35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر 1۔ ، الحمد اللہ فاطر السموات والا رض، ان دونوں کو پیدا کیا اور ان کو ابتداء بغیر کسی مثال کے پیدا کیا ۔ ، جاعل المائکۃ رسلا اولی اجنحۃ، بازوالے، مثنی وثلاث ورباع، قتا دہ اور مقاتل نے کہا ہے کہ بعض ملائکہ کے دو بازوبعض کے تین اور بعض کے چار اللہ نے بنائے ہیں لیکن تعداد محد ود نہیں ہے۔ حدبندی کے خیال کو دور کرنے کے لیے آگے فرمایا ، یزید فی الخلق مایشاء ابن مسعود ؓ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ، لقد رای من آیات ربہ الکبری ، کے بارے میں رشاد فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سوبازو تھے۔ ابن شہاب نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ، یزید فی الخلق مایشاء ، کے بارے میں فرمایا کہ حسن صورت مراد ہے اور قتادہ کے نزدیک آنکھوں کی ملاحت مراد ہے ۔ بعض کے نزدیک عقل اور امتیاز کی زیادتی مراد ہے ۔ ، ان اللہ علی کل شیء قدیر،
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں اور جو بند کر دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

2، مایفتح اللہ للناس من رحمۃ، رحمت سے مراد بارش اور رزق ہے۔ ، فلا ممسک لھا، ان میں سے کسی ایک کی کوئی طاقت نہیں کہ وہ اس کو رو کے رکھے ۔ ، وما یمسک فلا مرسل لہ من بعد ہ وھوالعزیز، اور وہ جس چیزکو روک لے ۔ ، الحکیم ، جو بارش اور رزق میں سے وہ روک لے۔ حضرت مغٖیرہ بن شعبہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے، لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد،
Ayah 35:3

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رزاق) ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟

تفسیر 3۔ ، یایھا الناس اذکروانعمۃ اللہ علیکم ھل من خالق غیر اللہ ، حمزہ ، کسائی نے (غیر) کی راء پر جر پڑھا ہے اور دوسرے قراء رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی اس کا یہ ہوگا کہ کیا اس کے علا وہ کوئی اور خالق ہے۔ یہ استفہام بطور تقریر کے ہے ۔ گویا کہ یوں فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں ۔ ، یرزقکم من السماء والا رض ، آسمان سے بارش برسائی اور زمین سے کس نے نباتات اگائی۔ ، لاالہ الا ھوفانی یئو فکون،
Ayah 35:4

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ اگر یہ لوگ تم کو جھٹلائیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں اور (سب) کام خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے

4، وان یکذبوک فقد کذبت رسل من قبلک ، آپ کی طرح یہ ماقبل انبیاء کو بھی اسی طرح جھٹلا چکے ہیں۔ ، والی اللہ ترجع الا مور،
Ayah 35:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو ! خدا کا وعدہ سچا ہے تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے

5، یایھا الناس ان وعد اللہ حق ، قیامت کا وعدہ حق ہے۔ ، فلا تعرنکم الحیوۃ الدنیا ولا یغر نکم باللہ الغرور، اس سے مراد شیطان ہے۔
Ayahs 35:6–7

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوں

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے

6، ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدو، وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے سے دورکرے گا۔ لہٰذا تم اس کی پیروی نہ کرو۔ ، انما ید عوان حزبہ، اس کے بڑے بڑے سردار اس کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ، لیکونوامن اصحاب السعیر، تاکہ ان کے ساتھ مل کردوزخیوں میں اضافہ ہو۔ پھر ان کے مخالفین کے احوال کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کر کے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکو کار آدمی جیسا ہوسکتا ہے ؟ ) بیشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان لوگوں پر افسوس کر کے تمہارا دم نہ نکل جائے یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے

