Ayahs 44:30–41ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید ، رسالت اور معاد کا مسئلہ سمجھانے کے لئے سابقہ اقوام اور خاص طور پر قوم فرعون کا ذکر کیا۔ پھر اس کے انجام کو بھی بیان کیا جو اس کے غرور وتکبر کی وجہ سے ہوا۔ وہ لوگ خود تو بحر قلزم میں غرق ہوگئے اور اپنے پیچھے ساز و سامان ، باغات ، چشمے ، مملات اور دیگر عیش و عشرت کی اشیاء چھوڑ گئے جن کا وارث اللہ نے دوسرے لوگوں کو بنایا۔ اللہ نے یہ بھی عبرت کے طور پر فرمایا کہ ان ناہنجاروں کی ہلاکت پر ارض و سمانہ رونے یعنی انہوں نے کوئی افسوس نہ کیا۔ جب ان لوگوں پر گرفت آئی تو پھر انہیں سنبھلنے کی مہلت بھی نہ ملی۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی بھی مطلوب تھی کہ اگر ان کے مخالفین بھی سابقہ اقوام کے نافرمانوں کے نقش قدم پر چلتے رہے تو ان کا حشر بھی پہلی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔
آزادی کی نعمت
فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل آزاد ہو کر صحرائے سینا کی طرف چلے گئے فرعون کی غلامی سے آزادی ایک بہت بڑی نعمت تھی جس کا تذکرہ اللہ نے اس مقام پر لعان کے طور پر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد نجینا بنی آسرائیل من العذاب المھین اور البتہ تحقیق ہم نے نجات دی۔ بنی اسرائیل کو ذلت ناک عذاب سے من فرعون یعنی فرعون (اور اس کے حواریوں) انہ کان عالیا من المسرفین بیشک وہ سرکش ، متکبر اور حد سے بڑھنے والا تھا۔
بنی اسرائیل کی غلامی اور پھر آزادی کی تاریخ تقریباً چار صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں اقتدار حاصل تھا تو بنی اسرائیل کے بہتر یا اسی افراد مصر میں داخل ہوئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اس سر زمین میں قبطی قوم آباد تھی اور یوسف (علیہ السلام) کے بعد اسی قوم کے بادشاہ حکمران رہے اس قوم کے بادشاہ فرعون کہلاتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک بتیسواں فرعون مسند سلطنت پر متمکن تھا۔ اکثریت کی بناء پر قبطی قوم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور وہ ان سے طرح طرح کی بیگار لیتے ، ان کو حقیر جانتے اور ان پر مظالم ڈھاتے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے فرعون کو دعوت توحید اور بنی اسرائیل کی آزاد ی کا مطالبہ کیا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر لعسان جتلاتے ہوئے یاد دلایا کہ میں نے تمہاری بچپن میں پرورش کی اور تم سال ہا سال تک ہمارے ہاں مقیم رہے اور پھر جب تم نے ایک قبطی کو قتل کردیا تو پھر بھی ہم نے تجھ سے بدلہ نہ لیا اور اب تم میں توحید کی دعوت دینے آئے ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے تو ایک شخص کو غلطی سیق تلک یا تھا۔ حالانکہ میرا ارادہ قطعاً قتلک ا نہ ھتا اس کے برخلاف کیا تیرا مجھ پر یہی احسان ہے ان عبدت بنی آسرائیل (الشعرآء : 22) کہ تو نے بنی اسرائیل کو خلاصہ بنا رکھا ہے ؟ بہرحال فرعن نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کیا اور بنی اسرائیل کو برابر غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے رکھا موسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ کے نتیجے میں فرعونیوں کے مظالم مزید بڑھ گئے حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں فرعون سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو لے کر رات نکل جائو جب آپ قوم کے ہمراہ بحر قلزم پر پہنچے تو اللہ نے وہاں بھی مدد فرمائی اور سمندر کے بیچوں بیچ خشک راستے بنا دیئے جن پر چل کر بنی اسرائیل سمندر سے پار چلے گئے فرعون او اس کا لشکر تعاقب میں آ رہا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ بنی اسرائیل ان خشک راستوں سے سمندر عبور کر گئے ہیں تو انہوں نے بھی اپنے گھوڑے انہی راستوں پر ڈال دیئے مگر جب سمندر کے درمیان میں پہنچے تو اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی مل گیا اور تیرہ لاکھ کافرعنی شکر غرق ہوگیا ، اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی تھی اور وہ سارے کے سارے مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے گئے ۔ اسی واقعہ کا ذکر اللہ نے یہاں کیا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو نجات دی ذلت ناک عذاب سے۔
