Ayahs 46:26–28ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کے دین حق سے انکار اور ان کے غرور وتکبر کا ذکر کرکے مشرکین مکہ اور عرب کو عبرت دلائی کہ اگر تم نے بھی قوم عاد کی طرح اللہ کی توحید ، اس کے رسول اور معاد کا انکار کیا ، شرک اور کفر سے باز نہ آئے ، غرور وتکبر پر مصر رہے تو پھر تمہارا انجام بھی سابقہ اقوام کے انجام ہلاکت سے مختلف نہیں ہوگا۔ اللہ نے قوم عاد کو ہوا جسی نرم ونازک چیز کے ذریعے ہلاک کیا جو انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی کا ذریعہ ہے تو جب اس قوم کے تمام نافرمان بچے بوڑھے ، مرد ، عورتیں سب ہلاک ہوگئے تو پھر ان کی عمارات کے کھنڈرات کے سوا ان کے علاقہ میں کوئی چیز نظر نہ آتی تھی۔
سابقہ اقوام سے تقابل :
آب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے طریقے سے مشرکین مکہ اور عرب کو بات سمجھائی ہے کہ دیکھو ! سابقہ مغرور اقوام کے مقابلے میں تمہارے پاس نہ قوت ہے ، نہ مال و دولت اور نہ جتھ ، پھر تم کس چیز پر تکبر کرکے اللہ کے احکام کو ٹھکرا رہے ہو ، اللہ نے ان کو بھی ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے تباہ وبرباد کیا تو تم ان کے نقش قدم پر چل کر کیسے بچ سکتے ہو ؟ ارشاد ہوتا ہے ولقد مکنھم فیما البتہ تحقیق ہم نے سابقہ اقوام عاد ، ثمود ، وغیرہ کو ان چیزوں میں قدرت دی ان مکنکم فیہ جن میں تم کو قدرت نہیں دی گئی ، تمکین کا معنی زمین میں جمادینا پختہ کردینا ، قوت کے اسباب مہیا کرنا ہوتا ہے ، تو اللہ نے فرمایا کہ تم کس بات پر اکڑ رہے ہو ، ہم نے دنیاوی ترقی کے اسباب جتنے سابقہ اقوام کو عطا کیے ہیں وہ تمہیں نہیں دیے۔ سورة سبا میں فرمایا وما بلغو معشارما اتینھم ( آیت 45) مکہ کے مشرکین کس بات پر اکڑتے ہیں انہیں تو سابقہ اقوام کے عشر عشیر یعنی سویں حصے کے برابر بھی مال و دولت ، طاقت ، جتھ اور وسائل رزق نہیں عطا کیے گئے۔ سابقہ ادوار میں بڑی بڑی تہذیبیں گزری ہیں ، آشوری اور کلدانی ہر لحاظ سے دنیا میں فوقیت رکھتے تھے۔ اللہ نے دنیاوی اعتبار سے ان کو بڑا سازوسامان دیا تھا ۔ برصغیر میں لوگ ٹیکسلاء ، گندھارا ، ہڑپہ اور منجودھارو کی تہذیبوں کو وہاں کے عجائب گھروں میں جا کر دیکھتے ہیں اور ان کی کاریگری ، نقش ونگار اور صناعی پر حیران ہوتے ہیں ۔ قوم عاد کے پاس اقتدار بھی تھا اور جسمانی طاقت بھی۔ اللہ نے مصر کے قدیم باشندوں اور فرعونی خاندانوں کو بہت بڑی سلطنت اور ہر قسم کے وسائل مہیا کیے تھے۔ قوم ثمود کی صنعت وحرفت پر آج بھی لوگ انگشت بدنداں ہیں ۔
قدیم چینیوں کی کاریگری اور ادھر اجنٹا اور الورا کی تہذیبیں اپنی شان و شوکت کی آج بھی گواہی دے رہی ہیں ۔ اس کے برخلاف عربوں کے پاس تو کوئی باقاعدہ سلطنت بھی نہیں تھی۔ قبائلی نظام رائج تھا اور ہر قبیلے کا ایک سردار ہوتا تھا۔ اس لحاظ سے مکہ میں قریش کو بھی سیات حاصل تھی ۔ مگر ان کے پاس نہ کوئی فوج تھی۔ نہ مال و دولت تھی ، زراعت کا سرے سے نام تک نہ تھا۔ بلکہ وہ وادی غیر ذی ذرع کے مکین تھے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے سابقہ اقوام کو ایسی قدرت دی جو تمہیں نہیں دی گئی ، پھر تم کیسے غرور کرتے ہو ؟
اعضائے رئیسہ کی نعمت :
اللہ نے فرمایا کہ ہم نے سابقہ اقوام کو قدرت دی وجعلنا لھم سمعا وابصارا وافدۃ اور ہم نے ان کو سننے کے لیے کان ، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور غور وفکر کے لیے دل عطا کے۔ یہ تین چیزیں انسان کے اہم اعضاء شمار ہوتے ہیں ۔ دل کے ساتھ دماغ بھی شام ہے کیونکہ قوعت عملی کا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے اور غوروفکر کا تعلق دماغ کے ساتھ ہوتا ہے او پھر دونوں آپس میں مربوط بھی ہیں ۔ انسانی جسم کے اعضائے رئیسہ میں دل ، دماغ اور جگر آتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک عضو بھی خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے کیونکہ یہ تینوں بھی آپس میں مربوط ہیں۔ اگر جگر خراب ہوجائے تو قلب اور دماغ بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ اسی طرح قلب خراب ہوجائے تو جگر اور دماغ کسی کام کے نہیں رہتے۔ اور اگر انسان کا دماغ ہی مائوف ہوجائے تو پھر قلب اور جگر بھی بیکار ہوجاتے ہیں اور انسان کسی کام کا نہیں رہتا ، جس طرح انفرادی اور شخصی اعتبار سے اعضائے رئیسہ کا درست ہوناضروری ہے ، اسی طرح نوعی اعتبار سے اللہ نے بقائے نسل انسانی کے لئے نظام تولید وتنا سل کو قائم کردیا ہے ۔
ان تین چیزوں یعنی کان ، آنکھ ، دل کا ذکر قرآن کریم میں کثرت سے آیا ہے ، دل مرکز عقیدہ اور مرکز اخلاق ہے جسم کی درستی کا انحضار د ل کی درستگی پر ہوتا ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے ، اگر وہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے ، اور اگر وہ لوتھڑا خراب ہے تو سارا جسم ہی خراب ہوگا ، فرمایا الا وھی القلب خبردار وہ لوتھڑا دل ہے ، اخلاق حسنہ ، محبت ، نفرت یا اخلاق سیٹنا کا تعلق دل سے ہوتا ہے ، اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا کہ دوزخ کی آگ تطلع علی الا فدۃ (البمزۃ سہ ) سب سے پہلے دلوں پر اثر انداز ہوگی اور اس کے بعد یہ ظاہر اعضا پر پڑے گی۔
