتیناہ الحکمۃ، اس سے مراد نبوت اور تمام امور میں پہنچ جانا۔ ، وفصل الخطاب ، اس سے مراد کلام کو واضح بیان کرنا۔
فصل الخطاب کی تفسیر
ابن مسعودؓ ، حسن کلبی مقاتل کے نزدیک ، فصل الخطاب، سے مراد ہے بصیرت فیصلہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا واضح کلام مراد ہے ۔ حضرت علی ؓ کا قول نقل کیا کہ ، فصل الخطاب البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر، ہے ۔ مدعی پر لازم ہے کہ گواہ پیش کرے اور گواہ نہ ہوں تو مدعی علیہ سے حلف لیا جائے۔ یہ ضابطہ تمام جھگڑوں کو طے کردیتا ہے۔ فریقین کی بات ہی ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت ابی بن کعب کے قول کی بھی یہی روایت آتی ہے ۔ حضرت ابی نے فرمایا، فصل الخطاب ، گواہ اور قسم ہے ۔ مجاہد، عطاء بن رباح کا یہی قول ہے۔
شعبی کا قول ہے کہ حمد وثناء کے بعد جب آدمی مقصد بیان کرنا چاہتا ہے اور بیان مقصد سے پہلے امابعد کہتا ہے تو یہ فصل الخطاب ہے۔ سب سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ کہا تھا۔
Ayah 38:21حضرت داؤد (علیہ السلام) کا امتحان
تفسیر 21۔ ، وھل اتاک نبا النخصم اذتسوروالمحراب، اس آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا امتحان تھا۔ اس کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایک روز تمنا کی کہ ان کو بھی ان اسلاف ابراہیم اسحاق اور اسرائیل کا ہم مرتبہ بنادیا جائے اور اللہ سے دعا کی کہ جس طرح تونے میرے بزرگوں کا امتحان لیا اور امتحان کے بعد ان کو مراتب عنایت کیے اسی طرح مجھے بھی ان کی طرح مرتبہ میرا امتحان لینے کے بعد عطا فرمادیا جائے۔
سدی ، کلبی اور مقاتل رحمہم اللہ نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اپنی اپنی اسناد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے وقت کے تین حصے کر رکھے تھے۔ ایک روز تو لوگوں کے فیصلوں کے لیے مخصوص کردیا تھا۔ ایک دن اللہ کی عبادت کے لیے مخصوص تھا اور ایک روز اپنی عورتوں اور دوسرے مشاغل کے لیے ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) جو آسمانی کتابیں پڑھتے تھے ان میں حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہم السلام) کی فضیلت کا تذکرہ تھا۔
ایک روز انہوں نے دعا کی اے رب ! میں سمجھتا ہوں کہ ساری خوبیاں میرے آباؤاجواد لے گئے جو مجھ سے پہلے گزرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ ان کو تو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا۔ ویسی آزمائشوں میں آپ کو مبتلا نہیں کیا گیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا امتحان تو نمرود کی طرف سے ایذاؤوں کی شکل میں اور بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دے کرلیا گیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا امتحان یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے غم کی شکل میں لیا گیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب ! اگر ان کی طرح تو میرا بھی امتحان لے گا تو میں بھی ثابت قدم رہوں گا۔ اللہ نے وحی بھیجی اچھا تمہارا امتحان فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو لیا جائے گا چو کنے رہنا۔ جب اللہ کی مقررکردہ امتحانی تاریخ آئی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے عبادت خانے کے اندرجاکرزبور پڑھنے میں مشغول ہوگئے ۔ دوران قرأت شیطان کبوتر کی شکل میں سامنے آیا وہ کبوتر سونے کا بنا ہوا تھا ، ہر خوبصورت رنگ اسی میں موجود تھا۔ بعض نے کہا کہ اس کے پر موتیوں اور زبر جد کے تھے، وہ آپ کے دونوں پاؤں کے درمیان آکربیٹھ گیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اس کی خوبصورتی اچھی لگی۔ انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اس کو پکڑلیں اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کو بنی اسرائیل کو دکھلائیں۔ جب انہوں نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو وہ تھوڑاسادورجاکربیٹھ گیا۔ پھر وہ وہاں اس کو پکڑنے کے لیے چلے اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایاتا کہ اس کو پکڑلیں ۔ پھر وہ وہاں سے اڑکرروشن دان میں جاکر بیٹھا، وہاں گئے تاکہ اس کو پکڑیں وہ وہاں سے اڑکردورجاکر بیٹھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اس کو دیکھتے رہے تا کہ اس کے شکار کے لیے کو بھیجیں تو ا س وقت ان کی نظر باغ میں ایک خوبصورت عورت پر پڑی ۔ اس کے حسن پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کو تعجب ہوا۔ اتفاقا عورت کی نظر بھی پڑگئی اور اس نے کسی مرد کی پرچھائی دیکھ لی تو فورا اپنے بال بکھیر کر جسم کو چھپالیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کوا س پر اور تعجب ہوا۔ آپ نے لوگوں سے اس عورت کے متعلق پوچھا تو ان کے پوچھنے پر بتلایا کہ یہ عورت تشایع بنت شایع ہے، اور یاء بن حنانا کی بیوی ہے۔ اس کا شوہر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بھانجے ایوب بن صوریا کے ساتھ ۔
