44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 44:1–8

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

تحقیق ہم نے نازل کیا اس کو ایک برکت والی رات میں ، بیشک ہم ڈرانے والے ہیں

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس (رات ( میں جدا کیا جاتا ہے ہر معاملہ حکمت والا

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

جنم ہوتا ہے ہماری جانب سے ، بیشک ہم بھیجنے والے ہیں

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

مہربانی ہے تیرے پروردگار کی طرف سے بیشک وہی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، اگر تم یقین رکھنے والے ہو

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

نہیں کوئی عبادت کے لائق اس کے سوا وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت طاری کرتا ہے۔ تمہارا پروردگار اور تمہارے پہلے آباء و اجداد کا پروردگار

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نامہ سورة الدخان ہے۔ یہ نام اس کی آیت 100 میں آمدہ لفظ دخان سے ماخوذ ہے۔ عربی زبان میں دخان دھوئیں کھتے ہیں اور یہ دو قسم سے مذکور ہے دسواں نو قحط سالی کا ہوتا ہے اور دوسرا دھواں وہ ہے جو قیامت کی نشانی کے طور پر قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔ یہ سورة حوامیم سبعہ کی پانچویں سورة ہے جو مکی زندگی کے آخری حصہ میں گزشتہ سورة زخرف کے بعد نازل ہوئی اس کی انسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 346 الفاظ اور 431 حروف پر مشتمل ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کی رات یا جمعہ کے دن اس سورة کی تلاوت کا بڑا اجر ہے ۔ آیات دوسری حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص رات کے وقت اس سورة کی تلاوت کرتا ہے اس کے لئے ستر ہزار فرشتے دن کے وقت دعائیں مانگتے ہیں۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں اور خاص طور پر حواثیم سبعہ کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی تذکرہ ہے اور احکام بہت کم ہیں۔ گزشتہ سورة میں دلائل توحید پر زیادہ زور تھا۔ جب کہ اس سورة میں اتدار کا پہلو غالب ہے منکرین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر دین حق کی مخالفت سے باز نہ آئے تو وہ نہ صرف دنیا میں سزا کے مستحق ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی انتقام لے گا چناچہ اس سورة میں بطشتر الکبری کا ذکر بھی آ رہا ہے جیسا کہ بدر کے مقام پر خدا کی سخت گرفت آئی تھی۔ اگر معارضہ کرو گے ، اللہ کے نبی کا مقابلہ کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ سخت انتقام لے گا۔ حروف مقطعات ان ساتوں سورتوں کی ابتداء حروف مقطعات حم سے ہو رہی ہے اور معاً بعد قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کا بیان ہے۔ ان حروف مقطعات کے متعلق سابقہ سورتوں میں عرض کیا تھا کہ ان حروف کے قطعی معنی اللہ کے نبی نے بیان نہیں فرمائے تاہم بعض مفسرین نے بعض امکانی معنی بیان کئے ہیں۔ مثلاً حم میں ح کا اشارہ حکم کی طرف اور م کا اشارہ ملک کی طرف ہے ۔ اور مطلب یہ ہے کہ حکم بھی خدا تعالیٰ کا ہے اور بادشاہی بھی اسی کی ہے اور یہ چیز اگلی آیتوں میں بیان ہو رہی ہے۔ بعض مفسرین نے ح سے حکمت اور م سے متین یعنی مستحکم مراد لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کی ہر سورة مضبوط حکمتوں پر مشتمل ہے۔ لہٰذا یہ معنی بھی درست ہے۔ قرآن کی ہر بات ایسی مستحکم ہے جس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا کہ یہ خلاف واقع ہے تاہم شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ حم سے مراد ایک اجمالی نور ہے جو عالم قدس سے آ کر اس عالم تخلیط میں متعین ہوتا ہے اور پھر یہاں کے شرف و فتنوں سے ٹکراتا رہتا ہے۔ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کے مقامات کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے۔ کیونکہ وہ شروف و کو مٹانے کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہتے ہیں جس سے حق واضح ہوجاتا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حم سورة کا نام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات کی طرف اشارہ ہے۔ اس طرح حروف مقطعات کا ہر حرف خدا تعالیٰ کے کسی اسم کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ، جسے ح سے حنان اور م سے مالک تاہم زیادہ سلامتی والی بات وہی ہے ۔ جو امام جلال الدین سیوطی اور بعض دوسرے مفسرین نے بیان فرماتی ہے کہ ان حروف میں زیادہ کرید نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ اعلم بمراد بذلک اللہ تعالیٰ ان حروف کی مراد کو بہتر جانتا ہے ۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ مآب مبین سورۃ کے آغاز میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کو قسم کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ والکتب المبین قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی کتاب کو 1 ؎ جلالین ص 4 قرآن کو کتاب مبین کہا گیا ہے اور اس کی وضاحت دوسرے مقامات پر موجود ہے جیسے ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شی (النحل 89- ) ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کی وضاحت کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ کل شئی سے ہر وہ چیز مراد ہے جس کی انسان کو دین کے معاملہ میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ہر وضاحت طلب چیز کو قرآن پاک بالواسطہ یا بلاواسطہ ضرور واضح کردیتا ہے اور کوئی اشتباہ نہیں رہنے دیتا۔ بلاواسطہ تفصیل تو یہ ہے کہ قرآن پاک اپنی وضاحت خود بیان کرتا ہے۔ مثلاً اگر کسی چیز یا کسی معاملہ کا ذکر کسی جگہ اجمال کے ساتھ کیا گیا ہے تو دوسری جگہ اس کی تفصیل موجود ہے اور بالواسطہ وضاحت کئی صورتوں میں ہو سکتی ہے۔ مثلاً کسی مسئلہ کی وضاحت پیغمبر (علیہ السلام) کے سپرد کردی جائے۔ جیسے فرمایا وانزلنا الیک الذکر لتئن للناس مانزل الیہ (النحل 44- ) ہم نے یہ ذکر یعنی قرآن حکیم اس لئے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اس چیز کو بیان کردیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے اور یہ وضاحت بھی نبی اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق کرتا ہے اللہ تعالیٰ باطنی وحی کے ذریعے نبی کے قلب پر مطلوبہ وضاحت …کر دیتا ہے اور نبی آگے لوگوں کو بتا دیتا ہے یاد رہے کہ قرآن کے بعینہ الفاظ وحی جلی کہلات یہیں اور پیغمبر کا بیان وحی خفی ہوتا ہے۔ قرآن پاک کی وضاحت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ قرآن میں کسی چیز کا اصول بیان کردیا جاتا ہے اور پھر اس کی وضاحت اہل علم پر چھوڑ دی جاتی ہے جو مذکورہ اصول کی روشنی میں مسئلہ کی جزئیات کی وضاحت کردیتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی چیز ائمہ مجتہدین کو سونپ دی جاتی ہے تاکہ وہ کسی حل طلب مسئلہ کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کردیں۔ یہ سب چیزیں قرآن پاک کی وضاحت کے ضمن میں ہی آتی ہیں۔ بہرحال قرآن ایک ایسی چیز ہے جس کی کسی بات کو مجمل نہیں چھوڑا گیا بلکہ ہر چیز کی کسی نہ کسی طریقے سے وضاحت کردی گئی ہے۔ امام شاعفی امام ابن تمیمہ اور مولانا رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں کہ احادیث نبوی ہی قرآن کی شرح ہیں اور ان کی روشنی میں بھی قرآن کی ہر مشکل بات کو سمجھا جاسکتا ہے۔ بہرحال کتاب مبین کی قسم اٹھا کر اگلی بات کی گئی ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کا ایک نام فرقان بھی ہے تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ (البفرقان 10) بڑی با برکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان کو نازل فرمایا یعنی ایک ایسی کتاب جو حق و باطل کے درمیان امتیاز کردیتی ہے اور اس لحاظ سے بھی یہ کتاب مبین ہے۔ لیلتۃ القدر میں نزول بہرحال اللہ نے اسی کتاب کی قسم اٹھا کر فرمایا ہے انا نزلہ فی لیلۃ مبرکۃ بیشک ہم نے اس کو نازل فرمایا ایک بابرکت رات ہیں اس رات سے کونسی رات مراد ہے اس میں مفسرین کرام کی وہ راتیں ہیں بعض اس کو پندرہویں شعبان کی رات بتاتے ہیں کیونکہ اگلی آیت میں یہ وضاحت آ رہی ہے فیھا تفرق کل امر حکیم کہ اس مبارک رات میں ہی حکمت والے معاملہ کو الگ کردیا جاتا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شب برات یعنی پندرہویں شعبان کی رات کو بعض معاملات الگ کر کے فرشتوں کے سپرد کردیئے جاتے ہیں اور وہ فرشتے سال بھر حکم خداوندی کی تعمیل کرتے رہتے ہیں۔ اس رات کی فضیلت میں آتا ہے کہ جو شخص اس رات کثرت سے عبادت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے ۔ اس کو مغفرت کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔ البتہ بعض آدمیوں کو اس موقع پر بھی معاف نہیں کیا جاتا۔ ان میں مشرک ، کینہ پرور ، والدین کے نافرمان ، مسلسل شربا نوش وغیرہ آتے ہیں بہرحال بعض احادیث میں آتا ہے کہ پندرہویں شعبان کی رات بابرکت رات ہے جس میں بندے کی عبادت مقبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مغفرت جتنی اس رات میں ہوتی ہے اتنی کسی دوسری رات میں نہیں ہوتی۔ پندرہویں شعبان کی اس تمام تر فضیلت کے باوجود جمہور مفسرین کا اتفاق ہے یہاں پر لیلتہ المبارک سے لیلتہ القدر ہی مراد ہے جس کا ذکر سورة القدر میں ہے۔ انا انزلنہ فی لیلۃ القدر (آیت 10- ) یعنی ہم نے اس قرآن پاک کو لیلتہ القدر میں نازل فرمایا۔ وہ ایک رات جو عبادت و ریاضت کے لحاظ سے ایک ہزار مہینوں سے بڑھ کر رہے۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں۔ کہ الیلتہ القدر اور لیلتہ المبارکہ ایک ہی رات کے دو مختلف نام ہیں اور اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو لوح مفقود سے بیت العزت (جو کہ آسمان دنیا پر ہے ، یا بیت المعمور میں اتارا جو کہ ساتویں آسمان پر ہے اور پھر وہیں سے 23 برس میں تھوڑا تھوڑا کر کے حضور ﷺ پر نازل کیا گیا ۔ قرآن پاک میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ قرآن پاک رمضان المبارک کے مہینہ میں نازل کیا گیا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن (البقرہ 85- ) رمضان المبارک وہ ماہ مبارک ہے جس میں قرآن پاک کو نازل کیا گیا اور احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کی انیسویں ، تیسویں ستائیسویں یا انتیسویں کو آتی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں نام ایک ہی رات کے ہیں اور یہاں پر مذکورہ لیلتہ المبارکہ سے لیلتہ القدر ہی مراد ہے جو مادہ رمضان میں آتی ہے بلکہ تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کتب سماویہ رمضان المبارک کی پہلی تیرہ یا سترہ تاریخ کو نازل ہوئیں۔ جب کہ اللہ کی یہ آخری کتاب اس مہینے کے آخری عشرہ میں نازل کی گئی۔ فرمایا ہم نے اس قرآن حکیم کو ایک بابرکت رات میں نازل فرمایا انا کنا منذرین بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ ہم نے اپنے دستور کے مطابق پہلے انبیاء پر بھی کتب اور صحائف نازل فرمائے اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا کہ اگر وہ کفر ، شرک اور معاصی سے باز نہیں آئیں گے ۔ انبیاء کی بات کو نہیں مانیں گے تو قیامت والے دن خدا کی گرفت میں آئیں گے۔ ہر نبی مبشر اور منذر ہوتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے رسلاً ممبشرین ومنذرین ، النسآء 165) ہم نے تمام رسولوں کو مبشر اور منذر بنا کر بھیجا تاکہ بعد میں کسی کو اعتراض کا موقع نہ دیئے۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کتاب مبین کو مبارک رات میں نازل فرمایا اور تحقیق ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ یہ اس کتاب کی غایت بھی ہوگئی۔ فرمایا امرا من عندنا یہ حکم ہماری جانب سے ہوتا ہے انا کنا مرسلین تحقیق ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔ انبیاء رسل کو ہدایت خلق کے لئے اور فرشتوں کو مختلف امور کی انجام دہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف ملائکہ کو مختلف ڈیوٹیوں پر متعین کر رکھا ہے۔ جیسے جبرائیل (علیہ السلام) وحی الٰہی لانے پر مامور ہیں۔ کوئی روزی پہنچانے پر مامور ہے کوئی بادلوں کا فرشتہ ہے اور کوئی ملک الموت ہے ، مطلب یہ ہے کہ تمام کائناتی معاملات سے متعلق فرشتوں کو مامور کردیا جاتا ہے اور وہ تعمیل حکم کرتے ہیں شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انبیاء اور فرشتوں کا بھیجنا اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بھی ہے۔ لہٰذا جو اس صفت کا انکار رکے گا وہ بھی کافر تصور ہوگا۔ رحمت بانی ارشاد ہوتا ہے رحمۃ من ربک یہ مہربانی ہے یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مبارک رات میں قرآن کریم کا نزول فرمایا جس میں انسان کی پوری زندگی کا پروگرام موجود ہے انہ ھو السمیع العلیم بیشک وہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے اور وہ ہی ذات ہے جو کہ رب السموت ولارض وما بینھما جو کہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، وہ ہر چیز کا کا رب ہے اور کوئی چیز اس کی ربوبیت سے باہر نہیں وہی ہر چیز کی بتدریج پرورش کر کے اسے حد کمال تک پہنچاتا ہے ساری مخلوق کا وہی پروردگار ہے ان کنتم موقنین اگر تم یقین لانے والے ہو تو اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لو کہ ہر جاندار اور غیر جاندار اسی کی رحمت کا محتاج ہے اور وہ ایسی ذات ہے لا الہ الا ھو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی ہر چیز کا خالق ، مالک ، مدبر اور متصرف ہے لہٰذا عبادت کے لائق بھی صرف وہی ہے۔ وہ علیم کل قادر مطلق اور سمیع وبصیر ہے۔ یجی ویمیت وہی زندہ کرتا اور وہی موت دیتا ہے گویا موت وحیات بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جس کو وہ زندہ رکھنا چاہے اسے کئی چیز گزند نہیں پہنچا سکتی اور جسے وہ ختم کرنا چاہے اسے کوئی بچا نہیں سکتا۔ وہ زندگی کا سرچشمہ ہے۔ حی اور قیوم ہے۔ ہمیشہ سے زندہ ہے اور زندگی بخشنے والا ہے کوئی انسان فرشتہ جن ، پرند ، چرند گھر سے زندگی لے کر نہیں آیا بلکہ سب کی زندگی اللہ وحدہ کی عطا کردہ ہے۔ وہ جب چاہے یہ زندگی چھین بیھ لیتا ہے اور اس کے راستے میں کوئی چیز مزاحمت نہیں کرسکتی۔ فرمایا وہ ذات باری تعالیٰ ربکم و رب ابآء کم الاقلین تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے آبائو اجداد کا رب بھی ہے۔ سب کا ایک ہی پروردگار ہے جو کہ وحدہ لاشریک ہے۔ قرآن حکیم کی حقانیت بیان کرنے کے بعد اللہ نے اپنی بعض صفات کا تذکرہ کیا اور ارض و سما کی ربوبیت کو خاص طور پر بیان فرمایا۔ آگے انذار کا پہلو آ رہا ہے کہ اگر اس کی توحید کو تسلیم نہیں کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ انتقام لینے پر بھی قادر ہے۔
Ayahs 44:9–16

