Ayahs 47:29–33ربط آیات
جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں منافقین کا کردار اور ان کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ جب جہاد سے متعلق کوئی محکم سورة نازل ہوتی ہے تو آپ منافقین کو اپنی طرف بڑی حیرت سے دیکھتے ہوئے پاتے ہیں جیسا کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو رہی ہو ۔ پھر اللہ نے فرمایا ، کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ؟ جو لوگ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی قرآنی پروگرام کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹے پائوں پھرجاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے حصے میں ہلاکت اور تباہی ہی آسکتی ہے۔ اللہ نے منافقین کا یہ کردار بھی بیان کیا کہ یہ لوگ جب اسلام دشمن افراد سے ملتے ہیں تو انہیں اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں ۔ بوقت موت فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر ضربیں لگائیں گے اور ان کی روحوں کو تذلیل و تحقیر کے ساتھ نکالیں گے ان کا یہ حشر اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدہ چیز کا اتباع کیا ، اور اس کی پسندیدہ چیزکو ناپسند کیا ، خدا تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے اعمال ضائع کردیا ۔
منافق کی پہنچان
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے امر حسب الذین فی قلوبھم مرض کیا وہ لوگ گمان کرتے ہیں جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے ان لن یخرج اللہ اضغانھم کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے کینوں کو ہرگز ظاہر نہیں کرے گا ؟ منافقت ایک خطرناک بیماری ہے ۔ دیگر روحانی بیماریوں میں کفر ، شرک ، ارتداد اور شک ہیں جن کی وجہ سے انسان نجات سے محروم ہوجاتا ہے۔ تو فرمایا جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کے باطن کے کھوٹ ، فریب حسد اور کینے کو ظاہر نہیں کریگا۔ یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسی چیزوں کو کسی نہ کسی طریقے سے ظاہر کردیتا ہے اور ان کو دنیا میں ہی رسوائی کا منہ دیکھناپڑتا ہے۔ تو یہاں اللہ نے فرمایا ہے ولو نشاء لا رینکھم اگر ہم چاہیں تو آپ کو دکھا دیں کہ فلاں فلاں شخص منافق ہے جو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے ۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے فلعرفتھم بسیمھم آپ انہیں ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے کہ یہ منافق ہیں ۔ ان کی پہچان کا دوسرا ذریعہ یہ ہے ولتعرفنھم فی لحن القول کہ آپ ان کی طریقہ گفتگو سے پہچان لیں گے ایسے لوگ جب بات کرتے ہیں تو کسی نہ کسی موقع پر ان کی اسلام دشمنی ظاہر ہو ہی جاتی ہے ۔ اس کے بر خلاف جو ایمان والے ہیں ان کا ایمان ان کی گفتگو سے ہی جھلکتا ہے ۔ اہل ایمان کے بارے میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ۔ اتقوا من فراسۃ المومن فانہ یری بنور اللہ مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ کے عطا کردہ نور کے ساتھ دیکھتا ہے۔ سورة توبہ میں کثرت کے ساتھ منافقوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اولایرون انھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین ( آیت : 126) کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ انہیں ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے جس سے ان کی منافقت ظاہر ہوجاتی ہے اور وہ ذلیل ہوجاتے ہیں ۔ کبھی وحی الٰہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ منافقوں کی حرکات کی نشاندہی فرما دیتے ہیں اور کبھی اللہ کا رسول انہیں نور فراست سے پہچان لیتا ہے کہ فلاں منافق ہے ، کبھی ان کے چہرے کے اتار چڑھائو انکی منافقت کی غمازی کرتے ہیں اور کبھی ان کی گفتگو کا طور طریقہ ان کے نفاق کو ظاہر کردیتا ہے۔ فرمایا واللہ یعلم اعمالکم اے گروہ منافقین ! اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ۔ اگر ان کی کوئی چیز مخلوق سے مخفی رہ بھی جائے تو بہر حال اللہ تو جانتا ہے ، اس سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اگر وہ دنیا میں ان کی کسی حرکت کو نہ بھی ظاہر کرے تو جزائے عمل کے وقت تو ان کا پردہ ضرور ہی فاش ہوگا ، اور یہ بچ نہیں سکیں گے۔
مجاہدین اور صابرین کی آزمائش
ارشاد ہوتا ہے ولنبلونکم حتی نعلم المھدین منکم والصبرین اور البتہ ہم تمہیں ضرو ر آزمائیں گے ، یہاں تک کہ ہم جان لیں کہ تم میں سے مجاہد اور صابر لوگ کون ہیں ۔ نعلم کا لغوی معنی تو جانتا ہی ہوتا ہے مگر یہاں پر ظاہر کرنا مراد ہے کیونکہ اللہ کے علم سے تو کوئی چیز بھی باہر نہیں ۔ وہ تو ہر چیز کو ہر وقت جانتا ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی راہ میں مال و جان کی قربانی پیش کرنے اور ہر مصیبت پر صبر کرنے والوں کو ظاہر کر دے گا ۔ ونبلوا اخبار کم اور ہم تمہاری خبروں یعنی حالات کو بھی آزمائیں گے ، چناچہ قرآن پاک میں جگہ جگہ اہل ایمان کی آزمائش کا ذکر آتا ہے ، مثلاً سورة البقرہ میں ہے اور ہم کسی قدر خوف ، بھوک ، مال ، جانوں اور میوئوں کے نقصان سے تمہیں آزمائیں گے وبشر الصبرین (آیت : 155) پس صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں ۔ سورة العنکبوت کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امناوھم لا یفتنون کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ایمان کے زبانی اقرار سے چھوڑ دیں گے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائیگی ؟ نہیں بلکہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو بھی آزمائش میں ڈالا ( اور ان کو بھی آزمائیں گے) پس اللہ تعالیٰ ضرور معلوم کرے گا کہ ان میں سے ایمان میں سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ؟ جنگ احزاب کے موقع پر فرمایا ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شََدِیْدًا (الاحزاب : 11) وہاں پر مومنین کو آزمایا گیا اور وہ شدید طوپر ہلائے گئے ۔ گویا یہ ان کی سخت ترین آزمائش تھی۔ بہر حال فرمایا کہ ہم تمہارے حالات کو اچھی طرح آزمائیں گے۔ چناچہ مجاہدین اور صابرین کی وقتاً فوقتا ً آزمائش ہوتی رہی ۔ جہاں تک منافقوں کی پہچان کا تعلق ہے تو اللہ نے ان کو بھی مختلف مواقع پر آزمایا ۔ مثلاً جنگ احد میں منافقین کا گروہ بھی مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے نکلا مگر وہ سارے عبد اللہ بن ابی کی قیادت میں میدان جنگ میں پہنچنے سے پہلے ہی واپس لوٹ گئے۔ اسی طرح جنگ تبوک کے موقع پر بھی اسی سے زائد منافقین نے حیلوں بہانوں سے جنگ کے لیے نکلنے سے گریز کیا اور اللہ نے ان کا پردہ چاک کیا ۔ غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر بھی ان کی آزمائش ہوئی مگر یہ اس میں ناکام ہوئے۔ انہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ یہ اپنے مقصد میں تو کامیاب نہ ہو سکے ۔ البتہ ان کی اپنی خباثت ظاہر ہوگئی ۔ اور بالآخر سورة المنافقون میں ان کی تمام چرب زبانی اور جھوٹ کا پول کھول دیا اور فرمایا کہ یہ لوگ جو بھی دعویٰ کریں واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون ( آیت : 1) خدا تو جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ۔ غرضیکہ اللہ کا فرمان ہے کہ ہم مومنوں اور منافقوں دونوں گروہوں کی آزمائیں گے اور ظاہر کریں گے کہ ان میں کون صبر کرنے والا اور مشقت برداشت کرنے والا ہے اور کون منافق ہے جو جان و مال کی بازی لگانے سے گریز کر رہا ہے۔
