Ayahs 43:1–8نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی نواسی آیات اور سات رکوع ہیں ، یہ سورة 833 کلمات اور 2340 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
جیسا کہ گزشتہ سورتوں کے تعارف میں بیان کیا جا چکا ہے حوامیم سبعہ میں عام طور پر بنیادی اعتقادات یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ذکر ہے ، تا ہم ہر سورة میں بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ، چناچہ اس سورة میں بھی توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں اور مختلف عنوانات اور مثالوں کے ذریعے شرک کا رد کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال بھی بیان کی ہے کہ انہوں نے کس طرح قوم کے سامنے شرک سے بیزاری کا اظہار کیا اور تبلیغ کے لیے بہترین طریقہ کار کو بھی واضح کردیا ۔ اس سلسلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے ۔ آپ کو بڑی سر کش قوم سے مقابلہ کرنا پڑا ۔ شرک کی مختلف قسموں میں ایک قسم انسان پرستی کی بھی ہے۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کی صفت اور عبادت میں شریک کیا ۔ اس کا رد آئے گا ، تمام رسولوں کی اطاعت ضروری ہے کیونکہ شریعت کا مدار کسی تجربہ یا عقل پر نہیں ہوتا بلکہ یہ رسولوں کے واسطہ سے آتی ہے۔ تمام کتب سماویہ اور خاص طور پر قرآن پاک پر ایمان لانا بھی جزو ایمان ہے کہ اس کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا جزائے عمل کے ضمن میں ترغیب و ترہیب کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے ، غرضیکہ اس سورة میں بھی تما م بنیادی اصولوں کا ذکر آ گیا ہے ، اگر انسان کا عقیدہ درست ہوگا تو دین پر عمل درآمد ہو سکے گا ، اور اگر عقیدے میں خرابی ہوگی تو فرقہ بندی شروع ہو جائیگی اس لیے دین کی اساس اور بنیاد کو اچھی طرح واضح کردیا گیا ہے۔
حروف مقطعات
یہ سورة بھی چونکہ حوامیم سبعہ میں سے ہے ، لہٰذا اس کی ابتداء بھی حم کے حروف سے ہوئی ہے۔ حم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے یا قرآن پاک کا نام ہے ۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کا اشارہ اس سورة میں بیان کردہ مضامین کی طرف ہے ۔ ان کا اشارہ خدا تعالیٰ کی بعض صفات کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے ح سے حنان اور م سے منان ، انتہائی درجے کی شفقت و مہربانی کرنا خدا تعالیٰ کی صفت ہے ، لہٰذا حم سے یہ مراد بھی لی جاسکتی ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ ان حروف کے ذریعے خدائے رحمان و رحیم کی قسم اٹھا کر آگے بات کی گئی ہے تا ہم امام جلال الدین سیوطی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات میں زیادہ الجھنا نہیں چاہئے بلکہ ان کی تلاوت کے وقت یہی کہنا چاہئے اللہ اعلم بمراد بذلک یعنی ان حروف کی مراد کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان حروف سے اللہ کی جو بھی مراد ہے ہمارا اس پر ایمان ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ باقی مفسرین نے تقریب فہم کے لیے جو باتیں کی ہیں وہ حتمی ہیں ہیں ، لہٰذا ان حروف کے متعلق زیادہ کرید نہیں کرنی چاہئے ، بلکہ ان پر ایمان لاناہی کافی ہے۔
1 ؎۔ جلالین ص 4
کتاب مبین
حروف مقطعات کے بعد سورة کا آغاز قسم سے ہوتا ہے ۔ ولکتب المبین قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی ، کتاب سے مراد قرآن حکیم ہے جس میں کسی مسئلہ کو مجمل نہیں چھوڑا گیا بلکہ واضح کردیا گیا ہے اگر کسی ایک مقام پر اجمال ہے تو دوسری جگہ پر اس کی تفصیل بھی موجود ہے اور پھر بعض چیزوں کی وضاحت اللہ کے نبی کے سپرد کردی گئی ہے ۔ جیسے سورة النمل میں فرمایا وانزلنا الیک الذکر التبین للناس ما نزل الیھم ( آیت : 44) ہم نے یہ ذکر یعنی کتاب اس لیے نازل کی ہے تا کہ آپ لوگوں کو وہ چیز کھول کر بیان کردیں جو ان کی طرف اتاری گئی ہے ، گویا حضور ﷺ آیات نبی کی تشریح بھی کرتے ہیں اور یہ تشریح و توضیح بھی منجانب اللہ ہوتی ہے جسے وحی غیر متلو کہا جاتا ہے ، بہر حال اللہ نے اکثر بنیادی عقائد اور اصولوں کو بڑے واضح طریقے پر بیان کردیا ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو ہر چیز انسان کی سمجھ میں آجاتی ہے اور کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔ الغرض ! اللہ نے اس کو کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی قسم اٹھا کر اگلی بات کی ہے۔
قرآن اور عربی زبان
کتاب مبین کی قسم کے جواب کے متعلق مفسرین کرام کی دورانیں میں بعض فرماتے ہیں کہ اس مقام پر بھی جواب قسم وہی ہے جو سورة یٰسین کے آغاز میں والقراٰن الحکیم میں ہے یعنی انک لمن المرسلین اے پیغمبر ﷺ آپ اللہ کے رسولوں میں سے ہیں ۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مقام پر کتاب مبین کی قسم کا جواب قسم وہی ہے جو اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ انا جعلنہ قرانا غربیا بیشک ہم نے اس قرآن پاک کو عربی زبان میں نازل کیا ہے اور اس کی حکمت یہ ہے لعلکم تعقلون تا کہ آپ لوگ اس کو بخوبی سمجھ سکیں ۔ قرآن کا عربی زبان میں نزول ایک بہت بڑ ی حقیقت ہے ۔ جس کو پچھلی سورة میں بھی بیان کیا جاچکا ہے وکذلک او حینا الیک قرانا عربیا ( الشوریٰ : 7) اسی طرح ہم نے یہ قرآن آپ کی طرف عربی زبان میں بھیجا تا کہ آپ اہل مکہ اور گرد و بیش والوں کو ڈرا دیں ۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اس نے تورات عبرانی زبان میں اور انجیل سریانی زبان میں نازل کی ، وہ اس قرآن کو کسی دوسری غیر عربی زبان میں بھی نازل کرنے پر قادر تھا مگر اس کا یہ اصولی فیصلہ ہے وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم ( ابراہیم : 4) ہم نے ہر رسول کو اس کی قوی زبان میں بھیجا تا کہ وہ ان کو اللہ کا پیغام کھول کر بیان کرسکیں ۔ اللہ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ کو ان کی قوم قریش کی طرف مبعوث فرمایا ، جو عربی زبان بولتے تھے ، لہٰذا قرآن کو بھی عربی زبان میں نازل فرمایا تا کہ اس کے اولین مخاطبین اس کو اچھی طرح سمجھ لیں اور پھر اس کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیں ۔ نزول قرآن کے زمانہ میں عربی زبان انتہائی عروج پر تھی ۔ اس کی ترقی کا دور حضور ﷺ کی بعثت سے دو ہزار سال پہلے شروع ہوا ۔ اور آپ کے زمانے تک شعر و ادب کی دنیا میں یہ زبان تمام زبانوں پر فوقیت حاصل کرچکی تھی ، یہ زبان آج بھی اختصار مفہوم کی ادائیگی اور اس کی گرائمر کے سائنٹیفک ہونے کے اعتبار سے اول نمبر پر ہے ۔ اس کی شرینی میں بھی کوئی دوسری زبان اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ انگریز ی زبان اگرچہ دنیا بھر میں بولی جاتی ہے ، مگر اس میں بھی بہت سے روائد موجود ہیں جب کہ عربی ہی ایک واحد زبان ہے جو زائد حروف سے بالکل پاک ہے اور کم از کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ مفہوم بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عربی زبان میں کوئی حرف ایسا نہیں ہے جس کا کوئی مفہوم یا معنی نہ نکلتا ہو ۔ بہر حال اس فصیح وبلیغ زبان میں اللہ نے قرآن پاک کو نازل فرمایا ۔ طبرانی اور بعض دیگر کتب احادیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ عربوں سے محبت کیا کرو ، کیونکہ میں بھی عربی ہوں ، اللہ نے قرآن کو بھی عربی زبان میں نازل فرمایا ہے اور پھر اہل جنت کی زبان میں بھی عربی ہوگی ۔ یہ قریش اور عربوں کی سعادت تھی کہ اللہ کا آخری نبی ان میں پیدا ہوا ۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا جس کی ایک حکمت اللہ نے یہ بھی بیان فرمائی لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا (البقرہ : 143) کہ اللہ کا رسول تمہارا معلم ہے اور تم دیگر لوگوں کے معلم بنو گے ، مطلب یہ کہ تم قرآن پاک کو اپنی مادری زبان میں ہونے کی وجہ سے اچھی طرح سمجھ لو اور پھر آگے غیر غریبوں کو پہنچا دو ۔ فرمایا یہ بلند مرتبت کتاب ہے وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم اور بیشک یہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بہت برتر اور مستحکم ہے ۔ حکیم کے دونوں معنی آتے ہیں یعنی مضبوط و مستحکم بھی اور حکمت والی بھی ہے۔ بہر حال قرآن کریم میں یہ ساری صفات پائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر : 9) بیشک ہم نے اس کو نازل فرمایا ہم اسی کے محافظ ہیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اس دنیا میں کڑوڑوں حفاظ کے سینوں میں بھی محفوظ کردیا ہے اور ادھر لوح محفوظ میں بھی اس کو محفوظ و مستحکم بنا رکھا ہے۔
منکرین قرآن کے لیے تنبیہ
جو لوگ نبی آخر الزمان کی رسالت اور قرآن حکیم کی حقانیت میں شک کرتے ہیں اللہ نے ان کو سخت تنبیہ فرمائی ہے افتضرب عنکم الذکر صحفا کیا ہم تمہیں نصیحت کرنے سے پہلو تہی کریں گے۔ محض اس وجہ سے کہ ان کنتم قوما ًمسرفین تم ایک اسراف کرنے والی یعنی حد سے گزرنے والی قوم ہو ؟ اگر تم اس نبی یا قرآن کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم اپنے احکام کے ذریعے نصیحت کرنا ترک کردیں ؟ ایسا نہیں ہوگا بلکہ تمہیں ہر حالت میں نصیحت کی جاتی رہے گی ، ہمارا پیغام پہنچتا رہے گا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کا یہ تقاضا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تمام تر مخالفت کے باوجود نزول قرآن کو موقوف نہیں کیا ، لہٰذا قرآن پاک بدستور نازل ہو رہا ہے ، اللہ کی منشاء یہ ہے کہ وہ اپنے رسول اور قرآن کے ذریعے اتمام حجت کر دے تا کہ کل کو کوئی عذر نہ کرسکے ان تقولوا ما جاء نا من بشیر ولا نذیر کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا نہیں آیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے آخری رسول کو مبعوث فرمایا اور اس عذر کو رفع کردیا ہے فقد جاء کم بشر و نذیر ( لمائدہ : 19) پس تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا آ گیا ہے ، لہٰذا اب تمہارا کوئی عذر مسموع نہیں ہے۔ اگر بھی حقیقت کو پہچان کر اس پر ایمان نہیں لاتے تو پھر آگے اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی بڑے سخت ہے ، وہ تمہیں سزا میں مبتلا کرنے پر بھی قادر ہے۔
سابقہ الزام کا انجام
اسی ضمن میں اللہ نے سابقہ اقوام کی نافرمانی اور پھر ان کے انجام کا حال بھی ذکر کیا ہے وکم ارسلنا من نبی فی الاولین ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بہت سے رسول بھیجے وما یاتیھم من بنی مگر ان کے پاس جو بھی نبی آیا الا کانوا بہ یستزء ون ان بد بختوں نے ان انبیاء کے ساتھ ٹھٹا ہی کیا ۔ اللہ کے نبی اور رسول انہیں خدا کا پیغام پہنچاتے رہے ، نہیں کیا انجام کی خوشخبری دیتے رہے اور برے انجام سے ڈراتے رہے مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور الٹا نبیوں سے مذاق کرتے رہے ۔ سورة الرعد میں بھی ہے ولقد اسھزی برسل من قبلک ( آیت : 32) آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق ہی اڑایا گیا ۔ پس ہم نے انکار کرنے والوں کو مہلت دی اور پھر ان کو پکڑ لیا ۔ جب نوح (علیہ السلام) کے حکم سے کشتی تیار کر رہے تھے ۔ وکلما مر علیہ ملامن قومد سخروارفہ ( ھود : 31) تو ان کی قوم کا جو بھی سرکردہ آدمی ادھر سے گزرتا ان کے ساتھ مذاق کرتا ، غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے ہر نبی اور رسول کے ساتھ تمسخر کیا گیا ۔ اگر آج یہ لوگ آپ کو دیوانہ شاعر یا کاہن کہتے ہیں تو آپ ان کی باتوں کو خاطر میں نہ لائیں ۔ یہ تمسخر تو پہلے نبیوں کے ساتھ بھی ہوتا رہا ہے۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں انکی بری حرکات کی پرواہ نہ کریں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد آپ کے متبعین کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ لوگوں کے ٹھٹے مذاق سے دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیتے رہیں ۔ البتہ اللہ نے یہاں پر تنبیہ کردی ہے کہ نافرمانوں کا انجام بھی عبرتناک ہی ہوتا رہا ہے ۔ سورة سبا میں اللہ نے فرمایا کہ مکہ کے کافر کس بات پر اتراتے ہیں اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے ہیں ۔ والذین الذین من قبلھم وما بلغوا معشار ما تینھم (آیت : 45) ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی مگر ان کا انجام کتنا عبرتناک ہوا ، ان مکہ والوں کو تو انکا عشر عشیر بھی نہیں دیا گیا ، بھلا ان کی کیا حثیت ہ۔ سب سے کس طرح بچ سکتے ہیں ؟ فرمایا یہ ……فاھلدنا اسد منھم بطثا پھر ہم نے ان سے زیادذہ گرفت والوں کو ہلاک کر ڈالا ۔ مطلب یہ کہ مکہ والے بھی اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ فرمایا ومضی مثل الاولین پہلے لوگوں کی اس قسم کی مثالیں گزر چکی ہیں کہ وہ لوگ عبرت ناک سزا میں مبتلا ہوئے۔ قرآن پاک نے ایسے لوگوں کو جستہ جستہ واقعات بیان کردیے ہیں ۔ جن کو اللہ نے اس دنیا میں ہلاک کیا ، کسی قوم پر زلزلہ آیا ، کسی کو پانی میں غرق کیا ، کسی پر تیز ہوا مسلط کردی گئی اور کسی پر سخت چیخ آئی ، اللہ نے بعض کی شکلیں ہی مسح کردیں ، غرضیکہ اللہ نے تنبیہ کے انداز میں فرمایا کہ مکہ والوں کو سابقہ اقوام کا انجام پیش نظر رکھنا چاہئے۔ اگر وہ انکار کر کے عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکے تو ان کا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ۔
Ayahs 43:9–14ربط آیات
گزشتہ درس میں سورة الرخرف کا آغاز تھا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے ، یہ کتاب اللہ نے عربی زبان میں نازل فرمائی ہے اور یہ اس کے نزدیک لوح محفوظ میں محفوظ ہے اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے منکرین کی قبیح حرکات کی وجہ سے ہم اس کے نزول کو موقوف نہیں کرنے دیں گے بلکہ اس نصیحت کی تکمیل ضرور کریں گے تا کہ کسی شخص کو بعد میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے کہ اسے سمجھایا نہیں کیا ۔ بعض لوگ سلیمہ الفطرت بھی ہوتے ہیں جو حق بات کو فوراً قبول کرلیتے ہیں ، لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ نصیحت کو روکا نہیں جائے گا ۔ اور اس سے مستفید ہونے کا پورا پورا موقع فراہم کیا جائے گا ، پھر اللہ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی کہ وہ کفار و مشرکین کی زیادتیوں سے گھبرائیں نہیں بلکہ اپنا کام کرتے چلے جائیں ۔ اللہ نے سابقہ اقوام کی نافرمانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ان کے پاس اللہ کے رسول آئے تو انہوں نے ان کے ساتھ تمسخر ہی کیا ۔ پھر جب ان کی نافرمانی حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے ان کی گرفت میں لے لیا ۔ وہ لوگ تو مشرکین مکہ سے زیادہ قوت ، زیادہ مال و دولت اور زیادہ جتھے والے تھے۔ جب وہ بھی عذاب الٰہی سے بچ نہ سکے تو یہ لوگ انہی کے نقش قدم پر چل کر کیسے بچ سکتے ہیں ؟ ان ہلاک شدہ قوموں کی کہانیاں تاریخ میں بھی محفوظ ہیں اور ان کے جستہ جستہ واقعات قرآن نے بھی بیان کردیے ہیں ۔ اس طرح یہ تسلی کا مضمون بھی آ گیا ہے۔
اللہ کی صفت خلق
آج کے درس میں پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بعض دلائل ذکر کے ہیں ، اور پھر شرک کی مختلف قسموں کا رد کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولئن سالتھم من خلق السموات والارض اگر آپ ان کافروں اور مشرکوں سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے۔ تمہارے پائوں کے نیچے زمین ہے جس پر تم رہائش پذیر ہو اور جس پر تمام امور زندگی انجام دیتے ہو ، تماری ضروریات اسی زمین سے پوری ہوتی ہیں ، پھر تمہارے سامنے نظر آنے والانیلگون آسمان ہے ، اس میں سورج ، چاند ، ستارے اور سیارے نظر آتے ہیں ، ذرا بتلائو تو یہی کہ ان سب چیزوں کا خالق کون ہے ؟ اس کے جواب میں ایک موٹی عقل رکھنے والا آدمی بھی یہی کہے گا کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ ہے لیقولن خلقھن العزیز العلیم ہر عاقل ، عالم ، جاہل ، چھوٹے بڑے کا یک ہی جواب ہے اور وہ لازما ً یہی کہے گا کہ ان اشیاء کو ان ذات خداوندی نے پیدا فرمایا ہے جو زبردست ، غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
توحید کے چار درجات
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ توحید کے چار درجے ہیں ۔ جن میں سے دو درجوں میں تو سب برابر ہیں اور وہ درجوں میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ۔ توحید کا پہلا درجہ خلق ہے۔ دہریوں کی ایک قلیل تعداد کو چھوڑ کر آپ کسی خطے اور کسی مذہب کے پیروکار سے پوچھ لیں خواہ وہ یہودی ہو یا عیسائی ہو ، ہندو ہو یا سکھ ، چینی ہو یا جاپانی ، مجوسی ہو یا صابی سب یہی کہیں گے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے ۔ قرآن نے بھی اس حقیقت کو بار بار واضح کیا ہے اللہ خالق کل شی ( الزمر : 62) اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ توحید کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود خود ہے نہ کہ کسی دوسری ہستی کا عطا کردہ ، لفظ اللہ اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور لفظ خدا کا مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ خود بخود ہے اور اس کی ذات میں کسی دوسری ذات کا کوئی حصہ نہیں ۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی ایسی ہستی ہے جو خود بخود ہے ، اس کے علاوہ کوئی ہستی خود بخود نہیں ، بلکہ ہر چیز اللہ کی پیدا کردہ ہے ، ہر شے کا وجود اللہ کا عطا کرد ہ ہے۔
