Ayah 37:1تفسیر 1۔ ، والصافات صفا، حضرت ابن عباس ؓ حسن ، قتادہ فرماتے ہیں کہ ملائکہ آسمان میں اس طرح صف بندی کرتے ہیں جیسے تم نماز میں صف بندی کرتے ہو۔ حضرت جابربن سمرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس طرح ملائکہ اپنے رب کے سامنے صف بستہ ہوتے ہیں کیا تم اس طرح صف بندی نہیں کروگے ۔ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! ملائکہ کس طرح صف بستہ ہوتے ہیں ؟ فرمایا صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں ڈٹ جاتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ملائکہ فضاء میں اپنے پر پھیلائے رکے رہتے ہیں اور اس وقت تک رکے رہتے ہیں کہ اللہ اپنی مشیت کے مطابق ان کو کسی کام پر مامور کرتا ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک الصافات سے مراد پرندے ہیں۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ، والطیرصافات،
Ayah 37:22، فالزاجرات زجرا، یعنی بادلوں کو روکتے اور چلاتے ہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ الزات سے مراد قرآن ہے جو بری باتوں سے منع کرتا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہے۔
Ayah 37:33، فالتالیات ذکرا، اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہیں اور بعض علماء کا قول ہے کہ اس سے مراد قرآن پڑھنے والوں کی جماعت ہے۔ یہ سب قسموں کی قبیل سے ہیں جن پر اللہ نے قسمیں کھائی ہیں۔ ان سب کا جواب قسم آگے آیات میں مذکور ہے۔
Ayah 37:44، ان الھکم لواحد، یہاں پر تضمیر ہے۔ اصل عبارت یوں ، ورب الصافات ، والزاجرات ، التالیات، یہ اس وجہ سے کہ کفارم کہ کیا کرتے تھے، اجعل الا لھۃ الھارواحدا، ان ھذالشیء عجاب، کہ کیا محمد (ﷺ) نے تمام معبودوں کو ایک معبودبنا دیا۔ یہ عجیب یات ہے۔ اللہ نے ان سب کی قسم کھائی۔
Ayah 37:55، رب السموات والارض وما بینھما ورب المشارق، سورج کے طلوع ہونے کی جگہ۔
ورب المشارق اور اس کی ہم مثل آیات کی تفسیر
اگر سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا، برب المشارق والمغارب، اور ایک جگہ ارشاد فرمایا، رب المشرقین ورب المغربین، ایک اور جگہ ارشاد فرمایا، رب المشرق والمغرب ، ان آیات کے درمیان کیا تطبیق ہے۔ اس کا جواب یہ دیا کہ ، رب المشرق والمغرب، سے مراد مشرق اور مغرب کی جہت ہے اور، رب المشرقین ورب المغربین، اس سے سردیوں کے دن طلوع ہونے اور گرمیوں کے طلوع ہونے کی جگہ اور ، مغربین، سے مراد گرمیوں اور سردیوں کی بنائی ہے اور مغرب میں غروب ہونے کے لیے 360 تین سوساٹھ جگہیں بنائی ہیں۔ ان جگہوں میں سے روزانہ ایک جگہ سے طلوع ہوتا ہے اور ایک جگہ سے غروب ہوتا ہے جس جگہ سے وہ ایک مرتبہ طلوع ہوتا ہے اس سال وہاں دوبارہ طلوع نہیں ہوتا اور نہ ہی غروب ہونے کی جگہ دوبارہ غروب ہوتا ہے۔ یہی مشارق ومغارب ہیں اور بعض نے کہا کہ ہر وہ جگہ جس سے سورج طلوع ہوتا ہے وہ مشرق ہے اور ہر وہ جگہ جس سے سورج غروب ہوتا ہے اس کو مغرب کہاجاتا ہے ۔ گویا اس سے تمام وہ جگہیں جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور جہاں سے غروب ہوتا ہے وہ سب جگہیں اللہ نے پیدا کی ہیں۔