8، افمن زین لہ سوء عملہ ، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت ابو جہل اور دوسرے مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ سعید بن جبیر (رح) نے کہا کہ یہ آیت اہل بدعت اور پرستاران ہواوہوس کے حق میں نازل ہوئی۔ قتادہ کا قول ہے کہ انہی میں سے خارجیوں کا گروہ تھا جو مسلمانوں کا خون بہانا اور مال لوٹنا حلال سمجھتے تھے۔ دوسرے اہل کبائر اس میں شامل نہیں ہیں۔ ، افمن زین، جس کو اس کا عمل مزین کرکے دکھایا گیا ہو۔ ، علیہ لہ سوء عملہ، اس کا براعمل ۔ ، فراہ، حسنا، شیطان اس کے اس برے عمل کو خوبصورت کرکے پیش کرتا ہے وساوس سے ۔ اس آیت میں حذف مضاف ہے۔ کیا وہ اپنے برے عمل کو مزین کرکے پیش کرتا ہے حالانکہ وہ باطل ہے پھر بھی اس کو حق سمجھتا ہے جیسے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز ہو۔ اللہ اس کو حق کی راہ دکھلادیتا ہے اور باطل کو باطل دکھا دیتا ہے۔ ، افان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء ، بعض نے کہا کہ اس کا جواب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے :، فلا تذھب نفسک علیھم حسرات، کہ جب گمراہ کا فروں کے احوال پر رسول اللہ ﷺ وسلم کو بکثرت افسوس ہوتا تھا۔ بعض حضرات نے کہا کہ حسرات مفعول لہ ہے یعنی افسوس کرنے کی وجہ سے کہیں آپ کی جان نہ جاتی رہے۔ حسن بن فضل نے فرمایا کہ اس میں تقد یم وتا خیر ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ کیا ایسا شخص جس کو اس کا عمل بداچھا کرکے دکھایا گیا ہو، پھر وہ اس کو اچھا سمجھنے لگاہو، آپ اس کو دیکھ کر افسوس نہ کریں کیونکہ جب کوئی کام فوت ہوجائے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ان کے کفر کی وجہ سے آپ اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچائیں ، اگر وہ ایمان نہیں لاتے ۔ ابو جعفر نے، فلاتذھب ، میں تاء کو مضموم پڑھا ہے اور ھا کے کسرہ کے ساتھ اور، نفسک ، کو منصوب پڑھا ہے۔ ، ان اللہ علیم بما یصنعون،
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم انکو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں اسی طرح مردوں کو جی اٹھنا ہوگا

تفسیر 9۔ ، واللہ الذی ارسل الریاح فتثیر سحابافسقنا ہ الی بلد میت فاحیینا بہ الارض بعد موتھا کذلک النشور ، جب ان کو قبروں سے اٹھا یا جائے گا۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت کا طلبگار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا

10، من کان یرید العزۃ فلللہ العزہ جمیعا، فراء نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا جو شخص جاننا چاہتا ہے کہ عزت کے لیے ہے وہ وہ سمجھ لے کہ تمام ترعزت اللہ کے لیے ہے۔ بظاہر آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اپنے لیے عزت کا خواستگار ہے تو اللہ کی بارگاہ سے ہی اس کو عزت طلب کرنی چاہیے ، اسی کی فرمانبرداری کرکے عزت حاصل کرے کیونکہ ساری عزت کا خالق ومالک اللہ ہی ہے جس کو چاہے عطار کے۔ کافر، بتوں کی پوجاکر کے عزت کے خواستگار تھے، اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا : ، واتخذو امن دون اللہ الھۃ لیکونوالھم عزاکلا اور منافق ، کافروں کی نظر میں معززبننا چاہتے تھے اللہ نے منافقوں کے متعلق فرمایا :، ایبتغون عند ھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا، آیت مذکورہ میں دونوں کے خیال کی تردید کردی گئی ۔ آگے فرمایا کہ عزت کے حصول کا ذریعہ صرف توحید اور نیک ہے۔ ، الیہ یصعد الکلم الطیب، اللہ کی طرف چڑھتے ہیں پاک کلمات ۔ پاک کلمات سے مراد ہیں ، سبحان اللہ والحمد للہ واللہ اکبر ولاالہ الا اللہ و تبارک اللہ، وغیرہ۔ چڑھنے سے مجازامراد ہے قبول ہونا ۔ قتادہ کا یہی قول روایت میں آیا ہے ، یا کلمات کے چڑھنے سے مراد ہے ان فرشتوں کا عرش کی طرف چڑھنا جوان پاک کلمات کو لکھ کرلیجاتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ، الیہ یصعدالکلم الطیب ، سے مرا د ذکراللہ ہے۔ قتادہ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کلمہ طیبہ کو پاک کرلے گا ۔ حسن اور قتادہ کا بیان ہے کہ ، الکلم الطیب، سے مراد ذکر اللہ ہے اور، والعملالصالح یرفعہ، سے مراد فرائض کی ادائیگی ہے جو شخص اللہ کا ذکر کرے لیکن فرائض ادانہ کرے تو اس کے ذکر کو اس پر لوٹا یا جاتا ہے ۔ ایمان صرف ارزو کرنے سے نہیں ملتا اور نہ ہی جلوہ پاشی کا نام ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جماہوا ہو اور اعمال صالحہ اس کی تصدیق کررہے ہوں جس کا قول تو اچھا ہے اور عمل صالح نہ ہو، اللہ اس کا قول اس کے منہ پردے مارتا ہے اور جس کا قول بھی اچھا ہو اور عمل بھی صالح ہو اللہ اس کو قبول فرمالیتا ہے۔ اس کا قول عمل کو مقبول بنالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ، حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ بغیر عمل کے اللہ قول کو قبول نہیں کرتا اور وعمل کے ساتھ خلوص نیت بھی ضروری ہے۔ صرف قول وعمل بھی بغیر نیت کے مقبول نہیں ۔ سفیان بن عیینہ کا قول ہے کہ عمل صالح خالص کو کہتے ہیں ۔ یعنی جن اعمال میں اخلاص ہو، خواہ ان کا تعلق اقوال میں سے ہو یا افعال میں سے، اس پر دلیل اللہ عزوجل کا فرمان، فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا، مشرک اور ریاء سے بچے رہے۔ ، والذین یمکرون السیئات ، کلبی نے بیان کیا کہ وہ جو برے اعمال کرتے ہیں ۔ مقاتل نے کہا کہ وہ شرک کرتے ہیں ۔ ابو العالیہ نے کہا بری تدبیروں سے مراد ہیں قریش کی وہ خفیہ تدبیریں جو دارالند وہ میں بیٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے متعلق انہوں نے کی تھیں، انہی تدبیروں کے متعلق سورة انفال میں آیا ہے :، واذیمکربک الذین کفروالیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک، کلبی نے، یمکرون السیئات، کا ترجمہ کیا ہے ، برائیاں کرتے ہیں ۔ مجاہد اور شہربن حوشب کے نزدیک ریاکارلوگ مراد ہیں۔ ، لھم عذاب شدید ومکراو اولئک ھویبور، وہ یعنی اللہ ان کو نا بود کردے گا۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تم کو جوڑا جوڑا بنادیا اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اسکے علم سے اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ خدا کو آسان ہے

