47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 47:12–15

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَ یَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ Open ayah 47:12 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ داخل کریگا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے بہشتوں میں کہ بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، وہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور کھاتے ہیں جیسا کہ مویشی کھاتے ہیں ، اور دوزخ کی آگ ان کا ٹھکانہ ہے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ هِیَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْیَتِكَ الَّتِیْۤ اَخْرَجَتْكَ١ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ Open ayah 47:13 in the Quran reader

اور بہت سی بستیوں کے رہنے والے جو زیادہ طاقتور تھے آپ کی بسی سے جس سے آپ کو نکالا ہے ، ہم نے ان کو ہلاک کردیا ، پس کوئی ان کے لیے مددگار نہیں

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ كَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:14 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو کھلی دلیل پر ہے اپنے رب کی طرف سے ، کیا یہ اس کے برابر ہوگا جس کے لیے مزین کیا گیا ہے اس کا برا عمل ، اور پیروی کی ایسے لوگوں نے اپنی خواہشات کی

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗ١ۚ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ١ۚ۬ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ١ؕ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ Open ayah 47:15 in the Quran reader

مثال جنت کی جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے ، اس میں نہریں ہیں پانی کی جو بدبودار نہیں ہوگا ، اور نہریں ہیں دودھ کی جن کا مزا تبدیل نہیں ہوگا ، اور نہریں ہیں شراب کی جو لطف آفریں ہوں گی پینے والوں کے لیے ، اور نہریں ہیں شہد کی جو صاف کیا ہوا ہے۔ اور ان کے لیے ان بہشتوں میں ہر قسم کے پھل ہیں ، اور معافی ہے ان کے رب کی طرف سے ۔ تو کیا یہ برابر ہوں گے اس کے جو ہمیشہ رہنے والا ہوگا (دوزخ کی) آگ میں ، اور پلایا جائے گا ان کو کھولتا ہوا پانی ، پس کاٹ ڈالے گا ان کی آنتوں کو

