34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 34:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے اور وہ حکمت والا اور خبردار ہے

تفسیر 1۔ ، الحمد اللہ الذی لہ مافی السموات ومافی الارض ، وہی سب کا مالک ہے اور وہی سب کا خالق ہے۔ ، ولہ الحمد فی الا خرۃ ، جیسا کہ اس کے یے دنیا میں تعریفیں تھیں کیونکہ دونوں جہانوں میں اسی کی تعریفیں ہیں اور بعض نے کہا کہ الحمد اللہ آخرت میں لوگوں کی زبان پر ہوگی ۔ اہل جنت اس سے تعریف بجالائیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ، وقالو ا الحمد اللہ الذی اذھب عناالحزن، اور الحمد اللہ الذی صدقنا وعدہ، وھو الحکیم الخبیر ،
Ayah 34:2

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اسکو معلوم ہے اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے

2، یعلم مایلج فی الارض ، جو کچھ زمین میں داخل ہوتی ہے مثلا بارش کا پانی یامردے جو زمین میں دفن کیے جاتے ہیں۔ ، وما یخرج منھا، نباتا، سبزہ اور میدان محشر میں مردوں کا دوبارہ زندہ ہوکراٹھنا ۔ ، وما ینزل من السماء ، اس سے مراد بارش کا پانی ہے۔ ، وما یعرج، اور جو آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ ، فیھا، فرشتے اور بندوں کے اعمال وغیرہ۔ ، وھوالرحیم الغفور،
Ayah 34:3

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن (لکھی ہوئی) ہے

3، وقال الذین کفروالاتاتینا الساعۃ قل بلی وربی لتاتینکم ، جب قیامت آجائے گی۔ ، عالم الغیب ، قراء اہل مدینہ اور اہل شام عالم رفع کے ساتھ جملہ مستانفہ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے جر کے ساتھ پڑھا ہے لفظ رب کی صفت ہونے کی وجہ سے۔ ، ای وربی عالم الغیب، حمزہ اور کسائی نے علام وزن فعال پر پڑھا ہے اور میم مجرور کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، لایغزب، وہ اس سے غائب نہیں۔ ، عنہ مثقال ذرۃ فی السموات ولافی الارض ولا اصغرمن ذلک، اس کے تھوڑے سے ذرہ میں سے، ولا اکبر الافی کتاب مبین،
Ayah 34:4

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلا دے یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

4، لیجزی الذین آمنواوعملوا الصالحات اولئک ، وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ہیں۔ ، لھم مغفرۃ ورزق کریم، اچھا رزق مراداس سے جنت ہے۔
Ayah 34:5

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرا دیں گے ان کے لئے سخت درد دینے والے عذاب کی سزا ہے

تفسیر 5، والذین سعوفی ایاتنا، جو ہماری آیات کے باطل کرنے میں کوشش کرتے ہیں۔ ، معاجزین، اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کے دلائل کو باطل کردیا۔ ، اولئک لھم عذاب من رجزالیم ، ابن کثیر ، حفص و یعقوب نے پڑھا (الیم) رفع ہے اور سورة جاثیہ میں عذاب کی صف ہے اور دوسرے قراء نے مجرور پڑھا ہے رجز کی صفت ہونے کی وجہ سے ۔ قتادہ کا قولے کہ رجز کہتے ہیں برے عذاب کو۔
Ayah 34:6

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا راستہ بتاتا ہے

6، ویری الذین، اور وہ ان لوگوں کو دیکھتا ہے۔ ، اوتوا العلم، اس سے مراد اہل کتاب عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں۔ قتادہ کا بیان ہے کہ اس سے مراد آپ ﷺ کے صحابہ ہیں۔ ، الذی انزل الیک من ربک ، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، ھو الحق، یہ اللہ کی طرف سے حق ہے۔ ، ویھدی، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، الی صراط العزیز الحمید ، اس سے مراداسلام ہے۔
Ayah 34:7

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو ہمیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہوجاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوں گے

7، وقال الذین کفروا، جو بعثت کے منکرین ہیں وہ بطور تعجب کے سوال کرتے ہیں۔ ، ھل ندلکم علی رجل یئبئکم ، جو تمہیں اس کی خبردے یعنی حضرت محمد ﷺ ۔ ، اذا مزقتم کل ممزق ، یعنی جب تم مرجاؤ گے اور تمہارے جسم بالکل ریزہ ریز ہ ہوجائیں ہوجائیں گے اور تم سب خاک بن جاؤگے۔ ، انکم نفی خلق جدید، وہ کہتے تھے کہ کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
Ayah 34:8

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

یا تو اس نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے یا اسے جنون ہے بات یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ آفت اور پرلے درجے کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں

8، افتری علی اللہ کذبا ام بہ جنۃ، الف استفہام کا۔ وہ آپ کو جھوٹا گمان کرتے ہیں یا ان کے جنون ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تردید فرماتے ہیں۔ ، بل الذین لا یؤمنون بالا خرۃ فی العذاب والضلال البعید، دنیا میں وہ حق سے بہت دور تھے۔
Ayah 34:9

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے

9، افلم یروا الی مابین اید یھم وما خلفھم من السماء والا رض ، وہ اس بات کو جان لیں کہ جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ آسمان میں ہے ان سب کو محیط ہے اس کے احاطہ سے کوئی نہیں نکل سکتا ۔ وہ سب پر قاد رہے ۔ ، ان نشانخسف بھم الارض، یہاں پر فاء کو باء میں مدغم کردیتے ہیں۔ ، اونسقط علیھم کسفا من السماء ، حمزہ اور کسائی نے اس کو پڑھا ہے۔ ان یاشا یخسف اویسقط، یاء کے ساتھ پڑ ھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، ان فی ذلک لایۃ ، زمین و آسمان میں ایسی نشانیاں موجود ہیں جو بعث پر دلالت کرتی ہیں۔ ، لکل عبید منیب، جو تا ئب ہوکر اللہ کی طرف لوٹنے والا ہے۔
Ayah 34:10

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی اے پہاڑو ! ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (انکا مسخر کردیا) اور انکے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا

