Ayahs 45:32–37ربط آیات
سورۃ جاثیہ حوامیم سبعہ میں چھٹے نمبر پر ہے اگلی سورة الاحقاف پر یہ ساتوں سورتیں ختم ہوجائیں گی ان سورتوں کو لباب القرآن یعنی قرآن کا لب لباب اور نچوڑ کہا گیا ہے ان میں دین کے بنیادی عقائد اور اصول بیان کئے ہیں۔ اس سورة میں بھی توحید اور اس کے دلائل ، مشرکین کا رد ، شریعت کا اتباع ، تکبر کی تردید اور بعض دوسرے اہم مسائل بیان ہوئے ہیں۔ سورة کے اس آخری حصہ میں قیامت کا تذکرہ ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوچکا ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی تمام باطل پرست اور بدعقیدہ لوگ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ ہر گروہ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرے گا ، پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے زجر و توبیخ ہوگی۔ اہل ایمان کو اچھا بدلہ ملے گا اور یہ ان کی واضح کامیابی ہوگی۔ جن لوگوں نے دنیا میں کفر کا راستہ اختیار کیا۔ ایمان سے محروم رہے ان کو ڈانٹ پلائی جائے گی اور کہا جائیگا کہ کیا میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں مگر تم تکبر کرتے تھے اور یقیناً تم مجرم لوگ تھے۔
وقوع قیامت کا اظہار
اب آج پہلی آیت میں متکبر اور مغرور لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ واذا قیل اور جب کہا جاتا تھا ان وعد اللہ حق والساعۃ لا ریب فیھا کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں فلتم مانذری مالساعۃ تو تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کیا ہے قیامت ؟ اور تم یہ بھی کہا کرتے تھے ان نظن الا ظناً ہم تو اسے محض ایک ہلکا سا وہم یا گمان ہی تصور کرتے ہیں۔ تم کہتے ہو کہ قامت آئے گی ۔ اس دنیا کی ہر چیز ختم ہو جائیگی پھر کی زمین اور نیا آسمان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا دربار لگے گا مردے قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور پیش ہوں گے حساب کتاب کی منزل آئیگی اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔ کہتے تھے ہم تو ایسی چیزوں کو ایک وہم تصور کرتے میں وما نحن یمستیقنیر اور ہم تو ان باتوں پر یقین لانے والے نہیں ہیں۔ ہر قسم کی باتیں مشرک لوگ تکبر اور غرور کی بنا پر کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ آج ہمارے پاس مال و دولت ہے۔ جاہ و اقتدار ہے اور یہ چیزیں ہمیشہ ہمارے شامل حال رہیں گی ہم اس دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے رہیں گے اور ایمان کے دعویداروں کی جنت ، دوزخ اور بعث بعدالموت محض ڈھکو سے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔
اعمال نامہ کی پیشی
اللہ کا فرمان ہے یہ بدبخت کس بناء پر جزئاے عمل کا انکار کر رہے ہیں۔ ان کو جان لینا چاہئے ویدالھم سیات مدعملوا انہوں نے دنیا میں رہ کر جن جن برائیوں کا ارتکاب کیا قیامت والے دن وہ سب ان کے سامنے کھول دی جائے گی۔ ان کے کفر یہ اور شرکیہ افعال اور رسومات باطلہ سب سامنے آجائیں گی ، گزشتہ درس میں بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ھذا کتب ینطق علیکم بالحق یہ ہے ہمارے دفتر پر تمہارے اعمال کے متعلق ٹھیک ٹھیک بتلاتا ہے کیونکہ تمہارا ہر عمل ہم فرشتوں سے لکھوا دیا کرتے تھے۔ ہر چیز ہمارے علم میں بھی تھی اور لوح محفوظ میں بھی درج تھی مگر تمہارے نگران فرشتے بھی تمہارے اعمال و اقوال کو لکھتے جاتے تھے ۔ دنیا میں تو برائی کا ارتکاب کرتے وقت لوگوں کی نظروں سے بچ جاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ تمہارے افعال کا کسی کو علم نہیں ہوا مگر وہ ایک دفتر میں ریکارڈ ہو رہا تھا۔ جو آج تمہارے سامنے موجود ہے۔ سورة الطارق میں بھی فرمایا یوم تبلی السرآئر (آیت 5) اس دن تمام راز کھل جائیں گے اور کوئی چیز مخفی نہیں رہے گی۔ سورة الکہف میں ہے کہ انسان اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوجائے گا اور کہے گا مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (ایت 49- ) یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بڑی چیز کو احاطہ کئے بغیر نہیں چھوڑتی۔