Ayah 37:66، انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب، عاصم کی قرأت بروابت ابی بکر، بزینۃ تمنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، الکواکب ، منصوب ہے۔ ہم نے ستاروں کو مزین کیا حمزہ اور حفص نے ، بزینۃ، تنوین کے ساتھ اور ، الکواکب، بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ہم نے ستاروں کے ساتھ زینت بخشی اور دوسرے قراء کا قول ہے، بزینۃ الکواکب، بغیر تنوین کے اضافت کے ساتھ ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ستاروں کی روشنی۔
Ayah 37:7تفسیر 7۔ ، وحفظا، یعنی ہم نے ستاروں کو ان کی حفاظت کے لیے پیدا کیا۔ ، من کل شیطان مارد ، شیطان سرکش کی حفاظت کے لیے ہم ان پر ستارے پھینکتے ہیں ۔
Ayah 37:88، لایسمعون، حمزہ ، کسائی ، حفص نے سین اور میم کی تشدید کے ساتھ ، یسمعون، پڑھا ہے ۔ عبارت یہی ہوئی ، ای لا یتسمعون ، تاء کو سین کے ساتھ مدغم کیا اور دوسرے قراء نے سین کے سکون کے ساتھ اور میم کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، الی الملاء الا علی، اس سے مراد فرشتے ہیں چونکہ یہ آسمان میں ہوتے ہیں۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے ملا اعلیٰ ، اس سے مراد فرشتے ہیں چونکہ یہ آسمان میں ہوتے ہیں ۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے ملا اعلیٰ میں ، ویقذفون ، اور وہ پھینکتے ہیں ، من کل جانب ، یعنی آسمان دنیا کے تمام اطراف سے دہکتے ہوئے شعلے ان پر مارے جاتے ہیں ۔
Ayah 37:99، دحورا، وہ فرشتوں کی جماعت سے بہت دورہوتے ہیں ۔ کہاجاتا ہے، دحرہ دحراو دحورا، جب اس کو دھتکا را اور دور کیا جائے۔ ، ولھم عذاب واصب ، اس کا معنی ہے ہمیشہ رہنے والا عذاب ۔ مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد دنیاوی عذاب ہے جو نفخہ اولی تک قائم رہے گا اور شعلے کی آگ میں جلتے رہیں گے۔
Ayah 37:1010، الا من خطف الخطفۃ، مگر جو فرشتوں کے کلام میں سے کوئی کلمہ سن لیتا ہے اچک لیتا ہے۔ ، فاتبعہ، اس کے ملحق کردیا جاتا ہے۔ ، شھاب ثاقب، مضبوط ستارہ جو اس کے قتل میں خطا نہیں جاتایا اس کو جلادیتا ہے یا حواس باختہ کردیتا ہے لیکن پھر بھی وہ چوری چھپے سننے کے لیے لوٹتے ہیں باوجودان کو اس بات کے معلوم ہونے کے کہ وہ سلامتی کے ساتھ کچھ نہ سن پائیں گے اور اپنی مراد کو نہیں پہنچیں گے۔ عطاء کا قول ہے کہ جس ستارے کو شیطان پر ماراجائے اس کو ثاقب اس لیے کہتے ہیں کہ اس کانشان خطاء نہیں جاتا۔
Ayah 37:1111، فاستفتھم ، آپ اہل مکہ سے پوچھئے، اھم اشد خلقا ام من خلقنا، اس سے مراد آسمان و زمین اور پہاڑ ہیں ۔ یہ استفہام تقریری ہے یعنی یہ اشیاء زیادہ سخت ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، لخلق السموات والارض اکبرمن خلق الناس ، اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا۔
، ء انتم اشد خلقا ام السماء ، اور بعض نے کہا، ام من خلقنا،
اس سے مراد گزشتہ امتیں ہیں۔ مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ گزشتہ اقوام مکہ والوں سے زیادہ قوی تھیں لیکن جرائم کی پاداشت میں ہم نے ان کو ان کو تباہ کردیا۔ پھر یہ لوگ عذاب سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پھر انسان کی تخلیق کا ذکر کر کیا۔ ، انا خلقناھم من طین لازب، چپکنے والی جو ہاتھ کے ساتھ چپک جائے۔ مجاہد اور ضحاک کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے سڑی ہوئی۔
