Ayahs 45:18–21ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر کافروں اور مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم دیا اور انتقامی کارروائی کرنے سے منع فرما دیا پھر ارشاد ہو کہ جو شخص کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں خود اس کا بھلا ہوتا ہے اور جو کوئی برائی کا کام کرتا ہے تو اس کا وبال خود اسی پر پڑتا ہے ہر نیکی اور بدی کی جزائے عمل کے لئے ہر شخص کو قیامت والے دن بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر اپنے اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مثال بیان فرمائی کہ ہم نے ان کو کتاب حکومت و نبوت عطا فرمائی روزی کے لئے پاکیزہ چیزوں کا بندوبست کیا اور اس دور میں ان کو اقوام عالم پر فضیلت بخشی ان کو کھلی نشانیاں بھی دی گئیں مگر ان تمام احسانات کے باوجود انہوں نے علم آجانے کے بعد آپس میں اختلاف کیا اور فرقہ بندی میں مبتلا ہوگئے تو فرمایا کہ ان کے درمیان اختلافات کا فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کو ہی کرے گا۔
آخری شریعت
فرمایا بنی اسرائیل نے تو ہدایت کے تمام سامان مہیا ہونے کے باوجود آپس میں اختلاف کیا اور مشرکین مکہ اور عرب نے ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نبی آخر الزمان کی نبوت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ نے خطاب فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل تو دین حق پر قائم نہ رہ سکے ثم جعلنک علی شیعید من الامر پھر ٹھہرایا ہے ہم نے آپ کو ایک شریعت پر دین کے سلسلہ میں فاثبعھا پس آپ اس کی پیروی کریں اور ان لوگوں کے اختلافات ، تعصب اور فساد کی طرف توجہ نہ دیں کیونکہ یہ تو اسی طرح کرتے رہیں گے اور آخری فیصلہ اللہ کی بارگاہ میں ہی ہوگا۔ اب اللہ نے آپ کے اور آپ کے پیرو کاروں کے لئے ایک شریعت مقرر کردی ہے۔ اس کی پیروی کریں اور کفار و مشرکین اور اہل کتاب کی خواہش پر اپنے دین حق کی تبلیغ میں ڈھیلے نہ پڑجائیں۔ مطلب یہ کہ ولا تتبع ھواً الذین لایعلمون آپ ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جن کو کچھ علم نہیں وہ جاہل اور نادان ہیں ان کے کہنے میں بالکل نہیں آنا۔
شریعت کا معنی دین کے سلسلہ میں واضح راستہ ہوتا ہے اور لفظی معنی پانی کا گھاٹ جہاں سے انسان اور جانور اپنی پیاس بجھاتے ہیں تاہم جان لینا چاہئے کہ شریعت مذہب دین ملت اور منہاج قرآن و سنت کی اصطلاحات ہیں اور ان کو ان کے پس منظر میں ہی سمجھنا چاہئے مذہب کا معنی راستہ اور شریعت کا معنی واضح راستہ ہے دین کا معنی اطاعت اور فرمانبرداری ہوتا ہے۔ ملت سے مراد خاص نصول ہوتے ہیں جن کی پیروی ضروری ہوتی ہے اور یہ ملت انبیاء بھی کہلاتی ہے۔ ملت ابراہیم اور ملت اسلامیہ بھی اسی کو کہا جاتا ہے۔
مفسرین اور محمد ثین ان چیزوں کو سمجھانے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں اس سلسلہ میں بعض اوقات تین اصلاحات ایمان ، اسلام اور احسان کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ایمان کا تعلق باطن سے ہوتا ہے اور یہ قلبی تصدیق کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت رسالت ، …آب کا ویہ قیامت اور ان تمام چیزوں کی تصدیق کا نام ایمان ہے قطعی اور یقینی …پیغمبر اسلا م سے ثابت ہیں دوسری چیز اسلام ہے جس کا تعلق ظاہر سے ہے اور اس میں نماز ، روزہ حج ، زکوۃ اور جہاد جیسے اعمال آتے ہیں۔ گویا ظاہری احکام کا نام اسلام ہے اور پھر ایمان اور اسلام کے مجموعے کو دین کہا جاتا ہے۔ تیسری چیز آسمان ہے جس کا تعلق اخلاص کے ساتھ ہے ۔ عبادات اور دیگر کارہائے مصر میں جس قدر اخلاص پایاجائے گا اسی قدر وہ عمل مقبولیت کا درجہ حاصل کرے گا۔ اعمال ہی انسان کے لئے مفید ہوں گے جب کہ برے اعمال وبال جان بن جائیں گے یاد رہے کہ اعمال کا تعلق اسلام کے ساتھ ہے تیسری چیز اخلاص ہے کہ اس کی بھی اشد ضرورت ہے دین میں ریا کاری یا باطل کی آمیزش نہ ہو ، بلکہ اس میں زیادہ سے زیادہ اخلاص ہونا چاہئے اور اسی چیز کو احسان کس یاتھ تعبیر کیا گیا ہے۔
بعض مفسرین دین اور شریعت کی تشریح اس طرح بیان کرتے ہیں کہ دین ایسے عقائد کا نام ہے جو ہر نبی کی امت میں یکساں طور پر قائم رہے ہیں ، جیسے فرمایا شرع لکم من الدین ماوصی بہ لمحاً …الآیتہ (الشوری 13- ) اللہ نے تمہارے لئے وہی دین اور وہی عقائد مقرر کئے ہیں جو نوح (علیہ السلام) اور بعد میں آنے والے تمام انبیاء کے لئے مقرر کئے گئے تھے گویا یہ بنیادی عقائد ناقابل تنسیخ ہوتے ہیں پھر فرماتے ہیں ملت سے مراد وہ موٹے موٹے اصول دین یا کلیات ہیں جو کہ تقریباً انبیاء کی امتوں میں مشترک رہے ہیں ان میں طہارت ، نماز ، روزہ ، قربانی ، صدقہ خیرات بہتر اخلقا رذیل باتوں سے اجتناب وغیرہ شامل ہیں ، ملت ابراہیمی اور ملت اسلامیہ بھی اسی کو کہتے ہیں ، پھر تیسری چیز شریعت ، مذہب یا منہاج ہے جس میں کلیات کی جزیات ہوتی ہیں اس میں چھوٹے چھوٹے مسائل و احکام از قسم حلال و حرام نکاح ، طلاق ، تجارت ، معاشرت ، اور معیشت وغیرہ آتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف انبیاء کی شریعت مختلف رہی ہے۔
مختلف شرائع میں فرق کی مثال اس طرح سمجھیں کہ کسی شریعت میں اونٹ کا گوشت حرام تھا مگر ہماری شریعت میں حلال ہے یا مثلاً یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں دو سگی بہنوں سے نکاح جائز تھا مگر ہماری شریعت میں اس کی ممانعت کردی گئی ہے جیسے فرمایا وان جمعوابین الختین الا ما قد سلف (النسآئ 23) کہ تم دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع نہیں کرسکتے ہاں جو پہلے ہوچکا وہ ہوچکا چناچہ ان جزیات کو شریعت کہا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم (علیہ السلام) کا ارشاد مبارک بھی ہے نحن معاشر الانبیاء اولاد علات دیننا واحد ہم بنیاد کے …کی مثال علاقی بھائیوں جیسی ہے جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں مگر ہمارا دین ایک ہے مطلب یہ کہ دین یعنی کلیات تو تمام انبیاء میں مشترک رہے مگر شرائع یعنی جزیات مختلف رہی ہیں ، پھر جب آخری شریعت آگئی تو پہلی تمام شرائع منسوخ ہوگئی اب کسی سابقہ نبی کی شریعت پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا۔
