Ayahs 49:1–5تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ سورة فتح کے اخیر میں صحابہ ؓ کا مرتبہ اور ان کی بزرگی بیان ہوئی تھی اس لیے اس سورة میں چند آداب تعلیم کرتا ہے تاکہ ان کے برخلاف عمل کرنے سے اس بزرگی میں فرق نہ آوے۔ اس سورة میں تمدن کے متعلق وہ احکام بیان فرمائے ہیں کہ جن سے قوت اعوانیہ و طاقت اجتماعیہ جو اتفاق و محبت باہمی پر مبنی ہے قائم رہے۔ اور سب سے اول مسئلہ سردار کی تعظیم و عظمت کا ہے کیونکہ اس کی عزت دل میں ہوگی تو اس کے احکام کی تعمیل بھی ہوگی وہی تو اس قوت کا جمع رکھنے والا ہے۔
اوّل حکم : اس لیے سب سے اول رسول اللہ ﷺ کی جناب سے ادب ملحوظ رکھنے کے احکام صادر فرمائے۔ فقال یا ایہا الذین امنوا لاتقدموا الخ یہ پہلا حکم ہے کہ اس کے رسول کے آگے نہ بڑھو۔ اللہ کا لفظ اس لیے ذکر کیا کہ رسول اللہ کا نائب ہے اس کی گستاخی اللہ کی گستاخی اور اس کی تعظیم اللہ کی تعظیم ہے۔ آگے بڑھنے سے کیا مراد ہے ؟ یعنی کسی بات میں حضرت ﷺ کے سامنے جلدی نہ کرو بلکہ تابع رہو۔ حضرت ﷺ سے پہلے آپ کوئی حکم نہ دو ۔ آپ کے سامنے کسی کام میں سبقت نہ کرو چلنے میں ‘ بات کرنے میں ‘ حکم دینے میں ‘ کھانے میں ‘ کسی کے سوال کے جواب دینے میں ‘ آگے بڑھ کر بیٹھنے میں عام ہے۔ اور اللہ سے ڈرو اللہ تمہاری باتیں سنتا ہے دل کے احوال جانتا ہے۔
دوسرا حکم : یا ایہا الذین امنوالاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی کہ نبی کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کیا کرو پست آواز اور نرمی سے بات کیا کرو کس لیے کہ سردار کے سامنے غل مچا کر اور ٹائیں ٹائیں آواز سے باتیں کرنا نہ تنہا گستاخی بلکہ بدتہذیبی بھی ہے۔ مہذب لوگ پست آواز سے باتیں کیا کرتے ہیں۔ بخاری نے اور مسلم نے اور دیگر محدثین نے نقل کیا ہے کہ ثابت بن قیس ؓ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد غمگین ہو کر گھر میں بیٹھ رہے۔ نبی ﷺ نے دریافت کیا اس نے عرض کروایا میری آواز بلند ہے میرے اعمال حبط ہوگئے ہیں ‘ جہنمی ہوگیا آپ کے سامنے بلند آوازی سے کلام کرنے سے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو جنتی ہے۔ الغرض جن صحابہ ؓ کی آوازیں بلند تھیں اس آیت کے بعد سے وہ اس طرح پست آواز سے بات کرتے تھے کہ پوچھنے کی حاجت پڑتی تھی۔
تیسرا حکم : ولاتجہروالہ بالقول کجہر بعضکم لبعض نبی سے اس طرح سے پکار کر اور خطاب کر کے باتیں نہ کیا کرو کہ جس طرح آپس والوں سے کرتے ہیں۔ دوسرے حکم میں مطلقاً آواز بلند کرنے کی حضرت ﷺ کے روبرو ممانعت تھی خواہ حضرت ﷺ سے خواہ کسی اور سے نہ چیخو غل نہ مچائو۔ یہاں خاص آنحضرت ﷺ سے بات کرنے کا ادب۔ سکھایا گیا ہے۔ فرمایا ایسی گستاخی میں اعمال حبط ہوجانے کا ڈر ہے۔ الحمد للہ امت محمدیہ خصوصاً صحابہ ؓ نے اس حکم کی کمال درجہ تعمیل کی اب تک حرمین شریفین میں بلند آواز سے کوئی بات نہیں کرتا کسی کو دور سے بلایا جاتا ہے تو اشارے سے۔ افسوس ہندوستان کے مسلمانوں پر کہ مساجد میں کیسا غل مچاتے ہیں اور اکابر اور بزرگان دین کے سامنے بات کرنے میں تہذیب و ادب ان کے نصیب نہیں الاماشاء اللہ۔ کیسی بدتہذیبی آگئی ہے۔
