Ayahs 46:1–7نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الاحقاف ہے۔ احقاف جمع ہے حقف کی جس کا معنی بیت کا ٹیلہ ہوتا ہے۔ قصر عاد جزیرۃ العرب کے ربع خالی میں آباد تھی ۔ یہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں چونکہ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے۔ اس لئے اس مقام کی خصوصیت کی نسبت ہے اس سورة کا نام سورة الاحقاف رکھا گیا ہے سورة جو امیم سبعہ کی آخری سورة ہے جو کہ مکی زندگی کے آخری دور میں سورة الجاثیہ کے بعد نازل ہوئی اس کی پینتیس 35 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة مبارکہ 643 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة کا موضوع اور مضامین حوامیم سبعہ کی دیگر سورتوں کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ اس میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید باری تعالیٰ ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت و صداقت ہی کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ بعض دیگر بنیادی دینی عقائد بیان ہوئے ہیں۔ اس سورة میں قوم عاد کا ذکر ہے ، مشرکین کی مزعود غلط سفارش کی تردید کی گئی ہے۔ دعوت الی القرآن کا ذکر اس سورة میں بھی آ گیا ہے۔ جنات کے اسلام لانے کا تذکرہ ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) اور خصوصاً اولوالغرم انبیاء کا ذر بھی اس سورة میں آ گیا ہے۔ اس کے علاوہ کافروں اور مشرکوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کا باپ بھی بیان ہوا ہے۔
حروف مقطعات
ان سات سورتوں کو حوامیم سبعہ کا نام اسی لئے دیا گیا ہے کہ ان سب کا آغاز حروف مقطعات حم سے ہوتا ہے۔ اگرچہ ان حروف کے قطعی اور یقینی معانی حضور ﷺ نے بیان نہیں فرمائے ، تاہم بعض صحابہ اور بعد میں آنے والے مفسرین کرام نے تقریب فہم کے لئے ان حروف کے کچھ معانی بتائے ہیں چناچہ بعض فرماتے ہیں کہ ح سے حکم الٰہی اور م سے مجہ ملک مراد ہے اور معنی یہ بنتا ہے کہ معمر خداوندی اور بادشاہی کی بزرگی اللہ وحدہ لاشریک کے لئے ہی ثابت ہے جیسا کہ ان آیات سے متبادر ہوتا ہے ارض و سما اور پوری کائنات میں حکومت فقط خدا تعالیٰ کی ہے اور بزرگی اور عظمت بھی اسی کے لئے ثابت ہے ، بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ ح کا اشارہ حمایت کی طرف ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کی وحدانیت لوٹنے والوں کی حمایت کرتا ہے اور م کا اشارہ مرضیات حق کی طرف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ پسندیدہ باتیں کہ اہل ایمان اور اہل توحید جن کی تلاش میں رہتے ہیں۔
بعض فرماتے ہیں کہ ان سے مراد حبل اللہ اللہ کی رسی ہے جس کے متعلق خود خدا تعالیٰ کا حکم ہے واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا (آل عمران) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور ٹکڑے ٹکڑے نہ ہوجانا اور م سے مراد متین یعنی محفوظ ہے ۔ گویا جس رسی کو مضبوطی سے پڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ ہر طرف سے محفوظ بھی ہے۔ اس رسی سے مراد قرآن کریم ہے جس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لینے سے انسان گمراہی سے بچ جائے گا اور عالم بالا کی طرف چلا جائے گا ایسا کرنے سے وہ گویا کامیاب ہوجائے گا۔
بعض فرماتے ہیں ح کا اشارہ حلیہ یعنی زیور کی طرف ہے کیونکہ قرآن کریم بھی ایک زیور ہے۔ اور تم سے مراد مزین ہے جس طرح زیور پہن کر انسان زینت حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم بھی بنی نوع انسان کے لئے کمال درجے کی زینت کا باعث ہے۔ ان تمار ترظنی معانی کے باوجود صحیح اور زیادہ سلامتی والی بات یہی ہے کہ ان ظروف کے حقیقی معانی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور اس کی ان حروف سے جو بھی مراد ہے وہ برحق ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔
نزول کتاب
حوامیم سبعہ کی ہر سورة کا آغاز قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت سے ہوا ہے۔ یہاں پر بھی ارشاد ہوتا ہے تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم کتاب یعنی قرآن کریم کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو عزیز یعنی زبردست اور غالب ہے ، ہر چیز اس کی مصیع ہے اور مخلوق میں سے کوئی چیز بھی اس کے غلبہ سے باہر نہیں ہے۔ وہ حکیم بھی ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کائنات کی تخلیق ، انسانوں ، جنوں اور فرشتوں کی پیدائش ، آسمانوں اس کے کروں اور زمین کی تخلیق ، ایک خاص مدت تک کے لئے مقررہ کردہ نظام شمسی اور پھر اس کے بعد پورے تشام کی تبدلی ، قیامت کا برپا وہنا۔ حساب کتاب کی منزل اور جزائے عمل کی منازل سب کے سب اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہیں۔
تخلیق ارض کا
اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کی وضاحت ہے ماخلقنا السموت والارض وما بینھمآ الابالحق ہم نے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے ۔ یعنی کائنات کی تخلیق بیکار محض نہیں ہے بلکہ ایک خاص مقصد کے لئے واجل مسمی اور مقررہ مدت تک کے لئے ہے۔ یہ سارا نظام دائمین ہیں ہے بلکہ جب اس کی مقررہ مدت مکمل ہوجائے گی۔ تو یہ درہم برہم ہوجائے گا۔ پھر نئی زمین اور نیا آسمان ان کی جگہ لے لیں گے اور عالم بالا کے تمام معاملات پیش آئیں گے۔
