46. Surah Al-Ahqaf

الأحقافThe Dunes · 35 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 46:15–16

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًا١ؕ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًا١ؕ وَ حَمْلُهٗ وَ فِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ بَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۙ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕۚ اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 46:15 in the Quran reader

اور ہم نے تاکید حکم دیا انسان کو اس کے والدین کے متعلق نیکی کرنے کا اٹھایا ہے اس کو اس کی ماں نے تکلیف اٹھا کر ، اور جنا ہے اس کو تکلیف سے ، اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانا تیس ماہ تک ہے یہاں تک کہ جب وہ پہنچ گیا اپنی قوت کو ، اور پہنچ گیا چالیس سال تک تو اس نے کہا ، اے میرے پروردگار میرے حصے میں کر دے کہ میں شکر ادا کروں تیری نعمت کا جو تو نے مجھ پر انعام کی ، اور میرے ماں باپ پر بھی ، نور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں گا جسے تو پسند فرمائے ، اور درست کر دے میرے لئے میری اولاد کو ، بیشک میں توبہ کرتا ہوں تیرے سامنے ، اور بیشک میں فرمانبردار ی کرنے والوں میں سے ہوں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ نَتَجَاوَزُ عَنْ سَیِّاٰتِهِمْ فِیْۤ اَصْحٰبِ الْجَنَّةِ١ؕ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ Open ayah 46:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ ہم قبول کرتے ہیں ان سے ان کے وہ بہتر کام جو انہوں نے انجام دیئے ، اور ہم درگزر کرتے ہیں ان کی برائیوں سے ، یہ ہیں جنت والوں میں ، یہ وعدہ ہے سچا جو ان سے کیا جاتا ہے