Ayah 37:12تفسیر 12۔ ، عجبت، حمزہ ، کسائی نے تاء کے صمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی قرأت ابن مسعود اور ابن عباس ؓ کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا تعجب آدمیوں کے تعجب کی طرح نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، فیسخرون منھم سخر اللہ منھم ، دوسری جگہ کبھارانکار ومذمت کے معنی کے لیے مستعمل ہوتا ہے اور کبھی بمعنی استحسان اور رضا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔
جنید (رح) سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر تعجب نہیں کرتا لیکن اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب کے ساتھ موافقت کی ہے (یعنی جہاں پر آپ ﷺ نے تعجب کیا وہاں پر اللہ تعالیٰ نے بھی کیا) جیسا کہ اللہ رب العزت کافرمان، وان تعجب فعجب قولھم ، ا وردوسرے قراء نے، عجبت ، تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں خطاب نبی کریم ﷺ ۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس بات پر تعجب ہے کہ یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں۔ ویسخرون، وہ آپ کے تعجب کا مذاق اڑاتے ہیں۔
قتاد ہ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تعجب تھا کہ نزول قرآن کے بعد بھی بنی آدم کس طرح گمراہ رہ سکتے ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ گمان تھا کہ جو بھی اس قرآن کو سنے گا وہ اس پر ایمان لے آئے گا لیکن مشرکین اس کو سن کر بھی ایمان نہیں لائے بلکہ مذاق اڑانے لگے اور اس پر ایمان نہیں لائے ۔ اس پر نبی کریم ﷺ کو تعجب ہوا۔ اس پر نبی کریم ﷺ کے لیے اللہ رب العزت نے فرمایا، بل عجبت ویسخرون،
Ayah 37:1313، واذا کر والا یذکرون، جب ان کو قرآن کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس سے نصیحت حاصل کرے ۔
Ayah 37:1414، واذا رأوا آیۃ ، ابن عباس اور مقاتل کے نزدیک اس سے مراد انشقاق قمر ہے۔ ، یستسخرون، وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور بعض نے کہا کہ وہ ایک دوسرے کو مذاق اڑانے کیلئے بلاتا ہے۔
Ayahs 37:15–1615، وقالو ا ان ھذا الا سحرمبین، اس کا جادوہونا کھلاہوا ہے۔
Ayah 37:1717، او آباؤ نا الا ولون، ہمارے باپ داداکتنے ہی پہلے مرچکے ہیں۔
Ayah 37:1818، قل نعم، تم بھی ان کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے۔ ، وانتم داخرون، اور تم ذلیل ہوگے ۔ دخور کہتے ہیں سخت ترین ذ(رح) لت و حقارت کو۔
Ayah 37:19تفسیر 19، فانماھی، یہ بعثت اور قیامت کا قصہ ، زجرۃ، ایک سخت آواز، واحدۃ ، اٹھنے والا نفخہ ، دوسری مربتہ جب مردے اٹھ کر میدان محشر کی طرف چل پڑیں گے، فاذاھم ینظرون، سب دیکھیں گے کہ وہ زندہ ہوکر لوٹ آئے۔
Ayah 37:2020، وقالو ایا ویلنا ھذایوم الدین، اس سے حساب کا دن اور بدلہ کا دن مراد ہے۔
Ayah 37:2121 ، ھذا یوم الفصل ، یہی فیصلہ کا دن ہوگا۔ بعض کا قول ہے کہ یہ فیصلے کا دن ہے نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے کے درمیان ۔ الذی کنتم بہ تکذبون،