غزوہ میں گیا ہوا ہے جو بلقاء کے نام سے مشہو رہے اور بعض نے اس کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے دل میں یہ خیال آیا کہ اور یاء جہاد میں شہید ہوجائے تو میں اس کی بیوی سے نکاح کروں اور بعض نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایوب کی بہن کے بیٹے کو لکھا کہ اور یاء کو دوسری جگہ جہاد کے لیے بھیج دو اور اس کے لیے تابوت بھیج دیا اور اس زمانے میں یہ اصول تھا کہ جس کمانڈر کے لیے تابوت بھیج دیاجاتاتو اس کے لیے واپسی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ اس شہر کو فتح نہ کرلے یاجام شہادت نوش نہ کرلے ۔ اس کو دوسری جگہ جہاد کے لیے بھیجا ، اس کو وہاں سے بھی فتح حاصل ہوگئی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لکھا گیا کہ اس نے شہر کو فتح کرلیا۔ پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے لکھا کہ اس کو فلاں فلاں کے مقابلے میں بھیج دو ۔ اس کو اس جگہ کی طرف بھیجا گیا حتی کہ وہاں سے بھی اس کو فتح حاصل ہوگئی ۔ پھر دوبارۃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لکھا گیا کہ اس کو وہاں سے بھی فتح حاصل ہوگئی۔ پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے تیسری لکھا بارلکھا کہ اس کو فلاں فلاں دشمن کے مقابلے میں بھیج دو ۔ اس کو بھیجا گیا تو وہ تیسری مرتبہ ہلاک ہوگیا۔ پھر جب عورت کی عدت مکمل ہوگئی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔ یہ حضرت ام سلیمان (علیہما السلام) تھیں۔
حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا یہ گناہ تھا کہ انہوں نے ایک عورت کے بدلے میں ایک شخص کو شہید کروادیا۔ بعض اہل مفسرین کا قول ہے کہ یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے مباح تھا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ اس بات سے راضی نہیں تھے کیونکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دنیا کی طرف رغبت کی جبکہ ان کے پاس اپنی بیویوں میں کثرت تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو سب چیزوں سے مستغنی کردیا تھا جو چیزیں اللہ نے دوسروں کو دی تھیں ان سے بھی غنی کردیا تھا۔ حسن (رح) سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ایک دن بیویوں کے لیے اور ایک دن عبادت کے لیے اور ایک دن بنی اسرائیلیوں کے فیصلے کے لیے اور ایک دن بنی اسرائیل کے ساتھ مذاکرہ کرنے اور ذکر و اذکار کرنے ، ایک روزبنی اسرائیل کو وعظ کہنے کا آپ نے مقررکردیاتھابنی اسرائیل کے ساتھ مل کر آپ ذکر خدا کرتے ، خود بھی روتے اور ا ن کو بھی رلاتے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے امتحان کا ایک اور واقعہ
ایک روز بنی اسرائیل نے کہا کہ کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جس کا کوئی دن ایسا بھی گزرتا تھا جس میں کوئی گناہ نہ کرتا ہو ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں میں ایسا کرسکتا ہوں۔ بعض اہل روایت نے بیان کیا کہ ایک روز آپ کے سامنے عورتوں کا تذکرہ لوگوں نے کیا کہ ان کے جال سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کہا اگر میرا امتحان لیا گیا تو میں محفوظ رہوں گا۔ چناچہ جب آپ کی عبادت کا دن آیا تو آپ نے عبادت گاہ میں داخل ہوکر دروازے بند کروادیئے اور حکم دے دیا کہ کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ پھر آپ توریت کی تلاوت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے۔ اسی حالت میں سونے کا ایک بنا ہواکبوتر آپ کے سامنے آگیا۔ آگے واقعہ اسی طرح ہے جس طرح ہم نے پہلے ذکر فرمایا۔ اور یاء کے شہید ہوجانے کے بعد جب اس کی بیوہ سے آپ نے نکاح کرلیا تو کچھ ہی مدت گزری تھی کہ اللہ نے دوفرشتے دوآدمیوں کی شکل میں خاص عبادت کے دن بھیج دیئے اور انہوں نے عبادت خانے میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ پہریداروں کے انکار پر دونوں شخص دیوارپھاندکراندر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئے۔ آپ (علیہ السلام) نماز پڑھ رہے تھے، آپ کو اس وقت علم ہواجب وہ آپ کے سامنے آکر بیٹھ گئے۔ یہ دونوں فرشتے حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) تھے۔ اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا، وھل اتاک نبا الخصم ، یہ خب رہے خصم کی ، اذتسوروا المحراب ، جب وہ محراب پر چلے اور بلند ہوئے۔ تسوروادیوارپرچڑھنایہ لفظ سور سے ماخوذ ہے۔ یہاں پر فعل کو جمع کے صیغہ کے ساتھ ذکر کیا حالانکہ وہ تودوفرشتے تھے، کہتے تھے کہ خصم اسم ہے جو واحد تشنیہ جمع مذکر مؤنث کی صلاحیت رکھتا ہے اور جمع کا معنی دو میں صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ جمع کا معنی ہے ایک شئی کو دوسری شئی کے ساتھ ملانا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
Ayah 38:22، فقد صغت قلو بکما، اصل میں یہاں ، قلباکما، ہونا چاہیے تھا۔
22، اذ دخلواعلی داودففزع منھم، حضرت داؤد (علیہ السلام) ان دونوں سے خوفزدہ ہوگئے کیونکہ وہ اصل راستہ دروازہ کا چھوڑکر محراب کی جانب سے آئے اور بغیر اجازت کے اندرداخل ہوگئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ دونوں میرے گھر کیوں داخل ہوئے ؟ ، قالوالاتخف خصمان، ہم دونوں فریقوں میں جھگڑا ہوگیا ، یعنی ہمارے درمیان ایک معاملہ ہے، بغی بعضنا علی بعض، ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ سے ہم اس بارے میں فیصلہ کروائیں ۔
سوال یہ ہوتا کہ یہ کیسے کہا کہ ، بغی بعضنا علی بعض، حالانکہ وہ دونوں فرشتے تھے۔ ان میں ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی نہیں ہوسکتی تھی ؟
اس کا بعض حضرات نے یہ جواب دیا کہ ہم نے دوجھگڑنے والوں کو دیکھا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کے ساتھ زیادتی کی ۔ یہ کلام بطور تعریض کے تھا، نہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ بغاوت۔
، فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط، فیصلہ جو روالا نہ کریں۔ جیسے کہاجاتا ہے ، شط الرجل شطط واشط الشطاطا، جب وہ فیصلہ میں ظلم وجور کرے۔ اس کا معنی ہے فیصلے سے تجاوز کرنا۔ یہ اصل کلمہ ، شطت الدار واشطت اذا بعدت، جب وہ دورہوجائے۔ ، واھدنا الی سواء الصراط، یعنی وسط راہ جو ادھر ادھر نہ ہو، جو خوب انصاف والا ہو، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ان سے کہابیان کیجئے۔
Ayah 38:23تفسیر 23، ان دونوں میں سے ایک نے کہا، ان ھذا أخی ، میرادینی بھائی ہے۔ ، لہ تسع وتسعون نعجۃ ، یعنی میری ایک بیوی ہے۔ ، ولی نعجۃ واحدۃ، اور میری ایک بیوی ہے۔ عرب لوگ ، نعجۃ ، کو بیوی سے کنایۃ استعمال کرتے تھے۔ حسن بن فضل نے کہا کہ یہ لفظ تنبیہ کرنے اور بطور سمجھا نے کے کہا تھا حالانکہ وہاں کوئی ، نعجۃ، نہیں تھی۔ ، فقال اکفلنیھا، حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنبی مجھے دے دے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس کو میرے لیے چھوڑدے۔ یعنی اس کو طلاق دے دے یا اس سے نکاح نہ کر۔ ، وعزلی، اور میرے اوپر غالب آتا ہے۔ ، فی الخطاب، بات کرنے میں میرے سے آگے ہے۔ بعض نے کہا کہ اپنی بادشاہت کی وجہ سے مجھ پر غالب آتا ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ مجھ سے زیادہ زبان آور اور زور آو رہے۔ بات چیت میں مجھے دبالیتا ہے۔ اگر میں اس سے لڑوں تو میری کمزوری کی وجہ مجھ پر غالب آجاتا ہے لیکن میں حق پر ہوں۔
یہ پوری مثال ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور اور یاء کی بیوی کے درمیان حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اور یاء کی بیوی کے ساتھ نکاح کیا حالانکہ ان کے پاس ننانوے بیویاں تھیں اور اور یاء کی ایک ہی بیوی تھی تو انہوں نے اس کو اپنی عورتوں کے ساتھ ملادیا۔
Ayah 38:2424، قال، حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا، لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ، یعنی تمہاری نعجہ کو اپنے ساتھ ملاکر اس نے ظلم کیا۔
شبہ اور اس کا ازالہ