اتباع شریعت سے انحراف
بہرحال فرمایا کہ اے پیغمبر ! ہم نے آپ کے لئے ایک شریعت مقرر کردی ہے آپ اسی کا اتباع کریں اس مقام پر مولانا شاہ اشرف علی تھانوی یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ جب اللہ کا نبی بھی اس …شریعت کا پابند ہے تو پھر امت پر تو بطریق اولیٰ یہ پابندی عائد ہوتی ہے اور کوئی شخص بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا اور پھر شریعت کی پابندی میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ اس کو ترقی ملتی ہے ، درجات بلند ہوتے ہیں اور آخرت میں نجات حاصل ہوتی ہے۔ شریعت کی عدم پابندی تو شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف ہے۔ قرآن میں اللہ نے جگہ جگہ فرمایا ہے۔ ولا تتبعوا خطوت الشیطن (البقرہ 168) کہ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کی وحی کے ذریعے نازل فرمایا اور اس کی تفصیل سنت کے ذریعے واضح کی پھر بعض چیزیں اجتہاد کے ذریعے حل ہوئیں چونکہ یہ سب شریعت ہی سے متعلقہ چیزیں ہیں لہٰذا ان سب کا اتباع ضروری ہے۔ البتہ رسومات باطلہ اور بدعات کو اختیار کرنا بلا شبہ شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہے۔
جب تک برصغیر پر انگریز حکمران رہا۔ اہل ایمان اس کے قانون کی پابندی پر مجبور تھے۔ سیاسی ، اقتصادی ، معاشرتی ، تجارتی قوانین سب انگریز کے وضع کردہ تھے البتہ اس نے مسلمانوں کو بعض رعایات دے رکھی تھیں جن کو پرسنل لاء کہا جاتا تھا۔ اور مسلمان اپنے عقیدہ کے مطابق ان کو اختیار کرسکتے تھے مگر۔ آزاد یکے بعد تو انگریزی قانون کے نفاذ کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد تمام قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کرلیا جاتا مگر افسوس کہ آج تک ایسا نہیں ہوسکا۔ اس ضمن میں کار پرواز ان حکومت خاص طور پر اور عام مسلمان عام طور پر گنہگار ہیں کہ وہ شریعت اسلامیہ کو نافذ نہیں کر پائے۔ آج تک وہی ملعون قوانین چل رہے ہیں مثلاً حادثاتی موت کی صورت میں لاش کا پوسٹمارٹم ضروری ہے حالانکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں سودی کاروباری بالکل اسی طرح چل رہا ہے جیسے انگریزوں نے زمانے میں تھا عدالتی نظام میں کوئی اصلاح نہیں ہوئی بلکہ وہی غلامانہ تعزیراتی قانون رائج ہے دیکھیں ترکی میں شریعت کا قانو ختم ہوا تو ملکی قانون بھی بدل دیئے گئے اور پھر کوئی قانون جرمنی کا کوئی برطانیہ کا اور کوئی فرانس کا لے لیا گیا اور اس طرح ادھا تیتر اور آدھا بٹیر والی مثال صادق آئی۔ خود ہمارے ملک میں شریعت کا نفذ اس بہانہ سے نہیں کیا جا رہا ہے کہ اس پر تمام مذاہب متفق نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کسی طرح چور دروازے سے حکومت پر قابض رہیں اگر خدا راقانون جاری ہوتا ہے تو ان کا اپنا اقتدار خطرے میں پڑجاتا ہے لہٰذا خیریت اسی میں ہے کہ جس طرح کا نظام چل رہا ہے اسے چلنے دیا جائے اب تعزیراتی قوانین میں شرع کے مطابق کچھ رد و بدل کیا گیا ہے مگر اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ، آج تک کسی مجرم پر حد جاری نہیں ہوئی ، نہ کسی کا ہاتھ کٹا اور نہ کوئی سنگسار ہوا ، سعودی عر ب میں حدود کا نفاذ ہے تو وہاں حرف بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ وہ بدو تھے جو کبھی مسافر کے پائوں سے جوتا بھی اتروا لیا کرتے تھے مگر آج اسلامی تعزیرات کے نفاذ کا یہ اثر ہے کہ سڑک پر سونے کی ڈلی بھی پڑی ہو تو کوئی ہاتھ لگانے کی جرأت نہیں کرسکتا بلکہ پولیس کو دور سے ہی بتا دیتا ہے کہ وہاں کسی کا مال پڑا ہے۔ آج لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز کے لئے چلے جاتے ہیں مگر کسی کی کیا مجال ہے کہ کوئی چوری کا تصور بھی کرسکے ۔ اب تک زیادہ سے زیدہ پچاس ساٹھ آدمیوں کے ہاتھ کٹے ہوئے گے مگر چوری بالکل ختم وہ گئی ہے اور ہمارے ہاں شرعی قوانین سے انحراف کی وجہ سے لوگ مسجدوں سے جوتے تک چوری کرلیتے ہیں۔
باقی رہایہ اعتراض کہ کون سا فقی قانون نافذ کیا جائے تو یہ ہی کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جس ملک میں جس فقہ کے ماننے والوں کی اکثریت ہو وہاں اس فقہ کا قانون نافذ کیا جائے۔ سپین میں مالکی فقہ ک یاکثریت تھی تو وہاں مالکی فقہ رائج رہا برصغیر ، افغانستان ، ترکی ، خراسان وغیرہ میں حنفی لوگوں کی اکثریت ہے تو یہاں حنفی فقہ کے مطابق قانون جاری ہونا چاہئے۔ افسوس کا مقام ہے کہ بعض لوگ حنفی قانون کے نام سے بدکتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی قرآن و سنت سے ہی ماخوذ ہے اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی چیز قابل قبول نہیں۔ فتاویٰ اور دیگر کتب کی تمام باتیں قابل عمل نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو محض معلومات ہوتی ہیں جن پر قانون کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ عالمگیری سے لوگوں کو خواہ مخواہ چڑ ہے یہ تو پانچ سو علما کا تدوین کردہ قانون ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔ اس کی مخالفت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اگر لوگوں کی اکثریت کا قانون جاری کردیا جائے تو دوسرے لوگ بھی محروم نہیں رہتے۔ حنفی فقہ ہزار اسل سے زیادہ عرصہ تک دنیا میں رائج رہا ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی نے اپنے آپ کو شافعی ظاہر کیا ہے تو اس کا فیصلہ شافعی مسلک کے مطابق کردیا گیا اور اس میں کسی مسلک والے کو کوئی دقت پیش نہیں آئی مختلف فقہی مسالک میں مکمل اتفاق تو شاید کبھی ممکن نہ ہو۔ انگریزی قانون میں بھی کبھی دو جج کسی فیصلہ پر متفق نہیں ہوئے۔ بھٹو کی پھانسی کے مسئلہ پر سارے جج متفق نہیں ہوئے تھے بلکہ ان میں بھی اختلاف رائے تھا۔ بڑی عجیب بات ہے کہ دنیاوی قوانین میں تو اس قسم کے اختلافات برداشت کر لئے جاتے ہیں۔ مگر فقہی جزیات میں ایسے اختلافات کو برداشت نہیں کیا جاتا اور مکمل اتفاق رائے تک نفاذ شریعت کے عمل کو پایہ کتمیل تک نہیں پہنچنے دیا جاتا۔ بہرحال شریعت کا قانون منجانب اللہ ہے جس میں تمام آیت اور جزیات آگئے ہیں اور پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں اس کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے۔