دیگر دو چیزوں کان اور آنکھوں کو انسانی جسم میں بڑی اہمیت حاصل ہے یہ دونوں اعضاء انسان کے لئے علم کا ذریعہ ہیں ، انسان کا نوں کے ذریعے سن کر اور آنکھوں سے دیکھ کر معلومات حاصل کرتا ہے البتہ کان کی اہمیت آنکھ سے بھی زیادہ ہے کیونکہ آنکھ تو صرف نظر آنے والی چیز کا ہی احاطہ کرسکتی ہے ، مگر کان بظاہر و باطن شنہید چیز ہے بہت سی معلومات حاصل کرلیتے ہیں ، کان اور آنکھیں کسی چیز کو سن کر یا دیکھ کردماغ تک پہنچاتی ہیں اور اس طرح غوروفکر کے بعد انسان کی سمجھ میں شنید یا دہ چیز سمجھ میں آجاتی ہے ۔
اللہ نے یہ عظیم نعمتیں انسان کو عطا فرمائیں مگر اکثر انسنوں نے ان ا اعضا کو صحیح طریقے سے استعمال نہ کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا ۔ فما اغنی عنھم سمعھم ولا ابصار ھم ولا افدتھم من شئی کہ نہ فائدہ دیا ان کو ان کے کانوں نے اور نہ ان کی آنکھوں نے اور نہ ان کے دلوں نے کچھ بھی ، اور پھر یہ لوگ اندھے اور بہرے بن گئے ، حق کو قبول کرنے کی بجائے انبیاء کی مخالفت شروع کردی اور اس طرح ہمیشہ کی ناکامی کا شکار ہوگئے ، اللہ نے اسنان کو ان اعضا سمیت عذاب میں مبتلا کردیا اور کوئی اندرونی یا بیرونی طاقت اس کو جہنم کی آگ سے نہ بچا سکی ، اسی لئے فرمایا کہ ان کے کانوں ، آنکھوں اور دلوں نے انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچایا ۔
شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لوگ ان اعضاء کے ذریعے دنیاوی امور کو تو خوب سمجھتے تھے مگر معاد کے معاملہ میں بالکل صفرت ہے ، سورة العنکبوت میں فرمایا کہ شیطان نے ان کے اعمال کو انہیں مزین کر کے دکھایا اور انہیں سیدھے راستے سے روک دیا ، وکانو امستبصرین (آیت۔ 38) حالانکہ وہ دیکھنے والے لوگ تھے ، مگر دنیا کے اعتبار سے ، دنیا کے نفع نقصان اور اونچ نیچ کو خوب سمجھتے تھے ، بڑے بڑے صنعتکار ، تاجر انجینئر اور سائنسدان تھے ، انہوں نے دنیاوی فائدے کے لئے بڑی بڑی ایجادات کیں ، انسانی آرام و آسائش کے بڑے سامان پیدا کئے لیکن وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (الروم ۔ 7) آخرت کے معاملہ میں یکسر غافل اور بےسمجھ تھے ، انہوں نے نہ تو عالم برزخ پر یقین کیا ، نہ آخرت کی منزلوں کا تعین کرسکے اور نہ جزا وسزا کے مسئلہ کو جان سکے ، گویا وہ فکر معاش میں تو بڑے ماہر تھے مگر فکر معاد سے یکسر خالی تھے ، فرمایا ان کے اعضائے رئیسہ ان کے کچھ کام نہ آئے کیونکہ اذکانو یجحدون بایت اللہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے ، ان میں اندھاپن اور بہرہ پن پیدا ہوچکا تھا ، وحاق بھم ما کانوابہ یستھزون اور پھر اس چیز نے ان کو گھیر لیاجس کے ساتھ وہ ٹھٹا کیا کرتے تھے ، وہ بعث بعد الموت ، حساب کتاب ، جزائے عمل ، اور جنت دوزخ کا انکار کرتے تھے ، بلکہ ان کا تمسخر اڑاتے تھے لہٰذا انہی چیزوں نے عذاب کی صورت میں ان کو گھیر لیا اور وہ ان سے نجات حاصل کرنے کے قابل نہ رہے ۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی توحید ، اس کی صفات ، اور اس کی تقدیر پر ایمان لے آتا ہے تو پھر اس کے اور عالم بالا کے درمیان ایک دروازہ کھل جاتا ہے ، اس کو باطنی طور پر بصیرت حاصل ہو سکتی ہے اور وہ اس وحدانی نظام کو سمجھنے کے قابل ہوجاتا ہے ، اگر وہ شخص ان چیزوں پر ایمان نہیں لاتا تو مذکورہ دروازہ بندی ہی رہتا ہے اور انسان حجاب سوء معرفت کا شکار ہو کر دنیا سے چلا جاتا ہے ، اس میں ایمان کی روشنی پیدا نہیں ہوپاتی اور نہ دل میں بصیرت پیدا ہوتی ہے ۔
سابقہ اقوام کی ہلاکت :
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے سامنے سابقہ اقوام کی ہلاکت کو بطور مثال پیش کر کے ان کو عبرت دلائی ہے ، ارشاد ہوتا ہے ولقم واھلکنا ماحولکم من القری اور البتہ تحقیق ہم نے تمہارے اردگرد کی بستیوں کو بھی ہلاک کیا ، ان بستیوں سے مراد قوم ، عاد کی بستیاں نہیں کیونکہ وہ مکہ سے دور تھیں ان کا زمانہ بھی بہت پہلے کا تھا اور مکہ والوں کی اس کی طرف آمد ورفت بھی نہیں تھی ، البتہ ان بستیوں سے مراد قوم مود اور قوم لوط کی بستیاں تھیں ، ان قوموں کے واقعات اہل مکہ کے قصے کہانیوں میں بھی ملتے تھے ، نیز جب یہ شام کے تجارتی سفر پر جاتے تھے ، تو ان اقوام کی اجڑی ہوئی بستیوں پر سے گزرتے اور ان کا خود مشاہدہ کرتے تھے ، بحرمیت کے کنارے قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈرات تھے جب کہ وادی تبوت میں قوم ثمود کے آثار ملتے تھے فرمایا ، یہ لوگ بھی تمہاری طرح نافرمان تھے ، لہٰذا ہم نے ان کو بھی ہلاک کیا اور تم ان کے حالات سے باخبر بھی ہو فرمایا وصرفنا الا یت لعلم یرجعون اور ہم آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ، آیات سے مراد نشانیاں ، معجزات ، احکام دلائل نمٹیلات ہیں جو اللہ نے مختلف مقامات پر مختلف عنوانا ت کے تحت بیان کردیئے ہیں تاکہ یہ لوگ ان نقصانات سے عبرت حاصل کریں اور ہدایت کی طرف پلٹ آئیں (رح) ۔
معبودات باطلہ کی بےبسی :