فضل کی تفسیریں 10، ولقد اتینا داؤ منا فضلا، اس سے مراد نبوت اور کتاب ہے۔ بعض نے کہا اس سے مراد شاہت ہے۔ بعض نے کہا وہ تمام چیزیں جو حضرت داؤد علیہ اسلام کو عطا کردی گئی تھیں۔ حسن صوت لوہے کا آپ کے ہاتھ میں موم ہوجانا اور اس کے علاوہ دوسریاشیاء ، یا جبال ، اور ہم نے کہا اے جبال ، اوبی ، تسبیح کر، معہ، جب میرابندہ اس کی تسبیح کرے۔ قتیبی کا قول ہے تاویب بمعنی تسبیح ، یہ تاویب فی السیئہ سے ماخوذ ہے۔ تاویب کا معنی ہے دن بھر چلنا ، پھر رات کو قیام کرنا، اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ جب دن ہوتودن بھر تم داؤد کے ساتھ تسبیح میں رواں رہو۔ بعض نے اوبی کا ترجمہ کیا ہے داؤد کے ساتھ مل کرنو حہ کرو۔ اس کا عطف موضع الجبال پر ہے۔ منادی نصب کی حالت میں ہوتا ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اس کو سخر کردیا اور ہم نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ تسبیح کریں۔ یعقوب نے ، والطیر، کو منصوب پڑھا ہے ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) جب آواز بلند کرتے تو پہاڑوں سے آواز کی باز گشت ہوتی ۔ یہ پہاڑوں کی طرف سے آواز کا جواب ہوتا اور اوپر سے پرندے اڑتے اڑتے ٹھہرجاتے اور رک جاتے تھے اور یہ بھی کہا گیا کہ حضرت داؤد پہاڑوں مین گھس کر اللہ کی تسبیح کے ترانے گاتے تھے تو جس طرح آپ تسبیح کرتے تھے ، ویسے ہی پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔ ایک قول یہ بھی آیا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بدن میں کچھ سستی پیدا ہوجاتی تھی تو ان کو چست بنانے کے لیے اللہ پہاڑوں کی تسبیح کی اواز سنوادیتا تھا۔ ، والنا لہ الحدید، لوہا آپ کے ہاتھ میں موم یاگندھے ہوئے آٹے کی طرح ہوجاتا تھا جس طرح چاہتے ہاتھ سے پکڑکر اس کو موڑ دیتے تھے، گرم کرنے اور کو ٹنی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ۔ اخبار میں آیا ہے کہ حضرت داؤ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کے بادشاہ ہوئے تو آپ نے اپنا یہ دستور بنا لیا تھا کہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیس بدل کر (رات کو) نکلا کرتے تھے اور ایسے لوگوں سے جو آپ کو پہچا نتے نہ تھے مل کر دریافت کرتے تھے کہ داؤد کیسا آدمی ہے ؟ تمہاری اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ یہ تمہاراحاکم کیسا شخص ہے ؟ سب لوگ آپ کی تعریف کرتے تھے اور آپ کے متعلق کلمہ خیرہی کہتے تھے ۔ ایک روز اللہ نے ایک فرشتہ بہ شکل انسانی بھیجا ۔ حضرت داؤدعلیہ السلام سے اس کی ملاقات ہوئی اور حسب عادت اس سے اپنے متعلق دریافت کیا۔ فرشتے نے کہا : اگر ایک بات نہ ہو تو باد شاہ اچھا آدمی ہے ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) یہ سنتے ہی خو فزدہ ہوگئے اور دریافت فرمایا : بندئہ خدا ! وہ کون سی بات ہے ؟ فرشتے نے کہا : وہ خود بھی بیت المال سے کھاتا ہے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بیت المال سے لے کر کھلا تا ہے۔ قتیبہ نے کہا : اسی سبب سے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی کہ میرے لیے رزق کا کوئی ذریعہ مقرر فرمادے تاکہ اس سے میں اپنی بھی روزی کماؤں اور اہل و عیال کو بھی کھلاؤں اور بیت المال کا محتاج نہ رہوں۔ اللہ نے (دعاقبول فرمائی اور) لوہے کو ان کے لیے نرم کردیا اور زرہ بناناسکھا دی ۔ سب سے پہلے آپ نے ہی زرہ بنائی ۔ (آپ سے پہلے زرہ کی ایجا دہی نہیں ہوئی تھی) کہا جاتا ہے کہ آپ ایک زرہ چار ہزار درہم میں فروخت کرتے تھے جس سے خود بھی کھاتے تھے، گھر والوں کو بھی کھلا تے اور غریبوں، مسکینوں کو خیرات بھی دیتے تھے ۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ روزانہ ایک زرہ بنالیا کرتے تھے، جو چھ ہزار درہم کو فروخت ہوتی تھی جس سے 2 ہزار اپنے اہل و عیال کے صرف میں لا تھے اور چار ہزار غربیوں مسکینوں کو خیرات کردیتے تھے۔
Ayah 34:11

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان کو دیکھنے والا ہوں

تفسیر 11۔ ، ان اعمل سابغات، ایسی کشادہ پوری لمبی زریں بناؤ جو زمین میں گھسٹتی چلیں ۔ ، وقد رفی السرد ، مسروکھال کو سینا اس سے مجازامراد ہے زرہ بنانا یعنی زرہ کی بناوٹ میں ایک خاص اندازرکھو کڑیاں اور کیلیں خاص انداز سے بناؤکہ نہ اتنی پتلی کہ پھٹ جائیں اور نہ اتنی موٹی کہ کڑیاں ٹوٹ جائیں ۔ ، واعملو اصالحا، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے گھر والے نیک اعمال کریں ۔ ، انی بما تعملون بصیر،
Ayah 34:12

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 34:12 in the Quran reader

اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل بھی مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہادیا تھا اور جنوں میں ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم) کی آگ کا مزہ چکھائیں گے

12، ولسلیمان الریح ، اور ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لے ہواکو مسخر کردیا۔ ، غدوھا شھر اورواحھا حسن نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) صبح کو دمشق سے چلتے اور اصطخر میں قیلولہ کرتے تھے۔ ان دونوں مقاموں کے درمیان مسافت تیز سوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ پھر پچھلے دن میں اصطخر سے چل کر باہل میں رات کو قیام کرتے ۔ ان دونوں کی درمیانی مسافت بھی تیز شہسوار کی ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ صبح کا کھانا آپ رے میں کھاتے اور شام کا کھانا سمر قند میں۔ ، واسلنا لہ عین القطر ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے پانی کے چشمے کی طرح اللہ نے زمین سے نکال دیا تھا اس لیے اس کو عین القطر فرمایا۔ اہل تفسیر کا قول ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے اللہ نے تانبے کا چشمہ تین روز تک جاری رکھا اور یہ چشمہ یمن میں تھا جس سے لوگ اس زمانہ میں فائدہ اندوزہوتے ہیں۔ یمن والے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نعمت سے اب بھی فائدہ حاصل کرتے ہیں ۔ ، ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا تھا اور جوان کو حکم کرتے وہی اس کو بجالا تے ۔ ، ومن یزغ، جو حکم عدولی کرے۔ ، منھم ، جنوں میں سے ، عن امرنا، حضرت سلیمان (علیہ السلام) جس کام کا حکم کریں۔ ، نذقہ من عذاب السعیر، آخرت میں ۔ بعض نے کہا کہ ہم اس کو دنیا میں عذاب چکھا دیں گے۔ یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو ان پر مؤکل مقرر کیا ہوا تھا جو جن بھی ان کی طرف سے حکم عدولی کرتا تو فرشتہ اس کو بہت سخت ضرب لگاتا جس سے وہ جل جاتا۔
Ayah 34:13

یَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّكُوْرُ Open ayah 34:13 in the Quran reader

وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں اے داؤد کی اولاد میرا (شکر) کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہیں

