Ayahs 43:63–67توحید ، رسالت اور معاد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا مشرکین کا اعتراض یہ تھا کہ اگر عابد اور معبودان باطلہ سب جہنم میں جائیں گے تو پھر مسیح (علیہ السلام) کا کیا بنے گا کیونکہ ان کی بھی تو لوگ پرستش کرتے ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کے پجاری بھی ہیں اور مذکورہ اصول کے تحت ان کو بھی سزا ملنی چاہئے۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ جھگڑالو لوگ ہیں۔ نہ تو یہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی انصاف سے کام لیتے ہیں۔ ملائکہ اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو کبھی لوگوں کو اپنی پرستش کا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا ان کے صرف عابد جہنم میں جائیں گے ، انہوں نے تو ہمیشہ لوگوں کو کفر اور شرک سے بچنے کی تلقین کی ۔ یہ لوگ محض جھگڑا کرنے کی خاطر ایسی باتیں کرتے ہیں۔ حضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان بھی ہے کہ جب لوگ حقیقت کو چھوڑ دیتے ہیں تو پھر جھگڑے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ درس کی آیات میں مسیح علیہ اسللام کی پوزیشن واضح کی کہ وہ تو ہمارا بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا ۔ آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو بلند حیثیت عطا فرمائی اور آپ کو بنی اسرائیل کے لئے نمونہ بنایا۔ آپ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں جب دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے تو لوگ سمجھ جائیں گے کہ اب قیامت آنے والی ہے۔ فرمایا قیامت کے بارے میں شک نہ کرنا ، میرا اتباع کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔ کہیں شیطان تمہیں اس صراط مستقیم سے بہکانہ دے۔
مسیح (علیہ السلام) کی بعثت
گزشت ہدرس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق دو باتوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ ایک یہ کہ آپ کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا اور آپ قیامت کی نشانی ہیں۔ اب تیسری بات یہ بیان ہو رہی ہے ولما جآء عیسیٰ بالبینت جب عیسٰی (علیہ السلام) واضح نشانیاں لے کر دنیا میں آنے قال قدجئتکم بالحکمۃ تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں۔ اس بات کا تعلق آپ کی بعثت کے مقصد سے ہے۔ آپ امت کے لئے واضح نشانیاں لائے بینات کا اطلاق معجزات پر بھی ہوتا ہے اور دلائل اور احکام پر بھی۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے ذریعے آپ پر احکام بھی نازل فرمائے اور دلائل بھی سمجھائے اور ساتھ ساتھ بےمثال معجزات بھی عطا کئے۔ پھر خاص طور پر حکمت کا ذکر کیا کہ میں تمہارے لئے حکمت بھی لایا ہوں۔ حکمت کا عام معنی دانائی کی باتیں ہیں یعنی ایسی پکی باتیں جن میں کسی قسم کا نقصن ہ پایا جاتا ہو حکمت ایک ایسی عظیم چیز ہے جس کے متعلق خود خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے یوتی الحکمۃ من یشآء ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیراً کثیر (البقرۃ 269- ) اللہ تعالیٰ جس کو چاہے حکمت عطا کرے اور جس کو حکم دے دی گئی ، اس کو بہت بہتری عطا ہوگئی۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد دین کو سمجھنا اور اس کا اتباع کرنا ہے یعنی معرفۃ الدین والفقہ فیہ دین کی معرفت رکھنے الا آدمی ہی صحیح معنوں میں دانا یا دانشور ہے نہ کہ جھوٹی کہانیاں اور ڈرامے لکھنے والا سورة احزاب میں اللہ نے ازواج مطہرات کو خطاب کر کے فرمایا ہے واذکرن مایتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ (آیت 34- ) اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیتیں اور حکمت پڑھی جاتی ہے۔ حکم سے مراد حضور ﷺ کی سنت مطہر ہے جس پر آپ اپنی زندگی بھر عمل پیرا رہے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حکیم سے مراد وہ عقلمند اور دانا آدمی ہے جو حقائق کو سمجھتا حق و باطل میں امتیاز کرسکتا ہو اور دین کے اصولوں اور اس کی مصلحتوں پر عبور رکھتا ہو۔ بعض حکمت کا مفہوم یہ بتلاتے ہیں کہ افضل الاشیاء کو افضل العلوم کے ذریعے جاننا حکمت ہے۔ افضل چیز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کی صفات اس کے اسمائے مبارکہ اور اس کی توحید ہیں اور افضل العلم وہ علم حضور ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی روشنی میں حاصل ہوتا ہے ۔ اسی طرح شیطان کی مکاریوں کی پہچان کو بھی حکمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بہرحال عیسیٰ نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں۔
اختلافی ہو کی وضاحت
پھر آپ نے چوتھی بات یہ فرمائی ولا بین لکم بعض الذی تختلفون فیہ اور تاکہ میں تمہیں بعض وہ باتیں بتلا دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو مختلف شرائع میں بعض احکام تبدیل ہوتے رہے ہیں چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی بعض چیزوں میں ترمیم کردی گئی اور بعض کو منسوخ کردیا گیا اور ان کی جگہ نئے احکام نازل ہوئے اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں شریعت موسوی کی بعض حرام چیزوں کو حلال قرار دے دیا گیا۔ سورة آل عمران میں جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے فرائض منصبی کا ذکر کیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا کہ میری بعثت کا ایک مقصد یہ بھی ہے ولا جآء لکم بعض الذی حرم علیکم (آیت 50- ) تاکہ میں اللہ کے حکم سے تم پر بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو پہلے تم پر حرم تھیں۔ بہرحال یہاں پر بعض اختلافی امور کا ذکر ہے کیونکہ مختلف شرائع میں تمام احکام یکسر نہیں بدل دیئے جاتے بلکہ ان میں سے بعض احکام کو تبدیل کیا جاتا ہے جن کی خاص مصلحت ہوتی ہے۔
اس حصہ آیت سے یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ انسان کے دین ، اخلاق اور عمل سے متعلق امور کی وضاحت ہر نبی کے فرائض منصبی میں شامل رہی ہے۔ البتہ تمام دنیوی امور کے متعلق وضاحت کرنا نبی کے لئے ضروری نہیں کیونکہ یہ کام لوگ اپنی عقل اور تجربے کے ذریعے سمجھتے ہیں اور ان کو انجام دیتے ہیں۔ نبی (علیہ السلام) کا فرمان بھی ہے انتم اعلم بامور دنیاکم یعنی دنیا کے معاملات تم بہت رسمجھتے ہو۔ لہٰذا مجھے بتلانے کی چنداں ضروتر نہیں۔ بہرحال عیسیٰ علیہ اسللام نے بھی فرمایا کہ میرے لئے ضروری ہے کہ میں تمہارے درمیانی اختلافی امور کو کھول کر بیان کر دوں۔ تمہارے عمل ، اخلاق ، اصول اور عبادات میں جو خرابیاں پیدا ہوگئیں ہیں ان کو بیان کر دوں۔
عیسیٰ کی تعلیمات
آپ نے قوم کو یہ تعلیم بھی دی فاتقرا اللہ وطیعون اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات مانو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا یہ مطلب ہے کہ انسان کفر ، شرک ، کبائر صغائر اور خدا کی نافرمانی سے بچ جائے اور ان کی اطاعت دراصل اللہ کی اطاعت ہے من یطع الرسول ……(النسآء 80- ) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے حقیقت میں اللہ ہی کی اطاعت کی۔ لہٰذا بنی کی اطاعت فرض ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو فرمایا تھا ا ن اللہ ھو ربی و ربکم بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ ہے۔ ربوبیت کا معنی کسی چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانا ہونا ہے اور اس کا سب سے بڑا مظہر خود انسان ہے جس کی تخلیق کے مختلف مراحل ، اس کے بچپن ، جوانی اور پھر بڑھاپے کا ذکر اللہ نے قرآن کے مختلف مقامات پر کیا ہے۔ انسان خود اپنے وجود پر ہی نظر ڈال لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت سمجھ میں آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑے بڑے حیوانات ، نباتات ، جمادات در مع دنیات ہر چیز کو حد کمال تک پہنچانا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ جب ہر چیز کا رب وہی ہے فاعبدوہ تو پھر عبادت بھی اسی کی کرو۔ اس میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو ھذا صراط مستقیم یہی سیدھا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ نہ اس کی ربوبیت میں کوئی شریک ہے ، نہ خالقیت میں اور نہ الوہیت میں سورة مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کا یہ قول نقل کیا ہے انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ (آیت 72- ) جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس پر اللہ نے جنت کو حرام کردیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔ غرضیکہ عیسیٰ (علیہ السلام) جب اس دنیا میں رہے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف ہی دعوت دیتے رہے۔
دین میں فرق بندی
اس دعوت کے جواب میں فاختلف الاحزاب من بینھم مختلف گروہوں نے آپ س میں اختلاف کرلیا۔ مسیح (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل کے کئی فرقے بن گئے۔ یہودیوں نے تو سرے سے مسیح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا ہی انکار کردیا۔ ان کو دجال کہا اور ان کی جان کے در پے ہوگئے حتی کہ ان کو سولی پر لٹکانے کی کوشش کی۔ ان کی بدبختی کا یہ حال تھا کہ جب آپ سولی کندھے پر اٹھانے سولی کے مقام کی طرف جا رہے تھے تو ان ظالموں نے آپ کے منہ پر تھوکا اور سا طرح آپ کی تذلیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی ادھر نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار تو کیا مگر جلدی ہی ان کی تعداد میں کمی آنے لگی اور غلط کار لوگ دنیا میں پھیلنے لگے۔ پولس نے اللہ کی صاحب کتاب و شریعت نبی کے متعلق غلط عقائد وضع کئے۔ آپ کی محبت میں اس قدر غلو کیا کہ آپ کو خدا کا بیٹا قرار دے دیا کسی ذمے نے تینوں میں تیسرا خدا مانا اور کسی نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہی خدا ہیں۔ اللہ نے ان سب عقائد کی نفی کی اور فرمایا لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم (المائدہ 17- ) بیشک ان لوگوں نے کفر ……کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے حقیقت یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) ان ھوالا عبد انعمنا علیہ (الزخرف 59- ) وہ تو یک بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا۔ اللہ نے آپ کو ایک عوتر کے پیٹ سے بغیر باپ کے توسل کے پیدا کیا آپ توحید کے علمبردار تھے اور شرکیہ امور سے بیزاری کا اعلان کرتے تھے ۔ ان کے متعلق غلط عقائد پیدا کرنے اولے کفر کے مرتکب ہوئے اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔
نزول قرآن کو چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر یہو دو نصاریٰ کو ابھی تک حقیقت سمجھ میں نہیں آئی اور وہ بدستور کفر و شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ رومن کیتھولک والے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ پروٹسٹنٹ فرقہ قدرے جدت پسند ہے مگر ان کے بھی بنیادی عقائد وہی ہیں جن کی قرآن نفی کرتا ہے آج دنیا میں سب سے زیادہ آبادی (تقریباً اڑھائی ارب) عیسائیوں کی ہے مگر عقائد مشرکانہ ہیں اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے ان الشرک نظلم عظیمہ (لقمان 30) جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ اللہ نے یہاں پر فرمایا فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم پس ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ظلم کیا درد ناک دن کے عذاب سے اس سے مراد قیامت والا دن ہے۔ جب مجرم لوگ درد ناک عذاب کا شکار ہوں گے۔ ظلم کی ابتداء بدعقیدگی یعنی کفر اور شرک سے ہوتی ہے اور پھر اس میں ظلم وجود حق تلفی معاصی اور دیگر مظالم شامل ہوجاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ایسے لوگوں کو قیامت والے دن ہلاکت و بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قیامت کا انتظار