فرمایا والذین کفروا عما انذروا معرضون اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اس چیز سے جس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے ، تو وہ اعراض کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جو وقوع قیامت اور جزائے عمل کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نہ کوئی قیامت برپا ہوگی ، نہ حساب کتاب کی منزل آئے گی اور نہ ہی ہم نے کوئی باز پرس کریگا۔ لہٰذا جزا اور سزا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ انہی حقائق سے یہ لوگ اعراض کر کے ہمیشہ کے لئے ناکام ہوجاتے ہیں ظاہر ہے کہ جس شخص کو آخرت میں حساب کتاب اور پھر جزائے عمل کا احساس تک نہ ہوگا۔ وہ اس کے لئے تیاری کیا کرے گا اور پھر اس امتحان میں کامیاب کیسے ہوگا ؟ ایسے شخص کو ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
توحید کا اثبات
اگلی آیت توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں ہے ، ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں ارء یتم ماتدعون من دون اللہ بھلا تم بتلائو کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، ان کی عبادت کترے ہو ، ان کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہو اور ان سے مشکل کشائی اور حاجت روانی چاہتے ہو ارونی ما ذا خلقوا من الارض مجھے دکھائو کہ انہوں نے زمین میں کیا چیز پیدا کی ہے۔ ظاہر ہے کہ معبود وہی ہو سکتا ہے جو خلاق ہو۔ یہ عقل کی بات ہے۔ اگر انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے تو وہ چیز اس کی معبودیت کی عقلی دلیل بن سکتی ہے۔ اپنے اردگرد نظر مار کر دیکھو کہ انہوں نے زمین میں کوئی شجر ، حجر ، دریا ، پہاڑ ، پھل ، سبزیاں ، جانور ، کیڑے مکوڑے پیدا کئے ہوں ۔ جب یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں تو پھر اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے کی تمہارے پاس دلیل ہے ؟ اگر زمین میں معبود ان باطلہ کی پیدا کردہ کوئی چیز نظر نہیں آتی ام لھم شرک فی السموت تو کیا آسمانوں کی تخلیق میں ان کی کوئی شراکت ہے کہ انہوں نے کوئی آسمان بنایا ہو یا کوئی آسمانی کردہ پیدا کیا ہو یا کوئی آسمانی مخلوق پیدا کی ہو ۔ آخر کس بناء پر تم ان کو پکارتے ہو اور ان کو معبود سمجھتے ہو ؟ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا خلاق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس حقیقت کو دہریوں کی ایک قلیل تعداد کے علاوہ تمام مذاہب والے تسلیم کرتے ہیں تو جب خلاق وہ ہے تو پھر معبود کوئی دوسرا کیسے ہو سکتا ہے ؟
فرمایا ، اگر تم شرک کے نبوت میں کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو پھر کوئی نقلی دلیل ہی لے آئو ابتونی بکتب من قبل ھذا یعنی اس قرآن سے پہلے کی کوئی آسمانی کتاب لے آئو جس میں لکھا ہو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود بھی ہے اور یہ بات بالقین ثابت ہے کہ کسی بھی آسمانی کتاب میں شرک کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ ہر صحیفہ اور کتاب میں شرک کی تردید اور توحید کا اثبات ملتا ہے۔ فرمایا اگر کوئی کتاب بھی پیش نہیں کرسکتے اواثرۃ من علم تو علم کی کوئی باقی ماندہ بات ہی پیش کرو جو تواتر کے ساتھ نقل ہوتی آ رہی ہے۔ نقلی دلیل کے طور پر یا تو کوئی کتاب پیش کی جاسکتی ہے یا کسی نیک ، صالح اولیا اللہ ، حکمیہ یا کسی نبی یا دانشور کا قول پیش کیا جاسکتا ہے۔ شرک کے حق میں ان میں سے کوئی قول ثبوت کے طور پر پیش کردو۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی ممکن نہیں۔ اللہ کا ہر نبی ، ولی ، تبلیغ اور صالح آدمی ہمیشہ توحید کی دعوت دیتا رہا ہے اور شرک کی طرف کبھی کسی نے دعوت نہیں دی۔ دانشوروں میں سے لقمان بہت بڑے حکیم اور دانشور گزرے ہیں۔ جن کا تذکرہ اللہ نے قرآن پاک میں کیا ہے اور جن کے نام پر ایک سورة بھی ہے۔ ان کا بیان قرآن میں مذکور ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو صنیحت کرتے ہوئے فرمایا یبنی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم (لقمان 12- ) اے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے ، جس کی اللہ کے ہاں معافی کا کوئی قانون نہیں ہے۔ مولا امام مالک میں پرانے انبیاء کے اقوال میں سے ایک یہ قول بھی ملتا ہے اذا لم تسخ فاضع ما شئت جب تم سے حیاء کا مادہ اٹھ جائے تو پھر جو جی چاہے کرتے پھرو فارسی کا محاورہ بھی ہے۔ بےحیا باش ہرچہ خواہی کن ” یعنی بےحیا بن کر جو دل چاہے کرو پھر تمہیں کس کی پرواہ ہوگی۔ مقصد یہ کہ جب تم عقلی یا نقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو پھر جو چاہو کرتے پھرو اپنے زعم باطل سے کسی کو معبود بنا لو ، حاجت روا اور مشکل کشا کہہ لو تمہیں کون پوچھنے والا ہے الغرض فرمایا کہ شرک کے حق میں اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو لے آئو ان کنتم صدقین اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مطلوبہ دلیل پیش کرنے کے قابل نہیں ہے۔
بدترین گمراہی ندالغیر اللہ
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ندا الغیر اللہ کو بدترین گمراہی قرار دیا ہے ارشاد ہوتا ہے ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتا ہے اور جن کو پکار رہا ہے ان کی حال تیہ ہے من لایستجیب لہ الی یوم القیمۃ کہ وہ اس کی پکار کر قیامت تک نہیں پہنچ سکتے۔ وھم عن دعائھم غفلون اور جن کو پکارا جا رہا ہے وہ ان کی پکار سے یکسر غافل ہیں۔ انہیں علم ہی نہیں کہ کون کس کو پکار رہا ہے اور اس کا کیا مقصد ہے ؟ ظاہر ہے کہ جب کوئی کسی کی پکار کو سنے گا نہیں تو اس کو جواب کیا دے گا خواہ وہ قیامت تک پکارتا رہے۔ اللہ کے سوا جن کو پکارا جاتا ہے یا تو وہ مٹی ، پتھر یا لکڑی کے بت ہوتے ہیں جو روح اور عقل و شعور سے ویسے ہی خالی ہیں۔ لہٰذا ان کے کسی کی پکار کو سننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس کی مثال اللہ نے سورة الرعد میں بیان فرمائی ہے کہ غیر اللہ کو پکارنے کی مثال ایسی ہے کباسط کفیۃ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغہ (آیت 14) کہ کوئی شخص دریا کے کنارے کھڑے ہو کر پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے کہ اس کے منہ میں چلا جائے مگر ایسا کبھی نہ ہوگا۔ جب تک کہ انسان خود پانی کو اٹھا کر اپنے منہ میں نہیں ڈالے گا۔ غیر اللہ کو پکارنا بھی ایسا ہی ہے کہ قیامت تک پکارتے رہو۔ وہاں سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جن کو پکارا جا رہا ہے وہ جن ، فرشتے یا انسان میں سے انبیائ ، اولیاء یا شہدا ہوں۔ یہ لوگ تو اپنی طبعی عمر پوری کر کے اللہ کے ہاں بہشتوں میں پہنچ چکے ہیں۔ اب اگر کوئی اس دنیا میں کھڑا ہو کر پکارتا ہے تو وہ اتنی دور سے اس کی پکار کیسے سن لیں گے ؟ فرشتوں کے متعلق سورة سبا میں موجود ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو اکٹھا کریگا تو فرشتوں سے پوچھے گا اھولآ ایاکم کانوا یعبدون (آیت 40- ) کیا یہ لوگ دنیا میں تمہاری پوجا کرتے تھے تو وہ فرشتے جواب دیں گے کہ پروردگار ! تو پاک ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے ان کے سوا یہ لوگ تو جنات کی پوجا کرتے تھے ۔ مطلب یہ کہ فرشتے بھی مشرکوں کی پکار کا انکار کردیں گے۔ غرضیکہ جانداروں کے متعلق سورة فاطر میں موجود ہے کہ مشرک لوگ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ تو گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں۔ اگر تم ان کو پکارو لایسمعوآ دغآء کم ولو سمعوا ما استجابوالکم (آیت 140) تو وہ تمہاری پکار کو سنتے ہی نہیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت والے دن وہ تمہارے اس شرک سے انکار کردیں گے۔ الغرض ! اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارا جائے وہ مشکل کشائی اور حاجت روائی کی طاقت نہیں رکھتے کیونکہ آن القوۃ للہ جمیعاً (البقرۃ 65- ) طاقت تو ساری کی ساری خدا تعالیٰ کے پاس ہے اور مخلوق کے پاس جو قوت ہے وہ اللہ کی عطا کردہ ہے اور عارضی ہے ، اللہ جب چاہے اسے سلب کرنے پر قادر ہے ، اسی لئے فرمایا کہ اس شخص سے زیادہ کون گمراہ ہو سکتا ہے جو قادر مطلق ذات کو چھوڑ کر دوسروں کو مدد کے لئے پکار رہا ہے۔
معبودان کی طرف سے انکار
پھر فرمایا واذا حشر الناس جب قیامت والے دن سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔ کانوا لھم اعدآء ً تو وہ (معبود) ان (عابدوں) کے دشمن بن جائیں گے۔ وکانوا بعبادتھم کفرین اور ان عابدوں کی عبادت سے انکار کردیں گے کہ ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ ہماری عبادت کیا کرو۔ تم تو شیطان کے نقش قدم پر چل کر اس حالت پک پہنچے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے بھی سوال ہوگا کہ کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ؟ وہ بھی جواب دیں گے۔ پروردگار ! مایکون لی ان اقول مالیس لی حق (المائدہ 116- ) یہ میرے لئے کیسے ممکن تھا کہ میں ایسی بات کترا جس کا مجھے حق نہیں پنچتا۔ میں نے تو انہیں وہی کچھ کہا تھا جس کا تو نے مجھے حکم دیا ، بای سب ان کی اپنی کرتوتیں ہیں جن کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ اسی طرح فرشتے بھی اپنی عبادت سے انکار کردیں گے اور مشرکوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ الغرض ! اپنی حاجات میں صرف اللہ کو پکارنے کا حکم دیا گیا ہے جیسے فرمایا فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین (المومن 40) پس اللہ کو پکارو اس حال میں کہ خلاص اسی کی اطاعت کرنے والے ہو۔
آیات الٰہی کا انکار
فرمایا ان بدبختوں کا اس وقت یہ حال ہے واذا تتلی علیھم آیتنا بینت کہ جب ہماری واضح آیتیں ان پر پڑھی جاتی ہیں قال الذین کفروا للحق لما جآء ھم ھذا سحرمبین تو جن لوگوں نے حق آجانے کے بعد اس کا انکار کردیا ، وہ کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے ، العیاذ باللہ ہر زمانے کے کافروں اور مشرکوں کا یہی شیوہ رہا ہے کہ جب بھی انہوں نے حق کی تاثیر دیکھی۔ کتاب الٰہی کی تاثیر دیکھی یا کوئی معجزہ کارگر بنوا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے جو پہلے بھی چلتا تھا۔ آج بھی چل رہا ہے۔ مشرکین مکہ اور عرب کے متعلق بھی فرمایا کہ جب ان کے سامنے ہماری واضح واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اسے جادوگر کو انکار کردیتے ہیں اور حق کو قبول کرنے کی بجائے باطل رسوم بلکہ شیطان کے نقش قدم پر ہی چلتے رہتے ہیں جو انہیں ان کے تمام اعمال فاسدہ اور عقائد باطلہ مزین کر کے دکھاتا ہے اور کہتا ہے کہ انہی پر چلتے رہو کہ یہی تمہارے آبائو اجداد کا دین ہے اور اسی پر تمہاری عزت اور فلاح کا دار و مدار ہے۔
Ayahs 46:8–10کلام الٰہی میں انتباہ
آج کے درس کی پہلی آیت گزشتہ درس کی آخری آیت سے مربوط ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب کفار کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتیں تو وہ ان کے اثر کے اعتبار سے کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے اب اللہ نے فرمایا ہے کہ ان بدبختوں نے اس سے بھی بری بات کی ہے اور وہ یہ کہ ام یقولون افترئہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کلام کو گھڑ لیا ہے گویا قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کا خود ساختہ ہے نعوذ باللہ مگر اللہ نے اس کی تردید فرمائی اور اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا ۔ قل آپ کہہ دیجیے ان افترینہ فلا تملکون لی من اللہ شیئاً کہ اگر میں نے اس کو غصہ لیا ہے تو پھر تم میرے لئے اللہ کے سامنے کسی چیز کے مالک نہیں ہو۔ مطلب یہ کہ قرآن پاک کو خود بنا کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کے مرتکب کو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت سے چھڑا نہیں سکات۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس الزام سے قطعاً انکار کردیا کہ میں ایسے بڑے جرم کا ارتکاب کرسکتا ہوں۔ فرمایا تمہارے اس الزام کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ ھم اعلم بما تفیضون فیہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ان باتوں کو جن کے اندر تم گھسے جاتے ہو تمہاری اسی غلط بیانی اور الزام تراشی کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے آپ نے اپنی پاکدامنی کے لئے اپنی چالیس سالہ زندگی کو بطور نمونہ پیش کیا اور فرمایا فقد لثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون (یونس 16- ) میں نے اس سے قبل عمر کا ایک کافی حصہ تم میں گزارا ہے ، کیا اس دوران میں منے میری زبان سے کبھی جھوٹ سنا ہے اب جب کہ بڑھاپے کی منزل آ رہی ہے تو کیا میں یکایک جھوٹ بولنے لگ جائوں گا کہ قرآن پاک خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کر دوں گا ذرا عقل کی بات کرو کہ اب میں ایسا کیوں کروں گا ؟ فرمایا تمہاری ان الزام تراشیوں اور غلط باتوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ خود تم سے اس معاملہ میں نپٹ لے گا۔
آپ کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے مزید کہلوایا کفی بہ شھیدا بینی وبینکم میرے اور تمہارے درمیان اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ ہی گواہ کافی ہے وہ جانتا ہے کہ میں اسی کا فرستا وہ سچا رسول ہوں اور میں جھوٹ نہیں بولتا کسی پر افترا باندھنا تو بہت ہی بری بات ہے اور جو خدا پر جھوٹ باندھے گا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری غلط بیانی اور میری صداقت پر گواہ ہے وھو الغفور الرحیم اور وہ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ افترا جیسے بڑے جرم کے مرتکب کو بھی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے۔ اس مہلت سے تم یہ نہ سمجھو کہ وہ تمہاری گرفت پر قدرت نہیں رکھتا بلکہ وہ جب چاہے گا تمہیں چرائے گا اور ہلاک کر دے گا یہ قرآن کی حقانیت کا بیان ہوگیا۔
سلسلہ نبوت و رسالت
چونکہ کافر اور مشرک لوگ نبوت اور رسالت کا بھی انکار کرتے تھے اس لئے ا گلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو بھی حل فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں ما کنت بدعا من الرسل کہ میں کوئی نیا اور انوکھا رسول نہیں ہوں کہ میں اولین رسول ہوں اور مجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا جس کی وجہ سے میں تمہیں اوپر محسوس ہوتا ہوں۔ نہیں بلکہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول آ چکے ہیں اور میں تو اس سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہوں۔ مجھ سے پہلے آنے والے رسولوں نے بھی اللہ کی وحدانیت وقوع قیامت اور جزائے عمل کا درس دیا اور میں بھی یہی تعلیم لے کر آیا ہوں ، پھر تم میری باتوں کو عجیب کیوں سمجھ رہے ہو۔ اللہ کا فرمان ہے ۔ انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوج والنبین من بعدہ (النسآء 163- ) ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی جیسے نوح (علیہ السلام) اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء پر کی مطلب یہ کہ آپ کوئی انوکھے رسول نہیں میں بلکہ آپ سے پہلے بھی بہت سے انبیاء اور رسل مبعوث ہوئے اور اللہ نے ان پر وحی بھی نازل فرمائی۔ نبوت و رسالت کا سلسلہ تو قدیم سے چلا آ رہا ہے اور حضو رختام النبین ﷺ اس سلسلہ کی آخری کڑی ہیں۔ لہٰذا آپ کی نبوت و رسالت کو تسلیم کرتے ہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔ اسی لئے فرمایا کہ آپ ان کفار و مشرکین سے کہہ دیں کہ میں کوئی نیا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں جو تم مجھ سے بدکتے ہو۔
علم غیب کی نفی
آیت کے اگلے حصے میں حضور ﷺ نے اپنے عالم الغیب ہونے کی نفی فرما دی ہے۔ اللہ نے فرمایا آپ یہ بھی کہہ دیں ومآ ادری ما یفعل بی ولابکم اور میں نہیں جانتا کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا یعنی کس قسم کے حالات و واقعات پیش آنے والے ہیں۔ مجھے ان کا کچھ علم نہیں۔ شاہ ولی اللہ نے اس کو اس طرح سمجھایا ہے کہ مجھے کچھ علم نہیں کہ دنیا میں میرے اور تمہارے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے ظاہر ہے کہ اللہ کے اکثر انبیاء کو بڑی بڑی تکالیف پہنچائی گئیں تھی تو بہت سے انبیاء کو قتل کیا گیا۔ لہٰذا مجھے کچھ علم نہیں کہ آئندہ زندگی میں مجھے کن حالات سے گزرنا پڑے گا جہاں تک نافرمان قوموں کا تعلق ہے تو ان کو بھی طرح طرح کی سزائیں دی گئیں کسی پر زلزلہ آیا ، کسی پر چیخ مسلط کی گئی ، کسی کو طوفان نے آگھیرا اور کوئی قوم پانی میں غرق ہوئی۔ لہٰذا فرمایا کہ مجھے تمہارے متعلق بھی کچھ علم نہیں کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔
اس آیت کریمہ میں تو بالواسطہ علم غیب کی نفی کی گئی ہے تاہم دیگر آیات میں حضور ﷺ کے عالم الغیب ہونے کی صراحتاً نفی بھی موجود ہے۔ سورة یونس میں ہے کہ کافر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ لیہ السلام پر آپ کے پروردگار کی طرف ہے کوئی نشانی کیوں نہیں اترتی تو اللہ نے فرمایا فقل انما الغبب اللہ (آیتۃ) غیب تو سارا اللہ کے پاس ہے تم بھی انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔ اسی طرح سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان سے کہلوا ای ہے کہ تو میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ولا اعلم الغیب (آیت 50- ) اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں سورة الاعراف میں اس بات کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ میں اپنی جان کے لئے کسی نفع ، نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے ونزکنت ان الغیب لا ستکثرت من الخیر وما مسنی السوآء (آیت 188- ) اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو اپنے لئے بہتری کی بہت سی چیزیں جمع کرلینا اور مجھے کوئی تکلیف بھی نہ پہنچتی مگر ایسا نہیں ہے ، نہ تو میں نے اپنے لئے کوئی پیشگی منصوبہ بندی کی ہے اور نہ ہی میں تکالیف سے بچ سکا ہوں۔ مطلب یہ کہ میں غیب کا علم نہیں رکھنا۔
