48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 48:11–14

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

عنقریب کہیں گے آپ کے سامنے پیچھے رہنے والے دیہاتی کہ مشغول کردیا ہمیں ہمارے مالوں اور ہماری اولادوں نے ۔ پس آپ بخشش طلب کریں ہمارے لیے ( اللہ نے فرمایا) کہتے ہیں یہ اپنی زبانوں سے وہ بات جو ان کے دلوں میں نہیں ۔ آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر) پس کون مالک ہوگا تمہارے لیے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اگر وہ ارادہ کرے تمہارے بارے میں نقصان کا یا ارادہ کرے تمہارے متعلق فائدہ پہنچانے کا ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ، جو کچھ تم کام کرتے ہو ، اس کی خوب خبر رکھنے والا ہے

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ تم نے گمان کیا کہ ہرگز نہیں واپس لوٹ کر آئیں گے اللہ کے رسول ، اور ایمان والے اپنے گھروں کی طرف کبھی بھی ، اور مزید کی گئی ہے یہ بات تمہارے دلوں میں ، اور گمان کیا تم نے برا گمان ، اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص ایمان نہیں لائے گا اللہ اور اس کے رسول پر ، پس بیشک ہم نے تیار کی ہے کفر کرنے والوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی ، وہ بخشتا ہے جس کو چاہے اور سزا دیتا ہے جس کو چاہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنیوالا مہربان ہے

