Ayahs 43:26–30ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی مذمت بیان فرمائی جو اپنے آبائواجداد کے طریقے پر چلتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر ہی چلیں گے اگرچہ خدا کا نبی حق بات لے کر آیا ہو۔ اپنے آبائو اجدا کے رسم و رواج کو بغیر دلیل اور بغیر سوچے سمجھے اپنانا اندھی تقلید کہلاتا ہے جو نزول قرآن کے زمانے کے مشرک اختیار کیے ہوئے تھے۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا اظہار بیزاری
اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی توجہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ کی طرف دلائی ہ۔ اور یاد دلایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی اسحاق اور بنی اسماعیل یعنی یہود و نصاری اور مشرکین عرب سب کے جد امجد ہیں ۔ اگر تم نے اپنے آبائو اجداد ہی کی پیروی کرنی ہے تو پھر ان کا طریقہ اختیار کرو جو کہ بالکل درست ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات اللہ نے بہت سی سورتوں میں بیان فرمائے ہیں جن میں آپ کے نام کی صراحت کی گئی ہے اور سورة الانعام میں تو آپ کے باپ کا نام آزر بھی ظاہر کیا گیا ہے واذا قال ابراہیم …… (آیت 75) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا ، کیا تم نے اس کو معبود بنا رکھا ہے ؟ میں تجھے اور تیری قوم کو سخت گمراہی میں پاتا ہوں ۔ البتہ تو میں آپ کا نام تاریخ ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کوئی تعارض کی بات نہیں بلکہ آزر اور تاریخ ایک شخصیت کے دو نام ہیں ۔ آزر و نام ہے اور تاریخ لقب یا تاریخ نام ہے اور آزر لقب بہر حال آپ آشوریوں اور فلدانیوں کے دارالخلافہ ستر مربع میل پر پھیلے ہوئے شہر بابل کے ایک مقام اور میں پیدا ہوئے اور وہیں آپ نے نشونما پائی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت نبوت کے لیے منتخب کیا اور فرمایا ولقد اتینا ابراہیم اشدہ ( الانبیائ : 51) اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سمجھ عطا فرمائی ، نیز اللہ نے آپ پر یہ احسان بھی فرمایا وکذلک نری ابراہیم لم ملدنرت الستقت والارض ( الانعام : 76) یعنی آپ کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مشاہدہ کرایا آپ کی ساری قوم ستارہ پرستی کی لعنت میں مبتلا تھی ۔ یہ صابی دور تھا پھر اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر دور حنیفیت کا آغاز کیا ، چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے حنیف ہونے یعنی ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا اعلان فرمایا ۔ آپ نے اپنی حنیفیت کا آغاز باپ اور قوم کے سامنے اس طرح کیا ، واذ قال ابراہیم لابینہ وقومہ اور جب کہ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے اننی براء مماتعبدون میں ان چیزوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کی تم پوجا کرتے ہو ۔ یعنی میں تمہارے ان لکڑی ، پتھر اور مٹی کے بنائے ہوئے بتوں کو ہرگز معبود تسلیم نہیں کرتا ۔ میرا معبود بر حق تو وہ ہے الا الذی فطرنی جس نے مجھے پیدا کیا ، جو میرا خالق ، مالک ، مدبر اور متصرف ہے۔ فانہ سیھدین اور وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔ برء کا اطلاق مفرد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے مطلب یہ کہ میں تمہارے ہر مزعومہ باطل معبود سے برأت کا اعلان کرتا ہوں اور ان میں سے کسی کو بھی الوہیت کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ۔ آپ کی طرف سے اس بیزاری کی تفصیل اللہ نے سورة الممتحنہ میں اس طرح بیان فرمائی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں نے اپنی قوم سے یوں کہا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے ، ماسوائے اللہ تعالیٰ کے ، مکمل بیزاری کا اعلان کرتے ہیں ۔ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضا ابداء حتی تومنوا باللہ وحدہ ( آیت : 4) ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض کی ایک دیوار کھڑی ہوچکی ہے۔ جب تک تم اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان نہ لے آئو یہ دیوار ہٹ نہیں سکتی ۔ مطلب یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) عقیدہ توحید ڈٹ گئے اور باپ اور قوم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ یہ تھا آپ کا معبود ان باطلہ سے اظہار بیزاری۔
تمام ادیان سے مکمل برأت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس اعلان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی شخص کا اللہ تعالیٰ ، اس کی صفات ، تقدیر ، ملائکہ ، انبیاء اور کتب سماویہ پر ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا ۔ جب تک وہ اپنے سابقہ باطل دین سے مکمل بیزاری کا اظہار نہیں کرتا ۔ بلکہ تمام ادیان باطلہ سے بیزاری کا اعلان ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص ایمان لانے کے باوجود باطل دین سے اظہار برأت نہیں کرتا تو وہ مومن نہیں کہلا سکتا ، بلکہ جب سابق کافر اور مشرک ہی رہے گا ۔ ابو طالب کہتا تھا کہ محمد ﷺ میرا بھیجتا ہے ، اس کا دین سچا ہے مگر اس نے اپنے دین سے اظہار بیزاری نہ کیا لہٰذا مشرک کا مشرک ہی رہا ۔ ہمارے دور میں بھی بعض لوگ ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے دین اسلام کی حقانیت کا اقرار تو کیا مگر دوسرے ادیان سے بیزاری کا اعلان نہ کیا بلکہ ان کو بھی سچا مانتے رہے اور اس طرح وہ دین حق سے بےبہرہ ہی رہے۔ برطانیہ کا برنائو شا بہت بڑا منصف فلسفی اور ڈرامہ نگار حال ہی میں گزرا ہے وہ اسلام کو سچا مذہب تسلیم کرتا تھا مگر ساتھ ساتھ عیسائیت کا بھی قائل تھا اور اس سے بیزاری کا اعلان نہیں کرتا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسا آدمی مومن نہیں ہو سکتا ۔ برصغیر کے ہندوئوں میں گاندھی مشہور و معروف آدمی ہوا ہے۔ وہ یہودیت ، عیسائیت ، اسلام اور ہندو مت سب کو سچے دین مانتا تھا اور عبادت کے وقت سب سے پہلے سورة فاتحہ کی تلاوت کراتا ، پھر تورات اور انجیل پڑھواتا اور ساتھ ساتھ گیتا کے شکوک بھی پڑھواتا تھا ۔ ایسا شخص مومن نہیں ہو سکتا کیونکہ اسلام کی حقانیت کے ساتھ اس نے دیگر ادیان کی نفی نہیں کی ، چناچہ کلمہ میں تبرات من الکفر والشرک یعنی کفر سے بیزاری کا اعلان ضروری ہے۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔ الغرض ! ابراہیم علیہ السلا م نے اسی چیز کا اقرار کیا کہ اے میرے باپ اور اے میری قوم ! جن کی تم عبادت کرتے ہو ، میں نا سے بیزار ہوں میں تو ضرور اس کی ذات کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ طبقات ابن سعد میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی اعلان حق کی پاداش میں سات سال تک قید خانہ کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اپنے مسلک سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے اس کے بعد آپ کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا حتیٰ کہ آپ کو دہکتی ہوئی آگ میں زندہ پھینک دیا گیا مگر آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی اور اللہ نے وہاں بھی آپ کی حفاظت فرمائی ۔ پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے بسر و چشم حکم کی تعمیل کی ینصر کی صعوبتیں برداشت کیں اور کئی آزمائشوں سے گزرے ، اللہ نے ہر آزمائش میں آپ کو ثابت قدم پایا ، اور بالآخر اعلان فرمایا قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا (البقرہ : 124) میں نے تمہیں لوگوں کا پیشوا بنا دیا ہے۔ آنے والی تمام نسلیں تمہیں اپنا مقتداء تسلیم کریں گی ، چناچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ یہودی ہوں یا عیسائی یا مسلمان سارے کے سارے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپناپیشوا تصور کرتے ہیں ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اہل کتاب نے آپ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ آسمانی کتابوں میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں مگر وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی امامت کے بدستور قابل ہیں۔
اولاد کے لیے دعا
شرک اور کفر سے بیزاری کے ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) نے جس ایمان اور توحید کی دعوت دی تھی اس کے متعلق فرمایا وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ اور کردیا اس کو ایک کلمہ باقی رہنے والا اپنی اولاد میں مطلب یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کلمہ توحید کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا۔ بلکہ اسے اپنی اولاد میں بھی جاری کردیا ، چناچہ ہم دیکھتے ہیں وَوَصّٰی بِہَآ اِبْرٰہٖمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُ (البقرہ : 132) کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے پوتے یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہی تاکید کی تھی کہ اللہ نے تمہیں دین اسلام کے لیے چن لیا ہے لہٰذا تمہیں صرف اسلام کی حالت میں ہی موت آنی چاہئے ۔ زندگی بھر کسی دوسرے دین کی پیروی نہ کرنا ۔ پھر جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کر کے پوچھا ما تعبدون من بعدی ( البقرہ : 123) کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو سب نے بیک زبان کہا قالوا نعبدالھم والہ ابائک ابراہیم واسماعیل واسحق الھا واحد ( البقرہ : 23) کہ ہم آپ کے اور آپ کے آبائو اجداد ابراہیم ، اسماعیل اور اسحاق (علیہم السلام) کے اکیلے خدا کی عبادت کریں گے۔ اس طرح گویا انہوں نے کلمہ توحید اپنی اولاد میں راسخ کردیا ۔ حصرت ابراہیم (علیہ السلام) نے رب العزت کی بارگاہ میں یہ دعا بھی کی تھی کہ پروردگار ! اس شہر مکہ کو پر امن بنا دے واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( ابراہیم : 35) اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچانانیز واجعل لی لسان صدق فی الاخرین ( الشعرائ : 84) اور میرے لیے پچھلوں میں سچی زبان رکھ دے ، یعنی میرے بعد آنے والے میرا تذکرہ اچھے الفاظ میں کریں اور میرے اسوہ کو پیش نظر رکھیں۔ یہاں عقبہ کا لفظ اس امر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ہر مومن کو اپنی اولاد کی فکر بھی کرنی چاہئے کہ وہ بھی دین حق پر قائم رہے اور کہیں کفر و شرک میں مبتلا نہ ہوجائے۔ شیخ عبد الوہاب شعرانی فرماتے ہیں کہ والدین کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ اولاد کے لیے دعا کا التزام کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دین توحید پر استقامت بخشے ۔ سورة التحریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یٰٓـاَیَّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ (آیت : 6) اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو یعنی ان کو ایمان پر مضبوط رہنے کی تلقین کرتے رہو۔ شاہ عبد القادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو دین حق کی تلقین کرتا رہے خواہ اس لیے لالچ دینا پڑے پیار کرنا پڑے یا سزا دینی پڑے ۔ اگر بیوی بچے حتی الامکان کوشش کے باوجود راہ راست پر نہیں آتے تو یہ انکی بد نصیبی ہوگی اور متعلقہ شخص بری الذمہ ہوگا ۔
بہر حال فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کلمہ توحیدکو اپنی اولاد میں باقی چھوڑالعلمھم یرجعون تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ کر کے کفارو مشرکین کو یہ بات سمجھائی ہے کہ اگر تم نے آبائو اجداد کے نقش قدم پر ہی چلنا ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اسوہ اختیار کرو جو تم سب کے جد امجد ہیں اور ان کے طریقے کے خلاف ان بتوں کی پوجا نہ کرو۔
دین حق سے انکار