11، واللہ خلقکم من تراب، آدم علیہ السلام، ثم من نطفۃ، اس کی نسل ، ثم جعلکم ازواجا، مذکرہوں یا مؤت ۔ ، وماتحمل من انثی ولا تضع الا بعلملہ وبعملہ وما یعمرمن معمر، اور نہ ہی ان کی عمر طویل تھی۔ ، ولا ینقص من عمرہ، نہ ہی ان کی عمر سے کم کیا جائے گا۔ ، الا فی کتاب، مگر اس کا اندراج (پہلے سے) لوح محفوظ میں ہوتا ہے یا کراما کاتبین کے اعمال ناموں میں اس کا اندراج ہوتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا ام الکتب (یعنی لوح محفوظ) میں لکھا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کی عمر اتنے سال ہوگی ، پھر اس کے نیچے لکھا ہوتا ہے ایک دن گزر گیا ، دودن گزرگئے ، تین دن گزرگئے۔ اسی طرح پوری عمر کے دن لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور اس طرح عمر ختم ہوجاتی ہے۔ کعب احبار کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ اگر حضرت عمر اپنی عمر کی طویل ہونے کی درخواست کرتے تو طویل ہوجاتی ۔ ان سے کہا گیا، فاذا جاء اجلھم لا یستا خرون ساعۃ ولا یستقدمون، فرمایا کہ جب موت کا وقت قریب آگیا لیکن اس وقت سے پہلے تو کوئی اپنی زندگی اور موت میں کمی کا سوال کرسکتا ہے۔ پھر یہ تلاوت فرمائی۔ ، ان ذلک علی اللہ یسیر، لوگوں کی میعادلکھنا اور عمریں متعین کرنا اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا مل کر یکساں نہیں ہوجاتے یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

تفسیر 12، وما یستوی البحران ، میٹھا اور شور ملح والا پانی ۔ ، ھذاعذب فرات، پاکیز ہ، سائغ شراب ، آسانی سے حلق سے اترجانے والا۔ ، وھذاملح اجاج ، اتنا تمکین کہ حلق کو جلادے ۔ ضحاک نے اس کا ترجمہ کڑواہوں نے سے کیا ہے۔ ، ومن کل تاکلون لحما طریا، اور ان دونوں سمندروں کی مچھلیاں کھاتے ہو۔ ، وتستخرجون حلیۃ ، نمکین اور میٹھی ۔ ، تلبسونھا، اس سے مراد موتی ہیں۔ شیریں سمند رسے موتی نکالتے ہیں کڑوے سمندر سے بھی ۔ ، وتری الفلک فیہ مواخر، آتے جاتے وقت کشتیاں پانی کو پھاڑتی ہیں، ایک ہی ہوا کے ساتھ ۔ ، لتبتغوامن فضلہ ، تجارت کے ذریعے سے۔ ، ولعلکم تشکرون، اس کی نعمتوں پر اللہ کا شکرادا کرے۔
Ayah 35:13

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اور جن لوگوں کو تم اسکے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز) کے مالک نہیں

13، یولج الیل فی النھار ویولج النھار فی الیل وسخرالشمس والقمر کل یجری لا جل مسمی ذلکم اللہ ربکم لہ الملک والذی تد عون من دونہ ، اللہ کے سوابتوں کو پکار تے ہیں ۔ ، مایملکون من قطمیر، کھجور کی گٹھلی کا چھلکا جو اس پر لپٹا ہوتا ہے۔
Ayah 35:14

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے اور (خدائے باخبر) کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

