Ayahs 48:1–3نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة الفتح ہے جو کہ اس کی پہلی اور اٹھارہویں آیت میں آمدہ لفظ فتح سے مآخوذ ہے۔ یہ سورة مدینہ منورہ میں نازل ہوئی بلکہ 6ھ میں حدیبیہ سے واپسی پر راستے میں نازل ہوئی ، چونکہ یہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے ، اس لیے مدنی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی انتیس آیتیں اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة 560 الفاظ اور 2400 حروف پر مشتمل ہے۔
تاریخی پس منظر
ہجرت کا چھٹا سال جا رہا تھا۔ 5ھ میں غزوہ احزاب پیش آ چکا تھا۔ اس سے پہلے بدر اور احد کی جنگیں ہوچکی تھیں ۔ اس کے علاوہ بھی چھوٹی موٹی جھڑپیں واقع ہوچکی تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی تھی فریقین کو ہر قت کسی مزی جنگ کا خطرہ در پیش رہتا تھا مکہ کے مسلمان بھاگ بھاگ کر مدینہ طیبہ آ رہے تھے مگر قریش حتی الامکان ان کو روک رہے تھے اس دوران میں حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ بمع صحابہ ؓ مکہ معظمہ تشریف لے گئے ہیں اور وہاں عمرہ ادا فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کا خواب تو وحی الٰہی کی ایک قسم ہے اور یہ سچا ہوتا ہے اور پھر آگے آیت 370 میں اس کی توثیق بھی آ رہی ہے۔ حضور ﷺ نے اس خواب سے یہ اخذ کیا کہ انہیں عمرہ کی سعادت اسی سال نصیب ہو رہی ہے ، لہٰذا آپ نے صحابہ ؓ میں عمرہ کے لیے تیاری کا اعلان فرما دیا اور آس پاس کے قبائل میں پیغام بھیج دیا کہ ہم عمرہ کے لیے جا رہے ہیں ، جو کوئی جانا چاہے ہمارے ساتھ جاسکتا ہے۔ ذی قعدہ کے آغاز میں تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد پر مشتمل یہ قافلہ عمرہ کے لیے مدینہ طیبہ سے روانہ ہوا ۔ ہدی کے اونٹ ہمراہ لیے ۔ ذوالحلیفہ سے احرام باندھا اور لبیک لبیک پکارتے ہوئے سفر شروع کردیا ۔ زمانہ جاہلیت میں قریش کا یہ دستور تھا کہ وہ حج وعمرہ کے لیے آنے والے کسی شخص کو نہیں روکتے تھے ۔ خواہ وہ ان کا کتنا ہی بڑا دشمن کیوں نہ ہو ۔ اس کے باوجود حضور ﷺ نے مکہ میں اپنا ایک قاصد روانہ فرمایا تا کہ قریش کو بتلا دیا جائے کہ ہم لوگ عمرہ ادا کرنے کے لیے آ رہے ہیں ، ہمارا نہ کوئی سیاسی مقصد ہے اور نہ ہی ہم لڑائی کی نیت سے چلے ہیں ہم نے احرام باندھ رکھے ہیں اور قربانی کے جانور ساتھ ہیں ، لہٰذا ہمارے راستے میں کسی قسم کی مزاحمت نہیں ہونی چاہئے۔ جب یہ خبر قریش مکہ کو پہنچی تو وہ سخت سٹ پٹائے۔ دستور کے مطابق وہ روک بھی نہیں سکتے تھے ، مگر وہ یہ بھی برداشت نہیں کرتے تھے کہ مسلمان عمرہ ادا کریں۔ مسلمانوں کی یہ جماعت جب مکہ معظمہ سے دس بارہ میل کے فاصلے پر حدیبیہ کے مقام پر پہنچی جسے آج کل شمییہ بھی کہتے ہیں تو مشرکین کی طرف سے اطلاع ملی کہ وہ مسلمانوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں اور اگر مسلمان بضد ہوئے تو وہ جنگ کے لیے بھی تیار ہیں ۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو اپنا سفیر بنا کر بھیجا تا کہ وہ قریش مکہ کو باور کرا سکیں کہ ہم صرف عمرہ کرنا چاہتے ہیں ۔ جس کے بعد واپس چلے جائیں گے۔ لہٰذا وہ ہمارے راستے میں مزاحم نہ ہوں ۔ مشرکین یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ وہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے حضرت عثمان ؓ کو پیش کش کی کہ اگر وہ چاہیں تو عمرہ ادا کرسکتے ہیں مگر باقی مسلمانوں کو یہاں نہیں آنے دیں گے ۔ حضرت عثمان ؓ نے ان کے کی یہ پیش کش قبو ل نہ کی اور فرمایا کہ جب تک حضور ﷺ اور باقی مسلمان عمرہ اد انہیں کریں گے ، وہ بھی ایسا نہیں کرسکتے۔ اس دوران میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ مشرکین نے حضرت عثمان ؓ کو شہید کردیا ہے یہ خبر ملنے پر حضور ﷺ نے صحابہ ؓ سے مشورہ کیا اور پھر یہ فیصلہ ہوا کہ اگر یہ خبر درست ہے تو پھر ہم حضرت عثمان ؓ کا بدلہ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ اگرچہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے اور نہ ہمارے پاس سامان ضرب و حرب ہے ، مگر ہم اس قتل کو برداشت نہیں کرسکتے ، خواہ ہم سارے کے سارے شہید ہوجائیں ۔ چناچہ اس مقصد کے لیے ایک درخت کے نیچے آپ نے بیعت لی ۔ جو بیت رضوان کے نام سے مشہور ہے اور جس کا ذکر اس سورة میں بھی آ رہا ہے ۔ اس کے بعد حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر غلط ثابت ہوئی اور قریش مکہ نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کی پیش کش کی جس کے لیے انہوں نے بڑی کڑی شرائط رکھیں جن کا ذکر احادیث میں موجود ہے اور وہ یہ تھیں ۔
(1) یہ صلح دس سال تک نافذ العمل رہے گی اور اس دوران فریقین ایک دوسرے کے خلاف خفیہ یا اعلانیہ کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔
(2) اس دوران اگر قریش کا کوئی آدمی بھاگ کر مدینہ چلا جائے گا ۔ تو اسے واپس کردیا جائے گا ۔ اگر حضور کے ساتھیوں میں سے کوئی شخص قریش کے پاس آ جائیگاتو اسے واپس نہیں کیا جائے گا ۔
(3) عرب قبائل میں سے جو جس فریق کا حلیف بننا چاہئے اسے اختیار ہوگا ۔
(4) مسلمان اس سال عمرہ ادا کیے بغیر واپس چلے جائیں گے اور آئندہ سال صرف تین دن ٹھہر کر عمرہ ادا کرسکیں گے۔
مسلمانوں کو یہ شرائط بالکل پسند نہیں تھیں مگر حضور ﷺ نے ان کو منظور کرلیا ۔ اس دوران کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے جن سے حضور ﷺ کے فیصلے کی تائید ہوتی تھی ۔ مثلاً حدیبیہ کے مقام پر آ کر حضور ﷺ کی اونٹنی خود بخود رک گئی اور کوشش کے باوجود آگے چلنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھی ۔ آپ نے فرمایا حیسھا حابس الفیل اس اونٹنی کو اسی ذات نے یہاں روک دیا ہے۔ جس نے ابرہہ کے ہاتھیوں کو منیٰ کے قریب روک دیا تھا اور انہوں نے مکہ پر چڑھائی سے انکار کردیا تھا۔ اور پھر چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے اللہ نے حملہ آور لوگوں کو تہس نہس کردیا ۔ بہر حال صلح کا یہ معاہدہ طے پا گیا ۔ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ قربانی کے جو جانور ساتھ لائے ہیں۔ وہ اسی مقام پر ذبح کر کے احرام کھول دیے جائیں ۔ صحابہ ؓ نے تعمیل حکم کی اور اس کے بعد قافلہ مدینہ کی طرف روانہ ہوگیا ۔ راستے میں یہ سورة فتح نازل ہوئی ۔ جس میں اللہ نے فتح کی بشارت سنائی۔ آپ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایک سورة نازل ہوئی ہے احب الی من الدنیا وما فیھا جو مجھے دنیا اور مافیہا سے زیادہ پیاری ہے۔ آپ نے یہ سورة تلاوت فرمائی تو صحابہ ؓ کا غم دور ہوگیا اور وہ سمجھ گئے کہ اگرچہ معاہدہ حدیبیہ بظاہر مسلمانوں کے خلاف جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اسی میں اہل ایمان کی بہتری رکھ دی ہے۔ یہ ذیقعد ہ 6ھ کا واقعہ ہے ۔ اس کے تین ماہ بعد یعنی 7ھ کے آغاز میں اللہ نے مسلمانوں کو خیبر فتح کرایا ۔ جس کی وجہ سے وہاں کی ساری زمین ، باغات اور مال و دولت مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ بیعت رضوان میں شریک ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پہلا انعام تھا جس سے مسلمان خوشحال ہوگئے پھر اسی سال حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے عمرہ قضا ادا کیا ۔ آپ ذی قعدہ کے مہینہ میں انہی صحابہ ؓ کو ہمراہ لے کر مکہ پہنچے جو بیعت رصوان میں شامل تھے۔ شرائط صلح کے مطابق مسلمانوں نے مکہ میں تین دن قیام کیا اور پھر واپس مدینہ چلے گئے ، یہ عمرۃ القضاء کہلاتا ہے۔
مضامین سورة
مذکور ہ پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پیش آنے والے دس واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ واقعہ حدیبیہ کے ضمن میں بیعت رضوان کا ذکر اور پھر معاہدہ صلح کا تذکرہ بھی آیا ہے۔ حضور ﷺ کو آنے والے خواب کا ذکر ہے اور ساتھ صحابہ کرام ؓ کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔ منافقین کا تعاقب اس سورة مبارکہ میں بھی کیا گیا ہے۔ ان کی سازشوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے اور پھر ان کو سخت وعید بھی سنائی گئی ہے۔ حدیبیہ کی طرف روانگی کے وقت آپ نے بعض دیہاتی منافقوں کو بھی چلنے کی دعوت دی تھی مگر وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان دشمن کے گھر میں خود چل کر جا رہے ہیں ۔ یہ زندہ واپس نہیں آئیں گے ۔ لہٰذا انہوں نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے سے انکار کردیا ۔ پھر جب آپ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو انہیں مسلمانوں کی فتح کا یقین تھا۔ لہٰذا مال حاصل کرنے کا لالچ میں انہوں نے ساتھ چلنے کا ارادہ ظاہر کیا مگر حضور ﷺ نے منع فرمایا اور کہا کہ ہمارے ساتھ وہی لوگ جائیں گے جو واقعہ حدیبیہ کے وقت گئے تھے ، اس طرح یہ منافق خیبر کے مال سے مستفید نہ ہو سکے ، یہ واقعات بھی اس سورة میں اشارۃ ً مذکور ہیں۔
اس سورة مبارکہ میں اصلاح کے پہلو پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ انفرادی طور پر اصلاح کا آغاز عقیدے سے ہوتا ہے۔ پہلے انسان کے عقیدے کی اصلاح ہو ، پھر عمل کی اور پھر اخلاق کی ۔ اس کے بعد اجتماعی اصلاحات کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر جو لوگ اصلاحی پروگرام کو قبول نہیں کرتے ، ان کے ساتھ جنگ کرنا پڑتی ہے ذاتی اصلاح کے بعد قریبی رشتہ داروں کی اصلاح درکار ہوتی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو حکم دیا وانذر عشیرتک الاقربین ( الشعرائ : 214) آپ اپنی قریبی رشتہ داروں کو ڈر سنا دیں تا کہ ان کی اصلاح ہوجائے۔ اس کے بعد پھر پوری قوم کی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (یوسف : 2) ہم نے قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا تا کہ تم سمجھ جائو ۔ اللہ کے پیغمبر کی زبان عربی ، آپ کی قوم کی زبان عربی ، لہٰذا اللہ نے قرآن کو بھی عربی زبان میں نازل فرمایا تا کہ اس کے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے اور مسلمانوں کی ایک اولین جماعت تیار ہوجائے جو اس قرآن کے پروگرام کو لے کر دنیا میں پھیل جائے ، تا کہ ساری دنیا کی اصلاح ہوجائے ، غرضیکہ سورة ہذا میں یہ ساری باتیں آگئی ہیں۔
فتح مبین
ارشاد ہوتا ہے انا فتحنالک فتحا مبیناً بیشک ہم نے آپ کو ( اے پیغمبر ! ) کھلی فتح سے نوازا ہے ، جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ دس سال کے لیے کیا گیا تھا۔ مسلمانوں نے تو اس معاہدہ کی پوری پوری پاسداری کی مگر خود مشرکین جن کی شرائط پر معاہدہ ہوا تھا اسے قائم نہ رکھ سکے اور انہوں نے خود ہی اس کو توڑ دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ 8ھ میں اللہ نے مکہ کو فتح کرا دیا ۔ چناچہ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مذکورہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے۔ جس کی بشارت اللہ تعالیٰ نے سنا دی تھی ، مگر یہ درست نہیں ہے۔ صحیح حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ لوگ فتح مکہ کو فتح مبین سمجھتے ہیں ۔ مگر ہم صلح حدیبیہ کو فتح مبین سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اس صلح کی وجہ سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا ، راستے کھل گئے ۔ جس کی وجہ سے جب لوگوں نے مدینہ پہنچ کر مسلمانوں کے حالات دیکھے تو انہیں اسلام کی سچائی پر یقین آ گیا اور وہ دھڑا دھڑا اسلام میں داخل ہونے لگے ، صلح حدیبیہ دراصل اسلام کے لیے ایک پھاٹک کا کھلنا تھا کہ لوگ جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے جس کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بڑی تقویت حاصل ہوئی معاہدہ حدیبیہ دراصل پوری ملت اسلامیہ کے لیے فتح کی نوید تھی ۔ اس کے بعد خیبر فتح ہوا ۔ مکہ فتح ہوا اور پھر سارا عرب مسلمانوں کے زیر نگیں آ گیا۔ بعض قبائل نے تھوڑی بہت مزاحمت کی جو جلد ہی ختم ہوگئی اور عربوں کی اکثریت اسلام لے آئی ، لہٰذا اس کو فتح مبین سے تعبیر کیا گیا ہے۔
عام معافی کی بشارت