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں فتح مبین اور رسول خدا اور اہل ایمان پر کیے گئے انعات کا ذکر ہوا ۔ معاہدہ حدیبیہ کی کمزور شرائط کی وجہ سے اہل ایمان کے دلوں میں جو ایک قسم کا شک اور افسوس پیدا ہوگیا تھا ، اس کا ازالہ اللہ نے ایمان والوں کے دلوں میں تسلی اور اطمینان نازل فرما کر کیا اور اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ فرما دیا ۔ اللہ نے اہل ایمان کے مراتب عالیہ کا ذکر بھی کیا ۔ حضور ﷺ نے اپنی تربیت کے ذریعے صحابہ ؓ کی جو جماعت تیار کی تھی اللہ نے اس کی حیثیت اور مرتبہ بھی بیان فرما دیا ۔ خدا تعالیٰ نے دین حق اور قرآنی پروگرام کی مخالفت کرنے والے مختلف طبقات کا ذکر بھی کیا ۔ ان میں منافق اور مشرک ہر دو گروہوں کے مرد و زن شامل ہیں ۔ ان کے علاوہ یہود و نصاریٰ ، صابی ، مجوسی اور بدھ مت سب خدا تعالیٰ کے نازل کردہ پروگرام کی مخالفت ہیں ، ان سب کو برے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے پھر آسمانی لشکر یعنی فرشتوں کے ذریعے اہل ایمان کی تقویبً اور تائید کا ذکر کیا پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی حیثیت کے بارے میں فرمایا کہ اللہ نے آپ کو شاہد ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے ، اور ساتھ ساتھ ایمان والوں کو خدا تعالیٰ کی توحید اور نبی کی نبوت پر ایمان لانے ، پیغمبر کے لائے ہوئے دین کی مدد کرنے ، پیغمبر خدا کی عزت و ترقیر کرنے اور خدا تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل کرنے کا حکم دیا۔ بیعت رضوان کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد و پیمان کیا گیا تھا کہ اہل ایمان اس کی راہ میں سر ڈدھڑ کی بازی لگانے سے گریز نہیں کریں گے۔ اسی بیعت کے نتیجے میں کفار اور اہل ایمان کے درمیان صلح ہوئی جسے فتح مبین کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ اس کی وجہ سے اسلام میں داخلے کے لیے تمام دروازے کھل گئے اور لوگ دھڑا دھڑا اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے ۔ صحابہ ؓ کا اخلاق اور عمل لوگوں کے سامنے آ گیا اور لوگ قرآنی نظام کو سمجھنے لگے۔ اب اس رکوع میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں تو اعتقادی منافق تھے جو بظاہر تو کلمہ پڑھتے تھے مگر حقیقت میں ان کے دل کفر کے ساتھ ہی مطمئن تھے ۔ اس کے بعد کے ادوار میں اور موجودہ زمانے میں بھی اعتقادی منافق تو نہیں ہیں البتہ عملی منافقوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔ منافقوں کی یہ قسم مسلمانوں میں بھی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ جن کی زبان اور دل ، قول اور فعل ، ظاہر اور باطن آپس میں متضاد ہیں ۔ آج کے زمانہ میں صحیح ، سچے اور مخلص مسلمانوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔ بہرحال اسلام کے مخالفین میں منافقوں کو خاص حیثیت حاصل ہے۔ یہ باطنی طور پر اہل اسلام اور خود دین اسلام کو سخت نقصان پہنچانے والی جماعت ہے اللہ نے مختلف سورتوں میں ان کا حل بیان کر کے ان سے بچنے کی تلقین کی ہے ، پھر ان کی باطنی خباثت کی وجہ سے ان کو جو رسوائی ہوتی ہے اللہ نے اس کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ لوگ مفاد پرست ہوتے ہیں ، اگر کہیں فائدہ نظر آئے تو مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں اور جہاں کسی نقصان کا خطرہ ہو وہاں پہلو بچا جاتے ہیں ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کی اقامت اور قیام امن کے لیے ہر مخالف دین سے جہاد کا حکم دیا ہے ، لہٰذا اس لحاظ سے جہاد کی زد ان منافقین پر بھی پڑتی ہے۔ واقعہ کا پس منظر اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے زمانے کے اعتقادی منافقوں کی اس خصلت کا ذکر کیا ہے ان کے پیش نظر ہمیشہ ذاتی مفاد ہوتا ہے اور دین سے ان کی کوئی غرض نہیں ہوتی ، چناچہ 6؁ھ میں جب حضور ﷺ نے عمرے کا ارادہ فرمایا تو مدینہ کے اطراف میں دیہاتی گنواروں کو بھی ساتھ چلنے کا پیغام بھیجا مگر ان میں سے جو منافق صفت لوگ تھے وہ اس سفر میں شامل نہ ہوئے ان کی عدم شمولیت کی وجوہات آگے آ رہی ہیں۔ پھر جب آپ اور آپ کے صحابہ ؓ سفر عمر سے بخیر و خوبی فتح مبین کی خوش خبری لے کر واپس آئے تو ان منافقین کو اپنی محرومی کا احساس ہوا ، بتداء میں تو وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کو عمرہ کی ادائیگی کہاں نصیب ہوگی ، ان کا تو جان بچا کر واپس آنے کا کوئی امید نہیں ، وہ سمجھتے تھے کہ جن کفار و مشرکین نے مسلمانوں کو مدینہ میں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیا اور احد اور احزاب جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں ، یہ مکہ میں گھرے ہوئے مسلمانوں کو کب واپس آنے دیں گے ؟ منافقین کی حیلہ سازی جب مسلمان مدینہ واپس آ رہے تھے تو منافقین کے دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ بچ کر آ رہے ہیں ۔ اب ہماری شامت آنے والی ہے ، چناچہ انہوں نے سفر عمر میں عدم شمولیت کے حیلے بہانے تلاش کرنے شروع کردیے ، مگر اللہ نے ان کے اس فعل کی خبر حضور ﷺ کو واپسی کے سفر کے دوران مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی کردی ، چناچہ جب آپ حدیبیہ سے چل کر بیس بائیس میل کی مسافت پر آئے تورات کے وقت اللہ نے یہ سورة نازل فرمائی اور آپ کو بشارت سنائی اور ساتھ منافقوں کی حیلہ سازی سے بھی آگاہ کردیا ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے سیقول لک المخلفون من الاعراب سفر عمرہ سے پیچھے رہ جانے والے عنقریب آپ سے کہیں گے شغلتنا اموالنا واھلونا ہمیں ہمارے مالوں اور گھر والوں نے اس سفر سے مشغول کردیا ۔ یعنی ہمارے بعد ہماری زمینوں اور باغات اور دیگر اموال (اونٹ ، بھیڑ ، بکریاں وغیرہ) کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا اور نہ کوئی ایسا شخص تھا جو ہمارے گھر بار کی خبر رکھتا ۔ لہٰذا ہم آپ کے ساتھ شریک سفر نہ ہو سکے حالانکہ ہمارا دل تو چاہتا تھا کہ آپ کے ساتھ جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کی پیشگی اطلاع حضور ﷺ کو بعض دیگر مواقع پر بھی ملی ۔ مثلاً جب تحویل قبلہ کا حکم ہو رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو پہلے ہی بتلا دیا ۔ سَیَقُوْلُ السُّفَہَآئُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْہَا (البقرہ : 42) عنقریب احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلہ یعنی بیت المقدس پر تھے اس سے کس چیز نے انہیں بیت اللہ شریف کی طرف پھیر دیا ؟ پھر آگے اللہ نے خود ہی اس کا جواب بھی بتلایا کہ آپ کہہ دیں کہ مشرق و مغرب سب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں ، وہ جس کو چاہتا ہے ، سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ بہر حال پیچھے رہ جانے والے منافقین نے مال اور گھر بار کی حفاظت کا بہانہ بنا کر اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا ۔ اور ساتھ ہی حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ۔ فاستغفرلنا آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں تا کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ کوتاہی معاف کر دے۔ جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے۔ عافی کا عام اصول یہ ہے کہ اذا عترف العبد و تاب تاب اللہ علیہ جب کوئی بندہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے توبہ کرلیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ ادھر ترمذی شریف اور ابن ماجہ میں یہ روایت بھی موجود ہے ۔ التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ گناہوں سے توبہ کرنے والا شخص ایسا ہے۔ جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ جب گناہ معاف ہوگیا ، تو پھر وہ باقی نہ رہا ، اسی اصول کے تحت منافقین نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے بخشش کی دعا کریں۔ پیشتر اس کے کہ اللہ کا نبی منافقین کے لیے معافی طلب کرتا ، اللہ نے پہلے ہی بتلا دیا ۔ یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم یہ لوگ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں ۔ مطلب یہ کہ ان کے دل اور زبان میں تضاد ہے اور یہ سچی بات نہیں کر رہے ہیں ، بلکہ ان کے دلوں میں تو کفر اور نفاق کی گندگی بھری ہوئی ہے اور یہ اس طریقے سے اپنی جرم کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ساتھ ہی اللہ نے اس کا جواب بھی بتلا دیا ۔ قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں فمن یملک لکم من اللہ شیئاً ان ارادبکم ضرا او ارادبکم نفعا ً پس تمہارے لیے کون مالک ہوگا ، اللہ کے سامنے اگر وہ تمہارے ساتھ نقصان کا ارادہ کرے یا تمہارے ساتھ فائدہ پہنچانے کا ارادہ کرے۔ ظاہر ہے کہ نفع ونقصان کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے ، اس کی مشیت اور ارادے میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا ۔ لہٰذا تمہارا فیصلہ اپنی مشیت کے مطابق اللہ تعالیٰ ہی کریگا ۔ یہاں پر نقصان کے ساتھ نفع کی بات کر کے منافقین کو قدرے امید بھی دلادی کہ وہ اگر اب بھی راہ راست پر آجائیں ۔ منافقت کو دل سے نکال کر پکے سچے مسلمان بن جائیں تو نہ صرف ان کی خطائیں معاف ہوجائیں گی بلکہ وہ اللہ کے ہاں اجر کے بھی مستحق بن جائیں گے۔ چناچہ آگے چل کر ان منافقین میں سے بہت سے لوگ اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوگئے۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ علیم کل ہے۔ بل کان اللہ بما تعلمون خبیرا ً وہ تمہارے تمام کردہ اعمال سے اچھی طرح با خبر ہے لہٰذا تم اپنی چرب زبانی اور حیلہ سازی سے نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ وہ تمہارے ظاہر و باطن اعمال سے واقف ہے اور انہی کے مطابق تمہیں بدلہ دے گا ۔ منافقین کی بد گمانی آگے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی اس بد گمانی کا ذکر کیا جس کی بناء پر وہ عمرہ کے سفر میں شامل نہ ہو سکے۔ فرمایا جو کچھ تم کر رہے ہو یہ جھوٹ ہے ۔ حقیقت یہ ہے بل ظننتم ان لن ینقلب الرسول والمومنون الی اھلیھم ابدا بلکہ تم نے یہ گمان کیا کہ اللہ کا رسول اور مومن لوگ اپنے گھروں کی طرف اب کبھی واپس نہیں آئیں گے بلکہ مشرکین مکہ انہیں وہیں ختم کردیں گے۔ یہ ہے اصل بات جس کی وجہ سے تم شریک سفر نہ ہوئے وزین ذلک فی قلوبکم اور یہ بات تمہارے دلوں میں مزین کردی گئی تھی یعنی تم نے سمجھ لیا تھا کہ تمہاری سوچ بالکل درست ہے کہ مسلمان کبھی زندہ سلامت مدینے واپس نہیں آئیں گے۔ وظننتم ظن السوء اور حقیقت میں یہ تمہاری سخت بد گمانی تھی جس کی وجہ سے ونتم قوما ً بورا ً تم ہلاک ہونے والے لوگ تھے ، تم نے ایسی بد گمانی کر کے اپنی ہلاکت کو خود دعوت دی ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی ومن لم یومن باللہ ورسولہ کہ جو کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتا ۔ نہ اللہ کی وحدانیت کو مانتا ہے اور رسول کی رسالت کو تسلیم کرتا ہے اور اللہ کے نازل کردہ قرآنی پروگرام کو یکسر مسترد کردیتا ہے۔ تو یقین جانو فانا اعتدنا للکفرین سعیرا ً کہ ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ بھی تیار کر رکھی ہے یہ اس وجہ کہ یہ لوگ کامیابی کے راستے کو چھوڑ کر گمراہی اور مفاد پرستی کی راہ پر چل نکلے ، لہٰذا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے مستحق ٹھہرے۔ معافی اور سزا کا قانون آگے اللہ نے معافی اور سزا کا قانون بھی بتلایا ہے وللہ ملک السموات والارض آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ کے لیے ہے وہی اس کائنات کا مالک ، متصرف اور مدبر ہے ۔ وہ قادر مطلق اور علیم کل ہے ، لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کے فرستادہ نظام اور اسکے رسول کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتا ، وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجائے گا ۔ اس کے بر خلاف جو لوگ صراط مستقیم کے مسافر ہوں گے ، اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت پر ایمان لائیں گے ، وقوع قیامت اور جزائے عمل کا خوف دل میں رکھتے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمادے گا ، اور وہ کامیاب ہوجائیں گے اسی لیے فرمایا یغفرلمن یشاء ویعذب من یشاء اللہ تعالیٰ مختار کل ہے ، وہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس کو چاہے سزا دے دے۔ وکان اللہ غفوراً رحیما ً اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ بس اوقات وہ مجرموں کو بھی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دے دیتا ہے ، وہ تو منافقوں جیسے پکے دشمنان اسلام اور موذی لوگوں کو بھی ڈھیل دیتا رہتا ہے اور یہی اس کے غفور اور رحیم ہونے کی علامت ہے۔
Ayahs 48:15–17

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

عنقریب کہیں گے پیچھے رہ جانے والے جب کہ تم جائو گے غنیمتوں کو لینے کے لیے ، چھوڑ دو ہمیں کہ ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی بات کو تبدیل کردیں (اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیں ، تم ہرگز ہمارے ساتھ نہ چلو ، اسی طرح ہے بات جو اللہ نے پہلے فرمایا ہے ۔ پس کہیں یہ لوگ ، بلکہ تم ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو ( نہیں ایسا نہیں) بلکہ یہ لوگ نہیں سمجھتے مگر بہت کم

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہ عنقریب تم کو بلایا جائے گا ایسی قوم کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے جو سخت لڑنے والی ہے ۔ پس تم ان سے لڑو گے یا پھر وہ مسلمان ہوجائیں ۔ پس اگر تم نے تابعداری کی تو اللہ دیگا تم کو اچھا اجر اور روگردانی کی تم نے جیسا کہ تم نے پہلے روگردانی کی ، تو وہ سزا دے گا تم کو درد ناک سزا