کفار کے اعمال کا ضیاع
آگے ارشاد ہوتا ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ، اور اللہ کے راستے سے روکا وشاقوا الرسول اور اللہ کے رسول کی مخالفت کی من بعد ماتبین لھم الھدی بعد اس کے ہدایت واضح ہوچکی یعنی وحی الٰہی کے ذریعے احکام نازل ہوچکے ۔ پھر اس کے بعد جن لوگوں نے کفر کیا اور خدا تعالیٰ کے راستے سے روکا ، اللہ کے رسول کی مخالفت کی لن یضرو اللہ شیئا ً وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے یعنی وہ لوگ اسلام دشمن ارادے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ وسیجط اعمالھم بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ہی ضائع کر دے گا ۔ اگر انہوں نے دنیا میں کوئی اچھا کام کیا ہے نماز ، روزہ ، حج وغیرہ سب مردود ہوں گے کیونکہ ان کا عقیدہ فاسد ہے۔ توحید پر بھی صحیح ایمان نہیں رکھتے اور دلوں میں کھوٹ ہے۔
اللہ اور رسول کی اطاعت
پہلے منافقوں کی طرف سے اللہ کے رسول کی مخالفت کا ذکر تھا۔ اب اہل ایمان کو خطاب فرمایا یایھا الذین امنوا اطیعو اللہ واطیعو الرسول اے ایمان والو ! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی ولا تبطلوا اعمالکم اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کر ۔ گویا اعمال کی قبولیت کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری شرط ہے۔ اس آیت سے بعض ضمنی مسائل بھی متفرع ہوتے ہیں ۔ مثلاً معتزلہ کا خیال ہے کہ جب کوئی شخص کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے گناہ کی وجہ سے اس کی ساری نیکیاں بھی برباد ہوجاتی ہیں ۔ مگر اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ اگر اس شخص کے دل میں صحیح ایمان موجود ہے اور وہ اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہے تو کبیرہ گناہ کی وجہ سے اس کی نیکیاں تو ضائع نہیں ہوں گی۔ البتہ اس کو اس گناہ کا بھگتان کرنا پڑے گا ۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اعمال ضائع تو نہیں ہوں گے۔ البتہ ان پر وہ نورانیت نہیں رہے گی جب تک کہ وہ شخص اس کبیرہ گناہ سے توبہ نہ کرے۔ اعمال کی بربادی کی اصل وجہ شرک ہے۔ جب تک کسی شخص میں شرک کا مادہ موجود ہوگا۔ اس کی نماز ، روزہ ، صدقہ ، خیرات ، جہاد ، حج غرضیکہ کچھ بھی قبول نہیں ہوگا ، سب رائیگاں جائیں گے اگر کوئی شخص توحید پر قائم تھا ، نیک اعمال بھی انجام دیتا تھا مگر بعد میں کسی وقت شرک میں ملوث ہوگیا تو اس کی ساری نیکیاں برباد ہوگئیں۔ اسی طرح جو شخص مرتد ہوجائے اس کی بھی ساری نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں ۔ جیسے سورة البقرہ میں موجود ہیوَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ (جو شخص اپنے دین سے بھر جائے اور اسی حالت میں اسے موت آجائے کہ وہ کافرہی رہے تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہو جائینگے۔ علاوہ ازیں جس شخص کے دل میں شک یا نفاق پیدا ہوگیا یا اس کا عقیدہ فاسد ہوگیا تو وہ بھی نیکیوں سے محروم ہوگیا ۔ جو شخص صدقہ کر کے اس پر احسان جتلاتا ہے یا اذیت پہنچاتا یا ریا کاری کا مرتکب ہوتا ہ تو وہ بھی اعمال کو برباد کر بیٹھتا ہے۔ سورة البقرہ میں اللہ کا واضح فرمان ہے کہ اے ایمان والو ! لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (آیت : 264) اے لوگو ! اپنے صدقات و خیرات کو ریا کاری کرنے والے آدمی کی طرح احسان جتلا کر اور اذیت پہنچا کر ضائع نہ کرو۔ مطلب یہ کہ ان امور سے نیکی تو برباد ہوگئی اور گناہ لازم آ گیا ۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اور اس کے خلاف کر کے اپنے نیک اعمال کو برباد نہ کر بیٹھو۔
عمل شروع کر کے ترک کر دینا
اس آیت سے امام ابوحنیفہ (رح) نے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی نیک کام شروع کرنے کے بعد اسے درمیان میں چھوڑ دیتا ہے تو اسے اس کی قضا دینی ہوگی ۔ مثلاً کوئی شخص نفلی روزہ رکھتا ہے اور کسی وجہ سے اسے پورا کر نیکی بجائے درمیان میں افطار کرلیتا ہے تو اس کے بدلے اس کو روزہ رکھنا ضروری ہوجائے گا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے نفلی روزہ رکھا ۔ مگر کسی وجہ سے توڑ دیا تو حضور ﷺ نے فرمایا اقضیا مکانہ یوما ً اخر اس کی جگہ کسی دوسرے دن روزہ قضا کرلینا ۔ البتہ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نفلی روزہ توڑنے سے قضا لازم نہیں آتی۔ بعض عبادات ایسی ہیں کہ شروع کرنے کے بعد اگر ترک کردیا جائے تو تمام ائمہ کے نزدیک ان کی قضاء واجب ہوتی ہے ، مثلاً حج یا عمر ہ کا احرام باندھ کر کسی وجہ سے ارادہ ترک کردیا تو اب اس حج یا عمرہ کی قضا لازم ہوجائے گی ۔ امام ابوحنیفہ (رح) اسی سے قیاس کر کے فرماتے ہیں کہ حج اور عمرے کی طرح نفلی نماز اور روزے کی قضا بھی ضروری ہوگی ۔ انہیں ادا کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو ۔ آیت کا سیاق بتلایا ہے کہ اے ایمان والو ! کافر ، مشرک اور مرتد کی طرح تم اپنے اعمال کو ضائع نہ کر بیٹھنا یعنی کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے اعمال ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو جیسے پہلے عرض کیا کہ ریا کاری ، اذیت پہنچانے یا احسان جتلانے سے اعمال برباد ہوجاتے ہیں ۔ تا ہم امام ابوحنیفہ (رح) نے یہ دوسرا مسئلہ بھی بیان کردیا ہے کہ کسی عمل کو شروع کر کے توڑ دیا جائے تو اس کی قضا لازم آئے گی۔
Ayahs 47:34–38کفار کے لیے عدم معافی
جہاد کے ضمن میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ قرآن پاک جس قسم کا نظام دنیا میں رائج کرنا چاہتا ہے اس کے مخالفین ملعون لوگ ہیں ۔ ایسے ہی کفار ، مشرکین ، یہود ، نصاریٰ اور منافقین کا تعاقب پچھلی آیات میں بھی تھا اور آج کے درس میں بھی ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین کفروا بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا ، اللہ کے نبیوں کا انکار کیا ۔ قرآن کو وحی الٰہی نہ مانا ، اللہ کی کتابوں ، فرشتوں اور بعثت بعد الموت پر ایمان نہ لائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وصد وا عن سبیل اللہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکا ، یعنی خود تو ایمان سے محروم تھے ، جو اس کو قبول کرنے پر مائل تھے ان کے راستے میں بھی طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کیں ، ان کو مارا پیٹا ، لالچ دیا یا کسی اور طریقے سے حق کی طرف نہ آنے دیا ۔ دنیا کی زندگی میں وہ اسی ڈگر پر چلتے رہے ثم ماتوا یہاں تک کہ انہیں موت آگئی وھم کفار اس حالت میں کہ وہ کافر ہی رہے تو ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے فلن یغفر اللہ لھم کہ وہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ انہیں اپنے غلط عقائد اور برے اعمال کی وجہ سے ابدی سزا میں مبتلا ہونا پڑے گا ۔