معاہدہ حدیبیہ کو فتح مبین قرار دینے کے ساتھ ساتھ اللہ نے فرمایا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر اے پیغمبر ! اللہ نے آپ کی تمام لغزشیں معاف فرما دی ہیں جو پہلے ہو چکیں اور جو بعد میں ہوں گی ۔ ذنب کا عام فہم معنی گناہ ہوتا ہے موٹی لغزشیں ہیں جو کبھی کبھار ہوجاتی ہیں ۔ اللہ نے ایسی معمولی خطائوں سے بھی در گزر فرمادیا ہے ، چونکہ یہ خطاب حضور ﷺ کو ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا حضور ! آپ کو یہ عافی مبارک ہو مگر ہمارے لیے اللہ کا کیا حکم ہے ؟ چناگنچہ آگے چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے بھی ایسی ہی بشارت سنا دی ۔ اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جن لوگوں نے واقعہ حدیبیہ میں حصہ لیا ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا ۔ ان میں سے صرف ایک شخص کو مستثنیٰ کیا گیا ۔ جو سرخ اونٹ والا تھا ، یہ در حقیقت منافق تھا اور اس نے بیعت بھی نہیں کی تھی ۔ جن لغزشوں کی معافی کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے امام شاہ ولی اللہ (رح) اس کی توجیہہ اس طرح فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی کی دو حیثیتیں ہیں ۔ ایک حیثیت سے آپ اللہ کے نبی ہیں اور اس حیثیت میں آپ کی اطاعت تمام اہل ایمان پر فرض ہے ۔ آپ کی دوسری حیثیت امیر جماعت کی ہے ۔ آپ خدا کی خلیفہ بھی ہیں اور جماعت المسلمین کے امیر بھی ۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ جماعت کی غلطیوں میں ان کا امیر بھی شریک سمجھا جاتا ہے۔ جماعت کو نفع ہو یا نقصان ، فتح ہو یا شکست امیر جماعت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو اس لحاظ سے جماعت کی غلطیوں میں چونکہ امیر جماعت بھی شامل ہوتا ہے ۔ لہٰذا ایسی ہی غلطیوں اور کوتاہیوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ اس نے آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف فرما دی ہیں۔
اتمام نعمت
اس معافی کے علاوہ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی ویتم نعمتہ علیک اور تا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی نعمت پوری کر دے ۔ اس نعمت سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو نہ صرف منصب نبوت پر سرفراز فرمایا بلکہ آپ پر سلسلہ نبوت کو ختم کردیا ۔ پھر آپ کی بعثت کسی ایک قوم یا کسی خاص خطہ کی طرف نہیں بلکہ اللہ نے فرمایا وما ارسلنک الا کافۃ للناس ( سبا : 28) آپ کی بعثت تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے۔ آپ کو اللہ نے غلبہ عامہ اور تامہ عطا فرمایا اور یہ غلبہ آپ کی امت کو بھی حاصل ہوا ۔ آپ کا لایا ہوا دین ساری دنیا میں پھیلا اور قیامت تک قائم رہے گا ۔ یہ سب انعامات ہیں جن کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ اس نے اپنی نعمت آپ پر پوری کردی ۔ اور ساتھ یہ بھی فرمایا ویھدیک صراط مستقیما ًاور آپ کی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کی یعنی آپ اس صراط مستقیم پر قائم و دائم ہیں کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔ اس کے علاوہ وینصرک اللہ نصراً عزیزا ً اللہ نے آپ کی زبردست مدد فرمائی ۔ واقعہ حدیبیہ میں ہی حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی افواہ اڑ گئی مگر آپ ؓ کو اللہ نے سلامت رکھا۔ آپ ؓ بعد میں شہید ہوئے مگر اس وقت تک مسلمان قیصر و کسریٰ کے تخت الٹ چکے تھے اور نصف دنیا اسلام کے زیر نگیں آچکی تھی۔ اس سے بڑی نصرت الٰہی کیا ہو سکتی ہے ؟ اللہ نے عرب کے بےسرو سامان لوگوں کو جو محض قبائلی زندگی سے واقف تھے بڑی منظم اور عظیم سلطنتوں کا مالک بنا دیا کافر و مشرک مغلوب ہوئے اور دین اسلام دنیا بھر میں پھیل گیا ۔ الغرض ! آج کے درس میں چار باتوں کا ذکر آ گیا ہے یعنی تقصیروں کی عام معافی نعمت کا اتمام ، راہ راست پر استقامت اور زبردست نصرت الٰہی ۔ اب اگلی آیات میں صحابہ کرام ؓ کو دی گئی تسلی اور ان سے کیے گئے وعدوں کا ذکر آ رہا ہے بیعت رضوان کا ذکر اس سے اگلے درس میں آگے گا ۔
Ayahs 48:4–7ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو فتح مبین کی خوش خبری سنائی اور ساتھ اپنی زبردست نصرت کا بھی یقین دلایا ۔ حضور ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا کہ آپ صحابہ ؓ کے ہمراہ عمرہ کر رہے ہیں ۔ مگر آپ ادائیگی عمرہ کے صحیح وقت کا اندازہ نہ کرسکے اور خیال فرمایا کہ شاید یہ سعادت اسی سال حاصل ہوجائے گی لہٰذا آپ ڈیڑھ ہزار جماعت صحابہ ؓ کے ہمراہ مدینہ کی طرف چل پڑے ، مگر جب آپ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آپ کو عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ بالآخر گفت و شنید کے بعد طے پایا ، کہ مسلمان اس سال بغیر عمرہ کیے واپس چلے جائیں گے اور اگلے سال آ کر ایسا کرسکیں گے۔ اگرچہ صحابہ کرام ؓ کے لیے یہ فیصلہ سخت دل شکن تھا مگر حضور ﷺ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑا ۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے ایمان داروں میں کمال درجے کا جذبہ اطاعت رکھ دیا تھا۔ اس اطاعت کا ذکر سورة ہذا میں کثرت کے ساتھ جگہ جگہ آیا ہے۔
نزول سکنیت
اس موقع پر اکثر صحابہ کرام ؓ کے دل میں سخت تردد تھا کہ وہ عمرہ نہیں کرسکے مگر اللہ کا نبی اس معاملہ میں بالکل مطمئن تھا کیونکہ آپ جان چکے تھے کہ اسی میں اسلام اور اہل اسلام کی بہتری ہے۔ باقی صحابہ ؓ میں سے حضر ت ابوبکر صدیق ؓ کو بھی کمال درجے کا اطمینان حاصل تھا اور وہ اس فیصلے پر بالکل راضی تھی ۔ اللہ نے اسی بات کا تذکرہ کیا ہے ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین خدا تعالیٰ کی ذات رحیم و کریم ہے جس نے اہل ایمان کے دلوں میں سکنیت ، اطمینان اور تسلی ڈال دی ہے ۔ اگرچہ انہیں مذکورہ فیصلے سے رنج تھا مگر اطاعت رسول کے جذبہ نے انہیں یہ فیصلہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے صلح کی کمزور ترین شرائط قبول کیں ۔ یہ چیز بھی صحابہ ؓ کے لیے پریشانی کا باعث تھی۔ حضرت عمر ؓ نے فرط جذبات میں آ کر عرض کیا ، حضور ! کیا اسلام بر حق نہیں اور ہم سچے نہیں ؟ فرمایا : کیوں نہیں ، اسلام بر حق ہے اور ہم سچے ہیں ۔ پھر عرض کیا ، کیا ہمارے مقتول جنت میں اور کافروں کے مقتول جہنم میں نہیں جائینگے ۔ آپ نے فرمایا ، بالکل ایسا ہی ہوگا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا ۔ پھر ہم اتنی کمزور شرائط کیوں تسلیم کریں ۔ حضور ﷺ نے جواب دیا ، میں اللہ کا نبی ہوں اور اللہ تعالیٰ ہرگز مجھے ضائع نہیں کریگا ۔ حضرت عمر ؓ نے یہی بات حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ بھی کی تو ان کا جواب بھی یہی تھا کہ حضو ر (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں ، اور اللہ تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا ۔ بہر حال حضرت عمر ؓ کی تسلی ہوگئی اور انہوں نے قربانی کر کے احرام کھول دیا ۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل کردی لیزداوا ایمانا ً مع ایمانھم تا کہ وہ بڑھ جائیں ایمان میں ان کے ایمان کے ساتھ ، صحابہ کرام ؓ ایمان میں تو پہلے ہی کامل تھے۔ مگر دلوں میں سکینت نازل ہونے کی وجہ سے ان کے ایمان مزید مضبوط ہوگئے اور وہ دین کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوگئے۔