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

پس آپ انتظار کریں جس دن لائے گا آسمان ایک کھلا دھواں

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو ڈھانپ لے گا لوگوں کہ یہ درد ناک عذاب ہے

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

(پھر کہیں گے یہ لوگ) اسے ہمارے پروردگار ! کھول دے ہم سے عذاب کو ، بیشک ہم ایمان لانے والے ہیں

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ہوگا ان کے لئے نصیحت پکڑنا ، اور البتہ تحقیق آیا ہے ان کے پاس رسول کھول کر بیان کرنے والا

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے روگردانی کی اس سے اور کہا کہ یہ سکھلایا ہوا دیوانہ ہے

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

بیشک ہم کھولنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی مدت تک بیشک تم (پلٹ کر وہی کام کرنے والے ہو

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم گرفت کریں گے بڑی گرفت بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد کا بھی لہٰذا اس کی توحید پر کاربند رہنا چاہئے اور اس کی ذات صفات یا عبادت میں کسی کو شریک نہیں بنانا چاہتے۔ مشرکین کا تردد اللہ نے فرمایا کہ ہم نے لوگوں کے سامنے بیشمار کھلے دلائل اور توحید کی واضح نشانیاں پیش کی ہیں ۔ اگر ان میں ذرا بھی سمجھ ہوتی تو یہ لوگ توحید باری تعالیٰ کو تسلیم کرلیتے۔ بل ھم فی شک یلعبون بلکہ یہ تو شک میں کھیل رہے ہیں۔ ان کے کفر یہ اور شرکیہ عقائد میں ذرا فرق نہیں آیا۔ بلکہ یہ اپنے غلط عقائد پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہیں نہ تو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین آتا ہے اور نہ یہ لوگ وقوع قیامت کو سچ ماننے کے لئے تیار ہیں۔ انہیں رسولوں اور خاص طور پر حضور خاتم النبین ﷺ کی آمد پر بھی یقین نہیں اور نہ ہی وہ قرآن کو اللہ کا کلام اور اس کی وحی تسلیم کرتے ہیں بلکہ ہر طرف سے شک و تردد میں مبتلا ہیں اور انبیاء کی بتائی ہوئی باتوں کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتے ہیں۔ عذاب دخان فرمایا ان تمام دلائل ، برابین ، امثلہ ، شواہد اور مختلف طریقوں سے حقیقت سمجھانے کے باوجود اگر یہ لوگ لہو و لہب کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے بلکہ کفر و شرک اور باطل عقائد پر ہی جمے ہوئے ہیں فارتقب تو آپ انتظار کریں اس دن کا یوم تاتی السمآء بدخان مبین جس دن آسمان ایک کھلا دھواں لائے گا۔ یعنی آسمان پر دھواں چھا جائے گا۔ یغشی الناس جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ فرمایا ھذا عذاب الیم یہ درد ناک عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو تسلی دی ہے کہ اگر یہ کافر اور مشرک آپ کی بات نہیں مانتے ، بلکہ الٹا ٹھٹا اور استہزاء کرتے ہیں تو آپ درگزر کریں ، عنقریب ایک وقت آنے والا ہے جب پورے آسمان پر دھواں چھا جائے گا اور یہ دھواں جائے گا اور یہ دھواں کفار و مشرکین کے لئے سزا کا موجب ہوگا۔ قیامت کا دھواں مذکورہ دھوئیں کے متعلق مفسرین کرام کے دو اقوال ملتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس سے وہ دھواں مراد ہے جو قرب قیامت میں ظاہر ہوگا اور جسے علامات قیامت میں شمار کیا گیا ہے۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے قرب قیامت کی جن نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے ان میں سورج کا مغرب سے طلوع ، یاجوج ماجوج دابتہ الارض اور دجال کا خروج ، مشرق و مغرب اور جزیرۃ العرب میں خسوف یعنی زمین کا دھنس جانا ، عدن کے کنارے سے آگ کا ظہور جو لوگوں کو ہانک کر شام کی طرف لے جائیگی اور دھواں (جو ساری زمین پر پھیل جائے گا) کا ذکر آتا ہے۔ اس دھوئیں کا اثر مومن اور کافر پر مختلف ہوگا مومن لوگ اس سے زکام جیسا معمولی اثر محسوس کریں گے جب کہ کافروں کے لئے یہ جلی ہوئی کسی چیز کا دھواں محسوس ہوگا۔ یہ دھواں ان کے لئے سخت ناگوار ہوگا اور ایسا محسوس ہوگا جیسے ان کے ناک ، منہ یا مبرز سے نکل رہا ہے۔ قحط کا دھواں تاہم دوسرے مفسرین کرام اس سلسلہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کوفہ میں قیام پذیر تھے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا کہ فلاں جگہ پر ایک واعظ نے سورة الدخان کی یہی آیت تلاوت کی اور بیان کیا کہ اس دھوئیں سے قیامت کا دھواں مراد ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودنے یہ سنا تو اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ بھائی ! جس شخص کو کوئی چیز معلوم ہو اسے بلاکم وکاست بتلا دینی چاہئے اور جس کا علم نہ ہو اس کو اللہ کے سپرد کردینا چاہئے اور تکلف میں نہیں پڑنا چاہئے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے بغیر علم کے خواہ مخاہ مفتی بن کر فتویٰ نہیں دینا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین ص 16) اے لوگو ! میں تم سے تبلیغ دین کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ جی میں تکلف کرنے والے لوگوں میں سے ہوں بہرحال حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ اس دھوئیں سے مراد قیامت کا دھواں نہیں بلکہ قحط کا دھواں مراد ہے جو مشرکین عرب پروار ہوا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب قریش مکہ حد سے بڑھ گئے۔ کفر و شرک پر اصرار اور اللہ کے نبی کی مخلافت ان کا وطریہ بن گیا۔ ان کی طرف سے ایذا رسانی نے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کردیا۔ تو حضور ﷺ نے کفار و مشرکین کے حق میں بد دعا فرمائی اللھم سبعاً کسبع یوسف اے اللہ ! ان پر یوسف علیہ اسللام کے زمانے جیسا قحط ڈال آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور مکہ میں قحط سالی پیدا ہوگئی ادھر یمن میں واقع یمامہ غلہ کی منڈی تھی۔ وہاں کا سردار مسلمان ہوگیا تو مشرکین نے اس کی توبین کی اور اس نے ردعمل کے طور پر یمامہ سے مکہ کے لئے گندم کی برآمد روک دی جس کی وجہ سے اہل مکہ دانے دانے کو ترسنے لگے حتی کہ انہوں نے مردار اور خشک چمڑا ابال کر کھانا شروع کردیا۔ اوپر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے تو ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض مشرکین حضور ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لئے مدینہ طیبہ پہنچے اور عرض کیا کہ آپ کی قوم ملاک ہو رہی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس قحط سالی کو دور کرے۔ آپ نے دعا فرمائی تو وہ دھواں بھی دور ہوگیا اور قحط سالی سے بھی نجات مل گئی۔ بہرحال اس دخان سے مراد قحط سالی کا دھواں ہے جو حضور ﷺ کی دعا سے دور ہوا ۔ مسلم کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ حضور آپ مضر کے لئے استغفار کریں کہ وہ ہلاک ہو رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مضر کے لئے ؟ تم تو بڑے جری ہو جو ایسی بات کرتے ہو (قریش مضر میں سے ہی تھے) پھر آپ نے دعا کی تکلیف دور ہوئی اور پھ رآسودہ حال ہوئے تو پھر نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ 1 ؎ مسلم ص 373 ج 2 نے بدر میں بڑی گرفت میں ان کو مبتلا کر کے ہلاک کیا۔ صحیحین میں حضرت عبدلالہ بن مسعود کی روایت میں آتا ہے کہ پانچ نشانیاں پہلے ہی گزر چکی ہیں۔ جن میں سے ایک نشانی یہی قحط سالی کا دخان ہے دوسری نشانی شق القمر کا واقعہ ہے تیسری رومیوں کا مغلوب ہو کر چند سال میں پھر غالب آجانا ہے جس کا ذکر سورة الروم میں ہے۔ چوتھی نشانی بطشہ یعنی سخت پکڑ ہے اور پانچویں لزام ہے جس کا ذکر سورة الفرقان کے آخر میں آتا ہے۔ ان دونوں سے مراد بدر کی لڑائی ہے جس میں کفاروں کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور عذاب ان کے ساتھ لازم ہو کر رہ گیا۔ بدر میں قتل ہونا اور قیدی بننا یہی بطشہ کبریٰ ہے۔ عذاب سے رہائی کی درخواست بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اس کھلے دھوئیں کا اتنظار کریں جب وہ لوگوں پر چھا جائے گا اور یہ درد ناک عذاب ہوگا۔ اس وقت لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے عرض کریں گے ربنا اکشف عنا العذاب اے ہمارے پروردگار ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے انا مومنون ہم یقینا ایمان لانے والے ہیں۔ کفاروں اور مشرکوں کا ہمیشہ سے یہ وطریہ رہا ہے کہ جو نبی عذاب کو دیکھا تو ایمان کا دعویٰ کردیا اور جب مصیبت ٹل گئی تو پھر مشرک کے مشرک ۔ سورة الاعراف میں فرعونیوں کا حال بھی ہم پڑھتے ہیں کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ، طوفان آجاتا یا قحط پیدا ہوجاتا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہتے کہ اپنے رب سے دعا کریں کہ ہماری یہ تکلیف دور کر دے۔ ہم ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ جب ہم ایک مدت کے لئے ان سے عذاب کو کھول دیتے ہیں اذا ھم ینکشون (آیت 350) تو وہ اپنے عہد کو فراموش کر کے اسی کفر اور شرک کی طرف آجاتے ہیں۔ یہاں بھی فرمایا کہ وہ لوگ عذاب دور ہوجانے کے بعد ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں مگر اللہ نے فرمایا انی لھم الذکری کہاں ہوگا ان کے لئے نصیحت پکڑنا جب ہم ان کی تکلیف رفع کردیں گے تو یہ پھر اپنے عہد سے مکر جائیں گے اور کفر و شرک میں ہی مبتلا رہیں گے۔ فرمایا ان کی زبان پر کیسے اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ وقد جآء ھم رسول مبین ان کے پاس ہر چیز کو کھول کر بیان کرنے والا رسول آ چکا ہے مگر انہوں نے اس کو تسلیم نہ کیا ثم تولواعنہ پھ راس سے روگردانی کی ، اس کی کسی بات پر یقین ہی نہ کیا بلکہ کہنے لگا وقالوا معلمہ مجنون یہ تو سکھلایا ہوا جادوگر ہے ہم اس کو اللہ کا نبی کیسے تسلیم کرلیں۔ اسی قسم کا مضمون سورة الفجر میں بھی آتا ہے۔ قیامت والے دن جب جہنم مجرموں کے سامنے آجائے گی تو پھر ان کی آنکھیں کھلیں گی۔ اس دن انسان نصیحت پکڑنا چاہے گا مگر اللہ نے فرمایا وانی لہ الذکری (آیت 23) مگر اس دن ان کے لئے نصیحت پکڑنا کہاں ہوگا یعنی کچھ مفید نہ ہوگا اس دن انسان لعب افسوس ملے گا ۔ یقول یلبتنی فتعت لحیاتی (آیت 24- ) اور کہے گا ہائے افسوس ! میں نے اپنی دائمی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیجا ہوتا مگر وہ وقت گزر چکا ہوگا ادھر عام انسان کی بھی یہ حالت ہے کہ جب موت کا وقت قریب آتا ہے تو وہ تمنا کرتا ہے فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکر من الصلحین (المنتقون 10- ) اور کہتا ہے کہ پروردگار ! اگر تو مجھے تھوڑی سی مہلت دے دے تو میں صدقہ خیرات کرلوں اور نیکی کما لوں۔ مگر اس وقت تک مہلت ختم ہو چی ہوتی ہے اور اس کی خواہش پوری نہیں ہو پاتی۔ یہاں بھی اللہ نے یہی بات فرمائی ہے (مجرم لوگ عذاب کا دھواں دیکھ کر ایمان لانے کی خواہش ظاہر کریں گے مگر اللہ فرمائے گا کہ میں نے تمہاری پاس اپنے رسول بھیجے مگر تم نے کچھ نصیحت حاصل نہیں کی۔ بلکہ روگردانی کی اور سکھایا ہوا مجنون کہنے لگے اب تمہارا ایمان قابل قبول نہیں اور وہی عذاب کو دور کیا جائے۔ معلم مجنون کی تشریح میں مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ مشرک لوگ سے تھے کہ محمد ﷺ طائف میں رہنے الے رومی غلام عداس سے بعض چیزیں سیکھتے ہیں اور پھر قرآن پیش کردیتے ہیں ۔ بعض اس کو دیگر عجمی غلاموں کی طرف منسوب کرتے تھے۔ حالانکہ وہ بیچارے تو خود سیکھنے کے لئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ آپ نے ان سے کیا سیکھنا تھا کافر و مشرک لوگ اس لئے بھی حضور ﷺ کو دیوانہ کہتے تھے کہ آپ نعوذ باللہ الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کی بوسیدہ ہڈیاں پھر زندہ ہوں گی۔ سب لوگ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ حساب کتاب کی منزل آئیگی اور پھر جزا و سزا کے فصلے ہوں گے۔ وہ لوگ آپ کو اس بات پر بھی دیوانہ کہتے تھے کہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے اور باقی سارے معبود باطل ہیں۔ اللہ نے ان کا بیان سورة ص میں نقل کیا ہے اجعل الالھۃ الھا واحد ان ھذا لشی عجات (آیت 5) کیا تمام معبودوں کو چھوڑ کر ایک ہی معبود بنا لای ہے۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے حالانکہ ہمارے آبائو اجداد تو سب کی تعظیم کرتے آئے ہیں ، ان کو نذر و نیاز پیش کرتے رہے ہیں مگر یہ شخص کہتا ہے کہ سب کی بجائے ایک ہی معبود کافی ہے۔ جدید دور کے بعض ملحدوں نے بھی اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ مثلاً جرمنی کا نولڈک بڑا ہے ایمان مسستشرق تھا اس نے کہا کہ حضور ﷺ پر نعوذ باللہ دورے پڑتے تھے۔ جس کے دوران وہ کچھ بڑ بڑاتے تھے اور اسی کو قرآن کے طور پر پیش کردیتے تھے۔ اسی قسم کی باتیں مکہ کے کافر اور مشرک بھی کرتے تھے کہ یہ تو بعض غلاموں سے سکیھ کر آتا ہے۔ اور ہمارے سامنے قرآن بنا کر پیش کر دیات ہے۔ ورنہ اس کی حقیقت کچھ نہیں۔ اللہ کی طرف سے جواب اللہ نے جواباً فرمایا انا کاشفوا العذاب قلیلاً ہم کھولنے والے ہیں عذاب کو تھوڑی مدت کے بعد کچھ عرصہ کے بعد اس دھوئیں کے عذاب کو دور کردیں گے۔ قحط سالی ختم ہو کر خوشحالی کا دور لے آئیں گے مگر انکم عآئدون تم پلٹ کر اسی کفر و شرک کا ارتکاب ہی کرو گے اور ایمان نہیں لائو گے اس قسم کی مثال اللہ نے مشرکوں کے بحر ی سفر کی بھی بیان فرمائی ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے اور کوئی مصیبت آپہنچتی ہے تو خلاص اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ انہیں اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے اذا ھم یشرکون (العنکبوت 65) تو پھر اسی طرح شرک کرنے لگتے ہیں۔ پھر وہ یغیروں کی نذر و نیاز وہی قبر پرستی اور وہی رسومات باطلہ انجام دینے لگتے ہیں تو یہاں بھی اللہ نے فرمایا کہ ہم ان کی درخواست پر عذاب کو دور تو کر دینگے مگر یہ پھر اسی ڈگر پر چل نکلیں گے۔ بطشتہ الکبری فرمایا یوم نبطش البطشۃ الکبری جس دن ہم گرفت کریں گے بڑی گرفت یعنی جس دن ہم انہیں سخت گرفت میں لیں گے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت کے مطابق اس بطشتہ الکبری سے مراد جنگ بد ہے۔ یہ اللہ کی بڑی گرفت تھی جس میں مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے ستر جلیل القادر سردار مارے گئے اور اتنے ہی قید ی بنے۔ باقی بھاگ گئے ۔ کافروں کو اتنی بڑی شکست ہوئی جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ وہ لوگ بڑی دھوم دھام اور باجے گاجے کے ساتھ لڑنے کے لئے آئے تھے مگر اللہ نے ایسی سخت گرفت کی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی اور مکہ والے ذلیل و خوار ہو کر واپس گئے۔ فرمایا انا منتقمون بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا آخری نبی بھیجا۔ کتاب نازل فرمائی۔ اللہ کے نبی نے کفار و مشرکین کو سمجھانے کی پوری پوری کوشش کی اور اس راہ میں بڑی صعوبتیں بھی ب رداشت کیں مگر وہ نہ مانے۔ اللہ کی غیرت جوش میں ائٓی تو انہیں بدر کے مقام پر تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور اس طرح اپنی اور اپنے نبی کی نافرمانی کا انتقام ان سے لے لیا۔ یہ تو دنیاوی لحاظ سے گرفت تھی جو عارضی تھی اور پھر آگے دائمی گرفت آنے والی ہے۔ انتقام کا ذکر آگے بھی بکثرت آ رہا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو مہلت دیتا رہتا ہے پھر جب وہ حد سے بڑھ جات یہیں تو پھر وہ انتقام بھی لے لیتا ہے۔ اسی طرح قریش مکہ سے انتقام لیا اور وہ ہمیشہ کے لئے نابود گئے۔
Ayahs 44:17–29