غلامی کی لعنت
اس مقام پر ذلت ناک عذاب سے مراد یہی غلامی کی مصیبت ہے جس میں بنی اسرائیل صدیوں سے پھنسے ہوئے تھے۔ غلامی بجائے خود ایک لعنت ہے ۔ سورة النحل میں اللہ تعالیٰ نے آزاد اور غلام کا تقابل فرمایا کہ یہ کیسے برابر ہو سکتے ہیں جب کہ آزاد آدمی اپنی ہر چیز کا مالک اور متصرف ہوتا ہے اور عبدامملوکا لایقدر علی شیء (آیت 75- ) غلام آدمی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ غلامی خواہ شخصی ہو یا اجتماعی غیر فطری چیز ہے۔ اس سے انسان کی فطرت خراب ہوجاتی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ غلام کی اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی بلکہ وہ ہمیشہ اپنے آقا کا تابع ہوتا ہے ، اسی وجہ سیا س کی کوئی ضمیر بھی نہیں ہوتی۔
شخصی غلامی کا رواج قدیم زمانے سے چلا آ رہا تھا اور نزول قرآن کے زمانے میں یہ دنیا کے ہر خطے میں پایا جاتا ہے یہ رواج تو اب پوری دنیا سے ختم ہوچکا ہے مگر اجتماعی غلامی ، یعنی سیاسی ، ذہنی ، اقتصادی اور تہذیبی غلامی آج بھی دنیا میں موجود ہے تمام ترقی پذیر ممالک ترقی یافتہ ممالک کے کسی نہ کسی صورت میں غلام ہیں سیاسی غلامی یہ ہے کہ پس ماندہ ممالک کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے بلکہ انہیں کسی سپر طاقت کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے پس ماندہ ممالک کو اقتصادی غلامی میں بری طرح جکڑ رکھا ہے جس سے وہ چاہنے کے باوجود نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتے سرمایہ دار ممالک ایڈ کے نام پر قرضے دیتے ہیں اور پھر غریب غریب ممالک کو اس جال میں بری طرح جکڑ لیتے ہیں اس نام نہاد امداد کی بنیاد شرط یہ ہوتی ہے کہ امدادی رقم سے امداد دہندہ ملک سے مال خریدنا پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی مشیر بھی امداد وصول کنندہ ملک پر بھیج دیتا ہے اس طرح یہ ممالک کچھ فائدہ تو اس تجارتی لین دین میں اٹھا لیتے ہیں اور کچھ رقم مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کی شکل میں واپس لے لیتے ہیں اور غریب ملک بیچارہ قرضے او اس پر سود کی ادائیگی کے جال میں پھنس جاتا ہے حتی کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ قرضے پر ادا کئے جانے والے سود کی ادائیگی کے لئے مزید قرضہ لینا پڑتا ہے اور اس طرح غریب ممالک اقتصادی طور پر غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔
جب قرض دہندہ ملک سے مشیر آتے ہیں تو وہ اپنی تہذیب اور ثقافت بھی ساتھ لاتے ہیں۔ اسی طرح جن غریب ممالک سے لوگ اعلیٰ تعلیمی وظائف پر دیگر ممالک میں جاتے ہیں ، وہ بھی انہی کی تہذیب میں رنگے جاتے ہیں اور انہی کا ذہن لے کر واپس آتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی پھر مقامی لوگ بھی وہی تہذیب اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی میں عزت جانتے ہیں۔ اس طرح غریب ممالک اقتصادی غلامی کے ساتھ ساتھ ذہنی اور تہذیبی غلامی کا بھی شکار ہوجاتے ہیں وہ اپنی تہذیب و ثقافت حتی کہ اپنی زبان کو بھی حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور ہر کام میں ترقی یافتہ ممالک کی نقالی میں ہی عزت خیال کرتے ہیں۔ ہمارا ملک بھی ایسی ہی سیاسی ، اقتصادی ، ذہنی اور تدیبی غلامی کا شکار ہے۔ اس کی ہر سکیم باہر سے بن کر آتی ہے اس پر عمل درآمد کے لئے مشیر آتے ہیں۔ سود پر قرضہ حاصل کیا جاتا ہے اور آج حالت یہ ہے کہ پاکستان اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ ان قرضوں پر صرف سود کی ادائیگی کے لئے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں اور اس طرح ہم ایسے گر رکھ دھندے میں پھنس چکے ہیں جس سے نکلنا محال نظر آتا ہے۔