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنے کا وعدہ فرمایا ۔ نیز کافروں اور نافرمانوں کی برائی اور ان کی ہلاکت کا تذکرہ فرمایا ۔ اللہ نے ان کے اعمال کو اس وجہ سے برباد کردیا کہ وہ اللہ کی نازل کردہ واضح ہدایت کرنا پسند کرتے تھے ، پھر اللہ نے ان کی عبرت کے لئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اپنے اطراف میں پھیلے ہوئے نشانات کو نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں کا مقابلہ کیا ۔ وہ کس طرح ہلا ک ہوئے ، فرمایا یہ یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا کار ساز ہے جب کہ کافروں کا کوئی مولیٰ اور رفیق نہیں۔ منومنوں کے لیے جنت اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کے انجام کا تقابل فرمایا ہے جو لوگ قرآن کی ہدایت کو لے کر اٹھیں گے ، اس پر خود بھی عم پیرا ہوں گے اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچائیں گے ۔ انہیں کون سے انعامات ملیں گے اور کفر کرنے والوں کا کیا انجام ہوگا ارشاد ہوتا ہے۔ ان اللہ ید خل الذین امنوا وعملوالصلحت جذت تجری من تحتھا الانھر بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ، ایسی بہشتوں میں داخل کر دے گا ۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں جان و مال کو کھپاتے ہیں اور قرآن پاک کے پروگرام کی سر بلندی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے ہیں وہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں ۔ ان میں سے جو لوگ زندہ بچ جاتے ہیں اللہ نے ان کی مدد اور ثابت قدمی کا وعدہ فرمایا اور جو شہید ہوجاتے ہیں ان کو آخرت میں ملنے والے انعامات کی ایک جھلک بھی پیش کردی ہے۔ ان انعامات کی کچھ تفصیل اگلی آیت میں بھی آ رہی ہے۔ کفار کا دنیا سے استفادہ آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے کفار کی ایک خصلت بیان کر کے ان کے آخرت کے انجام کی بھی نشاندہی کردی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے والذین کفروا جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا یعنی نبیوں کی بات کو تسلیم نہ کیا اور کفر اور شرک پر اڑے رہے ، ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اور اسی دنیا کے لوازمات میں پھنسے رہے۔ فرمایا یتمتعون وہ اسی دنیا کے سازو سامان سے مستفید ہوتے رہتے ہیں اور اپنی ابدی زندگی کی طرف کچھ خیال نہیں کرتے۔ اس دنیا میں رہنے کا ایک مقصد ان کے نزدیک کھانا پینا ہے ، اہل ایمان تو اس قدر کھاتے پیتے ہیں جس کے ذریعے وہ اپنے جسم اور روح کے تعلق کو قائم رکھ سکیں اور اپنے پروردگار کے احکام بجالا سکیں ۔ برخلاف اس کے کفار زندہ ہی اس لیے ہیں ، تا کہ وہ دنیا کی نعمتیں کھا پی سکیں ۔ چناچہ اس مقام پر اللہ نے اسی بات کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے کہ کافر لوگ دنیا کی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں ۔ ویاکلون کماتا کل الانعام اور وہ دنیا میں رہ کر اس طرح کھاتے ہیں۔ جس طرح جانور اور مویشی کھاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جانوروں کے سامنے کوئی نظریہ حیات نہیں ہوتا ، ہو پیدا ہوتے ہیں ، کھاتے پیتے ہیں ، جنسی خواہش پوری کرتے ہیں اور پھر ختم ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بر خلافت انسانوں کا ایک خاص نظریہ حیات ہے ان کے لیے یہ دنیا دارالعمل ہے جہاں رہ کر وہ اپنی ابدی زندگی کا سامان پیدا کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے احکام الٰہی پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے لیے انبیاء کو مبعوث کرتا اور کتابیں نازل کرتا ہے ، پھر جو لوگ اس ہدایت الٰہی سے مستفید ہوجاتے ہیں وہ ابدی حیات کو پا لیتے ہیں ، ورنہ ناکام ہوجاتے ہیں ۔ جانورکھاتے پیتے وقت کسی حلال و حرام کے پابند نہیں ہوتے ، انہیں جو کچھ گھاس چارہ وغیرہ مل جاتا ہے ، کھالیتے ہیں ، وہ نہیں جانتے کہ جس کھیت میں منہ مار رہے ہیں وہ ان کے مالک کا ہے یا کسی دوسرے کا ، اور وہ ان کے لیے جائز ہے یا ناجائز اور وہ پاک ہے یا نجس ۔ اسی طرح وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کا مالک جو کچھ انہیں کھلا رہا ہے ، اس نے اسے جائز طریقہ سے حاصل کیا ہے یا چوری اور غضب کا ہے ، انہیں تو کھانے سے غرض ہے اور وہ کھاتے چلے جاتے ہیں ۔ اللہ نے کافروں کی بھی ایسی ہی مثال بیان فرمائی ہے کہ وہ کھاتے وقت نہ تو حلال و حرام کی تمیز کرتے ہیں ، نہ پاک اور نا پاک کا خیال کرتے ہیں بلکہ حرص اور لالچ کے ساتھ کھاتے چلے جاتے ہیں ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے المومن یا کل فی معاد واحد والکفر یا کل فی سبعۃ امعاء یعنی مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے تا کہ وہ زندگی کے ضروری امور انجام دے سکے جب کہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اس کا مقصد محض لذت اٹھانا اور پیٹ بھرنا ہوتا ہے ۔ ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے کہ آدم کے بیٹے کو چند لقمے ہی کافی ہیں ۔ جن کے ذریعے اس کی پشت قائم رہ سکے اور وہ خدا تعالیٰ کی عبادت و ریاضت اور دیگر ضروری کام کرسکے۔ انسانیت کی بہتری اور خدمت کا پروگرام ہے ۔ یہ پروگرام حرص و لالچ اور غرور وتکبر سے پاک ایک اعلیٰ وارفع پروگرام ہے۔ اس کے بر خلاف کافر لوگ حیوانی زندگی کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں ۔ وہ دنیا میں رہ کر بیہمیت سے آگے نہیں بڑھتے ۔ ان کا مقصد حیات صرف اکل و شرب ، اچھا مکان ، اچھا لباس ، اچھی خوراک ، اچھی سواری ، کھیل تماشہ اور شہوتزانی ہوتا ہے۔ جسے یتمتعون کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کا انجام بھی بیان فرما دیا والنار مثوی لھم آخرت میں ان کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہوگا ۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ اس وقت دنیا کی نا م نہاد ترقی یافتہ اقوام صرف حیوانی زندگی کا پروگرام رکھتی ہیں وہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس دنیا کی زندگی کے آرام و آسائش کے لیے تمام پروگرام مرتب کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بڑے زور و شور سے یہ پراپیگنڈہ بھی کر رہے ہیں کہ ہم عوام کی خدمت پر کمر بستہ ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے نزدیک عوام کی بھلائی کا کوئی پروگرام نہیں ہے ، نہ تو جمہوریت کی کوئی خدمت کر رہے ہیں اور نہ مساوات قائم کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ تو محض اپنا الو سیدھا رکھنے کا ایک بہانہ ہے۔ علامہ اقبال مرحوم نے ان کے کردام کی صحیح عکاسی کی تھی۔ ؎ پیتے ہیں لہو ، دیتے ہیں تعلیم مساوات انسانیت کی خدمت اس کے بر خلاف انسانیت کی خدمت وہ ہے جو اہل ایمان کے حصے میں آئی ہے۔ انسانیت کی صحیح خدمت وہی کرسکتا ہے جو قرآن کے پروگرام پر عمل پیرا ہے ایسا شخص کسی چیز سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھائے گا ۔ اس کا تعلق باللہ درست ہوگا ۔ اور وہ مخلوق کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے گا ۔ اسلام کے ابتدائی دور کے مسلمان خدمت انسانی کی عملی تعبیر ہیں ۔ وہ کسی کے ساتھ ناجائز نہیں کرتے تھے کسی کا حق غضب ہیں کرتے تھے بلکہ انسانی ہمدردی اور خیر خواہی ان کا مشن تھا ۔ کیا آج کے نام نہاد مساوات کے علمبردار بتا سکتے ہیں کہ ان کی زندگی میں وہ مساوات موجود ہے جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، و عمر فاروق ؓ اور عمر بن عبد العزیز ؓ کے ادوار میں پائی جاتی تھی ؟ ہرگز نہیں ۔ یہ تو مساوات اور انسانیت خدمت کے نام پر اپنا پیٹ بھر رہے ہیں ۔ ہمارے ملک کے حکمرانوں کا حال بھی ایسا ہی ہے جو ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ وہاں اسلام ہی کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ یہ محض پراپیگنڈا ہے کہ اسلام کا نظام رائج کریں گے ، وگرنہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ۔ ساری مساعی حیوانی زندگی کی ترقی کے لیے ہو رہی ہیں ۔ تمام پروگرام خوراک ، سواری ، آرام و آسائش کے لیے بنائے جا رہے ہیں ۔ مگر خدا کے دین کی سر بلندی کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی جانوروں کی طرح کھانے پینے ، آرام و آسائش اور شہوت زانی سے غرض ہے اور اس سے آگے انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ کھانے پینے کے آداب اس مقام پر کھانے پینے کے اسلامی آداب کا بیان بےمحل نہیں ہوگا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے کبھی میز پر رکھ کر کھانا نہیں کھاتا ۔ اس زمانے کے آداب خوردو نوش کے سلسلہ میں ” خوان “ کا ذکر آتا ہے۔ جو ایک چھوٹی ٹیبل ہوتی تھی ، لوگ قالین پر بیٹھ کر آگے خوان رکھ لیتے جس پرکھانا چن دیا جاتا مگر حضور ﷺ نے کبھی خوان بھی استعمال نہیں کیا ۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ کیسے کھانا تناول فرماتے تھے تو حضرت انس ؓ نے بیان کیا کہ آپ کے لیے چمڑے ، اون یا کھجور کے پتوں کا دستر خوان ہوتا جس پر کھانا رکھ دیا جاتا اور آپ بیٹھ کر تناول فرماتے ۔ تا ہم فقہائے کرام اور محدثین عظام فرماتے ہیں ۔ کہ اگر فرش پر کھانے کا انتظام نہ ہو سکے تو عند الضرورت کرسی میز پر بھی کھانا کھانا جائز ہے۔ مطلب یہ کہ کھانا ہمیشہ بیٹھ کر کھانا چاہئے۔ خواہ زمین پر بیٹھے یا کرسی یا پلنگ وغیرہ پر ۔ اس زمانے میں کھڑے ہو کر کھانے کی جو وباء پیدا ہوگئی ہے یہ تو بہر حال نا شائستہ بات ہے۔ نہ صرف کھڑے کھڑے بلکہ جانوروں کی طرف چل پھر کر کھانا تو مزید معیوب ہے اگر جانور کسی کھرلی پر بندھا ہوا ہو تو بھی کم ازکم ایک جگہ کھڑا ہو کر تو کھائے گا ۔ اور اگر وہ آزاد ہے تو مختلف کھیتوں میں منہ مارتا پھریگا ۔ آج کل کا فیشن اسی حد تک پہنچ گیا ہے کہ چل پھر کر مختلف پر اتوں سے کھانا لیا ، اور پھر چلتے پھرتے کھاتے رہے۔ اس آیت میں مذکورہ جانوروں کی طرح کھانا آج کے طریقہ اکل و شرب پر بھی صادق آتا ہے۔ سابقہ اقوام کی ہلاکت آگے اللہ نے عبرت کے طور پر فرمایا ، دیکھو ! وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃ من قریتک التی اخرجتک اور بہت سی بستیوں والے تمہاری اسی بستی سے زیادہ طاقتور تھے جہاں سے آپ کو نکالا گیا ۔ اھلکنھم ہم نے ان کو بھی ہلاک کردیا فلا ناصر لھم پس ان کا کوئی مدد گار مدد کے لیے نہ آیا ۔ نکالے جانے والی بستی سے مرادشہر مکہ ہے جہاں سے حضور ﷺ کو ہجرت کے لیے نکلنے پر مجبور کردیا گیا ۔ آپ کو اپنے آبائی شہر سے حد درجہ محبت تھی اور اس کی ایک وجہ اللہ کا وہ گھر تھا جسے پوری دنیا میں سب سے زیادہ شرف حاصل ہے۔ آپ نے ہجرت پر روانہ ہوتے وقت شہر مکہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈالی اور فرمایا ، اے مکہ ! اگر میری یہ قوم مجھے نکلنے پر مجبور نہ کرتی تو میں تمہارا پڑوس چھوڑ کر کبھی نہ جاتا ، مگر اللہ کے نبی نے قرآن کے پروگرام کی ترویج او دین کی حفاظت کی خاظر اپنا وطن ، جان و مال ، عزیز و اقارب ، مکان اور باغات سب کچھ چھوڑ دیا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ ہم نے مشرکین مکہ سے کہیں زیادہ طاقتور اور صاحب جاہ و مال ۔ لوگوں کو ہلاک کردیا ، بھلا تم ان کے نقش قدم پر چل کر ہماری گرفت سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ فرمایا ، ذرا غور کرو ! افمن کان علی بینۃ من ربہ بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے کھل ہدایت پر ہے ، کیا وہ اس شخص کی طرف ہو سکتا ہے کمن زین لہ سوء عملہ جس کا برا عمل اسے مزین کر کے دکھایا گیا ہو ؟ واتبعوا اھواء ھم اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہو ۔ اس مقام پر ایک ہدایت یافتہ شخص کا موازنہ ایسے شخص کے ساتھ کیا گیا ہے جو اپنے برے اعمال کو بھی اچھا سمجھتا ہے اور خواہشات نفسانی کا پر وکار ہے ۔ ظاہر ہے کہ کافر ، مشرک اور بد عتی لوگ اپنے اعمال بد کو اچھا سمجھ کر ہی انجام دیتے رہتے ہیں اور یہ زعم شیطان ان کے ذہن میں ڈالتا ہے کہ تم بڑا اچھا کام کر رہے ہو ، یہ بڑا کار ثواب ہے ، اس کو ترک نہ کرنا ۔ سورة الانعام میں ہے کہ جب ہم نے نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا تو انہوں نے گریہ زاری نہ کی بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (آیت : 43) اور شیطان نے ان کے برے اعمال ان کو خوشنما کر کے دکھائے کہ تم بالکل صحیح راستے پر جا رہے ہو ، اور دوسری بات یہ کہ انہوں نے خواہشات کا اتباع کیا ، تو خواہشات کی پیروی بھی دراصل شیطان کا اتباع ہے۔ اس بات کا تذکرہ اللہ نے مختلف مقامات پر کیا ہے۔ سورة بقرہ میں ہے کہ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائووَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ (آیت : 168) اور شیطان کے نقوش قدم کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اللہ نے ہدایت اور گمراہی کا فرق بھی واضح کردیا ۔ جنت کی نعمتیں اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی کچھ نعمتوں کا تذکرہ کر کے لوگوں کو ان کے حصول کی ترغیب دلائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے مثل الجنۃ التی وعدہ المتقون اس جنت کی مثال جس کا وعدہ متقیوں سے کیا جاتا ہے ، ایسی ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ متقی وہ ہے جو حدود شرع کا احترام کرتا ہے ، کفر ، شرک اور معاصی سے بچتا ہے۔ اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر دوسروں کی عزت کرتا ہے اور عدل و انصاف پر قائم ہے۔ ایساشخص جنت کی نعمتوں کا مستحق ہوگا جس کے متعلق فرمایا فیھا انھر من ماء غیر اسن اس جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہوں گی ۔ جو کبھی خراب نہیں ہوگا ۔ آسن دراصل ایسے پانی کو کہتے ہیں جو کسی جوہڑ یا تالاب میں دیہہ تک رکا رہے اور اس پر تعفن پیدا ہوجائے ۔ فرمایا جنت کا پانی ہر قسم کی بد بو ، تعفن یا سڑاند سے پاک ہوگا ، بلکہ ہمیشہ تر و تازہ رہے گا ، اور جنتی لوگ اسے استعمال میں لائیں گے۔ پانی بلا شبہ نعمت رب جلیل ہے۔ یہ مدار حیات ہے اور انسان کے بنیادی حقوق میں داخل ہے ، لہٰذا اس کی قدر کرنی چاہیے اور اسے کسی صورت میں ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا جنت کی دوسری نعمت وانھر من لبن لم یتغیر طمعہ ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزا کبھی تبدیل نہیں ہوگا ۔ دنیا کا دودھ بھی نہایت لذیز ، خوش کن اور طاقتور ہے تو جنت کا دودھ تو اس سے ہزار گنا بہتر ہوگا ۔ نیز دنیا کا دودھ کچھ عرصہ پڑا رہنے سے خراب ہو کر بد مزا ہوجاتا ہے مگر جنت کا دودھ کبھی خراب نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا ذائقہ تبدیل ہوگا ۔ اس کے علاوہ فرمایا وانھر من خمر لذۃ للشربین وہاں شراب کی نہریں ہوں گی جو پینے والوں کے لیے نہایت لذت آفرین ہوں گی ۔ دنیا کی شراب تو بد ذائقہ اور مدہوش کن ہوتی ہے مگر جنت کی شراب طہور ہر نقص سے پاک اور نہایت ہی دل خوش کن اور ذائقہ دار ہوگی جس کا دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ، نہ اس سے نشہ آئے گا اور نہ ہی کوئی خرابی پیدا ہوگی۔ پھر فرمایا وانھر من عسل مصفی بالکل صاف و شفاف شہد کی نہریں ہوں گی اور اس میں موم یا کوئی دوسری ثقیل چیز قطعا ً نہیں ہوگی جو طبیعت پر ناگوارگزرے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ یہ تمام نہریں آبادی سے دور کہیں جنگلات میں نہیں ہوں گی جیسے دنیا میں ہوتی ہیں ، بلکہ ہر نہ ہر جنتی کے دروازے کے سامنے سے گزر رہی ہوگی ۔ جس سے وہ ہمہ وقت مستفید ہوں سکے گا ۔ ان نہروں کے علاوہ فرمایا ولھم فیھا من کل الثمرت اس جنت میں جنتیوں کے لیے ہر قسم کے پھل میں مہیا ہوں گے۔ جب کسی جنتی کا کوئی پھل کھانے کو جی چاہے گا ، متعلقہ درخت کی ٹہنی خود بخود جھک کر جنتی کے پاس آجائے گی وہ پھل توڑ کر کھا سکے گا ۔ اور پھر یہ بھی کہ یہ پھل اتنے با افراط ہوں گے کہ جونہی کوئی پھل توڑا جائے گا اس کی جگہ فوراً دوسرا پھل آجائے گا ۔ فرمایا یہ تو اہل جنت کے خوردو نوش کی چیزوں کا ذکر تھا ۔ ان سے بڑی نعمت ومغفرۃ من ربھم اللہ تعالیٰ کی جانب سے بخشش اور معافی ہوگی جو اہل جنت کو حاصل ہوجائے گی ، دنیا میں رہ کر اچھے کام کرنے والے لوگوں سے بھی بعض اوقات کوتاہیاں ہوجاتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب کو معاف کر دے گا اور کوئی مؤاخذہ نہیں کرے گا ۔ دوزخ کی تعذیبات اہل جنت کے انعامات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل دوزخ کے بعض تعذیبات کا تذکرہ بھی کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ کیا مذکورہ نعمتوں کا حقدار اہل جنت اس شخص کی طرح ہوگا کمن ھو خالد فی النار جو ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہنے والا ہوگا ۔ کفر ، شرک اور معاصی کے مرتکبین ، دنیا میں غلط پروگرام کو غلط پراپیگنڈا کے ذریعے چلانے والے ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ایندھن بن جائیں گے اور جب اس آگ میں انہیں پیاس ستائے گی اور وہ پانی طلب کریں گے۔ وسقواماء حمیما ًتو انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا ۔ جو نہی کوئی دوزخی ایک گھونٹ پانی حلق سے نیچے اتارے گا ۔ فقطع امعاء ھم تو ان کی آنتیں کٹ کر نیچے گر پڑیں گی ۔ اس کے بعد آیتیں پھر اپنی اصلی حالت پر آجائیں گی ۔ پیاس کی شدت سے وہ پھر پانی پئیں گے ، تو آنتیں دوبارہ کٹ جائیں گی ۔ اور یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا ۔ اس قسم کے عذاب کا ذکر انسانی کھالوں کے متعلق بھی آتا ہے۔ کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَاب (النسائ : 56) جو نہی کسی دوزخی کے جسم کی کھال آگ سے جل جائے گی ۔ اس کی جگہ دوسری کھال پہنا دی جائے گی تا کہ وہ اس مسلسل عذاب کا مزا چکھتا رہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل دوزخ کا یہ تقابل بھی کردیا ہے تا کہ لوگ اس میں غور و فکر کر کے اپنے لیے صحیح مقام تلاش کرسکیں۔
Ayahs 47:16–19

