Ayahs 45:1–5نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجاثیہ ہے جو اس کی آیت 280 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے وتری کل امۃ جاثیۃ اور تم ہر گرو کو گھٹنے ٹیکے ہوئے پائو گے ، یہ قیامت والے دن حساب کتاب کی منزل کا ذکر ہے کہ اس دن لوگ نہایت عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے مفسرین کرام اس سورة کا دوسرا نام سورة الشریعتہ بھی ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس کی آیت 180 میں شریعت کا ذکر بھی آتا ہے ایک سورة کے متعدد نام ہونا کچھ غیر معروف بات نہیں کیونکہ سورة الفاتحہ کے ہم پندرہ نام بھی پڑھ چکے ہیں۔ بعض مفسرین اس کا نام حم الجاثیہ یا حم الشریعۃ بھی ذکر کرتے ہیں۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی چھٹی سورة ہے اور مکی زندگی کے آخری دور میں اسی ترتیب سے نازل ہوئی اس سورة کی سینتیس 37 آیات اور چار رکوع ہیں اور یہ سورة 644 کلمات اور 2600 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
جیسا کہ گزشتہ حوامیم سورتوں میں بیان کیا جا چکا ہے۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی قرآن کریم کا خلاصہ کہلاتی ہیں کہ ان میں اسلام کے چاروں بنیادی عقائد توحید ، رسالت معاد اور قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کو مختلف عنوانات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے گزشتہ سورة میں جزائے عمل کے سلسلہ میں انذار کا پہلو غالب تھا اور اس سے پہل سورة میں توحید کے دلائل کی طرف زیادہ رخ تھا ۔ اب اس سورة میں بھی توحید اور جزائے عمل ہی کا ذکر ہے۔ گزشتہ سورة میں قوم تبع اور فرعن کے غرور وتکبر اور اس کی ہلاکت کا ذکر تھا تو اس سورة میں بعض لوگوں کی نافرمانی اور ان کے انجام کا بیان آ رہا ہے۔
حروف مقطعات
دیگر حوامیم سورتوں کی طرح اس سورة کی ابتداء میں حروف مقطعات حم سے ہوتی ہے اگرچہ حضور ﷺ نے ان حروف کے معانی نہیں بتائے۔ تاہم مفسرین کرام لوگوں کی تقریب فہم کے لئے ان حروف کے بعض معافی بیان کرتے ہیں اور ان کا تذکرہ گزشتہ سورتوں کے آغاز میں بھی کیا جا چکا ہے چناچہ بعض مفسرین کا قول ہے حم خدا تعالیٰ کے اسمائے پاک میں سے ایک اسم ہے جیسا کہ ایک عربی شاعر کہتا ہے۔
یذمکر نی حم والرمح شاجر
فھلا تلی حم قبل التقدم
کہ میرا مدمقابل مجھے حم کا واسطہ دیکر لڑائی بند کرنا چاہتا ہے مگر اس نے یہ واسطہ لڑائی شروع ہونے سیق بل کیوں نہ پیش کیا تاکہ لڑائی کی نوبت ہی نہ آتی ، گویا حم اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے جس کے واسطہ سے ایک فریق لڑائی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
بعض فرماتے ہیں کہ ہر حرف مقطعہ کا اشارہ کسی خاص حقیقت کی طرف ہوتا ہے مثلاً یہاں پرح کا اشارہ حکم کی طرف اور م کا ملک ، مالک یا مجید کی طرف ہو سکتا ہے اور مفہوم یہ بنتا ہے کہ حکم ازلی اور ملک ابدی اللہ وحدہ لاشریک کے لئے ہے گویا قرآن کریم اور اس سورة کا نزول حکم ازلی اور ملک ابدی کے نظام کا ایک حصہ ہے اس بات کی تائید قرٓن کریم کی بعض دوسری آیات سے بھی ہوتی ہے جیسے فرمایا ان الحکم الا للہ (الانعام 57- ) حکم اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے الا لہ الحکم (الانعام 62- ) خبردار ! حکم اس کا ہے لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار (المومن 6- ) آج بادشاہت کس کی ہے ؟ اکیلے اور غالب خدا کی غرضیکہ عہد مقیم اور بقائے دوام صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے ، باقی ہر چیز فانی ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ح کا اشارہ حمد کی طرف ہو سکتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی حمد ہر بندے کے لئے ہر حالت میں ضروری ہے فرشتے بھی ہر وقت اللہ کی تعریف میں مشغول رہتے ہیں اور دیگر ہر چیز بھی اللہ کی حمد و ثنا کرتی رہتی ہے جیسے قرآن کے مختلف مقامات پر اس کا ذکر موجود ہے یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض (الجمہ 105) ارض و سما ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے پھر فرماتے ہیں کہ م کا اشارہ انسان کی قوت علمیہ کی طرف ہو سکتا ہے اور مطلب یہ کہ ہر بندے کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوت علمیہ کو درجہ کمال تک پہنچائے ۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ح کا اشارہ الحی کی طرف اور م کا اشارہ القیوم کی طرف ہے۔ مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ خود زندہ ہے اور دوسروں کو زندگی بخشتا ہے وہ خود قائم ہے اور ہر چیز کو وہی قائم رکھتا ہے بعض فرماتے ہیں کہ ن کا اشارہ حقانیت کی طرف ہو سکتا ہے۔ کائنات کی تمام اشیا عدم کا رنگ رکھتی ہیں جب کہ حق اور ثابت صرف ذات خداوندی ہے جو ہمیشہ سے قائم و دائم ہے اور ہمیشہ رہے گی بعض فرماتے ہیں کہ کائنات اور اس میں پائی جانے والی تمام چیزیں دراصل قدرت خداوندی کے مظاہر ہیں انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے جمال و کمال کا اظہار ہوتا ہے ، انسان کو چاہئے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شیون اور آیات میں غور و فکر کرے تاکہ اسے اللہ تعالیٰ کی حقانیت معلوم ہو سکے اور وہ توحید الٰہی کو سمجھ سکے جو شخص نشانتا قدرت میں غور و فکر نہیں کرتا وہ دراصل اندھا ہے اور اسی لئے وہ توحید کا انکار کرتا ہے غرضیکہ جس طرح انسان آئینے میں اپنی شکل دیکھ سکتا ہے اسی طرح وہ ان مظاہر قدرت کے ذریعے خدا تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ ح کا اشارہ حیات کی طرف اور م کا محمد ﷺ کی طرف ہو سکتا ہے اور اس طرح مفہوم یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی حیات کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کو مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا بعض فرماتے ہیں کہ ح کا اشارہ حمایت کی طرف بھی ہو سکتا ہے گویا اللہ تعالیٰ نے مخالفین پر واضح کردیا ہے کہ اللہ نے محمد ﷺ اور آپ کے دین کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھا لیا ہے وہ دنیا میں ضرور آپ کی مدد کرے گا اور دین اسلام کو پھیلانے کا یہی وجہ ہے کہ اس کے پیروکاروں کے اپنے حالات کی خرابی کے باوجود یہ دین قیامت تک قائم رہے گا۔
امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی اپنی متعدد کتب الخیر الکثیرالفوزالکبیر اور ھوامع وغیرہ میں لکھتے ہیں کہ حروف مقطعات کے معانی ذوقی یا کشفی طور پر ہی معلوم ہو سکتے ہیں چناچہ اللہ نے اس ذریعہ ہے مجھے ان حروف کے یہ معانی القا کئے ہیں جامال نورانی متعشع یعنی یہ ایک نورانی اجمال ہے جو اس مادی اور متدنس جہان میں لوگوں کے عقائد باطلہ اور اعمال فاسدہ کے ساتھ ٹکراتا ہے اور لوگوں کے شکوک و شبہات کے مقابلے میں حق کو ظاہر کرتا ہے گویا یہ اجمالی نورانیت باطل عقائد و اعمال کی تردید اور حقیقت حال کو واضح کرتی ہے چناچہ قرآن کی یہ سورة یا کوئی دوسری سورة دیکھ لیں کہ ان حروف کے اجمال کے ذریعے سورة میں پیش آنے والے مضامین ک تفصیل بیان کردی جاتی ہے۔
امام جلال الدین سیوطی اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات کے معانی کے متعلق زیادہ کرید نہیں کرنی چاہئے کیونکہ قرآن پاک کا زیادہ حصہ تو محکمہ آیات پر مشتمل ہے جن کا مطلب اور مفہوم واضح ہے دوسرا حصہ متشابہات کا ہے۔ ان آیات کے معانی تو تو معلوم ہیں مگر ان کی حقیقت معلوم نہیں اور تیسرا حصہ حروف مقطعات کا ہے جن کے نہ تو معانی ٹھیک ٹھیک معلوم ہیں اور نہ ہ یمفہم کو واضح کیا گیا ہے بلکہ ان کو اسرار کے طور پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے چناچہ ان حروف کے بارے میں حضور ﷺ سے کوئی تفصیل منقول نہیں ہاں ! صحابہ کرام کے زمانے میں جب قرآن کریم کی وسیع اشاعت ہوئی ، تو حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن عباس نے ان حروف کے متعلق کچھ بیان فرمایا مگر وہ بھی یقینی نہیں ہے لہٰذا اس سلسلہ میں زیادہ صحیح اور سلامتی والا راستہ وہی ہے جو امام سیوطی نے اختیار کیا ہے اللہ اعلم بمرادہ بذلک یعنی ان حروف کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اس کی ان حروف سے جو بھی مراد ہے امنا و صدقنا ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ برحق ہے بہت سی چیزیں ہماری عقل و فہم سے بالاتر ہیں ، لہٰذا ہمیں اس معاملہ میں زیادہ کرید نہیں کرنا چاہئے کہ اس طرح گمراہی میں پڑجانے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
نزول کتاب
دیگر حوامیم سورتوں کی طرح اس سورة کا آغاز بھی قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت سے وہ رہا ہے۔ ارشاد ہتا ہے تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم کتاب کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو کمال قدرت کا مالک ، زبردست ، اور حکمتوں والا ہے ، ” مشرکین مکہ اکثر اعتراض کرتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ یہ کسی شعار یا کاہن کا کلام ہے۔ بعض کہتے کہ حضرت محمد ﷺ کو بعض عجمی غلام کوئی چیز سکھا دیتے ہیں جس کو وہ قرآن بنا کر پیش کر دیت یہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے مختلف مقامات پر اس اعتراض کی تردید فرمائی ہے اور واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے اور اسی کی طرف سے اپنے نبی آخر الزمن ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے جو ہر چیز پر غالب اور حکمت والا ہے قرآن کریم کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہے۔
ارض و سما بطور نشانات قدرت
اگلی آیت میں اللہ نے توحید اور معاد کے بعض مشترکہ دلائل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ارشاد ہتا ہے ان فی السموت والارض لایت المومنین بیشک آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے لئے بیشمار نشانیاں ہیں۔ آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھیں آپ کو سورج ، چاند اور نیلگوں سطح نظر آئے گی ، رات کے وقت چمکنے والے کروڑوں کی تعداد میں سیارے اور ستارے دیکھے جاسکتے ہیں اور پھر ہمارے پائوں تلے آنے والی زمین کا اپنا وجود اور زمین کی سطح پر پائی جانے والی مع دنیات ، پانی ، گیس اور تیل وغیرہ جب سے اللہ تعالیٰ نے سورج سے زمین کو الگ کیا ہے ، سائنس دان ، سورخ اور ماہرین ارضیات وغیرہ تحقیقات کر رہے ہیں مگر اس زمین سے متعلق پوری معلومات حاصل نہیں کرسکے ، ابھی تک زمین میں نیچے کی طرف صرف آٹھ میل تک کھدائی کی جاسکی ہے اور اس حد تک پائی جانے والی اشیاء کے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
اس سے آگے سخت چٹانیں کھدائی میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں نامعلوم آگے چل کر کیسے کیسے اختلافات منظر عام پر آنے والے ہیں۔
زمین دیگر آسمانی کردوں کی نسبت بہت چھوٹا سیارہ ہے جدید تحقیق کے مطابق سورج زمین سے تریا لاکھ گناہ بڑا ہے اور اس سے بڑے بڑے سیارے بھی کائنات میں موجود ہیں سائنسدان کہتے ہیں کہ شعری ستارہ جس کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے وہ سورج سے بھی بیس ہزار گنا بڑا ہے باریک باریک کروڑوں ستاروں سے بنی ہوئی رات کو نظر آنے والی کہکشاں کی حقیقت کو کون جان سکتا ہے کہ اس میں کون کون سے راز پوشیدہ ہیں زمین کے اردگرد پانچ چھ سو میل تک ہوا کا خول چڑھا ہوا ہے اس ہوا میں بہت سی گیسیں ہیں جن میں سے اہم ترین گیس آکسیجن ہے جس پر تمام جانداروں بلکہ نباتات کی زندگی کا بھی انحصار ہے یہ ایک لطیف گیس ہے جو ہر سانس کے ذریعے ہر جاندار کے جسم کے اندر جا کر خون کو صاف کرتی ہے اور بقائے حیات کا ذریعہ بنتی ہے بہرحال فرمایا کہ زمین ، اس کے ادر اور باہر پانی جانے والی چیزوں میں مومنوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں اگر انسان ان میں غور و فکر کرے تو اسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے۔