فرمایا حقیقت واضح ہوجانے کے باوجود اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو پھر کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں لا ھل ینظرون الا الساعۃ نہیں انتظار کرتے یہ لوگ مگر قیامت کا ان تاتیھم بغتۃ کہ آجائے ان کے پاس اچانک وھم لایشعرون اور ان کو پتہ بھی نہ چلے۔ فرمایا اب تمام دلائل معجزات ، احکام اور ہدایت کے تمام ذرائع آ چکے ہیں اور صرف قیامت کا آنا باقی ہے جس کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اور ان کے لئے ایمان لانے کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔ اس قیامت سے مراد قیامت صغریٰ اور کبری دونوں مراد ہیں قیامت صغریٰ تو ہر شخص کی موت پر واقع ہوجاتی ہے۔ جسے فرمایا من مات فقد قامت قیامتہ جس کی موت واقع ہوگئی اس کی تو قیامت برپا ہوگئی۔ یہ قیامت صغریٰ ہے جو ہر نفس پر واقع ہوتی ہے۔ اس کی وقوع کا بھی کسی کو علم نہیں اور عام طور پر یہ بھی اچانک ہی آتی ہے اور انسان کا کام تمام ہوجاتا ہے ۔ پھر برزخ کی زندگی شروع ہوجاتی ہے اور قبر میں ابتدائی سوال و جواب کی منزل آجاتی ہے قیامت کبریٰ جو کہ پوری کائنات کے لئے اجتماعی قیامت ہے۔ وہ بھی اچانک ہی آئے گی اور کسی کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔ تو فرمایا کیا یہ لوگ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ برپا ہو اور حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئے۔ جب وہ موقع آجائے گا تو پھر کفار و مشرکین کا کوئی عذر قابل مسموع نہیں ہوگا۔ انسان دارالعمل سے نکل کر دارالجزا میں پہنچ چکے ہوں گے۔ اس وقت لوگ دنیا میں واپس آنے ، ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے کی خواہش کریں گے۔ مگر کچھ شنوائی نہیں ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعتقاد و اعمال کا بھگتان کرنا ہوگا۔
فرمایا قیامت والے دن کیا ہوگا ؟ الاخلآء یومئذ بعضھم لبعض عدو اس دن دنیا میں ایک دوسرے کے دوست دشمن بن جائیں گے۔ مشکل کے وقت کوئی ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکے گا بلکہ دوستی دشمنی میں بدل جائیگی الا المتقین سوائے متقی اور پرہیز گار لوگوں کے کہ جن کی دوستی قیامت والے دن بھی قائم رہے گی۔
محبت کی چار قسمیں
شیخ ابن عربی فرماتے ہیں کہ محبت کی چار قسمیں ہیں یعنی روحانی ، قلبی ، عقلی اور نفسانی فرماتے ہیں کہ قیامت والے دن روحانی اور قلبی محبت تو قائم رہ یگی جب کہ عقلی اور نفسانی محبت ختم ہو کر دشمنی میں تبدیل ہوجائے گی۔ فرماتے ہیں کہ جو روحیں عالم ارواح میں ایک دوسری کے ساتھ متعارف تھیں ، وہ دنیا میں آ کر بھی آپس میں محبت اور الفت کا سلوک ہی کریں گے۔ اور ان کی یہ روحانی محبت برزخ اور آخرت تک قائم رہے گی۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے الارواح جنود مجندۃ روحیں ایک لشکر میں ، جو عالم ارواح میں متعارف تھیں ، ان کے حاملین دنیا میں بھی آپس میں محبت کریں گے اور ان کی دوستی عالم برزخ اور قیامت کے دن بھی قائم رہے گی۔ ان میں انبیاء وہ ادنیا ، صلحاء اصفیاء اور شہداء کی روحیں شالم ہیں۔
فرمایا قلبی محبت اچھے اخلاق ، اچھی سیرت ، صحیح اعتقاد اور عمل صالح پر مبنی ہوتی ہے جو ایماندار ، نیک اور صالح آدمی محض اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے پیش نظر کوئی دنیوی لالچ نہیں ہوتا ان کی محبت میں بھی قیامت والے دن کوئی فرق نہیں آئے گا اور وہ اپنی جگہ قائم و دائم رہے گی۔