یعملون لہ یشاء من محاریب کی تفسیر 13، یعملون لہ مایشاء من محاریب، بغوی نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے بیت المقدس کی تعمیر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے شروع کی تھی ، قدم آدم تعمیر اٹھائی تھی کہ اللہ کی طرف سے وحی آئی : تمہارے ہاتھ سے اس عمارت کی تکمیل کا فیصلہ میں نے نہیں کیا ہے بلکہ تمہارے بیٹے کو جس کا نام سلیمان ہوگا میں بادشاہ بناؤں گا اور اس کے ہاتھ سے اس عمارت کو پورا کراؤں گا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے جانشین ہوئے تو آپ نے بیت المقدس کی تعمیر مکمل کرنی چاہی ۔ چناچہ جنات اور شیاطین کو جمع کرکے ان کی ٹولیاں بنا کر الگ الگ کو موں کی درستی پر مقرر کیا ۔ جنات اور شیاطین کو کانوں سے اکھاڑ کر سنگ مرمر سفید کے لانے کا حکم دیا۔ پتھر آگئے توسنگ مرمر سفید اور دوسری سنگین چٹانوں سے شہر بنانے کا امردیا ۔ شہر کی بارہ فصیلیں بنائیں کیونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل تھے، ہر قبیلہ کو ایک فصیل میں رکھا۔ شہر بن چکا تو تعمیر مسجد کا آغاز کیا جس کی ابتداء اس طرح کی کہ جنات اور شیاطین کے گروہ الگ الگ کردیئے ۔ ایک گروہ کو کانوں سے سونا ، چاندی اور باقوت لانے کا اور سمند رسے چمک دار موتی نکال کر لانے مامور کیا۔ دوسرے گروہ جواہر اور دوسرے (قیمتی) پتھر معدنوں سے اکھاڑکرلا نے کا حکم دیا۔ تیسرے گروہ کو مشک ، عنبر اور دوسری خوشبودار چیزیں لانے پر مقرر کیا۔ اخریہ سب چیزیں اتنی فراہم ہوگئیں کہ جن کی مقدار اور تعداد اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ پھر کار یگروں اور صنعت کاروں کو بلواکر اونچے اونچے پتھر تراشنے اور ان کی تختیاں اور جواہر کو درست کرنے اور موتیوں میں اور یا قوت وغیرہ میں سوراخ کرنے پر مامور کیا۔ مسجد کی تعمیر سفید ، زرد اور سبز سنگ مرمر سے کرائی اور ستون بھی اسی کے قائم کیے ۔ چھت میں قیمتی جواہر کی تختیاں لگائیں اور چھتوں اور دیواروں کا گار ا اور پلاسڑمروارید، یاقوت اور دوسریجواہر کا لگوایا۔ زمین پر فیروزے کی تختیوں کا فرش کیا۔ اس زمانے میں روئے زمین پر اس سے زیادہ پررونق اور چمکیلی عمارت کوئی نہیں تھی ، تاریکی میں وہ چودھویں کے چاند کی طرح چمکتی تھی۔ تعمیر سے فراغت کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے علماء بنی اسرائیل کو طلب فرما کر بتایا کہ میں نے یہ عمارت خالص اللہ کے لیے بنائی ہے۔ اس میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لیے ہے (کوئی اس کا مالک نہیں ) جس روز تعمیر سے فراغت ہوئی، آپ نے اس روزجشن منایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر وبن عاص راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سلیمان نے تعمیر بیت المقدس سے فارغ ہونے کے بعد اپنے رب سے تین چیزوں کی دعا کی اللہ نے دوچیزیں تو عطافرما دیں اور تیسری کے متعلق بھی مجھے امید ہے کہ عطافرمادی ہوگی ۔ سلیمان نے درخواست کی تھی کہ اللہ ان کو فیصلہ کرنے کی قوت عطا فرمادے کہ ان کا فیصلہ اللہ کے فیصلہ کے موافق ہو (یعنی فیصلہ کرنے میں ان سے غلطی نہ ہو) اللہ نے ان کو یہ چیز عطافرمادی۔ انہوں نے اپنے رب سے ایسی حکومت مانگی تھی جوان کے بعد کسی کے لیے سزاوارنہ ہو، اللہ نے یہ چیز بھی ان کو عطافرمادی۔ سلیمان نے دعا کی تھی کہ اس گھر (بیت المقدس ) میں جو شخص آکر دور کعت نماز اداکرے ، اس کو گناہوں سے ایسا پاک کردیا جنات نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے یمن میں پتھر کے بڑے عجیب قلعے بھی تعمیر کیے تھے۔ ، وتما ئیل ، یعنی پیتل، تانبے ، شیشے اور مرمر کی مورتیاں ۔ کہا گیا ہے کہ وہ درندوں اور پر ندوں کی تصویریں بناتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملائکہ ، انبیاء اور نیک لوگوں کی تصویریں مساجد میں بناتے تھے تا کہ ان کو دیکھ کر لوگوں میں عبادت کا جذبہ ترقی کرے، ان کی شریعت میں تصویر کشی جائز تھی۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق آتا ہے کہ وہ مٹی سے ایک پرندہ کی شکل بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو وہ اڑتا ہوا ایک پرندہ بن جاتا اور اللہ کے حکم سے وہ اڑجاتا۔ ، وجفان، بڑے پیالے کو کہتے ہیں یہ جفنہ کی جمع ہے۔ ، کالجواب وقدور، یہ جابیہ کی جمع ہے۔ جابیہ بڑے حوض کو کہتے ہیں ۔ یہ لفظ جبی الخراج سے ماخوذ ہے۔ بڑے حوض کو جابیہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس میں پانی آکر جمع ہوتا ہے، یہ ان صفات میں سے ہے جن کے موصوف کا ذکر نہیں کیا جاتا ۔ صفات ہی کو موصوف کے قائم مقام قرار دے لیاجاتا ہے ۔ ایک پیالہ پر ایک ہزار آدمی بیٹھ کر کھایا کر تھے تھے یعنی پیالہ اتنا بڑا تھا کہ ایک پیالے کا کھانا ہزار آدمیوں کے لیے کافی ہوتا تھا ۔ ، راسیات، اپنی جگہ جمی ہوئی ان دیگوں کے پائے لگے ہوئے تھے اور وہ اتنی بڑی تھیں کہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتی تھیں نہ ان کو جو ل ہے سے اتاراجا سکتا تھا نہ خالی کیا جاسکتا تھا، زینہ لگا کر ان پر چڑھا جاتا تھا ، یہ دیگیں یمن میں تھیں۔ ، اعملو ا ال داؤد شکر ا، ہم نے اہل داؤد کے گھر والوں کو کہا کہ تم بھی شکرادا کرو۔ ، وقلیل من عبادی الشکور، جو نیک اعمال کرتے ہوں اور اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہوں۔ بعض نے کہا کہ آل داؤد سے مراد خود حضرت داؤد (علیہ السلام) ہیں۔ بعض نے کہا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ جعفر بن سلیمان نے کہا کہ میں نے ثابت سے سنا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنے اور گھر والوں کی عبادت کے لیے رات اور دن کے حصے مقرر کردیئے تھے۔ پس دن رات میں کوئی ساعت ایسی نہ ہوتی تھی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے گھر کوئی نہ کوئی عبادت میں مشغول نہ ہو۔
Ayah 34:14

فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْعَذَابِ الْمُهِیْنِؕ Open ayah 34:14 in the Quran reader

پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا جب عصا گرپڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا واقعہ 14، فلما قضینا علیہ الموت ، پھر جب ہم نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا فیصلہ کرلیا ۔ بغوی نے اس سے لکھا ہے، اہل علم کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان مسجد بیت المقدس کے اندر مہینہ دو مہینہ ، سال دو سال یا اس سے کم وبیش مدت تک گوشہ نشین ہوجاتے تھے، وہیں آپ کا کھانا پانی پہنچا دیا جاتا تھا ۔ ایک بار حسب معمول بیت المقدس کے اندر تھے کہ آپ کی وفات ہوگئی جس کے قصہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ روز انہ صبح کے وقت بیت المقدس کی محراب میں ایک بوٹی نمودار ہوتی تھی آپ اس سے اس کا نام دریافت کرتے تھے، وہ اپنا نام بتادیتی تھی، آپ اس سے اس کے خواص دریافت کرتے تھے تو وہ اپنے فائدے بیان کردیتی تھی ، آپ اس کو کٹوالیتے تھے، پھر اگر وہ کسی پودے کی شاخ ہوتی تو اس کو (کسی باغ میں) لگوادیتے تھے اور اگر دوا کی بوٹی ہوتی تو لکھ دیتے تھے ۔ ایک روز درخت خروبہ اگا۔ حضرت نے اس سے دریافت کیا تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : یہ تو ہوگی نہیں کہ میری زندگی میں اللہ اس مسجد کو برباد کردے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ (پہلے) میری موت (پھر) بیت المقدس کی بربادی تیری وجہ سے ہوگی ۔ پھر آپ نے اس کو ایک اچھے باغ میں لگو ادیا اور دعا کی : اے اللہ ! میری موت کو جنات سے پوشیدہ رکھنا تا کہ انسانوں کو معلوم ہوجائے کہ غیب دان جنات نہیں ہوتے ۔ جنات آدمیوں سے کہاکر تے تھے کہ ہم غیب کی باتیں جان لیتے ہیں اور آنے والے دن میں جو کچھ ہوگا اس سے بھی واقف ہیں۔ اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) محراب (عبادت خانہ) میں چلے گئے اور لاٹھی پر سہارالگائے کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے۔ اسی حالت میں کھڑے کھڑے آپ کی وفات ہوگئی ۔ محراب کے اندر آگے پیچھے کچھ روشن دان تھے جن میں سے جنات آپ کو کھڑادیکھ کر خیال کرتے تھے کہ آپ نماز میں مشغول ہیں، اس لیے جو سخت محنت کا کام آپ کی زندگی میں وہ کرتے تھے، ان میں آپ کی وفات کے بعد بھی سرگرم رہے اور چونکہ آپ کی عادت ہی تھی کہ نماز میں مشغول ہونے کے بعد (ایک مدت تک ) باہر نہیں نکلتے تھے ۔ اس لیے آپ کے برآمدنہ ہونے سے جنات کو آپ کی وفات کا کوئی شبہ بھی نہیں ہوا۔ اس طرح وفات کے بعد ایک سال گزر گیا اور جنات برابر کام میں مشغول رہے۔ آخردیمک نے لاٹھی کو کھالیا اور آپ کی میت نیچے گرپڑی اور جنات کو آپ کی وفات کا علم ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جنات نے دیمک کا شکر یہ ادا کیا کہ اس کی وجہ سے ان کو سخت مشقتوں سے آزادی ملی ۔ اب بھی جنات پانی اور مٹی لکڑی کے کھوکھلے حصہ میں (دیمک کے لیے ) ڈالتے ہیں۔ ، مادلھم علی موتہ الا دابۃ الا رض، وہ زمین جس میں، تاکل منساتہ، لاٹھی کا حصہ زمین میں پوشیدہ تھا ۔ قراء اہل مدینہ اور ابوعمرونے ، منساتہ ، بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور اس میں دولغات ہیں ۔ ابن عامر نے ہمزہ کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ اصل میں ، نسات الغنم ، سے ہے ۔ میں نے بکریوں کو ڈانٹا اور ہنکا یا۔ ، فلما خر، جب وہ زمین پر گرگئے ۔ ، تبینت الجن ، جنوں کو اس وقت علم ہوا اور یقین ہوا۔ ، ان لو کو نوایعلمون الغیب مالبثوافی العذاب المھین ، جب سلیمان (علیہ السلام) گرپڑے اور جنوں کو سخت محنت ومشقت میں اتنی مدت تک نہ پڑے رہتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا جنوں کو علم نہیں تھا۔ اس لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق کام کرتے رہے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے جنات اپنی غیب دانی کا دعوی کر کے لوگوں کو دھوکادیا کرتے تھے لیکن جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا جنات کو علم نہ ہوسکا تو لوگوں کے لیے یہ بات واضح ہوگئی کہ جنات غیب داں نہیں ہوتے۔ آیت کا یہ مطلب حضرت ابن مسعود ؓ کی قرأت کے مطابق ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں آیا ہے :، تبینت الا نس لو کانوا یعلمون (ای الجن) مالبثوافی العذاب المھین، بعض اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات سے بےعلم رہنے کی وجہ سے جنوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اگر غیب داں ہوتے تو مشقت میں پڑے نہ رہتے ۔ یہ مطلب بعید ازفہم ہے کیونکہ جنات کو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ غیب داں نہیں ہیں ، آدمیوں کو دھوکادینے کے لیے غیب دانی کا دعوی کرتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اہل تاریخ نے بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی کل عمر 53 سال ہوئی ۔ 13 سال کی عمر میں باپ کے جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی ۔ چارسال حکومت کو گزرے تھے کہ بیت المقدس کی تعمیر کا آغاز کیا۔
Ayah 34:15