ارض و سما کے لشکر
ارشاد ہوتا ہے وللہ جنود السموات اور اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے ، آسمانوں کے لشکر سے مراد اللہ کے فرشتے ہیں جن کے ذریعے اللہ نے ہدایت کو نازل فرمایا جو کہ دین توحید اور ایمان ہے بس میں انسانیت کی خدمت اور بنی نوع انسان کی بہتری کا پروگرام ہے۔ پھر یہ ہے کہ فرشتے اللہ کی معصوم مخلوق ہیں جن کی صفت ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔ سورة مریم میں ارشاد ہیلا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون ( آیت : 6) فرشتے اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ، بلکہ جو بھی حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ اب اللہ نے حضور ﷺ کے توسل سے صحابہ ؓ کی جو جماعت تیار کی تھی ، ان کا خاصہ بھی یہی تھا کہ وہ فرشتوں کی طرح اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے تھے۔ نافرمانی نہیں کرتے تھے اور ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہتے تھے۔ تو اللہ نے فرشتوں کے اس آسمانی لشکر کے ذریعے صحابہ ؓ کے زمینی لشکر پر سکون اور اطمینان نازل فرمایا ۔ آسمانی لشکروں نے بدر اور حنین میں زمینی لشکروں کی براہ راست مدد کی ۔ ولقد نصرکم اللہ ببدر ( آل عمران : 123) اللہ نے میدان بدر میں تمہاری مدد فرمائی حالانکہ اس وقت تم بےسرو سامان تھے۔ پھر آگے تین ہزا ر اور پانچ ہزار فرشتوں کے نزول کا ذکر بھی آتا ہے۔ اسی طرح سورة توبہ میں حنین کے موقع پر فرشتوں کے ذریعے مدد کا ذکر آتا ہے۔ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہ ُ فِیْ مَوَاطِنَ کَثِیْرَۃٍلا وَّیَوْمَ حُنَیْن (آیت : 25) اللہ نے بہت سے مواقع پر تمہاری مد د کی خاص طور پر حنین والے دن ، اور پھر فرمایا اَنْزَلَ اللہ ُ سَکِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا (آیت : 26) پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر تسکین نازل فرمائی اور ( تمہاری مد د کے لیے فرشتوں کے) لشکرنازل فرمائے جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ ہی کے لیے ہیں لشکر آسمانوں اور زمین کے وکان اللہ علیماً حکیما ًاور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ خدا تعالیٰ نے وحی کے ذریعے علم و حکمت کو نازل فرمایا اور صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ وہ اس علم و حکمت کو لے کر دنیا میں پھیل جائیں اور اسے بنی نوع انسان تک پہنچائیں ۔ دین اسلام بلا شبہ علم و حکمت پر مبنی ہے جب کہ باقی تمام ادیان یا اقوام شرک اور جہالت میں مبتلا ہیں۔ اللہ نے یہی بات سمجھائی کہ دیکھو ! اس نے اہل ایمان کے لیے سکینت نازل فرما کر ان کے ایمان میں اضافہ کردیا ہے اور ان کے یقین مزید پختہ ہوگئے ہیں ۔ ایمان کا اقرار تو بہر حال یکساں رہتا ہے اور اس میں اضافہ نہیں ہوتا ۔ مگر اس کی طمانیت میں تو لازماً اضافہ ہوجاتا ہے ۔ جس میں وہ آسمانی لشکر کی طرح ہمہ تن اطاعت شعار بن جاتے ہیں اور ہر قسم کی قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
اہل ایمان کے لیے انعامات
بیعت رضوان کا مختصر تذکرہ گزشتہ درس میں ہوچکا ہے ۔ جب حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر پہنچی تو صحابہ کرام ؓ نے آپ کے خونبہا کے لیے مر مٹنے کی بیعت کی ۔ یہ بہت اہم فیصلہ تھا جس نے مشرکین کو صلح پر آمادہ کردیا ۔ اگرچہ انہوں نے بڑی کڑی شرطیں پیش کیں مگر حضور ﷺ کی فراست نے یہ جانچ لیا تھا کہ اگرچہ یہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف ہیں مگر در حقیقت ان میں اہل اسلام ہی کا فائدہ ہے ، اور پھر ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اسے فتح مبین قرار دیا ۔ ان اہل ایمان کے متعلق خداوند تعالیٰ نے فرمایا لیدخل المومنین والمومنت جنت تجری من تحتھا الانھر تا کہ داخل کر دے اللہ تعالیٰ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ وجہ ظاہر ہے کہ مومن آدمی ہمیشہ اللہ کی ذات پھر بھروسہ کر کے ہر کام کرتے ہیں ، ان کا ایمان خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر پختہ ہوتا ہے ، جب کہ کفار و مشرکین اور منافقین میں یہ چیز نہیں پائی جاتی ۔ مسلمانوں کے قلب و ذہن میں ایک طرف خدا تعالیٰ کی رضا اور دوسری طرف خدمت خلق کا منشور ہوتا ہے۔
رضا الٰہی اور خدمت خلق
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ دین کانچوڑ اور خلاصہ التعظیم لامر اللہ والشفقۃ علی خلق اللہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور مخلوق خدا پر شفقت ہے ، مولانا احمد علی لاہوری (رح) اپنے دروس میں اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو عبادت سے بنی کو اطاعت سے اور مخلوق کو خدمت سے راضی کرلو کیونکہ دین کا لب لباب یہی ہے امام شاہ ولی اللہ (رح) بھی فرماتے ہیں کہ ہر شریف آدمی کا طبعی تقاضا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کرے اور بنی نوع انسان کی خدمت بجا لائے ۔ خدمت خلق تو غیر مسلم بھی کرتے ہیں اور اس کے بےبلند بانگ دعوے بھی کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات دعوے اصل خدمت سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ سو شلسٹوں اور کمیونسٹوں کا دعویٰ یہی ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کرتے ہیں ، حالانکہ وہاں بد ترین قسم کی ڈکٹیٹر شپ ہے ان کا نظام حکومت ایک فرد کی بجائے ایک جماعت کی مطلق العنانی ہے ۔ اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہ اپنے سوشلزم کے اصولوں کو بھی فراموش کردیتے ہیں چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں کمیونزم کا بانی ملک روس امریکہ اور برطانیہ جیسے سرمایہ داروں کے ساتھ مل گیا اور اپنا مطلب نکا ل لیا ۔ غرضیکہ غیر مذاہب والوں کی خدمت خلق محض زبانی دعوے تک محدود ہوتی ہے جب کہ اصل خدمت خلق وہ ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور جس کا مقصد دنیا میں تشہیر نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہوتا ہے۔ اسلام کے عقیدہ جزائے عمل سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہل ایمان خدمت خلق کا معاوضہ کسی مخلوق سے نہیں بلکہ خالق سے طلب کرتے ہیں جب کہ غیر ادیان والے اور دہریے لوگ اپنی نام نہاد خدمت انسانی کا معاوضہ اسی دنیا میں نقدی ، جنس ، عہدے یا اقتدار کی صورت میں وصول کرنے کے متمنی ہوتے ہیں اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ مومنوں کے لیے اللہ نے اپنے ہاں بہشت تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں خلدین فیھا مومن لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، وہاں کی نعمتوں سے مستفید ہوں گے اور وہاں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے یہ ان کی خدمت خلق کا بدلہ ہوگا ۔