علامہ مشرقی نے ما ادری ما یفعل بی ولابکم کا غلط مطالب لیا ہے گویا کہحضور ﷺ کو دنیا میں پیش آنے والے حالات کے علاوہ آخرت میں اپنی نجات کا بھی علم نہیں تھا یہ تو بالکل ہی غلط بات ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو نبوت و رسالت کے لئے منتخب فرماتا ہے تو اسے اپنی نجات کا قطعی یقین ہوجاتا ہے کیونکہ نبوت سے بڑھ کر کوئی منصب نہیں۔ اس کے علاوہ جس کو اللہ کا نبی بشارت دے دیتا ہے وہ شخص بھی قطعی ناجی ہوتا ہے چناچہ عشرہ مبشرہ اور بعض دیگر صحابہ کرام قطعی جنتی ہیں کیونکہ آپ نے ان کو اس دنیا میں ہی جنتی ہونے کی بشارت سنا دی ، چناچہ جب علامہ مشرقی نے اس قسم کا مفہوم لیا تھا تو علمائے کرام نے اسی وقت تعاقب کر کے وضاحت کردی تھی کہ اللہ کے نبی کو جنتی ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔ البتہ عام امتیوں میں سے کسی شخص کے متعلق کوئی جنتی ہونے کا فتویٰ نہیں دے سکتا اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس بات کا علم وحی الٰہی کے سوا حاصل نہیں ہو سکتا جو کہ صرف نبی پر آتی ہے۔
اتباع وحی
حضور ﷺ نے قوم پر یہ بھی واضح کردیا ان اتبع الا مایوحی الی میں نہیں اتباع کرتا مگر اس چیز کا جو میری طرف وحی کی جاتی ہے پیغمبر کے علاوہ عام امتیوں کے لئے بھی یہی حکم ہے اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم (الاعراف 30) اسی چیز کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کی گئی ہے اس کے علاوہ دوسری اناب شناب چیزوں کی پیروی نہ کرو۔ فرمایا وما انا الانذیر مبین میں تو صرف کھول کر ڈر سنانے والا ہوں تمہیں برئای کے انجام سے واضح طور پر آگاہ کردیتا ہوں اور نیکی ، ایمان ، تقویٰ اور طہارت کے اچھے انجام کی خوشخبری سنا دیتا ہوں میں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تم تک پہنچاتا ہوں جو میری طرف وحی کے ذریعے آتا ہے۔ لہٰذا تمہارا یہ کہنا کہ میں نے خود قرآن کو گھڑ لیا ہے ، بڑی ہی غلط بات ہے۔ اللہ کا فرمان ہے ۔ ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لفطعنا منہ الوبین (سورۃ الحآقہ) اگر یہ رسول ہمارے ذمہ کوئی جھوٹ بات بنا کر لاتے تو ہم اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے اور پھر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے مقصد یہ کہ میں تو حی الٰہی کا صرف اتباع کرتا ہوں اس کو خود نہیں بناتا۔
قرآن کی حقانیت پر شہادت
اگلی آیت میں یہی بات اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے انداز میں سمجھائی ہے۔ قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں ارئیتم ان کان من عند اللہ اجلا بتلائو کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہو وکفرتم بہ اور جس کا تم انکار کر رہے ہو ، تو پھر تمہاری اس الزام تراشی کا کیا انجام ہوگا ؟ ایسی صورت میں تم اللہ کی گرفت سے کیسے بچ سکو گے ؟ حقیقت یہ ہے وشھد شاھدمن بنی اسرائٓیل علی امثلہ کہ اس کتاب کی حقانیت کے متعلق بنی اسرائیل میں سے بھی ایک گواہ گواہی دے چکا ہے مگر تم پھر بھی اللہ کی کتاب کا انکار کئے جا رہے ہو۔ آخر تمہارے پاس اس اناکر کی کیا دلیل ہے ؟
علی و مثلہ کے متعلق بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر لفظ آنا ہے اور سیدھا سادھا معنی یہی ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شاہد نے اس کتاب پر شہادت پیش کی ہے اور مثل کو برقرار رکھا جائے گا تو اس کی مثل سے تورات مراد ہو سکتی ہے ، کیونکہ یہ قرآن کی مثل ہی ایک عظیم الشان آسمانی کتاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ تورات میں بھی قرآن کی حقانیت کی گواہی موجود ہے۔ لہٰذا تمہارے پاس انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ خبردار ہو کہ اگر یہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے تو پھر تمہارے برے انجام میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا۔
بنی اسرائیل کا شاہد
یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر بنی اسرائیل میں کسی شخص نے قرآن کے حق میں گواہی دی ہے تو وہ کون ہے ؟ بعض فرماتے ہیں کہ اس شاہد کا مصداق حضرت عبداللہ بن سلام ہیں جو علمائے یہود میں سے ایمان لائے۔ آپ ہی نے حضور ﷺ کی رسالت اور قرآن پاک کے حق میں گواہی دی تھی۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب حضور ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت عبداللہ بن سلام ایک مجلس میں حضور ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت عبداللہ بن سلام ایک مجلس میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ چونکہ آپ تورات کا علم رکھتے تھے آپ نے حضور ﷺ کو ایک نظر دیکھ کر ہی پہچان لیا کہ یہ وہی شخصیت ہے جس کی پیشین گوئی تورات میں دی گئی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ روشن چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ چناچہ آپ اسی وقت ایمان لے آئے۔
مگر یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سورة تو مکی دور میں نازل ہوئی جبکہ مذکورہ واقعہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں پیش آیا۔ اس ضمن میں بعض فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ آیت مدنی دور میں نازل ہوئی ہو اور حضور ﷺ نے اسے مکی سورة میں رکھ دیا ہو کہ اس قسم کے بعض دوسرے شواہد بھی ملتے ہیں۔ تاہم زیادہ مشہور بات یہی ہے کہ یہ ساری کی ساری سورة مکی دور میں نازل ہوئی۔ لہٰذا اس کے مصداق عبداللہ بن سلام نہیں ہو سکتے۔