الغرض ! فرمایا کہ ان کی تمام برائیاں قیامت والے دن ظاہر کردی جائیں گی وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس کے ساتھ یہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے یہ لوگ اللہ کے قرآن اس کے نبیوں ، کتابوں ، فرشتوں ، شریعت اور توحید کا تمسخر اڑایا کرتے تھے ، آج یہی چیزیں ان کے لئے عذاب کا باعث بن جائیں گی۔
رحمت سے دوری
ہم ان مجرموں کے لئے یہ ارشاد بھی ہوگا وقیل الیوم ننسکم کہا جائے گا۔ آج ہم تمہیں فراموش کردیں گے کما نبی تم بقاء یومکم ھذا جس طرح تم نے دنیا میں اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا۔ اس مقام پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کا کسی چیز کو بھول جانا تو عین ممکن ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو عالب الغیب ہے ، وہ سہو ، نسیان اور غلطی سے پاک ہے۔ پھر اس کے فراموش کردینے کا کیا مطلب ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ واقعی کسی چیز کو نہیں بھولتا ، مگر یہاں پر فراموش کردینے سے مراد اپنی رحمت سے دور کردینا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے دنیا میں رہ کر کبھی قیامت کا تصور بھی نہیں کیا تھا ، اس کو ایک فراموش شدہ چیز بنا دیا تھا ، آج ہم بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسے کسی فراموش شدہ آدمی کے ساتھ کیا جاتا ہے اور تمہیں اپنی رحمت کا سایہ نصیب نہیں کریں گے۔
بھول جانا انسان کا خاصہ ہے۔ خود حضور ﷺ سے پانچ چھ دفعہ نماز میں بھول ہوئی۔ ایک موقع پر جب آپ نماز میں بھول گئے تو فرمایا انما انا بشرمثلکم انسی کما تنسون فاذا نسبیت فذکر ونی میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں ، تمہاری طرح میں بھی بھول جاتا ہوں ، پس جب میں بھول جائوں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ بہرحال فرمایا کہ قیامت کے دن تمہیں بھول جانے کا معاملہ اس وجہ سے ہوگا کہ تم نے دنیا میں اس دن کو بھلا دیا ۔ اب اس کا بدلہ یہ ہوگا وما ولکم النار کو تمہارا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا وما لکم من نصرین اور نہ ہی تمہارا کوئی مددگار ہوگا۔ جو تمہیں عذاب سے بچا سکے اور یاد رکھو ! تمہیں یہ سزا اس وجہ سے ملے گی ذلکم بانکم تخذتم ایت اللہ ھزوا کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو ٹھٹا کیا ہوا بنا لیا۔ جب تمہارے سامنے خدا تعالیٰ کا قرآن اس کے احکام ، دلائل اور شریعت پیش کی جاتی تھی تو تم ان چیزوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے ، آج اس کے بدلے میں یہ عذاب چکھو۔ اس کے علاوہ تمہاری بدبختی کی ایک وجہ یہ بھی تھی وعزتکم الحیوۃ الدنیا کہ دنیا کی زندگی نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا تم سمجھتے تھے کہ دنیا کا عیش و آرام ہمیشہ اسی طرح رہے گا اور ہم سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حالانکہ تمہارا یہ مال و دولت اور آرام و آسائش بالکل عارضی تھا مگر اس نے تمہیں دھوکے میں ڈالے رکھا اور تم اسی پر مفتون ہو کر رہ گئے ۔ ایک عربی شاعر بھی کہتا ہے غزنی شبابی میری جوانی نے مجھے دھوکے میں ڈال دیا۔ دنیا کے ساز و سامان کی مثال سراب کی ہے۔ آدمی چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر آگے بڑھتا ہے مگر اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی بھی ایک دھوکہ ہے۔ جو شخص اس وسو کے میں آ گیا اور اسی کا بن کر رہ گیا۔ وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا ، یہ دنیا کے لوازمات تو اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ ان میں دل لگانے کی بجائے ان سے عبرت حاصل کرنی چاہئے نہ کہ انہیں پاکر دھوکے میں پڑجانا چاہئے۔
فرمایا ان سختوں کو جس سزا میں آج مبتلا کیا گیا ہے۔……………بلکہ یہ ہمیشہ اسی میں جھتے رہیں گے ولاھم ویستعتبون اور نہ ہی ان کو کوئی موقع دیا جائے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کو راضی کر کے اس عذاب سے نکل سکیں۔ شاہ عبدالقدر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو منانے کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ توبہ کرلیں اور اللہ تعالیٰ سے کر رہ گناہوں کی معافی طلب کرلیں۔ یہ تو اسی دنیا میں ممکن ہے کہ انسان اپنے گناہوں پر نادم ہوجائے اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرے لے تو اللہ غفور و رحیم ہے مگر قیامت والے دن ایسا نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس وقت انسان دارالعمل سے دارالجزا میں پہنچ چکا ہوگا۔