14، ان تدعوھم ، اگر تم ان بتوں کو پکاروگے، لا یسمعوا دعاء کم ولو سمعو اماا ستجابو الکم ، وہ تمہاری بات کا جواب نہیں دیں گے۔ ، ویوم القیامۃ یکفرون بشرککم ، جو تم ان کی عبادت کرتے ہو وہ قیامت کے دن اس کے منکر ہوجائیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے تو تمہیں عبادت کرنے کا نہیں کہا تھا۔ ، ولا ینبئک مثل خبیر، تجھے کوئی ایسی اطلاع نہیں دے گا جسے اللہ دے رہا جو اشیاء کے حقائق سے پوراباخب رہے۔
Ayahs 35:15–17

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد و ثنا) ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تو تم کو نابود کر دے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں

15، یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ، اللہ کا فضل فقیر محتاج ۔ ، واللہ ھو الغنی الحمید ، وہ فی نفسہ مخلوق کی حمد کی مستحق ہے۔
Ayah 35:18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو (اے پیغمبر ﷺ تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

18، ولا تزر وازرۃ اخری وان تدع مثقلۃ، یعنی اس شخص پر گناہوں کا بوجھ لادویا گیا ہو۔ ، الی حملھا، گناہوں کا بوجھ ۔ ، لا یحمل منہ شیئ،۔۔۔۔۔۔ ولوکان ذاقربی ، کوئی شخص دوسرے کے گناہ کا بار نہیں اٹھائے گا، اگرچہ قریبی ہی کیوں نہ ہو۔ بیٹا ہو یا باپ ، ماں ہو یا بھائی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ماں باپ بیٹے کو پکاریں گے اور کہیں گے بیٹے ہمارا کچھ بارتواٹھا لے، ، بیٹاجواب دے گا مجھ میں برداشت کی طاقت نہیں، میرے عمل کا بارہی کافی ہے۔ ، انما تنذرالذین یخشون ، وہ ڈرتے ہیں۔ ، ربھم بالغیب ، انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں ۔ اخفش کا بیان ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ڈرانے سے انہی لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں سو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔ ، واقاموا الصلوۃ ومن تزکی ، اس نے اصلاح کی اور نیک عمل کیا ۔ ، فانما یتزکی لنفسہ، اس کا ثواب ، والی اللہ المصیر،
Ayah 35:19

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں

19، وما یستوی الا عمی والبصیر ، اس سے جاہل اور عالم مراد ہے۔ بعض نے کہا کہ اعمی راہ راست سے بصیر سے مراد ہدایت یافتہ ہے، بصیر سے مراد مؤمن اور اعمی سے مرادو مشرک ، کافر ہے۔
Ayah 35:20

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور روشنی

تفسیر 20، ولا الظلمات ولا النور، کفر اور ایمان مراد ہے۔
Ayah 35:21

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ

21، ولاالظل ولا الحرور، ظل سے مراد چھائیں یعنی جنت اور حرور سے مراد گرمی یعنی دوزخ کی آگ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حرور سے مراد گرم ہواجورات کو چلتی ہے اور سموم دن کی ہوا۔ بعض نے کہا حروروہ گرم ہواجو سورج کی تپش کی وجہ سے ہوتی ہے۔
Ayah 35:22

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے

22، یستوی الا حیاء ولا الا موات ، مؤمن اور کفار برابر نہیں ہوسکتے ۔ بعض نے کہا کہ علماء اور جہال مراد ہیں ۔ ، ان اللہ یسمع من یشائ، جو نصیحت سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہ۔ ، وما انت بمسمع من فی القبور، اس سے مراد کفار ہیں ، ان کو قبروں کے مردوں سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
Ayah 35:23

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو

23، ان انت الا نذیر، آپ کا کام صرف دوزخ کا خوف دلانا ہے ہدایت یافتہ کرنے پر آپ کو قدرت نہیں ۔
Ayah 35:24

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے

24، انا ارسلنا ک بالحق بشیر اونذیرا وان من امۃ، جو امتیں ماقبل میں گزر چکی ہیں۔ ، الا خلا فیھا نذیر، وہ نبی جو ڈرانے والا ہو۔
Ayah 35:25

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں ان کے پاس ان کے پیغمبر کی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے لے کر آتے رہے

25، وان یکذبوک فقد کذب الذین من قبلھم جاء تھم رسلھم بالبینت وبالزبر، اس سے مراد آسمانی کتابیں ہیں ۔ ، وبالکتاب المنیر،
Ayah 35:26

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

26 ثم اخذت الذین کفروافکیف کان نکیر، کیسے ہے ان کی پکڑ۔
Ayah 35:27

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا ؟ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں

27، الم تران اللہ انزل من السماء ماء فاخرجنا بہ ثمرات مخفلفا الوانھا ومن الجبال جدد، یعنی دھاری دار پٹی یا راستہ یا لکیر ۔ ، بیض وحمر مختلف الوانھا وغرابیب سود، غرابیب سے پہلے سود موصوف محذوف ہے اور سود مذکور اس کی تاکید ہے۔
Ayah 35:28