ربط آیات : سورۃ کی ابتداء میں قرآن کریم کا وحی الٰہی اور برحق ہونا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا اور اللہ نے منکرین قرآن اور منکرین رسالت کا رد فرمایا ، اس طرح اللہ نے دین کے بنیادی اصول بیان فرمائے ، گزشتہ آیات میں رسالت کے ضمن میں گزر چکا ہے قل ماکنت بدعا من الرسل (آیت ، 9) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ میں کوئی نیا یا انوکھا رسول تو نہیں ہوں ، بلکہ اللہ کے رسول پہلے بھی آتے رہے ہیں ، اور وہ بھی اللہ کا پیغام سناتے رہے ہیں ، میں بھی اسی سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہوں ، توحید کے سلسلے میں اللہ نے عقلی اور نقلی دلائل کا ذکر نہ صرف اس سورة مبارکہ میں کیا ہے بلکہ تمام جو اسم سبعہ میں اس مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے اور شرک کا واضح الفاظ میں رد کیا گیا ہے ، گزشتہ درس میں استقامت علی الدین کا خصوصی تذکرہ ہوا ، اللہ نے استقامت اختیار کرنے والے لوگوں کی غمگین ہوں گے ، بلکہ وہ ہمیشہ میں رہیں گے اور یہ انعام ان کے ان اعمال کا بدلہ ہوگا ، جو وہ دنیا کی زندگی میں انجام دیتے رہے ، حقوق اللہ اور حقوق العباد : ایمان اور استقامت اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور اسے اختیار کرنا بندے کے لئے ضروری ہے ، انسانی سوسائٹی میں حقوق العبادء کے ضمن میں والدین سے حسن سلوک سب سے پہلا حق ہے اور آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے والدین سے متعلق بہت سی باتیں بیان فرمائیں ہیں ، یہ کسی انسان کی سعادت کی علامت ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو کما حقہ انجام دے جو انسان یہ حقوق ادا کرتے ہیں وہ سعادت مند شمار ہوتے ہیں اور جو اسے سے اعراض پر تتے ہیں وہ شقی یا بدبخت کہلاتے ہیں ، آج کے درس میں سعادت مند انسانوں کا تذکرہ بھی آرہا ہے جو والدین کے ساتھ احسان کرنے کی بجائے ان کی جسمانی اور ذہنی کوفت کا باعث بنتے ہیں ۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک : ارشاد ہوتا ہے وو صینا الا انسان بوالدیہ احسنا اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے ، وصت کا معنی مؤکد حکم ہوتا ہے اور یہ عام طور پر وفات کے وقت کی جاتی ہے کیونکہ وہ نہایت ہی اہم فیصلہ ہوتا ہے سورة النساء میں وصیت کے متعلق تفصیلی احکام موجود ہیں ، مثلاً احکام وراثت کے ضمن میں اللہ نے فرمایا یو صیکم اللہ فی اولابکم (آیت ، 11 ) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد کے بارے میں تاکیدی حکم دیتا ہے اور پھر آگے اولاد اور دیگر رشتہ داروں کے حصص کا تقرر فرمایا کہ ہر حقدار کو اس قدر حق ادا کر ومگرمن بعد وصیۃ یو صی بھا او دین (آیت 20 1 ) مگر اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو مرنے والا کر جائے یا اس قرض کی ادائیگی کے بعد جو متوفی کے ذمے رہ گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہر اہل ایمان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے مال میں سے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی کے برابر ورثا کے علاوہ دوسروں کے حق میں وصیت کرسکتا ہے مذکورہ آیت میں ایسی ہی کسی وصیت کی تکمیل کا ذکر ہے کہ پہلے وصیت پوری کرو قرضہ ادا کرو اور پھر باقی ماندہ مال میت کے حق داروں کو تقسیم کرو ، بہر حال اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا تاکید حکم دیا ہے ۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم سورة بقرہ ، سورة لقمان اور دوسروں سورتوں میں بھی آیا ہے ، مثلاً سورة بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا ہے ، وقضی ربک الا تبعدو الا یا ہ وبالوالدین احسانا (آیت ، 23 ) تیرے پروردگار نے یہ قطعی فیصلہ کیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، فقہائے کرام اور محدثین کرام فرماتے ہیں کہ والدین کی خدمت فرض ہے ، مالی خدمت اس وقت فرض ہوتی ہے جب والدین نا درا ہوں (رح) ، ایسی صورت میں ان کا لازمی خرچہ اولاد کے ذمے ہوگا اگر والدین صاحب مال ہوں تو پھر ان کی مالی خدمت تو واجب نہیں ہوتی ، البتہ ان کو جسمانی اور ذہنی راحت پہنچانا اور ان کی جائز خواہشات کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے ، اس کے برخلاف والدین کو طعن زنی کرنا ، گالی گلوچ نکالنا یا مارنا پیٹنا ، دھکے دینا یا گھر سے نکال دینا سخت بےادبی اور حرام ہے ۔ ماں کا خصوصی حق : اگیل حصہ آیت میں اللہ نے ماں کے ساتھ خصوصی سلوک کی بعض وجوہات بیان فرمائی ہیں ، فرمایا حملتہ امہ کرھا انسان کی ماں نے اس کو تکلیف برداشت کر کے پیٹ میں اٹھائے رکھا ، ووضعتک کرھا ، اور پھر اسکو جنا بھی تکلیف اٹھا کر اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین میں سے والد کا ذکر ایک ہی دفعہ کیا ہے جب کہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیایوالدیہ ان کے والدین کے متعلق ، والدین میں والد اور والدہ دونوں شامل ہیں ، لہٰذا یہاں پر والد کا ذکر ہوگیا ، اور پھر والدہ کا ذکر تین دفعہ فرمایا ہے ، ایک ذکر توالدیہ میں آگیا ، دوسرا تذکرہ حملتہ میں ہوا کہ اس نے بچے کو پیٹ میں اٹھائے رکھا اور پھر تیسری دفعہ ووضعتہ میں فرمایا کہ اس نے بچے کو تکلیف اٹھا کر جنا ۔ چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ! میں والدین میں سے کس کے ساتھ نیکی کا سلوک کروں ، تو آپ نے فرمایا ، ماں کے ساتھ ، اس نے دوبارہ عرض کیا کہ کس کے ساتھ حسن سلوک کرو ، آپ نے فرمایا ماں کے ساتھ ، تیسری دفعہ بھی یہی سوال کیا تو آپ نے ماں کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ، پھر چوتھی مرتبہ کے سوال پر حضور ﷺ نے حسن سلوک کے سلسلہ میں بات کا ذکر کیا ، اس لئے ائمہ ذکرام ، محدثین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ باپ کی نسبت ماں کا حق زیادہ ہے گویا خدمت ماں کی زیادہ کرنی چاہئے ، البتہ و احترام باپ کا زیادہ ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وللرجال علیھمن درجۃ (البقرۃ ، 228) کہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ فضیلت حالص ہے ، اور یہاں پر اللہ نے عورت کے حق میں یہ وجہ بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ اولاد کی پیدائش کے سلسلے میں بہت تکلیف اٹھاتی ہے ، بلکہ بعض اوقات تو عورتیں زچگی کے دوران فوت بھی ہوجاتی ہیں ، جہاں تک بچے کی پرورش کا تعلق ہے تو یہ بھی ایک کٹھن کام ہے ، جانوروں کے بچوں کی پرورش انسان کے بچے کی نسبت ، بہت آسان ہے ، ان میں سے اکثر پیدائش کے فوراً بعد ہی کس حد تک خود مکتفی ہوجاتے ہیں اور ادھر ادھر ہاتھ پائوں اور منہ مارنے لگتے ہیں ، دودھ پینے والے بچے تو گرتے پڑتے ماں کے تھنوں تک پہنچ جاتے ہیں اور دود پینے لگتے ہیں اور ساتھ ساتھ گھاس وغیرہ کو بھی منہ مارنے لگتے ہیں ، جب کہ پرندوں کے بچوں کو ابتداء سے ہی اپنی خوراک بیرونی ذرائع سے حاصل کرنی پڑتی ہے اور وہ پیدائش کے فوراً بعد خود بخود دانہ ومکا چلنے لگتے ہیں ، اس کے بر خلاف انسان کے متعلق اللہ کا فرمان ہے وخلق الا نسان ضعیفا (النساء 28 ) یعنی انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ، انسانی بچہ ماں کے دود ھ تک بھی خود بخود نہیں پہنچ سکتا ، بلکہ اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے ، اسے زیادہ سے زیادہ دو سال تک ماں کے دودھ پر گزارا کرنا پڑتا ہے اور پھر جاکر کہیں وہ عام غذا کھانے کے قابل ہوتا ہے ، اس طرح یہ بچہ عرصہ تک دوسروں کا محتاج ہوتا ہے اور اس کی پرورش کے لئے ماں کو بڑی محنت کرنا پڑتی ہے ، بچے کو نہلانے دھلانے ، کپڑے بدلنے ، خوراک کا بندوبست کرنے سردی گرمی سے بچانے اور بیماری میں علاج معالجہ کرنے والے بڑے مشکل اور صبر آزما کام ہیں جن کو ایک ماں ہی انجام دے سکتی ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں پر باپ کا ذکر ایک دفعہ اور ماں کا تین دفعہ کیا ہے اور حضور ﷺ نے بھی ماں کی خدمت پر زیادہ زور دیا ہے ۔ حمل وضاعت کی مدت : حمل اور وضع حمل کے تکلیف دو مراحل کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے حمل اور رضاعت کی مدت کا ذکر بھی فرمایا ہے ، ارشاد ہوتا ہے وحملذ وفصلہ ثلثون شھرا بچے کے حمل میں اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس ماہ ہے سورة بقرہ میں رضاعت کی مدت کے متعلق فرمایا والو الدت یضعر اولاد ھن حولین کاملین لمن ارادان یتہ الرضاعۃ (آیت ، 2 3 2 ) اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں یہ اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے ، چناچہ جمہورا ئمہ کا مسلک یہی ہے کہ رضاعت کی مدت دو سال تک ہے ، اس لحاظ سے حمل کی کم ازکم مدت چھ ماہ بنتی ہے اور اس آیت کے مطابق حمل اور رضاعت کی کل مدت اڑھائی سال یعنی تیس ماہ بن جاتی ہے ، انسان کا بچہ عام طور پر نہ ماہ میں پیدا ہوتا ہے بعض اوقات مدت حمل چھ ، سات اور آٹھ ماہ بھی ہوتی ہے ، تاہم کم ازکم مدت حمل چھ ماہ سے یونانی حکیم چالیسوس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے کہا کہ میں مدت حمل کے متعلق برا فکر مند تھا کہ اس کی کم ازکم مقدار کیا ہے ، پھر میں نے ایک ایسا کیس بھی دیکھا جس میں بچہ ایک سو چورا سی دن میں پیدا ہوگیا جو کہ چھ ماہ اور چار دن بنتے ہیں اسلامی دور کے چوتھی صدی کے عظیم مفتی اور طبیب ابو علی ابن سینا نے بھی اپنی کتاب شفا میں لکھا ہے کہ اس کے تجربات کے مطابق بھی حمل کی کم ازکم مدت 4 18 دن ہے ، غرضیکہ اگر حمل کی اقل مدت چھ ماہ تصور کی جائے تو بہت زیر درس کے مطابق رضاعت کی مدت دو سال بنتی ہے اور اگر حمل کی مدت نو ماہ شمار کی جائے تو پھر رضاعت 1 2 ماہ میں مکمل ہوجاتی ہے ، البتہ اللہ کے فرمان کے مطابق باپ کی رضا مندی سے رضاعت کی مدت کو دو سال تک بڑھایا جاسکتا ہے ، جہاں تک رضاعت کی کم ازکم مدت کا تعلق ہے تو اس کے لئے کوئی حد مقرر نہیں ہے ، والدین کی اپنی مرضی اور حالات کے مطابق بچے کا دودھ چھ ماہ میں چھڑایا جاسکتا ہے ، تاہم رضاعت کی زیادہ سے زیادہ مدت اما م شافعی (رح) ، امام مالک (رح) ، امام احمد ، امام ابوحنیفہ اور امام محمد (رح) وغیرہ ہم کے نزدیک دو سال ہی ہے ، البتہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ مدت ِ رضاعت اڑھائی سال تک ہے ، اسکی توجہیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بعض بچے کمزور ہوتے ہیں اور ماں کے دود ھ کے علاوہ کوئی دوسری غذا استعمال نہیں کرسکتے ، اس لئے مدت رضاعت میں اڑھائی سال تک تو سیع کی جاسکتی ہے ، رضاعت کی مدت کے ساتھ بعض دیگر مسائل بھی متفرع ہوتے ہیں ، مثلاً یہ کہ اس مدت کے بعد بچے کو دودھ پلانا حرام ہوجاتا ہے ، نیزا س مدت کے بعد غیر ماں کا دودھ پئے تو اس سے نہ تو وہ راضعی ماں بنتی ہے اور نہ اس عورت کی اولاد اس بچے کے رضاعی بہن بھائی بنتے ہیں جس سے نکاح کی حرمت ثابت ہوتی ہے ، اسی لئے امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ مدت رضاعت کے تعین میں اختیاط کی ضرورت ہے اور اسی بناء پر وہ اس مدت کی اڑھائی سال تک تو سیع کے قائل ہیں ۔ بعض فقہائے کرام میں اس آیت کریمہ سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ حمل اور رضاعت دو الگ الگ مسائل ہیں اور ان کی خبر ایک ہے ، یعنی تیس ماہ ، اس لحاظ سے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ حمل کی مدت بھی تیس ماہ اور رضاعت کی مدت بھی تیس ماہ تک ہو سکتی ہے ، قابل غور بات یہ ہے کہ سورة بقرہ والی آیت میں رضاعت کی انتہائی مدت تودو سال بیان کی گئی ہے مگر اس کی اقل (کم ازکم ) مدت کا تعین نہیں کیا گیا ، اور اس آیت زیر درس کے مطابق تیس ماہ سے دوس ال رضاعت کے نکال کر حمل کم ازکم مدت چھ ماہ بنتی ہے مگر حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت کا ذکر نہیں کیا گیا ، اسی لئے چھ ماہ کی مدت میں پیدا ہونے والے بچے کو شرعی بچہ تصور کیا گیا ہے ، اس سے کم مدت کے حمل والا بچہ جائزہ بچہ تصور نہیں ہوا ، حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں ایک شخص کے ہاں نکاح کے بعد چھ ماہ میں بچہ پیدا ہوگیا تو آپ نے اسے غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس کی ماں کو سزادینا چاہتی تو حضرت علی ؓ اور بعض دیگر صحابہ کرام ؓ نے مشورہ ددیا کہ آیت زیر درس کی رو سے چھ ماہ کے حمل کا بچہ جائز تصور ہوگا کیونکہ اس آیت کے مطابق حمل کی کم ازکم چھ ما ہ بنتی ہے ۔ جہاں تک حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت کا تعلق ہے تو جیسا کہ میں نے عرض کیا ، شریعت نے اس کی کوئی قید نہیں لگائی ، اگر چہ عام طور پر بچہ نو ماہ میں پیدا ہوجاتا ہے مگر ایسے کیس بھی مشاہدے میں آئے ہیں جن میں مدت حمل بہت زیادہ پائی گئی ۔ مثلاً جس بچے تین اور بعض چار سالہ حمل کے بعد پیدا ہوئے خ بعض بچے اتنے طویل عرصہ تک ماں کے پیٹ میں رہے کہ ان کے دانت بھی وہیں نکل آئے ، چین کے مشہور حکیم لاوزی کے متعلق مشہور ہے کہ وہ اسی سال تک ماں کے پیٹ میں رہا تاہم ایسے کیس بہت ہی شاذ ہوتے ہیں حمل کی عمومی مدت نو ماہ ہے جو کم ازکم چھ ماہ ہو سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کچھ تعین نہیں کیا جاسکتا ، اس قسم کی مستثنیات دوسری بھی پائی جاتی ہے مثلاً عام طور پر ایک حمل ایک ہی بچہ پیدا ہوتا ہے مگر ہم روزمرہ مشاہدے میں دو دو ، تین تین ، اور چار چار بچے پیدا ہوتے بھی دیکھتے ہیں ، 50 19 ؁ ء میں دن کے صوبہ تلنگانہ میں ایک کسان کے ہاں بیک حمل آٹھ بچے پیدا ہوئے ، ہماری تفسیر کتابوں میں قاضی قدو ۃ کے ہاں بیک حمل سو بچوں کی پیدائش کا ذکر بھی ملتا ہے ، بعض مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس مقام پر حمل سے مراد پیٹ کا حمل نہیں بلکہ اس حمل سے مراد پیدائش کے بعد گود میں اٹھانا ہے جو تیس ماہ تک ہو سکتا ہے واللہ علم بہر حال ہمارے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ احتیاط ، اسی میں ہے کہ بچے کی رضاعت اڑھائی سال تک تسلیم کی جائے ۔ انسانیت کی تکمیل : بچے کی پیدائش اور رضاعت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کی جوانی اور پختگی کی عمر تک پہنچنے کا ذکر کیا ہے کہ اس وقت ایک سعادت مسند کس ذکر پر چلتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے حتی اذ ا بلغ اشدد یہاں تک جب انسان اپنی قوت کو پہنچ جاتا ہے ، وبلغ اربععین سنۃ اور وہ اپنی عمر کے چالیس سال پورے کرلیتا ہے یعنی جب اس کے قوائے ظاہر و باطنہ مکمل وجاتے ہیں ۔ جسمانی طور پر بھی وہ خوب طاقتور ہوجاتا ہے اور اس کی عقل ، فہم اور ادراک کو بھی جلا ملتی ہے ، اس بات کی تصدیق تاریخ انبیاء سے بھی ہوتی ہے کہ انسانیت کی تکمیل عام طور پر چالیس سال میں ہوتی ہے ، چناچہ حضرت عیسیٰ اور یحییٰ علیما السلام کے علاوہ باقی عام انبیاء (علیہم السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی ، خود حضور خاتم النبین ﷺ بھی اسی عمر کو پہنچ کر اس منصب جلیل پر فائز ہوئے اور آپ طرف وحی آنا شروع ہوئی ۔ بعض روایت میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص پختگی کی اس عمر تک پہنچ کر بھی معصیت سے باز نہیں آتا اور گناہوں سے توبہ نہیں کرتا تو شیطان ایسے شخص کے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہتا ہے کہ یہ چہرے اچھا ہے ، گویا ایسے شخص پر شیطانی اثرات غالب آجاتے ہیں ، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ چالیس سال کی عمر تک پہنچنے پر جس شخص کی خیر اس کے شر پر غالب نہ آئے ، اس کو جہنم کی تیاری کرنا چاہئے ، سعادت تمند آدمی کی دعا : آیت کے اگلے حصہ میں ایک سعادتمند آدمی کی دعا کا ذکر آرہا ہے جس نے والدین کی خدمت کر کے یہ سعاد تمندی حاصل کی ، ایسے شخص نے چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے پروردگار کے حضور اس طرح دعا کی قال رب اوزعنی ان شکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدین کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے دے یعنی میری قسمت میں کر دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کرسکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ، اس نعمت میں تمام نعمتیں شامل ہیں جو اللہ نے انسان کو داخلی طور پر دی ہیں ، یعنی اس کو وجود بخشا اور پھر اس میں عقلی ، حکمت علم اور فہم جیسے جواہر رکھے اور پھر اس کے جسم کی باق کے لئے خارج سے اس کی خوراک اور آرام و آرائش کا بندوبست فرمایا ، پھر اس شخص نے اپنے رب کے حضور یہ بھی عرض کیا کہ مولانا کریم ٖ ! مجھے اس بات کی بھی توفیق دے وان اعمال صالحا تر ضہ کہ میں ایسا نیک عمل کرسکوں ، جس سے تو راضی ہوجائے ، ایسا سعادت مند آدمی یہ دعا بھی کرتا ہے واصلح لی فی ذریتی اور میرے لئے میری اولاد کو بھی درست فرمادے ۔ انی تبت الیک میں تیرے سامنے تو بہ کرتا ہوں وانی من المسلمین اور بیشک میں فرمانبرداری کرنے والوں میں ہوں ، یہ اللہ تعالیٰ نے ایک سعادت مند آدمی کا نظریہ اور اس کا طرز عمل بیان کیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ انسان کو یہ سعادت تین طریقوں سے حاصل ہوتی ہے ، ایک روحانی سعادت ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کا دل خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر یہ ادا کرتا ہے ، دوسری سعادت جسمانی ہے جس کی وجہ سے انسان کا جسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مصروف رہتا ہے ، فرماتے ہیں کہ تیسری سعادت خارجی ہوتی ہے ، امام رازی (رح) اور بعض دوسرے حکماء فرماتے ہیں کہ اس سعادت کلمہ طلب یہ ہے کہ انسان کے اہل اور اولاد اچھے ہوتے ہیں ، نیک بیوی بچوں کے لئے دعا کا ذکر اللہ نے سورة فرقان میں بھی کیا ہے کہ اللہ کے نیک بندے اس طرح دعا کرتے ہیں ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اغین (آیت ۔ 4 7 ) اے ہمارے پروردگار ! ہماری بیویوں اور اولادوں کی طرف سے ہمیں آنکھیں کی ٹھنڈک عطا فرما ، یعنی وہ خدا پرست ، نیکو کارلائق اور فرمانبردار ہوں یہ گویا انسان کی خارجی سعادت ہے ۔ اللہ کی طرف سے جزاء : اللہ نے سعادت مندلوگوں کی دعا کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا اولئلک الذین نتقبل عنھم احسن ما عملو یہ وہی لوگ ہیں کہ ان کے نیک اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں ونحبا وزعن سیاتھم اور ان کی برائیوں سے ہم درگزر کرتے ہیں ، مطلب یہ کہ ان کے اچھے اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کردیتے ہیں ، جب کہ ان کی چھوٹی موٹی خطائوں کو معاف کردیتے ہیں ، فی اصحاب الجنۃ یہ لوگ جنت والے لوگوں میں شامل ہوں گے ، اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے مقام پر داخل فرمائے گا ، وعد الصدق الذی کانو ا یوعدون یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے ، جو ان سے کیا جاتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وعدہ کیا تھا جو شخص سن شعور کو پہنچنے پر اللہ تعالیٰ سے اس کے انعامات کا شکر یہ ادا کرنے کی توفیق طلب کرے گا ، خدا کی وحدانیت کو مان کر اس کی عبادت کرے گا ، شرک ، کفر ، نفاق اور معصیت سے بچتا رہے گا ، والدین کی خدمت بجالائے گا ، ان سے خدا تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے وہ انہیں ضرور جنت میں پہنچائے گا ۔
Ayah 46:17