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے ان لوگوں کو شکوہ بیان کیا ہے جنہوں نے دین حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان جتلایا ہے بل محتحت ھولاء واباء ھم بلکہ میں نے فائدہ پہنچایا ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو ، ان پر بڑے انعامات کیے ہر قسم کی سہولت دی حتی جاء ھم والحق ورسولہ مبین یہاں تک کہ ان کے پاس دین حق اور کھول کر بیان کرنے والا رسول آ گیا ۔ اس رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں جو اللہ کا سچا دین لے کر ان کے پاس آئے مگر ان بد بختوں نے آپ کی اور اللہ کے سچے دین کی قدر نہ کی اور کفر و شرک پر ہی اڑے رہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو عربوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا ، چناچہ آپ کے بعد آپ کی اولاد تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک سچے دین پر قائم رہی ، پھر عربوں کی بد قسمتی کہ قصی ابن کلاب کے زمانہ میں یعنی حضور ﷺ کی بعثت سے چار پانچ سو سال پہلے عربوں میں شرک کی ابتداء ہوئی اور پھر نزول قرآن کے زمانہ تک ہر گھر کفر و شرک کا گڑھ بن چکا تھا۔ ہزاروں میں کوئی اکا دکا آدمی ہوگا ۔ جو صحیح دین پر قائم رہا ہو ، وگرنہ سب کے سب دین ابراہیم سے دور جا چکے تھے ، تو فرمایا ولما جاء ھم الحق جب اللہ کا آخری نبی ان کے پاس حق بات لے کر آ گیا ۔ اس نے خالص توحید پیش کی اور بتوں کی پوجا سے منع کیا تو انہوں نے آپ کو تسلیم کرنے کی بجائے آپ کو ساحر ، کاہن ، شاعر ، مفتری اور کذاب جیسے القابات دیے ۔ قرآن پاک کی تاثیر سے انکار تو نہیں کرسکتے تھے۔ جب اس کی حلاوت و شیرینی ان پر اثر انداز ہوتی تو اس کی حقانیت کو تسلیم کرنے کی بجائے قالوا ھذا سحر کہنے لگے یہ تو جادو ہے جو ہم پر اثر انداز ہورہا ہے سورة القمر میں ہے کہ جب وہ واضح نشانیاں اور معجزات دیکھتے تو ان سے اعراض کرتے ویقولو سخر مستقمر ( آیت : 2) کہ کہتے کہ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے ، جو پہلے بھی چلتا تھا اور آج بھی چل رہا ہے ، غرضیکہ انہوں نے دین حق کو جادو قرار دیتے ہوئے واضح طور پر کہہ دیا وانا بہ کفرون کہ بیشک ہم تو اس کا صریح انکار کرتے ہیں یعنی تمہارے پیش کردہ دین کو قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں بلکہ اپنے آبائواجداد کے کفریہ اور شرکیہ عقائد و اعمال پر جی قائم رہیں گے ۔ اس کے باوجود جن لوگوں کی قسمت میں تھا۔ انہوں نے دین حق کو قبول کیا ، سابقہ عقائد و اعمال سے تائب ہوگئے اور اس طرح دنیا اور آخرت دونوں مقامات پر کامیاب ہوئے۔
Ayahs 43:31–32ربط آیات
اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کفریہ اور شرکیہ رسوم کا رد فرمایا جو کافر اور مشرک اپنے آبائو اجداد کی اندھی تقلید میں انجام دیتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ آبائواجداد کی تقلید ہی کرنی ہے تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اختیار کرو جو تم سب کے جد امجد ہیں ۔ انہوں نے تو اپنے باپ اور قوم سے صاف کہہ دیا تھا کہ میں ان چیزوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ۔ جن کی تم پوجا کرتے ہو ، سوائے اس ذات خداوندی کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی میری ہنمائی کرتا ہے اس کے علاوہ میں کسی ہستی کو معبودتسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ، پھر اس کلمہ توحید اور برات کو انہوں نے اپنی اولاد میں بھی چھوڑا ، تا کہ وہ رجوع کرتے رہیں مگر ان لوگوں کی بد بختی کہ آہستہ آہستہ ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کو بھول کر کفر اور شرک میں مبتلا ہوگئے ، حتیٰ کہ جب اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے تو ان کا انکار کردیا چونکہ آپ کا لایا ہوا کلام ان پر اثر کرتا تھا لہٰذا انہوں نے اس کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے جادو کہہ کر ٹھکرا دیا ۔
نبوت و رسالت کا معیار
کفار و مشرکین نے نبوت و رسالت کا ایک خود ساختہ معیار یہ قائم کر رکھا تھا کہ یہ منصب کسی ایسے شخص کو ملنا چاہئے جو دنیاوی لحاظ سے آسودہ حال ہو ، اس کے پاس مال و دولت ، کوٹھی ، باغات ، نوکر چاکر اور مال مویشی کی بہتات ہونی چاہئے ۔ وہ بہت بڑا آدمی ہو جسے معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہو ، مگر جب حضور علیہ لصلوٰۃ والسلام جیسے دنیاوی لحاظ سے کمزور آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھ پر یہ قرآن پاک نازل ہوتا ہے تو وہ لوگ کہنے لگے وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجلہ من القریتین عظیم یہ قرآن مکہ اور ظائف کی دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا ۔ بڑے آدمی سے ان کی مراد وہی دنیا کا جاہ و حشمت ، مال و دولت ، باغات و تجارت ، مویشی اور غلام تھے ۔ اس معیار کے لوگ مکہ میں ولید ابن مغیر ، عتبہ اور شیبہ وغیرہ تھے اور طائف میں ابن عبد یا لیل عروۃ ابن مسعود اور حبیب وغیرہ تھے جو بڑی حیثیت کے مالک سمجھے تھے جاتے تھے۔ کہنے لگے اگر قرآن نازل ہوتا تھا تو ان میں سے کسی سردار پر کیوں نہ نازل ہوا ، کیا اس کام کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ دنیا کے مترف یعنی آسودہ حال لوگوں کا ذہن اسی طرح کام کرتا رہا ہے اور انہوں نے ہمیشہ انبیاء (علیہم السلام) کو حقیر سمجھ کر ہی ان کی نبوت کا انکار کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ نبوت و رسالت کسی کو اس کی خواہش اور اختیار سے نہیں ملتی اور نہ ہی یہ عبادت و ریاضت سے حاصل ہوتی ہے بلکہ یہ خالصتا ً اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کی منشاء سے عطا ہوتی ہے اور پھر جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب پڑتی ہے۔ وَ اِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ (ص : 47) اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برگزیدہ اور منتخب لوگ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ انتخاب مال و دولت یا جاہ و حشمت کی بناء پر نہیں ہوتا ، بلکہ ذہن فکر ، قومی ، اعمال اور اخلاق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کے پاس وحی الٰہی کا قطعی اور یقینی علم ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ تما م علوم مخص تخمینی اور ظنی ہوتے ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی علم کی بنیاد عقل یا تجربہ پر تو ہو سکتی ہے مگر اسے یقینی نہیں کہہ سکتے کیونکہ یقینی علم صرف وحی الٰہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے نبی معصوم عن الخطا ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت بحیثیت رسول فرض عین ہوتی ہے اسی لیے اللہ کے ہر نبی اور رسول نے قوم سے کہا اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ فَاتَّقُوا اللہ وَاَطِیْعُوْنِ (الشعرائ : 125 ، 146) اے لوگو ! میں تمہارے لیے امانت دار رسول بن کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈر جائو اور میری اطاعت کرو ۔ انبیاء (علیہم السلام) کی تربیت عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ وہ امت کے لیے نمونہ ہوتے ہیں ۔ اگر ان سے کوئی لغزش سر زدہو جائے تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی اصلاح کردیتا ہے۔ ان کو خدا تعالیٰ کا تقریب حاصل ہوتا ہے کیونکہ نبوت سے بڑھ کر کوئی منصب نہیں ہے ، مگر کافر ، مشرک اور دنیا دار لوگ انہیں دنیا کے معیار پر پرکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ۔ معزز وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس دنیا کا مالک و زر زیادہ ہو حالانکہ اللہ کے ہاں عزت کا معیار ان اکرامکم عند اللہ انفسکم ( الحجرات : 13) ان کا تقویٰ ہے ۔ کفار و مشرکین نے اپنے اس غلط معیار کی بنیاد پر ہی اللہ کے نبیوں کو حقیر سمجھا ، جیسا کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مہین یعنی حقیر کہا ۔ اللہ نے فرمایا یہ لوگ ہمارے بر گزیدہ نبی اور رسول کی رسالت پر شک کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ منصب کسی بڑے آدمی کے حصے میں کیوں نہ آیا اھم یقسمون رحمت ربک کیا تیرے رب کی رحمت یعنی نبوت و رسالت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں کہ یہ منصب اس شخص کے حصے میں آئے جو ان کے مزعومہ معیار پر پورا اترتا ہو ؟ فرمایا ہرگز نہیں ، نبوت کا تاج اللہ تعالیٰ اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق جس کو اہل سمجھتے ہیں اس کے سر پر رکھ دیتے ہیں ۔ اس میں کسی مخلوق کا کوئی دخل نہیں ہوتا ، لہٰذا کفار و مشرکین کا یہ اعتراض باطل ہے کہ قرآن حکیم کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل ہوا۔
تقسیم معیشت
اگلے حصہ میں آیت میں اللہ نے معیشت کی تقسیم کو نبوت و رسالت کی تقسیم کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے ، فرمایا یہ لوگ تقسیم نبوت اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہتے ہیں حالانکہ نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا ان کے درمیان ہم نے دنیا کی معیشت بھی خود تقسیم کی ہے۔ ہم نے ہر شخص کو اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق رزق تقسیم کیا ہے اور سب کو یکساں نہیں رکھا بلکہ ورفعنا بعضھم فوق بعض درجیت ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے۔ نبوت کی تقسیم تو دور کی بات ہے اگر دنیا کی معیشت ہی ہم ان کے قبضہ میں دے دیتے تو یہ سب کچھ اپنے حواریوں اور اقربا میں تقسیم کردیتے اور کسی دوسرے آدمی کو پانی کا ایک گھونٹ تک نہ دیتے۔
اگرچہ آیت کا یہ ٹکڑا نبوت و رسالت کی دلیل کے طور پر نازل ہوا ہے تاہم اس سے دنیا کے اقتصادی یا معاشی نظام کے خدو خال بھی واضح ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام چل رہے ہیں ، ایک سرمایہ دارانہ نظام ہے جو امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور پاک و ہند وغیرہ میں رائج ہے اور دوسرا اشتراکی نظام ہے جو روس اور اس کے حواری ممالک میں چل رہا ہے۔ اسلام کے نزدیک یہ دونوں نظام ہائے معیشت باطل ہیں اور صحیح اور منصفانہ نظام وہی ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور جس پر عہد رسالت اور خلفائے راشدین ؓ کے زمانہ میں عمل ہوتا رہا ہے۔ وسائل معیشت تین قسم کے ہیں یعنی (1) زمین (2) سرمایہ اور (3) محنت سرمایہ داروں کا نظریہ یہ ہے کہ اصل چیز سرمایہ ہے ۔ یہ ہوگا تو کارخانے لگیں گے مزدور کام کریں گے۔ تو روزی کا سامان مہیا ہوگا ۔ اس کے بر خلاف اشتراکی نظریات کے حاملین کہتے ہیں کہ اصل چیز محنت ہے ۔ محنت کے ذریعے ہی سرمایہ حاصل ہوتا ہے ، لہٰذا مزدور کو فوقیت حاصل ہونی چاہئے۔ سرمایہ دارانہ نظام حضرت نوح علیہ اللام کے زمانہ سے چلا آ رہا ہے اور ” زررازرمی کشد “ کے مقولے کے مطابق سرمایہ دار خوب سرمایہ کما رہے ہیں ، وہ امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں جب کہ غریب بیچارے پستے چلے جا رہے ہیں ۔ اس نظام میں سرمایہ کے کسب اور اس کے تصرف پر کوئی پابندی نہیں ، ہر شخص اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر ہر حلال و حرام ذرائع سے مال اکٹھا کرسکتا ہے اور پھر اسے اپنی خواہش کے مطابق ہر جائز و ناجائز کام میں صرف کرسکتا ہے ، گویا کسب اور انفاق میں اس پر کوئی پابندی نہیں۔ دوسری طرف اشتراکی نظام معیشت ہے جس کا آغاز پہلی جنت عظیم کے موقع پرہ ہوا ۔ اس وقت روس میں زار روس جیسے ظالم عیسائی حکمران تھے جو عوام کا خون چوس رہے تھے ، اس زمانے میں اشتراکی تحریک چلی جس کو لینن اور سٹالن نے آگے بڑھایا ۔ اس تحریک کی بنیاد دراصل جرمن کے یہودی کارل مارکس نے رکھی جو آخر میں انگلستان میں پناہ گزین رہا ۔ اس نے ” سرمایہ داری (Capitalism) نامی کتاب لکھ کر اس مسئلے کو چھیڑا ۔ سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیاں گنوائیں اور لوگوں کو اشتراکیت کی طرف مائل کیا ۔ یہ نظریہ آگے چل کر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے ۔ اس نظریہ کے مطابق ملک کی ہر چیز عوام کی مشترکہ ملکیت تصور کی جانی چاہئے اس ضمن میں ایران کا مزوک نامی دہریہ اس حد تک آگے چلا گیا کہ عورت بھی سب کی مشترکہ ملکیت ہونی چاہئے۔ یہ نظریہ فطرت کے صریحا ً خلاف تھا۔ لہٰذا ایران کے شہنشاہ نے اس شخص کو اور اس کے حامیوں کو کلیتا ً ختم کروا دیا ۔ اشتراکیت کا دوسرا نظریہ یہ ہے کہ وسائل روز گار کسی فرد واحد کی ملکیت میں نہیں ہونے چاہئیں بلکہ یہ سب حکومت کی ملکیت ہوں جو اسے مساویانہ طریقے سے عوام میں تقسیم کرے۔ آج کل یہ طریقہ اشتراکی ممالک میں رائج ہے۔ مگر اس میں قباحت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ حکومت پر چند ڈکٹیٹر قسم کے لوگ قابض ہو کر من مرضی کرنے لگتے ہیں ۔ کینہ پروری کرتے ہیں ۔ دوست نوازی ہوتی ہے اور عام لوگوں کی حیثیت جانوروں سے زیادہ نہیں ہوتی جو کام کرتے ہیں اور روٹی کھالیتے ہیں ، ان پر یہ نظام اس قدر شدت سے مسلط کردیا جاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز تک نہیں اٹھا سکتے اور جو ایسی کوشش کرتا ہوے اسے ہمیشہ کے لیے نابود کردیا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ نہایت ہی ظالمانہ نظام ہے۔
اسلامی نظام معیشت
مذکورہ دونوں نظام ہائے معیشت اسلامی نظریات کے خلاف ہیں ۔ اسلامی نظام کے خدو خال سابقہ انبیاء حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تعلیمات میں بھی ملتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں نہ تو سرمائے کو کلی حیثیت حاصل ہے اور نہ محنت کو ۔ سرمایہ بھی خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور محنت بھی اسی کی پیدا کردہ ہے۔ ہر چیز کا مالک حقیقی خدا تعالیٰ ہے زمین اور اس کی تمام اشیاء ، اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں ۔ البتہ اس نے اپنے اختیار اور مرضی سے بعض چیزیں لوگوں کی عارضی ملکیت میں دے دی ہیں اور پھر ان مجازی مالکوں کو حقیقی مالک ہونے کی حیثیت سے ان پر قانون کی پابندی بھی لازمی قرار دی ہے جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا سرمایہ دارانہ نظام کسب و تصرف میں کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کرتا ۔ جب کہ اسلام کسب و تصرف دونوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی حرام راستے سے اکتساب زر کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا حکم ہے لاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ( النسائ : 29) آپس کا مال باطل اور ناجائز طریقے سے مت کھائو یعنی اسلام ناجائز ذرائع مثلاً چوری ، ڈاکہ ، جوا ، سٹہ ، فراڈ ، سمگلنگ ، چور بازاری ، سود ، بےحیائی وغیرہ کے ذریعے مال کمانے کی اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ کہتا ہے کلوا مما فی الارض حللاً طیبا ( البقرہ : 168) زمین میں سے صرف وہی چیزیں کھائو جو حلال اور پاک ہیں ۔ حرام اور نا پاک چیزوں کو استعمال نہ کرو ۔ جس طرح اسلام لوگوں کو جائز ذرائع سے آمدن حاصل کرنے کا پابند بناتا ہے اسی طرح وہ صرف جائز مقامات پر خرچ کرنے کی پابندی بھی عائد کرتا ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ خرچ کرنے کے معاملے میں تین طریقے رائج ہیں ۔ ایک کا نام رفاہیت بالغہ ہے کہ انسان لہو و لعب اور تعیش کے تمام ذرائع اختیار کرلے۔ اپنی ضروریات سے زیادہ وسیع مکان بنوائے جس کی زیب وزینت پر غیر معمولی طریقے سے رقم صرف کرے اور پھر اس میں عیش و عشرت کے لوازمات جمع کرنے پر لاکھوں روپے صرف کر دے۔ اسلام اپنی جائز صروریات کے مطابق مکان بنانے کی اجازت دیتا ہے ، مگر اس میں اسراف کو قطعاً ناپسند کرتا ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ زندگی بسر کرین کا دوسرا طریقہ تقشف کہلاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان سادھوئوں اور جوگیوں کی طرح دنیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر کے پہاڑوں اور جنگلوں میں چلا جائے ، نہ شادی کرے نہ بال بچے ہوں ، نہ کوئی ذمہ داری عائد ہو اور نہ اسے نبھانا پڑے ، اس کو رہبانیت کہا جاتا ہے ولا رھبانیۃ فی الاسلام جو کہ اسلام میں قطعاً روا نہیں ۔ البتہ اسلام جو نظریہ پیش کرتا ہے ، وہ ان دونوں حالتوں میں مختلف ہے اسلام نہ تو بلاجواز عیش و عشرت کی اجازت دیتا ہے اور نہ ترک دنیاکو پسند کرتا ہے ، بلکہ اس کا نظریہ یہ ہے کہ دنیا میں رہ کر جائز ذرائع سے مالع کمائو ، خود بھی کھائو اور اس میں سے دوسروں کے حقوق بھی ادا کرو۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ابن آدم کے بعض بنیادی حقوق ہیں جن سے کوئی شخص محروم نہیں رہنا چاہئے ۔ ان میں پانی ، خوراک ، لباس ، رہائش ، صحت ، تعلیم چھی چیزیں شامل ہیں ۔ ہوا کے بعد پانی انسانی زندگی کے لیے سب سے ضروری چیز ہے لہٰذا یہ ہر شخص کو مفت مہیا ہونا چاہئے اور حکومت کو کم از کم پانی کی ترسیل پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہئے ۔ اس کے بعد خوراک ہے جو زندگی کا سلسلہ قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے اگرچہ سوکھی روٹی ہو ۔ تن ڈھانپنپے کے لیے لباس بھی ہر شخص کو ملنا چاہئے خواہ کم قیمت اور سادہ ہو ۔ اسی طرح کچا یا پکا مکان ہونا چاہئے جس میں آدمی بال بچوں سمیت رہائش پذیر ہو سکے ۔ اس کے بعد صحت کا حق ہے ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ رعایا کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرے اور پھر ہر شخص مردو زن کے لیے کم از کم اتنی تعلیم کا ضرور انتظام ہونا چاہئے جس سے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پہچان سکے۔ آج کل ان بنیادی حقوق کا سرا اقوام متحدہ (UNO) والے اپنے سر باندھ رہے ہیں حالانکہ یہ تو اللہ کے قرآن اور حضور ﷺ کے فرمان میں چودہ صدیاں پہلے مقرر کردیئے گئے تھے۔