ان دو درجات کے علاوہ دو مزید درجات تدبیر اور عبادت ایسے میں آ کر لوگ شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کی تدبیر بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ کسی چیز کو پیدا کرنے کے بعد اسے بتدریج درجہ کمال تک پہنچاتا اللہ ہی کی صفت ہے مگر مشرک لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ بعض دوسری ہستیاں بھی ان کے کام بناتی ہیں ۔ بعض فرشتے جن ، انسان ( زندہ اور مردہ) شجر و حجر ، شمس و قمر ، ستارے اور سیارے بھی ان کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے ہیں ۔ یہی شرک ہے جس میں لوگ آ کر پھنس جاتے ہیں۔ توحید کا چوتھا درجہ عبادت ہے ۔ جب ہر چیز کا خالق ، مالک ، مدیر اور متصرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہے تو پھر عبادت بھی خالصتا ًاسی کو ہونی چاہئے مگر بعض عبادت میں بھی دوسروں کو شریک بنا لیتے ہیں ۔ بعض بتوں کے سامنے اور بعض قبروں ، شجر و حجر ، سورج اور چاند اور جنوں اور انسانوں کے سامنے سر نیاز خم کردیتے ہیں ۔ ان کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جیسی اللہ کی ہونی چاہئے۔ ان کے سامنے نذر و نیاز پیش کرتے ہیں اور انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں ، یہ شرک فی العبادت کا ارتکاب ہے جس میں اکثر لو گ مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان کفار و مشرکین سے پوچھیں کہ ارض و سماکا خالق کون ہے تو ضرور یہی جواب دیں گے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے ان کو پیدا فرمایا ہے۔
بین الطور گہوارہ
توحید کے اس تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان پر کیے جانے والے بعض احسانات کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الذی جعل لکم الارض مھد اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنا دیا ہے زمین کی تخلیق کے ذکر کے بعد اس سے حاصل ہونے والے مفادات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جس طرح بچے کو گہوارہ میں سلا کر اس کو حرکت دی جاتی ہے تو بچہ راحت محسوس کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر پھیلا کر زمین کو جھولے کی طرح متحرک کردیا ہے جو اس کے لیے بہت سے مفادات کا سبب بنتی ہے۔ قدیم یونانی ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ زمین ساکن ہے جب کہ جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ زمین متحرک ہے اور یہ بیک وقت دو حرکتوں کے ساتھ اپنے سفر پر رواں دواں ہے۔ اس کی ایک حرکت اپنے محور کے گرد ہے جو چوبیس گھنٹوں میں پوری ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے دن رات آگے پیچھے آتے ہیں ۔ زمین کی دوسری حرکت سورج کے گرد ہے جو سال بھر میں مکمل ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے موسمی تغیرات واقع ہوتے ہیں ۔ چناچہ سال بھر کے موسم گرما ، سرما ، بہار اور خزاں زمین کی سورج کے گرد گردش کا نتیجہ ہیں غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو جھولے کی طرح متحرک بنا کر اس پر رہنے والوں کے لیے بہت سے مفادات وابستہ کردیتے ہیں ۔ دن کے وقت کام ، رات کو آرام مختلف موسموں میں مختلف قسم کے پھل ، پھول اور اناج کی پیداوار سب کچھ اللہ نے انسان اور دیگرجانداروں کی مصلحت کی خاطر قائم کیا ہے ۔ بہر حال زمین ایک گہوارے کی مثل جھول رہی ہے ، دیگر کروں کی طرح یہ بھی ایک کرہ ہے جو فضا میں معلق ہے جو لوگ زمین سے نکل کر فضا میں جاتے ہیں یا جو چاند پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ان کو زمین بھی چاند جیسا ایک کرہ ہی نظر آتی ہے۔ ابتداء میں زمین سورج ہی کا ایک حصہ تھی ، پھر اللہ نے اس کو سورج سے الگ کر کے نو کروڑ تیس لاکھ میل دور پھینک دیا ، چونکہ زمین سورج جیسے آگ کے بگولے سے الگ ہوئی ہے ، اس کا دلی حصہ تو ٹھنڈا ہوچکا ہے مگر اس کا اندرونی حصہ ابھی تک گرم ہے ، اور لاکھوں سال گزرنے کے بعد اب بھی بعض اوقات اس سے لاوار ابلنے لگتا ہے ۔ زمین کے ارد گرد چودہ کروڑ مربع میل رقبے میں پانی ہی پانی ہے اور صرف آٹھواں حصہ خشکی ہے۔ زمین کے ارد گرد پانی کی مثال ایسی ہے جیسے سخت گرمی میں پسینہ آجاتا ہے۔ اللہ نے اس زمین کے گرد چار پانچ سو میل تک ہوا کا خول چڑھا دیا ہے ۔ زمین کے اندر کی حقیقت کو سائنسدان پورے طریقے سے معلوم نہیں کر پائے۔ وہ صرف چھ تا آٹھ میل تک نیچے کی خبر لاسکتے ہیں اور مزید نیچے جانے کی کوشش کر رہے ہیں جسکے نتیجے میں مزید انکشافات کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ بہر حال اللہ نے فرمایا کہ اس کی ذات وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے گہوارہ بنا دیا ہے۔ وجعل لکھ فیما سبلا ً اور اس میں تمہارے لیے جگہ جگہ راستے بنا دیے ہیں ، جن کے ذریعے تم ایک خطے سے دوسرے خطرے کی طرف جاسکتے ہو ۔ اس زمین پر کہیں پہاڑ ہیں ، کہیں میدان ہیں ، کہیں جنگلات ہیں تو کہیں بڑے بڑے صحرا ہیں ۔ اسی زمین پر اللہ نے ندی نالے اور دریا بہا دیئے ہیں ۔ جن کے ذریعے تم زندگی کے مفادات حاصل کرتے اور ان میں سفر بھی کرتے ہو لعلکم تھتدون تا کہ تم راہ پائو ۔
بعث بعد الموت کی مثال
اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے بعث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے والذی نزل من السماء ماء بعدد اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان کی طرف سے ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی نازل فرمایا ۔ سماء کے مختلف معانی آتے ہیں ، بادلوں اور فضاء کو بھی آسمان کہا جاتا یہ ، عربی میں چھت پر بھی سماء کا لفظ بولا جاتا ہے اور اوپر کی طرف ہمیں جو نیلگوں پردہ نظر آتا ہے اس کو بھی آسمان کہا جاتا ہے ۔ بہر حال اللہ تعالیٰ اوپر فضاء سے بادلوں کی وساطت سے بارش کی صورت میں پانی نازل فرماتا ہے اور پھر اس عمل کے لیے عالم بالا کا حکم بھی شامل ہوتا ہے ، تو نزول رحمت ہوتا ہے ۔ فرمایا ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرما فانشرنا بد بلدۃ میتا پھر اس کے ذریعے ہم نے مردہ شہر یعنی مردہ زمین کو زندہ کیا ۔ بارش کی عدم موجودگی میں زمین خشک ہوجاتی ہے ۔ اس کی روئیدگی ختم ہوجاتی ہے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ بارش نازل فرماتا ہے تو زمین پھر سے زندہ ہوجاتی ہے ہمیں روئیدگی کی طاقت آجاتی ہے اور پھر اس میں پھل ، پھول ، پودے ، سبزیاں اور چارہ اور اناج پیدا ہوتے ہیں جن کے ذریعے انسان اور دیگر جاندار اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں ۔ ہر وہ زمین کی زندگی سے یہی مراد ہے کہ وہ سر سبز ہوجاتی ہے اور پیداوار دینے لگتی ہے۔
فرمایا جس طرح ہم پانی نازل فرما کر مردہ زمین کو حیات نو بخشتے ہیں کذلک نحرجون اسی طر ح تم نکالے جائو گے۔ مطلب یہ ہے کہ تم مر کر قبروں میں دفن ہوچکے ہو گے تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن تمہیں دوبارہ زندہ کر کے قبروں سے نکال لے گا ۔ جو ذات خداوندی خشک زمین میں پانی برسا کر سبزی پیدا کرسکتی ہے وہ مٹی میں مدفون مردوں کو بھی دوبارہ زندگی بخشنے اور واں سے نکالنے پر قادر ہے۔ یہ بات ایک طرف قدرت کی دلیل ہے تو دوسری طرف بعث بعد الموت اور جزائے عمل کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اس سے غافل نہ ہوجانا ۔ پھر فرمایا والذین خلق ازواج کلھا اللہ کی ذات وہ ہے جس نے سب کے سب جوے پیدا کیے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کی نشانی ہے کہ اس نے تمام جانداروں کو جوڑے جوڑے یعنی نر اور مادہ کی صورت میں پیدا کر کے ان کے اختلاط سے ان کی نسلوں کو آگے پھیلایا ہے ۔ جانداروں کے علاوہ پودے اور درخت بھی جوڑا جوڑا ہیں ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ نر کھجور کا بور جب مادہ کھجور کے درخت پر ڈالا جاتا ہے تو درخت پھل دینے لگتا ہے۔ جوڑا بایں معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کی ضد پیدا کی ہے جیسے سیاہی اور سفیدی ، نور اور ظلمت ، دنیا اور عقبیٰ ، نیکی اور بدی وغیرہ وغیرہ۔ بہر حال اللہ نے تفریق جنس یا تفریق نوح کو بھی اپنی قدرت کی نشانی بتلایا ہے۔
ذرائع نقل و حمل
انسان کی افادیت کے لیے ذرائع نقل و حمل بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی اور اس کے انعامات میں سے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے وجعل لکم من الفلک والانعام اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشتیاں اور جانور پیدا فرمائے ہیں ۔ نزول قرآن کے زمانہ میں ذرائع نقل و حمل صرف دو قسم کے تھے یعنی بحری اور بری اس آیت میں اللہ نے انہی دو ذرائع کا ذکر فرمایا ہے کہ بحری راستے سے سفر کے لیے تمہارے لیے کشتیاں بنائیں ۔ اس زمانے میں باد بانی کشتیاں چلتی تھیں جن کا ذکر اللہ نے قرآن کے مختلف مقامات پر کیا ہے۔ دریائوں اور سمندروں کی لہروں کو چیرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجانا بہت بڑی چیز تھا۔ کشتیوں کے بعد پھر سٹیمرآئے جو بھاپ سے چلتے تھے اور پھر تیل سے چلنے والے لاکھوں ٹن وزنی جہاز ایجاد ہوچکے ہیں اور شب و روز سطح آب پر رواں دواں ہیں ۔ اللہ نے اپنا یہ احسان جتلایا ہے کہ اس نے تمہارے لیے سمندری سفر کا بندوبست کردیا ۔ اگرچہ یہ کشتیاں اور جہاز انسانی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں مگر اس کے لیے مادی وسائل ازقسم لکڑی ، لوہا وغیرہ اللہ تعالیٰ کا ہی پیدا کردہ ہے ، اور انسان کے ذہن میں عقل و فہم اور شعور بھی اللہ نے ہی ڈالا تو وہ ان کو تیار کرسکے۔ اللہ نے فرمایا کہ زمینی سفر کے لیے ہم نے تمہارے لیے جانور پیدا فرما دیے ۔ ظاہر ہے کہ نزول قرآن کے زمانہ میں نجی یا تجارتی نقل و حمل جانوروں کے ذریعے ہی ہوتا تھا ، جن میں اونٹ ، گھوڑے ، گدھے اور خچر خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اونٹ کو تو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے ، جہاں وہ کئی کئی دن کچھ کھائے پئے بغیر سفر کرسکتا ہے۔ اگرچہ آج کے مشینی دور میں نقل و حمل کے لیے جانوروں کی افادیت قریباً قریباً ختم ہوچکی ہے ، تا ہم بعض علاقے آج بھی ایسے موجود ہیں ۔ جہاں سواری اور بار برداری کے لیے جانوروں سے ہی کام لیا جاتا ہے۔ بہر حال اللہ نے جانوروں کو پیدا کر کے انسان کی خدمت پر مامور کردیا ہے جو کہ نہ صرف ان کی خدمت بجا لاتے ہیں ، بلکہ بعض انسان کی خوراک بھی بنتے ہیں۔
سواری کی دعا
فرمایا ایک تو یہ جانور بار برداری کا کام دیتے ہیں اور ان کا دوسرا فائدہ یہ ہے ما ترکبون کہ تم ان پر سواری کرتے ہو ۔ لتستو علی ظھورہ تا کہ تم برابر ہو کر بیٹھو ان کی پشت پر ۔ ثم تذکروا نعمۃ ربکم پھر اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تمہارے لیے ان وحشی جانوروں کو مسخر کردیا ۔ فرمایا اذا ستویتم علیم جب تم ان جانوروں پر آرام سے سوار ہو جائو ۔ تو پھر اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرو و تقولو اور یوں کہو سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس سواری کو مسخر کردیا ، وگرنہ ہم تو اسے قابو کرنے والے نہیں تھے یعنی اس سواری پر تسلط حاصل کرنا ہمارے بس میں نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے اسے ہمارے لیے مسخر کردیا اس وقت تو جانوروں کی سواری کے متعلق اللہ نے یہ دعا سکھائی۔ اور حقیقت بھی ہے کہ اونٹ گھونٹ وغیرہ جیسے طاقتور اور خود سر جانوروں کو قابو کرنا انسانی استطاعت سے باہر ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت کے ساتھ ان جانوروں کی طبیعت میں یہ چیز ڈال دی ہے کہ وہ انسان کی خدمت پر مامور ہیں ، چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سو اونٹ کی ایک لمبی قطار کو دس سال کا بچہ جدھر چاہے ہانک کرلے جاتا ہے ، مگر وہ اف تک نہیں کرتے یہ اللہ کی مہربانی کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔
آج کے دور میں زمینی نقل و حمل گاڑیوں ، ٹرکوں ، ٹرالوں ، ویگنوں اور کاروں کے ذریعے ہوتی ہے ۔ بحری سفر کے لیے بڑے بڑے جہاز اور ہوائی نقل و حمل کے لیے تیز رفتار ہوائی جہاز استعمال ہو رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ مذکورہ دعا اگرچہ جانوروں کی سواری کے متعلق ہے تا ہم یہی دعا ہر قسم کی بری اور ہوائی سواریوں کے لیے بھی مفید ہے۔ البتہ بحری سفر کے لیے قرآن میں یہ دعامذکور ہے۔ بِسْمِ اللہ ِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَاط اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (ہود : 41) اللہ تعالیٰ کے اسم پاک کی برکت سے ہی اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے ، بیشک میرا پروردگار ، البتہ بڑا بخشش کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ بہر حال تمام سواریاں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے رواں دواں ہے۔ دنیا میں کتنے واقعات پیش آئے ہیں کہ راہ چلتے حوادثات پیش آجاتے ہیں اور اچھی بھلی سواریاں بےقابو سے باہر ہو کر جانی اور مالی نقصان کا باعث بن جاتی ہے ۔ موٹر کاروں ، ٹرکوں ، ٹرالیوں ، ریل گاڑیوں میں ٹکر ہوجاتی ہے۔ ہوائی جہاز تباہ ہوجاتے ہیں ۔ بڑے بڑے بحری جہاز ڈوب جاتے ہیں ، جب تک اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل حال نہ ہو انسان بالکل بےبس ہے۔ فرمایا وانا الی ربنا لمنفقلبون بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف ہی پھر کر جانے والے ہیں ۔ جس طرح اس دنیا میں لوگ ایک مقام سے دوسرے مقام تک ان سواریوں پر سفر کرتے ہیں ۔ اسی طرح ایک دن آنے والا ہے جب یہی انسان انسانی کندھوں پر سوار ہو کر قبرستان کی طرف جا رہا ہوگا ۔ اور وہ حقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہ مقررہ وقت پر سب کو اکٹھا کریگا اور پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئے گی ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس مادی سفر میں ساتھ ساتھ سفر آخرت کو بھی یاد رکھے اور اس کے لیے تیار کرے۔
Ayahs 43:15–25ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور خاص طور پر فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں ، پھر اللہ نے مشرکین کی اندھی تقلید کو بیان کر کے ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا ہے۔
خدا کے لیے اولاد کا عقیدہ
مشرکین کے شرک کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد مانتے تھے۔ اللہ نے فرمایا وجعلوا لہ من عبادہ جزء انہوں نے اللہ کے بندوں میں سے اس کے لیے ایک حصہ ٹھہرا لیا ہے۔ مرد اور عورتیں سب اللہ کے بندے ہیں ، مگر مشرکوں نے ان بندوں میں سے ایک حصہ یعنی عورتوں کو خدا تعالیٰ کی اولاد تسلیم کرلیا ہے اور اس طرح وہ کہتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں ادھر بعض دوسرے گروہوں نے مردوں کو خدا کا جزو تسلیم کرلیا ہے ، چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وَقَالَتِ الْیَھُودُ عُزَیْرُ نِابْنُ اللہ ِ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیحُ ابْنُ اللہ ِ (التوبۃ : 30) یہودی کہتے ہیں کہ حضرت عزیز (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں ۔ اسی طرح بعض دیگر مشرکین بھی مخلوق میں سے کسی نہ کسی کو خدا کی اولاد تسلیم کرتے ہیں ۔ فرمایا یہ بڑی بےادبی اور گستاخی کی بات ہے کہ خدا کی مخلوق میں سے اس کے لیے ایک حصہ تجویز کیا جائے۔ صاحب اولاد ہونا تو مخلوق کی صفت ہے ، جو چیز اجزاء سے مرکب ہوتی ہے۔ وہ حادث ہوتی ہے جب کہ خدا تعالیٰ کی ذات قدیم ہے۔ وہ بسیط ہے ، نہ کہ مرکب مرکب اور حادث ہونا تو عیب اور نقص کی نشانی ہے ، جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے۔ وہ حادث نہیں بلکہ قدیم ہے ، لہٰذا اس کے لیے اولاد کا عقیدہ رکھنا کسی طرح بھی اس کی شان رفیع کے لائق نہیں۔ وہ ازلی اور ابدی اور بنسیت سے پاک ہے۔ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان صرف خالق اور مخلوق ہونے کا تعلق ہے۔ والدیت اور مولودیت کا کوئی تعلق نہیں ۔ عقیدہ اولاد کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل ، سورة الصافات اور یہاں اگلی آیت میں بھی مشرکین کے اس عقیدے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں مانتے تھے ، حالانکہ فطرتا ً بیٹیاں بیٹوں سے کمزور ہوتی ہیں اور ان بد بختوں نے کمزور مخلوق کو اللہ کی طرف منسوب کیا ہے اور اعلیٰ مخلوق یعنی بیٹوں کو اپنے لیے پسند کیا ہے۔ فرمایا ان الانسان لکفور مبین انسان کس قدر کھلانا ناشکر گزار ہے۔
لڑکے اور لڑکیوں کی تقسیم