تو حید کا مسئلہ سمجھانے کے لئے اللہ نے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ، جیسا کہ یہاں پر فرمایا فلو لا نصر ھم الذین اتخذوامن دون اللہ قربانا الھۃ پھر کیوں نہ مدد کی ان لوگوں کی ان معبودان باطلہ نے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا تقرب کے لئے الہ بناکھا تھا ، تمام پرانے اور نئے مشرکوں نے اللہ کے سوا بہت سے معبود بنا رکھے تھے جن کے متعلق ان کا زعم تھا ما نعبدوھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی (الزمر ۔ 3 ) ہم تو ان کی عبادت محض اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کا تقرب دلادیتے ہیں ، بعض یوں کہتے تھے کہ ہماری عبادت اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی بلکہ ان مقربین کی عبادت میں شامل ہو کر ہماری عبادت بھی قبول ہوجاتی ہے ، لہٰذا ہم ان کا قرب حاصل کرتے ہیں ، اس کے برخلاف حقیقت یہ ہے کہ جو بھی عبادت صحیح عقیدے ، صحیح فکر اور خلوص نیت سے کی جائے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے ، وہ ہر ایک کی فریاد کو براہ رست سنتا ہے اور خدا اور بندے کے درمیان کسی واسطے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے ، واسطے کا مسئلہ مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کر کے بنا رکھا ہے کہ جس طرح کسی حاکم یا بادشاہ تک پہنچنے کے لئے اس کے امیروں وزیروں کا واسطہ ضروری ہے ، اسی طرح خدا سے ملاقات کے لئے بھی درمیان میں بعض معبود ان کی ضرورت بڑتی ہے ، اللہ تعالیٰ ساری کی ساری مخلوق انسان ، جن ، فرشتے ، درندے ، پرندے کیڑے مکوڑے غرضیکہ سب کا رب ہے اور اس کا تعلق اپنی ساری مخلوق کے ساتھ قائم ہے ، اس نے مخلوق سے کسی کو کوئی اختیار نہیں دے رکھا کہ فلاں کام میری بجائے تم کردینا ، غرضیکہ ہر چیز کا رب مدبر اور متصرف تو خدا تعالیٰ ہے لہٰذا جو لوگ اللہ کی گرفت میں آگئے ان کو کون بچا سکتا ہے ؟ اسی لئے فرمایا کہ تمہارے لات ، منات ، غریٰ اور مہل جن کی نذرونیاز مانتے ہو ، جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہو ، جن سے حاجات طلب کرتے ہو اور جن کے نام کی دہائی دیتے ہو ، مصیبت کے وقت انہوں نے تمہاری کوئی مددنہ کی بل ضلوا عنھم بلکہ وہ تو ان سے گم ہوگئے ، جب ان میں سے کوئی نظر ہی نہ آیا تو وہ یاد کیا کرتے ؟ یہ تو حید کا انبات اور شرک کی تردید بیان کی جارہی ہے ۔
فرمایا وذلک افکھم یہ تو الک کا محض جھوٹ تھا کہ فلاں بھی ہماری مدد کرس کتا ہے اور فلاں کو بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ جنت کا ٹکٹ دے سکتا ہے عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مختار مطلق بنا دیا ہے وہ اپنے نام نہاد پیروکاروں کی حاجات پوری کرتے ہیں اور ان کی بگڑی بناتے ہیں اور پھر قیامت والے دن سب کو ساتھ لے کر جنت میں داخل ہوجائیں گے ، نجومی ستاروں کو متصرف خیال کرتے ہیں اور ان کی پوجا کر کے ان سے حاجات طلب کرتے ہیں ، ادھرآج کے نام نہاد مسلمان اہل قبور کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہوئے ان کے سامنے اپنی حاجات پیش کریت ہیں اور ان سے اولاد رزق اور دنیا کی دیگر ضروریات طلب کرتے ہیں ، فرمایا یہ بڑا جھوٹ ہے ، اللہ نے کسی کو کوئی اختیار نہیں دیا ، اللہ کی مخلوق خواہ وہ انسان ہوں یا جن ، ملائکہ مقربین ہوں یا انبیاء سب کسی کے محتاج ہیں اور اسی کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں بسیمئنۃ من فی السموات والارض (الرحمن ، 29) زمین وآسمان کی یہ مخلوق اس اللہ وحدہ لاشریک کے در کی سوالی ہے ، ۔۔۔۔۔ خیراز تو فریاد ہیں اس کے علاوہ کوئی کسی کی فریاد بھی کرنے والا نہیں ہے ، نہ کوئی مافوق الاسباب۔۔ سنتا ہے اور نہ مدد کرتا ہے ، فرمایا یہ ان کا جھوٹ تھا وما کانو یفترن اور جو کچھ یہ من گھڑت باتیں کرتے تھے سب جھوٹ کا پلندہ ہے جس کا کوئی حقیقت نہیں ہے پیچھے گزر چکا ہے کہ حضرت ہو د (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی ۔۔۔۔۔۔ (آیت ۔ 1 2 ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اس کے سوا کوئی قائد مطلق علیم حل مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو اور اسی کے سامنے دست سوال دراز کرو ۔
Ayahs 46:29–32ربط آیات :
سورۃ ہذا حوا میم سبعہ کی آخری سورة ہے ، ان تمام سورتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد اور اصول ہی بیان کئے گئے ہیں ، توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ان سورتوں کا خاص موضوع ہے ، اس ضمن میں گزشتہ آیات میں اللہ نے قوم عاد کا ذکر کیا کہ وہ بڑے متکبر لوگ تھے ، اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے ان کو احقاف کے مقام میں اللہ کی گرفت سے ڈرایا اور صاف فرمایا الا تعبدو الا اللہ (آیت ۔ 1 2 ) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، مجھے خطرہ ہے ، کہ کہیں تم بڑے دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو ، اللہ نے اس مغرور قوم کا ذکر اہل مکہ کو سمجھانے کے لئے کیا اور فرمایا کہ قوم عاد تو تم سے زیادہ طاقتور تھی ، ان کے پاس سازوسامان بھی زیادہ تھا ، ان کو اقتدار اور حکومت بھی عطا کی گئی تھی سورة سبا میں ہے کہ تمہیں تو ان کا عشر عشر بھی نہیں دیا گیا ، جبوہ اور ان جیسی دوسری اقوام اپنے غرور اور تکبر اور انکار تو حید و رسالت اور معاد کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں تو یادرکھو ! تمہارا حشر بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ، لہٰذا سمجھ جائو اور اللہ کی توحید پر ایمان لے آئو ۔
