Ayahs 47:1–3نام اور کوائف
اسی سورة کے نام سورة محمد ﷺ ہے ۔ سورة کی دوسری آیت میں لفظ محمد ﷺ مذکور ہے اور اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ اس سورة کا دوسرا نام قتال بھی آتا ہے ، کیونکہ اس میں جنگ کا ذکر بھی ہے ۔ قرآن کی بعض دوسری سورتیں بھی مختلف انبیائے کرام (علیہ السلام) کے اسمائے گرامی کے ساتھ منسوب ہیں جیسے سورة ہود (علیہ السلام) ، یونس (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) اسی طرح یہ سورة حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے نام نامی سے منسوب ہے۔ یہ سورة مدنی دور میں نازل ہوئی اور اگلی مزید دوسورتیں یعنی سورة الفتح اور سورة الحجرات بھی مدنی سورتی ہیں ۔ آگے پھر سورة ق سے لے کر سورة الواقعہ تک مکی سورتیں ہیں اور اس کے بعد سورة حدید پھر مدنی سورة ہے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة سورة حدید کے بعدل نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت کے لحاظ سے یہ پہلے آتی ہے ، اس سورة مبارکہ کی اڑتیس 38 آیات اور چار رکوع ہیں ، اور یہ سورت 558 کلمات اور 2475 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط
گزشتہ سورة کی آخری آیت میں لفظ بلٰغ آیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح پیغام ہے۔ یہ بنیادی عقائد بھی ہیں جو اللہ نے قرآن کی مختلف سورتوں اور خاص طور پر حوامیم سبعہ میں اچھی طرح واضح کردیئے ہیں۔ اگر اب بھی کوئی شخص ان بنیادی عقائد پر ایمان نہیں لاتا تو وہ فاسق شمار ہوگا ۔ اور فاسقوں کے متعلق اللہ نے سابقہ سورة میں واضح کردیا ہے ۔ فھل یھلک الا القوم الفسقون (آیت : 35) کہ اللہ تعالیٰ انہیں ضرو ر ہلاک کریگا ۔ اب اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے فاسق کی علامات بیان کر کے اس کا ربط اس سورة کے ساتھ قائم کردیا ہے ، چناچہ اس سورة کی ابتداء ہی اس طرح ہوتی ہے کہ فاسق وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ۔ یعنی دین کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت کو تسلیم نہ کیا ۔ اور انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ کے راستے سے روکنے کی کوشش کی ۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ تباہ وبرباد کیے جائیں گے۔ فاسق لوگوں کی ہلاکت دو صورتوں میں واقع ہوتی ہے۔ یا تو ان پر براہ راست کوئی عذاب نازل کردیا جاتا ہے۔ جیسے قوم عاد ، قوم لوط ، قوم ثمود اور قوم فرعون ہلاک ہوئیں ۔ یا پھر جنگ کی صورت میں اہل ایمان کے ہاتھوں مجرموں کو شکست دی جاتی ہے جیسے حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں طالوت کے ہاتھوں قوم عمالقہ تباہ ہوئی اور جیسے حضور ﷺ کے ہاتھوں کفار و مشرکین کو اولین سزا بدر کے مقام پر دی گئی اور پھر آہستہ آہستہ پورے عرب سے ان کا خاتمہ کردیا گیا ۔
جہاد کا حکم
مدنی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے دین کے مختلف احکام نازل فرمائے ہیں جن میں سورة بقرہ ، آل عمران ، نساء ، مائدہ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں پھر سورة الانعام میں اللہ نے توحید کے درس کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے شرک کا رد فرمایا ہے اور نظام اعتقاد کو پورے طریقے پر سمجھایا ہے۔ سورة الاعراف میں انبیاء کی تاریخ بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے ہر نبی نے توحید کا درس دیا اور شرک اور کفر سے منع فرمایا ۔ اب ان واضح احکام و فرامین کو جو لوگ تسلیم نہیں کتے بلکہ الٹا اللہ کے راستے سے دوسرے لوگوں کو بھی روکنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ اللہ نے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ جہاد کے تفصیلی احکام ، سورة البقرہ ، آل عمران ، مائدہ ، انفال ، توبہ اور احزاب میں بیان کیے گئے ہیں ، تا ہم اس سورة مبارکہ میں اختصار کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا ہے ، یہ فاسق لوگوں کے خلاف گویا اعلان جنگ ہے اور پھر اگلی سورة فتح میں اللہ تعالیٰ نے اس جنگ کے نتیجے میں فتح کی خوش خبری بھی سنا دی ہے۔ جہاد کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ اس میں جان اور مال دونوں چیزوں کھپانی پڑتی ہیں ۔ جہاد شروع کرنے سے پہلے اس کے لیے مکمل تیاری کی ضرورت ہوتی ہے اس تیاری کے سلسلے میں جماعت کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر جماعت کا امیر ہونا چاہئے جس کی سرکردگی میں جہاد کا فریضہ انجام دیا جائے ، پھر ایک مکمل تنظیم ہونی چاہئے۔ جس کے مطابق سامان ضرب و حرب فراہم کیا جائے اور دوران جنگ کمک کی تحصیل کو باقاعدہ بنایا جائے۔ اگل سوۃ الفتح میں اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی ایک منظم جماعت کا نمونہ بھی پیش کیا ہے۔ محمد رسول اللہ والذین معہ۔۔ الایۃ یہ صحابہ کرام ؓ کی جماعت ہے جس کے امیر خود سرور کائنات ہیں ۔ اللہ نے ان کے اوصاف و خصائل تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیئے ہیں تا کہ آنے والی نسلیں بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر انہی کے نمونے کے مطابق جماعت تیار کریں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت ہر قدم پر ساتھ ہوگی ۔ جہاد کی صورت میں مسلمانوں کی قربانیوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں جب خاقانیوں نے خراسان پر حملہ کیا تو دشمن کے تین لاکھ کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کل پونچی دس ہزار مجاہدین تھے۔ اس کے باوجود اہل ایمان نے حوصلہ نہ ہارا بلکہ دشمن کے ساتھ ٹکراگئے حتیٰ کہ دس ہزار میں سے ایک فرد بھی زندہ نہ بچا ، سب کے سب شہید ہوگئے ، مگر ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی ۔ اس وقت تو مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ، مگر مسلمانوں نے جہاد کو جاری رکھا اور بالآخر فتح انہی کو حاصل ہوئی اور یہ تمام علاقے مسلمانوں کے قبضہ میں آئے ۔ عرض عرنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاد کوئی معمولی کام نہیں ہے بلکہ اس میں بڑے کٹھن مراحل بھی آتے ہیں جن سے گزرنا پڑتا ہے ، تب جا کر کہیں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
راحق میں رکاوٹ
الغرض ! فرمایا کہ ہلاک ہونے والے وہ فاسق لوگ ہیں الذین کفروا جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ۔ وصدوا عن سبیل اللہ اور اللہ کے راستے سے روکا ۔ کفر سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے توحید ، رسالت ، معاد ، جزائے عمل اور قرآن کی حقانیت کو تسلیم نہ کیا بلکہ اللہ کے نبیوں کو تکالیف پہنچاتے رہے جہاں تک اسلام کے راستے سے روکنے کا تعلق ہے ، اس کا میدان بڑا وسیع ہے۔ ایک رکاوٹ تو ظاہری ہے کہ جہاڈد پر کفر کا غلبہ ہو وہاں اہل ایمان کو شائر دین پر عمل کرنے سے روک دیا جائے ، جیسے پوری تاریخ انبیاء میں اس قسم کے واقعات ملتے ہیں کہ انبیاء اور ان کے پیرو کاروں کو خدا کی عبادت کرنے اور دین کی تبلیغ کرنے سے جبراً روک دیا گیا ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر سورة الشعراء میں موجود ہے ۔ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَہِ یٰـنُوْحُ لَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَ (آیت : 116) اے نوح ! اگر تم نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنا نہ چھوڑا تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی آپ کے باپ نے یہی کہا کہ اے ابراہیم ! تو ہمیں ہمارے معبودوں سے دور کرنا چاہتا ہے اگر تو ان حرکات سے باز نہ آیا لَاَرْجُمَنَّکَ وَاہْجُرْنِیْ مَلِیًّا (مریم : 46) تو میں تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردوں گا ، لہٰذا میری نظروں سے دور ہوجا ۔ جب حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ہم جنسی سے منع کیا تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے اَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ قَرْیَـتِـکُمْ اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ (الاعراف : 82) کہ لوط (علیہ السلام) اور اس کے چند پیروکار بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں ، ان کو اپنی بستیوں سے نکال باہر کرو ۔ شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو ماپ تول میں کمی بیشی کرنے سے منع فرمایا ۔ نیز انہیں راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے سے منع کیا تو قوم کے سرکردہ لوگ کہنے لگے کہ اے شعیب (علیہ السلام) ! ہم تمہیں اور تمہارے پیروکاروں کو اپنی بستیوں سے نکال دیں گے۔ او لتعودن فی ملتنا (الاعراف : 88) اگر یہاں رہنا ہے تو اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین میں واپس آ جائو ۔ خود حضور ﷺ کی تبلیغ کے راستے میں ہر قسم کے روڑے اٹکائے گئے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائی گئیں ۔ آپ کو لالچ دیا گیا کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرلیتے ہیں ، مال و دولت آپ کے قدموں میں ڈھیر کردیتے ہیں ۔ خوبصورت ترین عورت نکاح میں دے دیتے ہیں ۔ آپ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں ۔ مگر اللہ کے مقرب انبیاء دشمنان کے کسی رعب اور لالچ میں نہ آئے اور اپنا مشن جاری رکھا۔ راہ حق سے روکنے کا دوسرا طریقہ سازشوں کا جال ہے جس کے ذریعے اہل ایمان کو اس دین حق سے بد ظن کیا جاتا ہے اور نئے آنے والوں کے دلوں میں شکوک و شہبات پیدا کرکے اسلام قبول کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ماضی قریب میں روسیوں کا کردار ہے جنہوں نے کسی بھی مذہبی تبلیغ پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی ۔ ان کے آئین کے مطابق مذہب کے خلاف تو پراپیگنڈا کیا جاسکتا ہے مگر مذہب کے حق میں کوئی زبانی یا عملی تحریک جائز نہیں اس آڑ میں کتنے ہی بےگناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ یہودی اور عیسائی مشنریاں دین حق سے روکنے کے سلسلے میں زیادہ پیش پیش ہیں ۔ وہ کبھی سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر کر کے اور ایڈ دے کر لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ۔ افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے پس ماندہ ممالک میں یہی حربہ استعمال ک کے لاکھوں لوگوں کو عیسائی بنایا جا چکا ہے کبھی زمانہ تھا کہ خود مسلمان دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا صحیح سلوک کیا کرتے تھے مگر آج دیگر اقوام ہیں جو نام نہاد ہمدردی کے جال میں پھنسا کر لوگوں کو بےدین بنا رہی ہیں ۔ ساتویں صدی میں مسلمانوں پر زوال آنا شروع ہوا اور پھر ان کے قدم نہیں سنبھل سکے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پچاس سے زیادہ مسلمان حکومتوں کے باوجود دنیا میں مسلمانوں کو کوئی حیثیت حاصل نہیں بلکہ یہ دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں ۔ مغربی ممالک سازش کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں ٹکراتے رہتے ہیں اور پھر ان کی مدد کی آڑ میں بندر بانٹ شروع کردیتے ہیں ۔ آج مسلمانوں کی نہ کوئی اپنی سوچ ہے اور نہ کوئی نظریہ جس پر چل کر وہ ترقی کی منازل طے ایک امریکی مصنف نے پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر مسلمانوں کے حالات پر مبنی ایک کتاب The neew world of islam ( جدید دنیائے اسلام) لکھی ۔ یہ کتاب امیر شکست ارسلان (رح) ( المتوفی 1946 ئ) کے پاس بھیجی گئی ۔ اس کا عربی ترجمہ ” الحاضر العالم الاسلامی “ کے نا م سے پروفیسر عجاج نویہض نے کیا ۔ اس پر تین ضخیم جلدوں میں مقدمہ اور تفریظ امیر شکیب (رح) نے لکھی ۔ جس میں مسلمانوں کے زوال کی وجوہات درج کیں آپ شام کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ترکی میں ہسپتالوں کے انچارج رہے خود بالفعل انگریزوں اور اٹلی والوں کے حالات جنگ میں شریک رہے اور آخر میں بےکسی کے عالم میں شام میں وفات پائی ۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ عیسائی اور یہودی طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کی اس قدر دشمن ہیں کہ وہ دین اسلام ، پیغمبر اسلام اور قرآن پاک کے خلاف چھ لاکھ کتابیں اور پمفلٹ شائع کرچکے ہیں ۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی طرح مسلمان دین حق سے بیزار ہ جائیں ، قرآن کا دامن چھوڑ دیں اور پھر سے کفر و الحاد کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے پھریں۔
خود مسلمان بھی اپنے کردار سے دین حق کی تبلیغ میں رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں ۔ ابھی وزیر آباد کا شرمناک واقعہ پیش آیا ہے کہ بدبختوں نے لڑکی کی لاش کو قبر سے نکال کر اس کے ساتھ بد فعلی کی ۔ یہی واقعات غیر مسلموں کے لیے اسلام کیخلاف پراپیگنڈہ کا جواز بن جاتے ہیں ۔ ہمارے ایک دوست ٹریننگ کے لیے سویڈن گئے ، انہوں نے کہا کہ میں نے وہاں پر بعض لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو ان کا جواب تھا کہ کیا اسلام قبول ک کے ہم چور اور ڈاکو بن جائیں کیونکہ ہم نے تو مسلمانوں کا یہی کردار دیکھا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر مسلمان خود غلط کام کرنے لگیں تو وہ بھی دین کے راستے میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
اعمال کا ضیاع
بہر حال فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا اضل اعمالھم اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا۔ اعمال کی قبولیت کا مدار ایمان پر ہے ، اگر ایمان ہی نہیں ہے تو رفاہ عامہ کا اچھے سے اچھا کام بھی نا مقبول ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا ۔ سورة کہف کے آخری رکوع میں ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے نقصان زدہ لوگ کون ہیں ۔ فرمایا ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا یہ وہ لوگ ہیں جن کی سعی دنیا میں ہی برباد ہوگئی اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں ۔ اگر کوئی کہے کہ کافر بھی تو رفاہ عامہ کے کام کرتے رہتے ہیں سکول اور ہسپتال بناتے ہیں ۔ مالی امداد دیتے ہیں تو کیا ان کو بھی کچھ اجر نہیں ملے گا ؟ بالکل نہیں ۔ اللہ نے ان کو ان کی نیکی کا اجر دنیا ہی میں نیک نامی اور شہرت کی صورت میں دے دیا ، اب آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں کیونکہ ایمان سے خالی رہے تو فرمایا کہ جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ، اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے۔
اہل ایمان کے لیے بشارت