انگریز ویسے بھی مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے۔ اس نے برصغیر میں مسلمانوں کو مغلوب کر کے حکومت حاصل کی ، لہٰذا وہ ان سے ہمیشہ خائف رہتا اور انہیں ہر صورت میں دبائے رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ 1857 ء کی جنگ آزادی میں انگریزی کو مسلمانوں کو کچلنے کا ایک اور بہانہ ہاتھ آ گیا ، چناچہ اس نے تمام سر کردہ علماء اور سیاستدانوں کو قتل کروا دیا بعض کو جزائر ، انڈیمان میں قید کردیا۔ بعض کی جائیدادیں چھین لیں اور ان کو طرح طرح کے مظالم کا شکار بنایا۔ انگریز جانتے تھے کہ اگر برصغیر کے لوگ آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو افریقی ممالک بھی ان کا تلفط زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے چناچہ ایسا ہوا جنگ عظیم دوئم کے نتیجے میں جب انگریزوں کو یہاں سے جانا پڑا تو افریقی ممالک کو بھی ہوش آیا اس طر ح بہت سے افریقی ممالک نے بھی آزادی حاصل کرلی اور بعض اب تک اسی چکر میں پھنسے ہوئے ہیں غرضیکہ پس ماندہ ممالک کسی نہ کسی طرح امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، روس یا چین کے غلام ہیں اور بقول علامہ اقبال غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر ترقی پذیر ممالک بےضمیر ہوچکے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے رحم و کرم پر ہیں۔
غلامی کی ایک صورت فرقہ واریت بھی ہوتی ہے۔ زبردست قوم زیر دست قوم میں فرقہ پرستی اور گروہ بندی کو ہوا دیتی اور پھر ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ساتھ لڑا دیتی ہے دو متحارب فریق اپنے آقا کے محتاج بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ لڑائو اور حکومت کرو کا فارمولا کامیابی کے ساتھ آزماتے رہتے ہیں۔ ہم مسلمان آٹھ سو سال سے ان مصائب میں مبتلا چلے آ رہے ہیں تاتاریوں کے زمانے سے ہمارے قدم ڈگمگائے جو آج تک نہیں سنبھل سکے ، ترکی نے چار سو سال تک خلافت کا دفاع کیا مگر بالآخرملغوب ہوگئے حتی کہ انگریزوں نے مسلمانوں کے شعار ” خلافت “ کا نام تک مٹا دیا اب دنیا میں مسلمانوں کی کم و بیش پچاس ریاستیں ہیں مگر وہ اس قدر بےبس ہیں کہ کوئی ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتا ، گویا کہ مسلمانوں کی اجتماعیت بالکل ہی ختم ہوچکی ہے حضرت مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ جس قوم کا اپنا فلسفہ نہیں ہوتا وہ دوسرے کے مغلوب ہوجاتے ہیں ، جب تک مسلمانوں میں اپنا ذہن ، اپنا فلسفہ اور اپنی سوچ پیدا نہیں ہوگی یہ دوسروں کی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ بہرحال یہ تو ایک ضمناً بات ہوگئی۔ فرعون نے بنی اسرائیل کو ذلت ناک عذاب میں ڈال رکھا تھا۔ جس سے اللہ نے انہیں نجات دی اور جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔
آزادی کی فضیلت
دین اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے ک اس میں غلامی کو روا رکھا گیا ہے۔ حقیقت اس کے برخلاف ہے نزول قرآن کے زمانہ میں پوری دنیا میں غلامی کا رواج تھا۔ غلام بنانے کی صورت خود قرآن نے سورة قتال میں بیان کی ہے کہ جب دو متحارب گروہوں کے درمیان جنگ ہوتی تو اس کے نتیجے میں متحارب گروہوں کے قیدی بھی ایک دوسرے کی تحویل میں چلے جاتے ان قیدیوں کو یا تو قتل کردیا جاتا ، یا آپس میں قیدیوں کا تابدلہ کرلیا جاتا ، یا ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا جاتا اور ان میں سے کوئی صورت بھی ممکن نہ ہوتی تو ان کو غلام بنا لیا جاتا جب اسلام آیا تو اس نے غلامی کے رواج کو قطعاً پسند نہیں کیا بلکہ بعض مصلحتوں کی وجہ سے اس کو روا رکھا کیونکہ اس وقت سارا کاروبار غلاموں کے ذریعے انجام پاتا تھا اور اگر غلام کو یکسر ختم کردیا جاتا تو سارا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جاتا اور دنیا اقتصادی جموں کا شکار ہوجاتی ، البتہ اسلام نے غلامی کے اس رواج میں ہر چند اصلاح کی کوشش کی بلکہ اس کے خاتمہ کے لئے بہت سی ترغیبات بھی دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ غلام تمہارے بھائی ہیں ان کو انسانیت سے خارج نہ کرو کسی وجہ سے تمہاری غلامی میں آگئے ہیں توا ن کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کرو ، جو خود کھاتے ہو ان کو بھی کھلائو اور جو خود پہنتے ہو ان کو بھی پہنائو ان سے طاقت سے زیادہ کام نہ لو اور اگر کوئی مشقت طلب کام ان کے سپرد کرو تو اس میں خود بھی ان کا ہاتھ بٹائو۔