اللہ نے قوم عاد کے علاوہ مکہ کے گردونواح کی بعض اقوام کا بھی ذکر کیا ان اقوام سے مراد قوم لوط اور قو م ثمود ہیں ، مکہ کے لوگ تجارتی سفر پر جاتے تھے ، تو ان ہلاک شدہ اقوام کی عمارات کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے ۔ ویسے بھی ان قوموں کے حالات مکہ والوں کے قصے کہانیوں میں ملتے تھے ، اس لئے اللہ نے ان اقوام کا تذکرہ کر کے بھی مشرکین مکہ اور عرب کو سمجھایا کہ کفروشرک سے بازآجائو ، غرور وتکبر کو چھوڑ دو اور اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرلو ، مگر وہ لوگ نہ مانے اور بالآخر انہیں بھی عذاب الٰہی کا شکار ہونا پڑا۔
جنوں کا قرآن سننا :
اب اسی ضمن میں اللہ نے جنوں کے ایک گروہ کا ذکر فرمایا ہے اور اہل مکہ کی توجہ دلائی ہے کہ اصلاً اور اولاً ہدایت کا سلسلہ تو اللہ نے انسانوں کے لئے قائم کیا تھا کہ مگر یہ انسانوں کی بدبختی ہے کہ انہوں نے تو اس کو قبول نہ کیا ، اس کے بر خلاف جنوں کے ایک گروہ نے اللہ کا کلام حضور نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے سنا تو فوراً ایمان لے آئے ، آج بھی صورت حال یہ ہے کہ جو شخص غرور وتکبر اور تعصب وعناد سے بالا تر ہو کر آیات الٰہی میں غور وفکر کرے گا ، وہ ضرور خدا تعالیٰ کی توحید کو پا لے گا اور کفروشرک سے باز آجائے گا ، بہر حال یہ ہے کہ جو شخص غرور وتکبر اور تعصب وعناد سے بالا تر ہو کر آیات الٰہی میں غور و فکر کرے گا ، وہ ضرور خدا تعالیٰ کی توحید کو پالے گا اور کفروشرک سے بازآجائے گا ، بہر حال اللہ نے جنات کا واقعہ اس طرح بیان فرمایا ہے واذصرفنا الیک نفراً من الجن اس واقعہ کو اپنے دھیان میں لائو جب ہم نے جنات کے ایک گروہ کو آپ کی طرف پھیر دیا یعنی متوجہ کردیا ۔ یستمعون القرآن وہ جنات قرآن پاک سننے لگے ، فلما حضروہ قالو انصتو پس جب وہ اس موقع پر پہنچے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش رہو یعنی قرآن پاک کو خاموشی کے ساتھ دل لگا کر سنو ،لما قضی پھر جب وہ تلاوت ختم ہوگئی ۔ ولو الی قومھم منذربن تو وہ جنات اپنی قوم کی طرف لوٹ گئے ایماندار ، ہدایت یافتہ اور ڈرانے والے بن کر ۔
جنات پر پابندی :
جن خدا تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے اور انسانوں کی طرح یہ بھی مکلف ہے ، جن کا معنی ہی پوشیدہ ہے کیونکہ یہ مخلوق انسانی نظروں سے مخفی ہے ، اللہ تعالیٰ کسی جن کو کسی دیگر شکل میں دکھادے تو یہ عین ممکن ہے مگر ان کی اصل شکل کو اللہ نے پوشیدہ ہی رکھا ہے ، کیونکہ انسان ان کی اصلی شکل کو برداشت نہیں کرسکتے ، جنات کی تخلیق حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے ہوئی اور یہ آج بھی دنیا میں موجود ہیں ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ نزول قرآن سے پہلے جنات اور شیاطین اوپر آسمانوں کی طرف جاتے تھے اور فرشتوں کی کچھ نہ کچھ گفتگو سن لیتے تھے مگر ان پر اس وقت بھی کسی حد تک پابندی عائد تھی اور فرشتے ان کی آمد پر مزاحمت بھی کرتے تھے تاکہ یہ خدائی پروگرام میں دخل اندازنہ ہوں ، تاہم یہ پابندی اتنی سخت نہیں تھی اور یہ عالم بالا کی کچھ نہ کچھ معلومات حاصل کرلیتے تھے ، اس کی مثال ایسے سمجھیں کہ اگر چہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں آمدورفت کے لئے پاسپورٹ اور ویزا کی پابندیاں ہر جگہ موجود ہیں مگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان وہاں جاری جنگ کی وجہ سے بہت حد تک نرم ہیں اور وہاں کے باشندے پاکستان میں پناہ حاصل کر رہے ہیں اور یہاں سے بھی مجاہدین کی امداد واعانت آسانی سے ہوتی رہتی ہے ۔
بہر حال جب قرآن کا نزول شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر پہرے بٹھا دیئے تاکہ کوئی جن یا شیطان اوپر آکر وحی الٰہی میں خلل اندازی نہ کرسکے ، چناچہ جب کوئی جن اوپر جانے کی کوشش کرتا تو اللہ کے حکم سے فرشتے اس پر شہاب پھینکتے جن کی زد میں آکر بعض جنات ختم ہوجاتے ، بعنض زخمی ہوجاتے ، اور بعض بھاگ جاتے ، اس بات کا ذکر سورة جن میں خود جنات کی زبان سے اس طرح کیا گیا ہے ، وانا لمسنا السماء فوجد نھا ملیئت حرسا شدید وشھبا (آیت ۔ 8) ہم نے آسمان کو تنولا تو اس کو مضبوط پہر یداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایا ، اور یہ بھی کہ پہلے ہم خبریں سننے کے لئے بہت سے مقامات پر بیٹھا کرتے تھے ، اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے شہاب تیار پاتا ہے ، اب ان جنات اور شیاطین نے شمالی عراق میں واقع نصببین کے مقام پر اس غرض سے ایک اجتماع منعقد کیا کہ پتہ چلا جائے کہ انہیں اوپر جانے سے کیوں روک دیا گیا ہے ، چناچہ انہوں نے آپس میں طے کیا فا ضر یوامشارق الارض ومغاربھا (صحیح بخاری شریف ) یعنی زمین کے مشرق ومغرب (رح) میں جاکر تلاش کرو کہ کیا معاملہ ہے ، ہمیں اوپر جانے سے کیوں روک دیا گیا ہے ؟ ۔
مقام واقعہ :
مفسر حاملہ میں اختلاف ہے کہ جنوں کے قرآن سننے کا واقعہ کہاں پیش آیا ، بعض فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضور ﷺ کے طائف سے واپسی کے سفر کے دوران پیش آیا ، جب آپ مکہ والوں سے بالکل مایوس ہوگئے ، یہاں آپکی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے لوگوں کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو آپ نے طائف کا سفر اختیار کیا تاکہ وہاں کے لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں ، شاید انہی کی سمجھ میں بات آجائے ، مگر وہاں بھی آپ کا مایوسی ہوئی ، بلکہ وہاں کے سرداروں کے ایما پر غنڈوں نے آپ کی مار مار کر لہو لہان کردیا ، اور آپ وہاں سے واپس مکہ کی طرف روانہ ہوگئے ، اور اس دوران یہ واقعہ پیش آیا ۔
