43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 43:36–45

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو شخص اعراض کرتا ہے رحمان کے ذکر سے ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لئے شیطان ، پس بیشک وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور بیشک وہ (شیاطین) البتہ روکتے ہیں ان کو سیدھے راستے سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ آئے گا ہمارے پاس تو کہے گا (وہ اپنے شیطان سے ، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فرق ہوتا۔ پس بہت ہی برا ساتھی ہے

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور ہرگز نہیں فائدہ پہنچائے گا تمہیں آج کے دن جب کہ تم نے ظلم کیا ہے۔ بیشک تم عذاب میں مشترک ہو

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) کیا آپ سنائیں گے بہروں کو یا راہ دکھائیں گے اندھوں کو ، اور اس کو جو صریح گمراہی میں بھٹک رہا ہے

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَۙ Open ayah 43:41 in the Quran reader

پس یا تو ہم آپ کو لے جائیں گے اور بیشک ہم ان لوگوں سے انتقام لینے والے ہیں

اَوْ نُرِیَنَّكَ الَّذِیْ وَعَدْنٰهُمْ فَاِنَّا عَلَیْهِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ Open ayah 43:42 in the Quran reader

اور یا ہم دکھا دیں گے آپ کو وہ چیز جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے۔ بیشک ہم ان پر قدرت رکھنے والے ہیں

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِیْۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 43:43 in the Quran reader

پس آپس مضبوطی سے پکڑیں اس چیز کو جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے۔ بیشک آپ سیدھے راستے پر ہیں

وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ١ۚ وَ سَوْفَ تُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:44 in the Quran reader

اور بیشک یہ (قرآن) البتہ ذکر ہے آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے ، اور عنقریب تم سے سوال کیا جائے گا

وَ سْئَلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً یُّعْبَدُوْنَ۠ Open ayah 43:45 in the Quran reader

اور آپ پوچھ لیں ان سے جن کو ہم نے بھیجا تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے ۔ کیا مقرر کئے ہیں ہم نے رحمان کے سوا دوسرے معبود جن کی عبادت کی جائے