اب پست آوازی سے بات کرنے والوں کے محامد بیان فرماتا ہے فقال ان الذین یغضون اصواتہم عند رسول اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقوی لہم مغفرۃ واجر عظیم کہ جو لوگ نبی کے سامنے پست آواز سے بات کرتے ہیں اللہ نے ان کے دل پرہیز گاری کے لیے خاص و ممتاز کئے ہیں یعنی ان کے دلوں میں تقویٰ ہے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے صحابہ خصوصاً خلفاء اربعہ ؓ اس صفت کے موصوف تھے کیوں نہ ہو۔ ان کی نسبت تورات میں اول ہی سے آگیا ہے کہ وہ تیرے قدموں کے نزدیک بیٹھے ہیں اور تیری باتوں کو مانیں گے۔
اس کے بعد اس حکم کے خلاف کرنے والوں کا حال بیان فرماتا ہے فقال ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرھم لایعقلون حجرات کو جمہور نے بضم جیم پڑھا ہے یہ حجرہ کی جمع ہے جیسا کہ غرفہ کی غرفات اور ظلمۃ کی ظلمات۔ حجرہ گھر خلوت خانہ جس کی چار دیواری ہو۔ اس سے مراد ازواج مطہرات کے مکانات ہیں۔ یعنی جو لوگ آپ کو حجرات کے باہر سے پکارتے ہیں وہ اکثر بےعقل ہیں۔ یہ عرب کے گنواروں کی عادت تھی جیسا کہ ہند کے گنواروں کی عادت ہے کہ کسی بزرگ سے ملنے گئے اور وہ اپنے مکان میں ہے باہر آنے کا انتظار نہیں کرتے پکارنے لگتے ہیں۔ نبی ﷺ سے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا۔ احمد وابن جریر و بغوی و طبرانی وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ اقرع بن حابس نے آکر پکارا تھا یا محمد ﷺ اخرج اے محمد ﷺ باہرآ۔ ابویعلی و مسدد وابن راہویہ و ابن مردویہ و طبرانی نے نقل کیا ہے کہ عرب کے چند آدمی آئے اور حضرت رسول کریم ﷺ کو باہر سے پکارنے لگے۔ یا محمد یا محمد ﷺ ۔ اس پر یہ آیت اتری۔ ادب سکھاتا ہے ولوانہم صبروا حتیٰ تخرج الیہم لکان خیرا لہم کہ اگر وہ صبر کرتے ہیں یہاں تک کہ اے نبی تم ازخود باہر نکل کر ان کے پاس آجاتے تو ان کے لیے بہتر تھا۔ واللہ غفور رحیم اللہ ان کی اس بےادبی کو جو جہالت و بےعقلی سے سرزد ہوئی ہے معاف کر دے گا اگر وہ توبہ کریں گے۔ اس کے بعد سے پھر کبھی کسی نے ایسا نہیں کیا عرب میں صلاحیت کا مادہ بہت کچھ ہے۔ اب تک وہاں کے بدو اور جگہ کے تہذیب یافتوں سے بات چیت میں اور دیگر امور میں مہذب ہیں جبکہ وہاں کے گھوڑے میں یہ صلاحیت ہے، تو آدمیوں کا کیا کہنا ہے اسی حکمت سے اس سرزمین پر خاتم النبین ﷺ مبعوث ہوئے۔