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہیں ہے اندھے شخص پر کوئی حرج اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ بیمار پر کوئی حرج ، اور جو شخص اطاعت کرے گا اللہ کی اور اسکے رسول کی وہ اس کو داخل کرے گا باغوں میں کہ بہتی ہیں ان کے سامنے نہریں ، اور جو روگردانی کرے گا اس کو سزا دے گا دردناک سزا

ربط آیات واقعہ حدیبیہ کی تفصیلات گزشتہ دردس میں گزر چکی ہیں ۔ چودہ یا پندرہ صحابہ ؓ کی جماعت حضور ﷺ کی قیادت میں عمرہ کے لیے تیار ہوئی ۔ آپ نے مدینہ کے اطراف میں رہنے والے منافق صفت گنوار دیہاتیوں کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی ۔ انہوں نے خیال کیا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے گھر مکہ میں جا رہے ہیں ، وہ ان کو زندہ سلامت واپس نہیں آنے دیں گے ، لہٰذا اس سفر میں مسلمانوں کے ہمراہ جانا ہلاکت کو دعوت دینا ہے ، چناچہ وہ لوگ عمرہ کی ادائیگی کے لیے ہمراہ چلنے پر تیارنہ ہوئے۔ پھر جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ مکہ سے واپس مدینہ کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں یہ سورة الفتح نازل ہوئی جس میں ایک طرف تو مسلمانوں کو فتح مبین کی خوشخبری سنائی گئی اور دوسری طرف ان دیہاتی منافقوں کا پردہ چاک کیا گیا ، چناچہ گزشتہ درس میں اس بات کا تذکرہ ہوچکا ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ جب آپ بخیر و عافیت مدینہ طیبہ پہنچ جائیں گے سیقول لک المخلقون من الاعراب تو بعض پیچھے رہ جانے والے منافق صفت دیہاتی آپ سے معذرت کریں گے کہ ہم اپنے مالوں اور گھروں کی حفاظت کے خیال سے آپ کے ہمراہ نہ جاسکے لہٰذا ہمارے لیے اللہ سے بخشش طلب کریں۔ مال غنیمت کی بشارت صلح حدیبیہ جس کو اللہ نے فتح مبین قرار دیا بظاہر فتح نہیں تھی کیونکہ حضور ﷺ نے یہ صلح مسلمانوں کے حق میں نہایت کمزور شرائط پر کی تھی مگر حقیقت میں اس معاہدے نے اسلام میں داخلے کے لیے دروازے کھول دے اور لوگ دھڑا دھڑاسلام میں داخل ہونے لگے ۔ یہ فتح مبین اس لحاظ سے بھی تھی کہ اللہ نے مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ملنے کی بھی خوش خبری سنا دی چناچہ آج کی پہلی آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اس مال غنیمت سے مراد خیبر کی زمینیں اور اموال تھے جو عنقریب مسلمانوں کو ملنے والے تھے جب آپ مدینہ واپس پہنچے تو چند روز بعد ہی آپ نے خیبر کی طرف چلنے کا اعلان فرما دیا ۔ اس بستی کے یہودی بڑے سازشی لوگ تھے جو اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ان کی بیخ کنی کا وقت آ چکا تھا ، لہٰذا آپ نے ان پر حملہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ پہلے تو دیہاتی قسم کے منافق اس زعم میں تھے کہ مسلمان مکہ سے بچ کر نہیں آسکیں گے مگر جب وہ بخیر و عافیت واپس آگئے ، اسلام کو ترقی حاصل ہونے لگی تو انہیں یقین ہوگیا کہ اب مسلمان خیبر کو بھی فتح کر کے چھوڑیں گے اور وہاں کی زمینوں اور اموال سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ چناچہ مال غنیمت کے لالچ میں آ کر ان منافقوں نے بھی حضور ﷺ کی معیت میں خیبر کے معرکہ پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ منافقین کے لیے پابندی اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خیبر کی طرف جانے اور وہاں کے مال غنیمت سے مستفید ہونے پر پابندی لگا دی ، چناچہ اللہ نے حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا سیقول المخلفون اذا انطلقتم الی مغانم لتا خذوھا عنقریب تمہیں یہ حدیبیہ سے پیچھے رہنے والے منافقین کہیں گے جب کہ تم غنیمتوں کو لینے کے لیے خیبر کی طرف چلو گے ذرونا نتبعکم ہمیں چھوڑ دو یعنی ہمیں اجازت دے دو کہ ہم بھی تمہارا اتباع کریں یعنی تمہارے ساتھ خیبر کی طرف چلیں ، مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اسلام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں بلکہ محض مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے آپ کے ساتھ جانا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یریدون ان یبدلوا کلم اللہ یہ لوگ تو اللہ کی بات کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو یہ ہے کہ خیبر کا مال غنیمت ان مجاہدین کے حصے میں آئے گا ۔ جنہوں نے حدیبیہ کا سفر اختیار کیا اور پھر وہاں پر بیعت رضوان میں شریک ہو کر سر ڈدھڑ کی بازی لگا دینے کا عزم کیا ۔ اور یہ لوگ تو مدینے میں بیٹھے رہے اب یہ غنیمت کے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں ۔ یہ تو غنیمت وصو ل کر کے اللہ کی بات کو بدلنا چاہتے ہیں ، مگر ایسا نہیں ہوگا ۔ چنانچہ اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ قل لن تتبعونا آپ ان منافق صفت لوگوں سے کہہ دیں کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ خیبر کی طرف نہ جائو کذلکم قال اللہ من قبل بات اسی طرح ہے جو اللہ نے پہلے ہی کہہ دی کہ یہ لوگ خیبر کی طرف نہ جانے پائیں ۔ اللہ نے مزید فرما دیا کہ بات یہیں ختم نہیں ہوجائے گی بلکہ جب ان منافقین پر پابندی لگ جائیگی تو وہ رائے اپنی بری نیتوں پر محمول کرنے کی بجائے فسیقولون بل تحسدوننا یوں کہیں گے کہ تم ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو جسکی وجہ سے ہمیں ہمراہ لے جانے کے لیے تیار نہیں ، تم چاہتے ہو کہ ہم بھی مالی فائدہ نہ اٹھا لیں ، اللہ نے اس اعتراض کا جواب بھی دے دیا اور فرمایا بل کانوا لا یفقھون الا قلیلا ً بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بڑے بےسمجھ ہیں مگر بہت کم ۔ ان کے بےسمجھی یہی تھی کہ انہوں نے سفر حدیبیہ کو ہلاکت خیال کیا اور ساتھ نہ گئے ، مگر جب مالی فوائد حاصل ہونے کا وقت آیا تو لہو لگاکر شہیدوں میں شامل ہونے لگے ۔ اللہ نے فرمایا ، یہ لوگ اس مال سے مستفید نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کا وعدہ تو اللہ نے حدیبیہ والوں سے کر رکھا ہے ، جنہوں نے ایسے آڑے وقت میں موت کی بیعت کی تھی۔ آئندہ کے لیے وعدہ مذکورہ لوگوں نے وقتی طور پر اپنی منافقت کا اظہار کیا ، مگر اللہ کے علم میں تھا کہ آئندہ چل کر ان میں سے بہت سے لوگ مخلص مسلمان بن جائیں گے ، لہٰذا آئندہ کے لیے انہیں امید بھی دلا دی کہ وہ یکسر مایوس نہ ہوں بلکہ اگر وہ خلوص نیت کے ساتھ آئندہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے تو اللہ کے ہاں ان کے لیے اجر کی کوئی کمی نہیں ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے قل للمخلفین من الاعراب اے پیغمبر ! آپ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے فرما دیں کہ آئندہ چل کر تمہاری پھر آزمائش ہوگی جب کہ ستدعون الی قوم اولی باس شدید تم بلائے جائو گے ۔ ایسی قوم کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے جو سخت جنگجو ہے۔ تمہیں ان سے مقابلہ کرنا ہوگا تقاتلونھم او یسلمون تمہیں ان سے جنگ کرنا ہوگا یا وہ از خود اسلام قبو ل کرلیں ۔ مطلب یہ کہ اگر تم نے آئندہ پیش آنے والی جنگوں میں خلوص کے ساتھ حصہ لیا ۔ فان یطیعوا اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت کی یوتکم اللہ اجراً حسنا ً تو اللہ تعالیٰ تمہیں اچھا اجر عطا فرمائے گا تمہیں مال غنیمت بھی ملے گا اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوگی ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے جس جنگجو قوم کے ساتھ مقابلے کا ذکر کیا ہے اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض اسے مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہونے والے معرکے پر معمول کرتے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں پیش آیا ۔ بعض اسے غزوہ حنین سے تعبیر کرتے ہیں جو حضور ﷺ کے زمانہ میں واقع ہوا۔ وہاں پر مسلمان ایک دفعہ مغلوب بھی ہوگئے مگر پھر اللہ نے غلبہ عطا فرمایا ۔ اس واقعہ کا ذکر سورة توبہ میں مذکور ہے۔ البتہ شاہ ولی اللہ (رح) کی تحقیق زیادہ قرین قیاس ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس جنگجو قوم سے مرد روم اور فارس کے لوگ ہیں ۔ نزول قرآن کے زمانے میں یہ دونوں سلطنتیں دنیا کی سپر پاورز تسلیم کی جاتی تھیں ۔ یہ باقاعدہ حکومتیں تھیں ۔ جن کی اپنی فوج تھی اور دیگر سارا سازو سامان موجود تھا۔ دنیا کی باقی چھوٹی موٹی سلطنتیں بعض روم کے زیر اثر تھیں اور بعض فارس کے ۔ ان زبردست طاقتوں کے ساتھ مسلمانوں نے حضرت صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں فیصلہ کن جنگیں لڑیں ، چناچہ بنی حنیفہ کے ساتھ مقابلہ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانے میں پیش آیا اور ایرانیوں اور رومیوں کے ساتھ حضرت عمرفاروق ؓ کے زمانے میں زبردست جنگیں ہوئیں ۔ چناچہ قادسیہ کی مشہور ومعروف جنگ مسلسل تین دن رات تک لڑی گئی ، جس کے نتیجے میں اللہ نے ایرانی مجوسیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا ۔ ادھر شام کے علاقہ میں یرموک کا معرکہ بھی حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ خلافت میں پیش آیا اور جس میں اہل ایمان نے بڑی بڑی قربانیاں دیں ، غرضیکہ اس جنگ جو قوم سے روم اور فارس والے لوگ مراد ہیں ۔ جن سے جنگوں کے نتیجے میں مسلمانوں کو کثیر مال غنیمت میسر آیا صرف جنگ قادسیہ میں شریک ہونے والے مجاہدوں کے حصے میں دیگر سازو سامان کے علاوہ بارہ بارہ سو درہم نقدی بھی آئی۔ فرمایا : اگر اطاعت کرو گے اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر عطا کرے گا۔ وان تتقولوا کما تولیتم من قبل اور اگر روگردانی کرو گے جیسا کہ پہلے کرچکے ہو ، یعنی جہاد سے گریز کرو گے یعذبکم عذابا ً الیما ً تو اللہ تعالیٰ تمہیں درد ناک سزا دیگا ۔ درد ناک سزائوں میں جسمانی اور ذہنی سزا کے علاوہ غلامی کی سزا بھی شامل ہے۔ جب کوئی قوم غداری کا ارتکاب کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں دوسروں کی غلامی میں بھی جکڑ دیتا ہے۔ بہر حال اللہ نے امید بھی دلا دی کہ اگر تم آئندہ صحیح جذبے اور خلوص نیت کے ساتھ جہاد میں شریک ہو گے تو اللہ تعالیٰ بہتر اجر عطا کرے گا اور اگر پہلے کی طرح منافقت کا اظہار کیا تو پھر اللہ تعالیٰ عذاب میں مبتلا کرنے پر بھی قادر ہے۔ معذروں کے لیے استثناء اگلی آیت میں جہاں اللہ نے بحیثیت مجموعی تمام اہل ایمان کو جنگ میں حصہ لینے کا حکم دیا ہے وہاں معذوروں کو جنگ سے مستثنیٰ بھی قرار دیدیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لیس علی الاعمی حرج اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ جنگ میں شریک نہیں ہوتا تو وہ معذور ہونے کی وجہ سے مستثنیٰ ہے۔ اسی طرح ولا علی الاعرج حرج لنگڑے پر بھی کوئی حرج نہیں ہے ولا علی المریض حرج اور نہ ہی بیمار پر کوئی گلہ شکوہ ہے کیونکہ وہ بھی لڑائی لڑنے کے قابل نہیں ۔ اس قسم کا استثناء اللہ نے سورة توبہ میں بھی بیان فرمایا ہے کہ کمزوروں ، مریضوں اور مال سے محروم لوگوں پر کوئی حج نہیں اذا نصحو اللہ ورسولہ ( آیت : 91) بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حق میں خیر خواہ ہوں ۔ خیر خواہی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں ، مثلاً اگر جسمانی طاقت نہیں رکھتا اور مال موجود ہے تو وہ خرچ کرے ۔ اگر مال بھی نہیں ہے تو زبانی طور پر ہی اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی ک حق ادا کرے۔ اسلام کے حق میں تبلیغ کرے ، نہ کہ دین کے خلاف پراپیگنڈا شروع کر کے دین کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرے۔ اگر کوئی شخص معذور ہونے کے باوجود دین اور مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہے تو وہ معذوروں میں شمار نہیں ہوگا ۔ اطاعت پر جنت کی بشارت آگے فرمایا ومن یطع اللہ ورسولہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا ، ان کے دین کے ساتھ خیرخواہی کریگا اور ان کے احکام کی تعمیل کرے گا ۔ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھر اللہ تعالیٰ اسے باغات میں داخل کرے گا ۔ جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ تو آخرت کی جزا ہے۔ تا ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ انہیں ان کی قربانی کی بدولت تسلط عطافرمائے گا ۔ یہودیوں نے اللہ کے دین کو بگاڑ دیا ، نافرمان بن گئے تو اللہ نے ان کو عطا کی ہوئی نعمت بھی چھین لی اور وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔ بہر حال اس حصہ آیت میں مذکورہ انعام اطاعت پر ملتا ہے ، جیسا کہ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو حاصل ہوا ۔ روگردانی پر سزا پھر فرمایا ومن یتول اور جو کوئی روگردانی کرے گا ۔ احکام الٰہی کو تسلیم نہیں کریگا ان پر عمل پیرا نہیں ہوگا ۔ اور خاص طور پر جہاد سے گریز کرے گا ۔ تو اللہ نے فرمایا یعذبہ عذابا ً الیما ً تو وہ اسے درد ناک عذاب میں بھی مبتلا کر دے گا ۔ عذاب میں جسمانی ، ذہنی اور مادی ہر قسم کی سزا شامل ہے۔ غلامی بھی بڑی شدید قسم کی سزا ہے ۔ جس میں مسلمان عرصہ دراز سے مبتلا چلے آ رہے ہیں اور یہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا نتیجہ ہے ۔ اسی غلامی کی وجہ سے مسلمان ذلیل ہو رہے ہیں ۔ ان میں جہاد اور قربانی کا جذبہ ختم ہوچکا ہے ، ضمیر بک چکا ہے اور یہ لہو و لعب میں مشغول ہیں ۔ مسلمانوں کی دنیا میں پچاس سے زیادہ ریاستیں ہیں مگر کوئی امریکہ کا غلام ہے۔ کوئی روس کا اور کوئی دوسرے یورپی ملک کا آج کے مسلمان قرآن کے پروگرام کو فراموش کرچکے ہیں اور اغیار کے باطل نظریات کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ، چناچہ طرح طرح کی مشکلات میں گرفتار ہیں۔ صحابہ کرام ؓ اور سلف صالحین (رح) نے جذبہ جہاد کو بیدار کیا ، موت کی فکر کو قبول کیا تو ساری دنیا پر غلبہ حاصل کرلیا۔ مگر آج مسلمان کی نہ سیاست اپنی ہے ، نہ معیشت اور نہ معاشرت ، ہر معاملے میں نظریں غیروں کی طرف اٹھتی ہیں ۔ ہمارے منصوبے اغیار بناتے ہیں ۔ اور پھر ان پر عملدرآمد کراتے ہیں ، ہمارے تمام وسائل ان کی جیب میں پڑے ہیں اور ہم لا چار بن کر ان کا متہ تک رہے ہیں ۔ جب تک مسلمان اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہوگا ۔ اپنے مسائل کا حل خود تلاش نہیں کرے گا ، اپنے وسائل اپنی افرادی قوت کے ذریعے استعمال نہیں کرے گا ، یہ غلامی کی زنجیروں سے نجات حاصل نہیں کرسکتا ۔ ہمارے سلف نے تلوار کی دھار پر چل کر اس دین کو زندہ رکھا۔ مسلمانوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اللہ نے ان کو دنیا میں عزت اور غلبہ دیا ، مگر جب ہم اپنے ہی اصولوں کو ترک کر بیٹھے ، سہل انگار ہوگئے اور دوسروں کے اشاروں پر ناچنے لگے تو اللہ نے بھی ہم سے رخ پھیرلیا اور ہمیں غلامی کی زنجیروں پر جکڑ دیا ۔
Ayahs 48:18–23

