Ayahs 36:1–2تفسیر 1۔ ، یس، واؤنون ۔ بعض حضرات نے واؤ نون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ قرأۃ ابن عامر ، کسائی ، ابوبکر اور ورش کے ہاں ہے اور بعض نے واؤاور نون کے اثبات کے ساتھ ، یس، پڑھا ہے اس لفظ کی تاویل میں آئمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ کے ہاں، یس، قسم کے معنی میں ہے اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا معنی ہے، یا انسان ، لغت طئی کے ہاں ہے۔ اس سے مراد محمد ﷺ ہیں اور یہ قول حسن ، سعید بن جبیر اور ایک جماعت کے ہاں ہے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے، یارجل ، ابوبکر وراق فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے، اے سید البشر،
Ayah 36:33، انک لمن المرسلین، اللہ تعالیٰ قرآن میں قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ آپ کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ کفار کی تردید ہے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ یہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر نہیں ہیں۔
Ayah 36:44، علی صراط مستقیم ، یہ ایک خبر کے بعد دوسری خب رہے ۔ پہلی خبر، انک لمن المرسلین، ہے اور دوسری خبر، وانک علی صراط مستقیم ، اس کا معنی یہ ہے کہ بلاشبہ آپ کے بھیجے ہوئے انبیاء علیہم السلا میں سے ہیں جو صراط مستقیم پر ہیں۔
Ayah 36:55، تنزیل العزیز الرحیم، تنزیل نصب کے ساتھ ، ابن عامر، حمزہ والکسائی وحفص نے پڑھا ہے اور لام کے نصیب کے ساتھ گویا نزل تنزیلاپڑھا ہے اور دوسرے حضرات نے اس کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ خبرہوگی ۔ عبارت یہ ہوگی : ھوتنزیل العزیز الرحیم،
Ayah 36:66، لتنذقوماما انذر اباء ھم ، بعض نے کہا کہ مانفی کے لیے ہے ترجمہ یوں ہوگا کہ جن کے باپ دادوں کو نہیں ڈرایا گیا کیوں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے آباؤاجداد کے پاس کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔ محمد ﷺ سے پہلے اور بعض نے کہا کہ ما بمعنی الذی کے ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ تم ڈراؤاس قوم کو جس کو اس کے آباؤ اجداد نے ڈرایا۔ ، فھم غافلون، وہ ایمان اور رشد و ہدایت سے غافل ہیں۔
Ayah 36:7تفسیر 7۔ ، لقد حق القول ، ان پر عذاب واجب ہوگیا۔ ، علی اکثر ھم فھم لا یؤمنون، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکافرین،
Ayah 36:8آیت انا جعلنا فی اعناقھم کا شان نزول
8، انا جعلنا فی اعناقھم اغلالا، اس آیت کا نزول ابو جہل اور اس کے ایک مخزومی ساتھی کے حق میں ہوا۔ ابو جہل نے قسم کھاکر کہا تھا کہ میں نے جہاں بھی محمد (ﷺ) کو نماز پڑھتے پایا پتھر سے سرکچل دوں گا۔ ایک دن وہ آیا آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور اس کے ہاتھ میں پتھر تھا تا کہ وہ آپ ﷺ کا سر کچل دے ۔ جب اس نے پتھر مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تو اس کا ہاتھ گردن کے ساتھ چمٹ گیا۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا اور ان کو اس کی خبردی جو اس نے دیکھا اس کے ہاتھ سے پتھر گرگیا۔ بنی مخزوم میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں اس پتھر سے آپ ﷺ کو قتل کروں گا (نعو ذباللہ) وہ آپ ﷺ کے پاس آیا ۔ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اندھا کردیا ۔ اس کو آپ ﷺ کی آوازتو آرہی تھی لیکن دکھائی نہیں دے رہے تھے تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس لوٹا ، اس کو کچھ نظر نہیں آرہا تھا، ساتھیوں نے اس کو آوازدی اور کہنے لگے تو نے کیا کام کیا ؟ تو اس نے کہا کہ میں نے ان کو نہیں دیکھا ، میں ان کی آوازسن رہا تھا میرے اور ان کے درمیان کوئی چیزحائل تھی ، اونٹ کی طرح جو حملہ کرنے کے لیے دم ہلا رہے ہو۔ اگر میں اس کے قریب جاتا تو وہ اونٹ مجھے کھاجاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ ، انا جعلنا فی اعناقھم اغلالا، اہل معانی فرماتے ہیں کہ یہ ایک مثال بیان فرمائی ہے۔ حقیقت میں نہ طوق تھا نہ آڑبل کہ مراد یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے چند مواقع پیدا کردیئے جن کی وجہ سے وہ ایمان لانے سے محروم رہے، مواقع پیدا کرنے کیلئے طوق اور آڑ کے ساتھ مثال بیان کی۔