عدم مساوات
ان تمام تر بنیادی حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اسلام معیشت میں مساوات کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ یہ ایک غیر فطری امر ہے۔ تمام انسان محنت کریں ، کمائیں ، کھائیں دوسروں کو کھلائیں مگر ان کے درجات میں فرق ضرور ہوگا ۔ اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ لوگوں کے درمیان معیشت کو ہم نے تقسیم کیا ہے لیکن درجات میں تفاوت رکھا ہے۔ تمام انسان علم ، عمل ، قوت ، ذہن میں برابر نہیں ہیں ۔ ایک شخص جسمانی لحاظ سے طاقتور ہے تو دوسرا ذہنی طور پر بہت آگے ہے۔ جو پروفیسر ، ڈاکٹر یا انجینئر اپنے دماغ سے ایک گھنٹہ میں کام لیتا ہے اور روزی کام سامان پیدا کرلیتا ہے اتنا معاوضہ ایک مزدور بارہ گھنٹے کام کر کے بھی نہیں حاصل کرسکتا ۔ جس شخص کا ذہن کسی علم یا ہنر کی طرف نہیں چلتا ۔ وہ مزدوری کے علاوہ کیا کے گا ؟ لہٰذا ہر عالم اور جاہل ، ہنر مند اور غیر ہنر مند برابر نہیں ہو سکتے ۔ جب ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیت برابر نہیں تو ان کی باقی امور میں کیسے مساوات ہو سکتی ہے یہ تو بےعقلی کی بات ہے حقیقت یہ ہے کہ بنیادی حقوق سب کے لیے برابر ہیں ۔ ہر شخص کو تعلیم حاصل کرنے اور ہنر سیکھنے کا پورا پورا موقع ملنا چاہئے پھر جو شخص کامیاب ہوجاتا ہے اسے نا کام ہونے والے پر فوقیت حاصل ہوگی اور اسی لحاظ سے اسے درجہ بھی حاصل ہوگا ۔ ایسے میں ہر ایک کے لیے مساوات کا مطالبہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ معیشت کو ہم تقسیم کرتے ہیں ، اس میں کسی دوسرے کی مرضی نہیں چل سکتی۔
فرمایا ہم نے معیشت میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے لیتخذ بعضھم بعضا سخریا تا کہ ان میں سے بعض بعض کو خدمت گار بنا لیں اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کا نظام اس طرح قائم کردیا ہے کہ کوئی شخص زندگی کے تمام امور انجام نہیں دے سکتا ۔ بلکہ کسی نہ کسی صورت میں دوسرے کی مدد لینا پڑے گی ۔ آجر اور مزدور دونوں کی مصلحت ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہے ، اگر کارخانہ دار کارخانہ قائم نہیں کریگا تو مزدور کو کام کہاں سے ملے گا ۔ اور اگر مزدور نہیں ہوگا تو کارخانہ نہیں چل سکے گا ۔ اسی طرح کھیتی باڑی ، تجارت ، نقل و حمل تمام امور میں ہر شخص کو دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذا وہ حسب ضرورت دوسرے سے خدمت لے سکتا ۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کی رو سے آزاد آدمی بھی خدمت لینا روا ہے۔ البتہ ہر آجر کو اپنے مزدور کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ اس سے نہ تو جانوروں کی طرح بےتحاشا کام لے اور نہ اس کی حق تلفی کرے۔ بلکہ اس کے حقوق پورے پورے ادا کرے۔
حقوق العباد
کاروباری حقوق کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اہل ثروت پر بعض دوسرے حقوق بھی قائم کیے ہیں اور ان کی ادائیگی بھی ضروری ہے ۔ مثلاً اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہے تو وہ اپنے مال سے مقرر زکوٰۃ ادا کرے۔ اس کے علاوہ صدقہ فطر ادا کرے۔ قربانی کرے ۔ اللہ کا فرمان ہے وفی موالھم حق للسائل والمحروم ( الذریت : 19) مال داروں کے مالوں میں سائل اور محروم کا بھی حق ہے ، وہ بھی ادا
کرے۔ اگر کوئی رشتہ اور غریب ہے ، تو امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک صاحب مال پر فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس غریب کے لئے روزگار کا بندوبست کرے قرابتداروں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا خصوصی حکم ہے۔ وات ذالقربی جقہ والمسکین وابن السبیل (بنی اسرائیل 26- ) قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو۔ پڑوسیوں کی خبر گیری کرو ، کوئی بیمار ہے تو اس کا علاج کرو ، کسی کو تعلیم کی ضرورت ہے تو وہ پوری کرو ، خوراک ، لباس اور پانی کا بندوبست کرو۔ یہ تمام حقوق ادا کرنے کے بعد پھر دیکھو کہ عیش و عشرت کے لئے کچھ بچتا بھی ہے یا نہیں انہی حقوق کو غصب کر کے لوگ عیش کرتے ہیں اور رسومات باطلہ کو انجام دیتے ہیں۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ایک شخص بیماری میں ماں کو دوائی تو لا کر نہیں دے سکا۔ مگر اس کی فوتیدگی پر ہزاروں خرچ کر ڈالتا ہے جو بلاشبہ اسراف اور بدعات ہیں۔
فرمایا ورحمت ربک خیر مما یجمعون تیرے رب کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔ اس سے نبوت و رسالت کی رحمت مراد ہے جس کا کفار و مشرکین انکار کرتے ہیں اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام 125) اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ رسالت کا کون مستحق ہے۔ کفار و مشرکین خواہ مخواہ اپنا معیار قائم کئے ہوئے ہیں جو ان کی بدبختی کی علامت ہے۔
Ayahs 43:33–35ربط آیات
گزشتہ آیات میں دین کے بنیادی اصولوں میں سے رسالت کا ذکر تھا کافر اور مشرک لوگوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہم ایسے نبی اور رسول ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جس کی مالی پوزیشن اچھی نہ ہو۔ رسول تو نمایاں حیثیت کا آدمی ہونا چاہئے۔ جس کے پاس دنیاوی زندگی کے آرام و آسائش کی تمام سہولتیں موجود ہوں۔ اگر خدا نے کوئی رسول بنانا تھا تو مکہ اور طائف کی بستیوں میں سے کسی صاحب حیثیت آدمی کو بنایا ہوتا اور اس پر یہ قرآن بذریعہ وحی نازل کیا جاتا۔
نبی کی امتیازی حیثیت