تاہم بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ طائف کے سفر والا نہیں بلکہ یہ اس سفر کے دوران پیش آیا جب آپ تبلیغ حق کے لئے عکاظ کی منڈی میں تشریف لے جا رہے تھے ، مکہ کے اطراف میں کئی ایک سالانہ منڈیاں لگتی تھیں جو ایک ایک دو دو ماہ تک جاری رہتیں ، ان منڈیوں میں مختلف علاقوں سے لائی گئی اشیاء کی خرید وفروخت ہوتی ، نیز ان مواقع پر بعض ثقافتی پروگرام مثلاً شعر و شاعری اور خطابت کے مقابلے میں ہوتے ، کھیل تماشے اور گانا بجانا ہوتا جن سے ان میلوں میں شامل لوگ مستفید ہوتے ، اس قسم کی منڈیوں میں عکاظ اور ذوالمجاز کی منڈیوں خاص طور پر مشہور تھیں ، بہر حال حضور ﷺ عکاظ کی منڈی میں اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ جا رہے تھے تو راستے میں یہ واقعہ پیش آیا ، آپ نے نحلا کے مقام پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ نمازفجر ادا فرمائی اور حب معمول اس میں لمبی قرأت فرمائی کیونکہ ان قرآن الفجر کان مشھود (ابنی اسرائیل ۔ 78 ) فجر کا وقت فرشتوں کی تبدیلی کا وقت ہوتا ہے اور یہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں اور انسانوں کے اعمال لے کر اوپر جاتے ہیں ، چناچہ نماز کے دوران نصیبین کے جنات کا ایک گروہ وہاں آیا ، اور انہوں نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن سنا ، ان جنات کی تعداد پانچ ، سات یا نو تھی ۔
جنات کا ایمان لانا :
بہر حال ان جنات نے حضور ﷺ کو نماز ادا کرتے اور قرآن پڑھتے دیکھا ، جب نماز ختم ہوئی تو یہ جنات فوراً ایمان لے آئے اور واپس اپنے مقام کی طرف چلے گئے ، ان کو جنات کے آسمانوں کی طرف جانے پر پابندی کی وجہ بھی معلوم ہوگئی کہ یہی وہ کلام ہے جسکی حفاظت کے لئے ان کا اوپر جانا بند کردیا گیا ہے تو یہاں پر اسی بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ جنات جب اپنی قوم کی طرف لوٹے تو مندر بن کر لوٹے ، وہ خود تو ایمان لا چکے تھے ، انہوں نے دوسرے جناب کو بھی گرفت الٰہی سے ڈرانے اور ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے کا مضمر ارادہ کرلیا تھا۔
ترمذی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ جو صحابہ کرام ؓ حضور ﷺ کی مجلس میں آتے تھے ، وہ طلبگار بن کر آتے تھے اور ہادی بن کر نکلتے تھے ، ان جنات کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا کہ وہ بھی مندر یعنی ہادی اور ڈرانے والے بن کر واپس پلٹے ، اس موقع پر انہوں نے حضور ﷺ سے باقاعدہ ملاقات نہیں کی بلکہ صرف قرآن ہی سنا اور واپس چلے گئے ، حضور نبی کریم ﷺ کو تو علم بھی نہیں ہوا کہ جنات کا کوئی گروہ حاضر ہوا تھا ، جو قرآن سن کر ایمان لاکر واپس چلا گیا ہے ، البتہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ معجزانہ طور پر ایک درخت نے آپ کو اجمالی طور پر بول کر بتلا دیا تھا کہ اس طرح جنات کا ایک گروہ آیا تھا اور وہ قرآن سن کر چلے گئے
ہیں اس کے بعد سورة جن نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی تفصیل بیان فرمادی ، الغرض ! مطلب یہ ہے کہ غیر متعصب جنات نے قرآن سنا ، تو انہوں نے ایمان قبول کرلیا مگر ادھر مکہ کے مشرکین کی حالت یہ ہے کہ انسان ہونے کے باوجود اور قرآن سننے باوجود ایمان نہیں لاتے ، افسوس کا مقاصد ہے کہ نبی (علیہ السلام) کے ہم جنس ، ہم قوم اور ہم زبان ہونے کے باوجود ایمان سے محروم ہیں ۔
جس طرح انسانوں کے مختلف خاندان ، مذاہب اور فرقے ہیں ، اسی طرح جنات بھی مختلف گروہوں ، خاندانوں اور مذاہب میں منتقسم ہیں چونکہ جنات انسانوں کے تابع ہیں ، اس لئے اللہ نے ان کی طرف کوئی مستقل رسول نہیں بھیجا بلکہ ان کی طرف منذر آتے رہتے ہیں ، جو انہیں سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتے رہتے ہیں ان کو واعظ ، ہادی ، مبلغ ، یاراہنما بھی کہہ سکتے ہیں جو جنات کو انکے برے انجام سے ڈرا کر نیکی کی تلقین کرتے رہتے ہیں ، چونکہ جنات کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے بہت پہلے فرمائی تھی ، لہٰذا مذکورہ مندر انسان کی تخلیق سے پہلے بھی آتے تھے اور اس کے بعد بھی ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی یہ روایت اگر چہ قوی نہیں ہے مگر امام بہیقی (رح) نے اسے دلائل نبوت میں ذکر کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ کہیں سفر پر جا رہے تھے کہ بڑی تیز آندھی آئی اور طوفان برپا ہوگیا ، یہ لوگ دبک کر بیٹھ گئے ، جب وہ طوفان تھما تو آپ کے ساتھیوں میں سے حضرت صفوان بن معطل ؓ نے ایک سانپ مردہ پڑا پایا ۔ انہوں نے اپنی چادر کو پھاڑ کردوحصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصے میں اس مردہ سانپ کو لپیٹ کر دفن کردیا۔ جب رات ہوئی تو ان لوگوں کے پاس دور عورتیں آئیں اور انہوں نے دریافت کیا کہ ان میں سے عمر وابن جابر کو کس نے دفن کیا ہے ، جب انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو ان عورتوں نے وضاحت کی کہ جس مردہ سانپ کو تم نے دفن کیا ہے ، وہ ان جنات میں سے تھا جنہوں نے حضور ﷺ سے قرآن سن کر ایمان قبول کیا تھا واقعہ یہ ہوا کہ مومن اور کافر جنات کی آپس میں جنگ ہوئی تھی جس میں عمر وابن جابر نے جام شہادت نوش کیا اور تم نے ان کو چادر میں لپیٹ کر دفن کردیا ، آپ کو اس کا ضرور اجر ملے گا ، اس قسم کا واقعہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) سے بھی منسوب ہے آپ کو خواب میں ذریعے بتایا گیا تھا کہ ان کے ایک ساتھی نے جس سانپ کو دفن کیا تھا وہ ایک مومن جن تھا ، غرضیکہ جنات کے ایمان لانے کی تصدیق ان روایات سے بھی ہوتی ہے ۔