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 34:15 in the Quran reader

(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور ایک بائیں طرف اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار

تفسیر 15۔ ، لقد کان لسبا فی مسکنھم ایۃ، (قوم ) سبا کے لیے ان کے مقام سکونت میں (ہماری قدرت کاملہ کی ) نشانی موجود تھی (جس کا شکر اداکرنا ان پر واجب تھا) ۔ قوم سباکون تھی فردہ سلیک غطفی نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے سبا کے متعلق بتایئے کہ کیا وہ کوئی مرد تھا، یا عورت یا کسی مقام کا نام تھا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : وہ ایک عربی مرد تھا جس کے دس بیٹے ہوئے ، چھ دائیں طرف (یعنی یمن) کو چلے گئے اور چار بائیں طرف (یعنی شام) کو ۔ جو چھ یمن کو گئے تھے، ان کے نام یہ تھے : کندہ ، اشعر، ازد، مدحج ، انمار، حمیر۔ ایک شخص نے کہا : انما رکون ؟ فرمایا : جن میں سے خشعم اور بجیلہ ہیں (وہی انمار) جو چار شام کو گئے تھے وہ یہ تھے : عاملہ جذام ، لجم، غسان ۔ امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے مرفوعا اسی طرح بیان کیا ہے : سبا، یشجب بیٹا اور یشجب ، یعرب کا اور یعرب ، قحطان کا ۔ ، آیۃ، یہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ پھر آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : ، جنتا، دو باغ جنت کے ہیں۔ ، عن یمین و شمال، وادی کے دائیں بائیں طرف۔ یعنی شہر کے دائیں بائیں جانب۔ اس وادی کو باغات کی دونوں قطاروں نے ڈھانپ کررکھا ہوا تھا ۔ ، کلوا، اور کہا گیا ان سے کہ کھاؤ۔ ، من رزق ربکم ، ان دونوں باغوں کے پھلوں سے ۔ سیدی اور مقاتل کا بیان ہے کہ اگر کوئی عورت سرپرٹوکرار کھے باغ کی قطاروں کے درمیان سے گزرتی تھی تو خود بخودورختوں سے ٹوٹ کر اتنے پھل گرتے کہ اس کا ٹو کر ابھر جاتا تھا، ہاتھ سے توڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ، واشکر ولہ، جو اللہ تعالیٰ نے نعمتوں کے بدلے میں رزق عطا کیا ۔ معنی یہ ہوگا کہ اس کی خوب اطاعت کرو۔ ، بلد ۃ طیبہ، پاکیزہ شہرجہاں سے میلوں کی کثرت ہوتی تھی اور زمین زرخیز تھی ، شوریلی نہیں تھی۔ ابن زید نے کہا کہ ان کے شہر میں نہ مچھر تھے نہ مکھیاں اور نہ پسونہ سانپ اور اگر کسی شخص کے کپڑوں میں جوئیں ہوتیں اور اس شہر کی طرف سے گزرجاتاتوہوا کی پاکیز گی کی وجہ سے ساری جوئیں مرجاتی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان ، بلدۃ طیبۃ۔ ، ورب غفور، مقاتل نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر خدا کے عطا کردہ رزق کا تم شکرادا کروگے تو اللہ تمہارے گناہ معاف فرمادے گا۔
Ayah 34:16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ Open ayah 34:16 in the Quran reader

تو انہوں نے (شکر گزاری سے) منہ پھیرلیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انھیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دئیے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں

16، فاعرضوا، وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ اللہ نے قوم سبا کی ہدایت کے لیے تیرہ پیغمبر بھیجے اور ہر پیغمبر نے ان کو اللہ کی نعمتیں یا ددلائیں اور ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی نصیحت کی اور اللہ کے فرمانبردار ہونے کی دعوت دی لیکن انہوں نے اس دعوت کی روگردانی کی۔ ، فار سلنا علھم سیل العرم، عرم جمع عرمہ کی ہے وہ جگہ جہاں پانی جمع ہوتا ہے ۔ ابن العربی نے کہا کہ عرم بند کو کہتے ہیں جس کے گردپانی روکنے باڑنہ ہو۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر سرخ پانی چھوڑدیا تھا۔ عرم کی وضاحت اور مختلف تفسیریں بعض نے عرم کا ترجمہ وادی کیا ہے ۔ یہ لفظ، عرامۃ م، سے مشتق ہے۔ ، عرامۃ ، کا معنی ہے شدت ، قوت ۔ بعض نے کہا (رح) : عرم کا معنی ہے پانی کو روکنے کا بند۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرم جنگل چوہے کو کہتے ہیں۔ بلقیس نے پانی کو روک کر جمع رکھنے کے لیے ایک بندباند ھا تھا ، جنگل چوہے نے اس میں سوراخ کردیا تھا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے :، عرمۃ، بروزن ، فرحۃ، وہ بند جو وادی کا پانی روکنے کے لیے باندھا جائے۔ ، عرمۃ، کی عرم آتی ہے یا یوں کہاجائے کہ عرم ہے تو جمع لیکن اس کا واحد کا صیغہ (اس لفظ) سے نہیں آتا ۔ (جیسے نسوۃ اور نساء جمع ہے لیکن اس کا واحد اس لفظ سے نہیں آتا بلکہ ، امرأۃ، آتا ہے) ، یاعرم، کا معنی ہے وہ رکاوٹیں اور بندشیس جو وادیوں میں (مختلف مقامات پر) بنادی جاتی ہیں۔ ، یاعرم ، کا معنی ہے نرموش دشتی یا سخت بارش یاوادی، سیل العرم ، کی تفسیر ہر معنی کے ساتھ کی گئی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس اور وہب وغیرہ نے بیان کیا کہ عرم ایک بند تھا جو بلقیس نے بنوایا تھا۔ بات یہ تھی کہ وادی کے پانی پر قوم سباوالے آپس میں لڑتے تھے ۔ بلقیس نے (دفع شر کے لیے ) ایک عرم یعنی بندبنوانے کا حکم دیا تھا ۔ حمیری لغت میں عرم کا معنی بند ہے۔ چناچہ پتھروں سے اور تارکول سے دو پہاڑوں کے درمیان ایک بندبنا دیا گیا اور پانی نکلنے کی اس حوض میں بارہ موریاں بنائی گئیں، ہر موری ایک دریا کے دہا نے پر کھلتی تھی۔ ضرورت کے وقت جس موری کو چاہتے تھے کھول لیتے تھے اور جب سینچائی کی ضرورت پوری ہوجاتی تھی تو اس کو بند کردیتے تھے۔ بارش کا پانی یمن کی ساری وادیوں میں یہاں جمع ہوجاتا تھا اور بند کے اندرہی رک جاتا تھا ۔ اس وقت بلقیس باہر کی کھڑکی کھلواتی تھی، کھڑکی سے پانی نکل کر حوض میں آجاتا تھا پھر ضرورت ہوتی تو درمیانی کھڑکی بھی کھول دی جاتی ۔ پھر اگر ضرورت ہوتی تو نچلادریچہ بھی کھول دیاجاتا ۔ اس طرح بند کے اندرکا پانی ختم نہ ہونے پاتا کہ دوسرے سال کی برسات کا پانی آکر جمع ہونے لگتا ۔ یہ بندطویل مدت تک قائم رہا لیکن جب اس قوم نے اللہ سے سرکشی اور ناشکر ی کی تو اللہ نے ایک جنگلی چوہے کو جس کو گھونس کہاجاتا ہے ، ان کی تباہی پر مسلط کردیا۔ گھونس نے بند کے نچلے حصہ میں سوارخ کردیا ، پانی پھٹ پڑا اور سارے کے سارے باغ ڈوب گئے اور زمین تباہ ہوگئی۔ وہب نے کہا : ان لوگوں کو کسی کاہن نجومی نے بتادیا تھا کہ اس بند کو ایک چوہا برباد کردے گا، اس لیے ہر دوپتھروں کی دراڑ (شگاف) کے پاس ایک بلی باندھ دی تھی لیکن جب بربادی کا وقت آیا اور اللہ نے ان کو تباہ کرنا چاہاتو ایک بڑاسرخ چوہا آیا اور بلی پر چھپٹا، بلی پیچھے دبکی اور اس شگاف میں داخل ہوگئی جو قریب ہی موجود تھا اور بند میں گھس گئی ۔ چوہا (بلی کے تعاقب میں ) بند کو کھودنے لگا۔ اوپر پانی کے ریلے کی وجہ سے بند کمزور ہوتا گیا اور کسی کو اس کا علم نہ ہونے پایا۔ آخرسیلاب آگیا اور شگاف میں گھس کر بند کو پھاڑدیا۔ پانی بہہ نکلا اور ان کے سارے مال ومتاع کو غرق کردیا ، گھرریت میں دفن ہوگئے ۔ غرض سب ڈوب گئے اور کچھ ادھر منتشر ہوگئے ۔ قوم سبا کی بربادی ایک مثال بن گئی۔ عرب کسی قوم کی تباہی کو بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں :، صاربنو فلان ایدی سبا، (یا) ، ایادی سبا، ، وبد لنھم بجنتیھم جنتین ذواتی اکل خمط واثل وشیء من سد رقلیل ، اور ہم نے ان کو دونوں باغوں کے بدلہ میں دو باغ دوسرے دیئے جو بدمزہ پھل اور جھاؤاور تھوڑی سی بیری والے تھے۔ ، اکل ، صاحب قاموس نے لکھا ہے :، اکل بالضم ، اور ، اکل بضمتین ، پھل اور رزق ۔ ، خمط اکل، کی صفت ہے، خمط کا معنی ہے ترش یا تلخ ۔ مراداراک کا پھل یا اراک کا درخت۔ خمط ہر اس بوٹی کو کہتے ہیں جس کا مزہ تلخ ہو۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے : خمط ہر ترش یا تلخ چیز، ہر وہ بوٹی جس کے مزہ میں تلخ ہو اور ایک درخت (بھی ہوتا ہے) جس کی بو، بیری کی طرح ہوتی ہے اور ایک قاتل درخت بھی ہوتا ہے اور ہر اس درخت کو بھی کہتے ہیں جس میں کانٹے نہ ہوں اور اراک کے پھل کو بھی خمط کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک درخت اراک کو بھی خمط کہاجاتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے :، اکل، پھل ، خمط اراک (پیلو) اور پیلوکا پھل جس کو بریرکہا جاتا ہے۔ اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔ مبر دکاقول ہے : خمط ہر وہ بوٹی ہے جس کا مزہ تلخی لیے ہوئے ہو۔ ابن اعرابی کا قول ہے :، خمط، ایک درخت کا پھل ہوتا ہے، قسوۃ الصمع ، کہتے ہیں، یہ خشخاص کی شکل ہوتا ہے جو جھڑجاتا ہے ، کسی کام نہیں آتا ۔ ، اثل ، جھاؤیا جھاؤ نماایک درخت جو جھاؤ سے بڑا ہوتا ہے۔ ، قلیل ، سدر ، کی صفت ہے۔ چونکہ بیر ایک عمدہ پھل ہوتا ہے جس کا مزہ عمدہ ہوتا ہے اس لیے اس کو باغوں میں لگایا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کی قلت کی صراحت کی ۔ بغوی نے کہا : یہ (باغوں میں لگائی جانے والی بیری) مراد نہیں بلکہ جنگلی بیری مراد ہے جو کسی کام نہیں آتی ، نہ اس کے پتے کسی کام کے ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا پھل دار باغوں کے عوض بیکار درختوں کے جھنڈکو بھی صرف ہم شکل ہونے کی بناء پر، جنتین ، فرمایا اور اس سے استہزاء بھی مقصود ہے۔
Ayah 34:17

ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ Open ayah 34:17 in the Quran reader

یہ ہم نے ان کی ناشکری کی ان کو سزا دی اور ہم سزا ناشکرے کو ہی دیا کرتے ہیں

تفسیر 17۔ ، ذلک جزیناھم بما کفروا، اسی طرح ہم نے کے کفر کا بدلہ ان کو دیا۔ ، وھل نجازی الا الکفور، حمزہ ، کسائی ، حفص ، یعقوب، ھل نجازی ، نمون کے ساتھ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ ۔ ، الکفور، منصوب ہے۔ ، ذلک جزیناھم، کی وجہ سے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ اور زا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، الکفور، کو مرفوع پڑھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا ہم اس کو بدلہ دیں جیسا کافروں کو دیتے ہیں ۔ مجاہد کا قول ہے وہ بدلہ دے گا یعنی سزادے گا۔ جیسا کہ عقوبت میں لفظ یجازی بولا جاتا ہے اور ثواب کے موقع پر یجزی بولا جاتا ہے ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ کیا اس کے برے اعمال کی پوچھ ہوگی جب کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی ہوگی۔ فراء کا قول ہے کہ مؤمن کو جزادی جاتی ہے اور اس کے اعمال سے ثواب کو کم نہیں کیا جاتا اور اس کے برے اعمال کو بخش دیاجاتا ہے۔
Ayah 34:18

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اور (شام میں کی) ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت دی تھی (ایک دوسرے کے متصل) دیہات بنائے تھے جو سامنے نظر آتے تھے اور ان میں آمدورفت کا اندازہ مقرر کردیا تھا کہ رات دن بےخوف و خطر چلتے رہو

18، وجعلنا بینھم وبین القری التی بارکنا فیھا، یعنی ملک شام کی بستیاں جہاں بکثرت دریا اور درخت تھے اور وہاں کے باشندوں کو وسعت رزق حاصل تھی ۔ ، قری ظاھرۃ، یعنی وہ بستیاں قریب قریب تھیں ۔ ایک دوسرے کے سامنے پہلی کے بعد دوسری نذرآجاتی تھی ۔ ان بستیوں میں چلنے کا ایک خاص انداز ہم نے مقرر کردیا تھا۔ رات ایک ہی بستی میں گزری اور دوپہر کو دوسری بستی میں پہنچ گئے ، کھانے پینے کی چیزیں ساتھ لینے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ بستیاں سبا سے شام تک تھیں۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ یہ دیہات چارہزار سات سومیل مسلسل متصل تھے (وقدد نافیھا السیر) ہم نے ان بستیوں کے درمیان کی مسافت کو متعین کردیا ان کی مقدارصبح سے شام تک چلنے کی مقداریا آدھا یوم چلنے کی مقدارتک ہے جب آدھا دن سفر کرتے ہیں تو دوسری بستی کے درختوں اور چشموں تک پہنچ جاتے ہیں۔ قتادہ نے کہا کہ عورت تکلاہاتھ میں لے کر (خالی) ٹوکرا سرپررکھے راستہ سے گزرتی تھی اور آدھے راستے تک نہیں پہنچتی تھی کہ (راستہ کے دونوں کناروں کے درختوں سے اتنے پھل ٹوٹ کر ٹوکرے میں جمع ہوجاتے تھے کہ) ٹو کر اپھلوں سے بھر جاتا تھا۔ یمن اور شام کے درمیان سارے راستے کی یہی کیفیت تھی۔ ، سیروافیھا، یعنی ہم نے ان کو اجازت دے دی تھی اور کہہ دیا تھا ، یا قول سے مراد قول حالی یعنی اس راستہ کا حال ہی یہ تھا۔ ، لیا لی وایاما، رات دن یعنی جب چاہو۔ ، اٰمنین، امن کے ساتھ ۔ نہ دشمن کا کوئی خوف نہ کسی درندے کا ڈر، نہ بھوکے پیاسے رہنے کا اندیشہ۔ اہل سبا اپنی خوش عیشی پر مغرور ہوگئے، بجائے شکرادا کرنے کے سرکش ہوگئے اور کہنے لگے :(ایسے پھلوں کا کیا مزہ جن کی اتنی کثرت ہے) اگر ہمارے باغوں کی درمیانی مسافت لمبی ہوجائے (اور سفر میں دشواری ہو) تو ہمارے لیے زیادہ مناسب ہوگا۔
Ayah 34:19