بعض کہتے ہیں کہ مذکورہ شہادت کا واقعہ مکہ میں ہی پیش آیا تھا۔ جب حضور ﷺ نے دین حق کی تبلیغ شروع کی تو اہل مکہ سخت مخالف ہوگئے اور انہوں نے آپ کی رسالت کا انکار کردیا۔ مکہ میں باہ رسے بھی لوگ آتے جاتے تھے اور مکہ والے بعض اوقات حضور کی رسالت کے متعلق ان سے بھی رائے لے لیتے تھے چناچہ ایک یہودی عالم کسی کام سے مکہ میں آیا تو قریش نے اس سے دریافت کیا کہ تمہارا اس مدعی نبوت کے متعلق کیا خیال ہے ؟ تو اس عالم نے بتایا کہ آخری نبی کی آمد کا ذکر سابقہ کتب میں موجود ہے اور قرائن بتلاتے ہیں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کی آمد کی پیشین گوئیاں سابقہ کتب میں موجود ہیں۔ گویا اس یہودی عالم نے آپ کی رسالت کی تصدیق کردی اور اس سے وہی شاہد مراد ہے جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس شاہد کا مصداق نہ تو حضرت عبداللہ بن سلام ہیں اور نہ کوئی دوسرا یہودی عالم ہے بلکہ اس کا مصداق خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کی آمد کی بشارت سنئای جیسا کہ سورة صف میں ہے کہ انہوں نے فرمایا اے نبی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں ، میں سابقہ کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں ومبشرآء برسول یاتی من ابعدی اسمہ احمد (آیت 60) اور میں بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک عظیم ا لشان رسول آنے والا ہے جس کا نام احمد ہوگا۔ اس طرح گویا عیسیٰ (علیہ السلام) نے حضور ﷺ کی آمد سے چھ سو سال پہلے آپ کی رسالت کی تصدیق کردی اور بنی اسرائیل کے شاہد سے آپ ہی مراد ہیں۔
اہل مکہ کا انکار
اللہ نے فرمایا کہ بنی اسرئایل کے ایک شاہد و تصدیق کی فامن اور وہ حضور ﷺ ک ینبوت و رسالت پر ایمان لایا وا ستکبرتم مگر اے اہل مکہ ! تم تکبر کر رہے ہو اور اسی تکبر کی وجہ سے حضور ختام النبین ﷺ اور آپ پر نازل ہونے والی اللہ کی آخری کتاب کا انکار کر رہے ہو تاریخ عالم گواہ ہے کہ ہر نبی کے اولین متبعین میں غریب اور کمزور لوگ ہی ہوئے ہیں جب کہ امراء نے اپنے غرور وتکبر اور چوہداراہٹ کی وجہ سے اکثر انکار ہی کیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے نبی کی نبوت کو تسلیم کرلیا تو ہماری سیادت ختم ہوجائے گی لہٰذا وہ اپنی صد اور عناد پر ہی اڑے رہے ۔ پھر آخر میں جب کوئی چارہ کار نہ رہا تو بادل نخواستہ ایمان لائے۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ان اللہ لایھدی القوہ الظلمین بیشک اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔ ظالم شخص وہ ہے جو بالفعل ظلم کر رہا ہے۔ یعنی کفر و شرک کا ارتکاب کر رہا ہے اور اس کو چھوٹنے کے لئے بھی تایر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہدایت اس وقت دیتا ہے جب کوئی شخص علوم ہو کر ظلم ترک کر دے اور سچا وعدہ کرتے کہ پھر وہ ایسا کام نہیں رے گا۔ وہ اسی چیز کا نام توبہ ہے جب اللہ تعالیٰ کسی ظالم کی توبہ قبول کرلیتا ہے تو پھر اس پر ہدایت کار راستہ بھی واضح کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ والذین جاھترا فینا لنھدینھم سبلنا (العنکبوت 69- ) جو شخص براہ رسات کے حصول کے لئے محنت اور کوشش کرتا ہے ، ہم اس پر ہدایت کا راستہ کھول دیتے ہیں اس کے برخلاف جو شخص کفر ، شرک ، مصعیت ، ظلم و زیادتی پر مصر رہتا ہے ، اس کو کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور وہ ہمیشہ کے لئے ناکام ہوجاتا ہے۔
Ayahs 46:11–14ربط آیت :
گزشتہ آیات میں قرآن حکیم کی حقانیت وصداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ رسالت ونبوت کے متعلق شک کرین والوں کی تردید تھی اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان کفار ومشرکین سے کہہ دیں کہ میں کو فی انوکھا اور نیا رسول تو نہیں ہوں ، مجھ سے پہلے بھی اللہ کے رسول آتے رہے ہیں اور میں تو سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہوں مجھے ان تفصیلی حالات کا علم نہیں جو آئندہ زندگی میں میرے اور تمہارے ساتھ پیش آنے والے ہیں ، میرا کام تو اتباع وحی اور تمہیں کھول کر ڈرسنانا ہے ، فرمایا یاد رکھو ! کہ اگر یہ قرآن پاک اللہ کی جانب سے ہو اور تم اس کے منکر ہو حالانکہ بنی اسرائیل میں سے ایک معتبر گواہ نے اس کی صداقت کی گواہی بھی دے دی ہے ، وہ تو ایمان لاچکا ہے اور تم غرور وتکبر کی بناء پر انکار کررہے ہیں تو پھر بتلائو تمہارا کیا حشر ہوگا اور تمہارے اس تکبر کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا ، فرمایا اگر زیادتی پر ڈٹے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تم جیسے ظالموں کو راہ راست سے محروم ہی رکھے گا ۔
کفار ہ زعم میں :
اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وقال الذین کفروالذین امنو اور کہا کفر کرنے والوں نے ایمان لانے والوں سے لو کان خیرا ما سبقونا الیہ اگر دین اسلام واقعی بہتر ہوتا تو یہ و غریب غربا لوگ اس کو اختیار کرنے میں ہم سے سبقت نہ لے جاتے اس کی طرف جب مشرک اور کافر لوگ دیکھتے کہ چند ناوار لوگ ، کچھ غلام ، لونڈیاں اور کچھ مفلوک الحال لوگ ایمان سے بہتر اور ہو رہے ہیں تو کہے کہ اگر اسلام سچا دین ہوتا تو یہ کمزور قسم کے لوگ اختیار نہ کرتے بلکہ ہم صاحب حیثیت لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ، وہ اپنے زعم باطل کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح ہم اس دنیا میں خوشحال ہیں ، ہمارے پاس مال و دولت کوٹھیاں ، کاریں ، اور نوکر چاکر ہیں ، اسی طرح قیامت کو بھی ہم ہر طرح سے سرخرو ہوں گے اور ہمیں تمام آسائشیں وہاں بھی میسر ہوں گی ، جب کہ یہ غریب غربا لوگ وہاں بھی اسی کمزور حالت میں ہوں گے ، اس لحاظ سے وہ کہتے کہ اگر آخرت کا کوئی جہان سے اور وہاں آرام و آسائش کی ضرورت ہے جو دین اسلام اختیار کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے تو پھر ہم اس دین کو اختیار کرنے میں پہل کرتے نہ کہ یہ غریب لورنادار لوگ ، ابو جہل کی ایک لونڈی ضمیر ؓ کو اللہ نے ایمان کی دولت نصیب فرمائی تو مشرک لوگ کہنے لگے کہ اگر اسلام ایسے ہی حقیر لوگوں کا حصہ ہے تو پھر ہم اس سے باز آئے ، ایسے اسلام کو قبول کر کے ہمیں کیا ملے گا ؟ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ کفار ومشرکین کا یہ زعم باطل تھا اور اسی کی بنا پر وہ ہدایت سے محروم رہے ۔