اسی جنس تقسیم کے متعلق اللہ نے یہاں ارشاد فرمایا ہے ام اتخذ ممایخلق بنت کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں ٹھہرالی ہیں واصفکم بالبنین اور تم کو بیٹیوں کے ساتھ چن لیا ہے ؟ اللہ نے استفامیہ انداز میں فرمایا ہے کہ تمہارے زعم کے مطابق کیا اللہ نے اپنے لیے کمزور مخلوق کو منتخب فرمایا ہے اور تمہیں تمہاری پسند کے مطاقبق بیٹوں کے لیے چن لیا ہے۔ یہ کس قدر بیوقوفی کی بات ہے۔ فرمایا ان کی پسند اور ناپسند کی حالت تو یہ ہے واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلاً اور جب ان مشرکوں میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کی انہوں نے خدائے رحمان کے ساتھ مثال بیان کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرک خود اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اسی بیٹی کی پیدائش کی خبر جب ان میں سے کسی شخص کو دی جاتی ہے ، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ظلل رجھہ مسود تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ اسے اس قدر تکلیف پہنچتی ہے کہ وہ اپنے لیے کسی بھی صورت میں بیٹی کو پسند کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا چناچہ وھو کظیم اور وہ غم واندوہ کی وجہ سے پیچ و تاب کھانے لگتا ہے اور اس کا جی گھٹ رہا ہوتا ہے۔ بعض مشرکین کی اس حالت کو اللہ نے سورة النحل میں بھی بیان فرمایا ہے وہاں بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ان میں سے جب کسی شخص کو بیٹی کی پیدائش کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور اس کا جی غم کی وجہ سے گھٹنے لگتا ہے۔ پھر وہ اس خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور دل میں سوچتا ہے۔ ایمس کہ علی ھون امریدسۃ فی التراب ( النحل : 59) کہ آیا وہ ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا اسے زمین میں زندہ گاڑھ دے ۔ یہ انسان کی کس قدر کم ظرفی اور حماقت ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے۔ وہ خدا کے لیے تجویز کرنے سے نہیں شرماتا بعض مشرکین کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بیٹی کی پیدائش کی خبر سن کر گھر سے ہی بھاگ جاتے تھے چناچہ اس قسم کا ایک واقعہ امام جافظ نے اپنی کتاب البیان والبیین میں بھی نقل کیا ہے۔ جب کسی عورت کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی اور اس کا خاوند گھر چھوڑ کر بھاگ گیا تو وہ کہنے لگی۔
مالا بی حمزۃ لا یا تینا نبی ت فی بیت التی تلینا نضبان ان لا نلد البنینا تا الہ ما ذلک بانید ینا نحن کزرع لما قد زرعوا فینا
ابی حمزہ کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ گھر نہیں آتا بلکہ اپنے پڑوسی کے ہاں راتیں بسر کرتا ہے۔
وہ اس بات سے ناراض ہے کہ ہم بیٹے نہیں جنتیں ۔ اللہ کی قسم یہ تو ہمارے اختیار میں نہیں ہے ہماری مثال تو ایک کھیتی کی ہے کہ اس جیسا بیج ڈالا جاتا ہے ویسی اس کی پیداوار ہوجاتی ہے۔
اللہ نے فرمایا اومن ینشوء ا فی الحلیم بھلا وہ مخلوق ( یعنی بیٹی) جس کو زیور میں نشونما دی جاتی ہے۔ وھو فی الخصام غیر مبین اور وہ جھگڑے (یعنی بات چیت) میں بھی غیر واضح ہوتی ہے۔ اللہ نے عورت کے متعلق فرمایا ہے کہ عام طور پر لڑکیوں کی پرورش زیورات میں ہوتی ہے یعنی ان کو سونے چاندی کے زیورات پہنائے جاتے ہیں ۔ جو ان کے لیے حلال اور لڑکوں کے لیے حرام ہیں اور لڑکیاں بات چیت کرنے میں بھی عام طور پر لڑکوں کی نسبت کمزور واقع ہوتی ہیں ۔ اگرچہ استثنائی طور پر بعض لڑکیاں بھی گفت و شنید میں تیز طرز ہوتی ہیں مگر عام طور پر ان کی حالت یہی ہے کہ وہ نہ تو مشقت کے کام انجام دے سکتی ہیں اور نہ بات چیت میں زیادہ چالاک ہوتی ہیں بلکہ وہ بعض اوقات اعصابی دبائو کا شکار ہو کر بات چیت میں صریح نہیں رہتیں کیونکہ ان کا نروس سسٹم کمزور ہوتا ہے۔ نئے نئے کپڑے ، زیورات اور بنائو سنگھارعورتیں فطری طور پر پسند کرتی ہیں ۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ کو زخم آ گیا ۔ حضور ﷺ نے خود زخم صاف کیا اور فرمایا کہ اگر یہ بیٹی ہوتی تو ہم اس کو زیور پہناتے ۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کے لیے زیور پہننا جائز ہے۔ تا ہم عورتوں کا فیشن اور بنائو سنگھار میں زیادہ انہماک تباہ کن ہے۔ صدر ایوب مرحوم کے زمانہ میں اسمبلی کی ایک خاتون ممبر کے متعلق اخبارات میں آتا تھا کہ وہ تیس دن کے اسمبلی سیشن میں ہر روز نیا لباس پہن کر شامل ہوتی رہی ۔ گویا اس کو کوئی دوسرا کام ہی نہیں تھا ، بہر حال عورتوں کی اس کمزوری کا ذکر اللہ نے کیا ہے کہ ایک تو وہ زیورات کی دلدادہ ہوتی ہیں اور دوسرے مرد کی نسبت صریح گفتگو بھی نہیں کرسکتیں ۔ مگر مشرکوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایسی کمزور مخلوق کی نسبت تو اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور خود اپنے لیے لڑکے پسند کرتے ہیں۔
فرشتوں کے متعلق غلط عقیدہ
اللہ نے فرمایا کہ مشرکوں نے فرشتوں کے متعلق بھی کتنا غلط عقیدہ بنا رکھا ہے وجعلوا الملکئۃ الذین ھم عبد الرحمن ناتا ان بدبختوں نے اللہ کے بندوں فرشتوں کو عورتیں بنا رکھا ہے ۔ کہتے ہیں الملئکۃ بنات اللہ یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، حالانکہ وہ تو اللہ کے مقرب بندے ہیں ۔ رفشتے میں تذکیرہ و تانیث والی کوئی بات نہیں تا ہم انہیں احتراما ًتصور کیا جاتا ہے۔ ان کو عورت کہنے میں تو بڑی گستاخی ہے۔ فرمایا یہ فرشتوں کو عورتیں سمجھتے ہیں ۔ اشھدوا خلقنھم کیا یہ لوگ فرشتوں کی تخلیق کے وقت موجود تھے جو یہ تذکیر و تانیث کا علم رکھتے ہیں ۔ فرمایا ستکتب شھادتھم ویسئلون ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور پھر ان سے باز پرس بھی ہوگی کہ انہوں نے ایسا غلط دعویٰ کیا اور خدا تعالیٰ کے لیے اولاد کیوں تجویز کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نہ تو کوئی حقیقی اولاد ہے نہ ہی مجازی کہ جس کو اس نے اختیار دے دیا ہو کہ لوگوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے پھریں ، عیسائیوں کا ابن اللہ والا عقیدہ بھی باطل ہے اور مشرکوں کا خدا کے لیے بیٹیاں تجویز کرنا بھی سخت گستاخی ہے۔
عبادت بغیر اللہ کی غلط تاویل