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں کے بعد (اور طول) پیدا کر دے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کر کے) ان کے افسانے بنا دئیے اور انھیں بالکل منتشر کردیا اس میں ہر صابر و شاکر کے لئے نشانیاں ہیں

19، فقالواربنا باعد بین اسفارنا، کہنے لگے : اے ہمارے رب ! ہمارے سفروں کی دوری بڑھا دے۔ یعنی یمن اور شام کے درمیان بیابان اور چنیل میدان بنادے تاکہ زادراہ ساتھ لے کر اونٹوں پر سوار ہوکر سفر کو جائیں اور (مشقت سفر کے بعد جو مال خرید کرلائیں اس میں) ہم کو تجارتی فائدہ ہو اور ہم دوسروں پر فخر کرسکیں (کہ بڑی بڑی مشقتیں اور صعوبتیں اٹھا کر ملک شام تک ہو آئے ہیں) اللہ نے ان کی یہ دعا بہت جلد قبول فرمالی۔ مجاہد کا قول ہے کہ انہوں نے اس نعمت کو عیاشی میں بدل دیا اور شکر کرنے سے سرکش ہوگئے ۔ ابن کثیر ابو عمرونے تشدید کے ساتھ پڑھا اور دوسرے قراء نے باعدالف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ دعا اور سوال کی وجہ سے ہے۔ ، ربنا، باء کے رفع کے ساتھ (باعد) ، فجعلناھم احادیث، عبرت ہے جوان کے بعد آئینگے اور انکے اعمال اور ان کے اقوال کا ذکر کریں گے۔ ، ومزقنا ھم کل ممزق، یعنی ان کو مختلف ملکوں میں پر اگندہ کردیا۔ شعبی کا بیان ہے کہ جب ان کی بستیاں ڈوب گئیں تو لوگ مختلف ملکوں میں منتشرہوگئے ۔ عنان شام میں آکر آباد ہوگئے از وعمان کی طرف ، خزاعہ تہامہ کی طرف ، جزیمہ عراق کی جانب اور اوس و خزرج یعنی بن انماریہ یثرب کی طرف چلے گئے ۔ مدینہ میں سب سے پہلے عمروبن انماری آیا، یہ اوس اور خزرج کا جد اعلیٰ تھا۔ ، ان فی ذلک لایات، عبرت اور دلالت ہے۔ ، لکل صبار، گنا ہوں سے اپنے نفس کو روکنے والا مصیبتوں پر صبر کرنے والا ۔ ، شکور، اور اس کی نعمتوں پر شکر کرنے والا۔ مقاتل نے کہا صبار اور شکور سے اس امت کے مؤ من مراد ہیں جو مصیبتوں پر صبر کرنے والے اور اللہ کی نعمتوں کے بڑے شکر گزار ہیں۔ مطرف کا بیان ہے کہ مؤمن وہ ہے جب اس کو عطا کیا جائے تو شکر اداکرے اور جب آزمایاجائے تو اس پر صبر کرے۔
Ayah 34:20

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اسکے پیچھے چل پڑے

تفسیر 20۔ ، ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ، اہل کوفہ نے (صدق) تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابلیس نے ان لوگوں کے بارے میں اپناگمان صحیح پایا۔ ، فبعزتک لا غوینھم اجمعین، اس نے ان کے گمان کو سچا جانا ۔ دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی اہل سبا میں سے جو کافر تھے ، ان کے متعلق شیطان کا گمان صحیح نکلا۔ مجاہد کا قول ہے کہ اس ضمیر کا مرجع عام انسانوں کی طرف راجع ہے، ابلیس نے اللہ کے سامنے اپنا یہ گمان ظاہر کیا تھا کہ، فبعزتک لاغوینھم اجمعن، تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کروں گا، یہ بھی ابلیس نے کہا تھا۔ ، ولا تجد اکثرھم شاکرین ، تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہیں پائے گا۔ چناچہ میں نے اپنا گمان سچ کردکھا یایاصحیح پایا اور سوائے مؤ منین کے سب اس کی راہ پر لگ گئے۔ ، فاتبعوہ الا فریقا من المؤمنین، ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ جب ابلیس نے مہلت مانگی اور اللہ نے اس کو مہلت دے دی تو اس نے کہا، لاضلنھم، میں ان کو ضرورگمراہ کردوں گا، لا غوینھم، میں ان کو ضرور کج راہ بنادوں گا۔ لیکن ابلیس کو اس بات کے کہنے کے وقت یہ یقین نہ تھا کہ اس کی بات پوری بھی ہوسکے گی، صرف گمان تھا۔ لیکن اہل سبا، جب اس کی راہ پر لگ لیے اور اس کے کہنے پرچلنے لگے تو اس کا گمان صحیح ثابت ہوگیا۔ ، من المؤمنین، میں ، المؤمنین، سے مراد تو قوم سبا کا ایماندار گروہ ہے ، یا عام انسانوں میں سے جو مؤمنین ہیں وہ مراد ہیں ۔ سدی نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اصل دین میں کسی مؤمن نے شیطان کا اتباع نہیں کیا۔ اللہ نے فرمادیا تھا :، ان عبادی لیس لک علیھم سلطان، یعنی میرے (مؤمن) بندوں پر تیراتسلط نہ ہوگا ۔ اس تفسیر پر ، من المؤمنین، میں من بیا نیہ ہوگا۔ بعض کے نزدیک ، من، تبعیضیہ ہے یعنی بعض مؤمنوں کا گروہ مستثنی ہے جو اللہ کے اطاعت گزار ہیں ، نافرمان نہیں ہیں۔
Ayah 34:21

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

21، وما کان لہ علیھم من سلطان ، ان لوگوں پر جن پر ابلیس کا تسلط ہے وہ محض ، الا لنعلم من یؤمن بالا خرۃ ممن ھو منھا فی شک، مگر یہ کہ ہم جان لیں یعنی الگ الگ چھانٹ دیں مؤمن کو کافر سے جدا کردیں ۔ مراد اس علم کا وقوع اور ظہور ہونا اور یہ سب کچھ اس کو کچھ اس کو اپنے علم غیب سے معلوم ہے۔
Ayah 34:22

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے

22، قل ، اے محمد ! کفار مکہ کو کہہ دیجئے، ادھوا الذین زعمتم ، کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے۔ ، من دون اللہ ، تم اللہ کے سوا ان کو پکارکردیکھوتا کہ وہ تمہارے سے اس جوع کی تکلیف کو دور کردے۔ پھر ان کے وصف کو بیان کرتے ہوئے فرمایا، لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموات ولا الارض، نہ خیر کے مالک اور نہ ہی شر کے مالک ، ومالھم، اور نہیں ہے ان معبودوں کے پاس، فیھما، زمین و آسمان میں ، من شرک ، ان کا کوئی شریک ، ومالہ ، اور نہیں ہے اللہ کے سوا، منھم من ظھیر، کوئی مددگار۔
Ayah 34:23

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا) ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