سوال حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کیسے کہہ دیا کہ اس نے ظلم کیا حالان کہ دوسرے شخص سے اس کے بارے میں پوچھاہی نہیں ؟ جواب اگر واقعہ اسی طرح ہے جس طرح یہ کہہ رہے ہیں تو یہ ظلم ہے۔ بعض نے کہا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ اس کے ساتھی کے اعتراف کے بعد فرمایا۔ ، وان کثیرامن الخلطائ، اس سے مراد شرکاء ہیں ۔ ، لیبغی بعضھم علی بعض ، یعنی بعض ، بعض پر ظلم کرتے ہیں۔ ، الا الذین آمنواوعملوا الصالحات، ان صفات والے لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہیں کرتے ۔ ، وقلیل ماھم، ان میں بہت تھوڑے ہیں ۔ ماصلہ ہے۔ صالحین میں سے بہت ہی کم لوگ ہیں جو ظلم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاجب حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہنس پڑے اور آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پہچان گئے کہ ان کو آزمایا گیا ہے۔ ، وظن داؤد، ان کو یقین ہوگیا اور جان گئے ۔ ، انما فتناہ، ان کو آمائش میں مبتلا کیا گیا ۔ سدی نے اپنی سند میں بیان کیا کہ جب ایک نے ، ان ھذا اخی، فرمایا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دوسرے سے پوچھا تو کیا کہتا ہے اس نے جواب دیا، بیشک میرے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور اس کی ایک دنبی ہے، میں اس کی دنبی لے کر اپنی سودنبیاں پوری کرنا چاہتا ہوں مگر اس کو یہ بات ناگوار ہے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو میں تجھ کو اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ اگر تو نے اس کا ارادہ بھی کیا تو میں اس پر (ناک اور اس جڑپر) ماروں گا۔ اس نے کہاداؤد آپ اس سزا کے زیادہ مستحق ہیں، اور یاء کی تو ایک عورت تھی اور آپ کی ننانوے تھیں، آپ برابر اس کے مارے جانے پر درپے رہے آخروہ قتل ہوگیا اور آپ نے اس کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس کے بعد حضرت داؤدعلیہ السلام نے دیکھا تو کوئی بھی نظرنہ آیا ۔ اس وقت حضرت داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ میں کیسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا۔
بعض حضرات کا قول ہے کہ جو لوگ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو عیوب سے پاک مانتے ہیں وہ اس قصہ کے متعلق کہتے ہیں کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اور یاء کی بیوی کو اپنے لیے بنائے جانے کی دل میں تمنا کی تھی ۔ اتفاقا اور یاء کسی جہاد پر گیا اور لڑائی میں آگے بڑھ کر شہید ہوگیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اس کے قتل ہوجانے کی خبرملی تو آپ اس کے مارے جانے پر ایسے رنجیدہ نہیں ہوئے جیسے آپ کی عادت تھی کہ فوج کا کوئی سپاہی ماراجاتا تو آپ کو اس پر سخت رنج ہوتا اور آپ غمگین ہوجاتے تھے۔ اس کے بعد آپ (علیہ السلام) نے اور یاء کی بیوہ سے نکاح کرلیا۔
اتنے ہی قصور پر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہواکیون کہ انبیاء (علیہم السلام) کا مرتبہ اللہ کے نزدیک چونکہ بہت اونچا ہے اس لیے انبیاء (علیہم السلام) کے چھوٹے گناہ بھی خدا کی نظر میں بڑے ہوتے ہیں ۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا قصور صرف یہ تھا کہ اور یاء نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھجوایا ، پھر کسی جہاد پر چلا گیا اور غائب ہوگیا ۔ اس کے غائب ہوجانے کے بعدحضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس عورت کو اپنے نکاح کا پیغام بھیجا اور اس سے نکاح کرلیا ۔ اور یاء بہت رنجید ہ ہوا اور حضرت داؤد علیہ السلا م پر اللہ کا عتاب نازل ہوا کہ اس ایک عورت کو بھی انہوں نے پیغام نکاح بھیجنے والے کیلئے نہیں چھوڑا۔ باوجود یکہ ان کے پاس ننانوے عورتیں موجود تھیں۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ داؤد نبی (علیہ السلام) نے جو اس عورت کی طرف نظر کی تو دل میں ایک ارادہ کیا اور سپہ سالا رکو حکم بھجوادیا کہ جب دشمن کا مقابلہ ہو تو اس شخص کے آگے توبوت بھیج دینا۔ اس زمانے میں تابوت کی برکت سے ہی اللہ کی نصرت طلب کی جاتی تھی جو شخص تابوت سے آگے ہوتا وہ واپس لوٹ نہیں سکتا تھا یاماراجاتا یا فتح باب ہوتا اور دشمن کو شکست ہوجاتی۔ چناچہ اس عورت کا شوہر شہید ہوگیا اور دوفرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے قصہ بیان کیا اس وقت حضرت داؤد (علیہ السلام) حقیقت کو سمجھ گئے۔ فورا سجدہ میں گرپڑے اور چالیس روزتک سجدہ میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اگ کر سر کے اوپر آگئی اور مٹی نے پیشانی کو کھالیا ، سجدہ کی حالت میں وہ برابر کہہ رہے تھے اے میرے رب ! داؤد سے وہ عظیم ترین لغزش ہوگئی جو مشرق ومغرب کے درمیان فاصلہ سے بھی بڑی ہے۔ اے میرے رب ! اگر تو داؤد کی کمزوری پر رحم نہیں کرے گا اور اس کے گناہ کو معاف نہیں کرے گا اور آنے والی مخلوق کے لیے داؤد کے قصور کو کہانی بنادے گا۔ چالیس روز کے بعد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا داؤد ! اللہ تعالیٰ نے تمہارا وہ ارادہ معاف کردیا جو تم کرچکے تھے۔ داؤد (علیہ السلام) نے کہا بیشک میرارب ! میرے گناہ کے ارادے کو معاف کردینے کی قدرت رکھتا ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ منصف ہے کسی کی طرف اس کا جھکاؤ نہیں ہوتا۔ پھر قیامت کے دن جب فلاں شخص کہے گا اے میرے رب ! میراخون جوداؤد کے ذمہ ہے، جبرئیل نے کہا اس کے متعلق تو میں نے آپ کے رب سے کچھ دریافت نہیں کیا۔ اگر آپ (علیہ السلام) کی خواہش ہے تو میں ایسا ضرورکروں گا۔