فراء فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے ان کے ہاتھوں کو روک دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ، اس کا معنی یہ ہے کہ خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ کونہ روک ۔ ، فھی الی الا ذقان ، یہ کنایہ ہے ہوتھوں سے ۔ اگر ہاتھ کا ذکر پہلے نہیں آیا ہے کیونکہ غل کا معنی ہے ہاتھوں کو گردن سے باندھ دینا۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ہاتھ گردن میں بندھے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کو گردن سے ملا کر ہم نے ٹھوڑیوں تک طوق کو کس دیا ہے ۔ ، فھم مقمحون، مقمح کہتے ہیں طوق کی وجہ سے گردن اوپر کو اچکی ہوئی ہیں اور آنکھیں بندہوئی ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ، بعیرقامح، جب وہ پانی کے اوپر سے گزرجائے اور اس کی طرف دیکھے بھی نہ۔ ازہری کا قول ہے کہ جب ان کے ہاتھ ان کی گردنوں میں طوق ہیں اس وقت تک ان کی گردن اوپر کی طرف کی ہوئی ہے۔ گویا کہ وہ سروں کو اٹھائے ہوئے ہیں، ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے ہو نیکی وجہ سے۔
Ayahs 36:9–109، وجعلنا من بین اید یھم سدا ومن خلفھم سدا، فتحہ کے ساتھ حمزہ کسائی اور حفص کے نزدیک ہے اور دوسرے قراء نے اس کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، سدا،۔۔۔۔۔۔۔ فاغشیناھم، ہم نے ان کو اندھا کردیا۔ ، تغشیہ، پردہ ڈھا نک دینے کو کہاجاتا ہے۔ ، فھم لا یبصرون، ہدایت کا راستہ نہیں دیکھ سکتے۔
Ayah 36:1111، انما تنذر من وخشی الرحمن بالغیب فبشرہ بمغفرۃ واجرکریم ، عمد ہ اجر یعنی جنت ملے گی۔
Ayah 36:12تفسیر 12، انا نحن الموتی ، یعنی جب قبروں سے اٹھا یا جائے گا۔ ، ونکتب ماقدموا، اور لکھتے ہیں ان کے اعمال نیک ہوں یابد۔
آثار سے کیا مراد ہے مختلف تفاسیر
، وآثارھم، اس سے مراد اچھے اعمال اور برے اعمال بھی ہیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا جس پر آنے والے لوگوں نے عمل کیا تو اس شخص کو اپنے کیے کا بھی اجرملے گا اور دوسرے کے اعمال کرنے کا بھی (ڈبل اجر ملے گا) اس کے اعمال میں بغیر کسی اجر میں کمی کیے اور جس نے اسلام میں کوئی بری چیز ایجاد کی جس پر بعد والے لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اس فعل کے ایجاد کرنے اور دوسرے لوگوں کا اس پر چلنے کا (ڈبل گناہگار ہوگا) لیکن بعد کو عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔ بعض حضرات نے کہا کہ، نکتب ماقدمواوآثار ھم ، کا معنی ہے۔ مسجدوں کی طرف اٹھنے والے قدم کے نشانات ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ کے گھر مسجد سے کچھ دور تھے۔ انہوں نے اس کی شکایت آپ ﷺ سے کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ بنوسلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد نبوی کے قریب منتقل ہوجائیں۔ آپ ﷺ نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ مدینہ کے ارد گرد غیر محفوظ ہو۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے بنو سلمہ ! کہ تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں تم وہیں مقیم رہو۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نماز میں سب سے بڑا اجر اس شخص کے لیے ہوتا ہے جو سب سے زیادہ دور سے چل کر آئے ۔ پھر اس کے بعد اس شخص کا اجرہوتا ہے جو اوروں سے دورچل کر آئے اور جو شخص امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے انتظار میں رہتا ہے اس کو ثواب اس شخص سے بڑھ کر ملتا ہے جو نمازپڑھ کر سوجاتا ہے۔ ، وکل شیء احصینہ، اس کا معنی ہم نے اس کو محفوظ کرکے اور شمار کرکے رکھا ہوا ہے۔ ، فی امام مبین، اور وہ لوح محفوظ میں ہے۔