جانداروں کی تخلیق
ارض و سما کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا و فی خلقکم اور تمہاری اپنی پیدائش میں بھی بیشمار نشانیاں ہیں سورة الذریت میں ہے وفی انفسکم افلا تبصرون (آیت 21- ) اور تمہارے نفسوں میں بھ یاللہ نے اپنی قدرت اور وحدانیتک ی نشانیاں رکھی ہیں کیا تم ان کا مشاہدہ نہیں کرتے ؟ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں اتنے قوائے ظاہرہ اور باطنہ رکھے ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا ، انسان کی دماغی صلاحیت و اعصاب ، خون معدہ جگر نظام تناسل وغیرہ سب حیرت انگیز چیزیں ہیں۔ سائنسدان اور ڈاکٹر ابھی تک انسان یجسم کے صرف پینتالیس فیصد حصہ میں تحقیق مکمل کرچکے ہیں۔ جب کہ باقی پچپن فیصدی جسم کے متعلق تحقیقات ابھی باقی ہے اسی لئے فرمایا کہ اپنی تخلیق اور اپنے وجود میں ہی غور کرو کہ اللہ نے کس طرح انسان کی تخلیق مٹی سے کی اور پھر اسے کس قدر شرف بخشا کہ اسے اشرف المخلوقات بنا دیا اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی تمام چیزیں اس کی خدمت پر مامور کردیں یہ سب نشانات قدرت و توحید ہیں فرمایا نہ صرف تمہاری اپنی تخلیق میں بلکہ وما یبث من دابۃ جو جاندار اللہ نے پھیلا دیئے ہیں وہ بھی اس کی قدرت کے نشانات ہیں اللہ نے زمین کے اوپر اس کے اندر اور فضا میں لاکھوں اور کروڑوں قسم کے جاندار مخلوق پھیلا دی ہے جس کا شمار نہیں کیا جاسکتا اس کے علاوہ سمندروں کے اندر رہنے والی آبی مخلوق کا شمار تو ویسے ہی ناممکن ہے انسان محض چند اقسام سے واقفیت حاصل کرسکا ہے وگرنہ نامعلوم اللہ تعالیٰ نے اپنی کی تہہ میں کتنی مخلوق آباد کر رکھی ہے فرمایا سب کچھ آیت لقوم یوقنون نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے اللہ کی قدرت کے نشانات ہیں جو ان کے مشاہدہ کے فوراً پکار اٹھتے ہیں ربنا مدخلقت ھذا باطلاً (آل عمران 191- ) تو نے یہ سب کچھ بیکار محض پیدا نہیں کیا بلکہ ان چیزوں میں تیری وحدانیت کے دلائل ہیں۔
شب و روز کا تغیر و تبدل
فرمایا واختلاف الیل والنھار دن رات کے تغیر و تبدل میں بھی اللہ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں اللہ نے دن رات کا ایسا سلسلہ قائم کیا ہے ، جو تمام جانداروں کے لئے نہایت ہی ضروری ہے لوگ دن کے وقت کام کاج میں مصروف رہتے ہیں ، محنت مشقت کرتے ہیں ، کارخانے چلاتے ہیں کھیتی باڑی کرتے ہیں اور پ ھر جب وہ دن بھر کے کام سے تھک جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو لے آتے ہیں جس کے دوران لوگ آرام کرتے ہیں ان کی زائل شدہ قوتیں بحال ہوجاتی ہیں اور وہ اگلے دن کے کام کے لئے پھر سے تازہ دم ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دن رات کا نظام ایسے منظم طریقے سے قائم کر رکھا ہے کہ یہ مقررہ وقت سے ایک سیکنڈ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتا ، اللہ نے ایسا انتظام فرما دیا کہ نہ تو سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے ولا الیل سابق النھار یسین 40) اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے ، بلکہ سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں اور اس طرح کائنات کا نظام چل رہا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں سال بھر کے موسم بھی آگے پیچھے آتے ہیں جو انسانی اور حیوانی زندگی بلکہ نباتات اور جمادات کے لئے بھی نہایت ضروری ہیں۔
نزول رزق
آگے اللہ تعالیٰ نے نزول رزق کو بھی اپنی قدرت کی نشانی بتلایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما انزل اللہ من السمآء من رزق اور اللہ نے آسمان کی طرف سے جو رزق نازل فرمایا ہے ، یہ بھی اس کی قدرت اور وحدانیت کی دلیل ہے۔ یہاں پر رزق سے مراد بارش ہے جو آسمان کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور روزی مہیاک رنے کا سبب بنتی ہے۔ سورة بقرہ میں اللہ نے اس بات کی وضاحت فرما دی ہے کہ لوگو ! اس اللہ کی عبادت کرو جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا و انزل من السمآء مآء فاخرج بہ من الثمرت رزقالکم (آیت 22- ) اور آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا اور اس کے ذریعے پھل پیدا کئے جو تمہارے لئے روزی کا سامان ہے پانی کے ذریعے اناج اور پ ھل پیدا کرنا اور پھر ان کو بتدریج حد کمال تک پہنچانا جو جانداروں کے لئے سال بھر کی روزی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہی ممکن ہے وگرنہ جب وہ چاہتا ہے تو طوفان آجاتے ہیں ، سیلاب آجاتے ہیں تو فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں اور انسان کی تمام تر محنت کے باوجود اس کو چھ حاصل نہیں ہوتا بعض اوقات خشک سالی کی وجہ سے اناج پیدا ہی نہیں ہوتا ، اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے جو آسمان کی طرف سے تمہارے لئے روزی کا بندوبست کیا ہے اس میں بھی تمہارے لئے بہت سی نشانیاں ہیں بشرطیکہ تم غور و فکر کرو اس نے آسمان کی طرف سے بارش نازل فرمائی فاحیابہ الارض بعد موتھا پھر اس کے ذریعے خشک زمین کو زندگی یعنی تروتازگی بخشی اس میں قوت روئیدگی پیدا ہوئی انسان نے بیج ڈالا اس کی حفاظت کی تو اللہ نے اناج اور پھل وغیرہ پیدا کر کے انسانوں اور جانوروں کو روزی بیہم پہنچا دی۔
ہوائوں کی گردش