حضرت داؤ د (علیہ السلام) نے کہا کہ ہاں میری یہی خواہش ہے۔ جبرئیل (علیہ السلام) اوپر چڑھ گئے اور داؤد (علیہ السلام) سجدہ میں پڑگئے اور حسب مشیت خدا وقت گزرتا رہا۔ جب جبرئیل (علیہ السلام) اترے اور کہا داؤد ! میں نے اللہ سے اس بات کے متعلق جس کے لیے آپ نے مجھے بھیجا تھا دریافت کیا تھا، اللہ نے فرمایا داؤد سے کہہ دے کہ قیامت کے دن تم کو اور اس کو جمع کرے گا اور اس سے فرمائے گا کہ جو خون تیراداؤد کے ذمہ ہے وہ مجھے بخش دے ، وہ جواب دے گا ، اے میرے رب ! میں نے تجھے اختیار دیا۔ اللہ فرمائے گا اس کے عوض جنت کے اندرتوجو کچھ چاہے اور جس چیز کی تجھے خواہش ہولے لے۔
کعب بن احبار اور وہب بن منبہ کا بالا تفاق بیان ہے کہ جب دونوں فرشتے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پاس آئے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے ہی خلاف مقدمہ کا فیصلہ کردیا تو دونوں اپنی اصلی صورتوں میں آگئے اور یہ کہتے ہوئے اوپر چڑھ گئے کہ اس شخص نے اپنے ہی خلاف فیصلہ کردیا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی یہ سمجھ گئے کہ وہ مصیبت میں مبتلا ہوگئے ۔ فورا سجدہ میں گڑپرے اور چالیس روز سجدہ میں پڑے رہے نہ کچھ کھاتے تھے نہ کچھ پیتے تھے، روتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ گھاس ان کے سرکے اردگرداگ آئی ، برابر اللہ کو پکارتے اور قبول توبہ کی درخواست کرتے رہے ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سجدہ کی حالت میں یہ دعا کرتے تھے، پاک ہے وہ بادشاہ جو سب سے بڑی عظمت ولا ہے ۔ مخلوق کی جس طرح چاہتا ہے آزمائش کرتا ہے پاک ہے نور کا خالق ، پاک ہے جو دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ، پاک ہے نور کا خالق ، اے میرے معبود ! تونے مجھے اور میرے دشمن ابلیس کو خالی چھوڑدیا۔ پھر جب فتنہ مجھ پر آپڑاتو اس میں کھڑانہ رہ سکا۔ پاک ہے نور کا خالق داؤد کے لیے ہلاکت ہوگی ، اس روزجب اس کا پردہ فاش ہوجائے گا اور فرشتہ کہے گا یہ ہے خطاکار داؤد، پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا ، اے میرے معبود ! میں کس آنکھ سے تیری طرف دیکھوں گا، ظالم تو پوشیدہ نظروں سے اس روز دیکھیں گے۔ پاک ہے نور کو پیدا کرنے والا، اے میرے معبود ! میں کن قدموں سے اس روز تیرے سامنے چلوں گا جب کہ گناہ گاروں کے قدم ڈگمگار ہے ہوں گے پاک ہے نورکو پیدا کرنے والا اے میرے معبود ! مجھ میں تیرے سورج کی گرمی ، برداشت کرنے کی طاقت نہیں ، تیری دوزخ کی گرمی کیسے برداشت کروں گا ؟ اے میرے معبود ! میں تیرے رعد کی آواز (کوسننے) کی طاقت نہیں رکھتا تو جہنم کی آواز (کوسننے) کی طاقت میرے اندر کی سے ہوگی ؟ پاک ہے نورکو پیدا کرنے والا ، ہلاکت ہے داؤد کی اس گناہ کی وجہ سے جس کا اس نے ارتکاب کیا، پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ میرے معبود ! تو میری اندرونی اور بیرونی بوتوں کو جانتا ہے میری معذرت کو قبول فرما۔ پاک ہے نورکا خالق اے میرے معبود ! اپنی رحمت سے میرے گناہ بخش دے اور مجھے ذلیل کرنے کے لیے اپنی رحمت سے مجھے دورنہ کر (یعنی اگر تو نے مجھے اپنی رحمت سے دور کردیا تو میں ذ(رح) لیل ہوجاؤں گا) پاک ہے نورکاخالق ۔ اے میرے رب ! میں تیری ذات کریم کے نور کی ان گناہوں سے پناہ چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے ہلاک کردیا، پاک ہے نورکو پیدا کرنے والا ۔ اے میرے معبود ! میں تیرے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار اور اپنی خطاکا اعتراف کرتاہوں ، مجھے ناامیدنہ کر اور قیامت کے دن مجھے رسوانہ کر، پاک ہے نور کا خالق۔ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) چالیس روز تک یونہی سجدہ میں پڑے رہے ، سراوپر نہ اٹھایا اور روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسوؤں سے گھاس اگ آئی جس نے آپ کے سرکو چھپالیا۔ چالیس روز کے بعد ندا آی ، داؤد ! کیا توبھوکا ہے کہ تجھے کھانا دے دیا جائے یا پیاسا ہے کہ تجھے پانی پلادیا جائے، یاننگا ہے کہ تجھے لباس دے دیا جائے ؟ میں توبلا مانگے یہ چیریں تجھے دیتا ہوں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اتنا روئے کہ آپ کے سینہ کی گرمی سے لکڑی بھڑکنے لگی اور جل گئی۔ اس کے بعد اللہ نے قبول توبہ اور مغفرت کا حکم نازل فرمایا۔