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں بیشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے

28، ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانہ، لوگوں میں سے یاچو یوں میں سے جن کے رنگ مختلف ہیں۔ ، کذلک ، جیسے پھلوں کے رنگ اور پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں۔ یہاں پر کلام تام ہوا، آگے ابتداء کرتے ہیں ۔ ، انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ مجھ سے وہی ڈرتا ہے جس کو میرے قہر غلبہ اور میری بادشاہت کا علم ہو جو شخص جتنا زیادہ اللہ اور اس کی صفات کو جانتا ہے وہ اتناہی اللہ سے ڈرتا ہے۔ شیخین نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض کام کیے اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو ایک خطبہ دیا جس میں اللہ کی حمدوثناء کے بعد فرمایا : کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ اس کام سے پرہیز رکھتے ہیں جو میں کرتا ہوں ؟ اللہ کی قسم ! میں ان سے زیادہ اللہ کو جانتا ہوں اور ان سے بڑھ کر اللہ سے ڈرتاہوں ۔ ، ان اللہ عزیز غفور ، وہ عز یز ہے اپنی ملکیت وبادشاہت میں اور غفور ہے گناہوں کو معاف کرنے و الا ہے اپنے بندوں کے ۔
Ayah 35:29

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیداوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

تفسیر 29۔ ان الذین یتلون کتاب اللہ، جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ ، واقاموا لصلوۃ وانفقوامما رزقنا ھم سراو علانیۃ یرجو نتجارۃ لن تبور، یعنی اطاعت کرکے حصول ثواب کے امید وار ہوتے ہیں اور تجارت بھی ایسی جس میں کبھی خسارہ نہ ہو نہ تباہی آئے۔
Ayah 35:30

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

کیونکہ خدا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے

30، لیوفیھم اجورھم، تاکہ ان کے اعمال کا ثواب پوراپورا دیاجائے ۔ ، ویزید ھم من فضلہ ، ابن عباس ؓ نے فرمایا ، اس ثواب کے علاوہ جو نہ کسی آنکھ سے دیکھا اور نہ ہی کان سے سنا ۔ ، انہ غفور شکور ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ بڑے گناہوں کو بخش دے گا اور تھوڑے عمل کی قدردانی فرمائے گا یعنی ثواب عنایت کردے گا۔
Ayah 35:31

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں بیشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

31، والذی اوحینا الیک من الکتاب، کتاب سے مراد قرآن ہے، ھو الحق مصدقا لما بین یدیہ، اور وہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے کتاب۔ ، ان اللہ بعبادہ لخبیر بصیر،
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں یہی بڑا فضل ہے