اس کے بر خلاوالذین امنوا وعملوالصلحت جو لوگ ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے اور پھر انہوں نے اچھے اعمال انجام دیے اور بالخصوص وامنو ا بما نزل علی محمد وھو الحق من ربھم اس چیز پر ایمان لائے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے اور وہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے یعنی جو لوگ قرآن کریم پر بھی ایمان لائے ، اسے بر حق جانا اور اس پر عمل پیرا ہوگئے کفر عنھم سیاتھم اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور نیکی کی بدولت ان کی چھوٹی موٹی تقصیریں از خود معاف فرما دے گا ۔ واصلح بالھم اور ان کے حالات کو درست فرما دے گا ۔ ذلک بان الذین کفروا اتبعوا الباطل یہ اس وجہ سے کہ کفروں نے باطل کی پیروی کی ۔ کفر اور شرک کی تما م اقسام باطل ہیں ، لہٰذا ان کے اعمال ضائع ہوگئے ۔ وان الذین امنوا اتبعوا الحق من ربھم اور اہل ایمان نے اپنے پروردگار کی طرف سے آمدہ حق کا اتباع کیا تو اللہ نے ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان کے احوال کو بھی درست فرما دیا ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی وحدانیت ، رسالت اور قیامت پر ایمان لائے ۔ بعث بعد الموت اور جزائے عمل کو بر حق جانا ۔ اللہ کے فرشتوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے تو اللہ نے ان کو اچھے انجام کی خوش خبری د دے دی ۔ فرمایا کذلک یضرب اللہ للناس امثالھم اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے ان کے احوال بیان کرتا ہے تا کہ لوگ سمجھ جائیں ۔ کفر ، شرک اور معاصی کو ترک کر کے ایمان اور نیکی کو اختیار کرلیں اور ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوجائیں۔
Ayahs 47:4–6ربط آیات
گزشتہ درس میں تمہید کے طور پر فرمایا کہ فاسق لوگ وہ ہیں جو کفر کا شیوہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیتے ہیں اور خاص طور پر قرآن حکیم کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ ان کے رب کی طرف سے بر حق ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے گا اور ان کے حالات کو درست کر دے گا ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ کافر لوگ باطل کی پیروی کرتے ہیں ۔ جب کہ اہل ایمان حق کے متبع ہیں ۔ حق و باطل کی کشمکش ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔ اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔
قانون جنگ اور اس کی حکمت
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے قانون اور اس کی حکمت کا تذکرہ فرمایا ہے فاذا لقیتم الذین کفروا جب کافروں کے ساتھ تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے یعنی جنگ کی نوبت آجائے۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ فاسق لوگ وہ ہیں جو کفر کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اہل ایمان یہ صورت حال زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتے لہٰذا انہیں لا محالہ کفار کے ساتھ جنگ کرنی پڑیگی ۔ جنگ اور خونریزی کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے ۔ اس لیے حضور ﷺ کا ارشاد ہے سل اللہ العافیۃ اللہ تعالیٰ سے عافیت اور سلامتی کا سوال کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہاے جسم ، جان ، روح اور دین غرضیکہ ہر چیز کو اپنی سلامتی میں رکھے۔ تا ہم اگر حالات کے مطابق جنگ نا گزیر ہوجائے تو پھر فرمایا بزدلی نہ دکھائو واعلموا ان الجنۃ تحت ظلال سیوفکم تو پھر جان لو کہ جنت تمہاری تلواروں کے سائے میں ہے۔ اگر جنت کی خواہش ہے تو پھر کفار پر ٹوٹ پڑو ، کفر کو ملیا میٹ کر دو اور اللہ کے راستے کی ہر رکاوٹ کو دور ک دو ۔ سورة انفال میں حکم ہے وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ ِ اللہ ِ (آیت : 39) پھر ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ و فساد باقی نہ رہے اور پوری کی پوری اطاعت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہوجائے ۔ اسی سورة مبارکہ میں اللہ نے جنگ کا یہ قانون بھی بتلا دیا ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ایک فرد اہل ایمان دس کافروں پر بھاری تھا ۔ پھر جب اہل ایمان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللہ ُ عَنْکُمْ (الانفال : 66) کہ اللہ نے تم سے تخفیف کردی ہے اور وہ جانتا ہے کہ تم میں ضعف آ گیا ہے ، لہٰذا اب ایک کے مقابلے میں دو کفار کے ساتھ لڑ جانے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ اگر دشمن کی تعداد دوگنا بھی ہو تو ان سے ٹکرا جائو ۔ اور جو کوئی بزدلی کا اظہار کرے گا تو اللہ نے اس کے لیے جہنم کی وعید بھی سنا دی ۔ یہی حال فرمایا کہ جب کافروں سے تمہاری ٹکر ہوجائے یعنی میدان جنگ میں آمنا سامنا ہوجائے فضرب الرقاب تو پھر ان لوگوں کو مارو یعنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرو۔ مدنی زندگی میں حضور ﷺ نے تقریباً پچاس جنگیں لڑیں ۔ ان میں سے انیس جنگوں میں آپ نے بنفس نفیس لشکر کی قیادت فرمائی۔ جب کہ باقی جنگوں میں بالفعل شریک نہیں ہوئے بلکہ لشکر روانہ کردیے۔ ان انیس غزوات میں سے آٹھ یا نو غزوات میں جنگ کی نوبت آئی جبکہ باقی مواقع پر لشکر میدان جنگ میں پہنچے مگر لڑائی نہیں ہوئی ۔ حضور ﷺ جنگ کے موقع پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللھم منزل الکتب سریع الحساب مجری السحاب اھز مھم وزلزلھم اے کتاب کے اتارنے والے ، جلدی حساب لینے والے اور بادلوں کو چلانے والے اللہ ! ان کفار کو شکست دے اور انہیں درہم برہم کر دے اس دعا میں نزول کتاب کا ذکر کر کے حضور ﷺ نے یہ بات سمجھائی ہے کہ اہل ایمان کسی دنیوی لالچ ، ملک گیری ، قتل و غارت گری یا مال و دولت کے حصول کے لیے جنگ نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کی نازل کردہ کتاب کا نظام قائم ہوجائے ۔ فتنہ و فساد ختم ہوجائے اور اللہ کی زمین امن کا گہوارہ بن جائے ۔ جب مقصد یہ ہو تو پھر دشمن کا مقابلہ خوب ڈٹ کر کرنا چاہئے اور ان کی گردنوں کو مارنا چاہئے۔ سورة التوبہ میں فرمایا فَقَاتِلُوْٓا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِلا اِنَّہُمْ لَآ اَیْمَانَ (آیت : 12) کفر کے ان بڑے بڑے سرداروں سے خوب لڑو ، کیونکہ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ۔ وہ نہ تو اپنے عہد کی پابندی کرتے ہیں اور نہ قرابت داری کا خیال کرتے ہیں ، لہٰذا ان کو تہس نہس کر کے رکھ دو ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جارحانہ (Offensive) اور مدافعانہ (Defensive) دونوں قسم کی جنگ رو ا ہے۔ حالات کے مطابق جس طرح کی لڑائی ضروری ہو۔ اس سے گریز نہ کیا جائے ، کبھی حملہ آور دشمن سے اپنا دفاع کرنا پڑتا ہے اور کبھی آگے بڑھ کر کفر اور دشمنان دین کی بیخ کنی کرنا ہوتی ہے ، تا ہم ظلم و فتنے کا خاتمہ ہو۔
جنگ قیدیوں کا قانون
فرمایا دشمن کے ساتھ خوب مقابلہ کرو حتی اذا اتخنتموا ھم یہاں تک کہ جب خوب خونریزی کر چکو فشدوالوثاق تو پھر دشمن کے سپاہیوں کو مضبوطی سے باندھ لو یعنی ان کو جنگی قیدی سنا لو ۔ پھر ان قیدیوں کے ساتھ سلوک کا قانون یہ ہے فاما منا بعد پھر یا تو ان پر احسان کر کے ان کو چھوڑ دو واما فداء یا فدیہ لے کر رہا کر دو ۔ اس مقام پر قیدیوں کے ساتھ سلوک کی یہ دو صورتیں بیان کی گئی ہیں ۔ اگر مسلمان سمجھتے ہیں کہ جنگی قیدی رہا ہونے کے بعد اسلام کی تعلیمات میں غور و فکر کریں گے اور ان کے اسلام قبول کرلینے کی امید پیدا ہوتی ہو تو پھر انہیں بغیر معاوضہ کے چھوڑ دینے کی بھی اجازت ہے ، یا اگر دشمن پر تاوان ڈالنا مقصود ہے جس سے مسلمانوں کی مالی حالت بہتر ہو سکتی ہے ۔ تو پھر قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑنا بھی جائز ہے ۔ جیسا کہ غزوہ بدر کے بعد ہوا ۔ حضور ﷺ نے کافر قیدیوں کو مال کے عوض رہا کیا تھا۔ آپ نے یہ حکم بھی دیا کہ جو قیدی فدیہ دینے کی حیثیت نہیں رکھتے یعنی مالی لحاظ سے کمزور ہیں اگر وہ پڑھنا لکھنا جانتے ہیں تو چار چار مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔ ان کی رہائی کے لیے یہی معاوضہ کافی ہوگا ۔ اس کے علاوہ چوتھی صورت یہ ہے کہ اگر دشمن سے شر و فسا د کا خطرہ ہے تو پھر ان قیدیوں کو قتل کر کے دشمن کی طاقت کو توڑنا بھی درست ہے ، چناچہ مشرکین مکہ میں نصربن عارث اور عقبہ ابن ابی معیط کو قتل کردیا گیا تھا کیونکہ یہ بڑے ضدی آدمی تھے اور ان کی طرف سے دوبارہ خطرہ لا ہو سکتا تھا ، پانچویں صورت یہ ہے کہ دونوں طرف کے قیدیوں کا آپس میں تبادلہ کردیا جائے ، حضور کے زمانہ میں ایسا بھی ہوا ہے۔ چھٹی صورت یہ بھی ہے کہ جن کفار کے ساتھ جنگ ہوئی ہے۔ وہ ذمی بن کر جزیہ دینا قبول کرلیں تو ایسی صورت میں بھی جنگ قیدیوں کو بلا معاوضہ رہا کیا جاسکتا ہے۔ ساتویں صورت یہ ہے کہ عورتوں اور بچوں قیدیوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے اور بالغ مردوں کو قتل کردیا جائے ، چناچہ غزوہ بنی قریظہ کے موقع پر ایسا ہی ہوا تھا۔ ان کے تمام بالغ مرد قتل کردیئے گئے تھے اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا کرلیا گیا تھا۔ بہر حال حالات اور مصلحت کے مطابق کوئی بھی صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔ فرمایا یا تو قیدیوں پر احسان کر کے انہیں بلا معاوضہ رہا کردیا جائے یا پھر فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے حتی تضع الحرب اوزارھا یہاں تک کہ لڑائی اپنے ادزار رکھ دے یعنی جنگ بند ہوجائے۔ اس سے وہ خاص جنگ بھی مراد ہو سکتی ہے جو فی الواقعہ ہو رہی تھی اور پھر فتح و شکست یا کسی معاہدے کے تحت ختم ہوگئی ۔ اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفر کے خلاف جنگ کا سلسلہ جاری رکھا جائے ۔ یہاں تک کہ دنیا میں مکمل امن وامان ہوجائے اور کہیں بھی جنگ کی ضرورت باقی نہ رہے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ تم میں سے ایک ایسی جماعت ضرور باقی رہے گی ۔ جو دشمن کا مقابلہ کرتے رہے گی حتیٰ کہ قرب قیامت میں وہ دجال کے ساتھ جنگ کریں گے۔ اس کے بعد دنیا سے جنگ مکمل طور پر ختم ہوجائے گی ، کیونکہ مسیح (علیہ السلام) کے زمانہ میں صرف اہل ایمان ہی باقی رہ جائیں گے ۔ جب کہ دیگر سب ادیان ختم ہوجائیں گے۔ یہ امن وامان اور صلح کا زمانہ ہوگا ، حتیٰ کہ کسی دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف ، جھگڑا یا دشمنی نہیں ہوگی ۔ غرضیکہ اللہ نے جنگ کی حکمت اور اس سے پیدا ہونے والے بعض معاملات کی تشریح فرما دی ہے۔
جنگ ذریعہ آزمائش