فرمایا تیسری محبت عقلی محبت ہے جس کا دار و مدار امور معاش پر ہوتا ہے۔ اس محبت کا دار وم دار کا روبار کی شراکت پر ہوتا ہے۔ لوگ ایک جگہ کام کرتے ہیں۔ کارخانے میں مزدور ہیں یا کسی دفتر میں فرائض انجام دیتے ہیں۔ باہم کھیتی باڑی کرتے ہیں یا مشترکہ تجارت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آپ س میں محبت کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا یہ عارضی محبت ہے اور قیامت والے دن دشمنی میں تبدیل ہوجائے گی۔
شیخ ابن عربی فرماتے ہیں کہ چوتھی محبت نفسانی ہے۔ اس کی بنیاد خواہشات نفسانیہ پر ہوتی ہے۔ لوگ محض اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے دنیا میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں … ایک دوسرے سے مفاد حاصل کرتے ہیں۔ اس میں میاں بیوی کی محبت آجاتی ہے۔ فساق و فجور کی باہمی نسبت بھی محبت نفسانیہ ہوتی ہے۔ غرضیکہ ایسی محبت کی بنیاد نیکی پر نہیں۔ بلکہ ذاتی مفاد پر ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی محبت بھی قیامت والے دن دشمنی میں بدل جائے گی شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ تیسری اور چوتھی قسم کی محبت والے لوگ اکثریت میں ہیں اور انہی کی دوستی قیامت کو دشمنی میں تبدیل ہوجائے گی۔ البتہ پہلی اور دوسری قسم کی محبت جو متقیوں میں پائی جاتی ہے وہ وہاں بھی قائم رہے گی۔
مسند احمد شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے ۔……… اظلھم فی ظلی میری بزرگی سے محبت ……لوگ کہاں ہیں وہ آئیں تاکہ میں انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دوں جس دن میرے سایے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ یہ وہی ابرار اور صلحاء انبیاء اور شہداء ہوں گے جنہوں نے مجموعی طور پر محض اللہ کی رضا کی خاطر ساری امت سے خیر خواہی کی یا ان کے لئے دعا کی۔
بیہقی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ آپس میں اللہ کی عظمت اور نیکی کی خاطر محبت کرنے والے اگر مشرق و مغرب میں بھی ہوں گے تو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس محبت کی وجہ سے ان کو اکٹھا کر دے گا۔ الغرض ! معاش اور نفسانی خواہشات پر مبنی محبت درست نہیں ہے۔ یہ قیامت والے دن دشمنی میں تبدیل ہوجائے گی اور روحانی اور قلبی محبت رکھنے والے متقین قیامت والے دن کامیاب ہوں گے اور ان کی محبت وہاں بھی قائم رہے گی۔
Ayahs 43:68–76ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر اور ساتھ مشرکین کا رد فرمایا۔ پھر نبوت و رسالت کے سلسلہ میں پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کی بعثت کا مقصد واضح کیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ مان کر جو لوگ شرک میں مبتلا ہوئے ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر ایسے لوگوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بارے میں فرمایا کہ کیا اب یہ قیامت کے منتظر ہیں جو اچانک آجائے گی اور ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور ایک دسورے کی صورت دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔ البتہ جو لوگ کفر ، شرک ، معاصی اور بدعقیدگی سے بچتے رہے۔ ان کی دوستی قیامت والے دن بھی قائم رہے گی۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان کی دوستی معاش یا خواہشات نفسانیہ کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ محض رضائے الٰہی اور روحانی مناسبت کی وجہ سے تھی۔
جنت کی بےخوف و حزن زندگی