اللہ نے فرمایا کہ ہم نے آخر میں آپ کو ایک شریعت پر مقرر کیا ہے آپ اسی شریعت کی اتباع کریں اور بےعلم لوگوں کی خواہشات پر نہ چلیں کیونکہ انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیاء وہ آپ کو اللہ کے سامنے کچھ بھی کام نہیں دے سکیں گے اگر آپ نے ان کی طرف جھکائو ذکر لیا تو پھر اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ وان الظلمین بعضھم اولیآء بعض بےثبات بےانصاف ایک دوسرے کے حامی اور رفیق ہوتے ہیں جو لوگ شریعت مصرہ کی بجائے شیطان کے نقش قدم پر چلتے ہیں وہی ایک دوسرے کے معاون بنتے ہیں اس کے برخلاف وللہ ولی لمبقین اہل ایمان اور پرہیز گاروں کا حامی و ناصر اور کار ساز اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ کی حمایت حاصل ہوجائے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ لہٰذا اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھنا چاہئے وہی ان کا کار ساز ہے۔
(مس پرنٹ ہے)
علم حاصل ہوتا ہے دل میں اطمینان یقین اور عرفان پیدا ہوتا ہے فرمایا یہ چیزیں تم صرف بصیرت ہیں بلکہ وھدی ذریعہ ہدایت بھی ہیں زندگی کے ہر موڑ پر انہی چیزوں سے راہنمائی حاصل ہوگی قرآن و سنت اور اسلامی علوم جگہ جگہ آپ کی راہنمائی کریں گے پھر جب قوانین الہیہ کی پابندی سے اللہ تعالیٰ کی جو مہربانی شامل حاتی ہوتی ہے اس کے متعلق فرمایا ورحمۃ وہ خدا کی رحمت ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عام قاون یہ بات ان رحمت اللہ قریب من المحسنین (الاعراف 56) اللہ تعالیٰ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے ہر وقت شامل حال ہوتی ہے لیکن کار آمدی کو نیکی کرنے سے نیکی کی مزید توفیق ملتی ہے ، اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں جگہ نصیب ہوتی ہے۔ فرمایا یہ سب کچھ لقوم یومنون ان لوگوں کے لئے جو توحید و رسالت اور معاد پر یقین رکھتے ہیں۔
نیکی اور برائی میں امتیاز
فرمایا دیکھو ! نیک اور …نہیں ہو سکتے ، ام حسب الذین اجترحو السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعلموا الصلحت کیا برائیوں کا ارتکاب کرنے والے لوگ کمان کرتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طر ح بنا دیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے ؟ ایک شخص اطاعت میں تکالیف برداشت کرتا ہے ، ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے جب کہ دوسرآدمی ایمان سے خالی ہے اور برائیوں میں پڑ کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے خدا کے ہاں وہ ہرگز برابر نہیں ہو سکتے اور فرمایا کہ کیا یہ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سواء محیھم ومما نھم کہ ان کی موت اور زندگی بھی برابر ہوگی فرمایا ہرگز نہیں اگر وہ ایسا گمان کرتے ہیں سآء مایحکمون تو بہت برا فیلہ کرتے ہیں ان کی زندگی اور موت ہرگز نہیں۔ اگر وہ ایسا گمان کرتے ہیں سآء مایحکمون تو بہت برا فیلہ کرتے ہیں۔ ان ک یزندگی اور موت ہرگز برابر نہیں ہو سکتی۔ اگر نیکی اور بد برابر ہوجائیں تو پھر تو اندھیر نگری بن جائے گی اور برائی کرنے والوں کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے عقائد و اعمال کے مطابق ہی بدلہ دے گا اہل ایمان کی یہ زندگی بھی پاکیزہ ہوتی ہے ایسا شخص کفر ، شرک ، نفاق اور بدعات سے پاک ہوتا ہے۔ وہ تکالیف برداشت کر کے رزق حلال کمانا ہے ، نماز ، روزہ کی پابندی اختیار کرتا ہے ، حلال حرام میں امتیاز کرتا ہے ، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرتا ہے۔ اس کے برخلاف برائی والے آدمی کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا۔ وہ جانوروں کی طرح کھاتا پیتا اور کھیل کود میں زندگی گزار دیتا ہے۔ یہ نہ تو اس دنیا میں برابر ہوتے ہیں اور نہ اگلی دنیا میں برابری حاصل ہوگی۔ مومن آدمی کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے مقام میں جگہ دیگا۔ جہاں راحت کی ہر چیز نصیب ہوگی اور کافر جہنم کا شکار بنے گا۔ لہٰذا یہ دونوں کسی صورت میں بھی برابر نہیں ہو سکتے۔
Ayahs 45:22–26ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آخری شریعت کے نزول کا ذکر کیا اور اس کے اتباع کا معمہ دیا۔ نیز خواہشات نفسانی کی پیروی سے منع فرمایا اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن کی یہ آیتیں اور سورتیں بصیرت ہدایت اور ہمت ہیں مگر اس شخص کے لئے جو یقین رکھتا ہے …اللہ نے نیک و بد کے متعلق فرمایا کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے بعض برے لوگ برائیاں کماتے ہیں جب کہ بعض اہل ایمان نیکی کے کام کرتے ہیں ۔ ان دونوں کی زندگی اور موت میں فرق ہے اور یہ تفاوت اگلے جہان میں بھی قائم رہے گا۔
ارض و سما کی تخلیق
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے تخلیق ارض و سما کا ذکر فرمایا ہے جو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے تو دوسری طرف وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کی دلیل بھی بنتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وخلق اللہ السموت والارض بالحق اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ تخلیق کیا ہے مطلب یہ کہ عمیق ارض و سما کوئی مہمل بات نہیں بلکہ اللہ نے بن کر اپنی خاص حکمت اور مصالحت کے تحت پیدا کیا ہے اور اس کا کوئی خاص مقصد ہے ۔ سورة ص میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وما خلقنا السمآء والاض وما بینھما باطلاً ذلک ظن الذین کفروا (آیت 37- ) اور ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی چیزوں کو بیکار پیدا نہیں کیا بلکہ وہ کافروں کو گمان ہو سکتا ہے کوئی سمجھدار ایماندار آدمی ارض و سما کو بیکار محض نہیں ان فساد بیکار کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں کسی حادثے کی وجہ سے پیدا ہوئیں اور پھر اسے ہی کسی روز حادثاتی طور پر ختم ہوجائیں گی اور ان کا انجام کچھ بھی نہیں ہے۔