Ayahs 49:6–10ترکیب : ان تصیبوا مفعول لہ ای خشیۃ ذلک بجہالۃ حال من الفاعل ای جاھلین۔ لویطیعکم مستانف ویجوزان یکون فی موضع الحال و العامل فیہ الاستقرار کقولک مررت برجل لوکلمۃ کلمنی فکما جاز و قوعہ صفۃ للنکرۃ جاز وقوعہ حالا فضلا مفعول لہ طائفتان فاعل فعل محذوف اخویکم بالتثنیۃ والجمع الاخوۃ جمع الاخ۔
چوتھا حکم : یا ایہا الذین آمنوا ان جاء کم فاسق بنبافتبینوا کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو جانچ لیا کرو یہ نہیں کہ جو کسی سے سنا یقین کرلیا اور اس پر کاربند ہوگئے کیونکہ ایسی صورتوں میں باہم لڑانے کے لیے بہت سے جھوٹے افسانے غماز بنا لایا کرتے ہیں ان پر باور کر کے کسی سے لڑ پڑے یا رنجیدہ ہو کر ان کے برخلاف کر بیٹھے تو پھر دریافت حال ہونے کے بعد ندامت اٹھانی پڑے۔
یہ مسئلہ اصول تمدن میں سے ہے کیونکہ ہر شخص کی بات کو خصوصاً لڑائی اور بدگوئی کی بابت باور کرلینا بڑی خرابیاں پیدا کرتا ہے عقل اور قرائن سے بھی دریافت کرلینا چاہیے۔ فاسق کا لفظ اس بات کو بتلا رہا ہے کہ اگر کوئی نیک کہے تو باور کرو خبر کے متعلق اس آیت سے اہل فقہ و اہل اصول فقہ و اصول حدیث نے بہت سے مسائل ثابت کئے ہیں جن کا ذکر فن تفسیر سے باہر ہے اس لیے ترک کرتا ہوں۔
اس آیت میں حکم عام ہے مگر آنحضرت ﷺ کے عہد میں بھی کوئی ایسی بات ہوئی ہے جو اس آیت کے حکم میں شامل ہے جس کو مفسرین اس کا شان نزول کہتے ہیں اور وہ یہ ہے امام احمد وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ حارث بن ضرار خزاعی ؓ کو نبی ﷺ نے زکوٰۃ پر متعین کر کے اس کی قوم میں بھیجا ابان نے اس میں خلل اندازی کردی تب نبی ﷺ نے ولید بن عقبہ کو وصول کرنے کے لیے بھیجا اس نے آکر جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ حارث مقابلہ میں آیا اور مجھے قتل کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ اس پر ایک لشکر تیار ہو کر حارث کے مقابلہ کو چلا ادھر وہ حضرت ﷺ کی خدمت میں زکوٰۃ کے لیے آرہا تھا کہ رستہ میں لشکر سے ملا۔ دریافت ہوا تو تعجب ہوا۔ پھر سب آنحضرت ﷺ کے پاس واپس آئے حارث نے قسم کھائی کہ میں نے ہرگز ایسا نہیں کیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ایسا واقعہ بھی ہوا ہو مگر آیت میں کسی شخص کی طرف اشارہ نہیں عام حکم ہے۔
اس بات سے لوگوں کے دل میں خیال پیدا ہوتا ہوگا کہ ہماری بات اور خبر نہیں مانی جاتی نہ ہماری رائے و تدبیر کی پابندی ہوتی ہے اور انسان کا یہ مقتضائے طبعی ہے کہ وہ دوسرے کو اپنے قول کا تابع اور اپنی خواہش کا پابند کرنا چاہتا ہے۔ مگر حضرت رسالت مآب میں اس کی کہاں گنجائش تھی۔ اس لیے فرماتا ہے واعلموا ان فیکم رسول اللہ یاد رہے کہ تم میں اللہ کا رسول ہے رسول الہام ووحی سے حکم دیتا ہے پھر اس کے برخلاف کسی کی رائے اور بات کیا ہے ؟ لویطیعکم فی کثیر من الامرلعنتم اگر اکثر باتوں میں تمہارے کہنے پر چلا کرے تو خود تم مشقت میں پڑجاؤ کس لیے کہ تمہاری بہت سی باتیں خطا سے خالی نہیں ہوتیں ان پر وہ چلے اور تم بھی ساتھ چلو تو انجام برا ہو۔ کشتی کا ناخدا اگر اس کے اندر بیٹھنے والوں کے کہنے پر ہر ہر بات میں چلے تو جہاز غرق ہوجاوے مگر اے صحابہ ! تم ایسے بداندیش نہیں ہو کہ رسول کو اپنی مرضی کے تابع کر کے بےایمانی اور نافرمانی اور بدکاری کے رویہ کو پسند کرو بلکہ ولکن اللہ حبب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم اس نے ایمان کو تمہارا پسند اور مرغوب طبع کردیا ہے وکرہ الیکم الکفروالفسوق والعصیان کفروبدکاری ونافرمانی سے تم کو نفرت دلا دی ہے اس لیے تم دل سے رسول کی اطاعت کو پسند کرتے ہو اور کیوں نہ ہو اولئک ھم الراشدون فضلاً من اللہ و نعمۃ ایسے لوگ اس کے فضل و عنایت سے راشد یعنی راستی پسند ‘ حق جو ‘ حق گو ‘ حق پر چلنے والے ہیں۔
ان جملوں سے بھی صحابہ ؓ خصوصاً خلفائِ اربعہ کے بہت فضائل ثابت ہوئے۔ پھر ان کی نسبت یہ خیال کرنا (کہ حضرت ﷺ کے بعد یہ لوگ مرتد ہوگئے اور سرکشی اور بےدینی کرنے لگے تھے اس لیے انہوں نے علی ؓ اور اہل بیت پر ظلم کئے ان کا حق خلافت چھین لیا اور باغ فدک دبا بیٹھے وغیرہ وغیرہ) کمال بدگمانی اور ان آیات سے سرتابی ہے جو لوگ ایسے ہوں کہ ان کی توریت و انجیل میں مدح ہو قرآن میں ان کے یہ محامد ہوں کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا وہ باہم رحیم ‘ کفار پر سخت ‘ نمازی و پرہیز گار ہیں۔ ایمان ان کے دل میں جاگزیں ہوگیا ‘ کفرو بدکاری سے ان کو نفرت ہے اور وہ راشد ہیں۔ پھر ان سے یہ باتیں جو غلط گو راویوں نے اتہام لگانے کے لیے نقل کیں ہیں سرزد ہوں ؟ اور باوجود اس کے اشاعت اسلام و جہاد میں ان کی کوششوں اور صلاحیت و پرہیز گاری پر مخالفین بھی گواہیاں دیتے ہوں ؟ تعجب تعجب ! معاذاللہ یہ چند غلط گو ‘ رطب و یا بس قصہ نقل کرنے والے (جنکی اندرونی حالت مشکوک ہو) تو سچے ٹھہریں اور خدا کا کلام اور موافق و مخالف کی تاریخیں اور ان کے بڑے بڑے کارنامے سب جھوٹ سمجھے جائیں۔
پانچواں حکم : وان طائفتان من المومنین اقتتلوافاصلحوا بینہما اگر مسلمانوں کی دو جماعتوں (یا دو شخصوں میں) لڑائی ہوجاوے تو باہم ملاپ کرا دو ۔ بخاری و مسلم نے اس آیت کے متعلق بھی ایک قصہ نقل کر کے اس کو اس کا شان نزول قرار دیا ہے کہ نبی ﷺ سوار ہو کر عبداللہ بن ابی منافق کے سمجھانے کو تشریف لے گئے۔ اس نے کہا مجھ سے دور رہئے آپ کے گدھے کی بدبو مجھے تکلیف دیتی ہے۔ کسی انصاری نے کہا رسول اللہ ﷺ کے گدھے کی بوتری بو سے عمدہ ہے اس پر ادھر کا کوئی غصے ہوا ادھر سے بھی لوگ بگڑے باہم مارپیٹ کی نوبت پہنچی۔ آخر آنحضرت ﷺ نے ان میں ملاپ کرا دیا۔ اسی طرح اوس و خزرج انصار کے دو قبیلوں میں بارہا جھگڑے برپا ہوئے۔ آپ نے باہم ملاپ کرا دیا۔ یہ بھی حکم عام ہے۔ پھر اس فساد کی چنگاری کو جلد بجھانے کی تاکید کرتا ہے فقال فان بغت احدھما الخ یعنی صلح کو نہ مانا کہ اگر پھر ایک فریق دوسرے پر چڑھائی کرے تو چڑھائی کرنے والوں کو قتل کرو (کیونکہ یہ تمام قوم میں آتش فساد بھڑکانا چاہتے ہیں) یہاں تک کہ یہ چڑھائی کرنے والے اللہ کے حکم کی طرف رجوع کریں۔ پس جب رجوع کریں جنگ سے باز آویں تو چھوڑ دو اور باہم ملاپ اور صلح کرا دو اور عدل و انصاف ملحوظ رکھو کسی کی قلت و کثرت زور و شوکت کو نہ دیکھو۔