Ayah 37:2222، احشروا الذین ظلموا، جن کے ساتھ یہ شرک کیا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ بھی ان کو جمع کروتا کہ ان سے حساب وکتاب لیاجائے۔ ، وازواجھم، ان جیسے لوگوں کو ان کے چیلوں اور پیروی کرنے والوں کو ۔ قتادہ اور کلبی رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرتا ہے اس کو اسی کے ساتھ جمع کرو (جن کے اعمال ان کے اعمال کی طرح ہوں گے) شراب خوروں کو شراب خوروں کے ساتھ، زنا کرنے والوں کو زنا کرنے والوں کے ساتھ۔
ضحاک اور مقاتل کا بیان ہے۔ یعنی ان کے جوڑ کے شیاطین کو ان کے ساتھ جمع کرو، ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں باندھ دو ۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد مشرک بیویاں ہیں۔ ، وماکانوایعبدون،۔
Ayah 37:2323، من دون اللہ، دنیا میں اللہ کے سواجن کو پوجا کرتے تھے اس سے مراد بت پرستی ہے۔ قاتل ہے۔ مقاتل (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد ابلیس اور اس کا لشکر ہے اور اللہ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے۔ ، ان لا تعبدوا الشیطان ،۔۔۔۔۔۔۔
فاھدوھم الی صراط الجحیم، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ، ان کو دوزخ کا راستہ بتاؤ۔ ابن کیسان کا بیان ہے کہ ان کو دوزخ کی طرف بڑھادو۔ اسی طرح عرب والے پیچھے سے ہنکانے والے کو بادی کہتے ہیں۔
Ayah 37:2424، وقفوھم، اور ان کو تم اپنے پاس روکے رکھو۔ مفسرین نے کہا کہ جب کافروں کو دوزخ کی طرف ہنکا کرلے جایاجائے گا تو پل صراط کے پاس ان کو روک دینے کا حکم ہوگا اور اللہ فرمائے گا ان کو یہیں روک دو ، انھم مسئولون، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ کافروں سے ان کے تمام اقوال و افعال کے بارے میں باز پرس کی جائے گی اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کی باپر س ہوگی۔ اور ایک حدیث میں آیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اپنی جگہ سے نہ ہل سکیں گے جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کیا جائے۔ (1) عمر کس کام میں گزاری (2) جسم کو کس کام میں لگاکر کمزور کیا۔ (3) ، علم کے بعد کیا عمل کیا۔ (4) مال کہاں سے کمایا اور کس جگہ خرچ کیا۔
Ayah 37:25، مالکم لاتنا صرون، تم کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ۔ یہ ان کو تو بیخ کے طورپرکہا جائے گا کہ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ ان سب سے جہنم کا داروغہ سوال کرے گا کہ تم ایک دوسرے کی مددکیوں نہیں کرتے ؟ جیسے ان کو بدر کے دن کہا گیا، نحن جمیع منتصر،
Ayah 37:26، بل ھم الیوم مستسلمون، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ عاجزہوں گے اور حسن نے اس کا ترجمہ کیا ہے یعنی تابع اور فرمانبردار ہوں گے۔ جیسے کہاجاتا ہے، استسلم لشیئ، کسی چیز کا تابعد ارہوگیا ، حکم کا تابعدار ہوگیا ۔ اس کا معنی یہ ہوگا کہ آج کے دن ہم ذلیل ورسوا ہوئے اور ہم تمہاری پیروی کرتے ہیں جس کے بغیر ان کے لیے کوئی حیلہ نہیں تھا۔