Ayah 36:13اصحاب القریۃ اور مرسلون سے کیا مرادہے
13، واضرب لھم مثلا اصحاب القریۃ، یعنی کفار مکہ سے بطور مثال ایک قصہ بیان کیجئے جو بستی انطاکیہ کا ہے۔ ، اذجاء ھا المرسلون، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو حواری اپنے قاصد انطاکیہ بستی میں بھیجے (یہ علماء نے لکھا ہے) جب یہ دونوں شہر کے قریب پہنچے تو ایک بوڑھا آدمی بکریاں چراتا ہواملا۔ اس کا نام حبیب نجار تھا۔ دونوں نے اس کو سلام کیا ۔ بوڑھے نے کہا تم کون ہو ؟ قاصدوں نے کہا کہ ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کے قاصد ہیں ، وہ تمہیں بتوں کی پاجا چھوڑ کر رحمن کی عبادت کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ بوڑھے نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی نشانی ہے، قاصدوں نے کہا ہاں ہم اللہ کے حکم سے بیمارکوتندرست اور مادرزادنا بینا اور کوڑھی کو اچھا کردیتے ہیں۔ بوڑھے نے کہا کہ میرابیٹادوسال سے بیما رہے۔ قاصدوں نے کہا چلو ہم کو وہاں لے چلو، ہم بھی اس کو دیکھیں ۔ بوڑھا ان دونوں کو لے کر اپنے گھرپہنچا، قاصدوں نے جو نہی اس کے بیٹے پر ہاتھ پھیراوہ اللہ کے حکم سے تندرست ہوکر اٹھ کھڑا ہوا، یہ خبر شہر میں مشہور ہوگئی اور ان کے ہاتھوں سے اللہ نے بہت سارے مریضوں کو شفاء عطا فرمادی۔
انطاکیہ بستی والوں کا تفصیلی واقعہ
انطاکیہ والوں کا ایک بادشاہ تھا۔ وہب نے فرمایا کہ اس کا نام انطفیص ہے یہ رومی بادشاہ تھا اور بتوں کی پوجا کرتا تھا ۔ وہ کہنے لگے اور یہ خبر بادشاہ کو پہنچی ، اس نے ان دونوں کو بلایا اور کہاتم دونوں کون ہو ؟ وہ کہنے لگے ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ہیں۔ بادشاہ نے کہا کس غرض سے آئے ہو ؟ ان دونوں نے کہا کہ ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں، ایسے معبود کو چھوڑ کر جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے، ان کو چھوڑکرای سے معبود کی طرف جو سنتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے۔
بادشاہ نے ان دونوں سے کہا کیا تمہارا کوئی خدا ہمارے خداؤں کے علا وہ ہے ۔ قاصدوں نے کہا جی ہاں ، جس نے تم کو اور تمہارے معبودوں کو پیدا کیا ہے۔ بادشاہ نے کہا اٹھ جاؤمیں تمہارے بارے میں سوچوں گا، لوگوں نے ان سے پوچھا اور بازار میں ان کو پکڑکرمارا۔ وہب فرماتے ہیں کہ ان دونوں شخصوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انطاکیہ بھیجا ، وہ دونوں انطاکیہ پہنچے مگر بادشاہ تک رسائی نہیں ہوئی اور ایک لمبی مدت تک ان کو وہاں ٹھہرناپڑا۔ ایک روز بادشاہ برآمد ہواتو ان دونوں نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کا ذکر کیا۔ بادشاہ نے غضبنا ک ہوکر دونوں قاصدوں کو قید کردینے اور سوسوکوڑے مارنے کا حکم دیا ۔ کہا گیا کہ جب ان دونوں قاصدوں کی تکذیب کی گئی اور ان کو سزادی گئی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں کے سردار شمعون صفاکوان کے پیچھے ان کی مدد کے لیے روانہ کیا۔ شمعون بستی میں حلیہ بدل کر پہنچے اور بادشاد کے مصاحبوں سے ربط پیدا کیا ۔ جب بادشاہ کے مصاحب ان سے مانوس ہوگئے تو انہوں نے اس کی اطلاع بادشاہ تک پہنچا دی ۔ بادشاہ نے ان کو بلایا۔ شمعون ان کے پاس آگئے ، بادشاہ نے ان کی صحبت کو پسند کرلیا اور مانوس ہوگیا اور ان کی عزت کی کچھ مدت کے بعد شمعون نے ایک روز بادشاہ سے کہا مجھے خبرملی ہے کہ آپ نے دوآمیوں کو قید خانہ میں بندکررکھا ہے اور جب انہوں نے آپ کو آپ کے مذہب کے خلاف دعوت دی تو آپ نے ان کو سزادی اور قیدکروادیا۔ کیا آپ نے ان سے کچھ گفتگو بھی کی تھی اور ان کی بات بھی سنی تھی۔ بادشاہ نے کہا کہ مجھے اتنا غصہ آیا کہ میں ان سے کوئی بات نہ کرسکا ۔ شمعون نے کہا اگر بادشاہ مناسب سمجھے تو ان کو طلب فرماکر دریافت کرے کہ وہ کہتے کیا ہیں، شمعون کے مشورہ کے مطابق بادشاہ نے دونوں حواریوں کو طلب کیا۔ شمعون نے ان دونوں سے دریافت کیا کہ تم کو یہاں کس نے بھیجا ہے ؟ قاصدوں نے جواب دیا اللہ نے ، جس نے ہرچیز کو پیدا کیا ہے جیسی اس کی مشیت ہوتی ہے حکم دیتا ہے ۔ شمعون نے کہا تم دونوں کے پاس کیا دلیل ہے ؟ قاصدوں نے کہا جو آپ طلب کریں، یہ سنتے ہی بادشاہ نے ایک لڑکے کو بلوایا جس کی دونوں آنکھوں کے نشان بھی مٹے ہوئے تھے، دونوں آنکھوں کی جگہ سپاٹ تھی جیسے دونوں پیشانی ، دونوں حواریوں نے اپنے رب سے دعا کرنی شروع کردی اور برابر کرتے رہے۔ آخردونوں آنکھوں کی جگہ بھٹ گئی دونوں نے مٹی کے دوغلے لے کر آنکھوں کے شگوفوں میں رکھ دیئے ، فورادونوں غلے آنکھوں کے ڈھیلوں کی طرح ہوگئے اور دونوں سے دکھائی دیاجانے لگا ۔ بادشاہ کو بڑاتعجب ہوا۔ شمعون نے بادشاہ سے کہا اگر آپ اپنے معبود سے درخواست کریں اور وہ بھی ایسا ہی کردے تو آپ کو برتری حاصل ہوجائے گی۔ بادشاہ نے کہا تم سے کچھ چھپی بات نہیں حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معبود جس کی ہم پوجا کرتے ہیں نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے نہ ضررپہنچا تا ہے نہ نفع دے سکتا ہے۔ شمعون کا قاعدہ یہ تھا کہ بادشاہ جب بتوں کی پوجا کرنے جاتا تو شمعون کثرت سے نماز پڑھتا اور اللہ کے سامنے گڑگڑاتا تھا۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے مذہب پر ہے۔
اس کے بعد بادشاہ نے دونوں حواریوں کہا کہ اگر تمہاراخدا جس کی تم پوجاکر تے ہومردہ کو زندہ کرسکے تو ہم اس کو مان لیس گے۔ حواریوں نے کہا ہمارا معبود ہرچیز کی قدرت رکھتا ہے۔ بادشاہ نے کہا ایک زمیند ار کا بچہ ساتھ دن ہوگئے ہیں مرگیا ہے اس کا باپ موجود نہیں تھا ہم نے اس کے باپ کے آنے تک دفن کرنے سے روک دیا ہے ۔ حسب الحکم لوگ میت کو لے آئے میت بہت بگڑچ کی تھی اور اس کی شکل ڈراؤنی ہوچکی تھی ، دونوں حواری اللہ سے اعلانیہ دعا کرنے لگے اور شمعون چپکے چپکے خدا سے دعامانگتارہا۔ کچھ دیر کے بعد مردہ اٹھ بیٹھا اور کہا میں سات روز ہوئے شرک کی حالت میں مرا تھا ، مجھے آگ کی سات وادیوں میں لیجایا گیا میں تم کو اس شرک سے ڈراتا ہوں جس میں تم مبتلاہو، اللہ پر ایمان لے آؤ، پھر اس نے کہا آسمان کے دروازے کھلتے مجھے دکھائی دیئے اور میں نے ایک خوبصورت جوان کو دیکھا جوان تینوں کی سفارش کررہا تھا۔ بادشاہ نے کہا تین کون، اس نے کہا شمعون اور یہ دونوں ، یہ بادشاہ کو سن کر اور دیکھ کر بڑتعجب ہوا۔
شمعون نے جب دیکھ لیا کہ اس کی بات بادشاہ کرچکی ہے تو اس کو اسلام کی دعوت دی ۔ بادشاہ اور اس کی کثیر قوم اسلام لے آئی اور بعض لوگوں نے نہیں مانا۔ بعض حضرات نے کہا کہ بادشاہ کی بیٹی مرچکی تھی اور اس کود فن بھی کرلیا تھا تو شمعون نے بادشاہ سے کہا کہ آپ ان دونوں شخصوں سے سوال کریں کہ وہ آپ کی (رح) لڑکی کو زندہ کردیں ؟ بادشاہ نے دونوں حواریوں سے اپنی لڑکی کو زندہ کردینے کی درخواست کی فورا دونوں نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور اللہ سے دعا کی شمعون بھی دعاء میں ان کے ساتھ شریک تھے مگر چپکے چپکے دعاکر رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد اللہ نے اس عورت کو زندہ کردیا ، قبر پھٹی اور عورت باہر نکل آئی اور کہا خوب جان لو کہ یہ دونوں سچے ہیں اور یہ میراخیال ہے تم نہیں مانوگے ۔ پھر اس نے دونوں حواریوں سے درخواست کی کہ وہ اس کو اس کی جگہ واپس کردیں، پھر اس نے اپنے سرپر کچھ مٹی ڈالی اور قبر میں لوٹ گئی۔