اگلی آیت کریمہ میں اللہ نے مشرکوں کی ایک بیہودہ دلیل کا رد فرمایا ہے۔ وقالو لو شاء الرحمن ما عبد نھم انہوں نے کہا کہ اگر خدا نے رحمان چاہتا تو ہم ان معبود ان باطلہ کی عبادت نہ کرتے ، گویا وہ خدا کے کہنے پر ایسا کر رہے ہیں ۔ دراصل ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر غیر اللہ کی نذر و نیاز ، ان کی حددرجہ تعظیم یا ان کے سامنے سجدہ ریزی اتنی ہی معیوب ہے تو پھر اللہ تعالیٰ انہیں اس کام سے زبردستی روک کیوں نہیں دیتا اگر وہ روکتان ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اچھا کام ہے۔ فرمایا ان کے اس زعم باطل کے متعلقمالھم بذلک من علم انہیں کچھ بھی علم نہیں ۔ ان ھم الایخرضون ان کی یہ ساری دلیل بازی محض اٹکل پچو باتیں ہیں ، ان میں کوئی صداقت نہیں بلکہ یہ خود اللہ تعالیٰ پر اتہام کے مترادف ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو برائی سے زبردستی نہیں روکتا کیونکہ زبردستی روکنا اس کے بنیادی اصول کے خلاف ہے ۔ اس نے دنیا میں انسانوں کو بھیج کر ان کے سامنے نیکی اور برائی کے راستے انبیاء اور کتابوں کے ذریعے واضح کردیے اور پھر انسانوں کو اختیار دے دیا ۔ فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ( الکہف : 29) اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا راستہ اختیار کرے۔ انسان اپنے لیے جو بھی راستہ پسند کریگا ۔ نولہ ما تولی ونصلہ جنت ( النسائ : 115) پھر اگر وہ برائی کے راستے پر چل نکلے گا تو ہم اسی طرف کی توفیقدے دیں گے اور آگے اس کے لیے جہنم بھی تیار ہے جو کہ بہت براٹھکانہ ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مشرکین نے غیر اللہ کی عبادت کا وطیرہ بنا رکھا ہے اور پھر یہ باطل تاویل بھی پیش کرتے ہیں کہ اللہ کی رضا اسی میں ہے ورنہ وہ ہمیں ایسا کرنے سے روک دیتا ۔ فرمایا ان کی اس باطل تاویل کے لیے ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟ ام تینھم کتبا من قبلہ کیا اس سے پہلے ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی تھی جس میں غیر اللہ کی عبادت کو جائز قرار دیا گیا ہے ۔ فھم بہ متمکون اور وہ اسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے ہوئے ہیں ۔ مقصد یہ کہ ہم نے تو ان کے پاس ایسی کوئی کتاب یا حکم نہیں بھیجا جس میں غیروں کی عبادت کو جائز قرار دیا گیا ہو ۔ یہ ان کا اپنا ہی زعم باطل ہے۔
ابائو اجداد کی اندھی تقلید
فرمایا ان کے مشرکانہ عقائد و اعمال کی کوئی معقول دلیل تو نہیں ہے سوائے اس کے بل قالوا انا فجدنا اباء نا علی امتروانا علی اتابھم مھتدون کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر راہ پانے والے ہیں ۔ جس قسم کے عقائد وہ رکھتے تھے اور جونسی رسوم وہ ادا کرتے تھے۔ ہم بھی اس طرح کر رہے ہیں ۔ یہی اندھی تقلید ہے کہ بغیر سوچے سمجھے باپ دادا کے دین کو اختیار کیا جائے ۔ جس کی قرآن نے بار بار تردید کی ہے۔ حتیٰ کہ فرمایا اولو کان ابائو ھم لا یعقلون شیئا ً ولا یھتدون ( البقرہ : 170) اگرچہ ان کے آبائو اجداد عقل سے بےبہرہ اور غیر ہدایت یافتہ ہوں تو پھر یہ انہی کے نقش قدم پرچلیں گے ؟ یہ تو سخت حماقت کی بات ہے ۔ ہاں اگر آبائو اجدا راست پر ہوں تو پھر ان کی تقلید قابل فخر بات ہے جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ وَاتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَآئِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ (یوسف : 37 ، 38) میں نے اس قوم کے طریقے کو ترک کردیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے کی بجائے انکار کرتے ہیں اور میں نے اپنے آبائو اجداد حضرت ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت ، دین یا طریقے کا اتباع کیا ہے۔ فرمایا وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا نہیں بھیجا الا قال مترفوھا مگر یہ کہ اس بستی کے آسودہ حال لوگوں نے یہی کہا انا وجدنا اباء نا علی امۃ کہ ہم نے اپنے آبائواجداد کو ایک طریقے پر پایا وانا علی اثارھم مقتدون اور ہم تو انہی کے نقش قدم پر اقتدا کرنے والے ہیں ہم تو انہی قدیم رسم و رواج پر ہی کار بند رہیں گے ہم کسی نئے دین کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مشرکین کی اس ہٹ دھرمی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائو کم کیا اگر میں اس سے زیادہ ہدایت والی چیز تمہارے لیے آئوں جس پر تم نے اپنے ابائو اجداد کو پایا ہے ، تو کیا پھر بھی تم لکیر کے فقیر ہی رہو گے اور اپنے گمراہ باپ دادا کے دین پر ہی چلتے رہو گے ؟ اس کے جواب میں قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون مشرک کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری لائی ہوئی چیز یعنی دین کو ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس کا صریح انکار کرتے ہیں ۔ ہم تو اپنے آبائواجداد کے نقش قدم پر ہی چلتے رہیں گے۔
انجام کار
اللہ نے فرمایا کہ جب کفار و مشرکین کی سر کشی حد سے بڑھ گئی فانتقمنا منھم پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا ۔ انتقام کی مختلف صورتیں رہی ہیں کبھی اللہ نے انبیاء کو جہاد کا حکم دے کر کفار و مشرکین کی بیخ کنی کی اور کبھی کوئی آسمانی آفت از قسم سیلاب ، طوفان ، مسخ چیخ یا خسف کے ذریعے ایسی نافرمان قوموں کو ہلاک کیا اللہ تعالیٰ کسی سر کش کو انتقال لیے بغیر نہیں چھوڑتا ۔ انہیں دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور پھر برزخ اور آخرت کا عذاب تو بہر حال ان کے مقدر میں ہے ۔ فرمایا پھر ہم نے ان سے انتقام لیا فانظر کیف کان عاقبۃ المکذبین پھر دیکھو ان جھٹلانے والوں کا کیا عبرتناک انجام ہوا۔ ایسے ناہنجار لوگ ذلت ناک سزائوں میں مبتلا ہو کر صفحہ ہستی سے ناپید ہوگئے ۔ اللہ نے جستہ جستہ ایسی قوموں کا حال قرآن میں بھی بیان کردیا ہے اور بہت سے واقعات تاریخ کے اوراق میں بھی محفوظ ہیں۔