فرمایا پوچھو ! کوئی عقلمند آدمی اپنی نخلس اور اپنے تردد سے انکار نہیں کرسکتا تو جس طرح ہمارا یہ آغاز ہمیں نظر آ رہا ہے۔ اسی طرح اظہار انکاری درست نہیں۔ اگر آغاز سے واقف ہو تو آجانا بھی دیکھ لو گے جزائے عمل کی منزل آگے آنے والی ہے اور یہی اس آغاز کا انجام ہے جب ہر شخص کو اس کے لئے ہی بدلہ میں رہے گا۔
جزائے عمل کی منزل
فرمایا ارض و سما کی تخلیق کا مقصد یہ ہے ولتجزی کل نفس بما کسبت اور تاکہ ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے بعض اوقات دنیا میں بھی کسی کی کارکردگی کا اچھا یا برا بدلہ مل جاتا ہے مگر حل جزائے عمل یہاں ممکن نہیں۔ بلکہ قیامت کو ہی واقع ہوگی۔ جب تمام مجرموں کو ان کے جرائم کی پوری پوری سزا ملے گی۔ یہ دنیا دار تخلیط ہے۔ یہاں نیکی پرہیز غلط ملط ہوئی ہوتی ہے اور کئی چیزوں کا امتیاز نہیں کیا جاسکتا مگر قیامت والے دن ہر اچھائی ہوئی الگ الگ کردی جائے گی اور کسی چیز میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں رہے گا لہٰذا وہیں ہر چیز کا فیصلہ ٹھیک ٹھیک کردیا جائے گا اس دنیا میں تو بعض اوقات بےگناہ بھی پکڑے جاتے ہیں اور بعض گناہ گار بھی بچ جاتے ہیں مگر وہاں ایسا نہیں ہوگا ان یوم الفصل کان میقاتا …اللہ نے حتمی فیصلے کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ کل نفس بما کسبت رھینۃ (المدثر 38- ) ہر شخص اپنے عمل میں گروی ہے اسے مقررہ دن پر اپنی کارکردگی کا پورا پورا حساب چکانا ہوگا جزائے عمل ضرور واقع ہوگی وھم لا یظلمون اور اس دن کسی پر زیادتی نہیں کی جائیگی۔ دنیا کی عدالتوں میں تو بعض اوقات غلط فیصلہ بھی ہوجاتا ہے ، رشوت ، سفارش اور اقربا پروری بھی کسی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مگر قیامت والے دن جب حتمی فیصلے ہوں گے تو پھر کسی کے ساتھ ذرہ بھر بھی زیادتی نہیں ہوگی بلکہ پورا پورا بدلہ ملے گا۔ یہی وہ حکمت اور مصلحت ہے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے رض و سما کی تخلیق فرمائی ہے۔ یہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک اور متصرف وہی ہے اور دوسری طرف جزائے عمل کی دلیل بھی ہے کہ ہر چیز کا ایک انجام ہے جو جزائے عمل کی صورت میں پیش آئے گا۔
نفسانی خواہش …
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قانون ہدایت کو چھوڑ کر نفسانی خواہشات …کرنے والوں کا رد کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے افریت من اختلامہ ہوئہ کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے اپنی خواہش کو ہی معبود بنا لیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پوری زندگی کے لئے آیات لائحہ عمل دیا ہے کہ اس کے مطابق زندگی بسر کرے ، قرآن پاک نبی کی تعلیم ، شریعت ، احکام وغیرہ انسان کے لئے دستور العمل ہے ، مگر حضرت انسان ہے جو ان کی بجائے رسم و رواج اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چل سکتا ہے گویا کہ اس نے اپنی خواہشات کو ہی معبود بنا لیا ہے معبود وہی ہوتا ہے جس کی مکمل اطاعت کی جئے تو جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور احکام دین کی اطعات کی بجائے خواہشات کے پیچھے چلتا ہے۔ وہ انہی کی عبادت کر رہا ہے اور خواہشات کی پیروی گویا شیطان کے قنش قدم پر چلنا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولا تتبوا خطوت الشیطن انہ لکم عدو مبین (البقرہ 169) شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کہ یہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
فرمایا کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو ہی معبود بنا لیا ہے ؟ اب اس کی حالت یہ ہوچکی ہے واضل اللہ علی علم کہ اللہ تعالیٰ نے اسے علم پر گمراہ کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے حالات و استغفار …جانتا ہے اور یہ بھی کہ یہ خواہشات کا بندہ ہے اور یہ راہ راست پر آنے والا نہیں ہے لہٰذا اللہ نے اس کو گمراہ کردیا ہے علی علم کا یہی معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی ہر چیزہ پورا پورا علم ہے اور اسی علم کی بناء پر اس کو گمراہ کیا ہے۔ اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ خود اس شخص کو ہر اچھائی اور برائی کا علم ہے ، وہ کسی نافرمانی یا جہالت کی وجہ سے غلط کار نہیں کرتا بلکہ دیدہ دانستہ خواہشات کی پیروی کر رہا ہے لہٰذا اللہ نے اسے گمراہ کردیا ہے۔ ہم تاریخ میں بعض بڑے بڑے لوگوں کے حالات پڑھتے ہیں جن وہ نیکی اور بدی کا علم تھا مگر ان کا ارادہ نیت اور استعداد اچھی نہیں تھی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کو گمراہ کردیا۔ گویا اس شخص نے علم کی روشنی سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ خدا تعالیٰ تخلیق کے اعتبار سے قادر مطلق ہے ۔ مگر اس کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔ ہر شخص کے ساتھ دنیا و آخرت میں کسی کی اہلیت کے مطابق سلوک کرتا ہے۔
فرمایا خواہشات نفس کے پجاری کو ایک تو اللہ نے علم پر گمراہ کردیا ہے اور دوسرا یہ کہ وختم علی سمعہ وقلبہ اس کے کانوں ار دل پر مہر کردی ، وجعل علی بصرہ غشوۃ اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ، سورة البقرہ کی ابتداء میں بھی اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا ہے ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ (آیت 7- ) اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اسی طرح سورة النساء میں یہودیوں کے متعلق فرمایا ہے کہ ان کی عہد شکنی آیات الٰہی کی تکفیر انبیاء کے قتل ناحق اور ان کے یہ کہنے کے سبب کہ ان کے دل بند ہوچکے ہیں فرمایا ایسا نہیں بل طبع اللہ علیھا بکفرھم (آیت 155- ) بلکہ جب انہوں نے کفر پر کفر کیا ظلم و زیادتی ، سرکشی اور نصانیت اختیار کی تو اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ا بان میں کوفی اچھی چیز داخل نہیں ہو سکتی۔ ایسا شخص ہمیشہ گمراہی میں پڑا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں نو جماتولی و نصلہ جھنم (النساء 153- ) کہ جدھر وہ جانا چاہتا ہے ہم توفیق دے دیتے ہیں اور بالآخر وہ جہنم میں پہنچ جاتا ہے یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل پر ابتدا ہی میں مہر نہیں لگا دیتا بلکہ آہستہ آہستہ جب وہ کفر میں اس قدر پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ حق بات کو نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے اور نہ کسی اچھی بات کو دل میں جگہ دیتا ہے تو اس کا یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ اس کے کان ، آنکھیں اور دل سربمہر کردیئے جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ کے لئے ناکم ہوجاتا ہے۔