جہاں تک آزادی کی ترغیبات کا تعلق ہے۔ اسلام نے غلام کی آزادی کو بڑی فضیلت بخشی ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے مختلف جنایات کا کفارہ غلام کی آزادی کو قرار دیا ہے قسم توڑنے ، بلا وجہ روزہ توڑنے اور ظہار کا کفار بھی غلامی کی آزادی مقرر کیا گیا ہے ۔ اگر غلام میں صلاحیت ہو تو اسے مکاتبت کے ذریعے بھی آزاد کیا جاسکتا ہے ، سورة نور میں موجود ہے کہ اگر تمہارے غلام تم سے مکاتبت چاہیں یعنی مقرر رقم ادا کر کے آزای حاصل کرنا چاہیں تو ان کے راستے میں رکاوٹ نہ بنو۔ فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیراً (آیت 33- ) اگر ان میں بہتری پائو تو انہیں مکاتبت کے طور پر آزاد کر دو ۔ پھر وہ مقررہ رقم ادا کر چکیں تو انہیں مکمل آزادی دے دو اسی طرح اگر غلطی سے قتل ہوجائے تو اس کا کفارہ بھی ایک غلام کی آزادی ہے ۔ بہرحال اسلام نے اس وقت غلامی میں اصلاح او اس کی آزادی کا بیڑا اٹھایا جب ساری دنیا اس لعنت میں گرفتار تھی اور اب جب کہ دنیا بھر میں غلامی کا خاتمہ ہوچکا ہے تو اسلام کو اس میں کچھ اعتراض نہیں بلکہ یہ اسلام ہی کے ایک مقصد کی تکمیل ہے غرضیکہ اغیار کے اس اعتراض کی کوئی حقیقت نہیں کہ اسلام نے غلامی کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
بنی اسرائیل کی فضیلت
بنی اسرائیل کی آزادی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولقد اخترنھم علی علم علی العلمین اور البتہ تحقیق مہ نے علم کے ساتھ بنی اسرائیل کو جہان والوں پر منتخب فرمایا یہ اس دور کی بات ہے اس زمانے میں واقعی بنی اسرائیل کو اللہ نے باقی اقوام عالم پر فضیلت بخشی پھر جب حضور ﷺ کا زمانہ مبارکہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آخرت امت کو تمام امم پر فوقیت عطا فرمائی اور اس کو خیر امۃ کہہ کر خطاب فرمایا کہ تم جہان بھر میں بہترین امت ہو تاہم اپنے دور میں بنی اسرائیل کو ہی فضیلت حاصل تھی علی علم کا مطلب یہ ہے کہ ہم جانتے تھے کہ اس امت میں بہت سی کمزوریاں بھی تھیں لیکن اس کے باوجود اللہ نے ان کو باقی لوگوں کے مقابلے میں منتخب فرمایا۔
نیز فرمایا و تینھم من الایت ما فید بلومبین اور ہم ن یان کو بہت سی نشانیاں بھی دیں جن میں ان کی صریح آزمائش تھی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے بہت سے معجزات عطا فرمائے بنی اسرائیل کے لئے بادلوں کا سایہ کیا ان پر من وسلویٰ نازل کیا ، اس سے پہلے بحر قلزم میں راستے بنا کر ان کو پار کرایا اور اس طرح انہیں فرعون کی غلامی سے نجات دلائی۔ یہ سب معجزات اور نشانیاں تھیں جس سے بنی اسرائیل مستفید ہوئے۔
اللہ نے فرعن اور اس کی قوم کا حال ذکر کر کے فرمایا ان ھولآء لیقولون
معاد اور جزائے عمل
بیشک مکہ اور عرب کے مشرک لوگ کہتے ہیں۔ ان ھی الا موتینا الاولی یہ ہماری پہلی موت ہی ہے جو آنے والی ہے وما نحن بمنشرین اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے گویا انہوں نے معاد کا انکار کردیا کہنے لگے اگر تمہارے کہنے کے مطابق تمام مردوں کو دوبارہ جی اٹھنا ہے قالو بابائنا ان کنتم صدقین تو پھر ہمارے آبائو اجداد کو زندہ کر کے لے آئو اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو اس کے بغیر ہم کیسے مان لیں کہ مرنے کے بعد ہر ایک کو دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے حساب کتاب کی منزل پیش آنی ہے اور پھر جزائے عمل کے فیصلے ہونے ہیں۔
اللہ نے فرمایا یہ کتنے مغرور لوگ ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں ذرا ان سے پوچھو اھم خیر ام قوم تبع کیا یہ بہتر ہیں یا قوم تبع اس قوم کا تعلق یمن کے قبیلہ حمیر سے تھا ، یہ خاندان اڑھائی تین سو سال تک سبا میں حکمران رہا وہاں پر کئی تبع گزرے ہیں یعنی بڑا اوسط اور چھوٹا کہتے ہیں کہ اس آیت میں اوسط تبع کا ذکر ہے جو خود تو مسلمان تھا مگر اس کی قوم کافر تھی ساز و سامان کے لحاظ سے اللہ نے ان کو بہت کچھ دے رکھا تھا اور بڑے آسودہ حال لوگ تھے حدیث میں آتا ہے کہ تبع کو برا نہ کہو کیونکہ وہ ایمان والا تھا تو فرمایا تبع کے قمابلہ ان مشرکین مکہ کی کیا حیثیت ہے ذرا ان سے پوچھو کہ یہ بہتر ہیں یا قوم تبع والدین من قبلھم زیادہ لوگ بہتر تھے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ ان کے پاس تو مال و دولت اور جاہ و اقتدار اور لائو لشکر تھا ، مگر ان کے پاس کیا رکھا ہے۔ اھلکنھم ہم نے ان کو بھی ہلاک کردیا۔ انھم کانوا مجرمین کیونکہ وہ گنہگار لوگ تھے جب یہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر تحید اور رسالتک ا انکار کر رہے ہیں تو یہ ہلاکت سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ فرمایا وما خلقنا السموت والارض وما بینھما لعبین ہم نے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو محض کھیل کے طور پر تو پیدا نہیں کردیا۔ بلکہ اس کائنات کی تخقیق میں ہماری حکمت کار فرما ہے جس چیزہ آغاز ہے اس کا انجام بھی ضرور واقع ہوگا۔ قیامت برپا ہوگی اور حساب کتاب کی منزل آئے گی۔