فرمایا ذلک یہ احکام تو تم نے سن لے۔ ولو یشاء اللہ لا نتصر منھم اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کفار سے کسی دوسرے طریقے سے بھی انتقام لے لے۔ انتقام کی ایک صورت تو جنگ ہے جس کے ذریعے کفار کو نقصان پہنچایا جائے ان کے آدمی قتل ہوں ، کچھ لونڈی غلام بنا لیے جائیں اور ان سے مال غنیمت بھی حاصل ہو ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر جنگ کے کسی قدرتی آفت کے ذریعے ان کو ہلاک کر دے۔ قرآن پاک میں قوم عاد اور ثمود کے واقعات موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمانی اور زمینی آفت از قسم تند ہوا اور زلزلے کے ذریعے ہلاک کیا ۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں اور ان پر پتھروں کی بارش ہوئی اور فرعونیوں اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کو پانی میں غرق کیا گیا ۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کسی بھی طریقے سے اپنے دشمنوں سے انتقام لینے پر قادر ہے۔ فرمایا جنگ کی ایک حکمت یہ بھی ہے ولکن لیبلوا بعضکم بعض کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ تم دین کے لیے کتنی قربانی دے سکتے ہو ۔ اللہ نے اسی آزمائش کے لیے جہاد کا قانون نافذ کیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہ ِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ (التوبۃ : 111) کہ کبھی مسلمان کافروں کو تہہ تیغ کرتے ہیں اور کبھی خود شہید ہوجاتے ہیں۔
شہداء کے فضائل
آگے اللہ نے اس کی راہ میں شہید ہونے والوں کو خوش خبری سنائی ہے۔ والذین قتلوا فی سبیل اللہ جو اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے فلن یضل اعمالھم اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کو ضائع نہیں کرے گا ، ان کو نہ صرف پورا پورا بدلہ ملے گا ، بلکہ ان کو بلند مراتب نصیب ہوں گے۔ فرمایا سیھد یھم اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کی رہنمائی فرمائے گا ۔ ویصلح بالھم اور ان کے حال کو درست فرما دے گا ۔ اور پھر آخرت میں ان کے لیے یہ انعام ہوگا ۔ ویدخلھم الجنۃ کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرے گا عرفھا لھم جس کی ان کو پہچان کرا دی گئی ہے ۔ پہچان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نبیوں نے انہیں جنت سے متعارف کرایا تھا۔ کہ یہ نیک اور ایمان داروں کو نصیب ہوگی اور اس میں یہ سہولتیں میسر ہوں گی ، چناچہ اہل جنت جب جنت میں پہنچیں گے تو وہ اسے آسانی سے پہچان لیں گے ۔ پہچان کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنتی لوگ جنت میں اپنے ٹھکانے کو پہچان لیں گے اور وہاں پر اپنا ٹھکانہ تلاش کرنے کے لیے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ، بلکہ خود بخودوہاں پہنچ جائیں گے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ جب شہید کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتا ہے تو اس کو معافی مل جاتی ہے اور جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے۔ شہید عذاب قبر سے بھی مامون ہوتا ہے اور بعض روایات کے مطابق اس کی سفارش اس کے خاندان یا جماعت کے ستر آدمیوں کے حق میں مقبول ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کا نکاح بہت سی حوروں کے ساتھ کرا دیتا ہے اور اس کے سر پر سونے کا تاج رکھنے کا ذکر بھی آتا ہے۔ یہ اس قدر قیمتی تاج ہوگا کہ اس کا ایک موتی دنیا اور مافیہا کی تمام چیزوں سے قیمتی ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو اپنے بلند مراتب عطا کرے گا ۔ اسی لیے کہا گیا ہے سنام الاسلام الجھاد یعنی اسلام کے کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ جہاد کے ذریعے دنیا سے شر و فساد مٹتا ہے ، امن وامان اور نظم قائم ہوتا ہے اور جہاد میں حصہ لینے والوں کو دنیا و آخرت میں عزت نصیب ہوتی ہے۔ اگر مجاہد زندہ رہے تو غازی بن جاتا ہے اور اسے مال غنیمت اور دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں اور اگر شہید ہوجائے تو آخرت میں بلند درجات حاصل ہوتے ہیں۔
Ayahs 47:7–11ربط آیات
ابتدائے سورة میں تمہید بیان کی گئی ۔ اس کے بعد اللہ نے جنگ کے بعض قوانین بیان فرمائے کہ اگر دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو پھر بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا ۔ بلکہ جرأت اور بہادری سے لڑنا ، پھر جب اچھی طرح خونریزی ہوجائے تو دشمن کے بچے کھچے سپاہیوں کو قیدی بنا لو حتیٰ کہ جنگ موقوف ہوجائے۔ جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا کہ یا تو ان پر احسان کر کے انہیں رہا کر دو یا ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دو ۔ یہ جنگ کافروں کو سزا دینے کا ایک طریقہ ہے ، تا ہم اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی دوسرے طریقے سے بھی کفار کا قلع قمع کرنے پر قادر ہے۔ مگر اس کا قانون یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جنگ کے ذریعے آزمائش کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ اسی لیے اس نے جہاد کا حکم دیا ہے جس میں تن ، من ، دھن ہر چیز لگانی پڑتی ہے۔ پھر جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں بلند مراتب عطا کرے گا اور اس جنت میں پہنچائے گا ۔ جس کی پہچان اللہ کے نبیوں نے ان کو دنیا میں ہی کرا دی تھی۔
دین اسلام کی مدد