اور یہ کس لیے کہ انما المؤمنون اخوۃ ایماندار سب بھائی بھائی ہیں۔ ان سب کا ایک روحانی باپ ہے یعنی رسول کریم۔ فاصلحوابین اخویکم اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دو واتقوا اللہ اور اللہ سے ڈرو۔ کسی کو اشتعال نہ دلاؤ نہ لڑانے کی باتیں کرو نہ کسی کی رعایت کرو ان باتوں میں اللہ سے ڈرو لعلکم ترحمون تاکہ تم پر اس کی مہربانی رہے۔ اور اتفاق قائم رہنا بھی خدا کی بڑی مہربانی ہے جس کے دنیا و آخرت میں صدہا عمدہ نتیجے اور میٹھے پھل ہیں۔
گناہ کبیرہ سے ایمان نہیں جاتا : اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کرنے سے کافر نہیں ہوجاتا کس لیے کہ قتال باہمی گناہ کبیرہ ہے اور اس کے مرتکب کو بھی بلفظ مومن تعبیر کیا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ایمان تصدیق قلبی کا نام ہے اقرار باللسان اور اعمال صالحہ اس کی زینت ہے جس کے فوت ہونے سے بےزینت ایمان تو ضرور باقی رہتا ہے۔
Ayahs 49:11–13ترکیب : السخریۃ الاستہزاء ویعدی بعلی ومن۔ اللمزالعیب قال ابن جریر اللمزبالید والعین واللسان والاشارۃ والہمزلایکون الاباللسان التنابزالتفاعل من النبزبالسکون وھوالمصدر والنبزبالتحریک اللقب مطلقاً ولکن خص فی العرف بالقبح و الجمع انباز والالقاب جمع لقب وھوما یذکربہ الانسان من اوصافہ والمرادبہ ھنالقب السوء۔ اجتنبوا یقال جنبہ الشراذابعدہ عنہ واصلہ جعل الشیء فی جانب فیعدی الی مفعولین کما فی قولہ تعالیٰ و اجنبی و نبی ان نعبدالاصنام و مطاومۃ اجتنب الشر فنقص مفعولا۔ میتاحال عن اللحم اوعن الاخ فکرھتموہ الفاء لترتیب مابعدھاعلی ماقبلہا من التمثیل والضمیر فی کرھتموہ (ہ) عائدالی الاکل اوالی اللحم او الی المیت۔
چھٹا حکم : یہ چھٹا حکم ہے فقال یایہا الذین آمنوالایسخر قوم من قوم کہ کوئی کسی سے تمسخر نہ کرے۔ گو قوم کا لفظ ہے مگر مراد اس کے افراد ہیں اور مجموعی حالت بھی مراد ہے۔ تمسخر ہنسی ٹھٹھے میں کسی کو بےعزت کرنا۔ یہ باہمی عداوت کی جڑ ہے۔ ٹھٹھے میں اڑانا اور دل دکھانا جہلاء اور خفیف لوگوں کی حرکت ہے عسٰی ان یکونواخیرامنہم شاید کہ وہ لوگ کہ جن کو تم ٹھٹھے میں اڑاتے ہو تم سے بہتر ہوں۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بلاء بات سے پیدا ہوتی ہے جو کوئی کسی پر جس بات میں ہنسی کرے گا اس میں خود مبتلا ہوگا اگر کسی کی کانی آنکھ پر ہنسے گا تو خوف کرے کہ خود کانا نہ ہوجاوے یا اس سے زیادہ کسی بلا میں نہ گرفتار ہوجائے کیونکہ خدا قادر ہے جو چاہے کرسکتا ہے۔ قوم کا لفظ بظاہر مردوں کو شامل تھا اس لیے عورتوں کو بھی مخاطب کرتا ہے ولانساء من نساء الخ اور نہ کوئی عورت دوسری عورت سے تمسخر کرے کیا معلوم کہ وہی اس سے خدا کے نزدیک بہتر ہو پھر کیا یہ مشیت الٰہی پر ہنسی کرتی ہے ؟