وَ الَّذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَّكُمَاۤ اَتَعِدٰنِنِیْۤ اَنْ اُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنُ مِنْ قَبْلِیْ١ۚ وَ هُمَا یَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَكَ اٰمِنْ١ۖۗ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۖۚ فَیَقُوْلُ مَا هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 46:17 in the Quran reader

اور وہ شخص جس نے کہا اپنے والدین سے کہ تف ہے تمہارے لئے کیا تم مجھ سے وعدہ کرتے ہو کہ میں نکالا جائوں گا (قبر سے ) اور تحقیق گزر چکی ہیں قومیں مجھ سے پہلے ، اور وہ دونوں (ماں باپ ) فریاد کرتے ہیں اللہ کے سامنے ( اور اس شخص کو بھی کہتے ہیں ) افسوس ہے تیرے لئے ، ایمان لے آ ، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے ، پس وہ کہتا ہے کہ نہیں ہے یہ مگر قصے کہانیاں لوگوں کی

1
Ayahs 46:18–20

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 46:18 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں کہ ثابت ہوچکی ہے ان پر بات امتوں میں جو پہلے گزر چکی ہیں ان سے جنوں اور انسانوں میں سے بیشک یہی لوگ نقصان اٹھانے والے تھے

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ۚ وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 46:19 in the Quran reader

اور ہر ایک فرقے کے لئے درجات ہیں ان اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے کئے ، اور تاکہ پورا پورا دے ان کو ان کے اعمال کا ، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا١ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 46:20 in the Quran reader