فرمایا وتصریف الریع اور ہوائوں کی گردش میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ہوائیں کبھی مشرق سے چلتی ہیں کبھی مغرب سے ، کوئی طوفان لاتی ہیں اور کوئی بارش کوئی ہوا گرم ہوتی ہے اور کوئی یخ بستہ اور کوئی بادصبا کی رط نرم و نازک ہر قسم کی ہوا میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی مصلحت رکھی ہے فرمایا ان سب اشیاء میں ایت لقوم یعقلون نشانات قدرت ہیں مگر ان لوگوں کے لئے جو عقل و فزا سے کام لیتے ہیں جو لوگ عقل و خرد سے عاری ہیں ان کے متعلق فرمایا ان شر الذواب عند اللہ الصع البکم الذین لایعقلون (انفال 22- ) کہ ایسے لوگ تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں اور گونگے اور بہرے ہیں عقل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے جس کو بروئے کار لا کر انسان نشانات قدرت میں غور و فکر کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتے ہیں۔
Ayahs 45:6–11سورة کی ابتدا میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فی السموت والارض سے لے کر لقوم یعقلون تک اپنی توحید کے بعض دلائل اجمالاً ذکر کئے اب انہی دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھتے ہیں آپ پر حق کے ساتھ یعنی ان آیات کو صحیح صحیح سچے انداز میں حقیقت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے۔
آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن پاک میں یہ لفظ نشانی (علامت ) ، دلیل (حجت) معجزہ یا حکم کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقام پر آیات سے مراد علامات اور دلائل لئے گئے ہیں۔ چناچہ ا س سورة کے آغاز میں آنے والے حروف قطعات حم کا اشارہ اس طرف بھی ہو سکتا ہے مثلاً بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ح سے مراد حاوی ہنا مشتمل ہونا یا گھیر لینا ہے اور یہ سورة حاوی الحج یعنی بت سے دلائل پر مشتمل ہے ، ہم دیکھتے ہیں کہ اس سورة میں بہت سے دلائل توحید اور دلائل وقوع قیامت بیان کئے گئے ہیں ، اسی طرح مفسرین فرماتے ہیں کہق وت مراما حی الجج یعنی جھگڑے اورساد کو مٹانے والی اس حروف کا یہ معنی بھی صادق آتا ہے کیونکہ یہ سورة اپنے دلائل کے ذریعے اختالفاتک و مٹانے والی ہے بہرحال یہاں پر آیات سے مراد علامات یا دلائل ہیں۔
دلائل کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ ذرا آسمنوں زمین تخلیق انسانی اور عملیق حیوانات میں غور و فکر کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح آسمان کی طرف سے بارش نازل فرما کر خشک زمین کو زندہ کرتا ہے ہوائوں کو گردش میں لاتا ہے اور تمام انسانوں ، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے لئے روزی کا سامان مہیا کرتا ہے اگر انسان ان دلائل میں غور و فکر کرے تو وہ جان لے گا کہ یہ متام امور اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کون انجام دے سکتا ہے جو حکیم علی الاطلاق اور ق ادر مطلق ہے غرضیکہ یہ ایسی علامات ہیں جن کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات اور اس کی توحید کو پہچان سکتے ہیں۔
اللہ کی آخری کتاب
فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جو اللہ نیق رآن کی شکل میں اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفے ﷺ پر نازل فرمائی ہیں اس کتاب کے ذریعے اللہ نے اس آخری امت کے لئے تمام شرائع ، احکام اور زندگی بھر کا پروگرام نازل فرما دیا ہے اب یہ اس امت کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اس کتاب پر صدق دل سے ایمان لائیں ، اس کی آیات کو پڑھیں ، سمجھیں اور پھر ان پر عمل پیرا ہوجائیں کہ ان کی دائمی فلح کا مداراسی کتاب پر ہے فرمایا اگر لوگا س کتاب الٰہی پر بھی یقین نہیں کریں گے فبای حدیث بعد اللہ وایتہ یومنون تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کردہ علامات اور دلائل کے بعد کون سی چیز آئے گی۔ جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا آخری پروگرام تو آچکا ہے۔ اس کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا ، نہ کتاب اور نہ کوئی پروگرام اگر اس کو بھی نہیں مانیں گے تو آگے تو کچھ بھی نہیں پھر یہ کس چیز کو مانیں گے ، ظاہر ہے کہ یہ تو اللہ کی ہدایت سے یکسر محروم ہوجائیں گے اور ہمیشہ کی ناکامی کا منہ دیکھیں گے۔
یہاں پر قرآن پاک کے لئے حدیث کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ یہ بھی قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ سورة الزمر میں ہے اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشا بھا مثانی (آیت 23- ) اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے بہترین بات کے لئے کتاب اتاری ہے جو آپ س میں ملتی جلتی اور دہرائی جانے والی ہے حدیث کا لغوی معنی بات یا کلام یہ ہے اسی طرح سورة المرسلت کی آخری آیت بھی یہی ہے فبای حدیث بعدہ یومنون اس بات یعنی قرآن حکیم کے بعد تم کس با پر ایمان لائو گے ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو جھوٹ ، کمزوری اور خلاف واقعہ امور سے پک ہے اس پر ایمان لائو اور اسی کو مضبوطی سے تھام لو کہ تمہارے مسائل کا حل اور تمہاری ابدی کامیابی کا راز اسی قرآن میں مضمر ہے اگر اسی کو چھوڑ دیا تو پھر انسان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اور ہمیشہ اندھیرے میں ٹکریں مارتا رہے گا اسے صراط مستقیم نصیب نہیں ہوگا۔
جھوٹوں کی ہلاکت
آگے اللہ نے قرآن پاک سے اعراض کرنے والوں کو جھوٹا کا ہے اور ان کے لئے سخت وعید سنائی ہے ویل لکل افاک ہر جھوٹ بولنے والے کے لئے ہلکات اور تباہی ہے اور یہاں پر جھوٹے سے مراد ہر وہ شخص ہے جو قرآن پاک کے پیش کردہ دلائل ، شریعت اور دین کو چھوڑ کر جھوٹی باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں اور نہ ہی وحی کے ذریعے نازل ہوا ہے بلکہ یہ محمد ﷺ کا من گھڑت ہے ، نعوذ باللہ فرمایا ایسے شخص کے لئے تباہی و ببرادی ہے جو نہ صرف جھوٹا ہے بلکہ اس جھوٹ کی وجہ سے اثیم یعنی گنہگار مجرم اور پاپی بھی ہے۔