آج کے درس کی پہلی آیت بھی جہاد ہی کے سلسلہ کی کڑی ہے اور اس کو ایک دوسرے پیرائے میں سمجھایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! ان تنصروا اللہ ینصرکم اگر تم اللہ تعالیٰ کی مدد کرو گے یعنی اس کے دین کی مدد کرو گے اور اس کی تقویت کا باعث بنو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مد د فرمائے گا ۔ یہاں پر اللہ کی مدد کو مجازی معنوں میں لیا گیا ہے کیونکہ اللہ تو غنی اور صمد ہے اسے کسی کی مدد کی کیا ضرورت ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرو گے ، اس کو دوسروں تک پہنچائو گے ، اس کے راستے کی رکاوٹوں کو دور کرو گے ۔ اس پر خود عمل پیرا ہو گے اور دوسروں کو بھی ترغیب دو گے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے متراف ہوگا ۔ فرمایا ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ شامل حال ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو تسلی دی ہے اور ان کی مدد کا وعدہ فرمایا ہے۔ دین اسلام عوام کا مذہب ہے ۔ اہل ایمان کی جماعت اسے دوسروں تک پہنچانے کی پابند ہے۔ یہ دین ایک طرف انسانوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے درست کرتا ہے اور دوسری طرف اس پر عمل پیرا ہونے میں خود لوگوں کا بھی فائدہ ہے۔ اسلام انسانیت کے طبعی تقاضوں اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ کے نبیوں نے اس دین کو ہمیشہ عوام و خواص کے ساتھ پیش کیا ۔ چناچہ عوام یعنی کمزور اور نادار لوگ تو ابتداء میں ہی ایمان لے آئے مگر خواص یعنی امراء ، دولت مند اور ملوک اس کی مخالفت کرتے رہے ۔ پھر آخر میں چل کر جب کوئی چارہ کار باقی نہ رہا تو پھر جا کر اسلام کو قبول کیا ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے بد الاسلام غریبا ً و سیعود کما بد ا اسلام غرباء سے شروع ہوا اور پھر آخر میں غرباء ہی میں باقی رہ جائے گا ۔ بہر حال اللہ نے اسلام کی عوامی جماعت کو تسلی دی ہے۔ اسلام کی بنیاد علم اور عدل پر ہے ، اس لیے یہ جہالت اور ظلم کو مٹاتا ہے اور اما م شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء کی بعثت کا ایک قصد ” رفع التظالم من بین الناس “ بھی ہے یعنی یہ لوگوں کے درمیان سے ظلم و زیادتی کو مٹاتا ہے۔ علاوہ ازیں دین اسلام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا طریقہ سکھاتا ہے ایمان کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے اور جزائے عمل کی منزل سے آگاہ کرتا ہے۔ اسلام ایک طرف اپنے پیروکاروں کو نیک انجام کی بشارت سناتا ہے اور دوسری طرف منکرین اور بد کرداروں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ہے۔ اسلام کی اشاعت کے ضمن میں بڑی مشکلات پیش آتی ہیں ، جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے عام انسانیت کی بھلائی کی خاطر جب کوئی جماعت دین کا صحیح معنوں میں حق ادا کرتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس کی اعانت فرماتا ہے اور اس کو غالب بناتا ہے۔
ثابت قدمی
فرمایا اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ تو یہ ہے کہ ہ اپنے دین کی مدد کرنے والوں کی خود مدد کرے گا اور دوسری بات یہ کہ ویثبت اقدامکم کہ وہ تمہارے قدم مضبوط کر دے گا ۔ قدموں کی مضبوطی کا اطلاق دنیا اور آخرت دونوں مقامات پر ہوتا ہے جب تک یہ لوگ زندہ رہیں گے ان کے قدم صراط مستقیم پر قائم رہیں گے ، وہ دین کے تمام تقاضے پورے کریں گے اور کسی مشکل سے مشکل وقت پر بھی ان کے قدم ڈگمگائیں گے نہیں ۔ پھر جب آخرت کی منزل آئے گی تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے قدم پل صراط پر مضبوط رکھے گا ۔ بےدین لوگوں کے قدم پل صراً پر چلتے ہوئے پھسل جائیں گے۔ اور وہ جہنم میں جا گریں گے ، جب کہ اہل ایمان اس مرحلے کو کامیابی کے ساتھ طے کر جائیں گے ۔ ترمذی شریف کی روایت میں آیات ہے من ابلغ حاجتہ من لا یستطیع ابلاغہ جو شخص کسی غریب آدمی کی حاجت حاکم تک پہنچائے گا ۔ جب کہ وہ غریب آدمی خود اس کی استطاعت نہ رکھتے ہو ، تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو قیامت والے دن ثابت قدم رکھے گا ۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) بڑے خدا پرست اور انقلابی انسان تھے وہ انگریزوں کے سخت دشمن تھے اور اسی جرم کی پاداش میں انہوں نے عمر عزیز کے پچیس سال جلا وطنی میں گزار دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کی بڑی سمجھ فرمائی تھی ؟ بڑیے ذہین اور قوت قدسیہ کے مالک تھے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب کوئی چیز خاص لوگوں کے پاس ہوتی ہے تو اس کا چنداں اثر نہیں ہوتا ۔ اور جب وہی چیز عوام میں آجاتی ہے یعنی عام لوگ اس کی پیروی کرنے لگتے ہیں تو وہ چیز موثر اور پختہ ہوجاتی ہے ۔ دنیا کے جس جس خطے میں اسلام کی شمع عوام الناس کے سینوں میں روشن ہوئی ، وہاں اسلام کو پختگی حاصل ہوئی اور وہ صدیوں تک راسخ رہا اور اس کے کسی اصول او حکم میں کمزوری نہ آئی ۔ اس کے بر خلاف آج ہم دیکھتے ہیں کہ عوام میں صحیح دین کی بجائے کفر ، شرک ، بد عات ، رسومات اور لہو و لعب راسخ ہوچکے ہیں ۔ اصل دین تو ایک فیصدی لوگوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ اسی لیے آج دین راسخ نہیں ہے اور اس کے پیروکار تنزل کی طرف جا رہے ہیں ۔ دین کو پختگی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب ہر فرد اس کے اصولوں کو تسلیم کر کے عملی طور پر ان پر کار بند ہوجائے ، پھر اللہ کی مدد بھی آئے گی اور اہل ایمان دنیا پر بھی غالب آجائیں گے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے دین کے سچے پیروکاروں کو بشارت سنا دی کہ اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا ، اور تمہیں ثابت قدمی حاصل ہوگی۔