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

البتہ تحقیق اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب کہ وہ بیعت کر رہے تھے آپ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے ، پس اللہ نے معلوم کیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا ، پس اتارا اس نے اطمینان ان پر ، اور بدلہ دیا ان کو فتح قریب کا

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سی غنیمتوں کا جس کو وہ لیں گے ، اور اللہ تعالیٰ زبردست اور حکمت والا ہے

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ نے وعدہ کیا ہے تمہارے ساتھ بہت سی غنیمتوں کا جن کو تم حاصل کرو گے پس جلدی کی ہے اس نے تمہارے لیے اس ( غنیمت) کو ، اور روک دیا ہے لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے اور تا کہ یہ نشانی ہو ایمان والوں کے لیے ، اور چلائے گا وہ تم کو سیدھے راستے پر

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک دوسری فتح بھی ہے جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ احاطہ کرتا ہے اس کا ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر لڑتے تم سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو پشت پھیر کر بھاگتے ، پھر نہ پاتے وہ کسی کو حمایتی اور نہ مدد گار

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اللہ کا دستور ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزرے ہیں ، اور ہرگز نہ پائو گے اللہ کے دستور میں تبدیلی

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر حدیبیہ سے پیچھے رہ جانے والے منافق قسم کے کمزور لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور پھر سچے اور مخلص ایمانداروں کے متعلق فرمایا کہ جب آپ غنیمت حاصل کرنے کے لیے خیبر کی سر زمین کی طرف جائیں گے تو منافق لوگ بھی ساتھ جانے کی خواہش کریں گے ، مگر اللہ نے منع فرما دیا کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ خیبر کی طرف بھی وہی لوگ جائیں گے جو حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان میں شامل تھے ۔ جو لوگ وہاں نہیں گئے۔ وہ خیبر کے مال غنیمت سے بھی محروم رہیں گے۔ پھر اللہ نے منافقوں کی گندی ذہنیت کا ذکر فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ تم حسد کی وجہ سے ہمیں خیبر کے سفر میں لے جانے کے لیے تیار نہیں ہو ، اللہ نے فرمایا کہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ خود یہی لوگ بےسمجھ ہیں ، جن کی نیت اور ارادے صحیح نہیں ۔ جہاں فائدے کی بات نظر آتی ہے۔ وہاں دوڑ کر جاتے ہیں اور جہاں نقصان اٹھانے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ وہاں سے پہلو بچا جاتے ہیں ۔ پھر اللہ نے ساتھ ہی توقع بھی دلا دی کہ آئندہ تمہیں سخت جنگجو قوم کے ساتھ جنگ کی دعوت دی جائیگی ۔ اگر تم نے وہاں صحیح عزم کا ثبوت دیا تو پھر تمہیں بہتری نصیب ہوگی ۔ اللہ نے بعض معذوروں کو جہاد میں شرکت سے مستثنیٰ بھی قراردے دیا جن میں اندھے ، لنگڑے اور بیمار شامل ہیں ۔ فرمایا اگر یہ جہاد میں شرکت نہ کریں تو ان پر کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے حق میں مخلص ہوں اور اپنے کسی فعل یا قول سے اسلام اور اہل اسلام کو نقصان نہ پہنچائیں ، البتہ تندرست آدمی جو جہاد میں حصہ لینے کی جسمانی یا مالی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور شریک ہو ، اس کے لیے کوئی معافی نہیں ہے۔ اللہ کی رضا کا اعلان اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیعت رضوان کرنے والوں کی تعریف کی ہے اور انہیں دوسرے لوگوں کے لیے بطوردلیل پیش کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لقد ؓ عن المومنین البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا مومنوں سے اذیبا یعونک تحت الشجرۃ جب کہ وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے ، درخت کے نیچے ، مفسرین فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے مقام پر ایک کیکر کا درخت تھا جس کے نیچے بیٹھ کر حضور ﷺ نے تقریباً پندرہ سو صحابہ ؓ سے سر دھڑ کر بازی لگا دینے کی بیعت لی تھی ۔ آگے ارشاد فرمایا فعلم ما فی قلوبھم پس معلوم کرلیا اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کے دلوں میں تھا یعنی اللہ تعالیٰ کو ان صحابہ کرام ؓ کے خلوص و محبت اور جذبہ جہاد کا علم اچھی طرح تھا۔ فانزل السکینۃ علیھم پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اطمینان و سکون نازل فرمایا۔ ان کے دل میں کمزور شرائط پر صلح کی جو خلش تھی وہ دور ہوگئی واثا بھم فتحا ً قریبا ً اور ایک قریبی فتح بھی عطا فرمائی یعنی فتح خیبر کی خوشخبری نہ دی جو واقعہ حدیبیہ سے تین ماہ بعد ہی اللہ نے عطا کردی اور اس ضمن میں فرمایا ومغانم کثیرۃ یاخذونھا اور بہت سی غنیمتوں کا حصول بھی شامل تھا۔ وکان اللہ عزیزا ًحکیما ً اور اللہ تعالیٰ زبردست اور حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر غالب ہے ، وہ کفار کو تباہ و برباد کرنے پر بھی قادر تھا اور مسلمانوں کو بلا روک ٹوک عمرہ کروا سکتا تھا۔ مگر اس نے نہایت حکمت کے ساتھ ایسا انتظام فرما دیا کہ خود کفار کے ہاتھوں ایسی شرائط پیش کروائیں ، جن کی وجہ سے اسلام کو ترقی نصیب ہوئی اور وہ بہت جلد مغلوب ہوگئے۔ صلح حدیبیہ میں شریک مسلمانوں کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا انتم خیر اھل الارض تم روئے زمین پر بہترین لوگ ہو ۔ نیز آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا لا یدجل النار احد بایع تحت الشجرۃ جن لوگوں نے اس درخت کے نیچے بیٹھ کر میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں نہیں جائے گا ۔ اس جماعت میں جدا بن قیس انصاری ایک منافق آدمی تھا وہ بیت رضوان میں شریک نہیں ہوا تھا کیونکہ اس کا سرخ اونٹ گم ہوگیا تھا اور وہ اسی کی تلاش میں پھرتا رہا ۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ بیعت رضوان میں شریک لوگوں میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا کیونکہ اللہ نے ان کی غلطیوں کو معاف کردیا ہے سوائے سرخ اونٹ والے کے۔ خلفائے راشدین ؓ کے ایمان کی شہادت امام ابوبکر حصا ص (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں خلفائے راشدین ؓ کے کامل الایمان ہونے کی شہادت موجود ہے کیونکہ وہ سب اس بیعت میں موجود تھے اور اللہ نے سب کے لیے اپنی رضا کا اعلان فرما دیا ۔ حضرت عثمان ؓ بیعت کے وقت حدیبیہ کے مقام پر موجود نہیں تھے کیونکہ وہ مسلمانوں کے سفیر کی حیثیت سے کفار سے گفت و شنید کے لیے مکہ میں تھے ، چناچہ صحیحین میں موجود ہے کہ جب تمام حاضر صحابہ ؓ نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر مذکورہ بیعت کرلی تو آپ نے فرمایا کہ کہ اس وقت عثمان ؓ ہم میں موجود نہیں ہیں ، لہٰذا ان کی طرف سے میں خود بیعت کرتا ہوں ۔ چناچہ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا کہ یہ عثمان ؓ کی طرف سے بیعت ہے۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ نے بعض صحابہ ؓ سے آغاز ، درمیان میں اور پھر آخر میں مکرر بیعت بھی لی جن میں ایک نوجوان صحابی مسلمہ ابن اکوع ؓ بھی شامل ہیں ۔ تاریخ میں ان کے کارہائے نمایاں کا ذکر ملتا ہے۔ یہ تمام صحابہ ؓ فضلیت کے لحاظ سے بدری صحابہ ؓ کے بعد دوسرے نمبر پر آتے ہیں ۔ اور یہ سارے مخلص مسلمان تھے ، اللہ ان سے راضی ہوگیا ۔ اب شیعہ لوگ خلفائے راشدین ؓ اور دوسرے صحابہ ؓ کے متعلق گمراہ کن پر اپیگنڈا کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں شک کرتے ہیں ، حالانکہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور حضور ﷺ نے ان کو عام معافی کی بشارت بھی سنا دی ۔ ان کا ذکر آخری رکوع میں پھر آ رہا ہے۔ انہوں نے موت کی فکر کو قبول کرنے کی بیعت کی تھی اور حضور ﷺ کے دست مبارک ہاتھ رکھ کر واضح طور پر اقرار کیا تھا لا نفر کہ ہم دشمن کے مقابلے میں بھاگیں نہیں بلکہ آخر دم تک لڑیں گے۔ لہٰذا ان صحابہ ؓ کے ایمان میں شک کرنا بذا ت ِ خود منافقت کی علامت ہے۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ جس دن سے مسلمانوں نے موت کی فکر کو قبول کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اسی دن سے ان پر زوال آنا شروع ہوگیا ہے۔ برگزیدہ لوگ یرموک ، قادسیہ ، مصر اور خراسان کے معرکوں میں کھیل کود کے لیے تو نہیں گئے تھے ، بلکہ جان ہتھیلی پر رکھ کر اللہ کی رضا کے لیے گئے تھے۔ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں خراسان کے چپہ چپہ میں کافروں سے جنگیں ہوئیں ۔ ایک ایسا موقع بھی آیا کہ تین لاکھ خافانی لشکر کے مقابلے میں مسلمان مجاہدوں کی تعداد صرف دس ہزار تھی ۔ اتنی زبردست لڑائی ہوئی کہ ایک مجاہد بھی زندہ نہ بچا ۔ پھر مسلمانوں کی دوسری جماعت آئی تو اللہ نے کافروں کے خلاف مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ اسی موت کی فکر پر بیعت رضوان ہوئی تھی اور اس جماعت پر اللہ نے اپنی رضا کا اعلان فرما دیا تھا۔ قریبی فتح دراصل صلح حدیبیہ مسلمانوں کی اخلاقی فتح (Moral Victory) تھی ۔ حضور ﷺ نے مسلمانوں کے حق میں کمزورشرائط کو بھی تسلیم کرلیا ۔ لوگوں کے دل میں ترد د تھا مگر اللہ نے ان کے دلوں میں اطمینان نازل فرما کر اس تردد کو دور کردیا البتہ قریبی فتح سے مراد خیبر کی فتح ہے جو معاہدہ حدیبیہ سے چند ماہ بعد ہی مسلمانوں کو حاصل ہوگئی ۔ خیبر مدینہ سے تقریباً ایک سو میل دور بطرف شمال تھا یہ علاقہ بڑا سر سبز تھا۔ وہاں پر زرخیز زمینیں اور ہرے بھرے باغات اور کنوئیں تھے۔ یہاں کے یہودیوں نے غزوہ خندق کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف سازش کی تھی ، لہٰذا مسلمانوں نے ان پر حملہ کر کے ان سے یہ علاقہ چھین لیا ۔ جس سے مسلمانوں کی معاشی تنگی آسودگی میں تبدیل ہوگئی ۔ اللہ نے فرمایا وعد کم اللہ مغانم کثیرۃ تاخذونھا اللہ نے تمہارے ساتھ بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم حاصل کرو گے فعجل لکم ھذہ پس یہ غنیمت تمہارے لیے جلدی مقرر کردی ہے۔ اس سے مراد یہی خیبر کی فتح اور وہاں سے آمدہ مال غنیمت ہے جو بہت تھوڑے وقت میں مسلمانوں کو حاصل ہوگیا ۔ پھر بعد میں بڑی بڑی فتوحات ہوئیں اور مسلمانوں کو ہر چیز کی فراوانی حاصل ہوگئی۔ اس کے علاوہ فرمایا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ یہ احسان بھی کیا وکف ایدی الناس عنکم اور لوگوں کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا ، یعنی کافروں نے تم پر ہاتھ نہ اٹھایا ، چناچہ نہ تو حدیبیہ کے مقام پر لڑائی ہوئی اور نہ ہی خیبر کے معرکہ میں کوئی زیادہ مزاحمت ہوئی ۔ ایک معمولی جھڑپ ہوئی اور پھر یہودی مغلوب ہوگئے مطلب یہ کہ مسلمان کو جنگ کے ذریعے جانی اور مالی نقصان بھی نہ ہوا ۔ فرمایا ایسا اس لیے کیا ولتکون ایۃ للمومنین تا کہ مسلمانوں کے لیے اس بات کی علامت بن جائے کہ اللہ تعالیٰ قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا مالک ہے ، وہ اپنے وعدے کے مطابق مخلص مسلمانوں کو ہر موقع پر غالب بنائے گا ۔ ویھدیکم صراطا ً مستقما اور تم کو سیدھے راستے کی رہنمائی بھی فرمائے گا ۔ وہ تمہاری نتیوں اور ارادوں سے واقف ہے۔ لہٰذ ا وہ تمہیں ہر معرکے میں ثابت قدم رکھے گا اور کامیابی عطا فرمائے گا ۔ فرمایا اس قریبی فتح کے علاوہ واخری لم تقدر واعلیھا دوسری فتح بھی جس پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے اور یہ بعد میں حاصل ہوگی قد احاط اللہ بھا اللہ تعالیٰ نے اس فتح کا بھی احاطہ کر رکھا ہے اور وہ بھی جلدی ہی حاصل ہوجائے گی مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس فتح سے مراد فتح مکہ ہے جو 8؁ھ میں مسلمانوں کو حاصل ہوگئی اور بعض اسے دوسری فتوحات پر محمول کرتے ہیں جو مسلمانوں کو قلیل عرصہ میں حاصل ہوگئیں۔ فرمایا وکان اللہ علی کل شی قدیراً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، وہ تمہیں ہر طرح سے کامیابی عطا فرمائے گا بشرطیکہ تمہارا اخلاص ، ایمان ، جذبہ جہاد اور رضائے الٰہی کی طلب کمال درجے کی ہو۔ جب تک تم مال و جان کی قربانی کے لیے مستعدر ہو گے ، اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ پورا کرتا رہے گا ، اور تمہیں ہر معرکے میں فتح نصیب ہوتی رہے گی۔ کفار کی ناکامی آگے ارشاد ہوتا ہے ولو فاتلکم الذین کفروا لولو الادبار اور اگر یہ کافر لوگ تمہارے ساتھ جنگ کرتے تو پشت پھیر کر بھاگ جاتے۔ یہ واقعہ حدیبیہ ہی سے متعلق بات ہو رہی ہے کہ وہاں پر جنگ کی نوبت تو نہ آئی ، تا ہم اگر بالفرض کافر ہتھیار بند ہو کہ تم سے جنگ شروع کر ہی دیتے تو پھر اللہ تعالیٰ کو تمہارا خلوص اور تمہاری جانبازی اس قدر پسند تھی کہ وہ تمہارے مقابلے میں ضرو ر شکست کھا جاتے۔ اگر چہ تم تعداد میں ان سے کہیں کم تھے ۔ اور پھر کافر لوگ بھاگتے وقت ثم لا یجدون ولیا ولا نصیراً نہ ان کا کوئی حامی ہوتا اور نہ مدد گار ، مطلب یہ کہ انہیں شکست سے کوئی نہ بچا سکتا ۔ فرمایا سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل یہ اللہ کا دستور ہے جو پہلے لوگوں میں بھی گزر چکا ہے۔ اللہ کے نبی اور اس کے مخلص پیروکاروں نے جب بھی دشمن کا مقابلہ کیا ۔ تو اللہ نے انہیں کامیاب بنایا ، درمیان میں خواہ کتنے ہی حوادثات پیش آئے ہوں ، اہل ایمان کو جان و مال کی قربانی دینی پڑی ہو آزمائش پر آزمائش آئی ہو مگر اللہ کے پرانے دستور کے مطابق فتح بالآخر اہل کو ہی حاصل ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی ( المجادلۃ : 21) کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے۔ اس کا یہ بھی فرمان ہے۔ اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰـوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ (المومن : 51) ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے ( یعنی قیامت) کو بھی ہم ان کی مدد کریں گے۔ اللہ کے اس وعدے کا اولین نمونہ حدیبیہ کے موقع پر ظاہر ہوا جب اللہ نے قلیل تعداد کے باوجود ان کی مدد فرمائی۔ پھر آگے چل کر بھی ہزاروں مسلمان لاکھوں کافروں ، مشرکوں اور اہل کتاب پر غالب آتے رہے۔ فرمایا یہ اللہ کا دستور ہے ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ً اور آپ اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء اور ان کے پیروکاروں کی مدد کر کے ان کو غالب کرتا رہے گا ۔
Ayahs 48:24–26