اہل ایمان کے لیے ایک اور انعام یہ ہوگا ویکفر عنھم سیاتھم کہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی برائیاں اور کوتاہیاں دور کر دے گا ۔ ظاہر ہے جنگ کے دوران یا دیگر مواقع پر بشری تقاضوں کے مطابق انسانوں سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں مگر اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا ۔ وکان ذلک عند اللہ فوزاً عظیما ًاور خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ انسان کی غلطیاں معاف ہوجائیں اور وہ اللہ کی رحمت کے مقام جنت میں پہنچ جائے۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ نے صحابہ ؓ کی جو جماعت تیار کی تھی ان کا نظریہ اللہ کی رضا تھا۔ وہ اسی مقصد کے لیے خدمت خلق اور عبادت اور ریاضت کرتے تھے اور ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ اللہ انہیں بہشتوں میں داخل کرے گا ، ان کی غلطیاں معاف فرما دے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
مشرکوں اور منافقوں کیلئے سزا
اس کے بر خلاف فرمایا ویعذب المنفقین والمنفقت والمشرکین والمشرکت اور تا کہ اللہ تعالیٰ سزا دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو ۔ قرآن کے پروگرام کی مخالفت میں منافقوں اور مشرکوں کے دونوں گروہ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں ۔ منافق وہ لوگ ہیں جو بظاہر تو کلمہ توحید پڑھتے ہیں ۔ نبی کی مجلسوں میں بھی شریک ہوتے ہیں مگر جب جنگ پر جانا ہوتا ہے یا دوسری مشکل در پیش ہوتی ہے تو ان کی خباثت ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے دل کفر سے لبریز ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ باطنی سازشوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں ۔ ادھر مشرک ہیں جو کھلم کھلا دین کی مخالفت کرتے ہیں ، اس کے راستے میں ہر رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں اور اللہ کے دین اور اس کے پیروکاروں کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں ۔ منافقین اور مشرکین کے علاوہ یہود و نصاریٰ بھی اسی زمرہ میں آتے ہیں ۔ وہ بھی اسلام کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے حقیقت میں ان کا دین بھی دین ابراہیمی تھا۔ جس کا اعلان تھا حنفاء للہ غیر مشرکین بہ ( الحج : 31) صرف ایک خدا کی وحدانیت پر قائم ہو جائو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، مگر انہوں نے اصل دین کو بگاڑدیا اور کفر و شرک میں ہی مبتلا ہوگئے۔ ان کو بھی اللہ تعالیٰ سزا میں مبتلا کرے گا ۔ قرآنی پروگرام سے انحراف کرن والے بلکہ اس کی مخالفت کرنے والے قدیم ہندو اور جدید سکھ میں اس کے علاوہ بد مت والے ہیں جو مشرق بعید کے ملکوں میں رہتے ہیں۔ یہ سب مشرکین میں شامل ہیں اور سزا کے مستحق ہیں ۔
اللہ کے متعلق بد گمانی
فرمایا اللہ تعالیٰ ان منافقوں اور مشرکوں کو سزا دے گا الظانین باللہ ظن السوء جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ برا گمان رکھتے ہیں ۔ برے گمان سے یہی مراد ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ اس پر بھروسہ کرتے ہیں ، بلکہ اپنی خود ساختہ سکیموں کو ہی اول و آخر سمجھتے ہیں اور انہی پر عمل کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے منافقوں کو عمرہ کے لیے ساتھ چلنے کی دعوت دی مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بد گمانی کی اور مسلمانوں کی ہلاکت کا خطرہ ظاہر کیا ، اس لیے ان کی اکثریت اس موقع پر مسلمانوں کے ہمراہ نہ گئی ۔ ادھر مشرکین مکہ کی بد گمانی یہ تھی کہ شاید مسلمان شہر مکہ اور بیت اللہ شریف پر قبضہ ہی کرلیں ، لہٰذا انہوں نے اہل ایمان کو مکہ میں داخل ہی نہیں ہونے دیا اور صلح نامہ کی آڑ میں عمرہ کی ادائیگی اگلے سال پر ملتوی کرا دی ۔ اگرچہ اس میں بھی مسلمانوں ہی کی بہتری تھی مگر مشرکوں نے اپنی بد گمانی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ فرمایا منافق اور مشرک بد گمانی کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے علیھم دائرۃ السوء کہ اس بد گمانی کی بری گردش انہی پر پڑیگی اور بالآخر یہی مغلوب ہوں گے اور اللہ اہل ایمان کو غالب کریگا ۔ وغضب اللہ علیم ولعنھم اور اللہ ان پر ناراض ہوا ۔ اور ان پر لعنت اور پھٹکار کی ، چناچہ یہ لوگ مغضوب اور ملعون ہوئے۔ اللہ نے دنیا میں بھی انہیں ناکام بنایا ۔ واعدلھم جھنم اور آخرت میں ان کے لیے جہنم تیار کردی ہے وساء ت مصیرا ً جو کہ لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر بد گمانی کرنے والوں کا انجام بھی بیان فرما دیا۔
خدائی لشکر
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خدائی لشکر والی بات کو دہرایا ہے وللہ جنود السموات والارض اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا تعالیٰ ہی کے ہیں ۔ آسمانی لشکر اللہ کے مقرب فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں ۔ اور زمینی لشکر میں آپ کے صحابہ کرام ؓ ہیں جن کو حضور ﷺ نے آسمانی لشکر کے نمونے پر قائم کیا ۔ ان کے پیش نظر بھی ہمیشہ اللہ کی رضا اور بنی نوع انسان کی خدمت ہوتی ہے۔ یہ ہر قربانی پیش کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور انہوں نے اپنی اطاعت کا نمونہ بہت سے اوقات پر پیش کردیا ۔ ان کی اس قربانی کے نتیجے میں اللہ نے ان کو غالب بنایا اور دنیا کی کوئی طاقت ان کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکی ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت تک کا زمانہ اجتماعی لحاظ سے ساری امت کے لیے نمونہ ہے۔ انہی کے نقش قدم پر چلنے والی جماعت کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ مگر اس کے لیے شرائط بڑی سخت ہیں ، یہاں تو سر دھڑ کی بازی لگانی پڑتی ہے ، تب جا کر کامیابی نصیب ہوتی ہے فرمایا ارض و سماء کے لشکر اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں وکان اللہ عزیزا ً حکیماً اور اللہ تعالیٰ زبردست ، کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے۔ وہ جو چاہے کرے۔ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہو سکتی اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔ بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اللہ پر بد گمانی کر کے اس کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے اور ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 48:8–10ربط آیات