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا١۫ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ Open ayah 47:16 in the Quran reader

اور ان میں سے بعض لوگ وہ ہیں جو کان رکھتے ہیں آپ کی طرف یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر باہر جاتے ہیں تو اہل علم سے کہتے ہیں کہ اس شخص نے ابھی کیا کہا ؟ یہی لوگ ہیں کہ اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور انہوں نے پیروی کی ہے اپنی خواہشات کی

وَ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّ اٰتٰىهُمْ تَقْوٰىهُمْ Open ayah 47:17 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے ، زیادہ کی ہے اس نے ان کے لیے ہدایت ، اور دیا ہے ان کو ان کا تقویٰ

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

پس یہ لوگ نہیں انتظار کرتے مگر قیامت کا کہ آجائے ان کے پاس اچانک ۔ پس بیشک اس کی نشانیاں تو آ چکی ہیں ، پس کہاں ہوگا ان کے لیے جب وہ آجائے گا ان کے پاس ، ان کا نصیحت پکڑنا

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

پس آپ خوب جان لیں کہ بیشک اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بخشش طلب کریں اپنی کوتاہیوں کے لیے ، اور ایمان دار مردوں اور ایماندار عورتوں کے لیے ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے تمہارے پلٹنے کی جگہ کو اور تمہارے ٹھکانے کو