اور جس دن پیش کئے جائیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا آگ پر ، تو ان سے کہا جائے گا کہ تم نے کھا اڑالیا ہے اپنی پاکیزہ چیزوں کو دنیا کی زندگی میں ، اور تم نے فائدہ اٹھا لیا ہے ان سے پس آج تم کو بدلہ دیاجائے گا ذلت ناک عذاب کا اس وجہ سے کہ تم تکبر کرتے تھے زمین میں ناحق ، اور اس وجہ سے کہ نافرمانی کرتے تھے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے والدین سے متعلق دیئے گئے تاکیدی حکم کا ذکر کیا ، اس اعتبار سے انسانوں کو دو قسمیں بن جاتی ہیں ، یعنی سعادت مند اور بدبخت ، گزشتہ درس میں سعادت مند لوگوں کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہیں اور سا تھ ساتھ انسانوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتے ہیں ، حقوق العباد میں اولین حق والدین کا ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ، وہ لوگ والدین کی خدمت کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عر ض کرتے ہیں کہ وہ اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر یہ ادا کرنے کی توفیق بخشے اور یہ کہ وہ نیک اعمال انجام دے سکیں ۔ وہ اپنی بیویوں اور اولادوں کے لئے بھی نیکی کی دعا کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اپنی فرمانبرداری کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے سعادت مند لوگوں کے نیک اعمال کو اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے ان کی تقصیروں سے درگزر کرتا ہے اور وہ لوگ یقینا اللہ کی رحمت کے مقام جنت میں داخل ہوں گے۔ شقی انسان کا تذکرہ : سعادت مند لوگوں کا حال بیان کرنے کے بعد اب آج کے دور میں اللہ نے بدبخت لوگوں اور ان کے جزئے عمل کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہواتا ہے والذی قا لوالدیہ اف لکما اور وہ شخص جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف ہے تم دونوں پر۔ اُف کا لفظ بیزاری کے اظہار کے لیے بولاجاتا ہے جس میں مخاطب کو زجرو توبیخ اور ملامت کی جاتی ہے۔ یہ لفظ انہی معافی میں سورة بنی اسرائیل میں بھی آیا ہے۔ جہاں اللہ نے والدین کے حق میں ایسا لفظ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما ( آیت ، 23) جب وہ دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں ابف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو بہرحال فرمایا کہ شقی انسان اپنے والدین سے بیزاری کا اظہار کرکے کہتا ہے۔ اتعد بنی آر اخرج کیا تم مجھ سے وعدہ کرتے ہو ، مجھے بتلاتے ہو یا مجھے اس بات کی خبردیتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے دوبارہ نکالاجائو گا ۔ مجھے یہ بھی بتاتے ہو کہ قیامت برپا ہوگی ، حساب کتاب کی منزل آئے گی ، سب کو اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور پھر جزا وسزا کے فیصلے ہوں گے فرمایا ایسا بدبخت آدمی ان چیزوں کا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے وقد خلت القرون من قبلی حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں اور جماعیں گزر چکی ہیں مگر میں نے تو آج تک کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے اور سزا یا جزا سے دوچار ہوتے نہیں دیکھا پھر میں تمہاری بعث بعد الموت کی بات کو کیسے تسلیم کرلوں کہ مرنے کے بعد ہر ایک کو دوبارہ زندہ ہونا ہے اور اپنے اعمال و حساب دینا ہے۔ اس بےادب نافرمان اور نالائق بیٹے نے پہلے تو ایمان سے محرومی کی بات کی اور پھر وقوع قیامت اور جزائے عمل کا انکار کیا ، اس بدبخت کے والدین اسے نصیحت کر رہے ہیں ۔ مگر وہ ان سے بیزاری کا اظہار کررہا ہے۔ گویا اس نے نہ تو اللہ کا حق ادا کیا اور نہ ہی حقوق العباد میں سے والدین کا حق ادا کیا۔ حالانکہ وہ اسے ایمان کی طرف بلا رہے ہیں۔ والدین کی طرف سے دعوت ایمان : فرمایا وھما یستغیثن اللہ والدین اپنے بیٹے کے حق میں اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے نیکی کی توفیق دے اور وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو کماحقہ ادا کرے اور ساتھ ہی نافرمان بیٹے کو نصیحت بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں ویلک امن افسوس ہے ، تیرا ستیاناس ہو تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت وقوع قیامت اور جزائے عمل پر ایمان لے آتا کہ تو بھی شقاوت سے نکل کر سعادت مندوں کی صف میں شامل ہوجائے۔ ان وعد اللہ حق بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے ۔ جسے وہ ضرور پورا کرے گا یعنی بعث بعد الموت اور جزائے عمل ضرور واقع ہوگی۔ فیقول اس نصیحت کے جواب میں بیٹا کہتا ہے ماھذا الا اساطیر الاولین تمہاری یہ باتیں تو پہلے لوگوں کی قصے کہانیاں ہیں ۔ اساطیر ، اسطورہ کی جمع ہے جو کہ یونانی زبان کا لفظ ہے مگر عربی میں مستعمل ہے۔ عربی زبان نے بعض دیگر زبانوں کے الفاظ بھی اپنے اندر سمو لیے ہیں ۔ جیسے سجیل فارسی لفظ ہے مگر عربی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح نور ، میزان ، قسطاس وغیرہ بھی غیر عربی الفاظ ہیں مگر اب عربی زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ بہرحال اس ناخلف بیٹے نے والدین کی طرف سے دی گئی دعوت توحید کو ٹھکرادیا ، ایمان سے محروم ہوگیا اور والدین کی بےادبی اور گستاخی کا موجب بھی بنا۔ فرمایا اولئک الذین حق علیھم القول یہ وہی لوگ ہیں جن پر ( خدا کے عذاب کی) بات ثابت ہوچکی ہے ۔ کیونکہ انہوں نے ضد ، عناد اور تعصب کا شکار ہو کر ایمان اور معاد کا انکار کردیا اور والدین کی بےادبی کے مرتکب ہوئے ، لہٰذا ان پر عذاب کی بات ثابت ہوگئی اور یہ لوگ فی امم قد خلت من قبلھم من الجن والانس انہیں لوگوں میں شامل ہیں جو ان سے پہلے جنون اور انسان میں سے گزر چکی ہے انہوں نے توحید کا انکار کیا اور معاد کو جھٹلایا تو یہ لوگ بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر سزا کے مستحق ٹھہرے انھم کانوا خسرین بلاشبہ یہ لوگ نقصان اٹھانے والے تھے۔ اللہ نے ان کو زندگی ، صحت اور عقل جیسے قیمتی جوہر عطا کیے۔ دنیا کی زندگی میں یہ چیزیں ان کے لیے بیش قیمت سرمایہ تھیں مگر ان لوگوں نے اس پونچھ سے ایمان اور نیکی خریدنے کی بجائے انہیں ضائع کردیا اور دائمی فلاح حاصل کرنے کی بجائے ہمیشہ کی ذلت میں پڑگئے۔ جو شخص زندگی میں صحت جیسی نعمت کو استعمال کرکے عبادت ، ریاضت اور نیکی کے کام انجام دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو شخص عقل کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ وہ یقینا اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرلیتا ہے اور کفر ، شرک اور معاصی جیسی بری چیزوں سے بچ جاتا ہے اور کامیاب ہوجاتا ہے مگر مذکورہ شخص نے ان چیزوں سے فائدہ نہ اٹھایا اور ہمیشہ کے لیے ناکام ہوگیا۔ سعید اور شقی کی مثال : جیسا کہ پہلے عرض کیا ، گزشتہ درس میں سعید اور نیک آدمی کا ذکر تھا جب کہ اس درس میں شقی اور بدبخت کی صفات بیان ہو رہی ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سعادت مند کی مثال حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ جب حضور ﷺ کی عمر مبارک چالیس سال ہوئی تو آپ پر وحی کا نزول شروع ہوا ۔ اس وقت حضرت صدیق ؓ کی عمر اڑتیس برس تھی اور آپ پہلے ہی دن ایمان لے آئے۔ آپ کے ساتھ ایمان لانے والے دیگر افراد خانہ میں آپ کی بیوی ام رومان ؓ بھی ایمان لائی جو حضرت عائشہ ؓ اور عبدالرحمن ؓ کی والدہ ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی والدہ ام الخیر ؓ اور باپ ابوقحافہ ؓ بھی بڑی دیر کے بعد ایمان لائے جب کہ بہت بوڑھے ہوچکے تھے۔ اس طرح صرف اس خاندان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کی چار پشتیں صحابہ ؓ میں داخل ہیں ۔ خود حضرت ابوبکرصدیق ، ؓ آپ کے والد ابوقحافہ ؓ ، آپ کے بیٹے عبدالرحمن ؓ اور آپ کے پوتے عتیق بن عبدالرحمن ؓ اور شقی لوگ وہ ہیں جو ایمان قبول نہیں کرتے ۔ والدین کی نافرمانی کرتے ہیں ، قیامت اور جزائے عمل کا انکار کرتے ہیں (رح) ۔ اللہ نے ان دونوں گروہوں کے اوصاف بیان کردیے ہیں ۔ دنیا وآخرت میں جزائے عمل : آگے مجموعی طور پر فرمایا ولکل درجت مما عملو ا اور ہر شخص یا ہر فرقے کے لیے ان کے اعمال کے مطابق درجات ہیں ۔ امام محمد بن ابی بکر میں عبدالقادر رازی (رح) فرماتے ہیں کہ درجات کا تعلق تو اہل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے جو نیک کام انجام دیتے ہیں اور جو لوگ کفر اور معصیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے درکات ہوتے ہیں۔ درکات کا ذکر اس مقام پر نہیں کیا گیا۔ مگر مطلب یہی ہے ہر نیکی والے شخص کے لیے اس کی نیکی کے مطابق درجہ کیونکہ نیکی کبھی اعلیٰ درجے کی ہوتی ہے ، کبھی اوسط درجے کی اور کبھی ادنیٰ درجے کی۔ اسی طرح برُائی کے بھی درکات ہوتے ہیں۔ کوئی کفر میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ کوئی اس سے کم تر اور کوئی اس سے کم تر ۔ جہنم میں ان کے درکات بھی ان کے عقیدہ اور عمل کے مطابق ہی ہوں گے۔ پھر فرمایا یہ درجات اس وجہ سے ہوں گے ولیوفیھم اعمالھم تاکہ ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیاجائے ۔ وھم لا یظلمون اور ان کے ساتھ کوئی زیادہ نہیں ہوگی۔ زیادتی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو کم جرم کے بدلے میں زیادہ سزا نہیں جی جائے گی اور نہ کسی ایک کا گناہ دوسرے پر ڈالا جائے گا۔ سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولاخرۃ اکبر درجت واکبر تفضیلا (آیت ، 21) دنیا کے مقابلے میں آخرت میں بڑے اعلیٰ درجات اور برترفضیلت حاصل ہوگی۔ دنیا میں کردہ تھوڑے نیک عمل کی بھی زیادہ جزا ملے گی۔ جس طرح دنیا میں ہر شخص کی عقل ، ذہانت اور استعداد یکساں نہیں ہوتی ، اسی طرح آخرت میں بھی سب لوگ یکساں نہیں ہوں گے بلکہ ان کے درجات میں تفاوت ہوگا۔ نافرمانوں سے خطاب ادھر نافرمانوں کے بارے میں فرمایا۔ ویوم یعرض الذین کفرواعلی النار اور جس دن کافر لوگ آگ پر پیش کیے جائیں گے۔ تو ان سے کہا جائیگا اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا تم نے اپنی پاک چیزوں کو دنیا کی زندگی میں ہی کھاپی لیا واستمتعتم بھا اور ان کو استعمال کرکے ان سے فائدہ حاصل کرلیا ہے۔ مثلاً اگر کافر دنیا میں کوئی فلاحی کام کرتے ہیں تو ان کا بدلہ ان کو دنیا میں ہی شہرت اور نیک نامی کی صورت میں مل جاتا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کے نیک اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیتا ہے۔ کبھی ان کی صحت اچھی ہوتی ہے کبھی ان کو مال و دولت دے دیا جاتا ہے اور کبھی کسی اعلیٰ عہدے پر متمکن کرکے اس کے نیک اعمال کا حساب چکا دیا جاتا ہے اور پھر آخرت میں ان کے لیے کچھ نہیں ہوتا اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو بعض اوقات دنیا میں بھی ان کے اعمال کا بدلہ کسی حد تک دے دیتا ہے مگر آخرت کا بدلہ تو پورا پورا ہوگا بلکہ بڑھاچڑھا کر دیاجائے گا۔ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی امت میں توسع پیدا فرمادے یعنی امت خوشحال ہوجائے عرض کیا روم اور فارس والے لوگ لا یعبدون اللہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے یعنی کافر اور مشرک ہیں مگر پھر بھی اللہ نے ان کو ہر طرح کی فراوانی عطا کررکھی ہے دوسری طرف آپ اور آپ کے پیروکار ہیں جو اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کرتے ہیں مگر دنیا میں فراوانی نہیں۔ لہٰذا آپ ان کے لیے بھی دعا کریں۔ آپ نے جواب میں فرمایا اے عمر ؓ ! کیا تمہیں اس بات میں کچھ تردد ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو آخرت میں پورا پورا بدلہ دے گا۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی و یوم یعرض …کو جس دن کافروں کو جہنم رسید کیا جائے گا تو انہیں یہی کہا جائے گا کہ تم نے اپنے اچھے اعمال کا بدلہ دنیا کے مال ومتاع اور نیک نامی کی صورت میں پالیا۔ اب یہاں پر تمہارے لیے کوئی بدلہ نہیں ہے۔ دنیا سے بےرغبتی : مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے زہد کی طرف اشارہ ملتا ہے زہد کا معنی دنیا سے بےرغبتی ہے نہ کہ ترک دنیا جس کی اجازت نہیں دی گئی۔ صحابہ کرام ؓ کی زندگیاں کمال زہد کا نمونہ تھیں جنہوں نے دنیا کی ہر چیز کو آخرت پر قربان کردیا۔ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو حاکم بنا کر یمن کی طرف روانہ فرمایا تو ساتھ نصیحت بھی فرمائی ان عباد اللہ لیسوا باالمتنعین یعنی اللہ کے بندے عیش و عشرت میں مبتلا نہیں ہوا کرتے۔ اگر ایسا ہوگا ، تو ان کے آخرت میں محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ دنیا کا آرام و آسائش مطلقاً ممنوع نہیں ہے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق (الاعراف۔ 32) اے پیغمبر ! آپ ان سے پوچھیں کہ جو زیب وزینت کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو کس نے حرام کیا ہے ؟ انہیں استعمال کرو۔ کھائو پیو ، مگر یاد رکھو ! دنیا کی زندگی اور اس کے لوازمات میں اس قدرمنہمک نہ ہو جائو کہ آخرت کو بھول جائو اور پھر وہاں محروم ہونا پڑے۔ حتی الامکان سادگی اختیار کرو کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے البزاذۃ من الایمان سادگی ایمان کا جزو ہے وما انا من المتکلفین اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ مطلب یہ کہ تو سع کی چیزیں حرام تو نہیں ہیں ، اچھا لباس ، اچھی خوراک ، اچھا گھر ، اچھی سواری سب اللہ کے انعامات ہیں مگر ان میں الجھ کر آخرت کو نہ بھول بیٹھو ، اسی لے صحابہ کرام ؓ عام طور پر توسع سے گریز کیا کرتے تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ بڑے دولت مند صحابی تھے اور آپ اخراجات بھی فراخدلی سے کرتے تھے۔ آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک مجلس میں موجود تھے کہ آپ کے سامنے اعلیٰ قسم کا کھانا لایا گیا ۔ اتنااچھا کھانا دیکھ کر آپ کو احد کا زمانہ یاد آگیا۔ جب بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ ؓ کے لیے پورا کفن بھی مہیا نہیں تھا۔ حضرت حمزہ ؓ کا سرڈھانپ دیا گیا اور پائوں پر گھاس پھونس ڈال کر کفن مکمل کیا گیا۔ آپ اس زمانے کو یاد کرکے آبدیدہ ہوگئے حتیٰ کہ کھانا بھی اٹھادیا اور کھایا نہیں۔ آپ کہنے لگے۔ مجھے یاد رہے کہ قیامت کو ہمارے ساتھ بھی اس آیت میں مذکورہ معاملہ نہ پیش ہوجائے ۔ اذھبتم طیبتکم الا۔ کہ جائوتم نے دنیا میں ہی کھا اڑالیا تھا۔ اب یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں ہے۔ بہرحال اس احساس کا نام زہد ہے جو تمام خلفائے راشدین ؓ عشرہ مشرہ ؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ ؓ کی زندگیوں میں ملتا ہے۔ کفار کے لیے عذاب : فرمایا کہ کافروں سے کہاجائے گا کہ تم نے دنیا کے لوازمات سے دنیا کی زندگی میں ہی استفادہ حاصل کرلیا۔ فالیوم تجزون عذاب الھون پس آج کے دن تم کو ذلت ناک عذاب کا بدلہ دیاجائے گا۔ بما کنتم تستلبرون فی الارض بغیر الحق اسی وجہ سے کہ تم دنیا کی زندگی میں اس زمین پر ناحق تکبر کرتے تھے۔ تم جس زمین پر تکبر کرتے تھے وہ تو خود عاجز اور انکساری والی ہے وہ اپنے اوپر ہر بسنے والے کی خدمت گزار ہے۔ اس کو تمام ضروریات زندگی مہیا کرتی ہے اور پھر جب انسان مرجاتا ہے تو یہی زمین اس کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ بدبخت تو نے اس زمین سے سبق نہ سیکھا اور الٹا تکبر کرتا رہا اور دوسروں کو حقیر سمجھتا رہا اور غریبوں پر ظلم کرتا رہا۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے ولا تمش فی الارض مرحا ، انک لن خرق الارض ولن تبلغ الجبال طولاً ( بنی اسرائیل۔ 37) زمین پر اکڑکر مت چلو ، تو کتنا بھی مغرور ہے مگر اس قابل نہیں کہ زمین کو پھاڑ سکے یا اتنا لمبا ہوجائے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچ جائے تم بہرحال پانچ چھ فٹ کے انسان ہی رہو گے۔ لہٰذا ناحق غرور وتکبر نہ کرو۔ اور آج تمہیں اس وجہ سے بھی ذلت ناک عذاب کا سامنا کرنا ہو گا وبما کنتم تفسقون کہ تم دنیا میں رہ کرنا فرمانی کرتے تھے۔ فسق کا معنی اطاعت سے باہر نکل جانا ہے۔ اس کا اطلاق کفر کے علاوہ تمام معاصی پر بھی ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ تم دنیا میں کفر ، مشرک ، کھیل ، تماشے اور لہو ولعب میں مصروف ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے احکام کو تسلیم نہ کیا اور نہ ہی وقوع قیامت اور جزائے عمل پر ایمان لائے۔ لہٰذا آج ذلت ناک عذاب کا مزاچکھو۔
Ayahs 46:21–25