معاہدہ حدیبیہ میں کمزور شرائط کو مان کر صلح کی گئی تھی اس لیے ایمان والوں کے دلوں میں خلجان تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے رفع کیا اور ان پر خاص اطمینان نازل فرمایا ۔ ان کے ایمان میں اضافہ فرمایا ، اور بلند انعامات کی بشارت بھی دی ۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی معافی کا اعلان بھی فرمایا اور حاصل ہونے والے انعامات کو فوز عظیم قرار دیا ۔ اس کے بر خلامناق اور مشرک مردوں اور عورتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بدگمانی کرتے ہیں ۔ ان پر بری گردش پڑے گی ۔ خدا تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہوگی اور ان کے لیے جہنم بھی تیار ہے۔ پھر فرمایا فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ تمام آسمانی اور زمینی لشکر اللہ تعالیٰ کے ہیں ۔ وہ آسمانی لشکر اتار کر ایمان والوں کی تائید فرماتا ہے۔ اللہ کے نبی نے زمین پر صحابہ ؓ کی جماعت تیار کی ہے جو فرشتوں کی طرح تعمیل حکم کرتے ہیں ، پوری تنظیم کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اللہ نے ان کو بعد میں آنے والوں کے لیے نمونہ بنایا ہے۔ جو اللہ اور اس کے نبی کے بیان کردہ پروگرام کو آگے چلاتے ہیں ۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے پیغمبر کی حیثیت کو واضح کیا ہے اور پھر بیعت رضوان میں شامل ہونے والی صحابہ ؓ کی جماعت کا تذکر ہے۔
پیغمبر بطور شاہد
پیغمبر (علیہ السلام) کی حیثیت کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے انا ارسلنک شاھداً اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا ہے۔ شاہد کا ایک معنی تو گواہ آتا ہے ، جیسے سورة بقرہ میں ہے وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا (آیت : 143) اور اس طرح ہم نے تمہیں افضل امت بنایا ہے تا کہ لوگوں پر گواہی دینے والے بن جائو ، اور اللہ کا رسول تم پر گواہ بن جائے۔ اسی طرح سورة النساء میں واضح کیا گیا ہے۔ فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا اس وقت کیا منظر ہو ہوگا جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور پھر آپ کو آپ کی امت پر بطور گواہ پیش کریں گے۔ ساری امتوں کے انبیاء اپنی اپنی امت کی گواہی دیں گے اور پھر حضور ﷺ بھی اپنی امت کے بارے میں تبلیغ رسالت کی گواہی دیں گے کہ اللہ نے جو کام میرے سپرد کیا تھا۔ اور جو پیغام دے کر مجھے بھیجا تھا ، وہ میں نے اپنی امت تک پہنچا دیا ۔ شاہ عبد القادر (رح) شاہد کا معنی معلم کرتے ہیں ، اور وہ سورة حج کی آخری آیت سے استدلال کرتے ہیں ۔ جہاں اللہ نے فرمایا ، لازم پکڑ و ملت اپنے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ۔ اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ، اس سے پہلے بھی اس قرآن میں بھی لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَہِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ تا کہ رسول معلوم ( بتلانے والا) ہو تمہارا ، اور تم معلم ہو لوگوں کے گویا حضور ﷺ کی ایک حیثیت معلم کی بھی ہے۔ معلم اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتا ہے اور پھر ان کے ذمے کام بھی لگاتا ہے۔ اسی طرح آپ کی دوسری حیثیت امیر جماعت کی بھی ہے ، یعنی آپ خلیفۃ اللہ اور امیر جماعت المسلمین بھی ہیں ۔ بہر حال فرمایا کہ اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو شاہد یعنی گواہ یا معلوم بنا کر بھیجا ہے۔
رضائے الٰہی
بحیثیت معلوم حضور ﷺ کی اولین تعلیم اپنے صحابہ ؓ کے لیے یہ ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائیں۔ اور دین اسلام کے تقاضوں کو پورا کریں ۔ بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت قطرۃ ً ہر شخص کی روح میں ڈال دی ہے۔ اور اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی مرغیات پر چلے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی کمزور مخلوق کی خدمت کرے۔ قیامت والے دن لوگ اللہ کی محبت کے بڑے دعوے کریں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، اے آدم کے بیٹے ! میں تیرے پاس بھوسکا ، پیاسا اور ننگا بن کر آیا تھا ، میں تیرے پاس بحیثیت مسافر آتا تھا۔ مگر تو نے میرے ساتھ کیا سلو ک کیا ؟ انسان حیران ہو کر عرض کریگا کہ پروردگار ! تو تو رب العالمین مختار مطلق اور ہر چیز پر قادر ہے ، تو کیسے مسافر بن سکتا ہے اور کیسے بھوکا ، پیاسا اور برہنہ ہو سکتا ہے ؟ اللہ فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ تیرے پاس محتاج بن کر آیا تھا ، اس کے پاس کھانے پینے اور پہننے کے لیے کچھ نہیں تھا ، اسی طرح فلاں بندہ تیرے پاس مہمان بن کر آیا تھا مگر تم نے ان کی کوئی خدمت نہ کی ۔ اگر تم بھوکے کو کھلاتے ، پیاسے کو پلاتے ، ننگے کو پہناتے اور مسافر کی خبر گیری کرتے تو آج میری رضا کو پاتے ، تم اس امتحان میں ناکام ہوئے لہٰذا تمہارا محبت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔
پیغمبر بحیثیت مبشر اور نذیر