کتاب الٰہی کی تصدیق :۔
بہر حال جب جنات کا گروہ قرآن سننے اور ایمان لانے کے بعد اپنی قوم میں واپس گیا قالو یقو منا تو وہ کہنے لگے اے ہماری قوم کے لوگو ! انا سمعنا کتبا انزل میں بعد موسیٰ بیشک ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ علیہ اسلام کے بعد نازل کی گئی ہے ، بلا شبہ قرآن پاک موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ تورات کے بعد نازل ہوا ، مگر اسکے بعد ا نجیل بھی تو اللہ نے نازل فرمائی ہے جس کا تذکرہ ان جنات نے نہیں کیا ، ہو سکتا ہے کہ وہ جنات یہودی ہوں اور صرف تورات پر ایمان رکھتے ہوں ، اسے لئے انہوں نے صرف موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ کتاب کا ہی تذکرہ کیا ، یا اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انجیل کی نسبت تو رات کی شہرت زیادہ پائی جاتی تھی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عظمت اور جامعیت کے اعتبار سے کتب سماویہ میں قرآن کے بعد تورات کا نمبر ہے کہ اس میں شرائع الٰہیہ اور دیگر احکام زیادہ تفصیل کے ساتھ مذکورہ ہیں ، بہر حال فرمایا کہ ہم نے ایک کتاب سنی ہے مصدقا لما بیز ید یہ جو اپنے سے پہلے کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ، ظاہر ہے کہ قرآن پاک دیگر تمام کتب کا دیر اور صحائف کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہیں نور برحق ہیں ، کہنے لگے کی ہم نے جس کتاب کو سنا ہے اس کی ایک صفت یہ بھی ہے یھدی الی الحق والی طریق مستقیم کہ وہ سچے دین اور سدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔
ایمان کی دعوت :
جنات کا مذکورہ گروہ خود تو ایمان قبول کرچکا تھا ، اب انہوں نے اپنی قوم کو بھی دعوت دی ، کہنے لگے یقو منا احیبو داعی اللہ اے ہماری قوم کے لوگو اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو ۔ اس سے مراد حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے کہ آپ لوگوں کو دعوت تو حید دیتے تھے کہنے لگے اس دعوت کو قبول کرو ، وامنو ابہ اور اس پر ایمان لے آئو یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کی نبوت و رسالت کو دل سے قبول کرلو ، اس کا فائدہ یہ ہوگا ۔ یغفر لکم من ذنو بکم کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں میں سے (کچھ ) معاف کر دے گا ۔ یہاں پر تمام گناہوں کی بخشش کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اس کے متعلق مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ انسان پر حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں قسم کے حقوق کی پابنید لازم ہے جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتا ہے تو وہ اپنے حقوق تو معاف کردیتا ہے مگر حقوق العباد کی معافی اسی صورت میں ہوتی ہے جب کہ خود صاحب حق معاف کرے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں پر سارے گناہوں کی بجائے بعض کی معافی کا وعدہ فرمایا ہے ، فرمایا اللہ تعالیٰ نہ صرف گناہ معاف کر دے گا بلکہ ویجر کم من عذاب الیم تمہیں دردناک عذاب سے بھی پناہ دے دیگا ۔
اس مقام پر مفسرین اور ائمہ دین اس مسئلہ میں بحث کرتے ہیں کہ کیا جنات بھی جنت میں جائیں گے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں بعض فرماتے ہیں کہ جنات انسانوں سے کم تر مخلوق ہے ، لہٰذا یہ جنت میں نہیں جائیں گے ، البتہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعض عذاب سے بچ جائیں گے اور ان کو جانوروں کی طرح حکم ہوگا ، کہ مٹی ہو جائو اور وہ ختم ہوجائیں گے ، البتہ امام ابوحنیفہ (رح) نے توقف کی روایت بیان کی ہے کہ ان کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہوسکا ۔ بعض دوسرے مفسرین کا خیال یہ ہے کہ انسانوں کی طرح اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کے مطابق جنات بھی جنت یا جہنم میں جائیں گے ۔
جناب کے گروہ نے ایمان کی دعوت کو قبول کرنے والوں کی جزاء کا ذکر کیا اور ساتھ یہ بھی کہا ومن لا یحب داعی اللہ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول نہیں کرے گا فلیس بمعجز فی الارض وہ زمین میں عاجز نہیں کرسکے گا ۔ یعنی وہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جا نہیں سکے گا کہ عذاب الٰہی سے بچ جائے ولیس لہ من دونہ اولیاء اور نہ ہی اس کے لئے خدا تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار ہوگا ۔ جو اسے عذاب سے چھڑا سکے ، مکہ اور عرب کے مشرکوں کے متعلق پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی فریاد اس نہیں ہوگا ۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا اولئک فی ضلل مبین کہ یہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں انہوں نے عقیدہ ٔ توحید کو تسلیم نہ کیا ، رسالت اور قیامت کا انکار کیا ۔ یہ لوگ گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی گرفت میں آکر رہیں گے ۔