ربط آیات پہلے توحید اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے رسالت کا ذکر فرمایا وکذلک ما ارسلنا من قبلک …81 (آیت 23- ) اسی طرح آپ سے پہلے ہم نے جس بستی میں بھی رسول یا نبی بھیجا تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے اس کا انکار کیا اور اپنے آبائو اجداد کی فرسودہ رسوم پر کاربند رہنے پر اصرار کیا۔ قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون (آیت 24- ) کہنے لگے کہ جس چیز کو تم لے کر آئے ہو ، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکوں کا بھی یہی حال ہوا کہ جب بھی ان کے پاس حق بات ائٓی قالوآ ھذا سحر وانا بہ کفرون (آیت 30- ) کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہے تو اسے یکسر اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل ہونا چاہئے تھا تاکہ ہم بھی مان لیتے ہم کسی نادار آدمی کو اللہ کا نبی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ قرآن سے اعراض کا نتیجہ فرمایا اگر یہ لوگ نبی آخر الزمان کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے ، اور آپ کے لائے ہوئے قرآن سے بھی اعراض کرتے ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہئے ومن یعش عن ذکر الرحمٰن جو شخص خدا نے رحمان کے ذکر سے اعراض کرتا ہے نقیص لہ شیطناً تو ہم اس کے لئے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں فھولہ قرین پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ لفظ ذکر کے دو معانی آتے ہیں۔ ذکر سے عام فہم مراد یاد الٰہی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یاد الٰہی سے اعراض کرنا ہرگز پسندیدہ امر نہیں۔ تاہم یہاں پر سیاق وسباق کے پیش نظر ذکر سے مراد خود قرآن حکیم ہے۔ ویسے بھی ذکر قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ جو شخص قرآنی تعلیمات سے اعراض کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر ایک شیطان مقرر کردیتا ہے جو اسے ہمیشہ بہکا کر گمراہ کرتا رہتا ہے۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد مبارک ہے کہ اگر کسی بستی میں تین مسلمان رہتے ہوں اور وہ باجماعت نماز ادا نہ کریں تو ان پر شیطان غالب آجاتا ہے اسی طرح جو ذکر الٰہی یا نصیحت سے اعراض کرتا ہے۔ اس پر بھی شیطان مسلط ہوجاتا ہے اور اس کو ہر وقت گمراہ کرتا رہتا ہے۔ اللہ نے انسان کی آزمئاش کے لئے اس کے ساتھ فرشتوں کو بھی مقرر کر رکھا ہے اور شیاطین کو بھی۔ فرشتے اور شیطان ہر وقت آدمی سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے ہیں۔ اگر طبیعت میں نیکی کا جذبہ بیدار ہو تو سمجھ لو کہ یہ فرشتے کی کارروائی کا نتیجہ ہے اور اگر دل میں برائی کا وسوسہ پیدا ہو تو یہ شیطان کی رف سے ہوتا ہے ، لہٰذا اس وقت شیطان کے شر سے خدا کی پناہ طلب کرنی چاہئے۔ ان شیاطین کا کام یہ ہوتا ہے وانھم لیصدونھم عن السبیل کہ وہ لوگوں کو سیدھے راستے سے روکتے ہیں۔ ہر نیکی کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور انہیں برئای کی طرف مائل کرتے ہیں۔ معرضین کی غلط فہمی فرمایا اگرچہ معرضین قرآن پر شیطان مسلط ہوتا ہے ویحسبون انھم مھتدون مگر وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ یہ ان کی فہم و فکر کی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ برئای کو نیکی تصور کرنے لگتے ہیں۔ چناچہ مشرک کافر اور بدعتی لوگوں کا یہی حال ہے کہ وہ کام تو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف کرتے ہیں مگر سمجھتے ہیں یہ ہیں کہ وہ بہت بڑے نیکی کے کام انجام دے رہے ہیں۔ مثلاً جب کافر اور مشرک لوگ بتوں کی پرستش کرتے ہیں یا غیر اللہ سے فریاد رسی کرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک راستے پر جا رہے ہیں۔ بدعات کے پجاری بھی عرس منا کر ، قبروں پر چادریں چڑھا کر چراغاں کر کے ، ان پر گنبد بنا کر ، تیسرا ، ساتا اور چالیسیواں کر کے بڑے خوش ہوتے ہیں کہ وہ کار ثواب انجام دے رہے ہیں۔ شیطان ان کے دلوں میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ یہ بڑی نیکی کا کام ہے۔ اسی پر اپنی اور مردوں کی نجات کا دار وم دار ہے اور انہی امور سے دنیا میں عزت اور شہرت حاصل ہوگی۔ وہ انہیں خوشنما کر کے دکھاتا رہتا ہے اور بےنصیب آدمی عمر بھر ایسے ہی بےمعنی امورر کی انجام دہی کرتے کرتے ختم ہوجاتے ہیں ۔ اس مضمون کو سورة کہف میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ان لوگوں سے کہہ دیں کیا ہم تمہیں اعمال کے لحاظ سے سخت نقصان زدہ لوگوں کے متعلق بتلائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی سعی دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہوگئی وھم یحسبون انھم یحسبون صنعاً (آیت 104) مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں۔ فرمایا یہ لوگ زندگی بھر اسی زعم میں مبتلا رہتے ہیں حتی اذا جآء نا یہاں تک کہ جب وہ موت سے ہمکنار ہو کر ہمارے پاس آتے ہیں تو اس وقت آنکھیں کھلتی ہیں۔ عام محاورے میں بھی کہا جاتا ہے الناس نیام اذا ماتوا انبتھوا اس وقت لوگ دنیا میں غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں جب انہیں موت آجائے گی تو حقیقت میں اس وقت بیدار ہوں گے ۔ جب تمام حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے۔ شیطان کی دوستی پر حسرت فرمایا جب کوئی قرآن سے اعراض کرنے والا مر کر ہمارے پاس پہنچ جاتا ہے قال یلت بینی وبینک بعد المشرقین تو اس وقت شیطان سے کہتا ہے کاش میرے اور تمہارے درمیان دنیا میں مشرق و مغرب کی دوری ہوتی تو میں تیرے دام میں نہ پھنستا اور نہ آج یہ رو ز بد دیکھنا نصیب ہوتا۔ فبئس القرین تو تو بہت ہی برا ساتھی ثابت ہوا۔ یہاں پر مشرقین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی ہے دو مشرق حالانکہ مشرق تو ایک ہی ہے جب کہ اس کی ضد مغرب ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مشرقین سے مراد دراصل مشرق اور مغرب ہیں کیونکہ بعض اوقات تفلیاً مشرق اور مغرب کو مشرقین کہا جاتا ہے۔ عربی ادب میں ایسی اور مثالیں بھی ملتی ہیں جیسے۔ اخذنا باطراف السمآء علیکم لنا قمرھا والنجوم الطوالع ہم نے آسمان کے اطراف کو تمہارے اوپر بند کردیا ہے کیونکہ دونوں چاند (یعنی چاند اور سورچ) ہمارے لئے ہیں۔ اسی طرح ستارے بھی اب ہمارے ہی ہیں۔ وبصرۃ الارض منا والعراق لنا والموصلان ومنا المصر والحرم بصرہ اور عراق بھی ہمارے ہے ، اور دونوں موصل ، مصر اور حرم بھی ہمارے ہیں یہاں بھی جزیرہ اور موصل کو ملا کر موصلان کہا گیا ہے۔ سورۃ الرحمٰن میں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر بھی آتا ہے رب المشرقین و رب المغربین (آیت 17- ) اللہ تعالیٰ دونوں مشرقوں کا بھی رب ہے اور دونوں مغربوں کا بھی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ مشرق اور مغرب کو دو دو اس لئے کہا گیا ہے کہ موسم سرما اور گرما کے مشرق اور مغرب مختلف ہوتے ہیں۔ دونوں موسموں میں سورج اور چاند کے طلوع و غروب کے مقامات میں بڑا فاصلہ ہوتا ہے ، اس لئے مشرق کو دو مشرق اور مغرب کو دو مغرب کہا گیا ہے۔ فرمایا کہ معرض آدمی مرنے کے بعد حسرت و افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے دنیا میں شیطان کو اپنا ساتھی بنا لیامگر فرمایا ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم تمہارا افسوس کرنا آج کے دن کچھ کام نہیں آئے گا کیونکہ تم نے دنیا میں رہ کر ظلم کا ارتکاب کیا اور شیطان کی بات مان کر کفر ، شرک ، بدعات اور معانی میں مبتلا ہوئے آج تم تابع اور متبوع برابر ہو انکم فی العذاب مشترکون اور عذاب میں اشتراک رکھتے ہو یعنی تم دونوں عذاب میں مشترکہ طور پر مبتلا ہوگئے۔ حضور ﷺ کے لئے تسلی حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کو کفار و مشرکین کے اقوال و افعال سے سخت کوفت ہوتی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا افانت تسمع الصم کیا آپ بہروں کو سنا سکیں گے اوتھدی العمی یا اندھوں کو راہ دکھائیں گے ومن کان فی ضلل مبین یا اس شخص کو راہ رسات پر لے آئیں گے جو صریح گمراہی میں پڑا ہا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ کافر و مشرک اندھوں بہروں اور گمراہوں کی مانند ہیں۔ آپ انکو کیسے راہ راست پر لاسکیں گے۔ یہ تو آپ کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا اگر یہ ایمان نہیں لاتے۔ آپ کی رسالت پر یقین نہیں کرتے اور قرآن کو وحی نہیں مانتے تو آپ دل برداشت نہ ہوں بلکہ ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ فلما نذھبن بک پھر یا تو ہم آپ کو لے جائیں گے یعنی اپنے پاس بلا لیں گے اور اس صورت میں فانا منھم منتقمون ہم خود ان بدبختوں سے انتقام لینے والے ہیں۔ ہم ان پر کو چھوڑیں گے نہیں بلکہ ان کو ان کی کارکردگی کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔ فرمایا دوسری صورت یہ ہے او نرینک الذی وعدنھم یا ہم آپ کو دکھا دیں گے جو عدہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کیا ہے۔ ان کے ساتھ تو یہی وعدہ ہے کہ جو شخص ایمان ، توحید ، رسالت اور قرآن کا انکار کرے گا۔ ہم اس کو ضرور سزا میں مبتلا کریں گے۔ چناچہ ہم آپ کی زندگی میں ان کو سزا میں مبتلا ہوتے ہوئے دکھا دیں گے تاکہ آپ کی تسلی ہوجائے کہ ان ناہنجاروں کو ان کے کئے کا بدلہ مل گیا ہے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بہت سے کافر مشرک اور منافق حضور ﷺ کی زندگی میں ہی ہلاک کردیئے گئے ، بعض ملک بدر ہوئے اور بعض مغلوب ہوگئے۔ اللہ نے اپنا یہ وعدہ پورا کردیا فانا علیھم مقتدون کیونکہ ہم ان پر قدرت رکھتے ہیں۔ ہماری گرفت سے یہ لوگ بچ نہیں سکتے اور ضرور اپنے بدکو پہنچنے والے ہیں۔ تمسک بالقرآن اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا حمک ہے کہ اے پیغمبر ! فاستمسک بالذی اوحی الیک آپ مضبوطی سے پکڑے رکھیں اس چیز کو جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے آپ قرآن پاک دین اور شریعت پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تبلیغ و تلقین کریں۔ آپ شیطان کے بہکائے ہوئے لوگوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہی حکم عام اہل ایمان کے لئے ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کو مضبوطی سے تھام لیں اور انہیں زندگی کا لائحہ عمل بنا لیں کہ اسی میں سب کی کامیابی ہے اگر اس میں شک پیدا ہوا اور اس آفاقی قانون کے ساتھ ساتھ دیگر قوانین سے بھی اللہ کیا تو کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ صرف اسی کو مضبوطی سے تھامنے میں کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ فرمایا اے پیغمبر السلام ! انک علی صراط مستقیم بیشک آپ راہ راست پر ہیں اور اسی پر چلتے ہیں۔ ایمان ، توحید اور نیکی کا یہی راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مقام تک پہنچاتا ہے۔ نیز فرمایا وانہ وانہ لذکر لک ولقومک بیشک یہ قرآن پاک نصیحت ہے آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے بھی عام طور پر ذکر کا معنی نصیحت کیا جاتا ہے۔ تاہم مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس مقام پر ذکر سے مراد عزت اور شرف ہے۔ یہی معنی سورة ص میں بھی استعمال ہوا ہے۔ والقرآن ذی الذکر (آیت 10- ) قسم ہے شرف والے قرآن کی تو فرمایا کہ یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے باعث شرف ہے۔ اس سے بڑی عزت افزائی کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری پیغام قرآن قریش کی عربی زبان میں نازل فرمایا یہ ایسا کلام ہے جس سے مادی اور روحانی دونوں قسم کی ترقی یقینی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی فرمایت ہیں کہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت سے آپ قومی نبی ہیں اور قریش کی سعادت آپ کے ساتھ وابستہ ہے اور دوسری حیثیت آپ کی بین الاقوامی نبی کی ہے۔ جیسے فرمایا قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف 158- ) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میں تم سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ بہرحال قرآن کا پروگرام پہلے حضور ﷺ کی قوم قریش کو دیا گیا اور پھر ان کی وساطت سے پیغام ساری دنیا کو عطا کیا گیا۔ چناچہ یہ قرآن قریش کے لئے خاص طور پر باعث عزت و شرف ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ قریش کے شرف کا یہ مطلب بھی ہے کہ خلافت بھی انہی میں رہے گی چناچہ پہلی ساڑھے چھ صدیوں تک مسلمانوں کی خلافت قریش کے پاس ہی رہی۔ اس کے بعد جب ان میں صلاحیت باقی نہ رہی ، امت میں فتنہ و فساد کے دروازے کھل گئے تو خلافت سلجوقیوں اور ترکوں کی طرف منتقل ہوگئی۔ قرآن و توحید کے متعلق سوال فرمایا یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے عزت کا باعث ہے وسوف تسئلون اور عنقریب قرآن کے بارے میں تم سے سوال کیا جائیگا۔ باز پرس ہوگی کہ ہم نے تمہیں اس قرآن پاک کے ذریعے شرف بخشا تھا تم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ ہم آج دیکھ رہے ہیں کہ عام طور پر قرآن کا تمسک ختم ہوچکا ہے۔ لوگوں نے اسے پڑھنے ، سمجھنے اور سا پر عمل کرنے کی بجائے اس کو غلافوں میں بند کر کے الماریوں کی زینت بنا دیا ہے۔ قیامت والے دن حضور ﷺ اللہ کی بارگاہ میں شکایت پیش کرینگے وقال الرسول یرب ان قومی اتخذوا ھذا القرآن مھجورا (الفرقان 30- ) پروردگار میری اس قوم نے قرآن پاک کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ انہوں نے اس کو نافذ نہ کیا اور اس طرف اس کی تعلیمات سے مستفید نہ ہوئے بلکہ الٹا اس کی مخالفت کرتے رہے بہرحال قرآن کریم میں بھی اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کے ساتھ یا سلوک کیا ؟ آگے اللہ نے توحید کا مسئلہ بیھ بیان فرمایا ہے وسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنا ذرا ان سے پوچھ لیں جن کو ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر بھیجا۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس سوال کے مصداق سابقہ کتب سماویہ زبور ، تورات اور انجیل کے قاری ہیں کہ ان سے پوچھ لیں اجعلنا من دون الرحمٰن الھۃ یبسدون گیا ہم نے رحمان کے سوا دوسرے معبود تم کئے ہیں کہ جن کی عبادت کی جائے ؟ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو اپنے سوا کسی کو معبود بنانے کا حکم نہیں دیا۔ پھر یہ لوگ کس طرح شرک میں مبتلا ہوگئے۔ پہلے انبیاء نے بھی خالص توحید ہی کا درس دیا اور آپ کی تعلیمات اور قرآن کا محور بھی توحید ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں آتا ہے کہ مغراج کی رات جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کا اجتماع ہوا اور حضور ﷺ نے سب کو نماز پڑھائی تو اس وقت آپ نے انبیاء سے دریافت کیا کہ تمہیں کس مقصد کے لئے دنیا میں بھیجا گیا تو سب نے یہی جواب دیا (بعثنا بالتوحید) (طبقات ابن سعد) لا الہ الا اللہ وانما یعبد من دون اللہ باطل کو ہماری سب کی مشترکہ دعوت کلمہ توحید تھی اور یہ بھی کہ اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت کی جائے وہ باطل وقت یہ بھی کہا انت خاتم النبین وسید المرسلین آپ اللہ کے آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا اور آپ تمام انبیاء اور رسل کے سردار ہیں۔ آپ کے بعد قرب قیامت میں صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے نزول ہوگا۔ مگر وہ آپ کے اتباع پر ہوں گے ، اپنی شریعت جاری نہیں کریں گے بلکہ دجال کا فتنہ ختم کردیں گے۔ بہرحال یہ مسئلہ تخلیق کائنات کے وقت سے لے کر متفق علیہ رہا ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کی عبادت روا نہیں۔ اللہ نے اپنے سوا کسی کو معبود نامزد نہیں کیا ، اسی کی گواہی سابقہ انبیاء بھی دیں گے۔ یہ مسئلہ توحید بھی آ گیا آگے مزید تسلی کا مضمون آ را ہے۔ نیز شرک کی تردید اور طریقہ تبلیغ بھی بیان ہوگا۔
Ayahs 43:46–56