32، ثم اور ثنا الکتاب ، وہ کتاب جو آپ کی طرف نازل فرمائی جس کا ذکر پہلی آیت میں گزرچکا ہے۔ ، الذین اصطفینا من عبادنا ، یہاں پر ثم بمعنی واؤکے ہے ۔ اور ہم نے ان کو وارث بنادیا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ثم کان من الذین آمنوا، یہاں پر بھی ثم واؤ کے معنی میں ہے۔ مجاہد نے ، اور ثنا، کا ترجمہ اخزنا سے کیا ہے اس معنی کے لحاظ سے میراث کو میراث کہتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک پوری امت اسلامیہ مراد ہے۔ فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد کی تفسیریں ، فمنھم ظالم لنفسہ ومھم مقتصد ومنھم سابق بالخیرات، اسامہ بن زید نے اللہ عزوجل ، فمنھم ظالم لنفسہ، کے بارے میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ میری امت میں سے سب کا قول ہے۔ 1، ابو عثمان نہندی کی روایت سے بیان کیا کہ میں نے خود حضرت عمر ؓ سے سنا، آپ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ہم میں سے جو سابق ہیں ، وہ تو آگے بڑھنے والے ہیں اور جو مقتصد ہیں وہ نجات پانے والے ہیں اور جو ہم میں ظالم ہیں، ان کی مغفرت کردی جائے گی۔ ابو قلابہ نے کہا : میں نے یہ حدیث یحییٰ بن معین سے بیان کی تو تعجب کرنے لگے ۔ بغوی نے یہ حدیث مرفاعا بھی بیان کی ہے۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے اس کو حضرت عمر ؓ کا قول بیان کیا ہے۔ بغوی نیابوثابت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا اور اس نے کہا : اے اللہ ! میری غریب الوطنی پر رحم فرما، میری تنہائی میں انس (کاذریعہ ) پیداکردے اور کسی نیک ہم نشین کو میرے پاس پہنچادے۔ 2، حضرت ابودرداء ؓ (وہاں موجود تھے، آپ) نے فرمایا : اگر تو سچا ہے تو میں تجھ سے زیادہ خوش نصیب ہوں کہ میری ملاقات تجھ سے ہوگئی ۔ میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ، پھر فرمایا : سابق تو بلا حساب جنت میں چلا جائے گا اور مقتصد کا اسانی سے کسی قدرحساب ہوجائے گا اور ظالم لنفسہ کو مقام حساب میں (حساب کے لیے) روک لیاجائے گا اتنا کہ اس کو فکر پیدا ہوجائے گی ، پھر اس کو بھی جنت میں داخل کردیا جائے گا یہ فرمانے کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی :، الحمد للہالذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفورشکو ر، یہ حدیث احمد ، ابن جریر، طبرانی ، حاکم اور بیہقی نے بھی نقل کی ہے، اس میں اتنا زائد ہے لیکن جن لوگوں نے (اپنی جانوں پر) ظلم کیا ہوگا، ان کو پورے حشر کی مدت تک روک کر (مقام حساب میں) رکھا جائے گا ۔ پھر اللہ اپنی رحمت سے ان (کے گناہوں) کی تلافی فرمادے گا۔ یہی لوگ کہیں گے : الحمد اللہ الذی اذھب عنا الحزن ان ربنا لغفور شکور، بیہقی نے لکھا ہے یہ حدیث متعدد طریقوں سے حضرت ابودردء کی روایت سے آئی ہے اور کوئی حدیث اگر متعدد طریقوں سے منقول ہو تو اس کی کچھ اصل ہوتی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے اس آیت کے متعلق فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ سب (تینوں قسم کے لوگ ) اسی امت کے ہوں گے۔ بیہقی نے بھی یہ حدیث حضرت اسامہ کی روایت سے بیان کی ہے ۔ اسی طرح کعب وعطاء کی روایت سے بیان کیا ہے کہ تینوں قسمیں جنت میں جائیں گی ۔ 3۔ عقبہ بن صہبان کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے آیت ، اور ثناالکتب الذین اصطفینا من عبادنا، کے متعلق دریافت کیا تو ام المؤ منین نے فرمایا : میرے بیٹے ! یہ سب جنت میں جائیں گے ۔ سابق با لخیرات تو وہ تھے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں گزرگئے ، حضور ﷺ نے ان کے لیے جنت کی شہادت دے دی تھی اور مقتصد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے نشان قدم پر چل کر آپ سے جاملے اور ظالم لنفسہ مجھ جیسے اور تم جیسے لوگ ہیں۔ ، ام المؤ منین ؓ نے اپنے آپ کو بھی ہمارے ساتھ شامل کردیا۔ 5۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ، سابق سے مراد مؤ من مخلص ہے مقتصد سے مراد مرایی ہے۔ والظالم سے مراد انکار کرنے والا ہے جس نے اللہ کی نعمت کا شکر ادا نہیں کیا ۔ کیونکہ ان تنیوں کے لیے جنت میں دخول کا حکم ہے۔ ، جنات عد ن ید خلونھا ، 6۔ بعض نے کہا کہ حسن کا قول ہے ۔ سابق سے مراد جو شخص اپنی برائیوں سے نیکی کی طرف لوٹے اور مقتصد جس کینی کیاں اور برائیاں برابرہوں اور ظالم وہ ہے جو نیکی سے برائی کی طرف آجائے۔ 7۔ بعض نے کہا کہ ظالم وہ ہے جس کا ظاہر اس کے باطن سے بہترہو۔ 8۔ مقتصد جس کا ظاہر اور طابن برابر ہو اور سابق جس کا باطن ظاہر سے بہتر ہو اور بعض نے کہا ظالم وہ ہے جو اللہ کو ایک جانے زبان کے ساتھ لیکن اس کا فعل اس کے موافق نہ ہو اور مقتصد جو اللہ کو زبان کے ساتھ ایک مانے اور اس کی اطاعت کرے اپنے جوارح کے ساتھ اور والسابق سے مراد جو اللہ کو زبان سے ایک مانے اور اس کی اطاعت بھی کرے اور اپنے عمل میں خالص بھی ہو۔ 9۔ بعض نے کہا ظالم سے مراد صرف قرآن کو پڑھنے والا بغیر سمجھنے کے اور مقتصد جو قرآن کو پڑھے اور اس کو سمجھے اور سابق جو قرآن سمجھ کر پڑھے اور اس پر عمل بھی کرے۔ 10۔ بعض نے کہا کہ ظالم سے مراد کبیر ہ گناہ کرنے والے ، مقتصد سے مراد صغائر کا ارتکاب کرنے والے سابق سے مراد جن سے نہ کوئی کبیرہ گناہ صادر ہو اور نہ ہی صغیرہ۔ 11۔ سہل بن عبداللہ کا قول ہے کہ سابق سے مراد عالم ہے مقتصد سے مراد شاگرد ہے اور ظالم سے مراد جاہل ہے۔ 12۔ ابوبکر الوراق کا قول ہے کہ یہ تین اقسام کے لوگ ترتیب کے ساتھ ذکر کیے کیونکہ لوگوں کے احوال بھی تین طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک معصیت اور غفلت ، پھر توبہ، پھر قرب خداوندی، اگر وہ نافرمانی کرے گا تو ظالمین میں داخل ہوگا۔ اگر وہ توبہ کرے گا تو وہ مقتصد ین میں داخل ہوگا۔ اگر اس کی توبہ صحیح ہوئی اور عبادت کی کثرت کی وجہ سے اور مجاہدہ کی وہ سابقین کے عذر میں شامل ہوجائے گا۔ بعض نے کہا کہ ظالم سے مراد کاف رہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد منافق ہے۔ ، جنت عدن ید خلونھا ومنھم سابق بالخیرات، وہ جنت کی طرف سبقت کرنے والے اور نیک اعمال کرنے والے ۔ ، باذن اللہ ، اللہ کے حکم اور اس کے ارادہ سے ۔ ، ذلک ھو الفضل الکبیر،
Ayah 35:33