فرمایا فمن یھدیہ من بعد اللہ جلالہ ایسے شخص کو خد ا تعالیٰ کے سوا کون وہ راہ راست پر لاسکتا ہے افلا تذکرون کیا تم نصیحت نہیں ہوتے ؟ تمہیں تو ایسے بدنصیب شخص کی حالت میں غور کرنا چاہئے اور نصیحت کی بات کو سچے دل سے سوچنا چاہئے عقیدت کے کانوں سے سننا چاہئے اور عبرت کی نگاہوں سے دیکھنا چاہئے ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دینا چاہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ استعداد ہی جوا ب کر دے اور انسان غلط راستے پر چل کر شقاوت کا مستحق بن جائے غرضیکہ خواہشات کی پرست بری خصلت ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ آسمان کے نیچے اور زمین کی سطح پر خواہش نفسانی سے زیادہ خطرناک کوئی معبود نہیں ہے اسی لئے بزرگان دین لوگوں کی اصلاح نفس کے لئے نفسانی خواہش کی بیخ کنی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ خواہش کی بجائے حق کو دیکھے حضرت عبداللہ بن سہل تستری فرماتے ہیں کہ خواہش ایک خطرناک بیماری ہے اور اس کی مخالفت ہی اس کا علاج ہے چونکہ یہ بڑا مشکل کام ہے اس لئے اس پر زیادہ …کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نفسانی خواہش عقیدے کے معاملے میں بھی پیدا ہوتی ہے اور اخلاق و اعمال کے سلسلہ میں بھی انسان کو اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔
بعث بعد الموت سے انکار
اگلی آیت میں اللہ نے دہریوں کا رد فرمایا ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی موت وحیات اور جزائے عمل کے سرے سے ہی منکر ہیں فرمایا وقالوا وہ کہتے ہیں۔ ماھی الاحیاتنا الدنیا نموت ونخیا کہ ہماری یہ دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے جس میں ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے ہیں۔ وما یھلکنا الا الدھر اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ دہریوں کا یہ گروہ ہمیشہ قلیل تعداد میں رہا ہے تاہم یہ زندگی اور موت کو حوادثات زمانہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ کسی حادثہ کے نتیجہ میں پیدا ہوگئے اور پھر اسی طرح ختم بھی ہوجاتے ہیں نہ کوئی پیدا کرن والا ہے نہ موت طاری کرنے والا ، نہ کوئی قیامت ہے اور نہ بعث بعدالموت بلکہ لوگوں نے قصے کہانیاں بنا رکھے ہیں کہ ہر شخص کا حساب کتاب ہوگا اور جزائے عمل کے متعلق فیصلے ہوں گے ایسی باتوں کی کچھ حقیقت نہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا وما لھم بذتک من لکم ان ھو الا یظنون حالانکہ ان بدبختوں کو ان چیزوں کا کچھ علم نہیں ہے وہ مگر …کرتے بلکہ محض تسلی بچو باتیں کر رہے ہیں۔
زمانے کی تعریف
صحیح بات یہ ہے کہ جس زمانے کی طرف یہ لوگ موت وحیات کو منسوب کر رہے ہیں اس کی اپنی کوئی حقیقت میں ہے زمانہ کوئی متصرف ہستی نہیں ہے کہ کسی کو پیدا کر دے اور کسی کو موت دے دے بلکہ زمانے کی تعریف کرنا بڑا مکمل کام ہے بڑے بڑے فلاسفہ بھی اس کی ٹھیک ٹھیک تعریف کرنے سے عاجز ہیں ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم نے زمانے کی تعریف معلوم کرنے کے لئے بڑی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے وقت کے بڑے منطقی مولانا معین الدین اجمیری کو خط لکھا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں جو رسالہ لکھا ہے اس کی کاپی بھیجیں انہوں نے مولانا انور شاہ کشمیری کی طرف بھی رجوع کیا وہ انہیں زمانے کی تعریف سمجھا دیں۔ (شاہ ولی اللہ فیوض الحرمین میں فرماتے ہیں کہ زمان ، مکان اور مادہ ایک ہی چیز ہے۔
زور مقدر حرکت کا نام ہے جس میں کوئی کام واقع ہوتا ہے ، یہ خود کوئی متفرق ہیرا نہیں ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا فرمان ہے لاتسبوا الدھر ہونے کو گالی نہ دو ۔ بعض لوگ بغیر سوچے سمجھے کہہ دیتے ہیں کہ دیکھو جی کتنا خراب زمانہ آ گیا ہے ، اس زمانے نے تباہ کردیا ، ہائے زمانے کی خرابی وغیرہ وغیرہ فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہو کیونکہ ان اللہ ھو الدھر کیونکہ زمانہ تو اللہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام تغیر و تبدیل ہیں اور جو ہر چیز کا متصرف ہے لہٰذا زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ بالواسطہ یہ خدا تعالیٰ کو گالی دیتا ہے۔ نعوذ باللہ
زندگی اور موت
فرمایا وازتلی علیھم ایتن البینت جب ان لوگوں کو ہماری واضح واضح آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ ان کے دلائل ، شواہد اور …پیش کئے جاتے ہیں ما کان حجتھم الا ان قالوا انتوا بابآ نان کنتم صدقین تو ان کی دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ اگر تم بعث بعد الموت کے دعوے میں پلے ہو تو ہمارے آبائو اجداد کو زندہ کر کے لے آئو تو ہم مان لیں گے کہ کوئی قیامت بھی آنے والی والی ہے جب تمام مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور یہ ایک کے متعلق آخری فیصلہ ہوں گے ، اللہ نے فرمایا ، ان کی یہ سوچ بڑی غلط ہے ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ قانون خداوندی کے مطابق ہر چیز اپنے مقررہ وقت پر ہی ظاہر ہوتی ہے اور کسی کسی خواہش پر آگے پیچھے نہیں ہوتی تم اس وقت اپنی زندگی کا انکار تو نہیں کرسکتے تمہارا وجود اس وقت دنیا میں موجود ہے اور تمہیں یہ زندگی وجود اور قوائے ظاہر ، و باطنہ کس نے خطاب کئے ہیں ؟ جس نے یہ زندگی بخشی ہے ، وہ دوسری زندگی دینے پر بھی قادر ہے۔