فرمایا ہمارا قائم کردہ نظام کائنات باطل نہیں ہے بلکہ ماخلقنھما الا بالحق ہم نے ارض و مسا کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ولکن اکثرھم لاعلمون مگر ان میں سے اکثر بےعلم ہیں جو اس کی حقیقت کو نہیں جانتے فرمایا ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین بیشک فیصلے کا دن ان سب کے وعدے کا دن ہے وہ دن آنے والا ہے جب تمام امور کے ٹھیک ٹھیک فیصلے کے جائیں گے اس دن ان کو پتہ چلے گا کہ بعث بعد الموت برحق ہے اور پھر انہیں ذرے ذرے کا حساب دینا پڑے گا یہ ایسا دن ہوگا یوم لایغنی مولا عن مولی شیئاً جس دن کوئی رفیق دوست اور ساتھی کسی دوسرے رفیق کے کام نہیں آسکے گا بلکہ ہر ایک کو اپنی اپنی نحر ہوگی ولا ھم ینصرون اور نہ ہ یان کی کسی دوسرے طریقے سے مدد کی جائے گی۔ اس دن ایمان اور نیکی ہی کام آئے گی ۔ جس کے پاس یہ چیزیں ہوں گی وہی مامون ہوگا الا من رحم اللہ ہاں ! جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے کھول دے گا وہ کامیاب ہوجائے گا اور اللہ کی مہربانی اسی شخص پر ہوگی جو دنیا میں خدا کی وحدانیت پر ایمان لایا اس کے نبیوں کا اتباع اللہ کی کتابوں ، ملائکہ اور بعث بعدالموت پر یقین کیا۔ فرمایا انہ ھم العزیز الرحیم بیشک وہ کمال قدرت کا مالک اور زبردست ہے اور ساتھ ساتھ وہ نہایت رحم کرنے والا بھی ہے۔ جو اس کی طرف رجوع کرے گا وہ ضرور اس کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔ اس کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہئے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایمان اور نیکی حاصل کرنے کا بندوبست بھی کرنا چاہئے۔
Ayahs 44:42–59ربط آیات
پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے طور پر نہیں بتایا بلکہ ان کی تخلیق خاص حکمت اور مصلحت کی بناء پر عمل میں آئی ہے۔ آخری فیصلے کے لئے ایک دن مقرر ہے ، اس دن سب اگلے پچھلے اکٹھے ہوں گے حساب کتاب کی منزل آئے گی اور کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آسکے گا اور نہ ہی کہیں سے مدد پہنچے گی ہاں ! جس پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوگ ی وہ اس کے غضب سے بچ جائے گا۔
امن کا انجام
اب آج کے درس میں ترغیب و ترہیب کے سلسلے میں پہلے مجرموں کو ڈرایا گیا ہے اور ان کو پیش آنے والے حالات کا کچھ تذکرہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان شجرۃ الزقوم بیشک تھوہر کا درخت طعام الاثیم گنہگار کا کھانا ہے جن ہم میں تھوہر کا درخت دوزخیوں کی خواک بنے گا۔ جب ان کو بھوک ستائیگی تو کھانے کے لئے تھوہر کا درخت پیش کیا جائے گی ، اس کی کیفیت یہ ہوگی کا الممل کہ یہ پگھلے ہوئے جتنے کی طرح ہوگا یغلی فی البطون ہو کھانے کے بعد پیٹوں میں جا کر کھولے گا یعنی جوش مارے گا کغلی الحمیم جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ گہنگاروں کی اس قسم کی کیفیت سورة الغاشیہ میں بیان کی گئی ہے۔ فرمایا ان کے لئے خار دار جھاڑ کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا لایمن ولا یغنی من جوع (آیت 7- ) جو نہ فریہی لائے گا اور نہ بھوک کو مٹائے گا سورة الواقعہ میں بھی مجرموں کی حالت اس طرح بیان کی گئی ہے لاکلون من شجمع من زقوم (آیت 53) کہ تم تھوہر کے درخت سے کھائو گے اور پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے جیسے پیاسے اونٹ پانی پیتے ہیں۔ ترمذی شریف اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو ! اتقوا اللہ حق تقتہ اللہ سے ڈر جائو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ یاد رکھو ! اگر دوزخ کے تھوہر کے درخت کا ایک قطرہ دنیا میں پھینک دیا جائے تو دنیا کی ساری چیزیں اس قدر کڑوی اور تلخ ہوجائیں کہ کھانے پینے کیق ابل نہ رہیں۔ اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں کی خوراک یہ درخت ہوگا ان کی کیا حالت ہوگی۔