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ١ؕ اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 46:21 in the Quran reader

اور آپ تذکرہ کریں قوم عاد کے بھائی (ہود علیہ السلام) کا ، جب کہ ڈرایا انہوں نے اپنی قوم کو احصاف کے اندر اور تحقیق گزر چکے تھے آپ سے پہلے بھی ڈر سنانے والے اور آپ کے بعد بھی ( انہوں نے کہا ) نہ عبادت کروسوائے اللہ کے کسی کو ۔ بیشک میں خوف کھانا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب کا ۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 46:22 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے ، کیا تو آیا ہے ہمارے پاس تاکہ تو ہمیں ہٹا دے ہمارے معبودوں سے ۔ پس تو لا جو ہم سے وعدہ کرتا ہے۔ اگر تو سچا ہے

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۖ٘ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ Open ayah 46:23 in the Quran reader

کہا اس ( ہود علیہ السلام) نے بیشک علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور میں پہنچاتا ہوں وہ چیز جو مجھے پیغام دیا گیا ہے۔ مگر میں دیکھتا ہو کہ تم نادان لوگ ہو

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْ١ۙ قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا١ؕ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖ١ؕ رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ Open ayah 46:24 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے دیکھا اس (عذاب) کو بادل کی شکل میں جو ان کی وادیوں کے سامنے سے آرہا تھا تو کہنے لگے کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ (فرمایا نہیں ) بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کو تم نے جلدی طلب کرتے تھے۔ یہ ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 46:25 in the Quran reader

یہ ملیا میٹ کرتی ہے ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے ۔ پھر ہوگئے وہ لوگ کہ نہیں دیکھا جاتا تھا سوائے ان کے ٹھکانوں کے (کچھ بھی) اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ان لوگوں کو جو مجرم ہوتے ہیں

