49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsمعالم العرفان

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ آگے بڑھو اللہ سے اور اس کے رسول سے ، اور ڈرو اللہ سے ، بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحجرات ہے جو کہ اس کی آیت 4 میں آمدہ لفظ سے مآخوذ ہے ۔ حجرات حجرۃ کی جمع ہے جس کا معنی کمرہ یا مکان ہوتا ہے ۔ اس سورة مبارکہ میں ان کمروں کا ذکر ہے جو حضور ﷺ نے مسجد نبوی کے ارد گرد تعمیرکرائے تھے اور جن میں امہات المومنین رہائش پذیر تھیں ۔ ان کے علاوہ بعض دوسرے حضرات بھی ان مکانات میں رہتے تھے۔ یہ سورة ہجرت کے بعد مدنی زندگی میں سورة مجادلہ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی اٹھارہ آیتیں اور دو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 342 الفاظ اور 1476 حروف پر مشتمل ہے۔ بقیہ سورتوں کے ساتھ ربطہ اس سورة مبارکہ کا سابقہ دو سورتوں کے ساتھ خصوصی ربط ہے۔ سور ۃ فتح اور سورة محمد میں جہاد کا موضوع غالب ہے جس سے اصلاح عالم مقصود ہے جب کہ اس سورة میں رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کی جماعت کے حقوق و آداب کا ذکر ہے ۔ گویا اس سورة میں وہ اصول اور وہ ضابطے بیان کیے گئے ہیں جن سے اصلاح نفس ہوتی ہے۔ اس طرح ان تین سورتوں میں اصلاح عالم اور اصلاح نفس کا پروگرام بیان کردیا گیا ہے اور یہی ان سورتوں کا آپس میں ربط ہے۔ مضامین سورة امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے حاشیہ فتح الرحمان میں اس سورة کا خلاصہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اس میں بعض آداب کی تعلیم دی گئی ہے۔ مثلا ً یہ کہ اللہ کے نبی کے اوامرو نواہی سے پہلے کوئی بات نہ کی جائے اور نہ نبی کے سامنے آواز بلند کی جائے ۔ اس سورة میں یہ اصول بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی فاسق آدمی کی خبر کی تحقیق کرلی جائے اور بغیر تحقیق ایسی خبر پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ اگر مسلمانوں کا آپس میں جھگڑا ہوجائے تو ان کے درمیان صلح کرا دینی چاہئے۔ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ ٹھٹا نہ کریں اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کریں ۔ اس سورة میں غیبت کی سخت الفاظ میں ممانعت کی گئی ہے اور دوسرے شخص پر بد گمانی کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ نسب کی وجہ سے دوسرے کو حقیر جاننا اور اپنے نسب پر فخر کرنا قبیح بات ہے ، اللہ نے اس سے بھی منع فرمایا ہے ۔ پھر آخر میں منافقوں کی بعض خصلتوں کا ذکر کرکے ان کو زجر و توبیخ کی گئی ہے۔ درحقیقت یہ سورة مسلمانوں کے شہر ی قوانین (Cilvil Law) پر مشتمل ہے ۔ اس سے پہلی دو سورتوں میں جنگ اور صلح کے قوانین (Law of The War and Pace) کا ذکر تھا جب کہ یہ سورخ مبارکہ غیر حربی قوانین پر مشتمل ہے ، غرضیکہ اس سورة میں معاشرتی زندگی کے بارہ میں بڑے بڑے اصول بیان کیے گئے ہیں اگر ان میں تین ضمنی اصول بھی شامل کرلیے جائیں تو کل تعداد پندرہ ہوجائے گی ۔ معاشرتی زندگی کا انحصار انہی اصولوں پر ہے ۔ ان پر عمل پیرا ہونے سے قوم اور ملک میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ جس سے داخلی اور خارجی اصلاح ممکن ہوتی ہے ۔ انہی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے انسان فتنہ و فساد اور جنگ وجدل سے بچ سکتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کی صورت میں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور نوبت زوال تک پہنچ جاتی ہے۔ پیش قدمی کی ممانعت آج کی آیت میں دو بڑے بڑے اصولوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلا اصول یہ ہے یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے پیش قدمی نہ کرو یعنی ان کے حکم اور ان کی اجازت سے کسی معاملہ میں آگے نہ بڑھو۔ جب کسی معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم موجود ہو یا ایسا حکم متوقع ہو تو پھر اپنی رائے کو دخل نہ دو بلکہ اللہ اور پیغمبر کے فرمان کو توجہ سے سنو اور پھر اس پر بلا چون و چرا عمل پیرا ہو جائو ۔ گویا اپنی خواہشات اور آراء کو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے تابع بنا لو ۔ غرضیکہ پہلے اصول میں نبی کریم ﷺ کے آداب اور حقوق اور پھر مسلمانوں کے آپس میں برادرانہ تعلقات قائم کرنے کے طور طریقے ، مسلمانوں کے جماعتی نظام کی بنیاد ، اس میں خرابی کی صورت میں اس کا علاج وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ تمام جھگڑوں اور تنازعات کی بنیادی وجہ خود غرضی اور خود رائی ہوتی ہے جس کا علاج پہلے ہی اصول میں بتا دیا گیا ہے۔ اگر مسلمان اپنی شخصی آراء اور اغراض کو کسی بلند ترین معیار کے تابع کردیں تو کوئی جھگڑا فساد نہیں ہوگا ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں لا تقولوا خلاف الکتب والسنۃ یعنی اللہ کی کتاب اور نبی کی سنت کے خلاف کوئی کام نہ کرو ۔ اگر اپنے تمام امور کتاب و سنت کے تابع بنا لو گے تو تمہارے تمام حالات درست ہوجائیں گے ، تہذیب و تمدن میں ترقی نصیب ہوگی اور اللہ کے ہاں بھی اجر کے مستحق بن جائو گے۔ بعض احکام کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، مگر اس سے بد دل نہیں ہونا چاہئے خواہ اس سلسلہ میں کتنی ہی تکلیف اٹھانی پڑے۔ اس کا نتیجہ بہر حال اچھا نکلے گا ۔ دنیا و آخرت کی فلاح کا مدار اللہ اور اس کے رسول کی اتباع پر ہی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو یعنی اپنی رائے کو ان کے حکم پر مقدم نہ رکھو ، اور ہمیشہ انہی کے تابع فرمان رہو۔ تقویٰ معنی خوف خدا اس آیت کریمہ میں دوسرا اصول یہ بیان کیا گیا ہے ۔ واتقو اللہ اللہ سے ڈرتے رہو ۔ خدا خوفی بہت بلند اصول ہے جس کی وجہ سے انسان کو فلاح نصیب ہوتی ہے قرآن پاک میں تقویٰ اختیار کرنے کی بڑی تلقین کی گئی ہے۔ مثلاً سورة بقرہ میں ارشاد ربانی ہے واتقو اللہ لعلکم تفلحون ( آیت : 189) اللہ سے ڈر جائو تا کہ تم فلاح پا جائو ۔ نیز فرمایا واتقوا اللہ واعلموا ان اللہ مع المتقین ( آیت : 194) تقویٰ اختیار کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔ سورة الطلاق میں ہے ومن یتق اللہ یجعل لہ من امرہ بشرا ( آیت : 4) جو اللہ سے ڈرتا ہے ، تقویٰ اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا کردیتا ہے۔ اسی سورة کی آیت 20 میں ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے یجعل لہ مخرجا ً اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ پیدا کردیتا ہے۔ ویرزقہ من حیث لا یحتسب ( آیت : 3) اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے ، جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔ شیخ عبد القادر جیلانی (رح) نے اپنی مشہور و معروف کتاب غنیۃ الطالبین میں تقویٰ کی تعریف میں یہ آیت نقل کی ہے ان اللہ یامر بالعدل والاحسان ویتای ذی القربیٰ وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی ( النحل : 90) یعنی تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ عدل اور احسان کیا جائے ، قرابتداروں کی مدد کی جائے ، فحاشی ، منکرات اور بغاوت سے اپنے آپ کو بچایا جائے۔ مطلب یہ کہ تقویٰ نیکی اختیار کرنے کا نام ہے ۔ انسان کفر ، شرک ، نفاق اور کبائر سے بچ جائے ، پھر مشتبہات سے بھی پرہیز کرے ، تو وہ کمال درجے کا متقی ہے ۔ سورة توبہ میں اللہ نے ایمان والوں کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی بیان کی ہے والحفظون لحدود اللہ ( آیت : 112) وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں اور یہ بھی تقویٰ میں شما ر ہوتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ” تقویٰ محافظت بر حدود شرع است “ یعنی شریعت ک حدود کی حفاظت کرنا ہی تقویٰ ہے۔ جس نے شریعت کے احکام کی پابندی کی وہ متقی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے آپ کو دوسروں سے کم ترسمجھنا ، عاجزی اور انکساری اختیار کرنا اور عدل و انصاف کو اختیار کرنا بھی تقویٰ میں شامل ہے تو اللہ نے یہاں دوسرا اصول تقویٰ بیان فرمایا ہے جس کی وجہ سے اطاعت کامل ہوتی ہے اور انسان اغراض و خواہشات کے شر سے محفوظ رہتے ہیں ۔ فرمایا یہ بات بھی مد نظر رکھو ان اللہ سمیع علیم بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا ہے اور کائنات میں واقع ہونے والی تمام حرکات و سکنات کو جانتا ہے ۔ کوئی چیز اس کے احاطہ سے باہر نہیں ہے تو اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں یہ دو ضابطے بیان کردیے ہیں جن پر تہذیب و تمدن کا انحصار ہے ، نیز جن پر جماعتی ، مملکتی اور عام معاشرے کے نظم و نسق کے استحکام اور بقاء کا انحصار ہے۔ اور وہ ضابطے یہی ہیں کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے نہ بڑھے ۔ بلکہ متعلقہ حکم معلوم کر کے عملی پیش قدمی کرے ، اور دوسرا ضابطہ تقویٰ ہے ، آج کے زمانہ میں تقویٰ تو کم ہی نظر آتا ہے ، بیشتر لوگ فسق و فجور میں ہی مبتلا ہیں ۔ لاکھوں میں ایک آدھ ہی ملے گا جو اپنی خواہشات اور اغراض کو اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر قربان کر دے ۔ اگر یہ بنیادہی خراب ہوگی تو معاشرتی نظام کیسے درست رہ سکتا ہے ؟
Ayahs 49:2–5

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ بلند کرو اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر ، اور نہ بولو جہر سے اس کے سامنے بات کرنے میں جیسا کہ تم جہر کرتے ہو بعض بعض کے سامنے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو پست رکھتے ہیں اپنی آوازوں کو اللہ کے رسول کے پاس ، یہ وہی لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو خالص بنا لیا ہے تقویٰ کے لیے ، ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو پکارتے ہیں آپ کو حجروں کی دیواروں کے پیچھے سے اکثر ان میں سے عقل نہیں رکھتے

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کی طرف نکل کر آتے تو یہ بہتر ہوتا ان کے لیے ، اور اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں وہ اصول اور قوانین بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل کر کے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی امن و سکون کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ ان کے جماعتی نظم و نسق میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے اور ان کے امور سلطنت بہتر طریقے سے انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ گزشتہ آیت کریمہ میں دو اصولوں کا تذکرہ ہوچکا ہے ، پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے اور حکم سے پہلے پیش قدمی نہ کرو ، بلکہ ہر حالت میں انہی کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دو ۔ اور دوسرا اصول یہ بیان ہوا کہ تقویٰ اختیار کرو یعنی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ نبی کا ادب و احترام اب تیسرے نمبر پر نبی (علیہ السلام) کے ادب و احترام کا اصول بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی اپنی آوازوں کو نبی (علیہ السلام) کی آواز سے بلند نہ کرو ۔ اور چوتھی بات یہ فرمائی ولا تجھروالہ بالقول کجھربعضکم لبعض اور نہ نبی کے سامنے اونچی آواز سے بولو جیسا کہ تم ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بولتے ہو ۔ اگر ایسا کرو گے تو کہیں ایسا نہ ہو ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم نبی (علیہ السلام) کی مجلس میں بیٹھے ہو تو نبی کے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ گفتگو کرتے وقت تمہاری آواز نبی (علیہ السلام) کی آواز سے کسی صورت میں بھی بلند نہیں ہونی چاہئے اور اگر حضور ﷺ کے ساتھ براہ راست بات کرو تو تمہاری آواز آپس کی گفتگو کی طرح اونچی نہیں ہونی چاہئے۔ حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر خواہ آپس میں بات چیت کردیا خود حضور ﷺ کی ذات بابرکات سے براہ راست مخاطب ہو ۔ اپنی آواز کو ہمیشہ پست رکھو ۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو ممکن ہے کہ اللہ کے نبی کے دل میں کدورت پیدا ہوجائے جس سے اللہ ناراض ہوجائے اور تمہارے تمام نیک اعمال ہی ضائع ہوجائیں ۔ مسلمانوں کے لیے اللہ کا یہ حکم ہے کہ وہ اللہ کے نبی کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھیں ۔ بےتکلفی اور اونچی آواز سے بات نہ کریں بلکہ شائستگی سے بات کریں ۔ عام انسانی سوسائٹی کا بھی یہی دستور ہے کہ کوئی شائستہ اور مہذب بیٹا اپنے باپ کے سامنے ، ایک لائق شاگرد اپنے استاد کے سامنے ، یا ایک مخلص مرید اپنے مرشد کے سامنے ، یا ایک ماتحت اپنے افسر کے سامنے ہمیشہ ادب کو ملحوظ رکھتا ہے اور اونچی آواز سے بات کرتا ۔ ادھر اللہ کا نبی ہے جس کا مرتبہ ہر مخلوق سے زیادہ ہے اور اس کے ادب و احترام کو ہر ادب پر فوقیت حاصل ہے لہٰذا پوری احتیاط رکھنی چاہیے کہ اللہ کے نبی کی مجلس میں بیٹھ کر کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہوجائے جس سے آپ کے ادب و احترام میں فرق آتا ہو۔ حضور ﷺ کی نا خوشی کی وجہ سے ایک امتی کا کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس کی عمر بھر کی ساری محنت ہی برباد ہوجائے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن حکیم کے مطابق اعمال کا ضیاع کفر ، شرک ، نفاق یا ریا سے ہوتا ہے ، اور محض آواز بلند کرنے سے ایسا نہیں ہوتا تاوقتیکہ یہ فعل استحفاف ، استہزاء یا ایذاء رسانی کے لیے ہو ۔ خاص طور پر اگر اللہ کے نبی کی شان میں اس قسم کی بےادبی یا گستاخی کی جائے تو کفر لازم آتا ہے ، لہٰذا ایسے شخص کے اعمال ضائع ہوجانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ جس طرح حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں آپ کا ادب ملحوظ رکھنا ضروری تھا ، اسی طرح آپ کی وفات کے بعد آپ کی احادیث اور فرامین کو پڑھتے اور سنتے وقت بھی ادب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص حضور ﷺ کی قبر شریف پر حاضر ہوتا ہے تو وہاں بھی ادب و احترام کی پاسداری ہونی چاہئے۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) حضرت شیخ الاسلام (رح) اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے خلفائ ، علمائے ربانیین اور اولوالامر حضرات کے ساتھ بھی درجہ بدرجہ ادب سے پیش آنا چاہئے کیونکہ فرق مراتب کے بغیر بہت سی خرابیاں ، بگاڑ اور فتنے پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ دیگر محترم ہستیوں میں صحابہ کرام ؓ ، محدثین ، متکلمین ، مجتہدین ، فقہاء اور دیگر بزرگان دین لائق احترام ہیں ۔ جنہوں نے دین اسلام کی حتی الامکان خدمت کی ہے۔ صحابہ کرام ؓ کا عمل اپنے نبی کا ادب و احترام صحابہ کرام ؓ سے بڑھ کر کون کرسکتا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی ایک مجلس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ موجود تھے۔ آپ کے پاس بنی تمیم کے کچھ لوگ آئے ، حضور ﷺ ان میں سے کسی شخص کو ان کا امیر مقرر کرنا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قعقاع ابن معید ؓ کا نام تجویز کیا ۔ دوسری طرف حضرت عمرفاروق ؓ نے اقرع ابن جابس ؓ کے حق میں رائے دی ۔ اس ضمن میں دونوں حضرات کا آپس میں تکرار ہوگیا ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کہ عمر ؓ ! تم ہمیشہ میری رائے کی مخالفت کرتے ہو ، حضرت عمر ؓ نے کہا کہ میں نے بالکل ٹھیک رائے دی ہے۔ اس تکرار میں دونوں حضرات کی آوازیں بھی بلند ہوگئیں ۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو دونوں حضرات اپنی اس حرکت پر سخت نادم ہوئے اور پھر اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کی مجلس میں کبھی اونچی آواز سے بات نہیں کی ، بلکہ عمر بھی اپنی آوازوں کو پست رکھا حتیٰ کہ حضرت عمر ؓ کی بات کو سمجھنے کے لیے ان سے بار بار پوچھنا پڑتا تھا۔ آپ اس قدر محتاط ہوگئے کہ اونچا بولنے سے کہیں اعمال ہی ضائع نہ ہوجائیں۔ حضرت ثابت ابن قیس انصاری ؓ کی آواز بھی قدرتی طور پر بلند تھی ۔ جب بھی بات کرتے اونچی آواز میں کرتے ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ہی ضائع ہوجائیں ، تو حضرت ثابت ؓ اپنی آواز کی بلندی کے ڈر سے گھر میں بیٹھ گئے ۔ کہنے لگے کہ اگر حضور ﷺ کی مجلس میں میری آواز بلند ہوگئی تو مجھے ڈر ہے کہ میرے اعمال ہی ضائع نہ ہوجائیں ۔ حضور ﷺ والسلام نے حضرت معاذ ؓ سے دریافت کیا کہ ثابت ؓ نظر نہیں آ رہا ہے ، کیا وہ بیمار ہوگیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ، حضور ! وہ تو میرا پڑوسی ہے مگر مجھے اس کی بیماری کی کوئی خبر نہیں ۔ پھر جب گھرجا کر آپ کا پتہ کیا تو انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ میری آواز قدرتی طور پر بلند ہے اور مجھے اپنے منافق ہونے کا خطرہ ہے ، لہٰذا میں اعمال کے ضیاع کے ڈر سے گھر میں بیٹھ گیا ہوں ۔ آپ کو اس بات کی خبر ہوئی تو فرمایا کہ اس نے آیت کا مطلب ٹھیک سے نہیں سمجھا ، اس کے اعمال ضائع نہیں ہوں گے اور وہ تو جنتی ہے ۔ پھر جب حضرت ثابت بن قیس ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا قیس ؓ کے بیٹے ! کیا تمہیں یہ چیز پسند نہیں کہ تمہاری زندگی پسندیدہ گزرے اور تم شہادت کی موت پائو ؟ اس پر حضرت ثابت ؓ خوش ہوگئے ، چناچہ پھر ایسا ہی ہوا ۔ آپ کی زندگی تو پسندیدہ ہی تھی کیونکہ آپ کا رجوع ہمیشہ نیکی کی طرف رہتا تھا۔ پھر آپ کی شہادت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ خلافت میں ہوئی ۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں حضرت خالد بن ولید ؓ سپہ سالار تھے اور حضرت ثابت بن قیس ؓ اور حضرت سالم ؓ اس فوج میں شامل تھے۔ اس لڑائی میں بارہ سو سترہ سو حفاظ قرآن اور قاری شہید ہوئے اور ہلاک شدگان کی کل تعداد ستائیس ہزار تک پہنچی ہے۔ یہ بہت بڑا فتنہ تھا جس کو اللہ نے فرو کیا ۔ اس جنگ میں بعض مواقع ایسے بھی آئے کہ مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا ۔ اس موقع پر حضرت ثابت ؓ اور آپ کے ساتھی مجاہد سالم ؓ کے درمیان اس معاملہ میں گفتگو ہوئی تو حضرت سالم ؓ کہنے لگے کہ حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں تو مسلمان کبھی پسپا نہیں ہوئے۔ اس پر دونوں حضرات نے کہا کہ ہم دشمن کا مقابلہ اس طریقے سے کریں گے کہ بھاگنے کی کوئی ضروت باقی نہ رہے۔ چناچہ انہوں نے میدان جنگ میں گڑھا کھودا اور پھر اس میں پائوں ٹکا کر دشمن کا مقابلہ کیا حتیٰ کہ دونوں حضرات نے جام شہادت نوش فرمایا۔ امام قرطبی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ جب حضرت ثابت ؓ شہید ہوئے تو انہوں نے عمدہ قسم کی زرہ پہن رکھی تھی ۔ شہادت کے بعد یہ زرہ کسی دوسرے مسلمان نے اتار کر اپنے پاس رکھ لی ۔ پھر اتفاق ایسا ہوا کہ کسی مسلمان کو حضرت ثابت ؓ خواب میں ملے اور اس سے کہا کہ فلاں آدمی نے میری زرہ اتار لی ہے اور اسے فلاں مقام پر رکھا ہوا ہے۔ آپ نے یہاں تک نشاندہی کی کہ یہ زرہ ایک ہانڈی کے نیچے ہے اور اس کے اوپر فلاں فلاں سامان پڑا ہے اور زرہ اتارنے والا شخص شہر کے فلاں حصے میں رہتا ہے ۔ پھر آپ نے خواب دیکھنے والے شخص کو یہ وصیت بھی کی کہ مدینہ جا کر خلیفہ وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہنا کہ میں نے فلاں آدمی کا اتنا قرض دینا ہے اس کو نظر انداز کریں ۔ جب وہ آدمی مدینہ واپس آیا تو اس نے خواب کا سارا واقعہ حضرت صدیق ؓ کو بتا دیا ، چناچہ ان کی نشاندہی کے مطابق وہ زرہ بھی برآمد ہوگئی ، اور خلیفہ وقت نے اس صحابی رسول کی وصیت کو بھی پورا کیا ۔ حضرت ثابت ؓ کو اللہ نے یہ شرف بخشا کہ آپ کی خواب والی وصیت کو نافذ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ اس قسم کا کوئی واقعہ تاریخ میں نہیں ملتا۔ با ادب لوگوں کی تعریف اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کا ادب و احترام ملحوظ رکھنے والے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ بیشک وہ لوگ جو اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے ۔ جو لوگ نبی کی مجلس میں بیٹھ کر اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں اللہ نے ان کے دلوں میں ادب کی تحم ریزی کی ہے اور ان کو تقویٰ اور طہارت کے لیے خالص بنا دیا ہے۔ لھم مغفرۃ واجر عظیم ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ میں سے چار اعظم شعائر ہیں یعنی قرآن پاک ، پیغمبر کی ذات ِ مبارکہ ، خانہ کعبہ اور نماز ۔ ان چاروں شعائر کی تعظیم زیادہ ملحوظ رکھنی چاہئے ، چونکہ پیغمبر کی ذات بھی ان اعظم شعائر میں شامل ہے لہٰذا آپ کے ادب کے خلاف کوئی بات نہیں ہونی چاہیے ۔ خلفائے راشدین ؓ اور دیگر صحابہ کرام ؓ نے نبی کے آداب کا بہترین نمونہ پیش کیا ۔ باہر سے آوازیں دینے کی ممانعت ایک دفعہ قبیلہ تمیم کا ایک وفد حضور علیہ الصلوٰۃکی ملاقات کے لیے حاضر ہوا ۔ آپ اس وقت ازواج مطہرات ؓ میں سے کسی ام المومنین ؓ کے کمرے میں آرام فرما رہے تھے۔ جونہی یہ لوگ وہاں پہنچے تو انہوں نے باہر سے آوازیں دینی شروع کردیں یا محمد اخرج الینا یعنی اے محمد ! ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائیں ، اگلی آیت میں اللہ نے اسی واقعہ پر لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے ان الذین ینارویک من وراء الحجرات اکثرھم لا یعقلون بیشک وہ لوگ جو آپ کو کمروں کی دیواروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ نہیں رکھتے ۔ باہر سے آوازیں دیکر انہوں نے بےعقلی کی بات کی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت آپ کسی اہم کام میں مصروف ہوں یا آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ آرام فرما رہے ہوں اور فوری طور پر باہر نہ آنا چاہتے ہوں ۔ ایسی حالت میں زور زور سے آوازیں دینا خلاف تہذیب اور بعید از عقل ہے۔ ایک معمولی حیثیت کا آدمی بھی اپنے معمولات میں اس قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرتا چہ جائیکہ نبی کی ذات کو وقت بےوقت زحمت دی جائے اور آپ کے ادب و احترام کا خیال نہ رکھا جائے ۔ اگر ضرور ہی بلانا تھا تو کسی بچے کے ذریعے اندر پیغام بھیجا جاسکتا تھا ، باہر سے آوازیں دینا تو بالکل نا شائستگی کا مظاہرہ تھا۔ اللہ نے فرمایا ولو انھم صبروا حتی تخرج الیھم اور اگر وہ لوگ صبر کرتے حتیٰ کہ حضور ﷺ خود ان کے پاس باہر نکل آتے لکان خیرا ً لھم تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا ۔ مطلب یہ کہ ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ باہر سے آوازیں دینے کی بجائے حضور ﷺ کے خود باہر تشریف لانے کا انتظار کرتے کہ ادب نبوت کا یہی تقاضا تھا ، یہ چوتھا اصول ہوگیا ۔ ادب و احترام کی مثال امام جلال الدین سیوطی (رح) ، امام قرطبی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جلیل القدر صحابی اور حضور ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد آپ ہی کے حکم کے مطابق جب حضرت ابی ابن کعب ؓ کے گھر قرآن سیکھنے کے لیے جاتے تو جا کر آپ کے دروازے پر بیٹھ جاتے یا وہیں کھڑے رہتے۔ آپ نہ تو باہر سے آواز دیتے اور نہ دروازہ کھٹکھٹاتے ۔ پھر جب حضرت ابی ابن کعب ؓ خود گھر سے باہر تشریف لاتے تو ان سے ملاقات ہوتی ایک دفعہ حضرت ابی ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا کہ جب آپ آتے ہیں تو دروازے پر دستک دے دیا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ شیخ ، بزرگ یا استاد قوم میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح نبی اپنی قوم میں ہوتا ہے۔ اور اللہ کے نبی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر یہ لوگ صبر کرتے حتیٰ کہ نبی (علیہ السلام) خود ان کے پاس نکل کر آتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ، لہٰذا میں اپنے شیخ کو آواز دے کر یا دروازہ کھٹکھٹا کر تکلیف نہیں دینا چاہتا ، میں تو ادب کی خاطر آ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ باہر آئیں گے تو ملاقات ہوجائے گی۔ تمام بزرگان دین نے ادب کو ہمیشہ ملحوظ رکھا ۔ ادب کی وجہ سے ہی فیض حاصل ہوتا ہے ، جیسے فارسی کا مقولہ ہے۔ باادب شو بادب شوبا ادب بے ادب محروم مانداز فضل رب ہمیشہ با ادب رہو کیونکہ بےادب آدمی اللہ کے فضل سے محروم رہتا ہے۔ فرمایا اگر یہ صبر کرتے یہاں تک کہ حضور ﷺ خود باہر تشریف لاتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ۔ اس تنبیہ کے باوجود اللہ نے مایوس نہیں کیا بلکہ فرمایا واللہ غفور رحیم اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے وہ چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو معاف کردیتا ہے ، لہٰذا محتاط رہیں کہ آئندہ خلاف ادب کوئی حرکت نہ ہو ۔
Ayahs 49:6–8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر لائے تمہارے پاس کوئی فاسق خبر ، پس خوب تحقیق کرلو ، اس وجہ سے کہ کہیں تم تکلیف نہ پہنچائو کسی قوم کو نادانی کے ساتھ ، پھر ہو جائو تم اپنے کیے پر پشیمان

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان لو ! کہ بیشک تمہارے درمیان اللہ کا رسول ہے ، اگر وہ مانے گا تمہاری بات بہت سے معاملات میں تو تم مشقت میں پڑ جائو گے ، لیکن اللہ نے محبت ڈال دی ہے تمہارے اندر ایمان کی ، اور مزین کیا ہے اس کو تمہارے دلوں میں ، اور نفرت ڈال دی ہے تمہارے اندر کفر ، نافرمانی اور گناہ کی ، یہی لوگ ہیں ہدایت پانے والے

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

یہ اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ، اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمتوں والا ہے

ربط آیات مسلمانوں کی جماعتی اور اجتماعی زندگی کو درست رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں بڑے اہم ضوابط بیان کیے ہیں ۔ پہلا ضابطہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے نہ بڑھو اور دوسرا یہ کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یعنی تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ نے تیسرا ضابطہ یہ دیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی آواز سے اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور آپ کے جانشینوں کے ساتھ بھی اسی ادب و احترام کا سلوک کرو ، گویا کہ جب تم نبی سے گفتگو کرو تو اپنی آواز کو پست رکھو اور اس طرح کڑک کر نہ بولو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بلند آواز سے گفتگو رتے ہو ۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہارے تمام اعمال ضائع ہوجانے کا خدشہ ہے پھر اللہ نے ان لوگوں کی تعریف کی جو نبی (علیہ السلام) کی مجلس میں بیٹھ کر اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں ۔ فرمایا اللہ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے خاص کردیا ہے اور ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ ہے۔ اللہ نے ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو نبی (علیہ السلام) کو گھر سے باہر نام لے کر پکارتے ہیں ، فرمایا : ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ۔ اگر یہ صبر کرتے حتیٰ کہ اللہ کے نبی خود گھر سے باہر تشریف لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اللہ کے رسول آرام فرما رہے ہوں ، کسی اہم امور کی انجام دہی میں مصروف ہوں یا آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔ بہر حال آپ کو باہر سے آوازیں دینا یادروازہ کھٹکھٹانا پسندیدہ فعل نہیں ہے یہ چوتھا اصول ہے۔ حجرات امہات المومنین ؓ جب حضور ﷺ نے مسجد نبوی تعمیر کرائی تو اس کے اطراف میں امہات المومنین ؓ کی رہائش کے لیے چھوٹے چھوٹے کمرے بھی تعمیر کروائے جن کے دروازوں پر معمولی قسم کے موٹے موٹے پردے لٹک رہے ہوتے تھے ۔ یہ مکانات کچے تھے ، چھتیں بھی بہت اونچی نہیں تھی اورحضور ﷺ اپنی باری کے مطابق انہی کمروں میں سے کسی کمرے میں آرام فرمایا کرتے تھے۔ یہ کمرے دوسری صدی میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کے زمانے تک قائم رہے۔ پھر جب مسجد کی توسیع کی ضرورت پیش آئی تو اس خلیفہ نے ان حجرات کو مسجد میں شامل کرلیا ۔ توسیع کی ضرورت حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں بھی پیش آئی تھی مگر یہ توسیع مسجد کی محراب والی جانب کی گئی تھی۔ لہٰذا یہ حجرات اسی طرح قائم رہے تھے ۔ انہی حجرات میں سے ایک حجرہ حضرت عائشہ صدیق ؓ کا تھا جس میں اب آپ (علیہ السلام) کی قبر مبارک ہے۔ اس سے پچھلے حصے میں حضرت فاطمہ ؓ کی رہائش تھی اور یہ حصہ بھی اب تک محفوظ ہے البتہ باقی حجرات کا اب کوئی نشان باقی نہیں رہا ۔ سوائے حضرت صدیق ؓ کے خوخہ کے جس کے متعلق حضور ﷺ نے خود اجازت دی تھی کہ آپ یہ دروازہ یا کھڑکی مسجد کی طرف رکھ سکتے ہیں ۔ مسجد نبوی کی مغربی دیوار میں اس جگہ کی نشاندہی ایک کتبے کے ذریعے اب بھی موجود ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس دن یہ حجرات مسجد نبوی میں شمولیت کے لیے گرائے جا رہے تھے تو مدینہ کے لوگ اس یادگار کے ختم ہوجانے کی وجہ سے بہت روئے تھے۔ بہر حال اس سورة میں آمدہ لفظ حجرات کے لفظ میں بہت سے حقائق پوشیدہ ہیں ۔ یہ حجرات اللہ کے معصوم نبی اور کائنات میں افضل ترین ہستی کی ازواج مطہرات ؓ کے استعمال میں تھے جن کے متعلق اللہ نے سورة احزاب میں فرمایا یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ (آیت : 32) اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو یعنی تمہیں اللہ نے جہاں بھر کی عورتوں پر فضلیت بخشی ہے۔ بہر حال یہ سادہ کمرے تھے جن میں کسی قسم کا تکلیف نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ عمارات میں توسیع کرنا مباح ہے لیکن تکلف بہر حال مذموم ہے ، اس کی وجہ سے طبقاتی کشمکش پیدا ہوتی ہے اور پھر آپس میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا تعلق سادگی کے ساتھ ہی ہے اور امہات المومنین ؓ کے یہ حجرات اس کا بہترین نمونہ تھے۔ معاملات کی تحقیق کا حکم اب اللہ نے پانچواں اصول یہ بیان فرمایا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والوان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا جب کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اسکی تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو ان نصیبوا قوما بجھالۃ کہ تم کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو فتصبحوا علی ما فعلتھم ندمین اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے ۔ لہٰذا کسی ایسے آدمی کی لائی ہوئی خبر کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیا کرو تا کہ اس کی صحت یا عدم صحت کا یقین ہوجائے اور اس کے بعد مناسب کارروائی عمل میں لائو ۔ فاسق کا عمومی معنی گناہ گار ہے جب کہ یہاں پر جھوٹا آدمی مراد ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر بلا سوچے سمجھے کسی جھوٹے آدمی کی اطلاع پر کوئی کارروائی کی جائے گی تو اس سے نہ صرف دوسرے لوگوں کا نقصان ہوگا بلکہ اپنا نقصان ہوجانا بھی عین ممکن ہے۔ آیت کا پس منظر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک شخص ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰۃ کا مال وصول کرنے کے لیے بھیجا ۔ یہ شخص گھوڑے پر سوار ہو کر چل دیا ۔ جب اس قبیلہ کو حضور ﷺ کے قاصد کی آمد کی خبر ملی تو وہ اپنے دستور کے مطابق ہتھیار بند ہو کر استقبال کے لیے باہر نکلے۔ اس شخص کی اس قبیلہ کے ایک آدمی سے دیرینہ دشمنی تھی ۔ اس نے سمجھا کہ قبیلہ کے لوگ مجھے قتل کرنے کے لیے باہر نکلے ہیں چناچہ وہ لوگوں کو اس حالت میں دیکھ کر راستے میں ہی مدینہ واپس لوٹ آیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس قبیلے کے لوگ تو مجھے قتل کرنے کے لیے نکل آئے تھے ، لہٰذا میں جا ن بچا کر بھاگ آیا ہوں ۔ یہ سن کر عام مسلمانوں اور خود حضور ﷺ کو بھی سخت غصہ آیا کہ ان لوگوں نے ہمارے نمائندے کے ساتھ ایسا برا سلوک کیا ۔ آپ نے اس قبیلہ کے ایک سرکردہ آدمی کی طرف پیغام بھیج کر اپنی تشویش کا اظہار کیا جب اہل قبیلہ کو یہ پیغام پہنچا تو وہ بھی سخت پریشان ہوئے کہ اس شخص نے ہمارے استقبال کا غلط مطلب لیا چناچہ قبیلہ کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارے حالات سے آگاہ کیا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی۔ ولید بن عقبہ کی غلط فہمی کی وجہ سے مسلمان سخت طیش میں تھے اور اگر وہ بلا تحقیق بنو مطلق پر حملہ کردیتے تو دونوں طرف کے مسلمانوں کا کس قدر جانی اور مالی نقصان ہوتا ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی فاسق آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تصدیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو جس کا بعد میں تم ہی کو رنج ہو۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا یہاں پر فاسق سے مراد گناہ گار نہیں بلکہ جھوٹ بولنے والا ہے۔ اس قاصد نے واپس آ کر یہ خبردی کہ قبیلہ بنو مصطلق کے لوگ مجھے مارنے کے لیے باہر نکلے تھے حالانکہ ایسی بات نہیں تھی۔ جھوٹ کا دور دوروہ کسی خبر کی تحقیق کرلینا بہت بڑا ضابطہ ہے ۔ موجودہ زمانے میں تباہی اور بربادی کی ایک وجہ اسی ضابطہ پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔ نشر و اشاعت کے اس زمانے میں اخبارات اکثر جھوٹی خبریں شائع کردیتے ہیں ۔ جن کی وجہ سے متعلقہ فرد ، جماعت یا ملک کا مشتعل ہوجانا فطری امر ہے۔ جھوٹی خبروں کی وجہ سے بد گمانی ، نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ جو بہت بڑے جانی اور مالی نقصان کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ انگریز کا قائم کردہ نظام شہادت بھی اسی قبیل سے ہے۔ اس نظام کے تحت کوئی گواہ ٹھیک ٹھیک گواہی نہیں دے سکتا ۔ اللہ کا فرمان تو یہ ہے ۔ واقیمو الشھادۃ للہ ( الطلاق : 2) گواہی اللہ کے لیے ٹھیک ٹھیک دو ، مگر یہاں صورت حال یہ ہے کہ وکلاء حضرات عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ہر گواہ کو اس کی گواہی خود پڑھاتے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ یوں کہنا اور یوں نہ کہنا ۔ ظاہر ہے کہ ان حالات میں گواہ صحیح صحیح گواہی نہیں دے پاتا جس کے نتیجے میں نہ تو لوگوں کو انصاف میسر آتا ہے اور نہ معاشرے میں امن وامان قائم ہوتا ہے۔ اسلام جھوٹی گواہی کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔ اگر امن و سکون کی ضروریات ہے تو سچی گواہی دینا ہوگی ، جھوٹ کا قلع قمع کرنا ہوگا ، تا کہ عدل و انصاف مہیا ہو سکے اور دنیا میں امن قائم ہو سکے۔ ہمارا معاشرے اس وقت جھوٹی خبروں اور افواہوں میں گھرا ہوا ہے۔ جھوٹی خبروں کی اشاعت وبال جان بن چکی ہے۔ اکذب الناس الاخبار تون کے مطابق اخبار والے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں جو بلا تحقیق جھوٹی خبریں شائع کردیتے ہیں ۔ اسی طرح تاریخ میں بھی بہت سی اناب شناب باتیں پائی جاتی ہیں جو ناقابل اعتماد ہوتی ہیں یہ شرف تو صرف محدثین کرام (رح) کو حاصل ہے کہ انہوں نے ہر روایت کی پورے طریقے سے چھان بین اور تحقیق کرنے کے بعد اس کو نقل کیا ۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر کوئی فاسق آدمی خبر لائے تو اس پر فوراً عمل شروع نہ کردو بلکہ پہلے اس کی اچھی طرح تحقیق کرلو ، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کوئی ایسا قدم اٹھا بیٹھو جو بعد میں پشیمانی کا باعث بن جائے۔ فاسق کے متعلق احکام فاسق کا لغوی معنی تو نافرمان یا اطاعت سے باہر نکل جانے والا ہوتا ہے ، اور اس لحاظ سے اس کا اطلاق گناہ گار آدمی پر بھی ہوتا ہے۔ جو شخص جھوٹ بولتا ہے غلط بیانی کرتا ہے وہ بھی فاسق ہے ۔ تا ہم فاسق آدمی کی مطلق خبر کو ناقابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا ۔ امام ابوبکر جصاص ؓ فرماتے ہیں کہ بعض معاملات میں فاسق کی خبر بھی مقبول ہوتی ہے۔ مثلاً لین دین کے معاملہ میں فاسق کی بات کو تسلیم کیا جائے گا ۔ اگر کوئی فاسق آدمی خبر دے کہ فلاں آدمی نے ہمارے پاس فلاں چیز بطور ہدیہ بھیجی ہے تو اس پر اعتبار کیا جائے گا ۔ اسی طرح اگر فاسق آدمی یہ دعوے کرے کہ اسے فلاں چیز کی فروخت کے لیے مامور کیا گیا ہے تو ایک مسلمان آدمی کو حق پہنچتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس چیز کو خرید سکتا ہے ۔ اگر کسی فاسق نے خبر دی کہ فلاں شخص کے گھر میں داخلے کے لیے اجازت طلب کی گئی ہے ، تو اس کی یہ خبر بھی درست تسلیم کی جائیگی ۔ اسی طرح بعض معاملات میں بچے ، غلام یا ذمی کی خبر بھی مقبول ہوتی ہے۔ فاسق کی شہادت اور روایت بھی عام حالات میں معتبر سمجھی جاتی ہے۔ اہل بدعت اور خواہشات کے بندے سب فاسق ہیں مگر ان کی شہادت اور روایت معتبر ہے ، لیکن ایسے معاملات میں فاسق کی خبر ، شہادت یا روایت ناقابل قبول ہوگی جن میں کسی نقصان کا اندیشہ ہو ۔ اسی طرح غیر عادل آدمی کی گواہی بھی معتبر نہیں ہوتی ، گواہ کے لیے اللہ نے قرآن پاک میں دو شرائط رکھی ہیں۔ یعنی گواہ وہ ہونا چاہئے۔ جو اخلاق اور دیانت کے اعتبار سے عادل اور پسندیدہ ہو ۔ ایسے شخص کی گواہی بلا شبہ قابل قبول ہے۔ اطاعت رسول پر لزوم ارشاد ہوتا ہے واعلموا ان فیکم رسول اللہ جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ۔ لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات کو مان لے گا تو تم مشقت میں پڑ جائو گے۔ لہٰذا یہ خواہش نہ کرو کہ اللہ کا نبی تمہاری بات ضرور ہی مان لے ۔ شاید عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ اگر تمہارا مشورہ نبی کی بارگاہ میں قبول نہ ہو تو اس کا برا نہ مانو کیونکہ اللہ کا رسول تو اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہے ، اور اس عمل میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔ اگر اللہ کا نبی تمہاری بات مانا کرے اور ہر کوئی اپنے ہی بھلے کی بات کرے تو پھر وہ کس کس کی بات پر چلے گا ۔ ایسی صورت میں تم مشقت میں پڑ جائو گے۔ اللہ کا نبی بعض معاملات میں مشورہ تو کرلیتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ ہر ایک کی بات کو تسلیم کرے۔ اور اگر کسی شخص کی بات نہ مانی جائے تو مخالفت شروع کردی جائے ، یہ تو بہت ہی بری بات ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ تمام معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی کو مقدم رکھنا چاہئے۔ فرمایا اگر اللہ کا نبی بہت سے معاملات میں تمہاری بات کو مانے تو تم مشقت میں پڑ جائو گے ولکن اللہ حبب الیکم الایمان وزینہ فی قلوبکم مگر اللہ نے ایمان کو تمہارے لیے محبوب ٹھہرا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کردیا ہے۔ یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے دلوں میں ایمان کی تخم ریزی کردی ہے جس کی وجہ سے تم اسے پسند کرتے ہو ۔ فکرہ الیکم الکفروا لفسوق والعصیان نیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں کفر ، نافرمانی اور گناہ سے متعلق نفرت پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے تم ان چیزوں کو ناپسند کرتے ہو ۔ فرمایا اولئک ھم الرشدون ایسی ہی صفات کے حاملین لوگ نیکی اور راہ راست پر ہیں ۔ فرمایا فضلاً من اللہ و نعمۃ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے کہ اس نے تمہارے دلوں میں یہ چیزیں ڈال دی ہیں ، لہٰذا اگر اللہ کا نبی تمہاری کوئی بات نہ مانے تو اس کا برا نہ منائو بلکہ نبی کے فیصلے پر راضی ہو جائو ۔ ایمان دار آدمی وہی ہیں جو اپنی رائے پر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو مقدم جانتے ہیں اور یہی ہدایت کا راستہ ہے۔ فرمایا واللہ علیم حکیم اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور تمام حکمتوں کا مالک ہے۔ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ تم ان چیزوں کو نہیں جانتے جن سے اللہ تعالیٰ واقف ہے۔ وہ اپنے علم محیط اور حکمت کے مطابق جو احکام دیتا ہے ان کو بلا چون وچرا تسلیم کرلینا ہی مخلوق کے حق میں بہتر ہے۔
Ayahs 49:9–10

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اگر ایمان والوں میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں ، پس صلح کر ائو ان دونوں کے درمیان پس اگر ایک بغاوت کرے ان میں سے دوسرے کے خلاف ، پس سب اس کے ساتھ لڑو جو بغاوت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف ۔ پس اگر وہ لوٹ آئے تو صلح کر ائو ان کے درمیان عدل کے ساتھ اور انصاف کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

بیشک ایمان والے بھائی بھائی ہیں ، پس صلح کر ائو اپنے بھائیوں کے درمیان ، اور ڈرو اللہ تعالیٰ سے تا کہ تم پر رحم کیا جائے

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بہتر طریقے سے بسر کرنے اور نظام حکومت کو صحیح طریقے پر قائم کرنے سے متعلق اس سورة میں بڑے اہم اصول و ضوابط بیان فرمائے ہیں ۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو ، اور ہر حالت میں اللہ سے ڈرتے ہو ۔ پیغمبر خدا کی مجلس میں اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور نہ ہی آپ کے سامنے زور سے بولو ۔ پھر فرمایا کہ اگر کوئی جھوٹا آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس پر بلا تحقیق عمل نہ شروع کردو بلکہ اس کی اچھی طرح تفتیش کرلو تا کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو ۔ جس سے بعد میں پشیمان ہونا پڑے ۔ فرمایا یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے۔ اللہ نے ایمان کو تمہارے دلوں میں مزید کیا ہے اور کفر ، نافرمانی اور گناہ کی نفرت ڈالی ہے ، لہٰذا اس بات کا یہی تقاضا ہے کہ تم مذکورہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہو ۔ تا کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کامیاب ہو سکو۔ مصالحت کا ضابطہ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے چھٹا اہم اصول یہ بیان فرمایا ہے وان طائفتن من المومنین اقتلوا اگر اہل ایمان کے د و گروہ آپس میں لڑ پڑیں فاصلحوا بینھما تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو ، اگر مسلمانوں کی جماعت میں خلیفہ وقت یا اس کا مقررکردہ حاکم موجود ہے تو اولین ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے کہ وہ دو متحارب فریقوں کے درمیان صلح کا بندوبست کرے اور اگر حاکم موجود نہیں ہے تو پھر ساری جماعت المسلمین کا فرض بنتا ہے کہ وہ دو گروہوں کے درمیان پیدا ہونے والے جھگڑے کو مٹانے کی کوشش کریں ۔ چناچہ حضور ﷺ کے زمانے مبارکہ میں اس قسم کے کئی واقعات پیش آئے جن میں آپ نے مخاصم فریقوں کے درمیان صلح صفائی کرا دی ۔ کئی مواقع پر مہاجرین اور انصار کے درمیان مخاصمت پیدا ہوئی تو آپ نے ان کے درمیان صلح کرا کے جھگڑے کو ختم کردیا ۔ مدینہ طیبہ میں اوس اور خزرج کے قبائل سینکڑوں سال سے آباد تھے۔ اور ان کی آپس میں دشمنی بھی بڑی پرانی تھی۔ زمانہ جاہلیت میں ان دو خاندانوں کی آپس میں معمولی معمولی باتوں پر لمبے عرصہ تک لڑائیاں ہوتی رہیں ، حتیٰ کہ ایک لڑائی ایک سو بیس سال تک نسلا ً بعد نسلا ً چلتی رہی ۔ حضور ﷺ مدینہ پہنچے تو آپ نے ان دو قبیلوں کے درمیان تمام پرانے جھگڑوں کو ختم کرا دیا ۔ ان کی دشمنی جاتی رہی اور وہ باہم شیرو شکر بن کر رہنے لگے۔ حدیث شریف میں غزوہ بدر سے پہلے کا ایک واقعہ آتا ہے ۔ ہجرت کے بعد قریبی زمانہ میں حضور علیہ السلا م اپنے ایک صحابی حضرت سعد ابن عبادہ ؓ کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے۔ اس وقت تک رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ابھی زبانی طور پر بھی ایمان نہیں لایا تھا اور صحابی کا گھر اسی منافق کے محلہ میں تھا۔ حضور ﷺ گدھے پر سوار اس محلہ میں پہنچے تو وہاں عبد اللہ بن ابی اور اس کے بعد ساتھی بیٹھے تھے۔ ان پر گدھے کے چلنے کی وجہ سے کچھ گرد و غبار اڑ کر پڑا ، تو عبد اللہ کے منہ سے نکلا ، صاحب ! اپنے گدھے کو ہم سے دور رکھیں کیونکہ اس کے پائوں کی گرد و غبار اور اس کی بو ہمیں تکلیف دیتی ہے ، لہٰذا آپ ہماری مجلسوں میں نہ آیا کریں ۔ وہاں پر ایک مسلمان بھی موجود تھا۔ جس نے اس ناشائستہ کلمے کا بڑا برا منایا ، اور آپ سے مخاطب ہو کر عرض کیا کہ حضور ! آپ ہماری مجلسوں میں ضرور آیا کریں ، یہ تو ہمارے لیے باعث برکت ہوگا ۔ کلمات کے اس تبادلہ پر دونوں میں الجھائو پیدا ہوگیا ۔ ایک طرف عبد اللہ کے حامی تھے۔ تو دوسری طرف کچھ مسلمان بھی جمع ہوگئے ، کافی تکرار ہوا ، حتیٰ کہ ایک دوسرے پر لاٹھی اور جوتے بھی چلے ، حضور ﷺ اپنی سوار ی سے اترے ، فریقین کو سمجھایا اور ان کے درمیان مصالحت کرا دی جس سے معاملہ رفع دفع ہوگیا ۔ ایک انصاری اور اس کی بیوی کے درمیان تنازعہ پیدا ہوگیا ۔ بیوی میکے جانا چاہتی تھی مگر خاوند اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ جب بیوی نے اصرار کیا تو خاوند نے اس کو مکان کی اوپر والی منزل میں بند کردیا ۔ بیوی نے کسی ذریعے سے اپنے خاندان والوں کو اس زیادتی کی اطلاع کردی ، وہ لوگ آئے اور خاوند سے پوچھ گچھ کی ، اتنے میں اس شخص کے خاندان والوں کو اس تنازعہ کی خبر ملی تو وہ بھی پہنچ گئے۔ فریقین میں تکرار ہوا ۔ دھینگا مشتی ہوئی اور پھر نوبت لڑائی تک پہنچ گئی ۔ جب اس بات کی خبر حضور ﷺ کو ہوئی تو آپ نے فریقین کے درمیان صلح صفائی کرا دی اور اس طرح جنگ و جدل کا ایک بڑا خطرہ ٹل گیا ۔ اس قسم کے دیگر واقعات بھی ملتے ہیں کہ دو مومن فریقین میں جھگڑا پیدا ہوا تو آپ نے صلح صفائی کرا دی ۔ الغرض اللہ نے اس آیت کریمہ میں یہی بات سمجھائی ہے کہ اگر مومنوں کے دو گروہوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوجائے تو ان کے درمیان صلح کرا دو ۔ اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ دو مومن آدمیوں کا آپس میں لڑنا کبیرہ گناہ ہے مگر اس کے باوجود انہیں مومن ہی کہا گیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے قتال المومن کفرو سبابہ فسق یعنی کسی مومن آدمی کے ساتھ لڑنا کفر ہے جب کہ اس کو گالی دینا فسق ہے ، تا ہم کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے بھی آدمی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ، اسی لیے فرمایا کہ متحارب گروپوں کی آپس میں صلح کرا دیا کرو ۔ جھگڑے تنازعے میں دو افراد بھی ملوث ہو سکتے ہیں ، دو خاندان بھی اور دو جماعتیں ، پارٹیاں یا فرقے بھی ۔ اس کے علاوہ دو ملک بھی متحارب فریق بن سکتے ہیں ۔ ہر جگہ یہی اصول کار فرما ہے کہ جھگڑا جہاں بھی ہو اس کو رفع کر کے فریقین کے درمیان صلح کرا دو ۔ صحابہ ؓ میں اختلافات حضور ﷺ کا اپنا زمانہ مبارکہ تو خیر القرون یعنی بہترین زمانہ تھا۔ اس کے بعد اختلافات پیدا ہونے شروع ہوئے جو پھیلتے ہی چلے گئے اور آج تک معاملات سلجھنے کی بجائے الجھتے ہی رہے ہیں ۔ حضور ﷺ کے بعد آپ کے صحابہ کرام ؓ میں بھی اختلافات پیدا ہوئے مگر ان کی بنیاد نفسانیت پر نہیں بلکہ اجتہاد پر تھی ۔ اللہ نے تمام صحابہ ؓ کے حق میں اپنی خوشنودی کا اعلان کردیا ہے لہٰذا ہمیں انکے بارے میں کلام نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے دین کے لیے عظیم خدمات انجام دیں ، اللہ نے ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف کر یا ہے۔ اسی لیے ہمارے بزرگوں میں سے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے صحابہ کرا م ؓ کے اختلافات کے بارے میں شرح صدر حاصل ہے اور مجھے یقین ہے کہ صحابہ ؓ میں سے کسی کا اختلاف ، نفسیانیت ، خود غرضی یا ضد کی بناء پر نہیں تھا۔ بلکہ محض اجتہادی اختلاف تھا ۔ صحابہ ؓ میں سے حضرت علی ؓ اور امیر معاویہ ؓ کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے حضرت طلحہ ؓ اور حضرت زبیر ؓ کے درمیان بھی اختلاف رائے ہوا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے درمیان شکر رنجی وغیرہ سب اجتہادی اختلافات تھے۔ امام قرطبی (رح) نے امام حسن بصری (رح) سے نقل کیا ہے کہ کسی نے کہا کہ اختلافات تو صحابہ کرام ؓ کے درمیان بھی پیدا ہوئے اور پھر ان کے درمیان جنگیں بھی ہوئیں ۔ اس کے جواب میں امام حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ صحابہ ؓ کے اختلافات کے وقت وہ خود وہاں موجود تھے جب کہ ہم وہاں موجود نہیں تھے۔ اس وقت کے حالات کو وہ جانتے تھے جب کہ ہم ان کو نہیں جانتے لہٰذا جس معاملہ میں صحابہ ؓ نے اتفاق کیا ، ہم نے اس کا اتباع کیا ، اور جس چیز میں انہوں نے اختلاف کیا ، ہم نے اس میں توقف کیا ۔ کم از کم ہمیں کسی ایسے معاملہ میں ضد اور عناد کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ امام شافعی (رح) اور امیر المومنین عمر ابن عبد العزیز (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان سے صحابہ کرام ؓ کے اختلافات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں کے خوف سے اللہ نے ہماری تلواروں کو پاک رکھا ہے یعنی ہماری تلواروں نے ان کا خون بہانے میں حصہ نہیں لیا ، لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی زبانوں کو بھی ان کے اختلافات سے پاک رکھیں ۔ شاہ ولی اللہ (رح) بھی فرماتے ہیں ” ماموریم از کف لسان در حق ایشاں “ کہ جہاں صحابہ کرام ؓ میں آپس کے اختلافات کا تذکرہ ہو وہاں ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اپنی زبانوں کو روک رکھیں اور سب کو بہتری کے ساتھ یاد کریں ۔ ہمیں اللہ کے نبی کی طرف سے یہی حکم دیا گیا ہے۔ اگر صحابہ کرام ؓ کے بارے میں زبان کھولی گئی ۔ ان پر نکتہ چینی کی گئی یا طعن و ملامت کا دروازہ کھولا گیا تو دین کا دروازہ درہم برہم ہوجائے گا کیونکہ وہ لوگ دین کے اولی راویا ن اور دین کو دنیا میں پھیلانے والے اولین معلمین ہیں ۔ اگر صحابہ ؓ پر اعتماد اٹھ گیا ۔ تو پھر نہ قرآن پر اعتماد برقرار رہے گا ، نہ حدیث پر اور نہ سنت پر ، غرضیکہ صحابہ کرام ؓ کے بارے میں یہی عقیدہ رکھنا چاہئے کہ وہ سب کے سب عادل تھے۔ حضرت علی ؓ سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے جن لوگوں کے خلاف جنگیں لڑی ہیں ۔ کیا وہ مشرک تھے ؟ فرمایا نہیں ، بلکہ جن کے خلاف جنگ جمل یا جنگ صفیں لڑی گئی وہ تو شرک سے بھاگنے والے تھے۔ پھر پوچھا گیا ، کیا وہ منافق تھے ؟ فرمایا نہیں ، منافقون کی صفت تو اللہ نے یہ بیان کی ہے ۔ ولا یذکرون اللہ الا قلیلا ً ( النسائ : 142) کہ وہ اللہ کا ذکر کم ہی کرتے ہیں مگر یہ لوگ تو پورے طریقے سے خدا کی یاد میں لگے رہتے ہیں ، پھر پوچھا گیا کہ آخر آپ نے ان کے خلاف جنگ کیوں کی ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا اخواننا بغوا علینا یہ ہمارے بھائی ہیں مگر انہوں نے ہمارے خلاف سر کشی اختیار کی ۔ اس لیے ان کے خلاف جنگ کرنا پڑی ۔ شیعوں کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں بھی ہے کہ حضر ت علی ؓ نے اپنے خطبے کے دوران فرمایا کہ ہمارے اور شامیوں کے درمیان اختلاف کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہمارا دین ہی الگ الگ ہے بلکہ دیننا واحد ہمارا دین تو ایک ہی ہے ہماری کتاب بھی ایک ہے اور نبی بھی ایک ہے الا ما اختلفنا فی دم عثمان البتہ ہمارا اور ان کا اختلاف حضرت عثمان ؓ کے خون بہا کے بارے میں ہے یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ کے خون کے ذمہ دار ہم یا ہماری جماعت ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ونحن براء ہم اس خون سے بری ہیں ۔ ہم اس میں ہرگز شریک نہیں ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم ان سے دین میں بڑھ کر نہیں اور وہ ہم سے بڑھ کر نہیں ۔ بہر حال مسلمانوں کے اختلافات کے دوران سمجھوتے اور صلح صفائی کی کوششیں عام طور پر ناکام ہی ہوئی ہیں ۔ بہت شاذ معاملات ایسے ہوئے ہیں ، جہاں کہیں معاملہ سلجھ گیا ہو ۔ متاخرین کی بد قسمتی تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان بالعموم لڑتے بھڑتے ہی ختم ہوئے ہیں بادشاہت ملی تو دوسروں کو ختم کیا یا خود مٹ گئے۔ عالم اسلام میں اس قسم کے اختلافات ہمیشہ رہے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں ایران اور عراق کے درمیان ایک چھوٹے سے علاقے کا تنازعہ گزشتہ آٹھ سال سے چل رہا ہے۔ اس جنگ میں پانچ لاکھ عراقی اور سات لاکھ ایرانی ہلاک ہوچکے ہیں اور جو زخمی ہوئے ہیں وہ الگ ہیں ، مالی نقصان کا اندازہ ہی نہیں لگایاجا سکتا ۔ اپنی پوری کوشش کے باوجود مسلم امہ فریقین کی صلح کرانے میں نا کام رہی ہے ( بالآخر یہ مسئلہ عراق کی طرف سے متنازعہ علاقہ سے یکطرفہ دست برداری اور جنگ بندی کی بناء پر ختم ہوگیا مگر اس کے بعد عراق نے کو یت پر بزور قبضہ کرلیا ۔ تمام مسلمان ممالک نے صلح صفائی کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ آخر کار امریکہ اور دوسرے مغربی مالک کی مشرکہ افواج نے کو یت کو واگزار کرایا ) بہر حال اللہ نے یہ ضابطہ بتلا دیا ہے کہ آپس میں حسد اور بغض نہ کرو ، ایک دوسرے کی مخالفت نہ کرو ، حد سے زیادہ نہ بڑھو ، اور بھائی بھائی بن کر رہو ۔ فرمایا اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو فان بغت احد ھما علی الاخری پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر سر کشی کرے فقاتلوا التی تبغی تو سارے مل کر بغاوت کرنے والے کی سر کو بی کرو ۔ حتیٰ تفیء الی امر اللہ یہاں تک کہ سر کشی کرنے والا اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے ۔ مطلب یہ کہ زیادتی کرنے والے فریق کو مجبور کر دو کہ وہ حکم الٰہی کی تعمیل کر کے سر کشی اور زیادتی کو ختم کردے۔ عام طریے سے صلح نہ ہونے کی صورت میں اللہ نے زیادتی کرنے والے فریق کو طاقت کے ذریعے مغلوب کرنے کا بھی حکم دیا ہے عالمی تنظیم اقوام متحدہ (U.N.O) پر تو اکثر و بیشتر کافر ، مشرک ، دہریے ، یہود ، ہنودنصاریٰ اور کمیونسٹ قابض ہیں ۔ وہ اگر مسلمانوں کی آپس میں صلح نہیں کراتے تو ان سے کیا گلہ ہو سکتا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ خود مسلمانوں نے اس طرف کبھی سنجیدگی سے پیش رفت نہیں کی ۔ فساد کو ختم کرنے کا آخری طریقہ یہی ہے کہ سارے مل کر ظالم کا ہاتھ روک دو ۔ فرمایا اس آخری کارروائی کے نتیجے میں فان فاء ت اگر زیادتی کا مرتکب فریق خدا کے حکم کی طرف لوٹ آئے یعنی وہ صلح پر آمادہ ہوجائے فاصلحوا بینھمابالعدل تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو ۔ واقسطوا اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دو ، حق دار کو اس کا حق دلائو ، اور الم کو سر زنش کرو ، فرمایا انصاف کرو کیونکہ ان اللہ یحب المقسطین بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، ظلم و زیادتی ، بےانصافی ، طرفداری ، خود غرضی اور رشوت ستانی سے فساد ہی پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیشہ عدل و انصاف کو پیش نظر رکھو ، اور اسی کے مطابق صلح کر ائو ۔ کیونکہ انما المومنون اخوۃ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اختلاف بھائیوں میں بھی ہو سکتا ہے اور اس کو سلجھانے کا طریقہ یہی ہے۔ فاصلحوا بین اخویکم کہ اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو ، عدل و انصاف اور صلح جوئی ہی معاشرے کے امن وامان کی ضمانت ہے ، مگر تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے اس ضابطے کی ہمیشہ مخالفت کی ۔ ہماری تاریخ شرو فساد سے بھری پڑی ہے۔ مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کافروں سے بھی بد تر سلوک کیا ۔ برصغیر میں سوریوں ، مغلوں ، تغلق خاندان اور دوسروں کے ساتھ اختلافات نے کیا گل کھلائے ، عباسیوں ، امویوں اور عثمانیوں کے اختلافات نے لاکھوں آدمی موت کے گھاٹ اتار دیے۔ کیا یہ بھائیوں جیسا سلوک ہے ؟ اللہ نے فرمایا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کی بجائے صلح ہونی چاہئے۔ فرمایا واتقوا اللہ اللہ سے ڈرتے رہو ۔ انسان کا تقویٰ ہی اسے صلح پر آمادہ کرسکتا ہے خوف خدا قوانین شرع کی پابندی کا احساس دلاتا ہے۔ کفر ، شرک ، نفاق اور معاصی سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر انسان میں فسق و فجور ہوگا تو شر و فسادکو فرو غ حاصل ہوگا ۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو لعلکم ترحمون تا کہ تم پر رحم کیا جائے تم احکام الٰہی کی پابندی کرو گے اس کا خوب رکھو گے تو وہ بھی تم پر رحم فرمائے گا ۔ ورنہ نتیجہ ظاہر ہے۔