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَقَالَ اِنِّیْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 43:46 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سربرآوردہ لوگوں کی طرف پس کہا (موسیٰ (علیہ السلام) نے ) میں رسول ہوں رب العالمین کی طرف سے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَضْحَكُوْنَ Open ayah 43:47 in the Quran reader

پس جب وہ آئے ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر تو اچانک وہ ان (نشانیوں) کے ساتھ ہنستے تھے

وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:48 in the Quran reader

اور ہم نہیں دکھاتے ان کو کوئی نشانی مگر وہ پڑھی ہوئی ہوتی تھی دوسری سے اور پکڑا ہم نے ان کو عذاب میں تاکہ وہ لوگ باز آجائیں

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 43:49 in the Quran reader

اور کہا انہوں نے اے جادوگر انسان ! دعا کر ہمارے لئے اپنے پروردگار کے پاس جو کچھ اس نے عہد کیا ہے تمہارے ساتھ بیشک ہم راہ پر آجائیں گے

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ Open ayah 43:50 in the Quran reader

پس جب ہم نے کھول دیا ان سے عذاب تو اچانک وہ توڑتے تھے (عہد کو)

وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِهٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ١ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَؕ Open ayah 43:51 in the Quran reader

اور پکارا فرعون نے اپنی قوم کے درمیان اور کہا اے میری قوم کے لوگو ! کیا یہ ملک مصر میرے قبضہ میں نہیں ہے ؟ اور یہ جو نہریں چلتی ہیں میرے محل کے سامنے ، کیا تم دیکھتے نہیں ؟

اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ١ۙ۬ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ Open ayah 43:52 in the Quran reader

بھلا میں بہتر ہوں اس شخص سے جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ صاف بات کرسکے

فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ Open ayah 43:53 in the Quran reader

پس کیوں نہیں ڈالے گئے اس پر کنگن سونے کے ، اور کیوں نہیں آتے اس کے پاس فرشتے لگاتار

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 43:54 in the Quran reader

پس خفیف بنایا اس نے اپنی قوم کو تو انہوں نے اس کی اطاعت کی بیشک تھے وہ لوگ نافرمان

فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 43:55 in the Quran reader

پس جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ہم نے ان سب کو پانی میں غرق کردیا

فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 43:56 in the Quran reader

پس کردیا ہم نے ان کو گنے گزرے لوگ اور ایک مثالی پچھلوں کے لئے

ربط آیات گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے باعث عزت و شرف ہے۔ قیامت والے دن اس کے بارے میں باز پرس ہوگی کہ دنیا میں تم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ تمام ابنیاء (علیہم السلام) اور تمام آسانی کتب اس بات پر متفق ہیں کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ علیہ اسللام کا ذکر ہے اور ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے موقف جزا کا تمسخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضور ﷺ کی قوموں کے حالات آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ فرعون کے سرداران بھی بڑے فرد اور سرکش تھے۔ جب کہ سرداران قریش بھی ایسے ہی تھے۔ دونوں اقوام نے اپنے اپنے نبی کو سخت ایذائیں پہنچائیں۔ مگر بالآخر اپنے برے انجام کو پہنچے چناچہ یہاں پر اللہ نے مسویٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ فرما کر حضور ﷺ کو تسلی دی ہے ۔ ارشاد ہتا ہے ولقد ارسلنا مسوی بایتنآ الی فرعون و ملائہ اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجا موسیٰ علیہ اسللام کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سربرآور وہ لوگوں کی طرف قالم ابی رسول رب العلمین تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کافر ستادہ ہوں میں خود نہیں آیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا میں تمہیں توحید کی دعوت دیتا ہوں اور تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ کفر اور شرک سے باز آ جائو اور صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے خاص طور پر فرمایا ھل لک الی ان تزکی واھدیک الی ربک فتحنثی (سورۃ النزعت) کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے اور میں تجھے تیرے پروردگار کا راستہ بتائوں تاکہ تجھ میں خوف پیدا ہو۔ یہاں پر نشانیوں سے مراد وہ نو معجزات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسویٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے ۔ ان میں دو بڑی نشانیاں عصا اور ید بیضا تھیں۔ سورة الاعراف میں آتا ہے فارسلنا علیھم الطوفان والحراد والقمل والضفادع واللہ ایت مفصلت (آیت 133- ) ہم نے فرعونیوں پر طوفان ، ٹڈی دل ، جوئیں مینڈک اور خون جیسی واضح نشانیاں بھیجیں ، مگر وہ تکبر کرتے رہے اور وہ مجرم لوگ ہی تھے۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں جن نشانیوں کا ذکر ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ اس سے یہی نو معجزات مراد ہیں۔ فرمایا جب موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے نشانیاں لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس آئے فلما جآء ھم بایتنآ اذا ھم منھا یضحکون ۔ تو وہ لوگ ان نشانیوں کا مذاق اڑانے لگے۔ انہوں نے خود موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بیہودہ باتیں کیں۔ اگلی آیت میں آ رہا ہے کہ آپ کو جادو گر کہا اور معجزات کو کرتبوں سے تعبیر کیا۔ حالانکہ معجزہ تو اللہ کے نبی کی صداقت کی نشانی ہوتا ہے اور ایسی چیز ہر شخص پیش نہیں کرسکتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حمک سے ہوتا ہے۔ الغرض فرعون اور اس کی قوم نے معجزات کی ہنسی اڑائی۔ بلاوجہ ہنسی ویسے بھی کوئی اچھی چیز نہیں چہ جائیکہ اللہ کے نبی اور اس کے لائے ہوئے معجزات کی ہنسی اڑائی جائے۔ ہنسنا اگرچہ ایک طبعی امر ہے مگر حضور ﷺ کبھی قہقہہ لگا کر نہیں ہنسے۔ آپ زیادہ سے زیادہ مسکرا دیتے تھے۔ بعض اوقات ہنستے بھی تھے مگر قہقہہ نہیں لاگتے تھے کہ یہ غفلت کی علامت ہے۔ اسی لئے دوسری جگہ ہے کہ آگے آنے والی مشکل منزل کے پیش نظر انسان کو ہنستا کمر اور رونا زیادہ چاہئے بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نشانیاں دے کر بھیجا وما نریھم من ایۃ الا وھی اکبر من اختھا ہم ان لوگوں کو بھی جو بھی نشانی دکھاتے تھے وہ پہلی نشانی سے بڑھی ہوئی ہوتی تھی۔ تمام معجزات ایک سے ایک بڑھ کر تھے ، مگر فرعونیوں نے ان کو تسلیم نہ کیا بلکہ ہنسی مذاق میں اڑایا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا واخذنھم بالعذاب لعلھم یرجعون کہ ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ وہ باز آجائیں۔ ان کی یہ گرفت معمولی نوعیت کی تھی اور محض تنبیہہ کے لئے تاکہ وہ اللہ کے نبی کے ساتھ ایسا سلوک کرنے سے باز آجائیں۔ اللہ کا فرمان ہے کہ ہم نے بنی نوع انسان کے لئے دنیا میں دستور قائم کر رکھا ہے کہ ہم انہیں کبھی راحت دے کر آزماتے ہیں اور کبھی تکلیف میں مبتلا کر کے پھر جب لوگ آسودگی کی حالت میں ہمارا شکر ادا نہیں کرتے تو ہم ان پر بعض مصائب ڈال دیتے ہیں جس کا مقصد انہیں تنبیہہ کرنا ہتا ہے تاکہ وہ برائی سے ہٹ کر نیکی کی طرف آجائیں چناچہ فرعونیوں کو بھی اللہ نے بطور تنبیہہ معمولی قسم کی سزا میں مبتلا کردیا۔ دعا کی درخواست جب فرعون اور اس کے حواریوں کو تکلیف پہنچی وقالوایآ یہ السحر تو کہنے لگے ، اے جاوگر ! موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر خطاب کیا کیونکہ اس زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا ویسے ساحر عالم کو بھی کہا اجتا تھا۔ فرعون نے بڑے بڑے ماہر ساحر اپنے دربار میں جمع کر رکھے تھے جن سے وہ امور سلطنت میں مشروے لیا کرتا تھا تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی کہا کہ اے جادور ! ادع لنا ربک بما عھد عندک اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کرو اس عہد کے ساتھ جو اس نے آپ کے ساتھ کر رکھا ہے یا جو اس نے آپ کو سکھا رکھا ہے۔ کہنے لگے تمہاری دعا کی وجہ سے ہی ہماری تکلیف دور ہو سکتی ہے اور اگر ہماری یہ مشکل حل ہوگئی۔ اننا لمھتدون تو ہم تیری بات مان کر راہ راست پر آجائیں گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتجیے میں ان کی تکلیف کو دور کردیا تو ارشاد ہوا فلما کشفنا عنھم العذاب جب ہم نے ان سے سزا کو دور کردیا اذا ھم ینکثون تو انہوں نے اس عہد کو توڑدیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو تسلیم نہ کیا بلکہ حسب سابق آپ کا اور آ پکے لائے ہوئے معجزات کا تمسخر اڑانے لگے ۔ گویا انہوں نے راہ رسات پر آجانے کا عہد توڑ دیا۔ فرعون کا تکبر آگے اللہ نے فرعون کے غرور وتکبر کا ذکر کیا ہے ونادی فرعونیقومہ اور فرعون نے اپنی قوم کو پکارا قال یقوم کہنے لگا ، اے میری قوم کے لوگو ! الیس لی ملک مصر کیا مصر کی بادشایہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے ؟ وھذہ الانھر تجری من تحتی اور کیا یہ نہریں میری نہیں ہیں جو میرے محلات کے سامنے بہہ رہی ہیں۔ اس زمانے میں مصر کی سلطنت اردگرد کی سلطنتوں سے مال و دولت تجارت اور زراع تکے لحاظ سے بڑھی ہوئی تھی۔ بڑا خوشحال ملک تھا۔ دریائے نیل پر جگہ جگہ ڈیم بنے ہوئے تھے۔ نہریں جاری تھیں ، جن سے آبپاشی خوب ہوتی تھی۔ فرعون نے اس چیز پر غرور کیا کہ دیکھو اتنے خوشحال ملک کی باگ ڈور تو میرے ہاتھ میں ہے۔ افلاتبصرون کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں کس قدر صاحب اقتدار و اختیار ہوں ؟ پھر اگلا سوال کیا ام انا خیر من ھذا الذی ھومھین کیا بھلا میں اس حقیر شخص سے بہتر نہیں ہوں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس نہ مال و دولت ہے ، نہ فوج ، نہ سلطنت یہ تو ایک بےوقعت سا آدمی ہے بھلا اس کا اور میرا مقابلہ کیا ہے۔ میں تو لازماً اس سے بہتر ہوں۔ پھر کہنے لگا فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب کو مدعی نبوت موسیٰ (علیہ السلام) کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے جاتے۔ اس زمانے میں سونے کے کنگن پہننا بہت بڑی امارات اور عزت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ فرعون خود بھی سونے کے کنگن اور مرصع ریشمی لباس پہنتا تھا۔ وہ بہترین گھوڑے پر سواری کرتا تھا یا پھر رتھ پر سوار ہوتا تھا تو کہنعے لگا کہ دنیا میں بڑائی کی یہی نشانیاں ہیں مگر موسیٰ (علیہ السلام) اس معیار پر پورے نہیں اترتے ، لہٰذا ہم اس کو اللہ کا نبی کیسے تسلیم کرلیں۔ پھر کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں جسمانی طور پر بھی ایک نقص ہے ولا یکادیین کہ وہ تو بات بھی اچھے طریقے سے نہیں کر سکات۔ آپ کی زبان میں قدرے سنت تھی۔ جس کی وجہ سے آپ اپنا مافی الضمیر احسن طریقے سے بیان نہیں کرسکتے تھے۔ اسی لئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی تھی کہ پروردگار چ میرے سینے کو کھول دے میرے کام کو آسان بنا دے واحلل عقدۃ من لسانی یفقھو قوبی (ہ 27/28) اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں پھر اس دعا نے نتیجے میں آپ بات کرنے کے قابل ہوگئے تھے تاہم لکنت کا کچھ اثر باقی رہ گیا تھا جس کی بنا پر فرعون نے کہا کہ یہ تو بات بھی ٹھیک طرح سے نہیں کرسکتا تو بھلا یہ شخص مجھ سے کیسے بہتر ہو سکتا ہے ؟ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ مسویٰ (علیہ السلام) کی بات تو سمجھ میں آجاتی تھی مگر آپ کے غلام میں زیادہ فصاحت نہیں تھی ، اسی لئے آپ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا واخی ھرون ھو افصح منی لساناً (القصص 34- ) میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی میرے ساتھ بھیج دے کیونکہ وہ زبان کے لحاظ سے مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔ اگر میری بات کو سمجھنے میں لوگوں کو وقت پیش آئی تو ہارون (علیہ السلام) اس کی وضاحت کردیں گے۔ بہرحال فرعون کہنے لگا کہ نبوت کی دلیل کے طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو سونے کے کنگن کیوں نہیں پہنائے جاتے اوجآء معہ الملئکۃ مقترنین ، یا کم از کم اس کے ساتھ لگاتار فرشتے آتے جو اس کی نبوت کی تصدیق کرتے تو ہم پھر بھی مان لیتے۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ فرشتوں کی صورت میں کوئی باڈی گارڈ بھی نہیں ہے ، لہٰذا ہم اس کی دعویٰ نبوت کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ قوم کی بےوقوفی اللہ نے فرمایا فاستخف قومہ اس طرقیے سے فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا۔ چکنی چپڑی باتیں کر کے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو قحیر ثابت کر کے قوم کو ورغلایا چناچہ قوم اس کے بہکاوے میں آگئی فاطاعوہ اور انہوں نے اس کی اطاعت کرلی یعنی فرعون کی ہاں میں ہاں ملا دی کہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق جو کچھ کہتا ہے وہ درست ہے ، فرعون کی قوم واقعی بیوقوف تھی۔ وہ عقل معاش سے تو بخوبی واقف تھے اور دنیا طلبی کو خوب جانتی تھے۔ مگر عقل معاد سے محروم تھے اور نہیں جانتے تھے کہ حساب کتاب کا ایک دن آنے اولا ہے جب اللہ کی بارگاہ میں ذرے ذرے کا حساب دینا پڑے گا اور اس وقت ان کی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی بہت مہنگی پڑے گی ۔ فرعون کی اس قسم کی تقریر سورة مومن میں بھی گزر چکی ہے جب اس نے اپنے حواریوں سے کہ ا کہ مجھے موسیٰ علیہ اسللام کو قتل کرنے دو اور یہ اپنے رب کو بلالے انی اخاف ان یبدل دینکم (آیت 26- ) مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین ہی نہ بدل ڈالے یا زمین میں فساد نہ برپا کر دے۔ بہرحال فرعون نے اپنی چرب زبانی سے قوم کو بیوقوف بنایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن بنا دیا۔ فرمایا انھم کانوا قوماً فسقین بیشک وہ سب کے سب نافرمان لوگ تھے۔ پوری کی پوری قوم کے ناہنجار ہونے کی بعض دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً قوم نون کے متعلق فرمایا انھم کانوا قوماً عمین (الاعراف 64- ) وہ ساری قوم دل کی اندھی تھی ماسوائے ان نفوس کے جو نوح (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے۔ اسی طرح قوم فرعون کے متعلق سورة مومن میں موجود ہے کہ پوری قوم میں صرف ایک شخص مومن تھا جس کے نام پر سورة کا نام موسوم ہے اور یا پھر فرعون کی بیوی مومنہ تھی ، باقی سب نافرمان ہی تھے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سارے ملک پر شیطان کا غلبہ ہوچکا ہے۔ ہمارا ملک بھی اسی زد میں آیا ہوا معلوم ہوتا ہے جہاں نیکی والے آدمی بالکل قلیل تعداد میں ہیں اور اکثریت ان لوگوں کی ہے ہے جو کافر ، مشرک یا بدعتی ہیں یا پھر کھیل تماشے کے دلدادہ ہیں۔ انہیں نیکی کا کوئی کام آتا ہی نہیں یہ لوگ اسی حالت میں پڑے رہتے ہیں حتیٰ کہ یا تو موت آجاتی ہے اور یا پھر ان پر کوئی آفت ڈال دی جاتی ہے کبھی غلامی میں جکڑے جاتے ہیں۔ کبھی ملک کا کوئی حصہ چھن جاتا ہے۔ طوفان آتے ہیں۔ زلزلے آتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ قوم کی اکثریت نافرمان ہوتی ہے۔ قوم فرعون سے انتقام فرمایا فلما اسفونا جب قوم فرعون نے ہمیں غصہ دلایا بار بار تبلیغ حتی کے باوجود انہوں نے خدا تعالیٰ کو نارضا کردیا انتقمنا منھم تو ہم نے ان سے انتقام لیا فاعرقنھم اجمعین پس ان سب کو پانی میں غقر کردیا۔ صرف چھ لاکھ ستر ہزار آدمی جو موسیٰ علیہ اسللام کے ساتھ تھے۔ وہی بحر قلزم سے پار گئے تھے باقی سب فرعونی بحیرہ قلزم کی لہروں کا شکار بنے۔ فجعلنھم سلفاً پس ہم نے ان کو گنے گزرے لوگ بنا دیا ۔ کتب سماویہ اور تاریخ میں ان کے قصے کہانیاں ہی باقی رہ گئیں اور وہ سب نابود ہوگئے۔ ومثلاً لاخرین اور پچھلوں کے لئے انہیں ایک مثال بنا دیا تاکہ بعد میں آنے والے لوگ دیکھ لیں کہ اس قسم کے سرکشوں کا کیا انجام ہوتا ہے یہ تو بڑے سرکش اور والیان ملک کا حال ہوا۔ بھلا عام لوگوں کے غرور وتکبر کی کیا حیثیت ہے ۔ جو لوگ اللہ کے دین میں روڑے اٹکائیں گے۔ خدا کی شریعت کو ٹھکرائیں گے۔ ان کا انجام بھی سابقہ نافرمان قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔
Ayahs 43:57–62