ابن اسحاق نے کعب اور وہب کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ بادشاہ ایمان نہیں لایا اور قوم کی اتفاق رائے سے اس نے قاصدوں کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ۔ یہ خبر حبیب کو مل گئی ۔ حبیب اس وقت شہر کے آخری دروازہ پر تھا ۔ فوراوہ دوڑکرشہر والوں کے پاس پہنچا ان کو نصیحت کی اور قاصدوں کا کہا ماننے کی دعوت دی۔
Ayah 36:1414۔ اذارسلنا الیھم اثنین، وھب فرماتے ہیں کہ ان دونوں کا نام یوحنا اور بولیس ہے۔ ، فکذبوھما فعززنا، اس کا معنی ہے ہم نے ان کو قوت بخشی ۔ ، بثالث، تیسرے قاصد کے ساتھ جس کا نام شمعون تھا ۔ ابو بکر، عاصم کی روایت کے مطابق ، فعززنا، تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی معنی اول ہے تخفیف اور تشدید کے ساتھ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے۔ بعض نے کہا کہ ہم ان کو بادشاہ پر غلبہ دیں گے ۔ کعب فرماتے ہیں کہ پہلے قاصدصادق ومصدوق تھے اور تیسرے قاصد شلوم تھے ۔ قاصدوں کو بھیجنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی کیوں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اللہ ہی کے حکم سے بھیجا تھا۔
(فقالوا) انطاکیہ والوں کو کہنے لگے (انا الیکم مرسلون)
Ayahs 36:15–17تفسیر 15۔ ، قالو اماانتم الا بشرمثلناوما انزل الرحمن من شیء ان انتم الا تکذبون، یعنی تم اپنے گمان کے مطابق جھوٹے ہو۔
Ayah 36:1818، قالوا انا تطیرنا بکم ، وہ اس سے بدشگونی لیتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ بارش بندہونے کی مصیبت جو ہم پر آئی ہے یہ اس وجہ سے آئی کہ ہمارے پاس قاصد آئے۔ اس لیے وہ کہتے کہ یہ مصیبت ہماری اپنوں کی وجہ سے ہوئی ۔ ، لئن لم تنتھوالنرجمنکم ، یعنی ہم ان کو قتل کردیں گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ پتھروں سے رجم کردیں گے۔ ، ولیمسنکم منا عذاب الیم،
Ayah 36:1919، قالو اطائر کم معکم ، تمہاری نحوست کا سبب تمہارے ساتھ موجود ہے اور وہ تمہاراکفر ہے اور تمہارے جھٹلا نے کی وجہ سے یعنی یہ نحوست تمہاری طرف سے پہنچی ہے۔ ابن عباس ؓ کی طرف نصیحت ہے۔ استفہام انکاری ہے، اس کا جواب یہ دیا کہ اگر تم کو نصیحت کی جارہی ہے کہ تم اس کو نحوست سمجھتے ہو۔ ابو جعفر نے ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے بغیر شد کے ۔ ، بل انتم قومامسرفون، وہ شرک کرنے والے جو حد سے تجاوزکرجائیں۔
Ayah 36:2020، وجاء من اقصی المدینۃ رجل یسعی ، یہ حبیب نجار تھا ۔ سدی فرماتے ہیں کہ حبیب دھوبی تھا۔ وہب فرماتے ہیں حبیب ریشمی کپڑیبناتا تھا اور بیمار تھا اس کو جذام ہوگیا اس لیے شہر کے آخری دروازے پر پڑارہتا تھا اور مؤمن تھا، صدقہ کیا کرتا تھا، دن میں جو کچھ کماتا تھا شام کو دوحصے کرکے ایک حصہ خیرات کردیتا تھا اور ایک حصہ اپنے متعلقین کے صرف میں لاتا تھا۔ جب اس کو طلاع ملی کہ اس کی قوم والوں نے رسولوں کو قتل کردینے کا ارادہ کرلیا تو بھاگتا ہوا آیا ۔
Ayah 36:21تفسیر 21۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتبعوامن لایسئلکم اجرا وھم مھتدون، حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حبیب نجارغار میں عبادت کرتے تھے ۔ جب ان کو رسول کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے دین کو ظاہر کردیا ۔ جب حبیب ان قاصدوں تک پہنچے تو ان کو کہا کہ تم ان اجر کے متعلق سوال کرتے ہو، کہنے لگے نہیں اور اپنی قوم کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا، یا قوم اتبعوا المرسلین اتبعوامن لا یسئلکم اجرا وھم مھتدون، جب یہ بات کہہ چکے تو وہ ان کو مخاطب کرکے کہنے لگے اور تو ان کے دین کا مخالف ہوگیا ہے ان قاصدوں کے دین کی پیروی کی اور مؤمن ہوگئے۔