Ayah 37:27تفسیر 27۔ ، واقبل بعضھم علی بعض ، اس مراد سردار اور چیلے ہیں یا کافر اور ان کے ساتھی شیطان ہیں ، یتساء لون، باہم وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔
Ayah 37:2828، قالوا، وہ سردار اور چیلے کہیں گے۔ ، انکم کنتم تاتو ننا عن الیمین، اس سے مراددین ہے جس سے انہوں نے گمراہی برتی کہ تم لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ہم تمہیں دیکھتے تھے کہ تمہارادین ہمیں گمراہی سے بچائے گا۔ ضحاک اور مجاہد رحمہما اللہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ر اہ حق سے ہٹادینا ۔ یمین یہاں عبارت ہے دین اور حق سے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے بارے میں خبردی ، ثم لا تینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شما ئلھم ، جن کے پاس شیطان دائیں جانب سے آتا ہے وہ دین کے متعلق وسوسے ڈالتا ہے تو پر حق ملتبس ہوجاتا ہے اور بعض نے کہا کہ قریش کے بڑے بڑے سردار جھوٹی قسمیں اٹھا تے تھے کہ جن کی طرف یہ دعوت دیتے ہیں وہ حق ہے۔ اس صورت میں ، تاتوننا عن الیمین، کا معنی ہوگا کہ وہ قسمیں اٹھا تے تھے اور انہی قسموں کے ذریعے اپنی باتوں کو پختہ کرتے تھے۔ بعض نے کہا کہ یمین سے مراد قوت اور جب رہے۔ ، لا خذنا منہ بالیمین ، مفسرین نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 37:2929، قالوا، اس سے مراد بڑے بڑے سردار ہیں جن کی اتباع کی جاتی ہے۔ ، بل لم تکونوا مؤمنین ، وہ کہیں گے کہ ہم تو خود حق پر نہیں تھے۔ لہٰذا تم نے اپنی مرضی سے گمراہی کو پسند کیا۔ یعنی تم پہلے سے کافر تھے نہ کہ ہماری دعوت دینے سے تم کافر ہوئے ہو۔
Ayah 37:3030، وماکان لنا علیکم من سلطان، اور ہمارے پاس اتنی قوت وقدرت نہیں تھی کہ ہم آپ کی متابعت اور پیروی کرتے ۔ ، بل کنتم قوما طاغین، اس سے مراد گمراہی ہے۔
Ayah 37:3131 ، فحق، پس واجب ہے۔ ، علینا، ہم سب پر، قول ربنا، اپنے رب کا قول یعنی عذاب کی دھمکی اور وہ قول یہ ہے ، لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین، ۔۔۔۔۔۔۔ انا لذائقون، اس سے عذاب مراد ہے۔ گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے سب جہنم میں جائیں گے۔
Ayah 37:3232، فاغوینا کم ، ہم تمہیں ہدایت سے گمراہی کی طرف لے جارہے ہیں اور ہم نے تم کو اس کی دعوت دی جس پر ہم خود تھے ۔ ، اناکنا غاوین، گمراہ کرنے والے تھے۔
Ayah 37:3333، فانھم یو مئذفی العذاب مشترکون، اس سے مراد سردار اور ان کے تابعد ارلوگ ہیں۔
Ayah 37:3434، انا کذلک نفعل با لمجرمین، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جنہوں نے اللہ کے لیے شریک بنارکھے تھے۔
Ayah 37:3535، انھم کانو ا اذاقیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون، وہ کلمہ توحید سے تکبر کرتے اور اسی سے لوگوں کو روکتے تھے۔
Ayah 37:3636، ویقولون ائنالتارکوا آلھتنا لشاعرمجنون، اس سے نبی کریم ﷺ مراد ہیں۔
Ayahs 37:37–3837، بل جائ، وہ محمد سچادین لائے تھے۔ بالحق وصدق المرسلین ، یہ وہ دین لائے پہلے انبیاء (علیہم السلام) لائے ۔ ان کا دعوی دوسریانبیاء کے دعوؤں کے موافق تھا۔
Ayah 37:3939، وما تجزون الاما کنتم تعملون، دنیا میں شرک سے ۔۔۔۔۔۔۔
Ayah 37:4040، الا عباد اللہ المخلصین ، اس سے مراد مؤ حدین ہیں ۔