ساتواں حکم : ولاتلمزوا انفسکم کہ کوئی کسی کو طعنہ نہ دے طعنہ زنی بھی دل دکھانے والی چیز ہے جس سے اتفاق و محبت میں فرق آجاتا ہے اور انفسکم کے لفظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ تم بنی آدم ایک ہو دوسرا شخص کہ جس کو تم طعنہ دیتے ہو وہ بمنزلہ تمہارے نفس کے ہے بوجہ اخوت انسانی یا اخوت اسلامی کے۔
آٹھواں حکم : ولاتنابزوا بالالقاب کسی کو چڑانے والے ناموں سے نہ پکارو۔ جیسا کوئی یہودی یا نصرانی مسلمان ہوجائے اس کو یہودی یا نصرانی کہا جاوے یا جس نام کو انسان اپنے لیے مکروہ سمجھے اس سے اس کو نامزد کیا جائے۔ اس طرح لنگڑا بھینگا اندھا کانا لولا وغیرہ صفات مذمومہ سے یاد کرنا خواہ دراصل اس میں وہ اوصاف موجود ہوں ممنوع ہے۔ اسی طرح جاہلیت کے نام اور صفات سے یاد کرنا بھی ناجائز ہے۔ یا کسی کا ابتدائی نام مکروہ تھا اس نے اس کو بدل دیا ہو پھر اس کو اس پہلے نام سے پکارنا بھی ممنوع ہے کیونکہ یہ سب باتیں دل دکھانے والی ہیں جن سے باہمی رنجش اور عداوت پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہاں جو عیب دار ناموں سے مشہور ہیں اور پھر وہ ان سے برا بھی نہیں مانتے ان سے یاد کرنا ممنوع نہیں جیسا کہ اعرج واحدب۔ اور اس طرح عمدہ صفات جن لوگوں میں ہیں اور ان سے وہ ملقب ہوگئے ہیں ان سے یاد کرنا بھی ممنوع نہیں جیسا کہ ابوبکر کو صدیق اور عمر کو فاروق اور عثمان کو ذی النورین اور علی کو بوتراب یا حیدر کہتے تھے ؓ اجمعین۔
پھر اس حکم کو مؤکد کرتا ہے بئس الاسم الفسوق بعدالایمان کہ ایمان لانے کے بعد برے فسق اور برائی کے ناموں سے یاد کرنا بری بات ہے ومن لم یتب فاولئک ھم الظالمون اور جو کوئی ایسے ناموں کے لینے سے باز نہ آوے تو وہی ظالم یعنی برا اور گنہگار دل دکھانے والا ہے نہ وہ کہ جن کو ان ناموں سے یاد کیا گیا۔
نواں حکم : یا ایہا الذین آمنوا اجتنبواکثیرًا من الظن کہ بدگمانیوں سے بچو۔ معاذاللہ یہ بدگمانی بھی فساد کی جڑ ہے بعضوں کو مرض ہوتا ہے کہ ہر بات میں اور ہر ایک کی نسبت ان کو برا ہی خیال پیدا ہوتا ہے جس سے بڑی بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں جب تک کوئی وجہ معقول نہ ہو کیوں بدگمانی کی جاوے ؟ اس بدگمانی سے گھر برباد ہوگئے ہیں۔ خاوند باہر گیا پیچھے بیوی کی نسبت بدگمانیاں پیدا کرلیں یا وہ کہیں مہمان یا کسی ضرورت کو گئیں یا کسی ضرورت سے کسی اجنبی سے بات کرنے کی حاجت پڑی بدگمانی پیدا کرلی یا کسی شخص کو متہم کردیا یا خواہ مخواہ کسی کو بدخواہ اور دشمن سمجھ لیا۔ ظن سے تعمیم مراد نہیں جو خبراحاد قیاس و دیگر چیزوں کو مستثنیٰ کرنے کی ضرورت پڑے بلکہ اس سے مراد بدگمانی ہے فرماتا ہے ان بعض الظن اثم کہ بعض گمانات گناہ ہیں ایسی بدگمانیوں سے انسان گنہگار ہوتا ہے اب یہ شبہ ہوتا تھا کہ بدگمانی کی ممانعت ہے اچھا ہم تحقیق کریں گے تو اس لیے اس کے بعد دسواں حکم اس تحقیق و تفتیش کی بابت دیتا ہے۔