کفار و مشرکین نبی کی امتیازی حیثیت کو تسلیم کرتے تھے مگر دنیاوی اعتبار سے یعنی اس کے پاس مال و دولت ، کوٹھی اور باغات ، لونڈی غلام ، مویشی اور جانور ہونے چاہئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا نبی باقی لوگوں سے واقعی ممتاز ہوتا ہے مگر دنیاوی لحاظ سے نہیں بلکہ ایمان ، عمل ، اخلاق ، سیرت و نیت عزائم ، اخلاص اور باطنی خواص کی رو سے ، انبیاء کی سیرت کا مطالعہ کیا جانے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں بہت کم انبیاء ایسے ہیں جن کی ظاہری حالت نمایاں تھی ، وگرنہ بیشتر انبیاء دنیاوی لحاظ سے کمزور ہی تھے۔ بایں بسمہ اللہ کی تائید و نصرت ان کے ساتھ ہوتی ہے جس سے عام لوگ محروم ہوتے ہیں۔
گزشتہ درس میں تقسیم رزق کا فلسفہ بھی بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے دنیا میں مالی لحاظ سے بعض کو بعض دوسروں پر فوقیت دی ہے دنیا میں مال و دولت کے لحاظ سے لوگوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ اللہ نے سب کو ایک جیسا نہیں بنایا اس کی حکمت یہ ہے کہ باہمی تفاوت کی بناء پر ہی دنیا کا کاروبار چلتا ہے۔ اگر سب لوگ ایک جیسے ہوتے تو کوئی کسی کے کام نہ آتا اور کاروبار زندگی میں تعطل پیدا ہوجاتا۔ اس دنیا میں امیر اور غریب دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ مال و زر کے بغیر کوئی کاروبار نہیں شروع کیا جاسکتا اور مزدور کے بغیر کوئی کام نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اللہ نے امیر اور غریب ، مالک اور مزدور ، زمیندار اور کسان ، افسر اور ماتحت میں امتیاز پیدا کر کے زندگی کے کاروبار کو رواں دواں کردیا ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے قسم اخلاقہ بینکم کما قسم ارزاقکم (مسند احمد) اللہ نے تمہارے درمیان اخلاق کو بھی اسی طرح تقسیم کردیا ہے جس طرح اس نے تمہارے رزق تقسیم کئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق دنیا کا سامان تو نیک و بد سب کو عطا کرتا ہے مگر دین اسی کو دیتا ہے جو اس کے نزدیک پسندیدہ ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں فلا یعطی الدین الا من احت
نبی بطور تقسیم کنندہ
صحیحین کی حدیثت میں حضور ﷺ کا ارشاد آتا ہے ان اللہ یعطی و انا قاسم بیشک اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں بعض بدعت پسند لوگ اس حدیث کو غلط معانی پہناتے ہیں اور اس عطا اور تقسیم کو ہر چیز پر محمول کرتے ہیں گویا حضور ﷺ رزق ، صحت ، عہدے ، بارش وغیرہ سب کچھ خود تقسیم کرتے ہیں یہ نظریہ گزشتہ درس والی آیت نحن فمنا بینھم معیشتھم فی الحیوہ الدنیا کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ دنیا میں لوگوں کے درمیان رزق تو وہ خود تقسیم کرتے ہیں جو کہ ایک معمولی سی چیز ہے۔ پھر نبوت و رسالت جیسی اعلیٰ چیز کی تقسیم کا اختیار دوسروں کو کیسے دیا جاسکتا ہے جو چاہتے ہیں کہ منصب کسی صاحب حیثیت آدمی کو ملنا چاہئے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں ہر چیز کی تقسیم مراد نہیں بلکہ مال غنیمت اور علم کی تقسیم مراد ہے۔ جو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے اور حضور ﷺ اسے تقسیم فرماتے ہیں۔ مال غنیمت کی تقسیم کا اصول اللہ نے سورة الانفال میں بیان کردیا ہے اور پھر اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ وہ اس طریق کار کے مطابق اسے مسلمانوں میں تقسیم کردیں۔ اسی طرح قطعی اور یقینی علم بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی آتا ہے اور حضور ﷺ کو حکم ہے بلغ ما انزل الیک من ربک (المآئدۃ 67- ) آپ کے پروردگار کی طرف سے جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ آپ اسے آگے پہنچا دیں۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مال غنیمت اور علم کی تقسیم کا فرض تفویض کیا ہے نہ کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کا۔
کفار کے لئے سونے چاندی کی افراط
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے متاع دنیا اور متاع آخرت کا تقابل فرما کر آخرت کے سامان کو فوقیت دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولولا ان یکون الناس امۃ واحدۃ اگر اس چیز کا خطرہ نہ ہوتا کہ تمام لوگ ایک ہی دین پر ہوجائیں گے لجعلنا لمن یکفر باالرحمن لبیوتھم سقفاً من فضۃ ومعارج علیھا یظھرون
کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں اور سیڑھیوں کو چاندی کا …جن کے ذریعے وہ اوپر چڑھتے ہیں ، دنیا کے مال میں سونے چاندی کو اولیت حاصل ہے اور ہر دنیا دار کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ چیزیں اس کے پاس زیادہ سے زیادہ مقدار میں جمع ہوں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر ان اشیاء کا ذکر بطور تحقیر کیا ہے کہ دنیا کا محبوب ترین مال بھی اس کے نزدیک حقیر ترین چیز ہے۔ فرمایا اگر ہم کافروں کو اس قدر مال عطا کردیں کہ ان کے گھروں کے چھت اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیں بلکہ ولبیوتھم ابو اباوسور علیھا یتکون بلکہ ان کے گھروں کے دروازے اور تخت یا پلنگ بھی چاندی کے بنا دیں جن پر وہ آرام کرتے ہیں۔ فرمایا صرف چاندی کے نہیں وزرخرفاً بلکہ سونے ۔ اللہ نے مثال کے طور پر کافروں کے گھروں اور ان کے لوازمات کا ذکر کیا ہے کہ اگر یہ خصرہ نہ ہو کہ سب لوگ یک ہی دین پر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان کی تمام چیزیں سونے اور چاندی کی بنا دیں۔
یہاں پر امۃ سے مراد دین ہے اور دین سے مراد کفر کا دین ہے مطلب یہ ہے کہ اگر کافروں کو اس قدر سونا چاندی دے دیا جائے تو خطرہ ہے کہ سب لوگ کفر کی طرف ہی مائل ہوجائیں گے۔ وہ دیکھیں گے کہ کفر والوں پر بڑے انعامات ہو رہے ہیں وہ اس دین کو سچا سمجھ کر اسی کو اختیار کرلیں گے۔ سورة البقرہ میں بھی امۃ واحدۃ کا ذکر آیا ہے کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبین مبشرین ومنذرین (آیت 213) سب لوگ ایک ہی دین پر تھے۔ اس سے مراد سچا دین ہے۔ پھر ان میں اختلافات پیدا ہوئے تو اللہ نے ان کی راہنمائی کے لئے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے یعنی اپنے انبیاء بھیجے۔
دنیا کی تحقیر