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے پہلے جنگ کا قانون بیان فرمایا اور ساتھ ساتھ دین کی مدد کرنے والوں کی مدد اور ان کو ثابت قدم رکھنے کا وعدہ کیا ۔ بر خلاف اس کے جو لوگ دین حق کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآنی پروگرام کی راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں ان کو تنبیہ فرمائی اور ساتھ ساتھ ان کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا پھر اہل ایمان کو ملنے والی جنت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ، اور کافروں ، مشرکوں اور اہل کتاب کی تعذیبات کو بیان فرمایا۔ منافقین کا گروہ اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے گروہ کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی مذمت بیان کی ہے ۔ یہ لوگ بھی اسلام ، دین حق اور قرآن حکیم کی مخالفت کرنے والے ہیں ۔ اللہ نے ان کے برے انجام سے بھی آگاہ فرمایا ہے ، نیز انہیں اللہ کی وحدانیت اور دین حق کو اختیار کرنے کی نصیحت کی ہے ارشاد ہوتا ہے ومنھم من یستمع الیک ان مخالفین میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کے سامنے کان رکھتے ہیں ۔ جب آپ کی مجلس میں آتے ہیں تو ایسا تاثر دیتے ہیں گویا کہ وہ آپ کی بات کو کان لگا کر سن رہے ہیں حتیٰ اذا خرجوا من عندک یہاں تک کہ جب وہ آپ کے ہاں سے اٹھ کر باہر جاتے ہیں قالوا للذین اوتوا العلم ماذا قال انفا ً تو علم والے لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص محمد ﷺ نے ابھی کیا کہا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کی بات کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے کیونکہ ان کے نزدیک دین حق کی کوئی حیثیت نہیں ، لہٰذا وہ استہزاء کے طور پر پوچھتے ہیں کہ بھلا بتائو تو اس شخص نے کیا بات کی ہے ؟ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے واقعی کچھ نہ سمجھا ہو کیونکہ وہ آپ کی بات کو سنی ان سنی کر رہے تھے۔ مجلس میں بیٹھ کر بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تو وہ اس کا مطلب کیا سمجھتے ؟ اس قسم کے لوگ منافقین کے گروہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ اللہ نے اہل ایمان کو ان کے اندرونی دشمنوں سے آگاہ کیا ہے۔ منافقین کا حال قرآن پاک کی بہت سی صورتوں میں بیان ہوا ہے ، بلکہ منافقوں کے نام سے ایک مستقل سورة بھی موسوم ہے۔ اللہ نے جگہ جگہ ان کی مذمت بیان کی ہے اور ان کے برے انجام کا تذکرہ کیا ہے۔ جو شخص نبی یا کسی دوسرے شخص کی مجلس میں بیٹھتا ہے۔ جہاں وعظ و نصیحت کی بات ہو رہی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ بات کو غور سے سنے ۔ جو شخص کسی بات کو توجہ کے ساتھ سنتا ہی نہیں ۔ اس سے اگلے مرحلے کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ امام سفیان ابن عینیہ (رح) جو امام ابوحنیفہ (رح) کے شاگرد اور امام بخاری (رح) کے استاد ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ ہر شخص پر اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بات کو سنے۔ سب سے پہلے سننا ضروری ہے جب سن چکے تو اب دوسرے نمبر پر اس پر غور و فکر کرے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس کے بعد تیسرا درجہ یہ ہے کہ نصیحت کی اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے تا کہ بھولنے نہ پائے ۔ اس شخص کی چوتھی ذمہ داری یہ ہے کہ جس بات کو سن کر سمجھا جائے اور اسے ذہن نشین کرلیا ہے اس پر عمل بھی کرے ۔ اور پھر اس کی پانچویں ذمہ داری یہ ہے کہ نیکی کی اس بات کو دوسروں تک پہنچائے۔ فرمایا جو لوگ یہ پانچ ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے بلکہ پہلے درجے میں کسی اچھی بات کو توجہ سے سنتے ہی نہیں اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے۔ ان کے دل میں کوئی اچھی بات داخل ہی نہیں ہوتی ، لہٰذا نہ وہ اس میں غور کرتے ہیں ، نہ ذہن نشین کرتے ہیں اور نہ ہی اس پر عمل کرنے کی نوبت آتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ ان سے نیکی کرنے کی توفیق ہی سلب کرلیتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔ واتبعوا اھواء ھم کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے ہی چلتے رہتے ہیں ۔ پھر وہ اصل دین کی بجائے کفر ، شرک ، بدعات اور رسم و رواج ہی کا اتباع کرتے رہتے ہیں۔ ہدایت یافتہ لوگ اس کے بر خلاف والذین اھتدوازادھم ھدی جن لوگوں نے گمراہی کی چھوڑ کر ہدایت کا راستہ اختیار کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت میں اضافہ کردیتا ہے اور انہیں اس ہدایت پر چلتے ہوئے نیکی کی مزید توفیق نصیب ہوتی ہے اور اس طرح ان کے درجات بلند سے بلند تر ہوجاتے ہیں اور دوسری بات یہ واتھم تقوا لھم کہ اللہ تعالیٰ کی ان کو ان کا تقویٰ عطا فرماتا ہے ، وہ نہ صرف بڑے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں بلکہ اس تقویٰ کی وجہ سے معمولی معمولی لغزشوں کے بھی قریب نہیں جاتے اور اس طرح وہ اس دنیا کی آلائشوں سے بچ کر نکل جاتے ہیں ۔ انہیں کفر ، شرک ، بدعات ، معاصی اور رسم و رواج سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا رہتے ہیں ۔ یہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں ۔ قیامت کا انتظار اب دین حق کی پوری طرح واضح ہوجانے کے بعد جو لوگ اس قرآنی پروگرام کا انکار کرتے ہیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ پس یہ لوگ نہیں انتظار کرتے مگر قیامت کا کہ آجائے ہو ان کے پاس اچانک ، مطلب یہ کہ حقیقت حال واضح ہوجانے کے بعد اس کو قبول نہ کرنا گویا قیامت کا انتظار کرنا ہے تا کہ ان کے درمیان حق و باطل کا حتمی فیصلہ ہوجائے۔ ساعت کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً اس سے مراد انقلاب کی گھڑی بھی ہو سکتی ہے اور مکہ والوں پر یہ گھڑی فتح مکہ کے دن آئی تھی ۔ جب اللہ نے ان کو شکست دی اور وہ ذلیل و خوار ہو کر اللہ کے نبی کے سامنے حاضر ہوئے۔ ساعت سے مغلوب ہونے کی گھڑی بھی ہو سکتی ہے اور یہ ذلت کا زمانہ ہوتا ہے جس سے مسلمان بھی دو چار ہوتے رہے ہیں 1971؁ء میں مسلمانوں پر یہی مغلوبیت کی گھڑی آئی تھی جب پاکستان دولخت ہوگیا ۔ اور مسلمانوں کے نوے ہزار افراد ہندوستان کی قید میں چلے گئے ۔ ساعت سے موت کی گھڑی بھی مراد ہو سکتی ہے جب کسی انسان کی زندگی کا ہی خاتمہ ہوجاتا ہے اور الساعۃ سے قیامت کی گھڑی بھی مراد ہو سکتی ہے ، جیسا کہ ہم نے ترجمہ میں لکھا ہے تو مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت کو نہ قبول کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو اس کے قریب آنے دیتے ہیں ، ان کا راستہ روکتے ہیں تو کیا وہ قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ برپا ہو کر ان کے متعلق صحیح صحیح فیصلہ کر دے اور یہ دائمی سزا میں مبتلا ہوجائیں ؟ علامات قیامت اللہ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ قیامت ہی کے منتظر ہیں فقد جاء اشراطہا تو اس کی نشانیاں تو آ چکی ہیں ۔ خود نزول قرآن کے زمانہ میں بعض نشانات قیامت ظاہر ہوچکے تھے۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ قیامت کی سب سے بڑی نشانی حضور خاتم النبیین ﷺ کی آمد ہے ۔ تمام سابقہ انبیاء آپ ہی کی راہ ردیکھتے رہے۔ جب آپ تشریف لے آئے اور تخلیق کائنات کا مقصد حاصل ہوچکا تو اب قیامت ہی باقی ہے ، اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی دوسری امت ہوگی ، چونکہ اللہ کا آخری نبی آ چکا لہٰذا اب قیامت کا آنا ہی باقی ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کا نزول بھی قیامت کی نشانی ہے۔ معجزہ شق القمر نشانی ہے جس کو اہل مکہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اللہ نے فرمایا اقتربت الساعۃ وانسق القمر (القمر : 1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گئی ۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی اکٹھا کر کے فرمایا کھتین یعنی مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جس طرح یہ دو انگلیاں اکٹھی ہیں ۔ ہاں درمیان والی انگلی انگشت شہادت سے ذرا آگے نکلی ہوئی ہے ، اسی طرح میں قیامت سے ذرا آگے آ گیا ہوں ۔ میرے پیچھے اب قیامت ہی آنے والی ہے ، کوئی دوسرا پروگرام نہیں آئے گا۔ قیامت کی بعض نشانیاں تو آ چکی ہیں اور بعض بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہونا باقی ہیں ۔ مثلاً صحیح حدیث میں آتا ہے کہ قرب قیامت میں دین کا علم اٹھالیا جائے گا ۔ اور دین کے علاوہ دوسری چیزوں کی تعلیم و تعلم عام ہوگی ۔ جہالت زیادہ ہوجائے گی ، شراب نوشی عام ہوگی اور حوادثات اور جنگوں کی وجہ سے مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوجائیں گی ۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی اذا وسدالامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ جب معاملات نا اہلوں کے سپرد کردیئے جائیں گے تو پھر قیامت ہی کا انتظار کرنا ۔ باقی بڑی بڑی نشانیوں میں دجال اور یاجوج ماجوج کا خروج ، مسیح (علیہ السلام) کا نزول اور سورج کا مغرب سے طلوع وغیرہ شامل ہیں ۔ الغرض ! فرمایا کہ تم قیامت کا انتظار کرتے ہو ۔ اس کی بعض نشانیاں تو ظاہر ہوچکی ہیں فانی لھم اذا جاء تھم ذکر ھم پھر جب قیامت برپا ہی ہوگئی تو ان کو نصیحت پکڑنے کا کہاں موقع ملے گا ؟ اس وقت تو توبہ کا دروازہ بھی بند ہوجائے گا اور پھر کوئی عمل بھی کام نہیں آئے گا ۔ درس توحید اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآنی پروگرام خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا پروگرام ہے۔ اس سے کسی کی ذات ، خاندان یا گروہ کا مفاد وابستہ نہیں بلکہ یہ پروگرام تو انسانوں کا تعلق اللہ سے استوار کرنا چاہتا ہے ، اسی لیے فرمایا فاعلم خوب اچھی طرح جان لو اور اس حقیقت کو ذہن نشین کرلو انہ لا الہ الا اللہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ، معبود بر حق صرف وہی ذات ہے اللہ کے علاوہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو خالق ، مالک ، علیم کل ، قادر مطلق ، مشکل کشا اور حاجت روا ہو ۔ فتح و شکست اور اقبال و ادبار سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ جب یہ تمام صفات صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں تو پھر اس کے سوا عبادت کے لائق بھی کوئی ذات نہیں ہو سکتی ۔ یہی وحدانیت کا پروگرام ہے جس کی مخالفت بڑی بد قسمتی کی بات ہے ۔ یہاں پر یہ امر وضاحت طلب ہے کہ اگر فاعلم کا خطاب پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات کو ہے تو وحدانیت پر قائم رہنے کا حکم ہے اور اگر یہ خطاب عام لوگوں کو ہے تو ان کو اس طرح متوجہ کرنا اور اس پروگرام کو اختیار کر نیکی تلقین مقصود ہے۔ استغفار کی تلقین آگے ارشاد ہوتا ہے واستغفرلدنبک اے پیغمبر ! آپ اپنی کوتاہیوں کی بخشش طلب کریں وللمومنین والمومنت اور آپ مومن مردوں اور مومن عورتوں کیلئے بھی بخشش کا سوال کریں ۔ اس مقام پر ذنب یعنی گناہ کو پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات کی طرف منسوب کیا گیا ہے حالانکہ اللہ کے سارے نبی صغائر اور کبائر سے پاک ہوتے ہیں ۔ مفسرین کرام اس اشکال کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہاں پر پیغمبر کی معمولی سی لغزش کو گناہ سے تعبیر کیا گیا ہے ، حالانکہ در حقیقت وہ گناہ نہیں ہوتا ، چونکہ انبیاء کرام اللہ کی بارگاہ کے حاضر باش لوگ ہوتے ہیں ۔ اس لیے ان کی معمولی سی کوتاہی پر بھی گرفت ہوجاتی ہے۔ اس کی مثال سورة عبس والا واقعہ ہے۔ حضور ﷺ بعض سرداران قریش سے دین کے متعلق مخاطب تھے کہ اتنے میں ایک نابنیا صحابی حضرت عبد اللہ ابن مکتوم ؓ آئے اور انہوں نے آپ کے خطاب میں مداخلت کر کے حضور ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا ۔ حضور ﷺ نے اس کا برا منایا ، کیونکہ آپ تبلیغ کا ایک اہم فریضہ انجام دے رہے تھے۔ اس معمولی سی لغزش پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ آگئی ۔ عبس و تولی (آیت : 1) آب چین بچپن ہوئے اور نابینا صحابی کی طرف التفات نہ کیا ، الغرض ! یہاں پر گناہ کی معافی کا مطلب یہ ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں پر بھی اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں اور ساتھ ساتھ اپنی امت کے لوگوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کریں ، چناچہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ میں دن میں سو سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں ۔ فرماتے ہیں کہ میرے دل پر ایک تاریکی سی چھا جاتی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ تاریکی حضور ﷺ کے قلب و ذہن کی نہیں ہوتی تھی ۔ بلکہ ماحول کے اثرات کا نتیجہ ہوتا تھا۔ جس طرح آگ کے دھوئیں کا اثر ارد گرد کے ماحول پر ہوجاتا ہے اسی طرح دوسرے لوگوں کی کوتاہیوں کا اثر نبی کی ذات پر بھی ہوتا ہے جس کو تاریکی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرمایا اسی لیے میں اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرتا رہتا ہوں ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں ۔ ذنبک سے مراد حضور ﷺ کے ذاتی گناہ نہیں بلکہ امت کے گناہ مراد ہیں جس کے لیے بخشش طلب کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں پر مذکور ذنب سے گناہ مراد نہیں بلکہ امکانی ظلمات مراد ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے سوا ساری کائنات ممکن ہے ، یہ عدم میں تھی اور جب وجود میں آتی تو اس کی ظلمت محسوس ہونے لگی ، لہٰذا اللہ کا نبی اس امکانی ظلمت سے بھی استغفار کرتا ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ با یزیدبسطامی (رح) نے ساری رات لا الہ الا اللہ کا ورد کرنے کا ارادہ کیا مگر جب یہ ورد شروع تو بچپن کی ایک کوتاہی یاد آگئی ، چناچہ وہ کوتاہی یاد کر کے شرم محسوس کرنے لگے اور ذکر کرنے کی جرأت نہ کرسکے کہ اس کوتاہی کی موجودگی میں اللہ کو کیا منہ دکھائوں اور کیسے اس کا ذکر کروں ؟ بہر حال ان امکانی تاریکیوں یا بشری تقاضوں کی جو خامیاں ہوتی ہیں ، اللہ کے نبی ان سے بھی استغفار کرتے رہتے ہیں ، غرضیکہ ذنب اگر نبی (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا جائے تو اس سے مراد گناہ نہیں ہوگا ۔ حضور ﷺ بحیثیت امیر جماعت حضرت مولاناعبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی معصوم ہوتا ہے ۔ وہ ایک حیثیت سے تو خدا کا پبغمبر ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے اور دوسری حیثیت سے امیر جماعت بھی ہوتا ہے۔ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ جماعت کی غلطیوں میں امیر بھی شامل ہوتا ہے اگرچہ وہ ذاتی طور پر ان میں شامل نہ ہو ۔ اسی لیے بہت سے مواقع پر حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کی غلطیوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ مثلاً حضرت اسامہ ؓ حضرت اسامہ ؓ نے ایک کلمہ گو کو قتل کردیا تو آپ نے اس پر خفگی کا اظہار فرمایا اور کہا کہ جب یہ شخص قیامت والے دن لا الہ الا اللہ لے کر اللہ کے حضور پیش ہوگا تو تم کیا جواب دو گے ؟ اسی طرح حضرت خالد بن ولید ؓ نے ایک شخص کو غلطی سے قتل کردیا ۔ جنگ ہو رہی تھی اور وہ شخص قتل کا مستحق نہیں تھا۔ مگر کسی طرح ہوگیا ۔ اس پر حضور ﷺ نے اللہ کی بارگاہ میں التجا کی کہ پروردگار ! میں اس غلطی سے بری ہوئی جو خالد ؓ سے سر زد ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ چونکہ جماعت کی غلطیوں میں کسی حد تک امیر جماعت بھی شریک ہوتا ہے ، اسی وجہ سے بھی نبی کا استغفار کرنا ضروری ہے۔ استغفار سے شیطان کی ہلاکت حدیث میں آتا ہے کہ شیطان نے کہا کہ لوگوں نے مجھے دو چیزوں سے ہلاک کردیا ہے۔ پہلی چیز یہ ہے کہ اھلکو نی بلا الہ الا اللہ جب لوگ خلوص نیت کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو ابلیس تباہ و برباد ہوتا ہے کیونکہ اس پر عقیدہ وحدانیت سخت ناگوار گزرتا ہے۔ شیطان کی ہلاکت کی دوسری وجہ استغفار ہے جب لوگ استغفار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیاں معاف کردیتا ہے اور یہی چیز شیطان کے لیے ہلاکت کا باعث بنتی ہے کہ وہ انسانوں کو ورغلانے میں ناکام رہا۔ الغرض ! شیطان نے کہا کہ جب میں نے دیکھا کہ لوگ مجھے کلمہ طیبہ اور استغفار کی وجہ سے ہلاک کرتے ہیں تو میں نے انہیں خواہشات میں ڈال دیا اور کبھی بدعات کے راستے پر ڈال دیا بد عت ایسی خصرناک بیماری ہے جس کو انسان نیکی سمجھ کر کرتے ہیں اور پھر عمر انہیں اس سے توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔ موت کی تمام رسومات ، قل ، چالیسواں عرس وغیرہ سب بدعات میں شمار ہوتی ہیں ۔ حدیث میں شریف میں آتا میں من مات وھو یعلم انہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ جو آدمی اس حالت میں مر گیا کہ وہ جانتا ہے یعنی دل میں یقین رکھتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا ، کیونکہ یہ نجات کا کلمہ ہے ، بہر حال فرمایا کہ آپ بخشش طلب کریں اپنی کوتاہیوں کی اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی واللہ یعلم متقلبکم و مثولکم اللہ تعالیٰ جانتا ہے تمہارے پلٹ کر جانے کی جگہ کو اور تمہارے ٹھکانے کو بھی ۔ پلٹنے کی جگہ دنیا بھی ہو سکتی ہے اور برزخ بھی اور ٹھکانے سے مراد آخری ٹھکانہ جنت یا دوزخ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسی شخص کا ٹھکانہ کہاں ہوگا ؟
Ayahs 47:20–23