Ayah 36:22تفسیر 22۔ ، ومالی لا اعبد الذی فطرنی والیہ ترجعون، حمزہ اور یعقوب نے یاء کے سکون کے ساتھ ، مالی، پڑھا ہے جبکہ دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر حبیب نجارنے ان کے جواب میں کہا، ومالی لا اعبدالذفطرنی والیہ ترجعون، اس شخص نے فطرت کی نسبت اپنی طرف کی اور اللہ کی طرف لوٹ کرجانے کی نسبت قوم کی طرف کی ۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ فطرت (تخلیق الٰہیہ ) ایک نعمت ہے جس کو ظاہرکرنا اس شخص پر لازم ہے اور اللہ کی طرف لوٹ کرجانے میں ایک طرح کی توبیخ وزجر ہے۔ بعض نے کہا جب حبیب نجار کو قوم والوں نے کہا کہ کیا تم نے قاصدوں کی اتباع کرلی اس کو پکڑا اور اس کو بادشاہ کے پاس لے گئے ۔ ان کو بادشاہ نے کہا کہ کیا آپ نے ان کی پیروی کرلی ؟ حبیب نجار نے جواب دیا ومالی لا اعبد الذی فطرنی، یعنی اگر میں اپنے خالق کی عبادت نہ کروں تو میرے پاس کیا عذ رہے والیہ ترجعون اور تم سب کو قیامت کے دن اسی کے پاس جانا ہے وہ تم کو ضرور بدلہ دے گا۔
Ayahs 36:23–2423، ء اتخذ من دونہ الھۃ استفہام بمعنی انکار کے ہے کہ میں نہیں بناتا اس کے علاوہ کوئی معبود ۔ ، ان یردن الرحمن بضر، سے مراد برائی یانا پسندید ہ کام ہے۔ ، لاتغن عنی، کہ تجھ سے دوررہوں۔ ، شفاعتھم شیئا ، یعنی وہ بالکل تمہاری شفاعت نہیں کرسکتے اور نہ ہی تمہیں نفع دے سکتے ہیں ۔ ، ولا ینقذون ، یعنی اس ناپسند یدہ امور سے چھڑاسکتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ عذاب سے نہیں چھڑاسکتے ۔ اگر وہ تمہیں عذاب دیدے، اگر اس فعل پر وہ تمہیں عذاب دے ۔
Ayah 36:2525، انی امنت بربکم فاسمعون، یعنی مجھ سے سن لو۔ جب اس شخص نے یہ بات کہی تو قوم والوں نے اس پر ایک ہی مرتبہ حملہ کرکے قتل کردیا۔ ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ قدموں سے اسے رونددیا تو اس کی آنتیں نیچے سے نکل گئیں۔ سید ی فرماتے ہیں لوگ اس کو پتھروں سے مار رہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت کر، آخراس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے قتل کردیا۔ حسن فرماتے ہیں کہ اس کے گلے کو پھاڑکرشہر کی فصیل میں لٹکادیا، ان کی قبرانطاکیہ میں ہے ، اللہ نے اس کی جت میں داخل کردیا، وہ زندہ ہے اللہ کی طرف سے اس کو روزی ملتی ہے۔
Ayah 36:2626، قیل ادخل الجنۃ، جب شہید ہوگیا تو اس کی عزت افزائی کیلئے کہا گیا کہ جنت میں چلا جا۔ ، قال یالیت قومی یعلمون ،
Ayah 36:2727، بماغفرلی ربی ، میرے رب کے بخشش کرنے سے ، وجعلنی من المکرمین، اس نے تمنا کی کہ کاش اس کی قوم جان لے کہ اللہ نے اس کو بخش دیا اور اس کا اکرام کیا تا کہ وہ قاصدوں کے دین کی طرف رغبت حاصل کریں۔ جب حبیب نجارکو قتل کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر غضب نازل کیا اور فورا عذاب آگیا۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ ایک چیخ ماریں تو انہوں نے ایک چیخ ماری جس کی وجہ سب کے سب مرگئے۔
Ayah 36:28تفسیر 28۔ ، وما انزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء ، یہاں جند سے مراد فرشتے ہیں ۔ ، وماکنا منزلین، کہ ہم تمہاری ہلاکت کے لیے اس طرح نہ کرتے کہ فرشتے بھیجیں ۔ ہاں احد میں جو ہم نے بھیجے تھے وہ ان کے گمان کے مطابق آسان اور ان کی عظمت کے لیے تھا۔ ، وما انزلنا علی قومہ من بعدہ ، حبیب نجارکو قتل کرنے کے بعد جو فرشتوں کی فوج بھیجی ۔ اس طرح پہلے قوم پر نہیں بھیجی یعنی جو عذاب ماقبل امتوں پر فرشتوں کے ذریعے کیے گئے جیسے طوفان، کڑک آندھی نازل کی ۔ پھر ان کی سزاکوبیان کیا۔