تفسیر 23۔ ، ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ، اللہ تعالیٰ جس کو شفاعت کرنے کی اجازت دیدیں گے یہ ان کی تکذیب کی بناء پر کیا کیونکہ کافر لوگ یہی کہتے تھے کہ یہ ہمارے شفیع ہیں جو اللہ کے ہاں شفاعت کریں گے اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جس کو اللہ رب العزت اجازت دے گا وہی سفارش کرسکے گا۔ ابوعمرو ، حمزہ کسائی نے ، اذن، ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، حتی اذا فزع عن قلوبھم، ابن عامر یعقوب نے فاء کے فتحہ کے ساتھ اور زا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی ان سے خوف کو دور کردے گا اور ان کے دلوں سے ڈر بھی نکال دے گا۔ جو حضرات اس صفت کے ساتھ متصف ہیں اس کے متعلق آئمہ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض نے کہا کہ جب ان کو شفاعت کی اجازت مل جائے گی تو اللہ کا کلام سننے سے ان پر غشی کی کیفیت طاری ہوجائے گی ، وہ اللہ کی جلالت شان اور عظمت سے خوفزدہ ہوجائیں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جب آسمان میں کوئی حکم جاری فرماتا ہے تو عاجزی سے ملائکہ اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں ، جیسے پتھر کی چٹان پر کوئی زنجیر ماری جائے ، پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دورکردی جاتی ہے توباہم پوچھتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے ملائکہ فرماتے ہیں ، حق فرمایا اور وہ عالیشان سب سے بڑا ہے۔ حضرت نو اس بن سمعان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ کسی امرکا ارادہ کرتا ہے تو وہ وحی کے ذریعہ سے کلام کرتا ہے جس کو سن کر اللہ کے خوف سے آسمان لرزجاتے ہیں۔ جب آسمانوں والے اس کلام کو سنتے ہیں تو بےہوش ہوجاتے ہیں اور سب سجدہ میں گرپڑتے ہیں ۔ سب سے پہلے جبرئیل (علیہ السلام) (سجدہ سے) سراٹھا تے ہیں اللہ جو کچھ چاہتا ہے ، ان کو وحی کلامی کرتا ہے۔ پھر جبرئیل ملائکہ کی طرف سے گزرتے ہیں اور جس آسمان سے گزرتے ہیں وہاں کے ملائکہ ان سے دریافت کرتے ہیں، ہمارے رب نے کیا فرمایا ؟ جبرئیل (علیہ السلام) جواب دیتے ہیں : اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حق اور اللہ عالیشان ، بڑی عظمت والا ہے۔ یہ سن کر سب ملائکہ وہی بات کہتے ہیں جو جبرئیل کہتے ہیں۔ آخرجہاں وحی پہنچانے کا حکم اللہ نے دیا ہوتا ہے ، جبرئیل وہاں وحی پہنچا دیتے ہیں۔ ، قالوا، یعنی اذن شفاعت حاصل ہونے سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ دورہونے کے بعد انہوں نے کہا :، ماذاقال ربکم ، یعنی شفاعت کے متعلق تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ ، قالوا، یعنی بعض نے بعض سے کہا، الحق، یعنی اس نے حق فرمایا۔ یعنی شفاعت کی اجازت جن مؤمنوں کے متعلق دی گئی ہے وہ حق ہے۔ ، وھو العلی الکبیر، وہی بڑے بلند مرتبہ اور بزرگی والا ہے ، کوئی مقرب فرشتہ یانبی مرسل بغیر اذن کے اس کے سامنے بول نہیں سکتا ۔ بغوی نے لکھا : فرشتے قیامت برپا ہوجانے کے خوف سے گھبراجائیں گے۔ مقاتل ، سیدی اور کلبی نے کہا : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور رسول اللہ ﷺ کی درمیانی مدت 550 برس اور بقول بعض 600 برس کی تھی۔ یہ انقطاع وحی کا زمانہ (فترۃ) تھا۔ اس مدت میں ملائکہ نے کوئی وحی کی آواز نہیں سنی ۔ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اور فرشتوں نے وحی کی آوازسنی تو انہوں نے خیال کیا کہ قیامت آگئی ہے کیونکہ آسمان والوں کو اس کا علم تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعث قیامت کی علامت ہے۔ پس جب وحی کی آوازسنی تو قیامت برپا ہونے کے خوف سے بیہوش ہوگئے ۔ جب ابتداء وحی کے موقع پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) (بارگائہ الٰہی سے) نیچے اترے تو جس آسمان کی طرف سے گزرے تو وہاں کے باشندوں نے سراوپر اٹھائے اور ایک نے دوسرے سے پوچھا : تمہارے رب کیا فرمایا ؟ دوسروں نے جواب دیا : حق فرمایا۔ حق سے مراد وحی ہے۔
Ayahs 34:24–26

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

پوچھو کہ تم کو آسمانوں اور زمین سے کون رزق دیتا ہے ؟ کہو کہ خدا اور ہم یا تم (یا تو) سیدھے راستے پر ہیں یا صریح گمراہی میں

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

کہہ دو کہ نہ ہمارے گناہوں کی تم سے پرسش ہوگی اور نہ تمہارے اعمال کی ہم سے پرسش ہوگی

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہمارا پروردگار ہم کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے گا اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا اور صاحب علم ہے

تفسیر 24۔ ، قل من یرزقکم من فی السموات والارض ، آسمانوں سے بصورت بارش اور زمین سے بصورت سبزہ کون رزق عطافرماتا ہے۔ ، قل اللہ، وہ یہی کہیں گے کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ ، وانا اوایا کم لعلی ھدی اوفی ضلال مبین، یہ شک کے طریق پر نہیں ہے بلکہ یہ بطور انصاف کے ہے ۔ جیسا کہ کہنے والا دوسرے کو کہتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ یہ شخص سچا ہے اور اس کا دوست جھوٹا ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ نہیں تم ایک امر پر متحد بلکہ تم میں سے ایک فریق ہدایت یافتہ ہے اور دوسراگمراہ ہے۔ پس جس نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہا اور جس نے مخالفت کی وہ گمراہی میں پڑارہا۔ ان کی تکذیب کو ذکر کیا اس کی تکذیب کی صراحت کئے بغیر۔ بعض نے کہا کہ گویا کلام یوں ہے ہم اور تم یا تو ہدایت پر ہیں یا گمراہی پر یعنی ہم تو ہدایت پر ہیں اور تم گمراہی پر۔
Ayah 34:27

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

کہو کہ مجھے وہ لوگ تو دکھاؤ جن کو تم نے شریک (خدا) بنا کر اسکے ساتھ ملا رکھا ہے کوئی نہیں بلکہ وہی (اکیلا) خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

27، قل ارونی الذین الحقتم بہ شرکائ، کسی کی وجہ سے تم نے اپنے معبودوں کو کس صفت کی وجہ سے شریک بنارکھا ہے۔ کیا وہ تمہیں پیدا کرتے ہیں اور کیا وہ تمہیں رزق عطا کرتے ہیں۔ ، کلا، ہرگز نہ تو وہ پیدا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ رزق دیتے ہیں۔ ، بل ھو اللہ العزیز، وہ اپنے حکم پر غالب ہے۔ ، الحکیم ، اپنی مخلوق کی تدبیر میں کون اس کی باوشاہت میں شریک ہوسکتا ہے۔
Ayah 34:28

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور (اے محمد ﷺ ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

28، وماارسلناک الا کافۃ للناس ، سب لوگوں کے لیے خواہ وہ سفید ہوں یاکالے گورے ۔ ، بشیرا ونذیرا، خوش خبری دینے والے وا ڈرانے والے ۔ ، ولکن اکثر الناس لا یعلمون، حضرت جابرؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نبی کو ایک خاص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے اور میری بعث تمام لوگوں کے لیے ہے یا، کافۃ، میں تاء مبالغہ کے لیے ہو۔ یعنی ہم نے آپ کو ایسی حالت میں بھیجا کہ آپ سب لوگوں کو اپنے دائرئہ رسالت میں جمع کرنے والے ہیں۔
Ayah 34:29

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ (قیامت کا) وعدہ کب وقوع میں آئے گا ؟

29، ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صادقین ، مراد اس سے قیامت کا دن ہے۔
Ayah 34:30

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے نہ ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے

30، قل لکم میعاد یوم لا تستا خرون عنہ ساعۃ ولا تستقدمون، وہ قیامت پر کسی چیز کو مقد م نہیں کرسکتے۔ ضحاک کا قول ہے کہ موت کا دن ان سے نہ مؤخرہوگا اور نہ ہی پہلے یعنی نہ تو ان کی زندگی طویل کی جائے گی اور نہ ہی ذرہ برابر کم۔
Ayah 34:31

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو اس سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے کو ردوکد کر رہے ہوں گے جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے

31، وقال الذین کفروالن نؤمن بھذا القرآن ولا بالذی بین یدیہ، اس سے مراد توریت اور انجیل ہے۔ ، ولوتری، اے محمد، اذالظالمون موقوفون، تم اگر قید کرلیے جاؤ۔ ، عند ربھم یرجع بعضھم الی بعض القول ، وہ ایک دوسرے پر جھگڑے والی بات ڈالیں گے۔ ، یقول الذین استضعفوا، وہ ان کو حقارت سے کہیں گے جوان کے پیرو کارہوں گے۔ ، للذین استکبروا، مسرداران قوم ! ، لولا انتم لکنا مؤ منین، اگر تم ہمیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے نہ روکتے تو ہم ضروران پر ایمان لے آتے۔
Ayah 34:32