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ایمان والے کہ کیوں نہیں اتاری گئی کوئی سورة ۔ پس جب اتاری جاتی ہے کوئی سورة محکم اور ذکر کیا جاتا ہے اس میں جنگ کا ، یکھے گا تو ان لوگوں کو جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ وہ دیکھتے ہیں آپ کی طرف ایسے شخص کی طرح جس پر غشی طاری ہو موت کی وجہ سے ، پس ہلاکت ہے ان کے لیے

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

حکم ماننا اور بات کرنا دستور کے مطابق ( مناسب ہے) پس جب پختہ ہوجائے بات ، پس اگر یہ سچ کردکھاتے اللہ تعالیٰ کے سامنے تو البتہ ان کے لیے بہتر ہوتا

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

پس شاید کہ اگر تم روگردانی کرو گے تو فسادکرو گے زمین میں اور قطع کرو گے اپنی قرابتوں کو

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ اللہ نے ان پر لعنت بھیجی ہے ، پس ان کو بہرہ کردیا ہے ، اور اندھا بنا دیا ہے انکی آنکھوں کو

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافق لوگوں کی مذمت بیان فرمائی اور ساتھ تاکید فرمائی کہ اللہ کی وحدانیت پر ثابت قائم رہو کہ دین کا مقصود یہی ہے اور جہاد اسی کے لیے فرض کیا گیا ہے عقیدہ اور فکر کی حفاظت بہت بڑی چیز ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ اللہ نے اس پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی ناکامی اور نا مرادی کا ذکر بھی کیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی رب تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کے پلٹنے کی جگہ اور اس کے ٹھکانے کو جانتا ہے۔ حکم جہاد پر منافقوں کی حالت اب آج کے درس سے لے کر سورة کے آخر تک منافقین کی مذمت بیان کی گئی ہے اور اہل ایمان کے طریقے کو اللہ نے پسند فرمایا ہے۔ اللہ نے ان کی تعریف کی ہے اور ان کو بہتری کی خوشخبری سنائی ہے ارشاد ہوتا ہے ویقول الذین امنوا اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں لولا نزلت سورة کوئی ایسی سورة کیوں نہیں نازل کی جاتی جس میں جہاد کا حکم ہوا۔ اہل ایمان کفار و مشرکین کی ایذاء رسانیوں سے سخت پریشان تھے۔ ان کی طرف سے ہر وقت خطرہ لگا رہتا تھا لہٰذا مسلمان چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ دو دو ہاتھ ہو ہی جانے چاہئیں تا کہ ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ ہوجائے اور آئے دن کی پریشانی سے نجات مل جائے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مکی دور میں مسلمانوں کے لیے حکم یہ تھا۔ کفوا ایدیکم واقیموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ (النسائ : 77) اپنے ہاتھوں کو جنگ سے روکے رکھو ۔ اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ اپنی تنظیم کو درست کرو اور اعمال کی اصلاح کرتے رہو ۔ پھر جب مدنی دور آیا تو اہل ایمان کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سورة نازل فرمائے۔ جس میں جہاد کرنے کا حکم ہو ۔ اس مقام پر اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان والوں کی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ جہاد کا حکم دیں۔ مگر ہوا کیا ؟ فاذا انزلت سورة محکمۃ جب کوئی مضبوط سورة نازل ہوئی وذکر فیھا القتال جس میں جہاد کرنے کا حکم آ گیا جہاد کا حکم قرآن کی سورة بقرہ ، آل عمران ، نساء ، مائدہ ، انفال ، توبہ ، احزاب ، محمد ، فتح اور جمعہ وغیرہ میں موجود ہے۔ تو فرمایا جب جہاد کا حکم نازل ہوا ۔ رایت الذین فی قلوبھم مرض تو آپ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کے دلوں میں بیماری یعنی منافقت ہے۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ینظرون الیک نظر المغشی علیم من الموت وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی شخص پر موت کی وجہ سے غشی طاری ہوجائے۔ اس پر گھبراہٹ طاری ہو جس کی وجہ سے اس کی شکل ہی تبدیل ہوجائے مطلب یہ کہ جنگ کا نام سن کر ان پر غشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت آگئی ۔ ایسے لوگوں یعنی منافقین کے متعلق فرمایا فاولی لھم کہ ان کے لیے ہلاکت ہے۔ د راصل اولیٰ کا لفظ ولی سے مشتق ہے جس کا معنی قریب ہوتا ہے اور مفہوم یہ بنتا ہے کہ خدا کرے کہ ان کی ہلاکت کی چیز ان کے قریب ہو یہ لوگ اپنے آپ کو جنگ سے بچانا چاہتے ہیں ۔ مگر مسلمانوں کے ساتھ مفاد میں برابر کے شریک ہونا چاہتے ہیں لہٰذا ان کے لیے ہلاکت ہی موزوں ہے۔ اطاعت اور معروف بات فرمایا حیلے بہانے سے جنگ سے گریز کرنے کی بجائے تمہارے حق میں طاعۃ وقول معروف اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور دستور کے مطابق اچھی بات کرنا ہی بہتر ہے نہ تو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنی چاہئے اور نہ ہی زبان سے کوئی غیر معیاری بات نکالنی چاہئے۔ زبان سے بلند بانگ دعویٰ کرنا اور وقت آنے پر بزدلی کا مظاہرہ کرنا ہرگز پسندیدہ فعل نہیں جو کوئی ایسا کرے گا ، وہ لازماً ہلاکت کے گڑھے میں گرے گا نیز فرمایا فاذا عزم الامر جب کسی معاملہ میں پختہ فیصلہ ہوجائے۔ اللہ کا حکم آجائے اور باہمی مشورہ سے جنگ کے لیے نکلنا طے پا جائے تو پھر پیچھے ہٹنا اللہ اور اس کے رسول کو دھوکہ دینے والی بات ہے جسے کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ جب کسی معاملہ میں واضح طور پر وحی نہیں آتی تھی تو حضور ﷺ ایسے معاملہ میں صحابہ ؓ سے مشورہ طلب کرتے ، پھر باہمی مشاورت میں بھی طے پاتا اس کے مطابق عمل کر گزرتے۔ اس کی مثال غزوہ احد کا واقعہ ہے۔ جب کفار نے مدینہ پر چڑھائی کی تو حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ شہر میں رہ کر دشمن سے دفاع کرنا چاہیے یا شہر سے باہر کھلے میدان میں مقابلہ ہو ۔ چناچہ طے یہ پایا کہ باہر نکل کر مقابلہ کرنا ہوگا ۔ اہل ایمان تو اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے جبل احد کی طرف چل دیے مگر منافقوں نے یہاں بھی بزدلی دکھائی اور راستے سے واپس آگئے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور سچی بات ہونی چاہئے۔ حیلے بہانے سے اللہ کے رسول کے فیصلے سے انحراف ہلاکت کی علامت ہے۔ فرمایا فلو صدقوا اللہ لکان خیرالھم اگر یہ لوگ اللہ کے سامنے اپنی اطاعت گزاری کو سچی ثابت کریں اور جہاد سے منہ نہ موڑیں تو اسی میں ان کی بہتری ہے۔ اللہ کے نبی کے حکم کے مطابق صلح و جنگ کے ہر معاملہ میں بخوشی شریک ہوں اور دل میں کسی قسم کی کدورت نہ آنے دیں ، جہاں جانی اور مالی قربانی کی ضرورت ہو ، بلا توقف پیش کردیں اور اپنی بات کو سچ کردکھائیں تو بالآخر یہی چیز ان کے لیے بہتر ہے۔ جہاد سے گریز آگے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات ارشاد فرمائی فھل عسیتم ان تولیتم پس شاید اگر تم روگردانی کرو گے یعنی جہاد سے گریز کرو گے ان تفسدوا فی الارض تو گویا تم زمین میں فساد برپا کرنے کے مرتکب ہو گے وتقطوا ارحامکم اور قطع رحمی بھی کرو گے ۔ اگر بوقت ضرورت میدان جنگ میں نہ نکلے تو اسی کا مطلب لیا جائے گا کہ یہ زمین میں اصلاح کی بجائے فساد چاہتے ہیں ۔ جہادتو ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور زمین امن وامان کا گہوارہ بن جائے اور اس کے بر خلاف اگر تم اس نیک مقصد میں شریک نہیں ہوتے تو ظاہر ہے کہ تم فساد برپا کرنا چاہتے ہو ۔ جہاد میں شریک ہونے کی بجائے پیچھے رہ جانے والے عام طور پر ریشہ دوانیاں کرتے ہیں ۔ غلط پراپیگنڈاکے ذریعے مسلمانوں میں بددلی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ طرح طرح کی افواہیں اڑاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کی مخالفت کرتے ہیں ، لہٰذا فرمایا کہ تم زمین میں فساد برپا کرنا چاہتے ہو ۔ اور قطع رحمی کرنا چاہتے ہو ، جو شخص قانون الٰہی کی پابندی کرتا ہے اس سے مخلوق خدا کی بہتری کی بھی توقع کی جاسکتی ہے اور جو شخص قانون خداوندی کی توڑ ڈالتا ہے اس سے مخلوق کی بہتری کی کیا امید ہو سکتی ہے ، وہ تو فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے۔ حکمران کی ذمہ داری تولی کا ایک معنی تو ہم نے روگردانی کرنا کیا ہے اور اس کا دوسرا معنی والی بننا بھی آتا ہے ، چناچہ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) اس جملے کا معنی یہ کرتے ہیں کہ شاید تم والی بن جائو یعنی تمہیں اقتدار اور حکومت مل جائے معاملات تمہارے ہاتھ میں آجائیں تو شاید تم زمین میں فساد اور قطع رحمی کرنے لگو ۔ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے قانون کی پابندی نہیں کرتے اگر ان کے ہاتھ میں عنان حکومت آجائے تو وہ عدل و انصاف کی بجائے ظلم و زیادتی ہی کریں گے۔ حقوق العباد کو تلف کریں گے کفر ، شرک اور بدعات کو رائج کریں گے اور اس طرح فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ چند روزہ اقتدار سے غلط فائدہ نہ اٹھانا بلکہ ان عارضی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العبادکو ادا کرنا ، غریب پروری کرنا ، مظلوم کی داد رسی اور ظالم کو سخت سزا دینا ۔ اور یہی وہ پروگرام ہے جو قرآن پیش کرتا ہے ۔ یہ انبیاء کی تعلیم کا پروگرام ہے اور اسی پروگرام پر عملدرآمد کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ جہاد کسی شخص کی ذاتی ، قومی یا گروہی مفاد کے لیے نہیں بلکہ خالصتا ً اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ جنگ کے موقع پر یہ دعا کرتے تھے۔ اللھم منزل الکتب سریع الحساب بحری السحاب ھازم الاحزاب اھزمھم وزلزلھم اے کتاب کو نازل کرنے والے ، جلد حساب لینے والے اور بادلوں کو چلانے والے اللہ ! دشمنوں کو شکست دے اور ان کو درہم برہم کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ اس جہاد کا مقصد اس کتاب کے پروگرام کو نافذ کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور اس کے ذریعے دینا سے فتنہ و فساد کو مٹانا مقصود ہے۔ بہرے اور گونگے لوگ فرمایا جو لوگ فساد فی الارض اور قطع رحمی کے مرتکب ہوتے ہیں اولئک الذین لعنھم اللہ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔ لعنت کا معنی رحمت سے دوری ہوتا ہے ، چناچہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت کے قریب بھی نہیں بھٹک سکتے بلکہ ان پر ہمیشہ پھٹکا رہی پڑتی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فاصمھم اللہ تعالیٰ ان کو بہرہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے ان کے کان حق بات کو سنتے ہیں محروم ہوجاتے ہیں ۔ نیز واعمی ابصارھم ان کی آنکھوں کو اندھا کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ صحیح چیز کو دیکھنے کی طاقت ہی نہیں پاتے۔ ان پر خواہشات کی تاریکی چھا جاتی ہے ، خود غرضی غالب آجاتی ہے ، وہ مفاد عامہ کی طرف متوجہ ہی نہیں ہو پاتے ، غرضیکہ انہیں اپنے مفاد کے علاوہ نہ کچھ سنائی دیتا ہے ، اور نہ ہی کوئی چیز نظر آتی ہے۔ وہ بہرے اور اندھے ہوجاتے ہیں اور ان پر ہمیشہ لعنت پڑتی رہتی ہے۔ غرضیکہ اللہ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اگر کسی وقت تم اقتدار میں آ جائو حکومت مل جائے تو عدل و انصاف کو قائم کرنا ، ظلم و زیادتی کا قلع قمع کرنا ، کمزور مخلوق کی خدمت کرنا تا کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ مخلوق کی دعائیں بھی تمہارے شامل حال ہوجائیں۔
Ayahs 47:24–28