اور اس کی حالت یہ ہے یسمع ایت اللہ تتلی علیہ جو اللہ کی ان آیات کو سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں۔ مگر ان میں غور و فکر نہیں کرتا اور نہ ہ یان سے اثر قبول کرتا ہے بلکہ ثم یصر مستکبراً پھر وہ ضد کرتا ہے اور اپنی ہٹ دھرمی پر اصرار کر کے متکبر بن جاتا ہے۔ آیات الٰہی کی کچھ پرواہ نہیں کرتا کان لم یسمعھا گویا کہ اس نے ان آیات کو سنا ہی نہیں۔ حالانکہ ان کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی مگر اس بدبخت نے سنی آن سنی کردی۔ ایسے شخص کے متعقل فرمایا فبشرہ بعذاب الیم کہ اس کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو ۔ بشارت تو اچھی خبر کے لئے بولا جاتا ہے مگر یہاں پر اس شخص کے عذاب جیسی بری خبر کو علما بشارت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ بعض اوقات بشارت محض خبر کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس مقام پر یہن یمعنی ہے کہ ایسے لوگوں کو خربدار کر دو کہ ان کے لئے عذاب الیم تیار کیا گیا ہے۔
شعائر اللہ سے تمسخر
فرمایا قرآن سے اعراض کرنے والوں کی ایک بری خصلت یہ بھی ہے ۔ واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا جب ہمر یآیات میں کوئی چیز معلوم کرتا ہے تو نباتا ہے اس کو ٹھٹا کیا ہوا۔ ہر نبی کی قوم کا یہی وطریہ رہا ہے کہ جب بھی انہیں کوئی اچھی بات بتائی گئی خدا کا پیغام پہنچایا گیا تو انہوں نے اس کا تمسخر اڑایا مشرکین مکہ نے بھی ایسا ہی کیا اور اس کے بعد بھی لوگ اللہ کے نیک بندوں کا مذاق ہی اڑاتے آئے ہیں جب ابوجہل نے سورة الدخان کی یہ آیات سنیں ان شجرک الزقوم ، طعام الاثیم بیشک تھور کا درخت گنہگاروں کی خوراک بنے گے تو کہنے لگا کہ محمد ﷺ ہمیں نہ قوم سے ڈراتا ہے حالانکہ ہمارے ہاں تو زقوم کھجوروں کو کہا جاتا ہے جو ہم روزمرہ کھاتے ہیں جب حضور ﷺ نے واقعہ معراج بیان کیا تو ابوجہل نے تمخسر اڑایا کہ یہ کیسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے مسلمان نماز پڑھتے تو مشرکین کہتے کہ یہ پیٹھ کھڑی کرتے ہیں۔ ابو طالب نے کہا کہ میں اس عمر میں پشت اونچی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح وہ لوگ معجزات کے ساتھ بھی ٹھٹا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ جادو ہے جو پہلے بھی ہوتا تھا اور آج بھی ہو رہا ہے شعائر اللہ کے ساتھ ٹھٹا کرنا بدترین قسم کا کفر ہے۔ قرآن کی آیات دلائل ، احکام ، نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج سب شعائر اللہ ہیں نج کی توہین ایمان والوں کے لئے ہرگز گوارا نہیں ہے سورة مائدہ میں موجود ہے واذا نادیتم الی الصلوۃ اتخذوھا ھزواً ولعباً (آیت 58- ) اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو مشرک لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مسلم شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب تم دشمن کی سر زمین میں جائو تو اپنے ساتھ قرآن پاک نہ لے جائو کی لاینالہ العدو بسوٓء مبادا کہ دشمن اس کی توہین کا مرتکب ہو۔ ہاں اگر لشکر بڑا ہو اور تمہیں دشمن پر قابو پا لینے کی امید ہو تو پھر قرآن کو ساتھ لے جاسکتے ہو مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اس زمانے میں خود مسلمان قرآن پاک کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں بعض پیر نما شیاطین قرآن پر بیٹھ کر چلا نکالتے ہیں۔ چند سال پہلے فیصل آباد میں ایسا واقعہ پیش آیا ھتا۔ بعض مصور آیات قرآنی کو کارٹون کی صورت میں پیش کرتے ہیں ، یہ بھی بےادبی ہے۔ قرآنی آیات والے اوراق کو ردی کے طور پر استعمال کر کے ان میں سودا سلف دیا جاتا ہے یہ کس قدر بےادبی کی بات ہے حالانکہ قرآن سے بڑھ کر کون سی باعزت چیز ہے ؟ بعض نام نہاد اعلیٰ تعیم یافتہ لوگ علم دین حاصل کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ لوگ بسم اللہ کے گنبد سے ہی باہر نہیں نکلتے ایسے لوگ سائنس ٹیکنالوجی فلسفہ اور انجینئرنگ کو ہی اعلیٰ تعلیم سمجھتے ہیں اور دین کے علم کو حقیر جانتے ہیں۔ یہ سب کفریہ باتیں ہیں جن کی قرآن پاک نے مذمت بیان کی ہے۔
منکروں کے لئے سزا
فرمایا کہ جب کسی مشرک کو ہماری آیات میں سے کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا اولئک لھم عذاب مھین کہ ان کے لئے ذلت ناک عذاب تیار کیا گیا ہے اور اس کی صورت یہ ہوئی من ورآئھم جھنم ان کے آگے جہنم ہوگی وراء کا لفظ اضداد میں سے ہے یہ آگے اور پیچھے دونوں معانی میں آتا ہے ، تاہم یہاں پر آگے مراد ہے کہ ایسے لوگوں کے آگے دوزخ ہے اور جب وہ وہاں پہنچیں گے ولا یغنی عنھم ما کسبوا شیئاً تو ان کی کمائی ان کو جہنم سے بچا نہیں سکے گی۔ مطلب یہ کہ اس وقت ان کا علم ، ہنر ، سائنس ، ٹیکنالوجی ، فلسفہ اور حلال و حرام ذرائع سے حاصل کردہ دولت کچھ کام نہیں آئے گی۔ ولا ما اتخذوا من دون اللہ اولیآء اور نہ وہ کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کار ساز بنا لیا دنیا میں جن کو نذر و نیاز پیش کرتے رہے جن کی قبروں پر سجدے کرتے رہے غلاف چڑھاتے رہے ، ان پر عرس مناتے رہے ، ان کی دہائی دیتے رہے یا علی اور یا غوث کے نعرے لگاتے رہے ، جنوں ، شیاطین اور فرشتوں کو مدد کے لئے پکارتے رہے اور جن جن کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے رہے ، وہ قیامت والے دن کچھ کام نہ آئیں گے اس دن اللہ کے نبی ، مقرب فرشتے اور اولیاء اللہ بیزاری کا اظہار کریں گے کہ ہم تو انہیں اپنی پرستش کا حکم نہیں دیا تھا۔ یہ تو خود شیطان کے نقش قدم پر چل کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ فرمایا ولھم عذاب عظیم جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا لیا ان کے لئے عذاب عظیم ہوگا یہ وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے آیات الٰہی کو سنی ان سنی کردیا ان کا مذاق اڑایا اور بالآخر دائمی سزا کے مستحق ٹھہرے۔