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

بڑے لوگ کمزوروں سے کہیں گے کہ بھلا ہم نے تم کو ہدایت سے جب وہ تمہارے پاس آچکی تھی روکا تھا ؟ (نہیں) بلکہ تم ہی گنہگار تھے

تفسیر 32۔ ، قال الذین استکبرو، بڑے لوگ ادنی درجہ کے لوگوں سے کہیں گے، للذین استضعفوں انحن صدد ناکم عن الھدی بعد اذجاء کم بل کنتم مجرمین ، ایمان کے ترک کرنے کی وجہ سے۔
Ayah 34:33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے (نہیں) بلکہ (تمہاری) رات دن کی چالوں نے (ہمیں روک رکھا تھا) جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم خدا سے کفر کریں اور اس کا شریک بنائیں اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے بس جو عمل وہ کرتے تھے انہی کا ان کو بدلہ ملے گا

33، وقال الذین استضعفواللذین استکبروابل مکر اللیل والنھار، یعنی تمہارے دن ورات کے مکر و فریب نے۔ عرب کے نزدیک کسی فعل کو دن یا رات کی طرف نسبت اس لیے کرتے ہیں تاکہ کلام میں مزید تو سع پیدا ہوجائے۔ بعض حضرات نے کہا کہ رات ودن کے مکر سے مراد ہے زمانے کافریب ، طول ، آرزو اور طول سلامتی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، فطال علیھم الا مد فقست قلوبھم،۔۔۔۔۔۔۔ ، اذتامروننا لنا ان نکفر باللہ ونجعل لہ اندا دا واسروا، اور ندامت کو ظاہر کردیا۔ ، الند امۃ، بعض نے کہا کہ اس ندامت کو چھپادیا۔ یہ اس صورت میں اضداد میں سے ہوگا۔ ، لما راوا العذاب وجعلناالا غلال فی اعناق الذین کفروا، آگ میں تابع اور متبوع دونوں جمع ہوجائیں گے۔ ، ھل یجزؤن الاما کانو ایعملون ، دنیا میں جو انہوں نے کفر اور نافرمانیاں کی تھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 34:34

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 34:34 in the Quran reader

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے کہا کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اسکے قائل نہیں

34، وماارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفیھا، ان کے سردار اور ان کے اغنیاء لوگ ۔ ، انا بما ارسلتم بہ کافرون،
Ayah 34:35

وَ قَالُوْا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ۙ وَّ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 34:35 in the Quran reader

اور (یہ بھی) کہنے لگے کہ ہم بہت سا مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو عذاب نہیں ہوگا

53، وقالو، یہ لوگ فقراء کو کہیں گے جو اللہ پر ایمان لائے۔ ، نحن اکثر اموالا واولادا، اگر اللہ تعالیٰ ہم سے راضی نہ ہوتا ہمیں وہ اموال اور اولاد سے نہ نواز تا۔ ، وما نحن بمعذبین، اللہ تعالیٰ نے جب دنیا ہمیں مال واولاد سے نواز اتو آخرت میں بھی ہمیں عذاب نہیں دے گا۔
Ayah 34:36

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 34:36 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا رب جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے تنگ) کردیتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

36، قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر، روزی کی تنگی اور فراخی تحقیر و اعزاز کا معیار نہیں ہے۔ پر دنیا امتحان گاہ ہے دارالجزاء نہیں ہے۔ اسی طرح روزی کی کشادگی اللہ کی رضا پر دلیل نہیں اور نہ ہی تنگی اللہ کی ناراضگی ولیل ہے۔ ، الکن اکثر الناس لایعلمون ،
Ayah 34:37

وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰۤى اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا١٘ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَ هُمْ فِی الْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ Open ayah 34:37 in the Quran reader

اور تمہارا مال اور اولاد ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ہاں (ہمارا مقرب وہ ہے) جو ایمان لایا اور عمل نیک کرتا رہا ایسے ہی لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب دگنا بدلا ملے گا اور وہ خاطر جمع سے بالا خانوں میں بیٹھے ہوں گے

37، وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی ، زلفی (تقرب) اخفش کے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے واولاد کے ساتھ ایسی خصلت نہیں ہے جو تم کو اللہ کے قرب میں پہنچا دے۔ ، الا من امن ، جو نیکوکار مؤمن ہو۔ عمل صالحا، ابن عباس ؓ نے فرمایا جو نیکوکار ایمان والا ہو، اس کا عمل قرب الٰہی میں پہنچ سکتا ہے۔ ، فاولئک لھم جزاء الضعف بما عملوا، اللہ ان کے لیے نیکیوں کو دگنا کردیں گے اور ایک نیکی کے بدلے میں دس نیکیاں عطاکریں گے۔ ، جزائ، منصوب ہے تنوین کے ساتھ (الضعف) مرفوع ہے۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی ، لھم الضعف جزاء ، اور دوسرے قراء نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، وھم فی الغرفات آمنو، حمزہ نے واحد کے صیغہ کے ساتھ ، غرفۃ ، پڑھا ہے ۔ دوسرے قراء نے جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 34:38

وَ الَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 34:38 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں وہ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے

تفسیر 38۔ ، والذین یسعون، جو کوشش کرتے ہیں ، فی ایا تنا، ہمارے دلائل کو باطل کرنے میں ، معاجزین، معاندین لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے ان کی نشانیوں کو باطل و عاجز کردیا ہے۔ ، اولئک فی العذاب محضرون،
Ayah 34:39

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 34:39 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

39، قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدرلہ وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ، جو خرچ کرو گے اس کے بدلے میں اور عطاکرے گا۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں جو اپنے مال کو بغیر فضول خرچی کر اور کنجوسی سے خرچ نہیں کرے گا، اللہ اس کو اس کا بدل عطاکرے گا۔ کلبی کا بیان ہے کہ جو تم صدقہ کے لیے خرچ کرتے ہو یانی کی کے ماموں میں خرچ کرتے ہو، خرچ کرنے والے کو نفع دے گا یا تو اس کا نفع دنیا میں اس کو مل جائے گایا اس کے لیے نفع آخرت میں ذخیرہ کردیا جائے گا۔ ، وھو خیرالرازقین، جو عطا بھی کرے اور رزق بھی دے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی فضیلت روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم ! خرچ کر تیرے اوپر خرچ کیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی بھی صبح ایسی جس صبح ہر بندے کے پاس دوفرشتے آتے ہیں ۔ ان میں ایک کہتا ہے اے اللہ ! تو مجھے عطاکر میں خرچ کروں اور پھر اس کا اجز بھی دے اور دوسراکہتا ہے کہ اے اللہ ! تو مجھے عطاکر میں اس کو اپنے پاس روکے رکھوں تو اللہ اس کے مال کو تلف فرمادیتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے مال کو کم نہیں کیا جاتا اور جو شخص کسی کو در گرز کرتا ہے اللہ اس کی عزت بڑھادیتا ہے اور جو اللہ کی رضا کے لیے تو اضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند مقام عطا کرتے ہیں۔ حضرت جابربن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اس کے لیے یہ صدقہ لکھ دیاجاتا ہے اور جس چیز سے آدمی اپنی عزت کی حفاظت کرے وہ بھی صدقہ ہے، ہم نے کہا آدمی کا اپنی عزت کی حفاظت کا معنی کیا ہے ؟ فرمایا جو کسی شاعر یامتقی زبان والے کو عطا کیا جاتا ہے اور مؤمن شخص جو اپنے خرچ کرتا ہے اللہ اس کے لیے دوبارہ پیدا کرتا ہے مگر یہ کہ اس نے جنگل میں نہ ضائع کیے ہوں اور نہ ہی گناہوں کے کاموں میں۔ امام بغوی (رح) لایعنی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عبدالحمید محمد بن منکدر سے پوچھ رہے ہیں ۔ مجاہدکاقول ہے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی چیز ہو تو اس کو میانہ روی سے خرچ کرو۔ اس آیت کی تو ویل نہ کرو۔ ، وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ، کیونکہ رزق تو تقسیم ہوا ہے ۔ شاید کہ اللہ نے رزق تھوڑالکھا ہو تو وہ اپنے نفقہ سے تنگ دست کی طرح خرچ کرے۔