وہب کا بیان ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ندا آئی کہ میں نے تجھے دیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا : یہ کیسے ہوگا تو تو کسی پر ظلم نہیں کرتا (پھر اور یاء کے حق کا کیا ہوگا ؟ حکم ہوا، اور یاء کی قبرپر جاؤاور اس کو پکارو، میں تمہاری آواز اس کو سنادوں گا، اس کے حق سے تم سبکروش ہوجاؤ گے۔ حسب الحکم حضرت داؤد (علیہ السلام) روانہ ہوگئے۔ کمبل کالباس پہن لیا اور اور یاء کی قبر کے پاس بیٹھ کر اس کو آواز دی اور یاء نے کہا، کون ہے ؟ جس نے میرے مزے میں خلل ڈالا اور مجھے بیدار کردیا ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا ، میں داؤدہوں اور یاء نے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ کو کیا چیزیہاں لائی ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا ، میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میری طرف سے جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا، اس سے تم مجھے سبکدوش کردو۔ اور یاء نے کہا، آپ کی طرف سے میرے ساتھ کیا برا سلوک ہوگیا ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا، میں نے تم کو قتل ہونے کی پیشکش کی۔ اور یاء نے کہا، آپ تو میرے سامنے جنت لے آئے، آپ میری طرف سے سبکدوش ہیں۔ اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے پا س وحی بھیجی اور فرمایا، داؤد ! کیا تم نہیں جانتے کہ میں عادل حاکم ہوں، کسی کی جانبداری میں فیصلہ نہیں کرتا۔ تم نے اس کو یہ کیوں نہیں بتایا کہ تم نے اس کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پھر اور یاء کی قبر کی طرف لوٹے اور اس کو آوازدی ، اور یاء نے جواب میں کہا ، کون ہے جس نے میرے مزے میں ظلل ڈالا ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا، میں داؤد ہوں۔ اور یاء نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کیا میں نے آپ کو معاف نہیں کردیا ؟ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا : ہان (یہ تو کیا تھا) لیکن میں نے تیرے ساتھ تیری بیوی کے لیے ایسا کیا تھا چناچہ میں نے اس سے نکاح کرلیا ، اور یاء خاموش ہوگیا، پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ باربارحضرت دادؤد (علیہ السلام) نے پکارا، مگر اور یاء نے کوئی جواب نہیں دیا۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) اس کی قبر کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے سرپر خاک ڈالنے لگے اور پکار نے لگے، داؤد کی ہلاکت ہوگی، اس روز جب کہ انصاف کی ترازوئیں قائم کی جائیں گی، پاک ہے نور کا خالق ، ہلاکت ہوگی، پھر بڑی ہلاکت ہوگی داؤد کی جبکہ اس کو ٹھوڑی پکڑکرمظلوم کے حوالے کردیا جائے گا۔ پاک ہے نور کا پیدا کرنے والا۔ ہلاکت ہوگی ، پھر بڑی ہلاکت ہوگی داؤد کی جبکہ منہ کے بل اس کو کھینچ کر دوزخ میں گنہگاروں کیساتھ ڈال دیا جائے گا، پاک ہے نورکوپیدا کرنے والا۔
آسمان سے ندا آئی : داؤد ! میں نے تیری خطامعاف کردی، مجھے تیرے رونے پر رحم آگیا اور میں نے تیری دعا قبول کرلی اور تیری لغزش سے درگزر کی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب ! یہ کیسے ہوگا ؟ صاحب حق نے تو مجھے معاف نہیں کیا۔ اللہ نے فرمایا : داؤد ! میں قیامت کے دن اتنا ثواب دوں گا کہا کہ اس کی آنکھوں نے دیکھا ہوگانہ اس کے کانوں نے سنا ہوگا، پھر میں اس سے کہوں گا میرے بندے داؤد سے راضی ہوگیا ؟ وہ کہے گا : اے میرے رب ! مجھے یہ ثواب کہاں سے مل گیا ، میرے اعمال تو یہاں تک پہنچانے کے قابل نہیں تھے۔ میں کہوں گا، یہ میرے بندے داؤد کے (جرم کے) بدلے میں تجھے دیا گیا ہے ، اب میں تجھ سے اس کے جرم معاف کردینے کا خواستگا رہوں۔ آخروہ میری وجہ سے تجھے معاف کردے گا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کہا : اب میں نے جان لیا کہ تونے مجھے معاف کردیا۔