فرمایا ہم کافروں کو فراوانی کے ساتھ سونا چاندی عطا کردیتے مگر ہمارے نزدیک دنیا کے اس مال کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ وان کل ذلک لما مناع الحیوۃ الدنیا کیونکہ یہ تو صرف دنیا کی زندگی کا سامان ہے جو ناپائیدار اور فانی ہے دنیا کے مال و متاع کی تحقیر مسند احمد ، ترمذی اور ابن ماجہ کی حدیث میں بھی آتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک وے لوکانت الدنیا عند اللہ جناح بعوضۃ ماسقی کافرامنھا سریدما اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافرو منکر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا کیونکہ کفر اور شرک کا مرتکب اللہ کا باغی ہوتا ہے۔
اس حصہ آیت کی ترکیب مفسرین کرام دو طرح سے کرتے ہیں۔ آیت میں آمدہ لفظ ان کو اگر ان مخففہ تسلیم کیا جائے تو معنی ہوگا انہ یعنی بیشک شان یہ ہے کہ بیشک یہ سب چیزیں البتہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے۔ “ یعنی یہ بےوقعت اور ناپائیدار اشیاء ہیں کیونکہ پائیداری ان چیزوں سے نہیں بلکہ ایمان ، اعمال صالحہ اور خوش اخلاق سے پیدا ہوتی ہے۔ اس صورت میں لما کر لما پڑھا جائے گا۔ اور یہ ان نافیہ بھی ہو ستکا ہے اور اس حالت میں لما کو لما ہی پڑھا جائے گا۔ جیسے سورة الطارق میں ہے ان کل نفس لما علیھا حافظ (آیت 40) یعنی کوئی نفس نہیں ہے۔ مگر اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے محافظ مقرر ہے جو اس کے وجود اور اس کے اعمال کی نگرانی کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ٹکڑہ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ نہیں ہے یہ سب کچھ مگر سامان دنیا کی زندگی کا ” الغرض ! اللہ تعالیٰ نے سونے چاندی جیسی قیمتی متاع کو بھی ایک حقیر چیز شمار کیا ہے کیونکہ اس کا تعلق دنیا کی زندگی تک محدود ہے اور اس کے بعد ختم ہوجانے والی ہے۔
متقین کے لئے آخرت
آگے اللہ نے تصویر کا دوسرا رخ بھی بیان فرمایا ہے والاخرۃ عند ربک للمتقین اور تیرے پروردگار کے نزدیک آخرت تو متقیوں کے لئے ہے جو کفر و شرک کبائر اور معاصی سے بچتے ہیں۔ آخرت میں حصہ خلاص ایمان والوں کے لئے ہے جو بدعقیدگی ، بداعمال اور بداخلاقی سے پاک ہوں گے۔
ایک موقع پر حضور ﷺ ننگی چار پائی پر فروکش تھے اور آپ کے جسم اطہر پر چارپائی کے نشانات پڑگئے تھے۔ حضرت عمر دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے اور عرض کیا کہ حضور ! دنیا کے قیصر و کسریٰ ، ملوک اور جابر تو عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ آپ بغیر چادر کے چار پائی پر تکلیف برداشت کر رہے ہیں حالانکہ آپ اللہ کے محبوب ترین بندے ہیں۔ حضرت (علیہ الصلوۃ والسلام) اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے ابن خطاب کیا تمہیں معلوم نہیں کہ دنیا کے بادشاہوں کو ملنے والے انعامات اسی دنیا تک محدود ہیں جب کہ ہمارے لئے اللہ نے انہیں آخرت کا ذخیرہ بنا دیا ہے ، یہ عیش و آرام ہمیں آگے چل کر میسر ہوگا۔ سورة الانعام میں بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ما الحیوۃ الدنیا الا لعب ولھو ………(آیت 42) دنیا کی زندگی تو محض کھیل تماشہ ہے جو کافروں کو میسر ہے جب کہ آخرت کا گھر بہتر ہ جو متقیوں کے حصہ میں آنے والا ہے۔ بہرحال حضور ﷺ نے حضرت عمر ! سے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کو میسر ہوں اور ہمارے لئے آخرت میں حصہ ہو ؟ یعنی تمہیں اس بات پر تردد نہیں ہونا چاہئے۔ دنیا کے متاع کی تحقیر کی وجہ سے ہی حضور ﷺ نے نھی عن الاکل وانشرب فی انآء الذھب والفضۃ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرما دیا کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور ہمیں یہ آخرت میں میسر ہوں گی اہل جنت کو سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پیش کیا جائیگا اور جو شخص اس دنیا میں ایسے برتن استعمال کرے گا ، وہ آخرت میں ان سے محروم رہے گا۔ بہرحال ہر مومن کے پیش نظر آخرت ہونی چاہئے کہ وہاں کامیابی حاصل ہوجائے۔ یہاں کا ساز و سامان تو محض عارضی ہے۔
یک اشعال
یہاں یہ اشعال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو سونے چاندی کی زیادہ فراوانی اس لئے نہیں دی کہ کہیں سب کے سب لوگ مال و دولت کو دیکھ کر کفر کا راستہ ہی نہ اختیار کرلیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے ایسا کیوں نہیں کیا کہ یہ مال و دولت مومنوں کو عطا کردیتا تاکہ اس کی وجہ سے سے سب لوگ ایمان لے آتے۔ اس اشعال کے جواب میں امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ مال و دولت کی فراوانی میں بہت سے خطرات بھی ہیں کہ لوگ دنیا کی آرام و راحت میں مبتلا ہو کر کہیں آخرت کو ہی نہ بھول جائیں اور معاصی میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے کلا ان الانسان لیطفی ان راہ استغنی (العلق 706) جب کوئی انسان اپنے آپ کو غنی پاتا ہے تو سرکش ہوجاتا ہے۔ نیز فرمایا الھکم التکاثر (التکاثر 1- ) انسان کی کثرت طلب نے اسے غافل کردیا ہے۔ اس واسطے اللہ نے اہل ایمان کو دنیا میں مال و دولت کی فراوانی نہیں عطا کی۔
امام زمخشری اس اشکال کی یہ توجیہ بیان کرتے ہیں کہ اگر اس دنیا میں مومنوں کے لئے سونے چاندی کی فراوانی کردی جاتی تو اس میں کافروں کے لئے ایمان لانے کی کشش تو ضرور ہوتی مگر اس قسم کا ایمان محض لالچ کی بنا پر ہوتا نہ کہ دل کی تصدیق کے ساتھ۔ اس قسم کا ایمان منافقوں کا ایمان ہوتا ہے جو کہ اللہ کے ہاں مقبول نہیں۔ آج بھی لوگ دنیا کے مال کی خاطر دوسرا مذہب اختیار کرلیتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو نوکری مکان ، بیوی اور دیگر آسائشوں کی وجہ سے عیسائیت کی گود میں چلے گئے اور کتنے لوگ ہیں جنہوں نے محض ، لالچ میں آ کر زیست کو قبول کرلیا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا لالچ والا ایمان اللہ کو پسند نہیں لہٰذا اس نے دنیا میں اہل ایمان کے لئے مال و متاع کو پرکشش نہیں بنایا۔