قرآن سراپا ہدایت
آخر میں اللہ نے قرآن کریم کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا ھذا ھدی کہ یہ قرآن تو سراسر ہدایت ہے ، یہ سورة اس کے درس ، احکام ، مثالیں اور معجزات ہدایت کا ذریعہ ہیں انہی کے ذریعے انسانوں کو ذہنی اور فکری بلندی حاصل ہوتی ہے وہ حد کمال تک پہنچتے ہیں اور خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف والذین کفروا بایت ربھم جنہوں نے اپنے رب کی آیات دلائل ، احکام اور معجزات کا انکار کیا ، توحید رسالت اور بعث بعد الموت پر یقین نہ کیا ، فرمایا لھم عذاب من رجزالیم ان کے لئے شدید اور درد ناک عذاب ہے۔ مغرور ، متکبر اور سرکش لوگ جہل مرکب کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے لئے ذہنی ، روحانی اور جسمانی ہر قسم کا سخت ترین عذاب ہوگا ، کیونکہ انہوں نے آیات الٰہی کا تمسخر اڑایا ، اللہ کی آیات کو سنی ان سنی کردیا۔ قرآن کے پروگرام کو مغلوب کرنے کی کوشش کی اور جزائے عمل کی منزل سے بےخوف ہوگئے۔
Ayahs 45:12–17ربطہ آیات
سورۃ الجاثیہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقنیت و صداقت بیان ہوئی اور پھر اللہ نے توحید اور معاد کے مشترکہ دلائل ذکر کئے پھر نافرمانوں کا گمراہی پر اصرار کا ذکر ہوا۔ اور جزائے عمل کے طور پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں جو کچھ کماتے رہے وہ قیامتو الے دن کچھ کام نہیں آئیگا اور نہ ہ یان کے خود ساختہ معبود کچھ کام آئیں گے جن کو یہ اپنا کار ساز اور حاجت روا سمجھتے رہے اور یہ لوگ عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گے۔
اللہ نے دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا ہے اللہ الذی سخرلہ البحر اللہ تعالیٰ کی ذات و ہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے۔ تسخیر کا معنی قابو میں لانا ہوتا ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں بعض چیزیں انسان کے اپنے قبضہ میں ہوتی ہیں جن سے وہ مفاد حاصل کرتا ہے مثلاً جانوروں کی تسخیر کے متعلق فرمایا اللہ الذی جعل لکم الانعام لترکبوا منھا ومنھا تاکلون (المئومن 79- ) اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہارے لئے جانور بنائے ہیں جن پر تم سوار ی کرتے ہو اور جن کا گوشت کھاتے ہو یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ مملوکہ جانوروں پر سواری کرے ہل جوتے ، پانی کھینچے یا ان کو ذبح کر کے گوشت استعمال کرے۔ تسخیر کی دوسری قسم یہ ہے کہ بعض چیزیں انسان کی تحویل اور قبضہ میں تو نہیں ہیں مگر وہ انسان کی خدمت پر مامور ہیں۔ فرمایا کہ اللہ کی ذات وہ ہے سخر الشمس والقمر (الرعد 2- ) جس نے سورج اور چاندکو مسخر کردیا ہے ، ظاہر ہے کہ وسرج اور چاند انسان کے قبضہ میں تو نہیں ہیں مگر لوگ سورج کی روشنی اور گرمی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اسی طرح رات کے وقت چاند کی دھیمی روشنی سے بھی انسان کے مفادات وابستہ ہیں اللہ نے انسان کی مصلحت کی خاطر سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا جو اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں اور انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
فرمایا اللہ نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے او اس کا مقصد یہ ہے لتجری الفلک فیہ باسرہ تکاہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں اور جہاز چلیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم و ہنر اور عقل و شعور عطا کیا ہے جسے بروئے کار لا کر وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے لے کر بڑے بڑے جہاز بناتا ہے اور پھر انہیں سمندر میں اتار کر ان سے نقل و حمل کا کام لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کی سطح اس طرح پیدا فرمائی کہ اس میں آسانی سے جہاز کافی ہو سکتی ہے اور ایک ملک کا سامان دوسرے ملک میں بحفاظت منتقل کیا جا سکت ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے دوسرے نمونے بھی دکھاتا ہے۔ جب سمندر میں طوفان آتا ہے تو انسان بےبس ہوجاتے ہیں اور لاکھوں ٹن وزنی جہاز بھی ڈوب جاتے ہیں۔ اس وقتا نسان کو اپنی عاجزی اور بےبسی کا احساس ہوتا ہے بہرحال سمندروں کی تسخیر اللہ تعالیٰ کے حکم کی مرہون منت ہے وگرنہ جدید سائنسی آلات بھی بعض اوقات ناکام ہوجاتے ہیں۔ ایسے حالات میں بڑے سے بڑے جہاز کی حیثیت بھی سمندر کے سامنے ایک تنکے سے زیادہ نہیں ہوتی۔
رزق حلال کی تلاش
فرمایا سمندروں کی تسخیر کی دوسری غایت یہ ہے ولتبتغو من فضلہ اور تاکہ تم اپنی ضروریات میں اللہ کا فضل تلاش کرسکو فضل سے مراد رزق حلال ہے شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کو اس کی زندگی میں دو چیزوں کی اشد ضرورت ہے یعنی ارتفاق اور اقتراب ارتفاق سے مراد لوازمات زندگی کا حصول ہے انسان محنت کرے ، کاشتکاری کرے کارخانہ چلائے یا کوئی ایسا کام کرے جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کی ضروریات کھانا ، پ ینا ، پہننا ، مکان ، سواری وغیرہ کا بندوبست کرسکے اور اقتراب کا معنی یہ ہے کہ انسان اس زندگی میں ایسے عقائد اختیار کرے اور ایسے اعمال انجام دے جو اسے خدا تعالیٰ کا قرب دلا سکیں۔ سورة فتح میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے صحابہ کی شان میں فرمایا ہے یبتغون فضلاً من اللہ ورضواناً (آیت 29- ) کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا رضوان تلاش کرتے ہیں یہاں پر اللہ نے اتفاق کو فضل کے لفظ سے اور اقتراب کو رضوان کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ، فضل سے مراد رزق حلال کی تلاش ہے اور یہ بھی انسان کیلئے ضروری ہے کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ یہ بھی فریضۃ من بعد الفرائض یعنی پنجگانہ عبادت کے بعد حلال روزی کی تلاش بھی انسان کے ذمے فرض ہے اس کے علاوہ علم کا حصول حج وعمرہ کی ادائیگی کے لئے سفر ، جہاد کے لئے سفر وغیرہ بھی فضل ہی کا حصہ ہیں۔ اسی طرح اقتراب کے حصول کے لئے عبادت و ریاقت اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کی ضرورت ہے۔ غضری کہ یہ تمام چیزیں فضل میں داخل ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا تاکہ تم ان کے ذریعے اللہ کا فضل تلاش کرسکو۔