Ayah 36:2929، ان کانت الا صیحۃ واحدۃ، ابو جعفر (رح) نے اس کو، صیحۃ واحدۃ، یہاں، کون، بمعنی وقوع کے ہے۔ مفسرین نے بیان کیا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے شہر کے دروازے کی چوکھٹ پکڑکر ایک چیخ ماری۔ ، فاذاھم خامدون، وہ سب مرگئے۔
Ayah 36:3030، یاحسرۃ علی العباد ، انہوں نے اپنے اوپر افسوس کیا ۔ حسرت شدت ندامت کو کہاجاتا ہے ۔ اس میں دوقول ہیں ایک قول یہ ہے کہ چونکہ لوگ پیغمبروں پر ایمان نہیں لائے اس لیے قیامت کے دن اللہ فرمائے گا کہ آج بندوں کے لیے حسرت ندامت اور غم ہے۔ دوسرایہ کہ یہ ہلاک ہونے والوں کا کلام ہے۔ ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ جبانہوں نے عذاب کا معائنہ کرلیا تو کہنے لگے اے حسرۃ ! ہائے افسوس ! ان تین بندوں پر کہ ہم نے ان تینوں بھیجوں ہوؤں پر ایمان نہیں لائے۔ انہوں نے اس وقت ایمان کی تمنا کی جب ان کو ایمان نے نفع نہیں پہنچایا۔ زہری فرماتے ہیں حسرت والا شخص کسی کو پکارتا نہیں ، اگر پکارے تو یہ پکارنا مخاطبین کے لیے تنبیہ ہوتی ہے ۔ کہا گیا کہ عرب والے کہتے ہیں ، یاحسرتی، یاعجبا، بطور مبالغہ کے ہے اور ندابطور تنبیہ کے ہے ۔ ، فکانہ یقول ، جیسا کہ کہاجاتا ہے ہائے تعجب یہ وقت آگیا ، ہائے حسرت یہ اس کے برتن یہ ہے کہ یہ حسرت اور تعجب کا زمانہ ہے۔ پھر اس کا سبب بیان کردیا حسرت اور ندامت کا۔ ، مایا تیھم من رسول الاکانوابہ یستھزؤن،
Ayah 36:3131، الم کیا م کہ والوں کو خبر نہیں ۔ ، کم اھلکنا قبلھم من القرون، قرن ایک زمانے پر بول جاتا ہے کیوں کہ یہ زمانہ اس کے ساتھ ملاہواہوتا ہے۔ ، انھم الیھم لا یرجعون ، یعنی ان کو نہیں لوٹایاجائے گا دنیا کی طرف ۔ کیا وہ اس کی امید لگائے ہوئے ہیں ؟
Ayah 36:3232، وان کل لما جمیع، عاصم اور حمزہ نے ، لما، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور سورة زخرف اور طارق میں بھی تشد ید کے ساتھ ہے ۔ ابن عامرنے ان کی پیروی کی زخرف کے علا وہ اور ابوجعفر نے ان کی موافقت اختیار کی مگر سورة طارق میں نہیں کی ۔ جن حضرات نے ، لما ، تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ۔ انہوں نے ان کو حجد مانا ہے اور، لما، بمعنی ، الا، کے ہے۔ تقدیر ی عبارت یوں ہوگی ، وماکل الا جمیع، اور جو حضرات لماکو بغیر تشدید کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ ان کو تحقیقہ اور ماکوصلہ ، لدینا محضرون،
Ayah 36:33تفسیر 33۔ ، وایۃ لھم الارض المیتۃ احییناھا، یہاں آیت سے مرادبارش ہے۔ ، واکرجنا منھا حبا، حبا سے مراد گندم اور جو ہیں اور اس کے مشابہ اشیاء ہیں ۔ ، فمنہ یاکلون ، اسی سے تم کھاتے ہو یعنی گندم سے ۔
Ayah 36:3434، وجعلنا فیھا جنات ، جنات سے مراد باغات ہیں۔ ، من نخیل واعناب وفجرنافیھا، اس سے مرادزمین ہے۔ ، من العیون،
Ayah 36:3535، لیا کلوامن ثمرہ، یعنی مذکورہ باغوں کے پھل جو اس پانی سے حاصل ہوتا ہے۔ ، وما عملتہ، حمزہ ، کسائی ، ابوبکر نے ، عملت، پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ھاء کے ساتھ پڑھا ہے تاکہ کھائیں وہ چیزیں جو وہ اپنے ہاتھوں سے بناتے ہیں ۔ ، ایدیھم، یعنی کھیتی اور درختوں کو لگانے میں اور ھاء کامرجع، ما، کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ، التی، بمعنی الذی کے ہے۔ بعض نے کہا ، ما، نفی کے لیے ہے، ماعملتہ ایدیھم، مطلب یہ ہے کہ سب پھل کے پیداکیے ہوئے ہیں، انسان کی صنعت کو اس میں کوئی دخل نہیں یہ معنی ضحاک اور مقاتل کا ہے۔ بعض حضرات نے کہاچشموں اور نہروں سے مراد وہ ہیں، انسان کی صنعت کو اس میں کوئی دخل نہیں یہ معنی ضحاک اور مقاتل کا ہے۔ بعض حضرات نے کہا چشموں اور نہروں سے مراد وہ ہیں جو تم نے جاری نہیں کیں یعنی دجلہ، فرات ، نیل اور ان جیسے دریا۔ ، افلا یشکرون ، کیا تم اللہ کی اس نعمت کا شکر یہ ادا نہیں کروگے۔
Ayah 36:36زمین سے اگنے والی اشیاء پھلوں میں سے یاترکاریوں میں سے ۔ ، ومن انفسھم ، اس سے مراد مرد وعورت ہیں۔ ، ومما، لا یعلمون، بحروبر کی مخلوق جس کا علم تمہارے پاس نہیں ۔