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کی وہی ذات ہے جس نے روک دیا ان ( مشرکین مکہ) کے ہاتھوں کو تم سے ، اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے مکہ شہر کے قریب بعد اس کے کہ تم کو ان پر کامیاب کردیا ، اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کام کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

وہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے کفر کیا اور روکا تمہیں مسجد حرام ہے۔ اور قربانی کے جانورروکے ہوئے تھے ( اس بات سے) کہ پہنچیں وہ اپنے ٹھکانے تک ، اور اگر نہ ہوتے کچھ مومن مرد اور کچھ مومن عورتیں جن کو تم نہیں جانتے کہ تم ان کو پامال کردو گے ، پس پہنچے گی تم کو ان کی طرف سے تکلیف بغیر علم کے ، تا کہ اللہ تعالیٰ داخل کر دے۔ اپنی رحمت میں جس کو چاہے ، اور اگر وہ الگ ہوتے تو ہم سزا دیتے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان میں سے درد ناک سزا

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جب کہ ٹھہرایا ان لوگوں نے جنہوں نے کفا کیا اپنے دلوں میں اکڑ جاہلیت کی ۔ پس اتاری اللہ نے تسلی اپنی رسول پر اور ایمان والوں پر اور لازم کردیا ان پر تقویٰ کا کلمہ ، اور وہ اس کے زیادہ لائق تھے اور اس کے اہل تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کو جاننے والا ہے