اب آج کے درس میں پہلے اہل جنت کی زندگی اور ان کو ملنے والے انعامات کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر گنہگاروں کی جہنم رسیدگی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یعباد لاخوف علیکم الیوم اے میرے بندو ! آج کے دن تم پر خوف یا ڈر نہیں ہے۔ تم اپنے امتحان میں کامیاب ہو کر اللہ کی رحمت کے مقام میں پہنچ چکے ہو۔ اب تمہیں مستقبل میں کسی جسمانی یا روحانی تکلیف کا کوئی خطرہ نہیں بلکہ تم ہمیشہ کے لئے امن و سکون ، آرام و آسائش اور سرور و فرحت کی زندگی بسر کرو گے۔ دنیا کی زندگی میں انسان کاتنا بھی خوشحال ہو مگر وہ مستقبل کے کسی نہ کسی خطرے میں ضرور پر یاشن ہوتا ہے۔ کسی نعمت کے چھن جانے کا خطرہ ہتا ہے ، کبھی صحت کی طرف سے پریشانی کہیں کسی مالی و جانی نقصان کا اندیشہ ، جوانی اور پھر عمر ہی بیت جانے کی فکر وغیرہ بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ جن کی وجہ سے انسان کسی نہ کسی وقت پریشان ہوجاتا ہے۔ مگر جو شخص جنت میں پہنچ گیا۔ وہ ہمیشہ کے لئے مامون ہوگیا۔ اسے مستقبل کے کسی نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ فرمایا ولا انتم ختزنون اور نہ ہی تم غمگین ہو گے۔ خوب اور غم میں یہ فرق ہے کہ خوف کسی آنے والی مشکل کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے جب کہ غم کسی سابقہ کارکردگی کی بنئا پر ہوتا ہے۔ فرمایا تمہاری سابقہ زندگی بھی چونکہ کفر ، شرک اور معاصی سے پاک گزر رہی ہوگی لہٰذا تمہیں اس زندگی کے اعمال پر کوئی غم بھی نہیں ہوگا کہ فلاں غلط کام کیوں کیا۔ برخلاف اس کے جو لوگ دنیا کی زندگی میں کفر اور شرک میں مبتلا رہے۔ نفاق اور الحاد کی ظلمتوں میں بھٹکتے رہے۔ انہیں اس زندگی پر غم اور افسوس ہوگا کہ انہوں نے اس زندگی کو ضائع کردیا۔ اور آخرت کے لئے کوئی توشہ تیار نہ کرسکے۔ الغرض ! فرمایا کہ قیامت والے دن جن متقیوں کو دوستیاں قائم رہیں گی انہیں نہ تو مستقبل کا کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ سابقہ زندگی پر پشیمان ہونگے ۔
فرمایا یہ بشارت ان لوگوں کے لئے ہے الذین امنوا بایتنا جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے۔ آیات میں احکام ، مسائل ، دلائل ، معجزات غرضیکہ تمام ایمانیات شامل ہیں۔ تو فرمایا خوف و غم سے مستثنیٰ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات اس کے انبیاء ، ملائکہ ، کتب سماویہ ، قیامت کے دن اور تقدیر پر ایمان لائے یعنی دل سے ان چیزوں پر یقین کیا اور زبان سے ان کا اقرار کیا۔ قلبی یقین کے ساتھ ساتھ زبانی اقرار بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔ فرمایا ایک تو وہ ایمان لائے اور دوسری بات یہ کہ وکانوا مسلمین کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بھی تھے ، اللہ کے ہر حکم کے اعضاء وجوارح سے تعمیل کرتے رہے ، نیکی کو انجام دیتے رہے اور منہیات سے بچتے رہے۔ گویا یہ بشارت ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استفاموا (حم السجدۃ 30- ) جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس بات پر مستقیم رہے ان پر رحمت کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور خوشخبری دیتے ہیں کہ خوف نہ کھائو اور غمگین نہ ہو اور اس جنت کی بشارت سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
پھر ان سے کہا جائے گا ادخلوا الجنۃ انتم وازواجکم تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جائو جب کسی نیکی آدمی کو جنت کی خوشخبری دی جائیگی تو اس کے ساتھ اس کی بیوی کو بھی ساتھ ہی جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ اگرچہ اس کے اعمال قدرے کم ہی کیوں نہ ہوں۔ مگر یہ اہل ایمان کی قدر دانی ہوگی کہ ان کی بیویوں کو بھی ان کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اس قسم کی خوشخبری میں سورة المومن میں بھی بیان ہوئی ہے۔ وہاں پر حاملین عرش فرشتوں کی دعا مذکور ہے کہ وہ اہل ایمان کے لئے اس طرح دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! انہیں رہنے کے باغوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے دعا کر رکھا ہے اور نہ صرف ان کو بلکہ ومن صلح من آبائھم وازواجھم وذریتھہ (آیت 80) ان کے آبائو ، اجداد ، بیویوں اور اولاد کو بھی جنہوں نے اچھے اعمال انجام دیئے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جائو تحبرون تم سب کی عزت افزائی کی ائے گی۔ تمہارا احترام ہوگا کسی قسم کی ذہنی یا جسمانی کوفت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی تذلیل و توہین کا خطرہ ہوگا۔
سونے چاندی کے برتن
آگے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جو اہل جنت کو حصال ہوگی۔ فرمایا یطاف علیھم بصحاف من ذھب واکواب پھیرے جائیں گے ان پر سونے کے پیالے اور آجورے صحاف کے معنے رکابیاں پیالے یا پلٹیں ہیں اور اکواب مشروبات کے لئے استعمال ہونے دے گا یا آخورے کو کہتے ہیں : طلب یہ ہے کہ اہل جنت کو سونے کے برتنوں میں خوردو نوش کی اشیاء پیش کی جائیں گی۔ تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد علی درجے کے جنتی کے لئے سات لاکھ تک خدام ہوں گے جو اس کی خدمت اور اشیاء کی فراہمی کے لئے ہمہ وقت مستعد ہوں گے اور پھر یہ بھی ہے کہ ہر برتن میں کھانا پینا مختلف رنگوں اور مختلف ذائقوں پر مشتمل ہوگا جس سے جنتی لوگ مستفید ہوں گے روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ ہر برتن میں جنتی کی خواہش کے مطابق چیز موجود ہوگی۔ یہاں بھی فرمایا ہے۔ وفیھا ماتشھیہ الانفس سونے کے برتنوں میں ہر وہ چیز ہوگی جس کو نفس چاہیں گے۔ وثلۃ الاعرئیں اور جس سے آنکھیں لطف اندوز ہوں گی۔ یعنی وہ مناظر بھی جنت میں موجود ہوں گے جن سے انسان کی آنکھیں سرور حصال کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ نہایت ہی حسین منظر ہو سکے کیونکہ برے صفا سے تو آنکھیں خوش نہیں ہوتیں۔ غرضیکہ جنت میں اہل جنت کے لئے ہر وہ نعمت میسر ہوگی جس کے ذریعے انسان کے طبعی تقاضے پورے ہوتے ہوں یا جو قلب کی خوشی و مستر کا باعث بن سکتے ہوں۔ فرمایا وانتم فیھا خلدون اے ایمان والو ! تم رحمت کے اس مقام میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہو گے اور وہاں سے کبھی نکالے نہیں جائو گے۔
مسلم شریف میں حضرت حذیفہ کا واقعہ آتا ہے کہ آپ نے ایران کے سفر کے دوران کسی مجوسی سے پانی طلب کیا تو اس نے چاندی کے آبخورے میں پانی پیش کیا۔ آپ نے پینے سے انکار کردیا اور دوبارہ پانی طلب کیا وہ پھر چاندی کے برتن میں پانی لایا کیونکہ ان کا طریقہ تھا کہ وہ بڑے آدمیوں کو سونے چاندی کے برتنوں میں اشیائے خوردو نوش پیش کرتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے پانی کا دو برتن پھینک دیا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے لاتشربو فی ایۃ الذھب والفضۃ ولا تاکلوا فی صحائفھا فان لھم فی الدنیا ولکم فی الاخرۃ اے ایمان والو ! سونے چاندی کے برتنوں میں مت کھائو پیو کیونکہ یہ دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں۔ آخرت میں کافران سے محروم رہیں گے۔ حضور ﷺ کا فرمان یہ بھی ہے کہ جو آدمی سونے چاندی کے برتن میں پانی پیتا ہے فانما خرجو فی بطنہ نارجھنم ایسا شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ ڈالتا ہے۔