ولعلکم تشکرون اور تسخیر بحر کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرسکو خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے مستفید ہو کر ان کی قدر کرنا اور ان کو صحیح جگہ میں استعمال کرنا اور پھر دل و جان سے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا انسان کے فرائض میں داخل ہے۔ آپ ہزاروں سال پہلے کا دور ذہن میں لائیں جب ذرائع نقل و حمل محض جانوروں تک محدود تھے اس وقت لوگوں کو خود سفر کرنے اور مال کی بار برداری میں کتنی مشکلات پیش آتی ہوں گی۔ اب بری بحری اور فضائی راستے سے نقل و حمل کی بیشمار سواریاں دستیاب ہیں جن کے ذریعے کم از کم وقت میں انسان دنیا بھر کا سفر کرسکتا ہے اور سامان کو ایک رسے سے دوسرے سرے تک منتقل کرسکتا ہے۔ آج کے سائنسی دور میں انسان کو جس قدر سہولتیں حاصل ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ ہم نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔
ارض و سما کی تعبیر
تسخیر بحرہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وسخر لکم فی السموت وما فی الارض اور اس نے کام میں لگا دیئے ہیں تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے آسمان کرے ، سیارے ستارے چاند اور سورج بنایا اور فضا میں سب انسانوں کی خدمت پر مامور ہیں جمیعاً منہ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ، اس میں کس یمخلوق کا دخل نہیں اللہ نے اپنی قدرت اور مہربانی سے ارض و سما کی چیزوں کو انسانوں کی خدمت پر سما رکھا ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقربین ملا اعلیٰ کے فرشتوں کو کائنات کی پیدائش سے اربوں سال پہلے انسانوں کی مصلحت کے لئے پیدا کیا اور پھر آخر میں انسان کو پیدا کیا کہ مقصود کائنات انسان ہی ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون ان سب چیزوں میں نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں جو لوگ عقل و فکر سے کام لیتے ہیں وہ جان لیتے ہیں کہ اللہ نے ان پر کتنے انعامات فرمایء ہیں ان تمام اشیاء کو نہ تو کسی جن نے بنایا ہے ، نہ فرشتے نے اور نہ کسی انسان نے اسی سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات نہیں۔ جس نے اتنے بڑے کارخانہ کائنات کو قائم کیا ہو اور پھر اس میں انسان کی مصلحت کی تمام چیزیں مہیا کی ہوں۔
درگزر کرنے کا سبق
اسلام کے ابتدائی دور میں کفار و مشرکین نے اللہ کے دین کی سخت مخالفت کی اور پیغمبر اسلام اور آپ کے پیروکاروں کو سخت تکالیف پہنچائیں ، زبان سے گالی گلوچ برا بھلا اور طعن وتشنیع کرتے تھے۔ ان حالات میں اہل ایمان کا پیمانہ صبر لبریز ہوجانا ایک قدرتی امر تھا اور وہ بعضا وقات جوش میں بھی آجاتے تھے ۔ مگر اس وقت چونکہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کمزور تھی ، اس لئے اللہ کی طرف سے ان کی روحانی تربیت اور جماعتی تنظیم پر زور دینے کی ہدایت کی جاتی تھی۔ چناچہ ہم سورة نسآء میں اللہ کا یہ فرمان پڑھتے ہیں۔ کفرا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ (آیت 77- ) کہ اے ایمان والو ! جنگ و جدل سے فی الحال اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور نماز قائم کرتے رہو اور زکواۃ دیتے رہو ایسے ہی حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ اے پیغمبر قل للذین امنوا آپ ایمان والوں سے کہہ دیں یغفروا للذین لایرجون ایام اللہ ان لوگوں سے درگزر کریں۔ جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے۔ آپ ان کی باتوں سے متاثر نہ ہوں اور نہ ہی انتقام لینے کی کوشش کریں بلکہ ان کی زیادتیوں کو فی الحال صبر و تحمل سے برداشت کریں۔ لیجزی قوماً بما کانوا یکسبون تاکہ اللہ تعالیٰ بدلہ دے ان لوگوں کو ان کے کردہ اعمال کا وہ جس قسم کی زیادتیاں کر رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ ضرور ان سے خود نپٹ لے گا ۔ لہٰذا آپ درگزر سے کام لیں اور ان پر ہاتھ نہ اٹھائیں۔
اس آیت میں آمادہ الفاظ میں جون اور ایام اللہ وضاحت طلب ہیں لفظ رجی مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اس کا معنی خوف بھی ہوتا ہے اور امید بھی ہم نے یہاں معنی کیا ہے کہ آپ درگذر کریں ان لوگوں سے جو اللہ کے ایام کی امیدن ہیں رکھتے یعنی ان کفار و مشرکین کو وقوع قیامت اور جزائے عمل کی منزل کی کچھ امید نہیں کہ ایسا بھی ہوگا اور اگر اس کے خوف والے معنی کئے جائیں تو یہ بھی درست ہے کہ ان لوگوں کو آخرت کی منزل کا بالکل خوف نہیں جیسے سورة نوح میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے مخالفین کی توجہ اس طرف دلائی مالکم لاتجون للہ وقارا (آیت 130- ) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے وقار سے خوف نہیں کھاتے۔
ایام اللہ یعنی اللہ کے دنوں سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللہ کی طرف سے کسی قوم کو سزا ملتی ہے یا اسے انعام سے نوازا جاتا ہے۔ گویا یہ تاریخی ایام ہوتے ہیں جن کے دوران کسی قوم کو یا تو بام موج پر پہنچایا جاتا ہے اور یا انہیں ناکام بنا دیا جاتا ہے۔ یہاں پر انتقام لینے اور سزا دینے والا معنی مراد ہے کہ آپ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے سزا دینے والے ایام کی امیدن ہیں رکھتے یا ان سے خوف نہیں کھاتے۔ اس کی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ملتی ہے کہ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں وذکرھم بایام اللہ (ابراہیم 50- ) اور انہیں اللہ کے وہ دن یاد دلائیں جب اس نے مختلف قوموں کو سزائیں دیں۔