فرمایا واذلکم بھتدوابہ اور جب انہوں نے یہ ہدایت نہ پائی ، فستقولون ھذا فک د یم تو کہنے لگے کہ یہ تو پرانامن گھرٹ جھوٹ ہے لوگ پہلے بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرف اپنے نبی بھیجتا ہے جو انہیں تبلیغ دین کرتے ہیں ، پھر ایک وقت آئے گا ، جب قیامت برپا ہوگی ، تمام مردے زندہ ہوجائیں گے ، جزائے عمل کی منزل آئے گی اور پھر دوزخ اور جنت کے متعلق فیصلے ہوں گے ، ایسی ہی باتیں یہ بھی کرتے ہیں مگر ہم نے تو آج تک کسی کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا ، نہ محاسبہ اعمال کی منزل آئی ہے اور نہ ہی کسی نے جنت اور دوزخ کو دیکھا ہے ، یہ سب من گھڑت جھوٹ ہے ، نعوذ باللہ ، اللہ نے ان باطل خیالات کا رد فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہ دنیا کا مال و دولت یا جاہ واقتدار ہونا کسی شخص کے ہر لحاظ سے بہتر ہونے کی دلیل نہیں ، بلکہ بہتری کی دلیل ایمان ، توحید ، اخلاق اور فکر کی پاکیزگی ہے جس کو یہ چیزیں حاصل ہوگئیں وہ ان شاء اللہ کامیاب ہوجائے گا ، اللہ تعالیٰ بعض اوقات ظاہر ی طور پر اچھے حالات والوں کو بھی نواز دیتا ہے مگر یہ ان کے بہتر ہونے کی دلیل نہیں ہے ، دائمی فلاح کی دارومدار ایمان ، نیکی اور اعمال صالحہ پر ہی ہے ، حضور ﷺ کے اولین جان نثاران اکثر کمزور لوگ تھے مگر وہ ایمان میں پختہ تھے ، ایمان ، اخلاق اور اعمال صالحہ میں پڑھے ہوئے تھے اور یہی لوگ بعد میں آنے والوں کے لئے نمونہ بنے ۔
بدعت کی تعریف :
امام ابن کثیر ؓ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے ، کل فعل وقول لم یثبت عن اللہ مابۃ انہ ھو بدعۃ یعنی ہر وہ فعل یا قول جو صحابہ کرام ؓ سے ثابت نہ ہو وہ بدعت ہے ، اگر یہ کوئی اچھی چیز تو صحابہ کرام ؓ اس میں ضرور سبقت کرتے کیونکہ لم یترکو خصلہ من خصال خیر الا وقد بادر والیھا بہتری کی کوئی خصلت ایسی نہیں جس کی طرف صحابہ ؓ نے سبقت نہ کی ہو ، لہٰذا بعد کی تمام دین میں ایجاد شدہ چیزیں بدعات میں شمار ہوتی ہیں ۔
امام ابو دائود نے سنن ابو دائود کی کتاب السنہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کا واقعہ نقل کیا ہے ، آپ کے متعلق حضرت سماک بن حرب تابعی کا بیان ہے کہ آپ کا شمار خلفائے راشدین میں ہوتا ہے ، پہلے چارخلفائے راشدین یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان غنی (رح) اور حضرت علی ؓ تو معروف ہیں مگر حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ اس لحاظ سے ان میں شامل ہیں کہ آپ کی خلافت بھی خلفائے راشدین کے نمونہ کے عین مطابق تھی ، بہرحال حضرت سماک (رح) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کے سلسلہ تقدیر کے مسئلہ پر بحث کی تو آ نے فرمایا کہ بھائی ایسی بات مت کرو جو صحابہ کرام ؓ کے نزدیک صحیح نہیں ہے آپ نے یہ بھی فرمایا فارض لنفسک مارضی بد القوم جس چیز پر صحابہ کرام ؓ راضی تھے تم بھی اسی پر راضی ہو جائو لا نھم علی علم وقفو ا وبیصر نا فذ کفو والھم علی کشف الامور کانو اقوی کیونکہ وہ لوگ علم پر مطلع تھے ، یعنی ان کا علم گہرا اور صحیح تھا ، انہوں نے براہ راست مشکوۃ نبوت سے تعلیم پائی تھی ، بعد والوں کا علم صحابہ ؓ کے علم کو نہیں (رح) پہنچ سکتا ، اور ان کی بصیرت بڑی نافذ تھی ، اور وہ مشکل امور کو کھولنے میں بڑے طاقتور تھے ، یعنی مشکل مسائل کے حل کرنے کا انہیں ملکہ حاصل تھا ، اور جو فضیلت ان میں پائی جاتی تھی وہ اس کے بہت زیادہ لائق تھے ۔
حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر صحابہ کرام ؓ کی باتیں ہدایت ہیں اور تمہاری یہ ایجاد کردہ باتیں ہدایت نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی نسبت تم نے بہتری کی طرف سبقت کی ہے ، اور اس آیت کی روح سے تمہارا دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ بہتری کی طرف سبقت کرنے والے صحابہ کرام ؓ تھے ، نہ کہ تم ، فرمایا کہ اگر تم یہ استدلال پیش کرو کہ صحابہ کرام ؓ کے بعد بہت سے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں تو یہ نئے مسائل نکالنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو صحابہ کرام ؓ کے راستے پر نہیں چلے بلکہ انہوں نے غیر سبیل المومنین یعنی مومنوں کے علاوہ دوسرے راستے کا اتباع کیا ہے جو کہ ان کا خود ساخہ راستہ ہے ، فرمایا بہتری میں سبقت کرنے والے صحابہ کرام ؓ ہی تھے ، جو کچھ انہوں نے کلام کیا ہے ، اس میں کفایت تھی اور جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے اس میں شفا تھی اور جو شخص ان سے درے رہے گا ، اس میں تفریط ہوگی اور جو ان سے آگے نکلے گا ، وہ افراط اور غلو میں پڑجائے گا ، کیونک کہ صرا ط مستقیم پر صحابہ کرام ؓ ہی تھے ، انھم لعلی ھدی مستقیم وہ سیدھی ہدایت پر تھے ، گویا صحابہ کرام ؓ بعد میں آنے والوں کے لئے معیار قرار پائے ۔
الغرض ! مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ وہ کافر اور مشرک غلطی پر ہیں ، جو اہل ایمان کو اپنے آپ سے کم تر سمجھتے ہیں اور اپنی حالت کو بہتر جانتے ہیں ، یہ لوگ قرآن کی اس آیت کے خلاف کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ کے نزدیک اہل ایمان ہی بہتری کی طرف سبقت کرتے ہیں ، نزول قرآن کے زمانہ کے کفار ومشرکین بھی اپنی اسی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہلاک ہونے اور جو لوگ آج بدعات رائج کر کے صحابہ کرام ؓ سے سبقت کرنا چاہتے ہیں ، وہ بھی سابقہ مشرکین کے نقش قدیم پر چل رہے ہیں جو اپنے فاسد عقائد و اعمال کو ہی بہتر سمجھتے ہیں ۔