تھوہر کا پودا ایشیا اور افریقہ دونوں بر اعظموں میں پایا جاتا ہے تاہم افریقی تھوہر نسبتاً زیادہ شدید ہوتا ہے اس سے گوند بھی نکالا جاتا ہے جس کی تاثیر سخت گرم ہوتی ہے۔ بڑا کڑوا اور تلخ ہوتا ہے ، تاہم سنکھیا کی طرح اس کو مدبر کر کے بعض ادویات بھی تیار کی جاتی ہیں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ ان کے مکہ مکرمہ کے قیام کے دوران دو ہندوستانی طالبعلموں نے اشکال پیش کیا کہ قرآن نے تھوہر کو دوزخیوں کی خوراک بتایا ہے حالانکہ اس کا پھل یہاں مکہ میں کھایا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا جوا بیہ دیا کہ اللہ نے تھوہر کے درخت کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ سخت کڑوا اور دوزخیوں کی خوراک ہے مگر ہو سکتا ہے کہ اس کے پھل سے کوئی فائدہ اٹھایا جاسکے جاسکے ، نیز جس تھوہر کا پھل اس دنیا میں کھایا جاتا ہے وہ اسی دنیا کا تھوبہ ہے۔ جب کہ جو تھوبہ جہنمیوں کی خوراک بنے گا وہ جہنم کا تھوہر ہوگا جسے یہاں کے تھوہر پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔
فرمایا ایک تو دوزخیوں کی خورکا تھوبرہ درخت ہوگا اور اس کے علاوہ ایسے پاپی شخص کے لئے اللہ کا حکم ہوگا خذوہ اس کو پکڑ لو گرفتار کرلو فاعتلوہ الی سوآء الجحیم اسے گھسیٹ کر دوزخ کے درمیان پھینک دو اور وہاں لے جا کر ثم صبوا فوق راسیہ من سداب الحمیم پھر اس کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب ڈالو دوزخ میں ایک تو ویسے ہی چاروں طرف آگ ہوگی ، اس کے علاوہ دوزخی کے سر بخت گرم پانی ڈالا جائے گا جو دماغ سے داخل ہو کر آنتوں کو کاٹتا ہوا باہر نکل جائے گا۔ اس قسم کی سزا کا ذکر سورة قتال میں بھی آیا ہے وسقوامآء حمیماً فقط مع امعلھم (آیت 150 دوزخیوں کو کھولتا وہا پانی پلایا جئے گا جو ان ک یآنتوں کو کاٹ کر باہر پھینک دے گا ، وہ آنتیں پھر اپنی جگہ پر آجائیں گی ، پھر پانی پلایا جائے گا اور پھر آنتیں کٹ جائیں ی ، اسی طرح دوزخیوں کی ایک اور سزا کے متعلق فرمایا کلما نصیحت جلودھم بدلنھم جلوداغیرھا (النسآء 56- ) کہ دوزخ کی آگ میں جب ان کی کھال جل جائے گی تو فوراً دوسریک ھال پہنا دی جائے گی۔ اس طرح یہ سزا مسلسل جاری رہے گی ۔
بہرحال اس مقام پر فرمایا کہ دوزخی کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا اور پھر اس سے کہا جائے گا دق اس کا مزا چکھ انک انت العزیز الکریم بیشک تو دنیا میں بڑا غالب اور عزت دار بنا پھرتا تھا دنیا میں اس قسم کے بہت سے متکبر اور سرکش لوگ ہوئے ہیں جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے زیادہ عزت والا سمجھتے تھے ابوجہل بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو کہا کرتا تھا کہ وادی بھا میں مجھ سے زیادہ کون عزت والا ہے ؟ یہ مٹھی بھر مسلمان میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں ؟ اس طرح وہ اپنی سردار یکا چرچا کیا کرتا تھا۔
مجرمین کی سزائوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا کہ دوزخ والوں سے اس طرح خطاب کیا جائے ان ھذا ماکنتم بہ تمترون بیشک یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق تم شک کیا کرتے تھے جب اللہ کے نبی تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈراتے تھے تو تم کہا کرتے تھے کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو پھر ہم کیسے دوبارہ زندہ ہوں گے۔ یہ محض وہم ہے کہ مرنے کے بعد ہر شخص دوبارہ زندہ ہوگا قیامت برپا ہوگی ، حساب کتاب کی منزل آئیگی اور پھر جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ۔ فرمایا ان چیزوں کو سچ نہیں مانتے تھے بلکہ ان میں شک و تردد کا اظہار کرتے تھے لو آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لو اور سزا کا مزا چکھ لو ۔