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

(ان لوگوں کے لئے) بہشت جاودانی (ہیں) جن میں وہ داخل ہوں گے وہاں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کی پوشاک ریشمی ہوگی

تفسیر 33۔ پھر اس کے ثواب کو ذکر کیا۔ ، جنات عدن یدخلونھا، یہ تین اقسام کے لوگ یاء کے ضمہ کے ساتھ خاء کے فتحہ کے ساتھ دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ اور خاء کے ضمہ کے ساتھ۔ ، یحلون فیھا من اساور من ذھب ولؤ لؤ الباسھم فیھا حریر،
Ayahs 35:34–35

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا بیشک ہمارا پروردگار بخشنے والا (اور) قدردان ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر اتارا یہاں نہ تو ہم کو رنج پہنچے گا اور نہ ہمیں تکان ہی ہوگی

34، وقالوا، جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کہیں گے، الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن حزن واحد ہے۔ حزن کی مختلف تفاسیر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (حزن سے مراد ہے) دوزخ کا غم۔ قتادہ نے کہا : موت کا غم (مراد ہے) ۔ مقاتل نے کہا : اس غم کی وجہ یہ ہوگی کہ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ عکرمہ نے کہا : گناہوں اور خطا کا ریوں کا خوف اور طاعت کے قبول نہ ہونے کا خوف مراد ہے۔ کلبی نے کہا دنیوی زندگی میں آخرت میں ہونے والے امور کا غم مراد ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : دنیا میں روٹی کی فکر مراد ہے۔ بعض نے کہا : معاش اور معاددونوں کا غم مراد ہے ۔ صحیح بات یہ ہے کہ حزن سے ہر فکر مراد ہے ، کوئی فکر ہو۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لاالہ الا اللہ کہنے والوں کو نہ مرنے کے وقت وحشت ہوگی نہ قبروں سے اٹھنے کے وقت ۔ گویا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ صورپھونکے جانے پر لوگ سروں سے مٹی جھاڑ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ، الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن، (رواہ الطبرانی)
Ayah 35:36

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے دوزخ کی آگ ہے نہ انہیں موت آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ان کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا ہم ہر ایک ناشکرے کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

تفسیر 36، والذین کفر والھم نار جھنم لا یقضی علیھم فیموتوا ، یعنی ان کو ہلاک نہیں کیا جائے گا کہ وہ راحت پائیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان، فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ، اس کو قتل کردیا۔ بعض نے کہا کہ ان پر موت کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ وہ مرجائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ونادوایا مالک لیقض علینا ربک،۔۔۔۔۔۔ ، ولا یخفف عنھم من عذابھا، آگ کے عذاب سے، کذلک نجزی کل کفور، ناشکری۔ بعض حضرات نے یجزی یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور ذاء کے ساتھ (کل) منصوب ہے۔
Ayahs 35:37–38

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

وہ اس میں چلائیں گے کہ اے پروردگار ہم کو نکال لے (اب) ہم نیک عمل کریں گے نہ وہ جو (پہلے) کرتے تھے کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تو اب مزے چکھو ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک خدا ہی آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے وہ تو دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے

37، وھم یصطر خون، وہ مددطلب کرتے ہیں اور چیختے ہیں۔ ، فیھا ربنا اخرجنا، اس آگ سے ۔ ، نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل ، دنیا میں شرک اور برائیوں سے اللہ تعالیٰ ان کی تو بیخ کے طور پر فرماتا ہے ۔ ، والم نعمر کم ما یتذکرفیہ من تذکر، بعض نے کہا اس سے بلو غ مراد ہے۔ آیت والم نعمر کم میں کتنی عمر مراد ہے آیت میں عمر سے کتنی مراد ہے ؟ علماء کے اقوال اس میں مختلف ہیں ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ ، عطاء اور کلبی کے نزدیک اٹھا رہ سال کی عمر مراد ہے ۔ حسن نے چالیس کی حدمقر رکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے نزدیک ساٹھ سال کی عمر مراد ہے۔ یہ وہ عمر ہے کہ اس کے بعد آدمی کو اللہ کے سامنے عذرخواہی کا کوئی موقع نہیں رہتا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کسی شخص کی عمر ساٹھ سال تک پہنچا دے تو پھر اس کی طرف سے کسی عذر کو قبول نہیں کرتا۔ (رواہ البخاری وکذا اخرج البرز ارواحمد وعبدبن حمید عن ابی ہریرہ) کیوں کہ زیادہ ترطبعی عمر اس کے بعد نہیں رہتی ۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ابو یعلی نے مسند میں حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (عام طورپر) میری امت عمریں ساٹھ سال سے ستر تک ہوں گی اور ستر سال سے آگے بڑھنے والے بہت کم ہوں گے۔ یہ مطلب نہیں کہ ساٹھ سال سے پہلے گناہ کرنے کا عذرقابل قبول نہ ہوگا کیونکہ بالغ ہونے کے بعد ہی آدمی مکلف ہوجاتا ہے اور غور متامل کرکے نصیحت پکڑ نے کا اس کو موقع ہوتا ہے ۔ بالغ ہونے کے بعد نماز اور دوسرے فرائض کو ترک کرنے کا کوئی معقول عذر نہیں ہوسکتا۔ خصوصا ایمان نہ لانے کا تو کوئی عذرہوہی نہیں سکتا ۔ اگر یہ مطلب آیت کا نہ مان جائے تو پھر قیامت کے دن اللہ کی طرف سے اس جواب کے مخاطب تو صرف وہی نہیں سکتا ۔ اگر یہ مطلب آیت کا نہ مانا جائے تو پھر قیامت کے دن اللہ کی طرف سے اس جواب کے مخاطب تو صرف وہی کا فرقرار پائیں گے جن کی عمر ساٹھ برس ہوئی ہو، دوسرے کم عمر مخاطب ہی نہیں قرار پائیں گے۔ ، وجاء کم النذیر، اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ یہی اکثر مفسرین کا قول ہے ۔ بعض علماء کے نزدیک عقل مراد ہے ۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو تنہا عقل کو وجوب ایمان کے لیے کافی سمجھتے ہیں ، ان لوگوں کے نزدیک اگر کوئی عاقل پہاڑ کی چوٹی پر (تمام انسانوں سے الگ تھلگ) ہو اور نبی کی دعوت اس کونہ پہنچی ہو، تب بھی وہ اللہ پر ایمان لانے کا مکلف ہے۔ اگر اللہ کو نہیں مانے گا تو اس کو کافرقرار دیاجائے گا۔ ، فذوقوافما للظالمین من نصیر،
Ayah 35:39

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں (پہلوں کا) جانشین بنایا تو جس نے کفر کیا اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور کافروں کے حق میں ان کے کفر سے پروردگار کے ہاں ناخوشی بڑھتی ہے اور کافروں کو ان کا کفر نقصان ہی زیادہ کرتا ہے

تفسیر 39۔ ، ھو الذی جعل کم خلائف فی الارض، بعض انسان بعض کے جانشین ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اللہ نے تم کو ایک ایسی امت بنایاجوپچھلی امتوں کے بعد آئی۔ ، فمن کفر فعلیہ کفرہ ، ان پر ان کے کفر کا وبال ، ولا یزید الکافرین کفرھم عند ربھم الا مقتا، اس سے مراد غضب ہے۔ ولا یزید الکافرین کفرھم الا خسارا،
Ayah 35:40

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

بھلا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جن کو تم نے خدا کے سواء پکارتے ہو مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے یا (بتاؤ کہ) آسمانوں میں انکی شرکت ہے ؟ یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند رکھتے ہیں ؟ (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے

40، قل ارائیتم شرکاء کم الذین تدعون من دون اللہ ، یعنی تم نے میرے شریک بتوں کو ٹھہر الیا ہے ۔ ، ارونی ماذا خلقوامن الارض ام لھم شرک فی السموات ام اتینا ھم کتابا، مقاتل نے کہا یعنی ہم نے کفار مکہ کو کوئی ایسی کتاب دی ہے جو ظاہرکررہی ہو کہ جن معبودوں کو انہوں نے شرکاء بنارکھا ہے وہ شریک ٹھہرائے گئے ہیں ؟ ، فھم علی بینت ، بیہ واحد ہے اور دوسرے قراء نے اس کو جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی واضح ولائل۔ ، بل ان یعد، صرف دھوکے کی باتیں کرتے ہیں۔ ، الظالمون بعضھم بعضا الا غرورا، غرور جو انسان کسی کو دھو کہ دے جس بات کی کوئی اصل موجودنہ ہو۔ مقاتل کا بیان ہے جو وعدہ شیطان نے بنی آدم کے کفار کے ساتھ کیا ہے وہ محض دھوکہ اور باطل ہے۔