Ayah 36:3737، وایۃ لھم، یہ سب نشانیان اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ ، اللیل نسلخ ، کہ ہم اس سے اتاردیتے ہیں۔ ، منہ النھار فاذاھم مظلمون، وہ داخل ہوگئے اندھیروں میں یا اس کا معنی ہوگا کہ دن چلا گیا اور رات آگئی ، ظلمت اور نہاردوتوں اس میں داخل ہیں۔ جب سورج ڈوب جاتا ہے گویا رات کے اوپر سے (روشنی کی ) کھال اتر جاتی ہے اور تاریکی سامنے آجاتی ہے۔
Ayah 36:3838، والشمس تجری لمستقرلھا، اس کے ٹھکانے کی طرف ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے۔ یعنی دنیا کی آخری مدت ختم ہونے پر اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتا ہے اور وہ وقت قیامت کا ہے اور بعض نے کہا کہ وہ چلتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ غروب ہونے کی جگہ پہنچ جاتا ہے ۔ پھر وہ لوٹتا ہے۔ یہ جگہ اس کا مستقر ہے کیوں کہ وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور بعض نے کہا مستقر سے مراد ہے گرمی کے موسم میں انہتائی بلندی پر پہنچ جانے کا اور سردی کے موسم میں آخری ہبوط پر آجانے کا مقام ہے اور یہ روایت اصح ہے جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے۔
حضرت ابوذرؓ کی روایت ہے کہ جس وقت سورج غروب ہواتو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، کیا تم جانتے ہو کہ یہ کہاں چلاجاتا ہے ، حضرت ابوذرؓ نے کہا کہ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو بخوبی علم ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ جاکرعرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور قریب ہے کہ سورج سجدہ کرے گا اور اجازت طلب کرے گا، اس کو اجازت نہیں ملے گی، اس کو کہا جائے گا کہ واپس لوٹ جا، پھر وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اس لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ، والشمس تجری لمستقرلھاذلک تقدیر العزیز العلیم ، عمروبن دینا رابن عباس ؓ سے روایت ہے ان کے نزدیک ، والشمس تجری لمستقرلھا، ہے۔ ابن مسعود ؓ کے ہاں اس کا معنی ہے، لا قرار لھا ولا وقوف ، اس کے لیے نہ قرار ہے اور نہ ی رکنا ہے، ہمیشہ چلتا رہے گا۔ ، ذلک تقدیر العز یز العلیم ،
Ayah 36:3939، والقمرقدرناہ، ہم نے ان کے لیے مقدر کردی ہیں ۔ ابن کثیر نافع اہل بصرہ کے نزدیک المقمر میں رفع کے ساتھ ہے۔ ، وآیۃ لھم الیل والشمس والقمر، دوسرے حضرات نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، قدرناہ، چاند کی منازل مقررکردی ہے۔ ، منازل ، مسورۃ یونس میں ان منازل کے نام مذکور ہیں ۔ جب سورج تمام منزلیں طے کرلیتا ہے تو ایک ٹکیہ بن جاتی ہے۔ ، حتی عاد کالعرجون القدیم،
Ayah 36:40تفسیر 40۔ ، لا الشمسی ینبنی لھا ان تدرک القمر، دن رات میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب اس کی مدت پوری نہ ہوجائے اور نہ ہی رات دن پر آجائے ۔ اس کے وقت پورا ہونے سے ، ولا الیل سابق النھار ، یہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے رہتے ہیں، انے وقت سے پہلے یہ نہیں آسکتے۔ بعض نے کہا کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کی سلطنت میں نہیں آسکتا یا اس کا مطلب ہے کہ سورج رات کو طلوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی چانددن کو ۔ جب دونوں جمع ہوجائیں گے یا ایک دوسرے کو پالے گا تو قیامت آجائے گا۔
بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ ایک آسمان میں دونوں جمع نہیں ہوسکتے ۔ ، ولا الیل سابق النھا ر ، کا مطلب ہے کہ ایک رات دوسرے رات کے ساتھ متصل نہین ہوسکتی کہ ان دونوں کے درمیان فاصلہ نہ ہو۔ وکل فی فلک یسبحون، کا معنی ہے جاری رہنا تیرنا۔