مجرمین کی سزا کے تذکرہ کے بعد اب اللہ نے نیکو کاروں کے لئے انعامات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان المتقین فی مقام امین بیشک اللہ سے ڈرنے والے متقی لوگ جنہوں نے کفر و شرک سے اجتناب کیا اور حدود شرع کی حفاظت کی ، وہ امن و چین کے مقام میں ہوں گے ، اور وہ مقام کیا ہیں ؟ فی جنت وعیون وہ باغات اور نہریں ہیں جہاں وہ ہیں گے وہاں پر انہیں ہر طرح کی آسائش حاصل ہوگی او وہ کسی جسمانی ، روحانی یا ذہنی پریشانی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
انہی اہل جنت کے متعلق فرمایا یلبون من سندس واسبرق اس مقام میں وہ باریک اور موٹا ریشم پہنیں گے۔ یہ اپنے اپنے ذوق کی بات ہوتی ہے ، کسی کو باریک کپڑا پسند ہوتا ہے اور کسی کو موٹا ، ان کا انتخاب اپنی مضری کا ہوگا اور جس قسم کا لباس چاہیں گے مہیا کیا جائے گا بعض اس کا یہ مطلب بھی لیتے ہیں کہ اہل جنت خود تو باریک ریشم کا لباس پسند کریں گے جب کہ اپنے خدام کے لئے موٹی قسم کا لباس بنوائیں گے ، یہ وہی ریشم ہے جو اس دنیا میں مردوں کے لئے حرام اور آخرت میں حلال ہوگا۔ فرمایا جنتی لوگ اپنا من پسند لباس پہنے متقبلین ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے یعنی کوئی جنتی کسی دوسرے سے روگردانی نہیں کرے گا اس دنیا میں تو بعض اوقات ایک دوسرے سے ناراضگی بھی پیدا ہوجاتی ہے اور پھر ایک دوسرے سے میل ملاقات بھی بند ہوجاتی ہے ، کہیں سر راہ ملاقات ہوجائے تو منہ پھیرلیا جاتا ہے ، مگر جنت میں نہ کوئی کسی سے ناراض ہوگا اور نہ اس سے منہ پھیرے گا بلکہ سب ایک دوسرے کے آمنے سامنے خوش و خرم حالت میں بیٹھنے والے ہوں گے۔ ہر جنتی کے دل میں دوسرے کے لئے محبت و الفت کے جذبات ہوں گے۔
فرمایا کذلک یہ اسی طرح ہوگا ، جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ وزوجنھم بحورعین ہم ان کا حوروں کے ساتھ نکاح کردیں گے جو موٹی آنکھوں والی خوبصورت ہوں گی ، جنت کی حوریں انسانی نوع سے نہیں بلکہ یہ ایک نہایت ہی پاکیزہ عنصر کی تخلیق ہے۔ بعض روایات میں زعفران اور کافور کا ذکر بھی آتا ہے۔ بعض نے عنبر اور مشک جیسے اعلیٰ مادہ کا ذکر کیا ہے۔ بہرحال یہ جنتی مخلوق اہل جنت کو حاصل ہوگی اور یہ دنیاوی عورتوں کے علاوہ ہوں گی جن کا مرتبہ ان سے بہت بلند ہوگا۔
آگے اللہ نے جنتیوں کی ایک اور نعمت کا ذکر کیا ہے یدعون فیھا بکل فالھ امین جنتی بکل فالھ امین جنتی لوگ جنت میں ہر قسم کا پھل امن اور دلجمعی کے ساتھ طلب کریں گے جو انہیں مہیا کیا جائے گا روایات میں آتا ہے کو جونہی کسی جنتی کے دل میں کوئی پھل کھانے کی خواہش پیدا ہوئی ، اس پھل کا درخت خود جنتی کے قریب آجھکے جائے گا وہ اس پھل کو اتار کر استعمال کرے گا اور اس کی جگہ فوراً دوسرا پھل آجائے گا …سے مراد یہ ہے کہ پھل کے طلب اور حصوں میں کسی قسم کی وقت نہیں ہوتی نہ موسمک ا انتظار کرنا پڑا گا اور نہ کسی پھل کے ختم ہوجانے کا اندیشہ ہوگا بلکہ جب اور جتنی مقدار میں کوئی جنتی کوئی سا پھل اصل کرنا چاہے گا فوراً حاضر کردیا جائے گا جہاں تک پھل کے ذائقہ کا تعلق ہے وہ نہایت ہی لذیذ ہوگا اس دنیا میں تو بعض پھل کڑوے کیلے اور طبیعت پر ناگوار بھی ہوتے ہیں مگر جنت میں ایسا نہیں ہوگا ، بلکہ ہر پھل ایسا خوش رنگ اور خوش ذائقہ ہوگا جس کا اندازہ اس دنیا میں نہیں کیا جاسکتا پھلوں کے علاوہ پرندوں کے گوشت کا ذکر بھی قرآن میں آتا ہے ولخطیر مما یشتھون (الواقعۃ 21) اور ان کی خواہش کے مطابق پرندوں کا گوشت بھی میسر ہوگا جس قسم کا گوشت پسند کریں گے بغیر کسی عفت کے حاصل ہوگا غرض کیا حت کے اس مقام میں ہر جنتی کو مکان خوراک لباس اور بیوی جیسے آسائش کے سامان میسر ہوں گے دنیا میں تو انسان کو کسی وقت بھی مکمل چین نصیب نہیں ہوتا ، اور بقول سعدی صاحب انتہائی عیش و آرام کے لمحات میں بھی ” لذعہ اجل موت …درپیش ہے گویا موت کا خیال آتے ہی سارا مزا کر کرا وہ جاتا ہے پھر دنیا میں کسی نعمت مال و دولت ، مکان ، زمین کاروبار کارخانہ اولاد وغیرہ کے چھن جانے کا خوف بھی ہوتا ہے مگر جنت میں ایسی کوئی فکر لاحق نہیں ہوگی۔ جنت کی زندگی بھی دائمی ہوگی کہ اس میں موت کا خطرہ نہیں ہوگا اور وہاں کی نعمتیں بھی دائمی ہوں گ ی جن کے چھن جانے کا کوئی ڈر نہیں ہوگا۔