اس کے بر خلاف جو لوگ دین کا کام صحیح طریقے پر کرتے ہیں ۔ ایک طرف اللہ کی مرضیات پر چلتے ہیں ، اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور دوسری طرف مخلوق خدا کی خدمت بجا لاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے حضور ﷺ شاہد کے علاوہ و مبشرا ً یعنی خوش خبری دینے والے بھی ہیں ۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کے ہاں کامیاب ہوں گے۔ ان کو ترقی نصیب ہوگی اور ان کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا ۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتے ، قرآنی پروگرام کی مخالفت کرتے ہیں ، اپنی رجعت پسندانہ سرگرمیوں میں مصر ہیں ، ان کے لیے حضور ﷺ و نذیرا ً یعنی ڈر سنانے والے ہیں ۔ یعنی آپ ان کو ان کے برے انجام سے ڈرانے والے ہیں ۔ آگے اللہ نے عام لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ لتومنوا باللہ ورسولہ تا کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لائو ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنا دین کی بنیاد ہے اور رسول اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہے۔ وہ اسی حیثیت میں اپنے آپ کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہے ، اس میں الوہیت والی کوئی بات نہیں ہے۔ تم اس پر بھی ایمان لائو اور اس کی اطاعت کرو۔ یہ ضروری ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ( النسائ : 80) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے گویا اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت کی ۔ نیز فرمایا و تعزروہ اور اس کی مدد کرو ، یعنی اس کے دین کی مدد کرو ۔ دین کی تعلیمات پر خود بھی عمل کرو اور اسے دوسروں تک بھی پہنچائو ۔ اس کا فائدہ گزشتہ سورة محمد میں گزر چکا ہے ۔ ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم ( آیت : 7) اگر تم اللہ یعنی اس کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کریگا اور تمہارے قدم مضبوط کردیگا۔ پھر اللہ نے عام لوگوں سے یہ بھی فرمایا توقروہ اور اس کی تعظیم بجا لائو ۔ اس کی عزت اور توقیر کرو ۔ ایسا کوئی کام نہ کرو جو اس کی عظمت کے خلاف ہو وتسجوہ بکرۃ واصیلاً اور صبح اور شام اس کی تسبیح بیان کرو ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ہر قسم کی تقصیریں معاف کر دیگا 1 ؎
بیعت رضوان کی خصوصیت
بیعت رضوان کا ذکر تمہید کے طور پر پہلے اور دوسرے درس میں ہوچکا ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر تقریباً پندرہ سو صحابہ ؓ کی جماعت سے حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی تھی کہ حضر ت عثمان ؓ کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے ہم جانوں پر کھیل جائیں گے ، چناچہ اسی بیعت کے نتیجہ میں اہل اسلام اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح کا معاہدہ طے پایا جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس بیعت کا مزید ذکرآگے تیسرے رکوع میں بھی آ رہا ہے ، تا ہم یہاں پر اس بیعت کی فضلیت کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ ان الذین یبایعونک انما یبا یعون اللہ بیشک وہ لوگ جو آپ کے دست مبارک پر بیعت کرتے ہیں ، حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ید اللہ فوق ایدھم ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے مطلب یہ کہ جب وہ بیعت رضوان کر رہے تھے تو ان
1 ؎۔ تعزروہ ، وتو فردہ ، کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو تو اس کی وضاحت جیسا کہ ترجہ میں کردی گئی ہے۔ تینوں ضمائر کا مرجمع اللہ تعالیٰ ہے اللہ تعالیٰ کی تائید و مدد سے دین کی مدد مراد ہے ۔ اور اسی طرح ما لکم لا ترجون للہ وقارا میں ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وقار عظمت سے خوف نہیں کھاتے یا اسکی توقع اور امید نہیں رکھتے اگر پہلی دو ضمیریں حضور ﷺ کی طرف راجع ہوں تو بھی درست ہے آپکی تعظیم و توقیر اور مدد کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے ۔ بہر حال تسبحوہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف ہی راجع ہے۔ (سواتی)
کے ہاتھوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کی شفقت ، مہربانی اور تائید کا ہاتھ تھا۔ خدا کا نبی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے نازل کردہ پروگرام کی دنیا میں رائج کرنے کا عہد لے رہا تھا ، اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند تھی جس کی وجہ سے اس نے اس بیعت کی تعریف فرمائی ہے اور اس بیعت کے کرنے والوں کو اپنی رضا کی خوشخبری دی ہے۔ اور پھر اس بیعت پر مستقیم رہنے کی تاکید بھی فرمائی ہے۔ فرمایا یاد رکھو ! فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ پس جو کوئی اس بیعت کو توڑے گا ۔ یعنی اپنے اس عہد کی خلاف ورزی کریگا تو اس کا وبال خود اسی پر پڑے گا ۔ وہ اپنے نقصان اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا خود دار ہوگا ۔ ومن او فی بما عھد علیہ اللہ اور جو پورا کریگا ۔ اس چیز کو جو اس نے اللہ تعالیٰ سے اقرار کیا ہے۔ یعنی جو شخص اللہ کے راستے میں سردھڑ کی بازی لگانے پر قائم رہے گا ۔ جو اللہ کی رضا کی خاطر تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے گا ۔ فرمایا فسیوتیہ اجراً عظیما ً تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اجر عظیم عطا فرمائے گا ۔
بیعت کی اقسام
امام شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی کتاب القول الجمیل میں بیعت کی بہت سی قسمیں بیان کی ہیں ۔ شا ہ عبد اللہ العزیز (رح) نے بھی اپنی کتابوں میں بیعت کا ذکر ہے شاہ رفیع الدین (رح) نے بیعت سے متعلق ایک رسالہ قلمبند کیا ہے۔ تو بیعت کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں ایک بیعت بیعت اسلام ہے۔ لوگ یہی بیعت کر کے اسلام میں داخل ہوتے تھے ۔ دوسری بیعت ہجرت کے لیے تھی ۔ لوگ اللہ کے نبی کے ہاتھ پر اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت کر جانے کی بیعت یا عہد کرتے تھے تیسری بیعت جہاد تھی ۔ جب جنگ کا موقع آتا تھا تو لوگ اس بات کی بیعت کرتے تھے کہ ہم اللہ کے راستے میں جان و مال کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں بعض صحابہ ؓ نے ارکان اسلام پر پابندی کی بیعت کی ۔ حضرت جریر ؓ کی بیعت اسی سلسلہ میں تھی کہ میں ارکان اسلام نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ کی پابندی کروں گا اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کروں گا ۔