ثابت قدمی کی تلقین
پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی فلا تھنوا دیکھو ! کافروں کی ایذاء رسانیوں ، افرادی قوت اور سازو سامان سے مرعوب ہو کر سست نہ پڑجاتا ، اور اس قدر ہمت نہ ہار بیٹھنا وتدعوا الی السلم کہ خود انہیں صلح کی دعوت دینے لگو ۔ صلح کی بات یکطرفہ نہیں ہوتی بلکہ یہ تو طرفین کی خواہش پر ہوتی ہے اللہ نے سورة الانفال میں اس کا یہ قانون بیان کردیا ہے۔ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہ ِ (آیت : 61) اگر مخالف فریق صلح کے لیے آمادہ ہو اور وہ اس کی پیش کش کریں تو اس کو قبول کرلو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ۔ مطلب یہ کہ کمزوری یا بزدلی کی وجہ سے از خود صلح کی دعوت نہ دو بلکہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرتے رہو ، اور تسلیم رکھو وانتم الاعلون تم ہی بلند یعنی غالب رہو گے۔ واللہ معلم کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے شامل حال ہے۔ تم اللہ کے دین کی خاطر جہاد کر رہے ہو ، قرآن کے پروگرام کی ترویج تمہارا مقصد ہے ، تم دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہو ، لہٰذا اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری مدد فرمائے گا ۔ اور تمہیں کامیاب کریگا ، اور ساتھ یہ خوشخبری بھی دے دی کہ تم جس خلوص نیت اور اللہ کی رضا کی خاطر میدان میں اترے ہو یہ بہت بڑا عمل ہے۔ ولن یترکم اعمالکم اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں کمی نہیں کرے گا ۔ بلکہ ان کا پورا پورا بدلہ عطا فرمائے گا ، گزشتہ درس میں بھی گزر چکا ہے اطیعوا اللہ واطیعوالرسول ولا تبطلوا اعمالکم لوگو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تو تمہارے نیک اعمال ضائع نہیں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی قدردانی کرے گا اور تمہیں دشمن پر غلبہ حاصل ہوگا ۔
دنیا بذاتہٖ لہو و لعت ہے
آگے اللہ نے دنیا کی حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ یاد رکھو ! انما الحیوۃ الدنیا لعب و لھو بیشک دنیا کی زندگی تو محض کھیل تماشہ ہے اگر تم نے اس میں پھنس کر قرآن کے پروگرام کو ترک کردیا تو یقینا گھاٹ میں پڑجائے گے ، لہٰذا اس دنیا میں زیادہ دل نہ لگائو ۔ یہ چند روزہ زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں گزار دو ۔ یہ دنیا تو بذاتہٖ لہو و لعب ہے اور اگر اس میں رہ کر تم مزید کھیل کود میں مصروف ہوگئے ، کرکٹ ، ہا کی ، فٹ بال ، بیڈ منٹن وغیرہ کے کھیل ہی کھیلتے رہے یا انہیں ٹیلی ویژن پر دیکھتے رہے تو تم نے اس دنیا کی زندگی کو ضائع کردیا ۔ اللہ نے عمر جیسی قیمتی پونجی دے کر دنیا میں بھیجا تھا مگر تم نے اس سے نیکی خریدنے کی بجائے اسے لہو ولعب میں گزار دیا تو کتنی بد قسمتی کی بات ہے۔
ایمان اور تقویٰ
فرمایا کھیل کود میں دل لگانے کی بجائے وان تومنوا اگر تم ایمان لائو گے اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں ، کتابوں ، ملائکہ اور بعث بعد الموت پر ایمان لائو گے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے ۔ وتتقوا اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو گے یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، ارتداد اور معاصی سے بچ جائو گے ، حدود شرع کا احترام کرو گے ، ظلم و جور کو مٹا کر عدل و انصاف کو قائم کرو گے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا ۔ یوتکم اجورکم اللہ تعالیٰ تمہارا اجر عطا فرمائے گا اور تمہیں دنیا میں بھی کامیاب بنائے گا اور آخرت کا اجر تو لا محدود ہوگا ۔