شان نزول سورۃ الفتح میں واقعہ حدیبیہ کے مختلف پہلوئوں کی طرف اشارات ملتے ہیں ۔ حدیبیہ کا معاہدہ طے پا جانے کے بعد بھی مشرکین کے بعض گروہوں نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ، اور کچھ لوگ مختلف راستوں سے ہو کر مسلمانوں کے ٹھکانے پر پہنچے تا کہ کسی طرح حضور ﷺ کا کام تمام کردیا جائے۔ اور یہ ہدف نہ بھی پورا ہو تو کم ا ز کم مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کر کے ان کو تنگ تو کیا جاسکے گا ، اور اس طرح ان کو اشتعال دلا کر ان کو لڑائی پر آمادہ کیا جاسکے گا ۔ مشرکین کے اسی منصوبے کے تحت ایک مسلمان شہید بھی ہوگیا ۔ سکیم کے مطابق کفار کے سترآدمی مسلمانوں میں افرا تفری پیدا کرنے کے لیے پہاڑی کی پچھلی طرف سے اترے اور انہوں نے مسلمانوں کو للکارا۔ اس پر کسی مسلمان نے بلند آواز سے یہ بھی کہا کہ ہمارے ساتھی ابن زنیم کو قتل کردیا گیا ہے۔ لہٰذا مسلمانو ! مقابلے کے لیے نکل آئو ایسے موقع پر مسلمان مشتعل ہو سکتے تھے مگر ہوا یہ ہے کہ پیشتر اس کے کہ حملہ آور مزید کوئی نقصان پہنچاتے وہ سب سے کے سب مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ حضرت سلیمان بن اکوع ؓ کسی درخت کے پاس تھے ، وہاں پر چار مشرکین آئے اور آپ نے اکیلے ہی سب کو قابو کرلیا ۔ پھر یہ سارے ستر آدمی قیدیوں کی صورت میں حضور ﷺ کے سامنے پیش کیے گئے ۔ آپ چاہتے تو ان سے انتقام لیا جاسکتا تھا کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو شہید بھی کردیا تھا ۔ مگر اس وقت تک معاہدہ حدیبیہ طے پا چکا تھا ، اس لئے آپ نے مزید کوئی کارروائی کرنا مناسب نہ سمجھا ، اور تمام قیدیوں کو رہا کردیا گیا ۔ آپ نے فرمایا منھم بدو الفجور و ثناہ یعنی برائی کی ابتدائی بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور اس کا دہرانا بھی انہی کی طرف سے ہوا ہے ، لہٰذا ان کو چھوڑ دو ۔ مسلمان اس موقع پر مکہ بھی فتح کرسکتے تھے مگر مصلحت اسی میں تھی کہ صلح کی پاسداری کی جائے کیونکہ یہ آگے چل کر مسلمانوں کے حق میں بہت مفید ثابت ہونے والی تھی ، چناچہ طرفین کی طرف سے کسی نے بھی باقاعدہ جنگ کا آغاز نہ کیا۔ جنگ سے اجتناب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے وھوالذین کف ایدیھم عنکم وایدیکم عنھم اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے مشرکین مکہ کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور تمہارے ہاتھوں کو ان کی طرف بڑھنے سے روک دیا ۔ مطلب یہ کہ جنگ کی نوبت نہیں آئی اور یہ واقعہ کہاں پیش آیا ۔ ببن مکۃ شہر مکہ کے قریب ۔ بطن کا لغوی معنی تو پیٹ ہوتا ہے یعنی عین مکہ کے بیچ مگر یہاں پر معنی قریب ہے کیونکہ معاہدہ حدیبیہ شہر میں نہیں طے پایا تھا بلکہ تقریباً دس میل دور حدود حرم پر یہ سارے واقعات پیش آئے من بعد ان اظفرکم علیکم بعد اس کے کہ تم کو ان پر کامیاب کردیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے ستر آدمی تمہاری گرفت میں آ چکے تھے۔ اگر تم انتقام لینا چاہتے تو لے سکتے تھے مگر حضور ﷺ نے معاہدہ صلح پر عملدرآمد کرتے ہوئے تمام قیدیوں کو رہا کردیا وکان اللہ بماتعملون بصیراً اور تم جو بھی کام کرتے ہو سب اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں ۔ مشرکین کی سازشیں اور شرارتیں اور اہل ایمان کا جذبہ ایمان و قربانی اور پھر اس پر استقامت سب اللہ کے سامنے ہیں ، اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ عدم تصاد م کی مصلحت آگے اللہ نے مشرکین کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ھم الذین کفروا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ۔ وصدوکم عن المسجد الحرام اور تمہیں مسجد حرام سے روکا یعنی بیت اللہ کا طواف کرنے اور صفا مرو ہ کی سعی کرنے کی اجازت نہ دی حالانکہ تم کسی جنگ کے لیے نہیں بلکہ خالصتا ً عمرہ کی ادائیگی کے لیے آئے اور ہدی کے جانور بھی تمہارے ساتھ تھے اور پھر مکہ کا یہ قدیم سے دستور بھی چلا آ رہا تھا کہ قریش کسی بڑے سے بڑے دشمن کو بھی حج وعمرہ کی ادائیگی سے نہیں روکتے تھے مگر یہاں وہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف تھے اور سمجھتے تھے کہ مکہ میں داخل ہو کر شاید یہ باقی مسلمانوں کو بھی ساتھ لے جائیں لہٰذا انہوں نے مکہ شہر اور مسجد حرام میں داخل ہونے سے ہی روک دیا ۔ فرمایا مشرکین نے نہ صرف اہل ایمان کو شہر میں داخلے سے روکا بلکہ والھدی معکو فا ً ان یبلغ محلہ قربانی کے جانوروں کو بھی قربان گاہ تک پہنچنے سے روک دیا جن کو مسلمان اپنے ساتھ لائے تھے اور جن کے گلوں میں قلاوے پڑے ہوئے تھے جو کہ قربانی کے جانور کی معروف علامت سمجھی جاتی تھی ، اللہ نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دے دی جاتی تو یہ کامیاب ہو سکتے تھے مگر عدم تصادم میں ایک اور مصلحت بھی تھی اور وہ یہ کہ مکہ کے بعض ایماندار مرد اور عورتیں اپنے ایمان کو چھپا کر مکہ میں گزر اوقات کر رہے تھے کیونکہ ان کے پاس ہجرت کر جانے کیلئے بھی وسائل موجود نہیں تھے۔ ایسے موقع پر اگر مسلمان مکہ پر چڑھائی کردیتے تو مشرکوں کے ساتھ وہ بےگناہ ایماندار بھی مارے جاتے کیونکہ مشرک لازما ً انہیں جنگ کے لیے آگے لاتے ، اور اگر وہ انکار کرتے تو وہ خود مشرکوں کے ظالم کا شکار بنتے۔ لہٰذا مصلحت اسی میں تھی کہ جنگ کو ملتوی کردیا جائے۔ اس کے علاوہ ایمان کو چھپانے والے یہ لوگ حضور ﷺ کو مشرکین کے منصوبوں سے بھی خفیہ طور پر آگاہ کرتے رہتے تھے ، لہٰذا ان کی ان خدمات کے پیش نظر بھی جنگ کو نہ چھیڑا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مصلحت کو یہاں بیان فرمایا ہے ولولا رجال مومنون ونساء مومنت لم تعلموھم اور اگر نہ ہوتے مومن مرد اور مومن عورتیں جنہیں تم نہیں جانتے ان تطوھم کہ جن کو تم لا علمی کی وجہ سے پا مال کردیتے ۔ فتصیبکم منھم معرۃ بغیر علم تو اس لا علمی کی وجہ سے تمہیں ان کی طرف سے سخت تکلیف پہنچتی ۔ مطلب یہ کہ اگر مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان ہی مارے جاتے تو تمہیں اس کا سخت خلش ہوتا ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر جنگ کی اجازت نہ دی ۔ عدم تصادم کی ایک مصلحت یہ بھی تھی لیدخل اللہ فی رحمتہ من یشاء تا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اپنی رحمت اور مہربانی میں داخل کر دے ۔ یعنی آج تو یہ مشرک اور کافر بڑے غرو ر وتکبر کا اظہار کر رہے ہیں اور ایمان کو قبول کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں ، مگر عین ممکن ہے کہ تھوڑا سا موقع ملنے پر یہی لوگ ایمان لے آئیں اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی ان کے شامل حال ہوجائے۔ پھر خاص طور پر کمزور اور نادار مسلمانوں کے متعلق فرمایا لو تزیلوا اگر یہ مشرکین سے الگ ہوتے یعنی ان میں لے ملے نہ ہوتے جس کی وجہ سے ان کو پہنچاننا مشکل تھا لعذبناالذین کفروا منھم عذاباً الیما ً تو ہم کافروں اور مشرکوں کو درد ناک سزا دیتے۔ یہ تو ایمان کو مخفی رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے فی الوقت مشرک بھی سزا سے بچ گئے ، ورنہ ان کو پتہ چل جا تاکہ اللہ کے بندوں کو عمرہ کی ادائیگی سے کس طرح روکا جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ کی ایک شق یہ بھی تھی کہ بیرونی افراد و قبائل میں سے جس کا جی چاہے مسلمانوں کی حمایت کرے اور جس کا جی چاہے مشرکوں کا طرفدار بن جائے۔ اس معاملہ میں فریقین کا کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ اس شق کی وجہ سے کمزور مسلمانوں کو بھی حق مل گیا تھا کہ وہ اپنے ایمان کو کھلم کھلا اعلان کر کے مسلمانوں کی حمایت کرلیں۔ اور اس طرح مشرکوں کے مظالم سے بچ جائیں ۔ صلح حدیبیہ میں یہ بھی ایک اہم مصلحت تھی ۔ جاہلیت کی ہٹ دھرمی اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس وقت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی مذمت بیان کی ہے اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ جب کہ ٹھہرائی کفر کرنے والوں نے اپنے دلوں میں جاہلیت کی اکڑ ، مشرکین اور کفار کی جاہلانہ حمیت کی کئی مثالیں صلح حدیبیہ کے موقع پر سامنے آئیں ۔ مثلاً معاہدہ کے آغاز میں جب حضور ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو مشرکین نے اعتراض کردیا کہ ہم کسی رحمن اور رحیم کو نہیں جانتے ، لہٰذا پرانے دستور کے مطابق بسمک اللھم لکھا جائے۔ آپ نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے یہی الفاظ لکھوا دیئے۔ پھر آپ نے فریقین معاہدہ کے نام لکھوائے ھذا ما قاضی محمد رسول اللہ یہ وہ معاہہ ہے جو اللہ کے رسول محمد ﷺ اور قریش مکہ کے درمیان طے پایا ہے۔ اس پر پھر مشرکین کی طرف سے اعتراض ہوا کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرلیں تو پھر جھگڑا کیا رہ جاتا ہے۔ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے ، اس کی بجائے محمد ابن عبد اللہ کے الفاظ لکھے جائیں حضور ﷺ نے یہ مطالبہ بھی مان لیا اور حضر ت علی ؓ سے فرمایا کہ محمد رسول اللہ کاٹ دو ۔ وہ کہنے لگے کہ مجھ سے تو یہ کام نہیں ہو سکے گا ، لہٰذا حضور ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے رسول اللہ ﷺ کے الفاظ کاٹ دیے اور ان کی جگہ محمدابن عبد اللہ لکھوا دیا ۔ معاہدہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ کا کوئی آدمی بھاگ کر مدینہ چلا جائیگا تو مسلمان اسے واپس لوٹا دیں گے ، اور اگر کوئی مدینہ سے بھاگ کر مکہ آجائے ، تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا ۔ صحابہ ؓ کو اس شرائط کا بھی بڑا قلق تھا کیونکہ یہ شرط فریقین کی برابر کی حیثیت کے خلاف تھی ۔ اس وقت مشرکوں کی قید میں بہت سے ایماندار تھے مگر اس شرط کی رو سے ان کو رہا نہ کرایا جاسکا ۔ مگر آ گے چل کر اس شرط کا فائدہ بھی مسلمانوں کو ہی پہنچا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اسی ضد ، عناد ، اکڑ اور جاہلانہ حمیت کا تذکرہ یہاں کیا ہے کہ وہ کس قسم کے ہٹ دھرم لوگ تھے۔ نزول سکینت ان حالات میں مسلمانوں کے دل سخت مغموم تھے کیونکہ حضور ﷺ نے مسلمانوں کے حق میں بڑی کمزور شرائط کو تسلیم کیا تھا۔ اس پر حضور ﷺ نے خوشخبری دی کہ صلح حدیبیہ کے ذریعے اسلام کو فتح حاصل ہوگئی ۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، حضور ﷺ ! کیا یہی فتح ہے کہ ہم نے نہایت ہی کمزور شرائط پر سمجھوتہ کیا ہے تو آپ نے فرمایا۔ ہاں فانزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اطمینان نازل فرمایا جس سے ان کا سارا تردد دور ہوگیا اور اطاعت کا جذبہ غا لب آ گیا والزمھم کلمۃ التقویٰ اور اللہ نے ان پر تقویٰ کا کلمہ لازم کردیا ۔ وکانوا احق بھا واھلھا اور یہی لوگ اس کلمہ کے زیادہ لائق اور زیادہ حق دار تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق اس کلمہ تقویٰ سے مراد کلمہ توحید لا الا الا اللہ ہے۔ مومنوں نے ا س کلمہ کے تقاضوں کو پور اکر کے ثابت کردیا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار تھے وکان اللہ بکل شی علیما اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے مشرکوں کی نافرمانی ، ضد اور عناد بھی اس کے علم میں ہے اور اہل ایمان کے جذبہ کا بھر پور انداز میں اظہار کردیا ۔ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے ازلی ابدی علم میں ہیں ۔