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

کیا نہیں غور کرتے یہ لوگ قرآن میں ؟ کیا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں ؟

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو پھرگئے اپنی پشتوں پر بعد اس کے کہ واضح ہوچکی ہے ان کے لیے ہدایت ، شیطان نے ان کو فریب دیا ہے اور دیر کے وعدے کیے ہیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا ان لوگوں سے جنہوں نے ناپسند کیا اس چیز کو جس کو اللہ نے اتارا ہے ہم تمہاری با ت مانیں گے بعض معاملات میں ، اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے ان کے پوشیدہ مشوروں کو

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پس کیسے ہوگا جب کہ وفات دیں گے ان کو فرشتے ، ماریں گے ان کے چہروں اور ان کی پشتوں پر

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے پیروی کی اس چیز کی جو اللہ کو ناراض کرتی ہے اور ناپسند کیا انہوں نے اللہ کی خوشنودی کو ، پس اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا

ربط آیات یہ آیات بھی سابقہ آیات کے ساتھ منافقین کی مذمت کے سلسلہ میں مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ جب کوئی محکم سورة اتاری جاتی جس میں جہاد کا ذکر ہوتا تو منافق لوگ حضور ﷺ کی طرف اس طرح دیکھتے جیسے کوئی آدمی موت کی غشی میں مبتلا ہو ۔ مطلب یہ کہ منافقین جہاد کے نام سے سخت خوفزدہ ہوجاتے اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ۔ پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور دستور کے مطابق اچھی بات کرنی چاہئے۔ جب کوئی معاملہ طے پا جائے تو اس پر عمل درآمد کر کے اس کو سچ کردکھانا چاہئے۔ جو لوگ اس سے روگردانی کریں گے۔ وہ بد نظمی کا سبب بنیں گے اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔ فرمایا یہی لوگ قطع رحمی کرنے والے اور خدا کی لعنت کے مستحق ہیں ۔ فرمایا اگر ایسے فسادی لوگوں کو اقتدار حاصل ہوجائے تو یہ لوگ عدل و انصاف اور امن وامان کے قیام کی بجائے فساد فی الارض اور قطع رحمی کے مرتکب ہوں گے۔ ایسے لوگ شرائع الٰہیہ کو ذاتی اغراض پر قربان کہہ دیں گے اور تعیش کی زندگی کو ہی اپنا منتہائے مقصود بنا لیں گے۔ صاحب اولاد لونڈی کا مسئلہ حضر ت عمر ؓ ایک موقع پر خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے اندر قطع رحمی پھیل چکی ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ۔ حضرت ! ہم تو اپنے آپ میں ایسی کوئی چیز نہیں پاتے۔ آپ نے فرمایا کیا تم ان لونڈیوں کو بھی فروخت نہیں کردیتے جن سے ان کے مالکوں کی اولاد ہوتی ہے۔ یہی تو قطع رحمی ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحا مکم شاید کہ اگر تمہیں اقتدار حاصل ہوجائے تو تم زمین میں فساد اور قطع رحمی کرنے لگو۔ لوگوں کو بات سمجھ میں آگئی اور انہوں نے صاحب اولاد لونڈیوں کو فروخت کرنا چھوڑ دیا۔ اللہ اور اس کے رسول نے لونڈیوں کی جو رعایت دی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر کوئی لونڈی اپنے مالک کی اولاد جنتی ہے تو اس کی وجہ سے لونڈی کو فروخت کرنے کا حق باقی نہیں رہتا ۔ اس لونڈی کو ایک درجہ کی آزادی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کا فروخت کرنا قطع رحمی میں شمار ہوتا ہے۔ مکاتب کا بھی یہی حال ہے جب مالک اور غلام کے درمیان مکاتبت کا معاہدہ طے پائے تو وہ غلام آزاد ہو کر کاروبارو کرنے لگتا ہے تا کہ مقررہ رقم مالک کو ادا کرسکے ۔ اب ایسے غلام کی فروخت بھی روا نہیں رہتی ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہہ دے کر میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے ، تو اب اس غلام کو بھی کسی حد تک آزادی حاصل ہوگئی ، اس کو بھی فروخت نہیں کیا جاسکتا ۔ تدبر فی القرآن منافقین کے نفاق ، شرارتوں اور ریشہ دوانیوں کے پیش نظر اللہ نے فرمایا افلا یتدبرون القراٰن کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے کہ اس کی تعلیم کیسی بےمثال ہے جو بنی نوع انسان کو شر و فساد کی تاریکیوں سے نکال کر امن و سلامتی کی روشنی کی طرف لاتی ہے۔ امر علی قلوب اقفالھا کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اگر یہ لوگ قرآن کریم کے پروگرام پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ جس جہاد سے یہ منہ موڑ رہے اور اسے اپنے لیے ہلاکت کا سبب سمجھ رہے ہیں ، یہی جہاد و دنیا میں امن وامان کے قیام کا ضامن ہے اور اس کے ذریعے ترقی کی راہی کھلتی ہیں ۔ اس کے بر خلاف جہاد سے گریز کرنے والوں کے دلوں پر تالے لگ جاتے ہیں اور وہ زنگ آلود ہوجاتے ہیں ۔ سورة المطففین میں ہے۔ کَلَّا بَلْسکتہ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (آیت : 14) ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گئے ہیں ۔ سورة بقرہ میں فرمایا ختم اللہ علی قلوبھم (آیت : 7) اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اللہ کی نافرمانی کرتے کرتے ان کے دل سیاہ ہوچکے ہیں جو نیکی کی کسی بات کو قبول ہی نہیں کرتے۔ دین سے ارتداد فرمایا کہ جو لوگ قرآن کے پروگرام کو تسلیم نہیں کرتے ان کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ وہ مرتد ہوچکے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ماتبین لھم الھدی بیشک وہ لوگ جو پلٹ گئے اپنی پشتوں پر بعد اس کے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح ہوچکا ہے۔ الشیطن سول لھم ان کو شیطان نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے واملی لھم اور ان کے ساتھ لمبے وعدے کیے ۔ شیطان ان کو جنگ سے خوفزدہ کرتا ہے کہ جہاد میں شریک ہو گے تو مارے جائو گے اور تمہاری بیویاں بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں گے اور تمہارا مال بھی ضائع ہوجائے گا ۔ اللہ نے شیطان کی ایسی ہی باتوں کو فریب اور دھوکہ قرار دیا ہے۔ عام طور پر مرتد سے وہ شخص مراد ہوتا ہے۔ جو دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے یعنی یہود ، عیسائی ، ہندو یا سکھ ہوجاتے ، تا ہم اگر کوئی شخص کلمہ توحید پڑھنے کے باوجود دین کے احکام پر عمل کرنے سے گریز کرتا ہے ، مثلاً جان بوجھ کر بلا عذر جہاد میں شریک نہیں ہوتا تو وہ بھی مرتد کے حکم میں آئے گا ۔ اس سلسلے میں مرتد کی بعض علامات بھی بیان کی گئی ہیں ۔ مثلاً جو شخص نماز نہیں پڑھتا اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کی وفاداری اسلام کے ساتھ مشکوک ہے۔ اسی طرح جو شخص جماعت میں شریک نہیں ہوتا وہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے ۔ غرضیکہ جہاد ایک اتنی ضروری چیز ہے مگر منافق اس سے گریز کرتے ہیں ۔ حالانکہ خود حضور ﷺ دس سالہ مدنی زندگی میں انیس جنگوں میں بنفس نفیس شریک ہوئے جن میں آٹھ یا نو غزوات میں بالفعل جنگ بھی ہوئی ۔ جب اللہ کا نبی جہاد کی خود کمانڈ کرتا ہے تو پھر پیچھے رہ جانے والا منافق ہی ہو سکتا ہے۔ منافقوں کی دوغلی پالیسی فرمایا منافقوں کو شیطان نے فریب دے رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ جہاد میں شریک نہیں ہوتے ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ ذلک بانھم قالوا اللذین کرھوا ما نزل اللہ کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو ناپسند کرتے ہیں یعنی یہود و نصاریٰ پر اپنے نفاق کو ظاہر کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ سنطیعکم فی بعض الامر ہم بعض معاملات میں تمہاری بات مانیں گے۔ مطلب یہ کہ ہم بظاہر تو مسلمانوں کے ساتھ ہیں لیکن اگر جنگ کا موقع آ گیا تو ہم تمہارے خلاف میدان میں نہیں نکلیں گے۔ گویا اہل کتاب کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں ۔ فرمایا واللہ یعلم اسرار ھم اللہ تعالیٰ ان کے پوشیدہ رازوں اور مشوروں کو جانتا ہے کہ وہ کس قسم کی سازش کر کے اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں ۔ سورة البقرہ میں منافقین کی اس دوغلی پالیسی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لا چکے ہیں ، اور جب وہ اسلام کے دشمنوں کے پاس جاتے ہیں قالوا انا معکم ( آیت : 14) تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ مسلمانوں سے میل جول کا مقصد تو محض ان سے ٹھٹا تمسخر کرتا ہے ۔ ہم ان سے بعض مفاد حاصل کرنے کے لیے ان کی مجلسوں میں جاتے ہیں ، وگرنہ ہماری تمام تر ہمدریاں تمہارے ساتھ ہیں اور ہم تمہاری ہی پارٹی کے آدمی ہیں ۔ سزا بوقت موت پھر اللہ نے ان منافقوں کی سزا کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ فکیف اذا توفتھم الملئکۃ اس وقت ان کا کیا حال ہوگا ۔ جب فرشتے ان کی جانیں نکالیں گے یضربون وجوھھم وادبار ھم وہ ان کے چہروں اور پشتوں پر ضربیں لگائیں گے اور کہیں گے کہ اپنے کیے کا اب مزا چکھو۔ دنیا میں تم قرآنی پروگرام کی مخالفت کرتے رہے اور یہود و نصاریٰ سے ساز باز کر کے اہل ایمان کو نقصان پہنچاتے رہے ۔ اب فرشتوں کی مار کا سامنا کرو ۔ تمہاری منافقت کا یہی بدلہ ہے۔ فرمایا ذلک یہ اس وجہ سے بانھم اتبعواما اسخط اللہ کہ انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنی ۔ اللہ تعالیٰ کفر ، شرک ، یہودیت ، نصرانیت اور فتنہ فساد کو ناپسند کرتا ہے مگر تم نے ایسی چیزوں کا اتباع کر کے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی خرید لی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان اللہ لا یحب المفسدین ( القصص : 77) بیشک وہ فساد اور فسادیوں کو پسند نہیں کرتا ، نیز فرمایا وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَج وَاِنْ تَشْکُرُوْا یَرْضَہُ لَکُمْ (الزمر : 7) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے کفر کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور اگر تم اس کا شکر ادا کرو ، اس پر ایمان لے آئو تو وہ تم سے راضی ہوجائے گا ۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہ ِ الْاِسْلَام (آل عمران : 19) اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین صرف اسلام ہے۔ اس کے ہاں توحید ، ایمان اور اطاعت کی قدر و منزلت ہے۔ اس کے علاوہ تمام ادیان مغضوب ، معتوب اور گمراہ کن ہیں۔ اہل کتاب نے اصل دین میں ملاوٹ کر کے اسے یہودیت اور نصرانیت بنا دیا ہے۔ اسی لیے اللہ نے ان کو مغضوب علیہ اور گمراہ قرار دیا ہے فرمایا منافق لوگ ایک تو اس وجہ سے سزا کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایسی چیز کا اتباع کیا جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنی ، اور دوسری بات یہ وکرھوا رضوانہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے پروگرام کو ناپسند کیا ۔ اور اللہ کی ناراضگی کے کاموں کو اختیار کیا ۔ انہوں نے ہدایت کے راستے کو چھوڑ کر گمراہی ، ایمان اور توحید کو چھوڑ کر کفر ، شرک اور نفاق کو اختیار کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا فاحبط اعمالھم کہ ان کے تمام نیک اعمال بھی برباد ہوگئے۔ وجہ یہ ہے کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار ایمان صحیح ہے۔ جب یہ لوگ اسی سے خالی ہیں تو اللہ کے ہاں ان کے اعمال کی کچھ قدر نہ ہوئی اور سب کے سب ضائع ہوگئے۔ قیامت والے دن کافروں کے ڈھیروں اعمال راکھ کے ڈھیر کی طرح ہوا میں اڑ جائیں گے کیونکہ وہ ایمان اور توحید کے ثقل سے خالی ہوں گے۔