کائنات و پروردگار
آگے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا ذکر ہے فللہ الحمد پس تعریف ہے اللہ تعالیٰ کے لئے رب السموت و رب الارض جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے رب العلمین اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ ان تینوں صفات میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ذکر ہے۔ ارض و سما مختلف چیزیں ہیں مگر رب سب کا ایک ہی مشرک تو کہتے ہیں کہ آسمان و زمین فضائوں اور ہوائوں کے دیوتا مختلف ہیں۔ اسی طرح ہندو مت والے کہتے ہیں کہ پیدا کرنے والا ، باقی رکھنے والا اور فنا کرنے الا تین مختلف خدا ہیں حالانکہ رب تو ہر چیز کا وہی وحدہ لاشریک ہے انسان کی تخلیق بھی وہی کرتا ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ بھی وہی لوٹائے گا پوری کائنات پر اس کی ربوبیت جہاں ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا رب بھی نہیں رہے۔ رب کا معنی پروردگار ہے جو ہر چیز کی بتدریج پرورش کر کے اسے حد کمال تک پہنچاتا ہے اور اس کی زیست کا سامان مہیا کرتا ہے ۔ وہ اس جہاں کا بھی رب ہے ، برزخ کا بھی اور عالم آخرت کا بھی وہی پروردگار ہے۔
خدا تعالیٰ کی کہانی
آگے فرمایا ولہ الکبریآ فی السموات والارض اور بڑائی بھی اس کے لئے ہے آسمانوں میں اور زمین میں عظمت کا مالک بھی وہی ہے جو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ وہی باقی ہے ، اس کے علاوہ ہر چیز فانی ہے جن انسان ، فرشتے ، ساری مخلوق اسی کی محتاج ہے۔
مرا اور رسد کر یا ومنی
کہ ملکش قدیم است و ذانش غنی
بڑائی اور عظمت تو اسی کے لائق ہے۔ جس کی ذات قدیم اور ازلی ہے اور جس کی بادشاہی دائم ہے۔ اسی لئے ہم ہر وقت اللہ اکبر کہہ کر اس کی بڑائی کا اقرار کرتے ہیں بڑائی اسی کو سزاوار ہے جس کی ہر چیز ذاتی ہے اور کسی دوسری ہستی کی کوئی چیز ذاتی نہیں بلکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا عطادہ کردہ ہے۔ اللہ خلاق بکل شیء (الزمر 62) ہر چیز کا خالق وہی ہے ، باقی سب مخلوق ہے اور اس کی محتاج ہے۔ سورة الرحمٰن میں فرمایا یسئد من فی السموت والارض (آیت 29- ) ارض و سما کی ہر چیز اسی کی سوالی ہے ، کوئی زبان حال ہے مالک رہا ہے اور کوئی زبان قال سے اپنی حاجات طلب کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے الکبریا ردائی والعظمۃ ازاری یعنی بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہہ بند ہے ۔ جو شخص اس بڑائی اور عظمت کو اپنے اوپر اوڑھنا چاہے گا فرمایا میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا۔ سورة مومن میں بھی گزر چکا ہے ان الذین یکستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین (آیت 608) جو لوگ میرے سامنے دست سوال دراز کرنے سے تکبر کرتے ہیں ۔ میں ان کو ذلیل کر کے دوزخ میں ڈالوں گا میرے بندوں کو میرے سامنے عاجزی کا اظہار کرنا چاہئے اور مجھ سے سوال کرنا چاہئے۔ غرضیکہ غنی اور صمد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، باقی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے۔ اس کے سوا کوئی کسی کی حاجت براری کرسکتا ہے۔ نہ کسی مشکل کو حل کرسکتا ہے ۔ آسمانوں اور زمین کی کبریائی صرف اسی وحدہ لاشریک کے لئے راہ ہے۔
فرمایا وھو العزیز الحکیم وہ اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک غالب اور حکمتوں والا ہے۔ قوت کا سرچشمہ وہی ہے واللہ غلاب علی …(یوسف 21- ) وہ اپنی تدبیر میں غالب ہے ، باقی ساری مخلوق مغلوب ہے۔ وہ حکمتوں والا بھی ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ارض و منا کی تخلیق ، بعثت انبیاء ، نزول کتاب ، وقوع قیامت اور جزائے عمل سب اس کی حکمت کا شاہکار ہیں۔ لہٰذا اسی کی عظمت اور توحید پر یقین رکھنا چاہئے کہ یہ بھی ایمان کا ایک جزو ہے۔