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ Open ayah 43:57 in the Quran reader

اور جب بیان کی گئی مثال عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) کی تو اچانک آپ کی قوم کے لوگ اس سے چلانے لگے

وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَ١ؕ مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ Open ayah 43:58 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ انہوں نے یہ مثال نہیں بیان کی آپ کے سامنے مگر جھگڑا کرنے کے لئے بلکہ یہ لوگ جھگڑالو ہیں

اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْهِ وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 43:59 in the Quran reader

نہیں ہے وہ (عیسیٰ ابن مریم) مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور بنایا ہم نے اس کو نمونہ بنی اسرائیل کے لئے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ Open ayah 43:60 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو بنا دیں تمہاری جگہ فرشتے زمین میں جو آگے پیچھے آتے رہیں

وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَ اتَّبِعُوْنِ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 43:61 in the Quran reader

اور بیشک وہ صعیسیٰ ابن مریم) البتہ نشانی ہے قیامت کی ، پس نہ تم شک کرو اس (قیامت کے بارے میں اور میری بات مانو۔ یہی ہے سیدھا راستہ

وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:62 in the Quran reader

اور نہ روکے تمہیں شیطان۔ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ، اور اس کے ساتھ فرعون اور اس کے حواریوں کا بھی جنہوں نے غرور وتکبر کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کیا ، اور ان کی مثال میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ اللہ نے دنیا میں ہی ان کی گرفت کی اور فرعن نبع اپنے لاکھوں لشکریوں کے بحیرہ قلزم کی موجودں کی نذر ہوگیا۔ دنیا میں ان کو یہ سزا ملی جب کہ آخرت کا دائمی عذاب آگے آنے اولا ہے۔ اللہ نے ان کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے باعث عبرت بنا دیا۔ قریش مکہ کا واویلا اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی قوم قریش مکہ کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہتا ہے ولما ضرب ابن مریم مثلاً جب حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) کی مثال بیان کی گی۔ اس مثال سے مراد وہ حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورة الانبیاء میں بیان فرمائی ہے ان کم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم (آیت 98- ) تم اور وہ معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ نیز فرمایا لوکان ھولآء الھۃ م اور دوھا (آیت 99- ) اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے۔ مطلب یہ کہ جن کی تم پوجا کرتے ہو یہ تو عبادت کے لائق ہی نہیں اگر یہ معبود ہوتے تو پھر تو دوزخ سے بچ جاتے مگر موجودہ صورت میں تم اور تمہارے یہ معبود ان باطلہ سب جہنم رسید ہوں گے۔ جب یہ مثال بیان کی گئی تو اللہ نے فرمایا اذا قومک منہ یصدون تو اے نبی (علیہ السلام) آپ کی قوم چیخنے چلانے لگی۔ کہنے لگے دیکھو آپ ہمارے معبودوں کی مذمت بیان کر رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ وہ بھی جہنم کا ایندھن بنیں گے انہوں نے دلیل کے طور پر کہا کہ ہمارے معبودوں میں تو فرشتے ، عیسٰی (علیہ السلام) اور عزیز (علیہ السلام) بھی شامل ہیں جو اللہ کے مقرب ہیں تو کیا ملائکہ اور انبیاء بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جائیں گے ؟ اس سوال کا جواب اللہ نے سورة الانبیاء میں ہی دیا ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون (آیت 101) جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے ہی بھلائی مقرر ہوچکی ہے ، وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے۔ اس سے مراد ملائکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیز علیہ اسللام ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے کہ اگرچہ لوگوں نے ان کو معبود بنا لیا مگر ان کے لئے اللہ نے بھلائی لکھ دی ہے لہٰذا وہ اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کبھی الوہیت کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ مشرکوں نے ازخود ان کو الوہیت کے درجے پر پہنچا دیا۔ لہٰذا یہ ان کے ساتھ سزا میں شریک نہیں ہوں گے۔ مشرکین نے اللہ کے آخری نبی اور رسول پر دوسرا اعتراض یہ کیا کہ آپ بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اپنی پرستش کرانا چاہتے ہیں۔ اس لئے تو مسیح (علیہ السلام) کا نام بڑے ادب و احترام سے لیتے ہیں اور ان کی خوبیاں گنواتے ہیں۔ ان کے اس اعتراض کی بنیاد سورة آل عمران کی آیت 59- پر تھی ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادھ خلقہ من تراب بیشک اللہ کے نزدیع عیسیٰ علیہ اسللام کی مثال آدم (علیہ السلام) کی ہے جن کو اللہ نے مٹی سے تخلق فرمایا ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے واسطہ کے پیدا کیا اور حوا نہ کو بغیر ماں کے واسطہ سے تخلیق کیا۔ اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے واسطہ کے پیدا فرما دیا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا شاہکار ہے۔ وہ جس طرح چاہے کسی کو پیدا فرما دے وگرنہ اس کا عام قانون تو یہی ہے کہ وہ انسان کو ماں اور باپ دونوں کے واسطہ سے پیدا فرماتا ہے جیسے اس کا ارشاد ہے۔ اے لوگو ! اس اللہ سے ڈر جائو جس نے تمہیں ایک جان سے تخلق کیا وخلق منھا زوجھا پھر اسی ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے اس کا جوڑا یعنی حضرت حوا کو پیدا کیا ویت منھما رجالاً کثیرا ونسآء (انلسآ 1- ) اور پھر ان دونوں سے کثیر تعداد میں مرد و زن پیدا کر کے زمین میں پھیلا دیئے۔ بہرحال مشرک لوگوں کا اعتراض یہ تھا کہ اللہ کا قرآن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو عام قانون تخلیق سے مستثنیٰ قرار دے کر ان کی عزت و احترام کرتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اپنی عبادت کرانا چاہتے ہیں۔ جس طرح نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) لیہ السلام کی پوجا کرتے ہیں ۔ ا سی طرح آپ بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ و قالوآء الھتنا خیر ام ھو وہ یہ سوال بھی کرتے تھے کہ بھلا بتلائو کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا عیسیٰ (علیہ السلام) ؟ اللہ نے اس قسم کی بیہودہ باتوں کے جواب میں فرمایا ماضربوہ لک الاجدلاً انہوں نے یہ مثال آپ کے سامنے محض جھگڑا کرنے کے لئے بیان کی ہے۔ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کی مثال آپ پر فٹ کرنا چاہتے ہیں۔ جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے ۔ حقیقت یہ ہے بل ھم قوم خممون یہ جھگڑالو لوگ ہیں جو آپ کو اس قسم کی بیہودہ باتوں میں الجھانا چاہتے ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ فرشتوں نے یہ حضرت عیسیٰ السلام یا حضرت عزیز (علیہ السلام) نے کبھی اپنی عبادت کا حکم لوگوں کو نہیں دیا۔ وہ تو ہمیشہ اپنی پرستش سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے اور دنیا میں اللہ کی وحدانیت کا دسر دیتے رہے ان اللہ ربی و ربکم فاعبدود ھذا صراط مستقیم (آل عمران 51- ) عیسیٰ (علیہ السلام) نے واضح کردیا کہ میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے ، اسی کی عبادت کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے ۔ انہوں نے متنبہ کردیا انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ لعیہ الجنۃ وما وئہ النار ط بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔ اللہ نے اس پر جنت حرام قرار دے دی اور اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا۔ انہوں نے تو یہ تعلیم دی مگر خود ان کے نام نہاد پیروکاروں نے توحید کے اس عقیدے کو بگاڑ کر انہی کو الوہیت کا درجہ دے دیا کسی نے خدا کا بیٹا کہا ، کسی نے تینوں میں سے تیسرا تسلیم کیا اور کسی نے مود خدا کردیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بر انعامات الہیہ اللہ نے فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) نہ خدا تھے اور نہ خدا کے بیٹے ن ھولا عبد انعمنا علیہ نہیں تھے وہ مگر ایک بندے جس پر ہم نے انعام کیا۔ آپ پر پہلا انعام تو تخلیق کے سلسلے میں ہوا کہ اللہ نے بغیر باپ کے اپنی قدرت کا ملہ سے ان کو پیدا فرمایا ، ان کی پرورش بھی عجیب و غریب طریقے سے ہوئی۔ اللہ نے انہیں انجیل جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی اور آپ کے ہاتھ پر حیرت انگیز معجزات کا اظہار فرمایا اور پھر سب سے بڑا انعام نبوت و رسالت ہے کہ جس سے بڑھ کر کوئی مطلب نہیں تو فرمایا وجعلنہ مثلاً لبنی اسرآئیل ہم نے آپ کو بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنا دیا۔ اس کی وضاحت سورة آل عمران میں موجود ہے۔ ورسولاً الی بنی اسرآئیل (آیت 49- ) اللہ نے آپ کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ کی نبوت بین الاقوامی نہیں بلکہ قومی تھی۔ بہرحال یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑا انعام تھا۔ فرمایا ولو نشآء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون اور اگر ہم چاہیں تو تمہاری جگہ زمین میں فرشتے بنا دیں تو آگے پیچھے آتے رہیں۔ یہ اس کی قدرت میں ہے کہ زمین پر فرشتوں کو نازل فرما دے۔ مگر اس نے اپنی حکمت بالغہ سے عیسیٰ (علیہ السلام) جیسی جلیل القدر ہستی کو پیدا کیا تو اس میں تعبج کی کون سی بات ہے ؟ نزول مسیح بطور آثار قیامت بہرحال اللہ تعالیٰنے یہاں پر عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق دو باتوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور دوسری بات یہ کہ وانہ لعلم للساعۃ بیشک آپ قیامت کی نشانی ہیں۔ علم تو نشانی کو کہتے ہیں اور علم بایں معنی کہ ایک ایسی چیز جس کے ذریعے قیامت کا قریب الوقوع ہونا معلوم ہوگا یعنی مسیح (علیہ السلام) کا نزول قرب قیامت کی علامت ہوگا اور یہی چیز آپ کی حیات کی دلیل ہے کہ آپ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں انہ کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے اور معنی یہ بنتا ہے کہ بیشک قرآن ایک علم ہے جس کے ذریعے وقوع قیامت کا پتہ چلتا ہے۔ اللہ نے قرآن پاک میں قیامت کا ذکر بکثرت کیا ہے بلکہ قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ قیامت کے موضوع پر ہی مشتمل ہے۔ تاہم اکثر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ انہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے یعنی بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہیں جو کہ آپ کے دوبارہ نزول کی طرف ایک اشارہ ہے۔ امام ابن کثیر اور بعض دیگر مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کے نزول کی۔ روایات متواتر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اتنے کثیر راویان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہے۔ اس سے یہی اخذ ہوتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) قرب قیامت میں ضرور نازل ہوں گے اور حقیقت ہر مسلمان کے عقیدہ کا جزو ہے۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد مبارک ہے کیف اذ نزل فیکم ابن مریم اس وقت کیا حالت ہوگی جب عیسیٰ (علیہ السلام) تمہارے درمیان آسمان کی طرف سے نازل ہوں گے آپ صاحب انصاف حاکم ہوں گے۔ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ اس وقت جزیہ موقوف ہوجائے گا کیونکہ اس وقت اسلام کے سوا دنیا پر کوئی دوسرا دین نہیں ہوگا۔ اگر کوئی عیسائی اسلام قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) حضور خاتم النبین ﷺ کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اسی کے مطاب قفصلے کریں گے۔ مسلم شریف میں امام ابن ابی ذنب کی روایت میں آتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں حضور ﷺ کے نائب کی حیثیت سے آئیں گے اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کریں گے ۔ واقعہ معراج میں بھی موجود ہے کہ جب عالم بالا میں ابنیاء (علیہم السلام) کا اجتماع ہوا اور قیامت کا ذکر ہوا تو تمام انبیاء نے یہی کہا کہ ہمیں وقوع قیامت کے وقت کا علم نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مسیح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے قیامت کی گھڑی کے متعلق تو علم نہیں۔ البتہ اس قدر جانت اہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے مجھے زمین پر اتاریں گے اور میں دجال کو قتل کروں گا۔ قرب قیامت کی نشانیوں میں خروج دجال کے علاوہ خروج یاجوج ماجوج (الانبیائ۔ 96- ) اسی طرح سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ، مشرق اور جزیرۃ العرب میں خسف الارض یعنی زمین کا دھنس جانا آگ کا عدن کے کنارے سے نکلنا اور لوگوں کو ہانک کر شام کی طرف لے جانا ۔ وغیرہ علامات قیامت میں شمار ہوتی ہیں اور نزول مسیح بھی انہی نشانیوں میں شامل ہے۔ فرمایا فلا تمترن بھا پس تم قیامت کے بارے میں شک میں نہ پڑو واتبعون اور میری بات کو مانو۔ ھذا صراط مستقیم یہی سیدھا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین ۔ قیامت پر ایمان اور نزول مسیح کو قیامت کی علامت کے طور پر ماننا ہر اہل ایمان کے عقیدے میں داخل ہے یہی سیدھا راستہ ہے جس شخص نے اس عقیدے کے خلاف کیا وہ راہ رسات سے ٹھیک گیا۔ قادیانیوں کا باطل عقیدہ حیات مسیح (علیہ السلام) کے سلسلے میں قادیانیوں نے بہت دجل کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ آپ فوت ہوچکے ہیں اور جن احادیث میں نزول مسیح کا ذکر صراحتاً موجود ہے ان کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ ان احادیث میں مذکورہ مسیح سے مراد مٹیل مسیح ہے جو مرزا غلام احمد کی صورت میں آ چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) روح مع الجسد دوسرے آسمان پر زندہ موجود ہیں اور قرب قیامت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر نزول فرمائیں گے اور یہاں پر عدل و انصاف قائم کریں گے۔ جن احادیث میں نزول مسیح کا ذکر آیا ہے وہ تواتر کا درجہ رکھتی ہیں۔ لہٰذا ان میں کسی قسم کا شک یا تاویل کی کوئی گنجا ئش نہیں۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری نے اس موضوع پر کتاب لکھی ہے۔ معقیدۃ السلام فی حیات عیسیٰ (علیہ السلام) عربی زبان میں ایک ضخیک کتاب ہے جس میں تمام متعلقہ احادیث کو جمع کردیا گیا ہے جس سے مسئلہ بالکل واضح ہوجاتا ہے بہرحال یہاں پر علم سے مراد وہ چیز ہے جس کے ذریعے قرب قیامت کا پتہ چلتا ہے اور مراد اس سے علامت اور نشانی ہے۔ شیطانی حملہ سے بچائو فرمایا سیدھا راستہ توہ وہی ہے جو ایمان ، توحید اور نیکی کا راستہ ہے۔ ولا یصدنکم الشیطن اور شیطان تمہیں اس راستہ سے کہیں روک نہ دے تمہیں عقیدہ قیامت سے متزلزل نہ کر دے۔ انہ لکم عدومبین بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ وہ ہمیشہ انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ لوگوں کا عقیدہ خراب کرتا ہے۔ شک ڈالتا ہے ، لہٰذا اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