اللہ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا قل اللہ یحینکم ثم یمبتکم آپ ان سے کہہ دیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو تم کو زندہ کرتا ہے اور پھر موت دیتا ہے جس کا مشاہدہ تم ہر روز کر رہے ہو ، کوئی پیدا ہو رہا ہے اور کوئی مر رہا ہے جس طرح اس دنیا میں زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے قبضہ … میں ہے اسی طرح ثم یحمعکم الی یوم القیمۃ ل اریب فیہ پھر وہ تمہیں قیامت والے دن بھی زندہ کر کے جمع کرے گا اور اس دن کے آنے میں کوئی شک بھی نہیں ہے ۔ وہ دن ضرور آئے گا اور پھر اس دن تمہارے آبائو اجداد بھی زندہ ہو کر آجائیں گے۔ اس روز قیامت کے متعلق اللہ کا فرمان ہے وعد علینا انا کنا فعلین (لانبیاء 104) ہمارا یہ وعدہ ہے اور ہم اسے پورا کر کے چھوڑیں گے ہر شخص دوبارہ زندہ ہوگا اس کے عقائد و اعمال کے متعلق باز پرس ہوگی اور اسے دنیا کی کمانی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
فرمایا بعث بعد الموت برحق ہے ولکن اکثر الناس لایعلمون مگر لوگوں کی اکثریت اس کی حقیقت کو نہیں جانتی وہ اپنی نادانی بےسمجھی اور لاعلمی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ہم نے آج تک کسی کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو قیامت کو سب لوگ کیسے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ ہم زندگی اور موت کے واقعات کا روزمرہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود بعث بعدالموت کا انکار کوئی معقول بات نہیں ہے۔
Ayahs 45:27–31ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں توحید اور معاد کے مسائل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں گزشتہ آیات میں انہی مسائل کا ذکر ہوا۔ ساتھ ساتھ نبوت و رسالت کا مسئلہ بھی بیان ہو رہا ہے۔ قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بھی اللہ نے بیان فرمایا ہے ہم اس سورة میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد زیادہ ہے اور پھر قیامت ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل کے مباحث بار بار بیان ہو رہے ہیں۔
حقیقی بادشاہت
آج کی آیات بھی انہی مضامین پر مشتمل ہیں ، پہلے مسئلہ توحید کے متعلق فرمایا وللہ ملک السموت والارض اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی چونکہ ہر چیز کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیء حقیقی بادشاہی بھی اسی کی ہے جو ارض و سما سمیت پوری کائنات پر محیط ہے۔ البتہ مخلوق کو جو حکومت کسی خاص خطے میں ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کر وہ ہوتی ہے اور وہ جب چاہتا ہے اسے واپس لے کر کسی دوسرے کے سپرد کردیتا ہے۔ یہ بالکل عارضی حکومت ہوتی ہے مگر لوگ اسے مستقل سمجھنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں انہیں مایوسی ہوتی ہے چونکہ دنیا کی حکومت اللہ کی عطا کردہ ہوتی ہے اس لئے کس میں تصرف بھی خدا تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہی ہونا چاہئے جو لوگ احکام الٰہی کو نظر انداز کردیتے ہیں ان کے لئے یہی حکومت باعث و بال بن جاتی ہے۔
نقصان زدہ باطل پرست
آیت کے اگلے حصے میں قیامت والے دن باطل پرستوں کے خسارے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ویوم لقوم الساعۃ جس دن قیامت برپا ہوگی یہ وہ دن ہوگا جس دن اس دنیا کی انتہا ہوگی۔ موجودہ نظام شمسی تبدیل ہوجائے گا اور اس کی جگہ نیا نظام قائم ہوگا اس دن اس دنیا کی ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی حتی نہ آسمان و زمین بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہیں گے۔ جیسا کہ سورة ابراہیم میں فرمایا یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت (آیت 48- ) اس دن زمین اور آسمان بدل جائیں گے اور ان کی جگہ نئے ارض و سما قائم ہوں گے فرمایا جس دن قیامت برپا ہوگی یومئذ یجس المصلون اس دن باطل پرست لوگ نقصان اٹھائیں گے۔ جنہوں نے دنیا میں نہ ایمان قبول کیا نہ فکر کو پلاک کیا ، نہ عقائد و اعمال کی اصلاح کی اور نیکی کا راستہ اختیار کیا بلکہ خواہشات نفسانی کے پیھچے ہی چلتے رہے۔ ایسے لوگ اس دن سخت نقصان میں ہوں۔
مفسر قرآن امام رازی و فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اس دنیا میں تین چیزیں بطور پونجی عطا فرمائی ہیں۔ پونجی اس راس امال کو کہا جاتا ہے جس کے ساتھ کاروبار اور تجارت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ پونجی میں پہلی چیز انسان کی زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے مطابق کم و بیش ہوتی ہے۔ دوسری چیز عقل ہے۔ جو اللہ تعالیٰ ہر انسان کو عطا کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان مکلف ہوتا ہے ، یعنی اس پر قانون الٰہی کی پابندی لازم آتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تھا تو اسی وقت اسے مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ میں تیری وجہ سے ہر انسان کو دوں گا تیری وجہ سے مواخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے ہی ہر شخص کو انعام ملے گا یا وہ سزا میں مبتلا ہوگا امام صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو تیسری چیز صحت عطا کی ہے جو کہ انسان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے صحت کے بغیر انسان نہ محنت مشقت کرسکتا ہے نہ کھیتی بازی نہ تعلیم و تعلم اور نہ ہی عبادت ہے ، زندگی اور عقل کے ساتھ ساتھ صحت بھی انسان کے لئے بمنزلہ پونجی کے ہے جس کے ذریعے انسان اس دنیا میں رہ کر اچھائی یا برائی کرسکتا ہے ، اگر وہ اس پونجی سے ایمان اور نیکی کمائے گا تو ہمیشہ کے لئے نفع میں رہے گا اور اگر اس پونجی کی سرمایہ کاری کفر ، شرک ، نفاق ، بدعات اور معصیت میں کی یا اس کو لہو لعب ، رسومات باطلہ اور ریا کاری میں صرف کردیا تو ایسا شخص ہمیشہ کے لئے نقصان میں پڑجائے گا منافقوں کے اسی طرز عمل کی بناء پر اللہ نے فرمایا فما ربک تجارتھم (البقرۃ 16- ) ان کی تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ گھاٹے میں ہے۔ یہی بات اللہ نے یہاں سمجھانی ہے کہ دیکھو ! ہم نے انسان کو یہ قیمتی پونجی عطا کی ہے اب یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے کس طرح استعمال کرتا ہے اس کے ذریعے نیکی خرید کر جنت کا مستحق بنتا ہے یا برئای خرید کر جنم کندہ ناتراش بن جاتا ہے۔ بہرحال باطل پرستوں کے متعلق فرمایا کہ وہ سخت گھاٹے میں ہوں گے کیونکہ انہوں نے اس دنیا میں عطا کردہ پونجی کو ٹھیک طریقے سے استعمال نہیں کیا۔