، فاستغفرربہ وخرراکعا، اس سے مراد سجدہ کرنا ہے۔ رکوع کو سجود کے ساتھ تعبیر کیا کیوں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک میں جھکنا ہوتا ہے۔ حسین بن فضل کا بیان ہ کہ میں نے عبداللہ بن طاہر سے سوال کیا، وخرراکعا، کے بارے میں کہ کیا رکوع کو خرکہا جاسکتا ہے، میں نے کہا نہیں ، اس کا معنی ہے کہ رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدہ میں جانا۔ ، وانا ب ، وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی ۔
Ayah 38:2525، فغفرنالہ ، قرب مکان ہوگا۔ ، وحسن ماب، اچھا ٹھکانا اور اسی کی طرف لوٹ جانا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ وہب بن منبہ نے بیان کیا جب اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی توبہ قبول کرلی، تب بھی آپ برابر اپنے قصورپرروتے رہے ، رات دن کسی وقت آپ کے آنسونہ رکتے تھے۔ اس وقت آپ کی عمر سترسال کی تھی۔ اس قصور کے بعد آپ نے اپنی عمر کے چار حصے کردیئے۔ ایک دن بنی اسرائیل کے معاملات کے فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیا، ایک دن عورتوں کے لیے ، ایک دن جنگلوں اور پہاڑوں میں ساکر اللہ کی پاکی بیان کرنے (اور حمد وثناء کرنے) کا اور ایک روز اپنے گھر کے اندررہ کرنوحہ کرنے کا۔ آپ کے اندرچار ہزارعبادت کے مقام تھے۔ جب آپ گھر میں خلوت گزیں ہوجاتے تو (چارہزار) تارک الدنیا درویش آپ کے پاس آکرجمع ہوجاتے، پھر آپ ان درویشوں کے ساتھ نوحہ کرتے اور درویش بھی اس رونے میں آپ کے مددگار ہوتے ۔ پھر جب جنگل میں پھر نے کا دن ہوتا تو آپ صحراء میں نکل جاتے اور (زیروبم یعنی) لے کے ساتھ اونچی آواز سے روتے، پہاڑ اور پتھر اور چوپائے اور پرندے بھی آپ کے ساتھ روتے، یہاں تک کہ ان سب کے رونے سے نالے بہہ نکلتے۔ پھر آپ دریا کے کنارے پر پہنچتے اور لے کے ساتھ اونچی آواز سے نوحہ کرتے اور مچھلیاں اور دریائی چوپائے اور دریائی پرندے اور درندے، سب ہی آپ کے ساتھ رونے میں شریک ہوتے۔ پھر آپ شام کے وقت وہاں سے لوٹتے تھے۔
گھر کے اندر نوحہ کا دن ہوتا تو ایک منادی ندا کرتا، آج داؤد کے گریہ وبکاکادن ہے جو شخص اس رونے میں ان کی موافقت کرنا چاہے وہ آجائے۔ پھر عبادت گاہوں کے احاطے کے اندر آپ تین فرش بچھوادیتے تھے جن کے اندر کھجور کی چھال کے ریشے بھرے ہوتے تھے۔ آپ فرش پر جاکر بیٹھ جاتے ، پھر چار ہزار درویش اپنی لمبی لمبی ٹوپیاں پہنے ، لاٹھیاں ہاتھوں میں لیے اندر آکر فرش پر بیٹھ جاتے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے گناہ پر اونچی آواز سے روناشروع کرتے اور درویش بھی آپ کے ساتھ اونچی آوازوں سے نوحہ کرتے۔ روتے روتے یہ حالت ہوجاتی کہ فرش آپ کے آنسوؤں میں ڈوب جاتا اور آپ اس میں گرکر چوزئہ مرغ کی طرح تڑپنے لگتے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) آکر آپ کو (اپنے ہاتھوں میں) اٹھا تے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) دونوں ہاتھوں کا چلوبناکر آنسوؤں کا پانی اس میں بھرکر اپنے چہرے پر مل لیتے اور کہتے : اے میرے رب ! میراقصورمعاف فرمادے۔
اگر حضرت داؤد (علیہ السلام) کے رونے کا ساری دنیا کے رونے والوں سے موازنہ کیا جائے تو برابر ہی ہوگا۔ وہب کا بیان ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) اوپر سر نہیں اٹھا تے تھے۔ جب فرشتے نے آپ سے کہا : داؤد ! تمہارا آغاز گناہ اور انجام مغفرت ہے، اپناسر اٹھاؤ، اس وقت آپ نے سر اٹھایا۔ اس کے بعد زندگی بھرجب تک پانی میں آپ نے اپنے آنسوؤں کو شامل نہ کرلیا، پانی نہ پیا اور، جب تک کھانے کو اشکوں سے ترنہ کرلیا، نہ کھایا۔
اور زاعی نے حدیث مرفوع بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : داؤد کی دونوں آنکھیں دومشکیزوں کی طرح (ہروقت) پانی پٹکاتی ہی رہتی تھیں۔ چہرے پر آنسوبہنے سے ایسے گڑھے پڑگئے تھے جیسے زمین میں پانی (جاری ہونے) سے گڑھے پڑجاتے ہیں۔
وہب نے بیان کیا جب اللہ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی توبہ قبول کرلی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا، اے میرے رب ! تونے میرا قصور معاف کردیا لیکن یہ کیسے ہو کہ اپنے گناہ کو (کبھی) نہ بھولوں اور ہمیشہ معافی مانگتارہوں، اپنے لیے بھی اور دوسرے گنہگاروں کے لیے بھی ۔ اس درخواست پر اللہ نے ان کے دائیں ہاتھ پر ان کا گناہ لکھ دیا (جس کا مٹنا ناممکن تھا) جب آپ ہاتھ سے کھانا یا پانی لیتے تو گناہ نظر کے سامنے آجاتا اور جب لوگوں کو خطاب کرنے کھڑے ہوتے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے تو لوگ گناہ کی تحریردیکھنے آگے آجاتے اور جب دعا کرتے تو اس گناہ کو سامنے رکھ کر اپنے لیے استغفار سے پہلے دوسرے گنہگاروں کے لیے استغفار کرتے۔