انفاق فی سبیل اللہ
فرمایا اگر ایمان اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارا بدلہ عطا کریگا ۔ ولا یسئلکم اموالکم اور تمہارا سارے کا سارا مال تم سے طلب نہیں کرے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا موقع آئے گا ، مثلاً زکوٰۃ ادا کرنا ہوگا ۔ غریب محتاج کی اعانت مطلوب ہوگی یا جہاد میں جانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ تم اپناکل مال خرچ کر کے خود کنگال بن جائو ، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اپنی جائز ضروریات خوردو نوش ، لباس ، سواری ، بیوی بچوں کے مناسب اخراجات برداشت کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دو ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارا خالق اور مالک ہے ، وہ تمہارا سارا مال حاصل کرنے کا بھی حق رکھتا ہے۔ ان یسئللکموھا اگر وہ ایسا مطالبہ کر دے فیحفکم اور تاکید ا ً ایسا کرے تو تم اس امتحان میں ناکام ہو جائو گے تبخلوا تم بخل کرتے لگو گے یعنی سارا مال دینے کے لیے تیار نہیں ہو گے۔ ویخرج اضغانکم تو وہ تمہارے اندر کے کھوٹ کو باہر نکال دے گا اور تم ذلیل ہو جائو گے اسی لیے اللہ نے اپنی مہربانی سے تم پر تخفیف فرمائی ہے اور سارا مال طلب نہیں کیا بلکہ اس کا کچھ حصہ مختلف مدات میں خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔ خرچ کی بعض مدات فرض ہیں جیسے زکوٰۃ اور حج ، بعض واجب ہیں ۔ جیسے صدقہ فطر اور قربانی ، بعض مدات سنت اور مستحب کی تعریف میں آتی ہیں ۔ جیسے غریب رشتہ داروں کی اعانت پڑوسیوں اور غرباء مساکین کا حق ، تعلیم تبلیغ کے اخراجات ، بہر حال فرض واجب سے لے کر سنت مستحب تک مختلف مدا ت اور مختلف درجات ہیں جن پر خرچ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے مگر یکدم سارے کا سارا مال خرچ کرنے کا اللہ حکم نہیں دیتا ۔ البتہ اگر کوئی اپنی مرضی سے سارا مال بھی خرچ کرے دے جیسا کہ بعض صحابہ ؓ نے بعض مواقع پر کیا تو یہ مزید فضلیت کا باعث ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے ھانتم ھولاء تدعون لتنفقوا فی سبیل اللہ لوگو ! سن لو ، تمہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے فمنکم من یبخل اب تم میں سے بعض بخل کرتے ہیں اور مطلوبہ مال خرچ نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہمارا مال بچ جائے گا ۔ اور ہم آسودہ حال رہیں گے ، مگر اللہ نے فرمایا ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ جو شخص بخل کرے گا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا ، اس حکم عدولی کا نقصان اسی کو ہوگا ۔ یعنی اگر وہ حکم الٰہی کی تعمیل میں خرچ کردیتا تو اس کا مال کم نہ ہوتا ، بلکہ اس کی وجہ سے اس کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے۔ قرآن میں جگہ جگہ موجود ہیمَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ ( الحدید : 11) جو شخص اللہ کو قرض حسنہ دے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا کر کے لوٹائے گا ۔ سورة بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے مال کی مثال اس دانے کی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر بال میں سو سو دانے ہوں ، گویا ایک دانے کے بدلے سات سو دانے حاصل ہوتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے خرچ کردہ مال کا اجر سات سو گنا تک ہوتا ہے ، بلکہ فرمایا اللہ یضعف لمن یشاء ( آیت : 261) اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ عطا کرتا ہے ۔ شاہ عبد القادر (رح) مفسر قرآن لکھتے ہیں کہ انفاق فی سبیل اللہ کا صلہ مسلمانوں کو یہ ملا کہ حق تعالیٰ نے ملک فتح کرائے۔ تھوڑے عرصہ کے لیے اہل ایمان کو اپنی طرف سے خرچ کرنا پڑا اس کے بعد اللہ نے خرچ کردہ مال سے سو سو گنا زیادہ دیا ۔ فرمایا : یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کو ذاتی طور پر تمہارے مال کی ضرورت ہے۔ نہیں بلکہ واللہ الغنی وہ تو غنی اور بےنیاز ہے ، اسے تمہارے مال کی کیا ضرورت ہے۔ اس میں تو خود تمہارا ہی بھلا ہے کیونکر وانتم الفقراء محتاج تم ہو ضرورت تمہیں ہے۔ اس دنیا میں خرچ کرو گے تو یہاں بھی ایک کے بدلے ہزار ملے گا ۔ اور پھر آخرت کا بدلہ تو لامتناہی ہی ہے ، لہٰذا بخل نہ کرو بلکہ بخوشی خاطر اس کی راہ میں خرچ کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے انفاق کے بغیر بھی اپنے نبی کی مدد اور دین کو قائم کرسکتا ہے ۔ مگر اس طرح تمہاری ذلت کے اسباب پیدا ہوجائیں گے ، لہٰذا جب وہ خرچ کرنے کا حکم دے تو فوراً لبیک کہو اور اسی میں تمہاری بہتری ہے۔
اقوام کی تبدیلی
فرمایا وان تتولوا اور اگر تم روگردانی کرو گے ، قرآن کے پروگرام کو جاری کرنے کی بجائے اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے لگو تو یاد رکھو کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ یستبدل قوما ً غیر کم وہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو کھڑا کر دے ، تمہیں منظر سے ہٹا کر ایسے لوگوں کو لے آئے ثم لا یکونوا امثالکم جو تمہارے جیسے نہیں بلکہ تم سے زیادہ بہتر ہوں گے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تو اللہ نے ان کو مستحکم کردیا ۔ انہوں نے جان و مال کی قربانیاں پیش کیں تو اللہ نے انہیں نصف دنیا کا والی بنا دیا ۔ جہاں انہوں نے مکمل طور پر اسلامی نظام نافذ کیا ۔ انہوں نے دنیا میں قرآن کے نظام کو نافذ کیا تو ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لانے کی ضرورت نہ پڑی ۔ صحابہ ؓ کے بعد اللہ نے ایران والوں سے بڑا کام لیا ، ان میں بڑے بڑے فقہاء اور محدثین ہوئے جنہوں نے دین کی بڑی خدمت کی ۔ اس کے علاوہ اللہ نے ترکوں سے بھی دین کی بڑی خدمت لی ۔ تاتاری ابتداء میں اسلام کے بد ترین دشمن تھے مگر پھر اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر کر اسلام کا سرپرست بنا دیا ۔ جب مکہ والوں نے دین کو قبول نہ کیا تو یہ سعادت مدینے والوں کو حاصل ہوگئی ۔ اللہ نے قریش کی بجائے انصار سے دین کی خدمت لی پھر جب عربوں میں سستی پیدا ہوگئی تو اللہ نے ان کی جگہ سلجوقیوں اور تاتاریوں کو کھڑا کردیا ۔ بہر حال ایمان والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ مطلوبہ جانی اور مالی قربانی سے گریز نہ کرنا کیونکہ اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔ اللہ نے بخل سے منع فرمایا ، ایمان اور تقویٰ کی راہ اختیار کرنے کی تلقین کی اور اس کی حکمت بھی بیان فرما دی ۔ جہاں کا حکم اور منافقین کی مذمت جس طرح اس سورة میں بیان کی گئی ہے اسی طرح اگلی سورة فتح میں بھی یہ مضمون دہرایا گیا ہے اور اسلام کے اجتماعی نظام اور اجتماعی نظم و نسق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