قیامت کو لوگوں کی حالت
فرمایا جس دن قیامت برپا ہوگی وتری لکل امۃ جاثیۃ اس دن تو دیھ کے گا ہر امت گروہ یا فرقے کو کہ وہ گھٹنے ٹیکنے الے ہوں گے۔ قیامت والے دن کی کچھ کیفیت اللہ نے سورة الزلزال میں بھی بیان فرمانی ہے اذ زلزلت الارض زلزالھا (آیت 10) جب زمین ہلا دی جائیگی یعنی زمین پر زلزلہ طاری ہوجائے گا جس طرح زلزلے کے دوران کوئی شخص کھڑا نہیں رہ سکتا بلکہ گر پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ پرندے بھی درختوں سے اتر کر زمین پر اپنے پر بچھا دیتے ہیں ، فرمایا اسی طرح جب گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور پھر اپنے اپنے اعمال کی جواب دہی کریں گے ، گھٹنے ٹیکنے سے مراد سخت تذلیل کی حالت ہے۔ جب کہ وہ اپنے پروردگار کے دربار میں حاضر ہوں گے۔
اس آیت میں تری کا خطاب نبی (علیہ السلام) کی ذات پر بھی ہو سکتا ہے اور اس سے ساری انسانیت میں مراد لی جاسکتی ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ نبی (علیہ السلام) کو خطاب کر کے ساری امت کو بات سمجھا دیتا ہے تو زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہاں پر حضور ﷺ کو خطاب کر کے تمام لوگوں کو خبردا کردیا گیا ہے کہ قیامت والے دن ہر شخص ، ہر جماعت اور ہر امت نہایت ذلت ناک حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوگی۔ اس دن اس قدر دہشت طاری ہوگی کہ لوگ کھڑے بھی نہیں ہو سکیں گے مگر گھٹنے ٹیکنے والے ہوں گے اس قسم کی حالت اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی بھی بیان کی ہے کہ عذاب کے وقت ان کی حالت یہ تھی فاصبحوا فی دیارھم جثمین (ھود 67- ) کہ وہ اپنے گھروں میں گھٹنے ٹیکنے والے پائے گئے۔
بخاری شریف شریف میں آیت ھنرن خصمان ختصموا فی ربھم (الحق 19- ) کی تفسیر اس طرح بیان کی گئی ہے کہ حضرت علی نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ قیامت والے دن میں سب سے پہلے گھٹنے ٹیک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کروں گا کہ مولا کریم ! بدر کے مقام پر قریش مکہ ہم سے کیوں لڑنے تھے ۔ پروردگار ہم تو توحید و ایمان اور تیسرے نام کو غالب بنانے کے لئے مقابلہ میں آنے تھے بہرحال اسی حدیث میں بھی گھٹنے یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اپنا معاملہ پیش کرنے کا ذکر ہے۔
نامہ اعمال کی طرف بلاوا
پہلے تو قیامت والے دن لوگوں کی دہشت زدہ حالت کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کل امۃ تدعی الی لبھا یہ گزوہ کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا کتاب کا اطلاق قرآن مجید پر بھی ہوتا ہے اور لوح محفوظ پر بھی تاہم یہاں پر کتاب سے مراد وہ نامہ اعمال ہے جس میں ہر انسان کے زندگی بھر کے اعمال درج ہوتے ہیں یہ اعمال نامہ قیامت والے دن کھول دیا جائے گا فیقول ھاو مر اقرء وا لتبیہ (الحاقہ 19- ) اور کہا جائے گا کہ آئو اپنا اعمال نامہ خود ہی پڑھ لو مجرم لوگ یہ اعمال نامہ دیکھ کر ڈر جائیں گے اور بڑے افسوس کے ساتھ کہیں گے مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (الکھف 49- ) کہ یہ کیسی کتاب ہے جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز کو محفوظ کر رکھا ہے یہی وہ کتاب ہے جس میں ہر انسان کے قول و عمل کا ریکارڈ جمع کیا جاتا ہے سورة ق میں بھی فرمایا ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتبد (آیت 18- ) انسان جو لفظ بھی زبان سے ادا کرتا ہے ، اللہ کا مقرر کردہ نگران فرشتہ ، ٹیپ ریکارڈ کی طرح اس کو ریکارڈ کرلیتا ہے ۔ اس کے علاوہ سورة الانفطار میں کراماً کاتبین کا ذکر بھی آتا ہے جو ہر انسان کے ساتھ مقرر ہیں اور اس کی ہر نیکی اور بدی لکھ رہے ہیں خدا تعالیٰ تو عالم الغیب والشہادۃ ہے وہ ہر چیز کو اپنے ذاتی علم کی بناء پر جانتا ہے مگر اللہ تعالیٰ ہر شخص کا یہ اعمال نامہ تیار کروا رہا ہے۔ تاکہ کوئی شخص اپنے کسی قول و فعل کا انکار نہ کرسکے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہر شخص کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔
امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی فرماتے ہیں کہ انسان کا ہر عمل اس کے نفس سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کی استعداد اس کی روح میں موجود قسم میں ہوتی ہے۔ یہ کام انسان کے نفس سے اٹھتا ہے ، پھیلتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ پلٹ کر نفس کے دامن کو پکڑ لیتا ہے۔ چناچہ ہمارے اعمال ہمارے اعضا کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ قیامت والے دن جب حساب کتاب کی منزل آئے گی تو سورة یٰسین میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے الیوم نختہ علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم ونشھد از حتھم بماکانوا یکسبون (آیت 65- ) اس دن ہم مومنوں پر مہر لگا دیں گے اور اعضا جو ارع بول کر بتائیں گے کہ یہ شخص دنیا میں کیا کرتا رہا ، زبان بند ہوگی۔ مگر ہاتھ ، پائوں ، کان اور ران بول کر گواہی دیں گے۔ اس دن انسان کو محسوس ہوگا کہ اس کے اعمال اس کے اعضاء کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔
مسند احمد کی ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے ایک صحابی ابو عبداللہ بیمار ہوگئے۔ لوگ عیادت کے لئے آتے تو آپ آبدیدہ ہوجاتے لوگوں نے کہا اے ابو عبداللہ ! کیا حضور ﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری نہیں سنئای تھی کہ ان بڑھی ہوئی مونچھوں کو کاٹ دو اور پھر اس عمل کو برقرار رکھنا حتی کہ مجھ سے آن ملو ؟ کہنے لگے یہ درست ہے لیکن میں نے آپ کی زبان مبارک سے یہ بھی سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت والے دن کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کی دائیں مٹھی میں ہوں گے اور کچھ باتیں مٹھی میں دائیں مٹھی والے جنت میں جائیں گے اور بائیں والے جہنمی ہوں گے ، کہنے لگے روتا اس لئے ہوں کہ مجھے علم نہیں کہ میرا نمبر دائیں مٹھی میں آئے گا ، یا بائیں مٹھی میں مجھے ہر وقت اسی بات کی پریشانی لاحق رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی صلاحیت کو جانتا ہے اور اسی علم کی بناء پر وہ لوگوں کو دو مختلف مٹھیوں میں بند کرے گا۔ بہرحال انسان کے اعمال اس کے نفس کے دامن کے ساتھ لپٹ کر محفوظ ہوجاتے ہیں اور انسان کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حتی کہ رائی کے دانے کے کروڑویں حصے کا عمل بھی ضائع میں جاتا بلکہ وہ نفس کے اندر بھی محفوظ سے اور خارج میں بھی اللہ نے فرشتوں کے ذریعے ہر عمل کی حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے۔
جزائے عمل کی منزل
بہرحال فرمایا کہ ہر گروہ کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا اور انہیں بتا دیا جائے گا۔ الیوم تجزون ما کنتم تعملون آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق یہ ہمارا دفتر ہے۔ جو حق کے ساتھ بولتا ہے۔ اللہ نے ان کو ٹھیک طریقے سے محفوظ کر رکھا ہے اور ان میں ذرہ بھر بھی کمی بیشی کا امکان نہیں ہوتا نامہ اعمال کی باقاعدہ ترتیب کے علاوہ انسان کے اعمال کی یومیہ ہفتہ وار اور سالانہ رپورٹیں بھی مرتب ہوتی ہیں۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ انسان کے رات کے اعمال کی رپورٹ فجر کی نماز کے وقت اور دن کے اعمال کی رپورٹ عصر کی نماز کے وقت اوپر جاتی ہے فرمایا انسان کی ہر چیز ہمارے دفتر میں لکھی ہوئی ہے جو حق کے ساتھ بول کر بتلا رہی ہے انا کنا نتنخ ما کنتم تعملون بیشک ہم ہی لکھوایا کرتے تھے جو کچھ تم عمل کیا کرتے تھے۔ فرشتے ہمارے ہی حکم سے تمہارا نامہ اعمال تیار کرتے تھے اور پھر بعض اعمال ایسے پیچیدہ (Comicated) ہوتے تھے کہ جن کو فرشتے تحریر کرنے سے عاجز آجاتے تھے۔ ان کے متعلق حکم ہوتا تھا کہ ان اعمال کو اسی طریقے سے درج کر دو ، ان کی شکل و صورت ہم خود بنا لیں گے غرضیکہ ظاہری ، باطنی چھوٹے بڑے حتی کہ باریک ترین قلبی اعمال بھی لکھ لئے جاتے تھے اور لکھنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ دیتے تھے۔
مذکورہ اعمال کے نتیجے میں جزائے عمل واقع ہوگا فاتا الذین امنوا و عملوا الصلحت پس بہرحال جو لوگ دنیا میں ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیئے۔ انہوں نے اپنی زندگی ، عقل اور صحت کو اچھے کام پر لگایا۔ دلائل قدرت میں غور و فکر کر کے اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے ، اللہ کی نبیوں ، کتابوں ، فرشتوں اور معاد پر یقین کیا۔ اس کے بعد نماز ، روزہ حج ، زکواۃ پر عمل کرتے رہے جہاد کیا صدقہ و خیرات کرتے رہے اور دیگر نیکی کے کام کرتے رہے فرمایا فیدخلھم ربھم فی رحمتہ پس اللہ تعالیٰ ان کو اپنی آغوش رحمت میں جگہ دے گا۔ وہ لوگ جنت میں چلے جائیں گے اور خطیرۃ القدس کے ممبر بن جائیں گے۔ فرمایا ذلک ھو الفوز المبین یہ ہے صریح کامیابی۔ ایسے لوگ ہمیشہ کے لئے کامیاب ہوگئے اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں لاتعداد نعمتوں سے نوازے گا۔
اس کے برخلاف واما الذین کفروا جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی ، عقل اور صحت جیسی قیمتی پونجی سے کفر ، شرک ، نفاق اور بدعات کو خریدا تو ایسے لوگوں سے پوچھا جائے گا۔ افلم تکن ایتی تتلی علیکم کیا میری آیتیں تم کو پڑھ کر نہیں بنائی جاتی تھیں ؟ کیا اللہ کے نبی مبلغ اور مصلح (Reformers) تمہارے پاس نہیں آئے تھے اور تم کو نیکی کا راستہ نہیں بتایا تھا ؟ اس کا جواب یقینا مثبت ہوگا کہ ہمارے پاس اللہ کے رسول واقعی آئے تھے اور انہوں نے اللہ کی آیات بھی پڑھ کر سنانی تھیں۔ ہر نیک و بد سے آگاہ کیا تھا مگر یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ ان کی باتوں پر یقین نہ کیا اللہ فرمائے گا۔
فاستکبرتم تم نے درحقیقت تکبر کی وجہ سے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا اور رسولوں کی تکذیب کی حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے متکبرین نے ہی جواب دیا تھا کیا تمہاری نمازیں تمہیں یہی سکھاتی ہیں کہ ہم اپنے آبائو و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں یا اپنے مالوں میں تصرکرنا ترک کردیں تو اپنی نمازوں کی خیر منا تجھے ہمارے اموال سے کیا واسطہ ؟ ہم اسے جس طرح چاہیں لوہو و لعب اور عیاشی فحاشی میں خرچ کریں تم کون ہوتے ہو ہم پر پابندیاں لگانے والے ابوجہل کی طبیعت میں بھی بڑا تکبر تھا۔ تمام بڑے بڑے سرمایہ دار دین کے مقابلے میں غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں اور اہل حق کو فقیر جانتے ہیں۔ فرعن نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو مہین یعنی حقیر کا خطاب دیا تھا ۔ تو یہاں بھی اللہ نے فرمایا کہ تم نے تکبر کی وجہ سے ہماری آیتوں اور نبیوں کو جھٹلایا۔ وکنتم فوماً تجرمین اور مجرم لوگ بن گئے۔ اب تم اپنے جرم کی سزا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھگتو۔ ان کی سزا کا ذکر اگلی آیتوں میں آ رہا ہے ۔
بزرگان دین فرماتے ہیں کہ انسان کی طبیعت سے تکبر کو نکالنا بڑا ہی دشوار کام ہے سوئی کے ناکے سے پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردینا تکبر کو نکالنے کے مقابلے میں آسان ہے ، تکبر ابلیس کی بیماری ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ابی واستکبر وکان من الکفرین (البقرہ 34- ) اس نے حکم خداوندی کا انکار کیا ، تکبر اور کافروں میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لئے رائدہ درگاہ ٹھہرا۔ آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کو حقیر جاننا ہی تکبر ہے جو انسان کو مجرموں کی صف میں لاکھڑا کرتا ہے اور ہمیشہ کے لئے ناکام بنا دیتا ہے۔