قتادہ نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ اس گناہ کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) ہمیشہ گنہگاروں کے ساتھ ہی بیٹھتے تھے اور فرماتے تھے : آؤداؤد ! گنہگاروں کے پاس آؤاور جب تک پانی میں اپنے آنسوشامل نہ کرلیتے ، کبھی پانی نہ پیتے تھے اور خشک روٹی کے ٹکڑے کو روروکر اشکوں سے بھگولیتے ، پھر اس پر کچھ نمک اور خاک چھڑک کر کھاتے اور فرماتے : گنہگاروں کا یہی کھانا ہے۔ اس گناہ سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) آدھی رات سوتے اور نصف ایام (یعنی ایک روزبیچ ناغہ کرکے) روزے رکھتے تھے لیکن اس گناہ کے بعد ہمیشہ ہی دن میں روزے رکھتے اور رات بھرنماز پڑھتے تھے۔
ثابت کا بیان ہے جب حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کے عذاب کو یاد کرتے تو آپ کا جوڑجوڑڈھیلا پڑجاتا کہ بغیر بندھن ہے باندھنے کے ان میں قوت نہ آتی تھی اور جب اللہ کی رحمت کو یاد کرتے تو جوڑ اپنے اصلی ٹھکانوں پر آجاتے۔
اس قصہ میں یہ بھی (بعض روایات میں ) آیا ہے کہ پہلے آپ کی تلاوت سننے کے لیے جنگلی جانور اور پرندے جمع ہوجاتے تھے لیکن جب آپ سے قصور سرزدہوگیا تو چوپائے اور پرندے آپ کی آواز کو نہیں سنتے تھے اور کہتے تھے آپ کا گناہ آپ کی آواز کی مٹھاس کو لے گیا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا اے داؤد ! آپ کی غلطی آپ کی آواز کی حلاوت کی وجہ سے معاف کردی گئی۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سورة (ص) میں سجدہ کیا اور یہ سجود میں سے نہیں ہے لیکن میں نے تحقیق آپ ﷺ کو دیکھا کہ وہ سجدہ کررہے ہیں۔ عوام سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے سورة ص کے سجدے کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ میں نے اس کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ سے دریافت فرمایا کہ کہاں سجدہ کیا۔ فرمایا کہ آپ یہ آیت نہیں پڑھتے۔ ، ومن ذریتہ داؤد و سلیمان، سے لے کر، اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ، حضرت داؤد (علیہ السلام) وہ نبی ہیں جن کی اقتداء کے متعلق ہمارے پیار نبی ﷺ نے حکم دیا ہے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اس جگہ سجدہ کیا، آپ ﷺ نے بھی اس جگہ سجدہ کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! کہ میں ایک رات دیکھ رہا تھا کہ میں سورہاہوں اور میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہاہوں، جب میں سجدہ کرتا ہوں تو وہ درخت بھی میرے ساتھ سجدہ کرتا ہے اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا، اللھم کتب لی بھا عند ک اجراوحط عنی بھا وزراواجعلھا لی عندک ذخرا وتقبلھا منی کما تقبل تھا من عبدک داؤد، حسن نے کہا کہ ابن جریج نے کہا کہ اسی طرح تمہارے دادا نے کہا تھا۔
ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورة ص میں سجدہ کیا۔ پھر میں نے ان سے سناجس طرح کہ اس شخص نے درخت کے متعلق خبردی تھی۔
Ayah 38:26تفسیر 26، یا داؤد انا جعلناک خلیفۃ فی الارض، اپنے حکم سے بندوں کے امور کی تدبیر کے لیے بھیجا۔
، فاحکم بین الناس بالحق ، انصاف کے ساتھ ۔ ، ولا تتبع الھواء فیضلک عن سبیل اللہ ان الذین یضلون عن سبیل اللہ لھم عذاب شدید بمانسوایوم الحساب، تم لوگوں نے ایمان کو حساب کے دن ترک کردیا۔ زجاج کا قول ہے کہ تم لوگوں نے اعمال کر ترک کردیا۔ اس وجہ سے تمہیں یہ سزاملی ۔ عکرمہ اور سدی کا قول ہے کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیرہوئی ہے۔ حساب کے دن تمہیں سخت عذاب ہوگا بسبب اس دن کے بھول جانے کی وجہ سے۔
Ayah 38:2727، وما خلقنا السماء والارض ومابینھما باطل، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ نہ اس میں کوئی ثواب ہوگا اور نہ ہی کوئی عقاب ۔ ، ذلک ظن الذین کفروا، اس سے مراد اہل مکہ ہیں۔ وہ لوگ یہ گمان کرتے تھے کہ ان کو کسی اور مقصد کے لیے پیدا کیا گیا۔ ان کونہ قیامت کے دن اٹھایاجائے گا اور نہ ہی کوئی حساب لیاجائے گا۔ ، فویل للذین کفروامن النار،
Ayah 38:2828، ام نجعل الذین آمنواوعملوا الصالحات کالمفسدین فی الارض، مقاتل کا بیان ہے کہ کفار قریش کہا کرتے تھے کہ آخرت میں جو بھلائی تم کو ملے گی وہ ہم کو بھی ملے گی۔ اس قول کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ، ام نجعل المتقین کالفجار، کیا یہ مؤ منین کافروں کی طرح ہوسکتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ متقین سے مراد آپ ﷺ کے اصحاب ہیں۔