Ayahs 46:33–35ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے رد میں جنات کا ذکر کیا کہ جب انہوں نے قرآن پاک سنا تو ایمان قبول کرلیا اور وہ اپنی قوم کی طرف مندر بن کر لوٹے ، اس کے بر خلاف مشرکین مکہ وعرب کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) کے ہم قوم ، ہم زبان اور ہم جنس ہونے کے باوجود غرور وتکبر اور ضد وعناد کی وجہ سے ایمان قبول کرنے سے قاصر ہیں ۔
جناب بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں ، اگر چہ وہ انسانوں سے کم درجہ رکھتے ہیں ان کی تخلیق کے متعلق سورة الحجر میں موجود ہے والجا ن خلقنا من قبل من نارا لسموم (آیت ۔ 7 2 ) انسانوں سے پہلے ہم نے جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جناب اللہ کی ایسی مخلوق ہے جس میں دیگر عناصر کے علاوہ آگ کا عنصر زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے جیسا کہ انسانوں کی تخلیق میں دیگر عناصر کی نسبت مٹی کا عنصر غالب ہے ، جنات غیر مرئی مخلوق ہیں اور اللہ نے انہیں شکلیں تبدیل کرنے کا اختیار بھی دے رکھا ہے انسانوں کی طرح ان کے بھی مختلف خاندان ہیں اور ان میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں ، انسانوں کی طرح ان کے بھی مختلف مذاہب اور فرقے ہیں ۔
حضور کی بعثت بطرف جنات :
حضور خاتم النبیین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ جنات کی طرف بھی معبوث فرمایا ہے ، چناچہ حضور ﷺ ان کو بھی وقتاً فوقتاً تبلیغ فرماتے ہیں رہے ، اس سورة میں مذکورہ واقعہ تو جنوں کا قرآن سن کر از خود ایمان لانے کا ہے تاہم آپ کی طرف سے جنات کو چھ دفعہ تبلیغ فرمانے کی روایت موجود ہے ، آپ نے جنات کو چار مرتبہ کی زندگی میں ، ایک مرتبہ مدنی دور میں اور ایک دفعہ سفر میں خطاب فرمایا اور انہوں نے آپ سے تعلیم حاصل کی ، آپ نے مکی دور کا ایک واقعہ بیان کیا کہ جنات نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کو تعلیم دیں ، چناچہ آپ رات کے وقت جنت المعلیٰ کے قریب ریح الحجون میں تشریف لے گئے ، جہاں ہزاروں کی تعداد میں جنات جمع تھے۔ آپ نے ان کو ساری رات تلقین کی ، اب اس مقام پر مسجد جن کے نام سے خوبصورت مسجد بنی ہوئی ہے ۔
ایک دوسرے موقع پر حضرت عبد اللہ بن مسعود (رح) حضور ﷺ کے ہمراہ تھے رات کے وقت آپ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو زمین پر ایک دائرہ کھینچ کر اس کے اندر بٹھا دیا اور آپ خود جنات کی تبلیغ کرنے کے لئے تشریف لے گئے ، صبح کے وقت جب حضور ﷺ واپس آئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے پوچھا ، کیا تمہیں کچھ نظر آیا ہے ؟ عرض کیا ، ہاں ! مجھے سانولی رنگت اور سفید لباس میں ملبوس کچھ لوگ نظر آئے جیسے عراق میں جات لوگ ہوتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ یہاں سندھ میں بھی پائے جاتے ہیں ، عرض کیا کہ لوگ ادھر ادھر پھیرتے رہے مگر اس دائرے کے اندر کوئی نہیں آیا ، یہ جنات تھے ، بہر حال حضور ﷺ نے چھ مرتبہ جنات کو تلقین فرمائی ہے ۔ آپ نے ان کو سلام کی باقاعدہ دعوت دی ۔ اس کی بعض تفصیلات سورة جن میں موجود ہیں ۔
ارض وسما کی تخلیق :
بنیادی عقائد میں سے مشرکین وقوع ِ قیامت اور جزائے عمل کا بھی انکار کرتے تھے ، لہٰذا اس سورة کے آخر ی حصے میں اللہ تعالیٰ نے اب اسی مسئلہ کا ذکر فرمایا ہے اولم یروان اللہ الذی خاو السموات ولارض کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ولم یفی بخلقھن مگر وہ انہیں تخلیق کرنے کی وجہ سے تھکا نہیں ، قرآن پاک میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کوئی بڑے سے بڑا کام کرکے بھی تھکاوٹ محسوس نہیں کرتی ، سورة ق میں یہ مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام اشیاء کو چھ دن میں پیدا کیا وما مسنا من لغوب (آیت ۔ 38 ) اور ہم کو ذرا بھی تھکاوٹ نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ تو ان تمام چیزوں کو ایک لمحہ میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہے ۔ مگر اس نے انسانوں کی تعلیم کے لئے چھ دن کے وقفہ میں یہ کام کیا ۔
ارض وسماء کی تخلیق کا ذکر تورات میں بھی موجود ہے۔ مگر وہاں پر یہودیوں نے کچھ تحریف بھی کردی ہے ، چناچہ جہاں چھ دن میں تخلیق کی بات ہے وہاں انہوں نے یہ اضافہ کردیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ساتوں دن آرام کیا ، گویا اللہ تعالیٰ چھ دن کا م کر کے تھک گیا تھا (العیاذ باللہ ) تو ساتویں دن آرام (rest) کیا۔ وہ ہفتہ میں ساتوں دن چھٹی کا جواز اسی بات سے نکالتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق تھکاوٹ کا نظریہ قائم کرنا کفر یہ بات ہے اور قرآن نے اس کا بار بار رد کیا ہے ۔
معاد اور جزائے عمل :