حوامیم سبعہ کی اس آخر سورة میں بھی سابقہ سورتوں کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت ہی کا تذکرہ ہے ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل اور ساتھ ساتھ شرک کا رد ہوا۔ عقیدہ توحید پر استقامت اور جزائے عمل کا بیان ہوا۔ پھر لوگوں کے دو گروہوں یعنی سعادتمند اور بدبخت لوگوں کا ذکر ہوا ۔ فرمایا سعادتمند لوگ وہ ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے سامنے مناجات کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نیک انجام بھی بیا ن ہوا۔ پھر اللہ نے بدبخت انسانوں کا ذکر کیا ہے کہ وہ حقوق سے چشم پوشی کرتے ہیں اور سرکشی غرور اور تکبر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جب انہیں ایمان کی دعوت دی جاتی ہے اور وقوع قیامت اور جزائے عمل سے ڈرایاجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کی حقیقت کچھ نہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ جب جزائے عمل کا موقع آئے گا تو ان لوگوں سے کہاجائے گا کہ تم نے دنیا کی زندگی میں ہی کھا اڑا لیا ہے۔ عیش و عشرت کرلی۔ لہٰذا آج تمہارے لیے اللہ کے ہاں کچھ حصہ نہیں ہے۔ اب تمہیں ذلت ناک عذاب کا مزا چکھنا پڑے گا یہ تمہارے ناحق تکبر ، درفسق ونافرمانی کا بدلہ ہے جو مل کر رہے گا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) : چونکہ مشرکین مکہ اور ضادید قریش بھی غرور وتکبر کی بیماری میں مبتلا تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کی عبرت کے لیے قوم عاد کا ذکر کیا ہے کہ تمہاری طرح وہ بھی سرکش قوم تھی مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو انہیں دنیا سے نابود کردیا گیا اور ان کا فرو واحد بھی باقی نہ بچا۔ ارشاد ہوتا ہے واذکرو اخاعاد آپ تذکرہ کریں قوم عاد کے بھائی یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) کا جو اسی قوم کے ایک فرد تھے اور اللہ نے آپ کو انہی کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ آپ نے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا توحید کا درس دیا اور کفر وشرک کی مذمت بیان کی مگر ان لوگوں نے غرور وتکبر کی بناء پر اس دعوت کو ٹھکرا دیا ۔ اس وم کی ہلاکت کے واقعہ کو اہل عرب بھی جانتے تھے کیونکہ ان کے قصے کہانیوں میں قوم عاد کا ذکر آتا ہے۔ لہٰذا اللہ نے قوم عاد کا واقعہ اور اس کی ہلاکت کا ذکر کرکے مشرکین مکہ اور عرب کو عبرت دلائی ہے۔ اخوت مختلف اعتبار سے ہوتی ہے کبھی ملکی اعتبار سے ، کبھی قومیت کے اعتبار سے ، کبھی زبان کی وجہ سے اور کبھی دینی اعتبار سے ، جیسا کہ فرمایا ، کل مومن اخوۃ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں خود قرآن میں بھی موجود ہے انما المومنون اخوۃ (الحجرات ) تمام ایمان دار آپس میں بھائی ہیں حضور ﷺ جب حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر فرماتے تو کہتے یرحمنا اللہ واخاعاد اللہ تعالیٰ ہم پر بھی رحم فرمائے اور قوم عاد کے بھائی ہو د (علیہ السلام) پر بھی حضرت ہود (علیہ السلام) کا نسب نامہ اس طرح ہے ہود ابن عبداللہ ( یا شالخ) ابن رباح ، ابن الخلود ، ابن عاد ، ابن اوس ، ابن ارم ، ابن سام ، ابن نوح (علیہ السلام) ۔ آپ کی قوم کا تعلق سامی نسل سے تھا۔ قوم عاد عرب کے شمال کی طرف آباد تھی اور یہ عاد ِ اولیٰ کہلاتی ہے جب کہ قوم ثمود جنوب کی طرف آباد تھی اور عاد ثانیہ کہلاتی ہے امام جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی کتاب ” حسن المحاضرۃ فی احوال المصروالقاھرۃ “ میں لکھا ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) مصر کے حاکم مصرابن بیضر کے زمانے میں مبعوث ہوئے۔ ملک مصر اسی شخص کے نام سے موسوم ہوا اور یہ شخص طوفان نوح کے دو ہزار چھ سو سال بعد مرا تھا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے چار سو اسی سال تک قوم کو تبلیغ کی مگر وہ ایمان نہ لائی او کفر وشرک میں ہی مبتلا رہی۔ صرف چند لوگ ایمان لائے اور باقیوں کو اللہ نے ہلاک کیا۔ اس ہلاکت کے بعد بھی آپ ڈیڑھ سو سال تک زند رہے۔ قوم عاد کا تذکرہ : قوم عاد کا تذکرہ سورة اعراف ، ہود ، شعرائ ، الحاقہ ، فجر اور بعض دیگر سورتوں میں بھی موجود ہے۔ یہ قوم حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اس دنیا میں آباد ہوئی۔ بڑے قد آور اور طاقتور لوگ تھے۔ اللہ نے اس مقام پر اختصار کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔ اذانذرقومہ بالاحقاف جب ڈرایا ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو احقاف میں۔ احقاف حقف کی جمع ہے جس کا معنی ریت کاٹیلہ ہوتا ہے چونکہ اس علاقہ میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے پائے جاتے ہیں اور طوفان کے دوران ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں ۔ اس لیے اس پورے علاقے کو احقاف کے نام سے موسوم کیا گیا ہے یعنی سرخ اور دیگر بڑے بڑے ریت کے ٹیلوں کی سرزمین ۔ یہ لمبا چوڑا خطہ یمامہ ، عمان ، بحرین ، حضر موت اور مغربی یمن کے درمیان واقع ہے جو صحرائے اعظم الدھنا یاربع خالی کہلاتا ہے اس کا کل رقبہ تقریباً تین لاکھ مربع میل ہے۔ قوم عاد عمان سے لے کر یمن تک اور نجد سے لے کر حضر موت تک کے اسی علاقے میں آبادی تھی۔ دیگر پرانی اقوام کی طرح اس قوم میں بھی کفروشرک ، غرور وتکبر اور ظلم وجود جیسی بیماریاں پائی جاتی تھیں ۔ یہ لوگ اتنے متعبر تھے کہ باقی دنیا کو چیلنج کیا کرتے تھے اور کہتے تھے من اشد منا قوۃ (حم السجدۃ 25) کہ ہم سے زیادہ طاقتور دنیا میں کون ہے ؟ فرمایا جب ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ڈرایا وقد خلت النذر من …من خلقہ اور تحقیق آپ سے پہلے بھی خدا کے ڈرانے والے نبی گزر چکے تھے اور آپ کے بعد بھی آئے۔ آپ سے پہلے آپ کے جد امجد حضرت نوح (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تک قوم کو تبلیغ کی مگر صرف ستر یا اسی افراد ایمان لائے اور باقیوں کو اللہ نے طوفان میں غرق کیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر بھی ملتا ہے۔ وہ بھی حضرت ہود علیہ اسلام سے پہلے ہوئے ہیں۔ حضرت شیث (علیہ السلام) کا ذکر اگر یہ قرآن میں نہیں ہے۔ تاہم تاریخ میں ان کا نام بھی آتا ہے۔ ممکن ہے ان کے علاوہ اور نبی اور رسول بھی آئے ہوں جن کا ذکر قرآن پاک میں نہیں ملتا۔ جہاں تک ہود (علیہ السلام) کے بعد کا تعلق ہے تو آپ کے بعد بھی اللہ کے عظیم المرتبت کئی رسول مبعوث ہوئے ۔ حضرت ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب ، لوط ، یونس (علیہم السلام) غرضیکہ اللہ کے ہزاروں نبی آنے اور پھر انبیائے بنی اسرائیل کی آخری کڑی کے طور پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے مبعوث فرمایا تو یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہود (علیہ السلام) سے پہلے اور بعد بھی بہت سے ڈرانے والے آئے جنہوں نے اپنی اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی۔ کفروشرک سے منع فرمایا اور ان کو ان کے بُرے انجام سے ڈرایا ۔ دعوت توحید : سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کے مشن کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی قوم کو درس دیا الا تعبدو الا اللہ کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں ہے۔ جس کے سامنے تم نذرونیاز پیش کرتے ہوچڑھاوے چڑھاتے ہو ، مانتیں مانتے ہو ، ان کے سامنے عجزوانکساری کا اظہار کرتے ہو اور انہیں اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو۔ وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے اور نہ ہی انہیں کچھ اختیار ہے۔ ہود (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ تمہاری ان کفریہ اور شرکیہ باتوں کی وجہ سے انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم ۔ مجھے خوف ہے کہ تم بڑے دن کے عذاب میں مبتلا ہو جائو گے۔ یوم عظیم سے مراد قیامت کا دن ہے جس دن لوگوں کی سزا یا جزا کے حتمی فیصلے ہوں گے۔ یوم عظیم سے ایام اللہ بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ جنکا ذکر سورة ابراہیم میں موجود ہے وذکر ھم بایام اللہ (ایت۔ 5) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم فرعون اور نبی اسرائیل کے پاس بھیج کر حکم دیا کہ ان کو کفروشرک کے اندھیروں سے نکال کر نور ایمان کی طرف لائیں اور انہیں اللہ کے دن یاد دلائیں ۔ ایام اللہ سے وہ دن مراد ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے یا ان کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ بہرحال ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اللہ کی گرفت میں نہ آجائو ۔ اس کے جواب میں قالو اقوم کے لوگ کہنے لگے اجئتنا لتا فکنا عن الھتنا اے ہود (علیہ السلام) ! کیا تو ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیرناچاہتا ہے۔ صرف ایک خدا کی عبادت کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم ان تما م معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آبائو اجداد پرستش کرتے آئے ہیں۔ کہنے لگے تو کیسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ سورة ہود میں اس بات کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہے کہ وہ لوگ کہنے لگے کہ اے ہود ! تم تو ہمارے پاس کوئی واضح نشانی بھی لے کر نہیں آئے اور ہم محض تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑیں گے اور نہ تم پر ایمان لائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ان تقول الا اعترک بعض الھتنا بسوئ ( آیت 54) ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔ ہم تو اپنی رسم و رواج اور باپ داد کے دین کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ۔ تو ہمیں عذاب کی دھمکی دیتا ہے فاتنا بما تعدنا ان کنت من لصدقین۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر وہ عذاب لے آ جس سے ہمیں ڈراتا ہے ہم خود ہی اس سے نپٹ لیں گے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کسی قوم پر عذاب لانا میرا کام نہیں ہے اور نہ ہی میں اس کی تاریخ وقوع سے واقف ہو قالم انما العلم عند اللہ فرمایا اس بات کا علم تو صرف میرے اللہ کے پاس ہے۔ البتہ اتنی بات یقینی ہے کہ نافرمان لوگ ضرور اس عذاب کا مزا چکھیں گے وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ آپ نے قوم کو اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ میراکام تو یہ ہے وابلغکم مارسلت بہ کہ میں تم تک وہ چیز پہنچا دیتا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے۔ میں تمہیں خدا کا دین ۔ شریعت اور اس کے احکام پہنچانے پر مامور ہوں۔ میں تو حتیٰ الامکان اپنا فرض منصبی پورا کررہا ہوں۔ ولکنی ارکم قوماتجھلون مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ہی نادان لوگ ہو جو پیغام خداوندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کفر اور شرک پر مصر ہو اور پھر الٹا چیلنج کرتے ہو کہ جو عذاب لانا ہے لے آ ۔ یہ کتنی حماقت کی بات ہے کہ اپنے منہ سے عذاب طلب کر رہے ہو۔ جب وہ آگیا تو پھر تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی۔ …………………… بالآخر قوم پر عذاب کا وقت آگیا ۔ تین سال تک ایک قطرہ آب بھی نہ برسا اور لوگ سخت قحط کا شکار ہوگئے۔ اس زمانے میں بیت اللہ شریف کی عمارت تو سیلاب کی وجہ سے منہدم ہوچکی تھی۔ مگر پھر بھی لوگ اس جگہ کا طواف کرتے تھے اور وہاں جاکر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے تھے۔ جب قوم عاد قحط سالی سے سخت پریشان ہوگئی تو انہوں نے اپنا ایک وفد مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ وہاں جاکر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بارش نازل فرما کر قحط کو دور کردے۔ یہ وفد مکہ پہنچا اور انہوں نے بیت اللہ شریف والے مقام پر جاکر دعائیں کیں۔ پھر ایک دن قوم نے دیکھا کہ آسمان پر سیاہ بادل گھر آئے ہیں وہ بڑے خوش ہوئے کہ کالی گھٹا چھائی ہے۔ اب بارش ہوگی۔ یہاں پر اللہ نے اسی بات کا ذکر کیا ہے۔ فلما راوہ عارضا مستقبل اودیتھم جب انہوں نے دیکھا اس (عذاب) کو بادلوں کی شکل میں جو ان کی وادیوں کے سامنے سے آرہا تھا ۔ قالو اھذا عارض ممطرنا کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ ان لوگوں نے سیاہ بادل دیکھ کر بڑی خوشی منائی کہ تھوڑی ہی دیر میں جل تھا ہوجائے گی اور ہماری مراد برآئے گی۔ مگر وہ بدبخت نہیں جانتے تھے کہ یہ بادل پانی کی بجائے ان پر آگ کی بارش کرنے والے ہیں۔ مگر ادھر سے ارشاد ہوا کہ یہ بارش نہیں بل ھو ما استعجلتم بہ بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کو تم جلدی طلب کرتے تھے اور کہتے تھے کہ لے آئو جس کا ہم سے وعدہ کرتے ہو۔ فرمایا ریح فیھا عذاب الیم یہ ایک تند ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب پنہاں ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے انگوٹھی کے حلقے کے برابر ہوا کو کھولنے کا حکم دیا ۔ جس سے ان پر شدید عذاب آگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا نصرت بالصبا واھلکت العاد بالدبور اللہ نے احزاب کے موقع پر میری مدد مشرقی ہوا سے فرمائی۔ ایسی ٹھنڈی اور تیز ہوا چلائی جس سے حملہ آور مشرکین کے خیمے اکھڑے گئے اور وہ مدینہ کا محاصرہ ختم کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اس کے برخلاف اللہ نے قوم عاد کو مغربی ہوا کے ذریعے ہلاک کیا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ اللہ نے ایسی تندوتیز ہوا بھیجی۔ تدمر کل شئی بامر ربھا جو ملیامیٹ کرتی ہے ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے۔ سورۃ الحاقہ میں ہے کہ قوم عاد کا تیزآندھی کے ساتھ ستیاناس کردیا گیا سخرھا علیھم سبع لیال وثمنیۃ ایام جو ان پر متواتر سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہی۔ حتیٰ کہ فرمایا فھل تری لھم من باقیۃ ان میں سے فرد واحد بھی باقی نہ بچا بلکہ سب نافرمان ہلاک ہوگئے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ اپنے پیروکاروں کو لے کر فلاح چشمہ کے قریب چلے جائیں ۔ آپ نے اللہ کے حکم سے اہل ایمان کے اردگرد ایک لکیر کھینچ دی اور یہ لوگ عذاب الٰہی سے محفوظ رہے۔ باقی سب آپ میں ٹکرا ٹکرا کر ہلاک ہوگئے اور پھر ان کی لاشیں زمین پر ایسے پڑی تھیں کانھم اعجاز نخل خاوید (الحاقہ ) گویا گھجوروں کے کھوکھلے تنے پڑے ہوں ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ عذاب اس قدر شدید تھا کہ اگر کوئی شخص اونٹ پر سوار جارہا ہے تو ہوا اسے زمین سے اٹھا کر پٹخ دیتی اور وہ ہلاک ہوجاتا۔ اور آخر اس قوم کی حالت یہ ہوگئی۔ فاصبحو لایر ی الامسکنھم کہ ان کے ٹھکانوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ یعنی مکان تو بچ گئے تھے مگر ان کے مکین حتیٰ کہ جانور تک فنا کردیے گئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کبھی آسمان پر بادل تھے تو حضور ﷺ پریشان ہوجاتے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایسے ہی ایک موقع پر پریشانی کی وجہ دریافت کی تو فرمایا۔ عائشہ ؓ ! مجھے ڈر ہے کہ یہ بادل ویسے ہی نہ ہوں جیسے قوم عاد ر آئے تھے اور انہیں تباہ کردیا گیا تھا۔ اسی لیے جب تیز ہوائیں چلتیں تو حضور ﷺ دعا فرماتے اللہ انی اسئل خیرھاوخیر مافیھا وخیرما ارسلت بہ واعوذ بک من شرھا وشرما فیھا وشرما ارسلت بہ اے اللہ میں اس ہوا اور جو کچھ اس کے اند ہے اور جو کچھ یہ ساتھ لے کر آئی ہے ۔ اس کی بہتری کا سوال کرتا ہوں اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں ہوا کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے اور جو کچھ یہ ساتھ لے کر آئی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ قوم عاد کو ہلاک کردیا گیا۔ کذلک نجزی القوم المجرمین ہم مجر م لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ لہٰذا مکہ والوں کو خبردار ہوناچاہیے کہ اگر اللہ کی نافرمانی کرنے پر قوم عاد ہلاک ہو سکتی ہے تو اسی جرم میں مشرکین مکہ بھی بچ نہیں سکتے۔ الغرض ! اللہ نے قوم عاد کا حال بطور عبرت ذکر کردیا ہے تاکہ اہل مکہ بھی اپنی فکر کرلیں ۔