دسواں حکم : فقال ولاتجسسوا کہ کسی کی عیب جوئی بھی نہ کرو کسی کے عیب دریافت کرنا اور ان کی تفتیش کرنا نہ چاہیے کیونکہ اس میں سراسر برائی ہے۔ ابودائود نے روایت کی ہے کہ ابن مسعود ؓ کے پاس کوئی شخص حاضر کیا گیا اور کہا گیا اس کی ڈاڑھی میں سے شراب ٹپکتی ہے۔ فرمایا ہم کو تفتیش کرنے سے منع کیا گیا ہے ہاں جو بات ظاہر ہوگی ہم اس پر مؤاخذہ کریں گے۔ ابودائود و نسائی نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنے کے درپے ہوگا تو کام خراب ہوجاوے گا۔ مسلم نے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے جو کوئی کسی کی پردہ پوشی دنیا میں کرے گا خدا اس کی پردہ پوشی آخرت میں کرے گا۔
گیارہواں حکم : ولایغتب بعضکم بعضًا کوئی کسی کی غیبت لینے بدگوئی نہ کرے۔ صحیح مسلم میں ایک حدیث ہے کہ نبی ﷺ نے پوچھا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے لوگوں نے عرض کیا اللہ اور رسول ہی جانتا ہے۔ فرمایا اپنے بھائی کی وہ بات ذکر کرنی جو اس کو بری معلوم ہو۔ کسی نے عرض کیا اگر دراصل اس میں وہ بات ہو تو پھر کیا فرمایا یہی تو غیبت ہے اگر اس میں وہ بات نہیں پھر تو بہتان ہے۔ پھر اس غیبت کی برائی کو ایک تمثیل میں بیان کرتا ہے جس سے نہایت برائی اور کراہت سمجھی جاتی ہے فقال ایحب احد کم کہ بھلا کوئی بھائی کا مردہ گوشت کھانا پسند کرتا ہے ؟ نہیں۔
جس کی غیبت ہوتی ہے وہ غائب ہوتا ہے اس لیے اس کو مرد سے تشبیہ دی یعنی وہ مردے کے مانند بیخبر ہے اور یہ اس کی برائی کرنا اس کا گوشت کھانا ہے۔ انسان اور وہ بھی بھائی اس کا زندہ گوشت کوئی کھانا پسند نہیں کرتا چہ جائیکہ مردار گوشت فرماتا ہے اللہ سے ڈرو۔ توبہ کرو وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے غیبت سے بھی باہمی عداوت پیدا ہوتی ہے اس کی برائی احادیث میں بکثرت موجود ہے۔
Ayahs 49:14–18ترکیب : الشعوب جمع شعب بفتح الشین ھواعلی طبقات النسب وتحتہ قبائل جمع قبیلۃ وبعدھا العمائر ثم البطون ثم الافخاذثم الفصائل خزیمہ شعب کنانۃ قبیلہ قریش عمارۃ بکسرالعین قصی بطن ہاشم فخذالعباس فصیلۃ۔