فرمایا جس خدا تعالیٰ نے ارض وسما کو تخلیق کیا بقدر علی ان یحییٰ الموتی کیا وہ اس کام پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے ؟ یہ لوگ اپنے سامنے انسانوں کو روز مرہ پیدا ہوتے دیکھتے ہیں ، جانور ، کیڑے مکوڑے ، درخت پھل ، پھول ، اناج اور سبزیاں بار بار پیدا ہوتی ہیں تو جو اللہ تعالیٰ ان اشیاء کو بتکرار پیدا کرسکتا ہے وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قدرت نہیں رکھتا ؟ اللہ نے خود ہی جواب میں فرمایا بلی کیوں نہیں ؟ انہ علی کل شئی قدیر بلا شبہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، لہٰذا وہ وقوع قیامت اور جزائے عمل پر بھی یقینا قدرت رکھتا ہے ، اور وہ اپنے مقررہ وقت پر ایسا ضرور کرے گا ۔
آگے اللہ نے جزائے عمل اور مابعد کی کیفیت کے متعلق فرمایا ویوم یعرض الذین کفر واعلی النار اور جس دن کفر کرنے والوں کو آگ پر پیش کیا جائے گا ، یعنی نافرمان ، کا فر اور مشرک اپنے عقائد و اعمال کی بدولت دوزخ کا سامنا کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا ، الیس ھذا بالحق قبا یہ حق نہیں ہے ؟ تم دنیا میں کفر وشرک کا ارتکاب کرتے تھے مگر وقوع قیامت اور دوزخ جنت کا انکار کرتے تھے ، اب دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو ، کیا اب بھی اس کو برحق مانتے ہو یا نہیں ؟ قالو بلی وربنا اس وقت اقرار کریں گے کہ ہمارے پروردگار کی قسم یہ تو بالکل سچ ہے ، یعنی دوزخ کا وجود اور اس کا عذاب بالکل برحق ہے ، پھر ادھر سے حکم ہوگا ، قال فذو قو العذاب بما کنتم تکفرون پس اسکا عذاب چکھو اس کے بلے میں جو تم کفر کیا کرتے تھے اپنے انکار اور تکذیب کے نتیجہ میں جہنم کا دائمی عذاب جگنو ۔
صبر کی تلقین :
آگے اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) کو تسلی دی ہے فا تبر کما صبر او لو العزم من الرسل پس آپ کفار ومشرکین کی ایذار سانیوں اور تکذیب پر صبر کریں جیسا کہ باہمت رسولوں نے صبر کیا ۔ اللہ کے سار رسول ہی باہمت اور صابر ہوئے ہیں مگر ان میں بعض کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے بہت زیادہ تکالیف اٹھائیں اور اسی لحاظ سے برداشت بھی زیادہ کیا ۔ یہ پانچ والو العزم رسول ہیں جن کا ذکر سورة احزاب میں یکجا کیا گیا ہے اور یہ میں حضرت نوع (علیہ السلام) حضرت ابرہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ ، فرمایا اے نبی آخر الزمان یہ لوگ بلا شبہ آپ کو سخت تکالیف پہنچا رہے ہیں اور آپ کے مشن کی نا کامی کے لئے سر د ھڑ کی بازی لگائے بیٹھے ہیں ، مگر آپ کے لئے نہ کریں ، یہ لوگ اپنے مقررہ وقت پر ضرور پکڑے جائیں گے اور اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے ۔
دنیا کی مختصر زندگی :
آگے اللہ نے ان سزا یافتہ کفار ومشرکین کی ایک اور حالت کو بیان فرمایا ہے کانھم یوم برون ما یوعدون جس دن یہ دیکھیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی جب عذاب کو اپنی آکھوں سے دیکھ لیں گے تو اس وقت خیال کریں گے لم یلبثو الا ساعۃ من نھار گویا کہ وہ دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر ٹھہرے ۔ آج تو لوگ اس دنیا میں سو پچاس سال تک زندگی گزارتے ہیں مگر کافروں ، مشرکوں ، مغروروں اور نافرمانوں کو اس دن ایسا محسوس ہوگا کہ ان کی پوری زندگی ایک دن کی ایک ساعت سے زیادہ نہیں تھی ، سورة النزعت میں کہا گیا کہ جب مجرم لوگ اپنے انجام کو دیکھیں گے تو کہیں گے لم یلبثو الا عشیتۃ اوضحھا (آیت ۔ 46 ) کہ ہم تو دنیا میں دوپہر یا پچھلے پہر کی مقدار ٹھہرے ، فرمایا بلغ یہ پہنچا دینا ہے یعنی حقیقت حال کو واضح کردینا ہے ، انسانوں کو ان کے انجام سے خبردار کردینا ہے تاکہ کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے اور کل کو کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ اسے نیک و بد کے انجام سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا ، سورة ابراہیم میں بھی فرمایا ھذا بلغ للناس ولینذر وابہ ۔ (آیت 2 5 ) قرآن پاک اور خصوصاً اس سورة کے مضامین لوگوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے تاکہ ان کو ان کے بڑے انجام سے ڈرایا جائے ۔ اس میں دین کے تمام بنیادی عقائد کا ذکر آگیا ہے اللہ نے ہر چیز کردی ہے تاکہ بعد میں کسی کو اعتراض کی گنجائش نہ رہے ۔
نافرمانوں کی ہلاکت :
واضح پیغام پہنچا دینے کے بعد اللہ نے خبر دار کردیا ہے کہ جب حجت تمام ہوگئی فھل یھلک الا القوم الفسقون تو نہیں ہلاک کئے جائیں گے مگر نافرمان لوگ ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ کسی قوم کے لئے نبی کی بعثت ان کے لئے آخری مرحلہ ہوتا ہے ۔ جب نبی کی زبان سے ہر چیز کی وضاحت کردی جاتی ہے ۔ تو پھر نافرمان قوم کی سزا کا وقت آتا ہے ۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے ۔ وما کنا معذ بین حتی بنبعث رسولا (آیت ۔ 5 1 ) ہم اس وقت تک کسی قوم کو سزا نہیں دیتے ۔ جب تک ان میں رسول بھیج کر ا تمام حجت نہیں کردیتے ۔ جب ہر چیز کو واضح کردیا جائے تو پھر اللہ کا ارشاد ہوتا ہے یھلک من ھلک عن بینۃ ویحییٰ من حی عن بیتۃ (الا نفال ۔ 42 ) اب جو ہلاک ہونا چاہتا ہے وہ کھلی دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہنا چاہتا ہے ، رسالت ، معاذ قرآن کی حقانیت کو واضح کردیا ہے جواب بھی ایمان نہیں لائے گا وہ لازما ً ہلاکت کے گڑھے میں کرے گا ۔