کفار کے لیے ہلاکت
اہل ایمان کے تذکرہ کے بعد کفار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا والذین کفروا اور جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا یعنی اللہ کی توحید کو تسلیم نہ کیا ، رسالت کا انکار کیا ، قیامت اور جزائے عمل کو پہلے لوگوں کی قصے کہانیاں بتایا ، فرمایا فتعسالھم ان کے لیے ہلاکت ہے واضل اعمالھم اور اللہ نے ان کے اعمال کو برباد کردیا ہے۔ ایسے لوگوں کے قدم نہ دنیا میں مضبوط ہو سکتے ہیں اور نہ آخرت میں یہ سنبھل سکیں گے ۔ ان کا فلسفہ جہالت پر مبنی ہے اور وہ باطل پروگرام کو جاری کرتے ہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ انہیں مغلوب کرے گا اور ان کے قدم نہیں جم سکیں گے اگر انہوں نے کوئی نیک اعمال بھی انجام دیے ہیں ۔ تو ایمان کی عدم موجودگی میں وہ بھی رائیگاں جائیں گے۔ فرمایا ذلک بانھم کرھوا ما انزل اللہ یہ اس وجہ سے کہ بیشک انہوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جس کو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ اللہ نے تو ایسا انسانیت کی بہتری کے لیے قرآن کا پروگرام نازل کیا ہے جس سے انسان میں توحید اور ایمان راسخ ہوتا ہے اور اس کا تعلق باللہ درست ہوتا ہے اسی پروگرام کے ذریعے کفر اور شرک کی بیخ کنی ہوتی ہے مگر انہوں نے اس پروگرام کو پسند نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا فلحبط اعمالھم کہ اللہ نے ان کے اعمال کو برباد کردیا ، ان کا اچھے سے اچھا عمل بھی ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوگیا ۔
ہلاکت کے نشانات
ایسے لوگوں کو اللہ نے عقلی دلیل کے ذریعے سمجھایا ہے افلم یسیروا فی الارض کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے فینظروا تا کہ یہ دیکھتے کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں ۔ عرب اور مکہ کے مشرکین شام کے تجارتی سفر پر جاتے تھے تو قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیوں کے کھنڈرات پر سے گزرتے تھے ، وہ قوم لوط کی بستیوں کو بھی دیکھتے تھے اور قوم نوح کا واقعہ بھی ان کو یاد تھا ، جب کہ ساری قوم فرعون بحر احمر کی موجوں کی نذر ہوگئی تھی۔ اللہ نے ان کو یاد دلای ہے کہ مذکورہ قوموں نے بھی اپنے نبیوں کی رسالت کا انکار کیا ، ان کے لائے ہوئے پروگرام کو ٹھکرا دیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا اور عبرت کے لیے ان کے مکانوں کے کھنڈرات ہی باقی رہ گئے۔ اسی لیے فرمایا کہ کیا انہوں نے سابقہ اقوام کے انجام کو نہیں دیکھا ؟ یہ لوگ خدا کے دین کو مٹانا چاہتے تھے اور دنیا میں شر و فساد برپا کرتے تھے لہٰذا اللہ نے انہیں ہلاک کردیا ۔ مطلب یہ کہ دمر اللہ علیھم اللہ تعالیٰ نے ان پر ہلاکت ڈال دی ۔ تدمیر کا لغوی معنی مٹا دینا ، ملیا میٹ کردینا ہے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں کے نہ صرف افراد کو ہلاکت میں ڈالا بلکہ ان کی عمارات اور ان کے تمدن کو بھی تباہ و برباد کردیا فرمایا وللکفرین امثالھا یہ تو پرانی قوموں کا حال تھا ، آج کے کافروں کے لیے بھی ایسی ہی چیزیں ہیں یعنی اگر انہوں نے کفر و شرک اور ظلم و زیادتی کو ترک نہ کیا تو ان کا انجام بھی سابقہ نافرمان قوموں سے مختلف نہیں ہوگا ۔ آج کے کافر اور آئندہ زمانوں والے کافروں کو اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی آفت میں مبتلا کر دے گا ۔
مومنوں کا کار ساز
فرمایا ذلک بان اللہ مولیٰ الذین امنوا یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کار ساز ہے ، جو لوگ صحیح پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور مفاد عامہ کی بات کرتے ہیں ۔ اللہ تعالٰ ان کی کار سازی فرماتا ہے۔ اس مقام پر مولیٰ کا معنی ہم نے کار ساز کیا ہے۔ یہ لفظ آقا ، سردار ، مالک ، رفیق اور ساتھی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ فرماتا اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے کام بناتا ہے وان الکفرین لا مولیٰ لھم مگر کافروں کا کوئی کار ساز آقا نہیں ہے ، وہ خدا تعالیٰ کی نصرت سے محروم رہتے ہیں ۔ غزوہ احد کے موقع پر حضرت ابو سفیان ؓ نے فخریہ انداز میں کہا تھا۔ لنا العزی ولا عزی لکم ہمارا عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں ہے۔ اس کے جواب میں حضور ﷺ نے کہلوایا اللہ مولانا ولا مولیٰ لکم ہمارا کار ساز اور مالک تو اللہ ہے مگر تمہارا کوئی کار ساز نہیں ہے یہ مومنوں کے لیے تسلی کا مضمون بھی ہوگیا کہ اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کریگا اور دشمن مغلوب ہوجائیگا ۔