بعض لوگوں نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر اس بات کی بیعت بھی کی کہ وہ سنت پر قائم رہیں گے اور بد عات سے بچتے رہیں گے ۔ پھر عورتوں نے بھی اس بات کی بیعت کی کہ وہ شریک نہیں کریں گی ، چوری نہیں کریں گی ، زنا نہیں کرینگی ، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی ، نہ اپنے ہاتھ پائوں میں کوئی بہتان باندھیں گی ( یعنی غیر کی اولاد کو خاوند کی طرف منسوب نہیں کریں گی) اور نہ نیک کاموں میں آپ کی نا فرمانیزکریں ۔ اس بیعت کا ذکر سورة الممتحنہ میں موجود ہے۔ بیعت کی ایک قسم بیعت تبرک بھی ہے ، حضرت زبیر ؓ اپنے آتھ سال کے بیٹے حضرت عبد اللہ ؓ کو حضور ﷺ کی خدمت میں لے گئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرایا ، یہ یہی بیعت تھی ، وگرنہ بچے کے لیے بیعت کی ضرورت نہ تھی ۔ بعض اوقات بزرگان دین کے کسی سلسلہ میں داخل ہونے کے لیے بیعت کی جاتی ہے یعنی بیعت سلوک کی بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ عام طور پر بزرگان دین کے ہاتھ پر بیعت کی جاتی ہے اور جو مروج ہے۔ اس کا مطلب یہ اقرار کرنا ہوتا ہے۔ کہ ہم ارکان دین کی پابندی کریں گے۔ ، عبادت و ریاضت اور ذکر و اذکار باقاعدگی سے انجام دیں گے تا کہ درجات عالیہ نصیب ہوں اور اللہ کا تقرب حاصل ہو سکے۔ ایک بیعت خلافت ہوتی ہے جو خلیفہ کے انتخاب کے لیے ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کے بعد لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی اور اسی دیگر خلفائے راشدین ؓ کی بیعت بھی ہوئی ۔ بیعت کی یہ تمام قسمیں حضور ﷺ نے ثابت ہیں ۔ البتہ اس مقام پر جس بیعت کا ذکر ہو رہا ہے وہ بیعت جہاد تھی جو تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ ؓ نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر حدیبیہ کے مقام پر کی تھی اور جس میں جان کی بازی لگا دینے کا عہد کیا تھا۔ شاہ رفیع الدین (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگ بزرگ کے ہاتھ پر محض دنیاوی فوائد حاصل کرنے کی بیعت کرتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ ہمارا کوئی معاملہ سلجھا دیں گے یا ہماری سفارش کردیں گے ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یہ رسمی بیعت ہے جس کا کچھ فائدہ نہیں ۔ البتہ بیعت کی باقی جتنی اقسام بیان کی گئی ہیں ، وہ درست ہیں ۔
پیر کے اوصاف
حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) مزید فرماتے ہیں کہ کسی ایسے پیر یا بزرگ سے بیعت ہونا درست ہے ، جس میں حسب ذیل اوصاف پائے جائیں۔
(1) پیر کتاب و سنت کا علم کھتا ہو ، خود پڑھ کر علم حاصل کیا ہو یا کسی بزرگ کی صحبت حاصل کی ہو ، بہر حال اس کے پاس کتاب و سنت کا علم ہونا چاہئے۔
(2) کبائر سے مجتنب اور صغائر پر اصرار نہ کرے ، کبائر کا مرتکب بیعت کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ وہ فساق میں شمار ہوتا ہے۔
(3) بیعت لینے والا دنیا سے بےرغبت اور آخرت کی طرف رغبت رکھتا ہے۔
(4) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عامل ہو ۔ اپنے متعلقین کو اچھی بات کا حکم دے اور اگر ان میں کوئی بری بات دیکھے تو فوراً روک دے۔
(4) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عامل ہو ۔ اپنے متعلقین کو اچھی بات کا حکم دے اور اگر ان میں سے کوئی بری بات دیکھے تو فوراً روک دے۔
(5) پیر خود رونہ ہو ، بلکہ یہ طریقہ اس نے بزرگوں سے سیکھا ہو یا ان کی صحبت اختیار کی ہو ۔ ایسا نہ ہو کہ باپ کی وفات کے بعد بیٹا جیسا کیسا بھی ہو گدی نشین ہوگیا نہ کسی سے سیکھا ، نہ کسی کی صحبت اختیار کی اور نہ علم حاصل کیا ۔ یہ سلسلہ تو تباہ کن ہے جو آج کل اکثر رائج ہے۔
اگر ان شرائط کو پورا کرنے والا کوئی بزرگ مل جائے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہیے ، تا کہ انسان شیطان کے پھندے سے محفوظ رہ سکے۔ ویسے یہ بیعت نہ ضرف ہے اور نہ واجب ، البتہ سنت ہے۔ بزرگان دین میں سے حضرت دقاق (رح) اور شیخ عبد القادر جیلانی (رح) سے بھی منقول ہے کہ اگر کوئی کامل آدمی مل جائے تو بیعت کر لینی چاہئے ، البتہ کسی غلط کار ، فاسق ، شرکیہ اور بد عتیہ اعمال کرانے والے پیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہرگز جائز نہیں ، مولانا رومی (رح) فرماتے ہیں۔
اے بسا ابلیس آدمی روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست
اس قسم کے لوگ انسانی شکل میں شیطان ہیں ، اس لیے ہر ہاتھ پر ہاتھ نہیں رکھ دنا چاہئے ورنہ وہ شرک اور بدعت میں مبتلا کردیں گے اور انسان کو گمراہ کر کے رکھ دینگے۔
شیخ عبد القدوس گنگوہی (رح) کا قول
شیخ عبد القدوس گنگوہی (رح) دسویں صدی کے بزرگ ہوئے ہیں ۔ آپ کا تعلق چشتیہ خاندان سے تھا۔ آپ شاہ عبد الحق ردولوی (رح) کے فرزند کے مرید تھے۔ آپ کا زمانہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (رح) کا قریبی زمانہ ہے۔ آپ نے اپنی فارسی زبان کے مکتوبات میں اپنے زمانے کی عام پیری مریدی کا رد ان الفاظ میں کیا ہے۔ فرماتے ہیں ۔
” ہیہات ہیہات امروزاز بد روز ما است کہ جہان از پیری و مریدی “
پرشد و ہیچ خبر از مسلمانی نیست
افسوس کہ آج کا زمانہ ہمارے لیے کتنا برا زمانہ ہے کہ سارا جہان پیری مریدی سے پر ہے لیکن مسلمانی کی خبر بالکل نہیں ۔ ایک دوسرے مکتوب میں فرماتے ہیں ” امروز از بدروز ما است ، پیری مریدی کجا ایں ہمہ جزبت پرستی و خود پرستی نیست “ ہمارا دور کتنا برا دور ہے کہ یہاں پیری مریدی نہیں بلکہ بت پرستی اور خود پرستی ہے۔ آج کل گدی نشین عام طور پر یہی کچھ کر رہے ہیں ۔ پھر فرماتے ہیں کہ ” امر وزدرویشی بلقمہ فروشی است “ یعنی آج کی درویشی درویشی نہیں بلکہ یہ تو لقمہ فروشی ہے۔ یہ تو دین فروشی ہے کہ دنیا کا حقیر مال حاصل کرنے کے لیے پیری مریدی کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔ یہ گنبد ، پختہ قبریں ، چادری اور چڑھاوے اسی مقصد کے لیے ہیں ۔ حضرت گنگوہی (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ ” ما مدبراں را۔۔۔ “ خدا تعالیٰ ہم ایسے بد نصیب لوگوں کو اس قسم کی درویشی اور دین فروشی سے توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ” اول بارے مسلمانی دوست کنم بعدہٗ درویشی “ ہم سب سے پہلے دین اور عقیدے کو درست کریں اور اس کے بعد درویشی اور پیری مریدی کی طرف توجہ دیں ۔ اگر عقیدہ اور اسلام ہی درست نہیں تو اس پیری مریدی کا کیا فائدہ ؟ آج کل کی پیری مریدی تو نرا دھوکہ اور فراڈ ہے۔ اس میں شرک اور بد عت کے سوا کچھ نہیں البتہ جیسا کہ امام شاہ ولی اللہ (رح) نے لکھا ہے اگر مذکورہ پانچ شرائط کا حامل کوئی بزرگ مل جائے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کر لینی چاہئے تا کہ انسان شیطان کے پھندے سے بچ جائے۔