فرمایا لایذوقون فیھ الموت الا الموتۃ الاولی وہاں موت کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔ سوائے اس کے کہ جو موت دنیا میں آ چکی ۔ اب دوبارہ موت نہیں آئے گی ووقھم عذاب الجحیم اور اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی ہمیشہ کے لئے بچا لے گا ، اب ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ فرمایا فضلاً من ربک حاصل ہونے والی یہ تمام نعمتیں تیرے پروردگار کی حرف سے فضل اور مہربانی ہے اس کی مہربانی سے دنیا میں پاکیزگی نصیب ہوئی صحیح عقیدہ اور نیک عمل نصیب ہوا پاکیزہ اخلقا اور پاکیزہ کردار ملا اور پھر آخرت میں یہ عظیم اور دائمی نعمتیں حاصل ہوئیں ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مہربان یکا نتیجہ ہے۔ ذلک ھو الغفور العظیم اور درحقیقت یہ بہت بڑیک امیابی ہے جسے حاصل ہوگئی دوسری جگہ موجود ہے من زحرح عن النار وادحل الجنۃ فقدھا (آل عمران 185- ) جو دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کردیا یا وہ کامیاب ہوگیا وہ ایسی پرامن زندگی میں داخل ہوگیا جہاں کبھی کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا اس کے برخلاف اس دنیا میں تو ہر وقت کسی نہ کسی خطرے کے بادل انسان کے سر پر منڈلاتے رہتے ہیں بڑی سے بڑی سلطنت بھی ہو تو اس کے چھن جانے کا خطرہ ہوتا ہے کہ آج ہے تو ہو سکتا ہے کہ کل نہ ہو ۔
یہ عالم روا روی پہ ہے
ہر چند کہیں ہے میں ہے (غالب)
ابدی آرام و راحت جنت میں ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
قرآن بطور نصیحت
سورۃ کے آخر میں اللہ نے اس کے مضامین کو دہرایا ہے۔ قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت کے متعلق فرمایا ہے فانما یشرنہ بلسانت بیشک ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے اور اس کی غایت یہ ہے لعلھم یتذکرون تکاہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں اللہ نے قرآن کریم کو اپنے پیغمبر اور اس کی قوم کی مادری زبان میں نازل فرمایا اس کا یہ عام قانون ہے کہ یہ نبی کو اس کی اپنی زبان میں ہی خدا کا پیغام پہنچایا جاتا ہے تاکہ وہ اسی زبان میں اسے آگے قوم تک پہنچا سکتے ، حضور ﷺ کی مادری زبان عربی تھی اور یہی زبان آپ کے خاندان قریش کی تھی لہٰذا اللہ نے قرآن بھی اسی زبان میں نازل فرمایا لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیداً تاکہ آپ کی قوم کے لوگ باقی لوگوں کے معلم بن جائیں اور حضور ﷺ ان کے معلمہ ہوں اسی وجہ سے ابتدائی دور کے لوگوں کے متعلق یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے اللہ کے پروگرام کو نہیں سمجھا۔ قرآن عربی میں نازل کرنے کا مقصد ہی تھا کہ اس کے اولین مخاطبین اس کو سمجھ کر آگے پہنچا سکیں ، اس لئے مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بننے میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہی ہونی چاہئے تاکہ بچے کا ذہن اسے قبول کرلے اور پھر اس میں پختہ ہوجائے یہاں تو لوگ ابتداء ہی انگریزی زبان سے کرتے ہیں حالانکہ یہ غیر فطری چیز ہے بعد میں بیشک جونسی زبان چاہے سیکھے مگر آغاز اپنی زبان میں ہی ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما کنا معذبین حتی نبعث رسولاً (بنی اسرائیل 15- ) ہم کسی قوم کو اس وقت تک عذاب میں مبتلا نہیں کرتے جب تک اس کے پاس اپنا رسول نہیں بھیج دیتے رسول چونکہ اپنی قوم کی زبان بولتا ہے لہٰذا وہ انہیں احکام الٰہی اچھی طرح سمجھا دیتا ہے اور دین کے سمجھنے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ وہ تمام جزیات کو واضح کردیتا ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص ایمان اور توحید کو اختیار نہیں کرتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو سزا دینے میں حق بجانب ہوتا ہے۔
شعار اپنا اپنا
ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ! فارتقب پس آپ انتظار کریں ، کیونکہ انھم مرتقبون آپ کے مخالفین بھی انتظار کر رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ کب آپ کا مشن ناکام ہوتا ہے اور آپ کے ساتھی شکست کھا جاتے ہیں ، جب کہ آپ کا انتظار اس بات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق کیا فیصلہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بعض ا وقات دنیا میں بھی نافرمانوں کو سزا دے دیتا ہے اور آخرت کی دائمی سزا تو آگے آنے والی ہے ، آپ انتظار کریں اور دیکھیں کہ ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