قرآن کی حقانیت :
ارشاد ہوتا ہے دیکھو ! ومن قبلہ کتب موسیٰ اماما ورحمۃ اس قرآن سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی جو پیشوا اور رحمت تھی ، ہر آسمانی کتاب امت کی راہنمائی کرنے والی ہوتی ہے اور اپنے ماننے والوں کے لئے رحمت کا باعث بنتی ہے ، یہی صفات اللہ کی آخری کتاب قرآن پاک میں بھی پائی جاتی ہیں ، اور پھر اس کی ایک اضافی صفت یہ ہے کہ ھذا کتب مصدق کہ یہ سابقہ کتب کی تصدیق کنندہ ہے ، قرآن پاک سابقہ کتب سماویہ زبور ، تورات اور انجیل کی حقانیت کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ کتابیں اپنے اپنے ادوار میں لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوئیں ، اسی طرح ان کتب سابقہ کے حاملین انبیاء اور دیگر تمام انبیاء بھی لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے ، فرمایا لسا ناعربتا اللہ نے یہ کتاب عربی زبان میں نازل فرمائی ہے کیونکہ نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ کی قوم کی زبان عربی ہے ، اور اس قرآن کے نزول کا ایک مقصد یہ ہے ، لینذر الذین ظلمو ، تاکہ یہ ظلم کرنے والوں کو ڈرسنا دے ، ظلم میں سب سے پہلے کفر اور شرک آتے ہیں ، پھر کبا نر ، لمغائر اور برائی کے دیگر کام ہیں ، تو گویا قرآن حکیم ہر برے عقیدے اور برے افعال انجام دینے والوں کو ان کے انجام بد سے ڈراتا ہے ، اور پھر یہی نہیں بلکہ وبشری للمحسنین اللہ کا یہ کلام نیکی کرنے والوں کو ان کے اچھے انجام کی خوشخبری بھی دیتا ہے ، جو شخص ایمان قبول کر کے نیکی کا راستہ اختیار کرے گا ، اپنی فکر کو صحیح بنائے گا ، خالص توحید کا قائل ہوگا ، کفر ، شرک اور نفاق سے بیزار ہوگا ، اس کے لئے خوشخبری ہے ان لھم قدم صدق عند ربھم (یونس ۔ 2 ) کہ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں سچائی کا پایا ہے ، نیز فرمایا فی مقعد صدق عند ملیک مقتدب (القمر ۔ 55) خدا تعالیٰ کے ہاں ان کے بیٹھنے کے لئے عزت کے مقام ہوں گے ، خدا تعالیٰ کی خاص مہر بانئی ان کے شامل ہوگی ، یہ قرآن کی حقانیت بھی ہوگئی ۔
توحید پر ثابت قدمی :
اس کے بعد اللہ نے استقامات علی الدین کا مشکل مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔
ان الذین قالو ربنا اللہ وتحقیق وہ لوگ کہ جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے ہم اسی کی توحید کو مانتے ہیں ، اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے ، نہ مالک ، نہ علیم کل نہ قادت مطلق ، وہی ہر چیز کو بتدریخ ، حد کمال تک پہنچاتا ہے ، مطلب یہ کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ربوبیت کا اقرار کیا ، ثم استقامو پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے ، استقامت کا ذکر پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے ، حضور ﷺ کو بھی یہی حکم ہوا واستقم کما امرت (الشوری ۔ 15) کہ آپ اور آپ کے پیروکار بھی اللہ کے حکم کے مطابق مستقیم میں شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں اطلبو الا ستقامۃ ولا تطلبوا والکرامۃ استقامت تلاش کروں کہ کرامتیں ڈھونڈتے پھرو ، اکثر لوگ ڈانواں ڈول رہتے ہیں ، ذرا ذراسی بات پر پھیل جاتے ہیں ، شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، یا باعات کو اپنا لیتے ہیں ، معمولی سی بات پر ایمان تک بیچ دیتے ہیں اور اس کے بدلے میں دنیا کا حقیر متاع خرید لیتے ہیں ، اسی لئے اللہ نے قرمان کو دین میں استقامت اختیار کرو ، اور سچے رہو ، ایک صحابی ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے مختصر سا کلمہ بتا دیں جو میرے لئے کافی ہو ، فرمایا قل امنت باللہ ثم استقیم علیہ کہہ دو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر ثابت قدم رہو ۔
فرمایا جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر مستقیم رہے ، فلا خوف علیھم ایسے لوگوں پر کوئی خوف نہیں ہوگا ، یعنی اگلے جہاں کی دائمی زندگی کے متعلق وہ مطمئن ہوں گے اور وہ کسی ڈر اور خوف میں مبتلا نہیں ہوں گے ، اللہ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے کا والا ھم یخزنون اور نہ ہی انہیں گزشتہ زندگی کے متعلق کوئی غم لاحق ہوگا کہ انہوں نے اسے ضائع کردیا اور زندگی جیسی قیمتی پونجی کو لہو ولعب میں گنوادیا ، بہر حال خوف آنے والے زمانے کے متعلق ہوتا ہے اور غم سابقہ دور کی غلط کا کر دگی پر ہوتا ہے ، اللہ نے فرمایا کہ دین پر استقامت رکھنے والوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ ایک دور ایسا آئے گا کہ دین پر چلنا اس قدر دشوار ہوجائے گا جیسے جلتے ہوئے کوئلوں کو ہاتھ میں پکڑنا ، آج دیکھ لیں دنیا میں کیا ہو رہا ہے ؟ ہر طرف عریانی ، فحاشی ، لہو و لعب ، بد کلامی ، فحش گانے اور پھر فلمیں بھیجی ہوئی ہیں ، برے عقائد ، برے فلسفے ، بدعات ، کفر اور شرک کی بھرمار ہے ، پانچ ارب کی آبادی میں سے ایک ارب بھی اہل ایمان نہیں ملے گے ، تاہم جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر استقامت اختیار کی ، ان کے متعلق فرمایا اولئیک اصحب الجنۃ یہی لوگ جنت والے ہیں خلدین فیھا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی کہیں نہیں جائیں گے اور نہ ہی ان کے انعامات میں کمی واقع ہوگی ، جزاء کما کما نو یعملون یہ ان کے نیک اعملا کا بدلہ ہوگا ، فتنہ و فساد کے زمانہ میں تھوڑی نیکی کرنیوالوں و بھی زیادہ اجر ملتا ہے ، تو استقامت علی الدین اختیار کرنے والوں کا بدلہ ہمیشہ کی جنت ہوگا ، جہاں انہیں ہر طرح کی نعمتیں میسر ہوں گی جو کہ دائمی ہونگی ۔