تفسیر … بارہواں حکم : جس کو اور دوسرے پیرایہ میں بیان فرماتا ہے یا ایہا الناس اناخلقناکم من ذکر وانثٰی کہ اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد یعنی آدم اور ایک عورت یعنی حوا سے پیدا کیا ہے تم سب کی ایک ذات اور ایک نسب ہے وجعلناکم شعوبا وقبائل لتعارفوا پھر تمہارے قبیلے اور جتھے جدے جدے کردیے پہچان کے لیے نہ نسب پر فخر کرنے کے لیے کیونکہ نسب تو سب کا ایک ہے۔ اب یہ فخر کی چیز نہیں بلکہ پرہیزگاری کس لیے کہ ان اکرمکم عنداللہ اتقکم اللہ کے نزدیک عزت دار تم سے وہ ہے جو پرہیز گار ہے یعنی نسب پر فخر نہ کیا کرو۔ عارف جامی نے 1 ؎ یقرء بہمزۃ بعدالیار وماضیہ آلت یقال آلت یالت بالفتح فی الماضی والکسر فی المضارع وقرء بغیر ہمزۃ وماضیہ لانھا یلیت وھما لغتان ومعناھما النقصان۔ 12 منہ
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامیؔ
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
ان اللہ علیم خبیر بزرگی کے اسباب خدا کو معلوم ہیں اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انساب ظنیہ ہیں۔ اصل حال وہی خوب جانتا ہے اور اس طرف بھی کہ انجام کار بھی اسی کو معلوم ہے بہت سے عزت دار چند روز کے بعد لوگوں کی آنکھوں میں ذلیل ہوگئے ہیں۔ جب یہ بیان فرمایا کہ مدار کار بزرگی کا پرہیز گاری پر ہے اب اصلی اور مصنوعی پرہیزگاری کا حال بیان فرماتا ہے فقال قالت الاعراب آمنا کہ زبان سے ایمان لانا کہنا مصنوعی پرہیز گاری ہے۔ ایسا ایمان زبان پر ہے دل میں نہیں ہاں اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری اصلی تقویٰ ہے اگر اے اعراب ! تم کرو گے تو تمہارے اعمال کی اجرت میں خدا کمی نہ کرے گا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اعراب سے مراد اس جملہ میں بنواسد ہیں کہ قحط کے ایام میں صدقہ لینے کی غرض سے اظہار کیا کہ ہم ایمان لائے مگر دراصل دل میں ایمان اور اللہ اور رسول کی اطاعت مقصود نہ تھی۔ فرمایا آمنا کہنا تمہارا صحیح نہیں ہاں اسلمنا کہنا درست ہے کہ بظاہر مطیع اسلام ہوگئے ہیں۔ ایمان اور اسلام ایک چیز ہے عرف شرع میں ایمان اور اسلام دونوں لفظوں سے ایک ہی مراد ہے وہ کیا ؟ دل سے اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کی تصدیق کرنا اور احکام شرع کو قبول کرنا۔ اس جگہ اسلمنا کے لغوی معنی مراد ہیں جس لیے ایمان سے جدا سمجھا گیا۔ اس آیت سے یہ سمجھ لینا کہ ایمان اور چیز ہے اور اسلام اور چیز بڑی غلطی ہے۔ اس کے بعد حقیقی ایمان وتقویٰ کا بیان کرتا ہے انما المؤمنون کہ حقیقی مومن وہ ہیں کہ جو صدق دل سے اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور جان و مال اللہ کے لیے صرف کرنے میں دریغ نہیں کرتے یہی سچے ایماندار ہیں۔
دنیاوی غرض سے ایمان لانے والے اپنا ایمان جتلایا کرتے تھے اور نبی ﷺ پر احسان جتلاتے تھے کہ ہم آپ پر ایمان لائے ہیں ہم سے سلوک کیجئے کچھ دیجئے۔ ان کے جواب میں فرماتا ہے کہ کیوں ایمان جتلاتے ہو تمہارا ایمان خدا کو معلوم ہے اس سے کوئی شے مخفی نہیں اور کیوں احسان جتلاتے ہو بلکہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ تم کو ہدایت دی اگر تم سچے ایماندر ہو۔