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے آزمایا ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور آیا ان کے پاس ایک عزت والا رسول

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

اس نے کہا ، کہ حوالے کر دو میری طرف اللہ کے بندوں کو ، بیشک میں تمہارے لئے رسول ہوں امانتدار

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ تم نہ تکبر کرو اللہ کے سامنے ، تحقیق میں لایا ہوں تمہارے پاس کھلی سند

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور بیشک میں پناہ پکڑتا ہوں اپنے پروردگار کے ساتھ اور تمہارے پروردگار کے ساتھ (اس بات سے) کہ تم مجھے سنگسار کر دو

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم ایمان نہیں لاتے مجھ پر پس تم مجھ سے الگ ہو جائو

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پس دعا کی اس نے اپنے پروردگار سے کہ بیشک یہ لوگ گنہگار ہیں

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

پس (فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ) لے کر نکل جا میرے بندوں کو رات کے وقت ، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور چھوڑ دے سمندر کو تھما ہوا ، بیشک یہ ایک لشکر ہے جس کو غرق کیا جائے گا

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

بہت کچھ چھوڑا انہوں نے پیچھے باغات اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور عزت کے مقامات

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور وہ نعمت جس میں وہ آسودہ حال تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اسی طرح ہوا اور وارث بنایا ہم نے ان (چیزوں) کا دوسری قوم کو