فرمایا یاد رکھو ! من عمل صالحاً فلنفسہ جس شخص نے کوئی اچھا کام کیا تو وہ اس کے اپنے ہ ینفس کے لئے ہے ، یعنی اس کا فائدہ خود اسی کو پہنچے گا جس کے ساتھ نیکی کی جائے اس پر احسان نہیں ہوتا بلکہ یہ تو اپنے فائدے کے لئے کی جاتی ہے۔ نیکی کرنے والے کا درجہ بلند ہوتا ہے۔ اسے خدا کا تقریب حاصل ہوتا ہے اور وہ آخرت میں عذاب سے بچ جائے گا۔ ومن اسآء فعلیھا اور جس نے کوئی برا کام کیا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا کسی دوسرے کو نقصان پہنچے یا نہ پہنچے مگر برائی کا ارتکاب کرنے والے کو اس کی سزا ضرور ملے گی اللہ نے یہ عام قانون بتلا دیا ہے اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا لھا ماتکبت وعلیھا ما اکتسبت (البقرہ 286- ) اچھی کمائی اسی کے حق میں مفید ہوگی اور بری کمائی اسی کے خلاف ہوگی غرضیکہ نیکی کا بدلہ خود نیکی کرنے والے کے حق میں اچھا ہوگا اور برائی کا بدلہ اس کے حق میں برا ہوگا فرمایا ثم الی ربکم ترجعون پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے جہاں ہر ایک کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی اور جزائے عمل کی منزل سے گزرنا ہوگا۔
بنی اسرائیل کے لئے انعامات
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر کئے جانے والے انعامات ان کے آپ س کے اختلافات اور قیامت ک و ان کے درمیان قطعی فیصلے کا ذکر کیا ہے ارشاد ہتا ہے ولقد اتینا بنی اسرائیل بل الکتب اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب عطا فرمائی ۔ اس کتاب سے مراد تو رات ہے جو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی وساطت سے خود ان کی فرمائش پر بنی اسرائیل کو عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑا احسان فرمایا کہ قرآن کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی کتاب ان کو دی۔ موجودہ بائیبل میں پہلے پانچ باب تورات کے ہیں اگرچہ اس کتاب میں بہت سا تغیر و تبدل ہوچکا ہے تاہم کچھ نہ کچھ حصہ اب بھی محفوظ ہے البتہ نزول قرآن کے بعد اس کی ضرورت باقین ہیں رہی۔ اپنے دور میں یہی کتاب واجب التعمیل تھی۔
فرمایا ایک تو ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب دی اور دوسرا …اور حکم بھی دیا حکم سے مراد حکمت بھی ہے اور حکومت بھی اللہ نے دونوں چیزیں بنی اسرائیل کو عطا فرمائیں۔ والنبوۃ اور ان کو نبوت بھی دی ظالم ہے کہ اللہ نے موسیٰ اور ہارون علہما السلام کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اس سے بڑھ کر یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دور تک خاندان بنی اسرائیل میں یوسف (علیہ السلام) نے چار ہزار نبی اور رسول مبعوث فرمائے غرضیکہ اس خاندان میں اللہ نے نبوت ، کتاب اور حکومت تینوں چیزیں جاری فرمائیں اور اس خاندان میں حضرت واذر اور سلیمان (علیہما السلام) جیسے بڑے بڑے حکمران پیدا فرمائے۔
فرمایا ورزقنھم من الطیبت اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی دی۔ حتی کہ جب وہ صحرائے سنیا میں پہنچے تو وہاں اللہ تعالیٰ نے بغیر ان کی محنت کے من وسلویٰ جیسی نعمتیں عطا فرمائیں اور دھوپ سے بچنے کے لئے سر پر بادلوں کا سایہ کردیا ، اس کے علاوہ رات کے وقت خصوصی روشنی کا انتظام کیا اور بڑے عظیم معجزات ان کے سامنے رکھے۔ وفضلنھم علی العلمین کو انہیں تمام جہان والوں پر برتری اور فضیلت عطا فرمائی ، یہ صرف اس دور کے لئے برتری تھی نہ کہ آمدہ تمام ادوار کے لئے کیونکہ مطلق فضیلت اللہ نے اپنے آخری نبی کی آخری امت کو ہی عطا فرمائی ہے جسے امۃ وسطاً (البقرہ 143) کا لقب فرمایا ۔ امت وسطی کا لفظی معنی افراط وتفریط سے پاک درمیانی امت ہے اور یہی اس کی افضیلت کی علامت ہے۔ احادیث میں بھی آتا ہے کہ اقوام عالم میں اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ فضیلت حضور ﷺ کی امت کو عطا فرمائی۔ بہرحال یہ بھی اللہ کا احسان تھا کہ اس نے اپنے دور میں بنی اسرائیل کو باقی اقوام پر فضیلت بخشی۔
بنی اسرائیل میں فرقہ بندی
فرمایا اوتینھم بینت من الامر اور دین کے معاملے میں ہم نے ان کو کھلی نشانیاں یعنی معجزات عطا کئے ان کی موجودگی میں معاملہ صرف ہوجانا چاہئے تھا اور دین کے بارے میں کوئی اشتباہ باقین ہیں رہنا چاہئے تھا۔ فما اختلفوا الا من بعد ما جآء ھم العلم پس انہوں نے نہیں اختلاف کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آ گیا۔ واضح کتاب ، احکام واضح دلائل اور معجزات آنے کے باوجود انہوں نے دین کے معاملات میں آپ س میں اختلاف کیا اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور اس اختلاف کی وجہ یہ تھی بغیابینھم کہ انہوں نے آپ س میں سرکشی کی۔ ان میں خود سری اور گمراہی پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے انہوں نے گروہ بندی اختیار کردی۔ ان کی یہ سرکشی اور گمراہی آج تک برابر چلی آ رہی ہے اور مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول تک برابر جاری رہے گی۔
فرمایا ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون بیشک تیرا پروردگار قیامت والے دن ان کے درمیان ان امور کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے۔ قیامت والے دن پتہ چلے گا کہا نہوں نے دین کو کس طرح بگاڑ ، گمراہی میں جا پڑے اور پھر اس پر اصرار کرتے رہے اللہ کا آخری نبی اور آخری شریعت بھی آگئی مگر انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور اپنی گمراہی اور سرکشی پر ہی اڑے رہے دنیا میں تو اختلافات چلتے رہیں گے اور ان کا قطعی فیصلہ اللہ کی بارگاہ میں قیامت والے دن ہی ہوگا۔