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

نہیں دیا ان پر آسمان اور نہ زمین ، اور نہیں تھے وہ مہلت یافتہ لوگوں میں سے

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین بالخصوص مشرکین مذکر انداز کیا ، ان کی نافرمانی کا حال بیان کیا اور پھر ان پر آن والی گرفت کا ذکر کیا۔ اللہ نے ان پر دھوئیں کی شکل میں قحط مسلط کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ یہ مصیبت دور ہوجائے تو وہ ایمان لے آئیں۔ مگر جب انہیں قحط سے نجات مل گئی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ کفر و شرک میں منہمک ہوگئے۔ اللہ نے بھی فرما دیا کہ ہم تھوڑی مدت کے لئے ان سے تکلیف کو ہٹائیں گے لیکن نافرمانی کی صورت میں بڑی گرفت میں لے لیں گے۔ چناچہ اللہ نے بدر کے مقام پر بہت سے سرکردہ مشرکین کو ہلاک کیا ، بعض قیدی بنے اور بعض شکست کھا کر بھاگ گئے۔ قوم فرعون کی آزمائش اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام میں سے قوم فرعون کی گرفت کا ذکر کیا ہے۔ اس واقعہ میں ایک طرف مشرکین عرب کے لئے انذار کا پہلو ہے کہ اگر وہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ آپ کو ایذا میں پہنچائیں گے اور وقوع قیامت اور جزائے عمل کا انکار کریں گے تو ان کا حشر بھی قوم فرعون سے مختلف نہیں ہوگا۔ اور دوسری طرف حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کے لئے تسلی کا مضمون ہے ا کہ اگر آج یہ لوگ آپ پر ایمان نہیں لاتے تو قوم فرعون کی طرح یہ بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون اور البتہ تحقیق ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کو آزمایا۔ وجآء ھم رسول کریم اور آیا ان کے پاس عزت والا رسول۔ رسول کی بعثت اور کتاب و شریعت کا نزول ہی قوم فرعون کے لئے آزمئاش کا باعث تھا۔ اللہ تعالیٰ ہر عقل مند مرد و زن کو مکلف یعنی قانون کا پابند بناتا ہے اور اس پابندی میں ہی ان کی ترقی کا راز مضمر ہے۔ اسی کی بدولت دنیا و آخرت میں بلند مرتبہ پر فائز ہو کر ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر اللہ کے بندے اس کے قانون کی پابندی نہیں کریں گے تو دنیا میں ذلیل ہوں گے اور برز خ اور آخرت میں بھی ذلت ناک عذاب کا شکار ہوجائیں گے۔ غرضیکہ اس تکلیف میں ہی انسانوں کی آزمائش ہے اللہ کا فرمان ہے ونبلوکم بالشر و الخیر فتنۃ (الانبیائ ، 35) ہم برئای اور بھلائی دونوں طریقوں سے تمہیں آزمایت ہیں کبھی مصائب و تکالیف کے ذریعے اور کبھی آسودہ حالی اور خوشحالی دے کر اسی طرح اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھیجو انسانوں کو آزماتا ہے کہ کون مانتا ہے اور کون انکار کرتا ہے ؟ کون کفر و شرک میں مبتلا ہوتا ہے اور کون توحید اور ایمان کو قبول کرتا ہے ؟ یہاں پر باعزت رسول سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ نے قوم فرعون کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ بڑی عظمت والے رسول تھے۔ اللہ نے آپ کی خاص طریقے سے تربیت فرمانی تھی اور آپ کو مراتب عالیہ پر فائز کیا تھا مگر فرعون نے آپ کو تسلیم نہ کیا بلکہ اپنے غرور وتکبر کی بنا پر آپ کو مہین کہا اپنے حواریوں سے کہنے لگا بھلا بتلائو لم انا خیر من ھذا الذی ھو مھین (الزخرف 52- ) کیا میں اس حقیر آدمی سے بہتر نہیں ہوں ؟ تاریخ عالم گواہ ہے کہ کافر مشرک ، مستبد اور ڈکٹیٹر قسم کے لوگوں نے اللہ کے نبیوں کو ہمیشہ حقیر جانا اور اسی بنا پر ان کی نبوت و رسالت کا انکار کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے نبوت و رسالت سے بڑھ کر کوئی عزت والا مقام نہیں۔ جس کو یہ مقام نصیب ہوتا ہے۔ اس پر اللہ کی خاص مہربان ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل کی سپرداری کا مطالبہ فرمایا کہ قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کے باعزت رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے فرعون سے مطالبہ کیا ان ادہ الی عباد اللہ کو اللہ کے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو اپنی غلام سے آزاد کر کے میرے حوالے کر دو ۔ تاکہ میں ان کو انکے اصلی وطن شام و فلسطین کی طرف لے جائوں تم نے انہیں بلا وجہ غلام بنا رکھا ہے انہیں طرح طرح کی تکالیف پہنچاتے ہو ان سے بیگار لیتے ہو حالانکہ آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا انی لکم رسول امین میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں یعنی اس کے حکم سے یہ مطالبہ کر رہا ہوں نیز میں امانتدار بھی ہوں۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ہوتا ہے وہ بلا کم وکاست تمہیں پہنچا رہا ہوں اور اس میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتا۔ تم سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہوں وان لاتعلوا علی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے غرور وتکبر نہ کرو۔ اس کے سامنے عجز و انکساری کا اظہار کرو اور اس کے حکم کی تعمیل کرو اور یاد رکھو میرا دعویٰ نبوت محض زبانی کلامی نہیں بلکہ انی اتیکم بسطن مبین میں تمہارے پاس اللہ کی جانب سے کھلی سند لے کر آیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص معجزات عطا فرمائے ہیں جو میری صداقت کی دلیل ہیں ، ان میں غور و فکر کرو ، میری بات کو مانو ، خدا کی وحدانیت پر ایمان لائو اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر دو ۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں فرعون کہتا تھا انا ربکم الاعلی (النزعت 24- ) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں لہٰذا میرے سوا کسی دوسری ہستی کو معبود نہ مانو۔ اور اگر تم نے ایسا کیا لاجعلنک من المسجونین (الشعرآء 29- ) تو تمہیں قید میں ڈال دوں گا۔ اس قسم کی دھمکیوں کے جواب میں مسویٰ (علیہ السلام) نے کہا وانی عذت بربی وربکم اور بیشک میں پناہ پکڑتا ہوں اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی اس بات سے ان ترجمون کہ تم مجھے سنگسار کر دو ۔ مطلب یہ ہے کہ میں تو خدا تعالیٰ کی پناہ پکڑنے والا ہوں مجھے تمہاری دھمکیوں کی کچھ پرواہ نہیں ہے۔ سنگساری ایک قدیم اور سخت ترین سزا ہے۔ اسلام میں بھی محض زانی کے لئے یہی سزا مقرر کی گئی ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے حکم سے فرعون کے پاس گئے تھے اور اس کو تبلیغ کی تھی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا پورا بھرسوہ تھا کہ وہ فرعن کے شر سے ضرور آپ کو محفوظ رکھے گا۔ سورة طہ میں یہ تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں کو فرعون کے پاس جا کر تبلیغ حق کرنے کا حکم دیا مگر انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کرے کیونکہ وہ صاحب اقتدار ہے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا تھا لاتخافا اننی معکما (آیت 46- ) تم دونوں ڈرو نہیں کیونکہ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچنے دوں گا۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک دفعہ پھر اپنے پروردگار کی پناہ پکڑنے کا اعادہ کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے دوسری بات یہ کی وان لم نومنوا لی فاعتزلون اور میری صداقت کے تمام دلائل دیکھنے کے باوجود اگر تم ایمان نہیں لاتے تو پھر مجھے چھوڑ دو ، مجھ سے الگ ہو جائو۔ مطلب یہ کہ کم از کم مجھے تکلیف تو نہ پہنچائو۔ مجھے اپنا کام کرنے دو جو کوئی حقیقت کو سمجھنا چاہئے گا میں اسے سمجھا دوں گا ، تم تعرض نہ کرو۔ اللہ کے تمام نبیوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی بات کہی کہ ایمان قبول کر کے اپنی فلاح کا سامان پیدا کرو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو پھر مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ۔ مگر کافر و مشرک اللہ کے نبی کو کھلی چھٹی دینے کے لئے تایر نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ انہیں اپنے لئے ایک مستقل خطرہ تصور کرتے تھے اور ابنیاء کو تبلیغ حق سے باز رکھنے کے لئے انہیں اذیتیں پہنچاتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا۔ وہ آپ کو تبلیغ کا حق تو کیا دیتے آپ کی جان کے در پر ہوگئے۔ قوم کے خلاف شکایت بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) نے تنگ آ کر فدعا ربہ اپنے پروردگار کے حضور دعا کی ان ھولآء فوم مجرمون پروردگار ! یہ قوم تو سخت گنہگار ہے جو اپنی شرارتوں سے باز آنے والے نہیں میں نے انہیں چالیس سال تک ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی طرف سے تکالیف پر صبر کیا ہے۔ مگر یہ کسی طرح مانتے ہی نہیں۔ سورة یونس میں موسیٰ (علیہ السلام) کی بد دعا کا ذکر بھی ہے جو انہوں نے قوم کے حق میں کی۔ عرض کیا ، پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے حواریوں کو اس دنیا کی زندگی میں وافر مال و دولت اس لئے عطا کی ہے کہ یہ لوگوں کو تیرے راستے سے گمراہ کریں۔ ربنا اطمس علی اموالھم (آیت 88- ) پروردگار ان کے مالوں کو مٹا دے یعنی ان کو عطا کردہ مال چھین لے اور ان کے سونے چاندی کے ڈھیروں کو مٹی میں تبدیل کر دے کیونکہ یہ لوگ تیرے عذاب دیکھے بغیر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کو ضرور سزا ملنی چاہئے۔ مصر سے نکل جانے کا حکم جب کسی قوم کے ظلم و ستم انتہا کو پہنچ جاتے ہیں اور وہ اللہ کے نبیوں کی ہلاکت کے منصوبے بنانے لگتے ہیں تو پھر اللہ کا غضب بھی جوش میں آجاتا ہے۔ قوم فرعون نے پر بھی یہی وقت آ چکا تھا۔ جس طرح آیت 16- میں گزر چکا ہے نا منتقمون بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں۔ …… قوم فرعون سے انتقام لینے کا وقت آ چکا تھا۔ اس مقصد کے لئے اسباب کا آغاز پہلے ہی ہوچکا تھا سارے بنی اسرائیل اپنے قومی میلے کے لئے شہر سے باہر کھلے میدان میں جمع تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا فاسربعبادی لیلاً اے موسیٰ (علیہ السلام) میرے بندوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائو۔ مگر گھبرانا نہیں کیونکہ انکم متبعون تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ یعن یفرعونی لشکر تمہارے تعاقب میں تمہارے پیچھے آئے گا۔ ہم تمہیں تو اپنی حفاظت میں لے لیں گے مگر انہیں ہمیشہ کے لئے نابود کردیں گے۔ چناچہ اللہ کے اس حکم کی تعمیل میں موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر چل پڑے حتی کہ بحر قلزم کے کنارے پہنچ گئے۔ آگے سمندر تھا اور پیچھے شکر لشکر فرعونی لوگ سخت گھبرا گئے قال اصحب موسیٰ انا لمدرکون (الشعرآء 61) موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو فرعون کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ مگر آپ نے فرمایا گھبرائو نہیں ان معی ربی سیھدین (آیت 62- ) میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ ضرور کوئی بچائو کی صورت پیدا فرمائے گا۔ فرعونیوں کی عغرقابی پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر میں لاٹھی ماری تو وہ پھٹ گیا اور اس میں خشک راستے بن گئے موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو ان راستوں پر ڈلا دیا اور اس طرح وہ بحفاظت بحیرہ قلزم کو عبور کر گئے خشک راستے ابھی تک موجود تھے اور فرعونی لشکر پیچھے پیچھے آ رہا تھا اس موقع پر اللہ نے فرمایا اے مسویٰ ! واترک البحر رھواً سمندر کو اسی طرح رکا ہوا چھوڑ دو تاکہ فرعونی لشکر بھی انہی راستوں پر سمندر میں داخل ہوجائے۔ فرمایا انھم جند مغرقون فرعون کے اس لشکر کو ہم غرق کرنے والے ہیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جب فرعون کا لشکر سمندر کے کنارے پر پہنچ اتو انہوں نے دیکھا کہ پانی میں خشک راستے بنے ہوئے ہیں جن پر چل کر بنی اسرائیل سمندر کو عبور کرچکے ہیں۔ چناچہ سارا فرعونی لشکر بمع فرعون انہی رساتوں پر چل نکلا۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ اس لشکر کی تعداد تیرہ لاکھ تھی۔ چناچہ جب وہ سمندر کے درمیان میں پہنچے تو اللہ کے حکم سے پانی جاری ہوگیا اور پورے کا پورا لشکر بحر قلزم کی موجوں کی نذر ہوگیا۔ فرعونیوں کی وراثت آگے اللہ نے عبرت اور انذار کے انذار میں فرمایا کم ترکوا من جنت وعیون اس غرق ہونے والی قوم نے اپنے پیچھے کتنے باغات اور چشمے چھوڑے مصر بڑا ذرخیز ملک تھا۔ ڈیم بنے ہوئے تھے مریں جاری تھیں ، پانی وافر تھا جس سے زمین سیراب ہوتی تھی اور بیشمار باغات اور چشمے تھے وزوع اور کھیتیاں تھیں جن میں غلہ پیدا ہوتا تھا ومقام کریم اور عزت کے مقامات تھے ، یعنی ان کے محلات ، عالیشیان کو ٹھیاں اور مکان تھے جہاں وہ باعزت رہتے تھے اور جہاں ہر طرح کی سہولتیں میسر تھیں۔ بڑی بڑی مصری عمارات کے نمونے تو آج بھی ابراہم مصر اور دیگر گنبدوں اور میناروں کی صورت میں موجود ہیں۔ یہ سب چیزیں فرعونی اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ فرمایا اس کے علاوہ ونعمۃ دیگر بہت سی نعمتیں بھی میسر تھیں جن کے ذریعے وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے تھے کانوا فیھا فکھین اور جن میں یہ لوگ خوشیاں منایا کرتے تھے وہ سب کچھ یہیں چھوڑ گئے۔ فرمایا کذلک یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا۔ سورة طہ میں ہے۔ فغشیھم من الیم ما غشیھم (آیت 78- ) وہ دریا کی موجوں کا شکار ہوگئے اور ان کا نام و نشان تک باقی نہ رہا سوائے فرعون کی لاش کے کہ جس کو عبرت کے لئے پانی سے باہر پھینک دیا گیا جو آج بھی عجائب گھر میں لوگوں کو درس عبرت دے رہی ہے۔ فرمایا یہ فرعونی جو کچھ بھی اپنے پیچھے چھوڑ گئے واورثنھا قوماً اخرین میں نے اس کا وارث دوسرے لوگوں کو بنا دیا۔ یہ باغات چشمے ، محلات اور تمام نعمتوں پر دوسرے لوگوں کا قبضہ ہوا اور وہ ان سے مستفید ہونے لگے۔ یہ کون لوگ تھے جو فرعونیوں کے متروکہ جائیداد کے وارث بنے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنایا۔ مگر یہ بات تاریخ کے خلاف ہے کیونکہ بنی اسرائیل سمندر کو عبور کر کے صحرائے سینا کی طرف چلے گئے اور فرعونیوں کی غرقابی کے باوجود واپس مصر نہیں گئے۔ البتہ بہت آگے چل کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں بنی اسرائیل کو مصر پر دوبارہ تسلط حاصل ہوا ۔ ہو سکتا ہے کہ اس وراثت سے یہی وراثت مراد ہو جو بعد میں بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی۔ تاہم بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اس وراثت سے مراد بعینہ ان چیزوں کی وراثت نہ ہو جو فرعونی غرقابی کے وقت چھوڑ گئے تھے بلکہ اس سے ان جیسی دوسری چیزوں کی وراثت مراد ہو جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو شام و فلسطین کی سر زمین میں عطا فرمائی۔ وہاں بھی اللہ نے ان کو باغات چشمے کھیتیاں اور محلات کا وارث بنایا۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ اس وراثت سے مراد فرعونیوں کے ترکہ کی مثل مراد ہو اور اللہ نے اس طرح اپنا وعدہ پورا کردیا ہو۔ قوم فرعون کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا فما بکت علیھم السمآء والارض ان کی ہلاکت پر نہ آسمان سویا اور نہ زمین احادیث سے اس کا مطلب یہ اخذ ہوتا ہے کہ ارض و سما کو فرعونیوں کی ہلاکت پر قطعاً افسوس نہ ہوا۔ احادیث میں آتا ہے کہ نیک آدمی کی موت پر آسمان اور زمین افسوس کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے جب کسی نافرمانی آدمی کی موت واقع ہوتی ہے تو زمین آسمان ، شجر و حجر غرضیکہ ہر چیز اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہ مخلوق اس شر پر آدمی کی شرارت سے محفوظ ہوگئی۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر مومن آدمی کیلئے آسمان میں دو دروازے کھلے ہوتے ہیں ایک دروازے سے اس کے نیک اعمال اوپر جاتے ہیں جب کہ دوسرے دروازے اس کے لئے روزی کا حکم نازل ہوتا ہے ۔ جب وہ شخص اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو مذکورہ دونوں دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ اس پر یہ دروازے افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور روتے ہیں کہ اس مرد مومن کے نیک اعمال کی آمد بند ہوگئی اور اس کے مذاق کا حکم بھی ختم ہوگیا۔ اسی اسی طرح زمین کے وہ مقامات جہاں وہ نیک آدمی عبادت کرتا تھا یا نیکی کے دوسرے کام انجام دیتا تھا ، وہ بھی روتے ہیں کہ آج وہ بیک اعمال اور عبادات ختم ہوگئیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ارض و سما کا مذکورہ رونا مجازی طور پر ہے یعنی ارض و سما نیک آدمی کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں جس کو رونے سے تعبیر کیا گیا ہے اور بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس سے بعینہ روا بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو نباتات اور جمادات میں بھی اولے کی کیفیت پید اکر سکتا ہے چناچہ احادیث میں حنانہ نامی خشک تنے کا ذکر آتا ہے جو مسجد نبوی میں …ہوا تھا اور جس کے ساتھ ٹیک لگا کر حضور ﷺ صحابہ کو خطاب کیا کرتے تھے ۔ جب آپ کے لئے منبر تیار ہوگیا تو آپ اس پر تشریف رکھنے لگے اس جدائی پر وہ کھجور کا خشک تنا بچوں کی طرح بلک بلک کر رویا تھا۔ پھر آپ نے اس پر دست شفقت رکھا تو وہ آہستہ آہستہ خاموش ہوگیا۔ طلب یہ کہ ہو سکتا ہے اسی طرح ارض و سما بھی روتے ہوں جنہیں ہم محسوس نہیں کرسکتے۔ الغرض فرمایا کہ فرعونیوں کی موت پر نہ تو ارض و سما روئے وما کانوا منظرین اور نہ ہی ان کو مہلت دی گئی کہ وہ اپنی اصلاح کرسکتے بلکہ انہیں ہمیشہ کے لئے ذلیل و خوار کر کے نیست و نابود کردیا گیا۔