سونے چاندی کے زیورات کے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ سونا مرد کے لئے تو قطعاً حرام ہے البتہ وہ ایک مثقال (ساڑھے تنی ماشے) تک چاندی کی انگوٹھی پہن سکتا ہے۔ تاہم عورت کے لئے سونے چاندی کے زیورات پہننا جائز ہے۔ …… جہاں تک سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے کا سوال ہے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ مراد اور عورت دونوں کے لئے ممنوع ہیں۔ بعض اوقات لکڑی یا کسی دیگر دھات کا بنا ہوا برتن ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑنے کے لئے سونے یا چاندی کا ٹان کہ لگا دیا جاتا ہے یا سونے چاندی کی تار سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں امام مالک ایسے برتن کے استعمال کو بھی ناپسند کرتے ہیں۔ البتہ دوسرے فقہائے کرام ایسے برتن کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت انس کے پاس ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو ٹوٹ گیا تو اس کو سونے یا چاندی کا پترا لگا کر جوڑ دیا گیا تھا۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس پلیٹ میں حضور ﷺ کو ہر قسم کے مشروب پلائے ہیں۔ اس سے یہ جواز بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی شخص کا دانت ٹوٹ جائے تو اس کو سونے یا چاندی کے تار کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ ایک صحابی کی ناک کسی جنگ میں کٹ گئی تھی۔ پہلے اس کو چاندی کے ساتھ جوڑا گیا تو بدبو دیتی تھی۔ پھر سونے کی ناک لگائی گئی تو کام دے گئی۔ بہرحال سونے چاندی کا اس قسم کا استعمال تو روا ہے مگر سونے چاندی کے برتن استعمال کرنے کی قطعی ممانعت ہے۔
اس سے یہ مسئلہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ جب سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال روا نہیں تو ان کو اپنے پاس رکھنا بھی درست نہیں۔ ایسے برتن کو یا تو خیرات کردینا چاہئے یا کسی دوسری جنس میں تبدیل کرلینا چاہئے۔ یہی حکم تصویر ، مجسمہ یا صنم کے لئے بھی ہے ۔ ریشم کے متعلق حکم یہ ہے کہ اصل ریشم جو کپڑے کی ڈوری سے نکالا جاتا ہے وہ مردوں کے لئے ناجائز اور عورتوں کے لئے جائز ہے۔ البت جنت میں ریشم کا لباس مرد و زن سب کے لئے ہوگا۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے ولبا سھم فیھا جریر (فاطر 23- ) جنت میں جنتیوں کو خالص ریشم کا لباس پہنایا جائے گا۔
من پسند اشیاء
فرمایا کہ جنت میں ہر من پسند چیز میسر ہوگی۔ ہر جنتی کی ہر جائز خواہش پوری کی جائیگی اور یہ بات طے شدہ ہے کہ جنت میں کوئی بری خواہش پیدا ہی نہیں ہوگی۔ لہٰذا انسان کی ہر خواشہ پوری ہوگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دیہاتی نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں اونٹوں کو بہت پسند کرتا ہوں ، کیا مجھے یہ جانور جنت میں بھی میسر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! تمہاری یہ خواہش پوری کی جائیگی۔ اسی طرح ایک شخص نے عرض کیا ، حضور ! مجھے کھیتی باڑی کا بڑا شوق ہے ، کیا میں یہ شوق جنت میں بھی پورا کرسکوں گا ؟ فرمایا ہو نہی کوئی شخص کا شتکاری کی خواہش کا اظہار رکے گا۔ تو اس کے سامنے فوراً زمین تیار کی جائیگی ، اس میں تخم ریزی ہوگی ، فصل اگ کر بڑی ہوگی اور پک کر تیار ہو جائیگی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے فصل کو کاٹ کر اناج کے ڈھیر لگا دیئے جائیں گے اور اس طرح تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہوجائے گی۔ وہاں کسی موسم یا بارش کا اتنظار نہیں کرنا پڑے گا۔ بلکہ سارا عمل آناً فاناً مکمل ہوجائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم ! تمہاری یہ خواہش بھی پوری کردی گئی ہے۔
حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے ایک صحابی سے فرمایا کہ اصل چیز جنت کا داخلہ ہے اگر وہ تمہیں میسر آ گیا تو پھر تمہاری ہر خواہش پوری ہوگی۔ اگر چاہو گے تو یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو کر جہاں چاہو گے جا سکو گے۔ وہ تمہیں نہایت تیز رفتار کے ساتھ اڑا لے جائے گا حتی کہ لاکھوں میل کا فاصلہ طے کرلو گے مگر نہ کوئی تھکاوٹ اور نہ کسی حادثے کا خطرہ ہوگا۔
جنت کی وراثت
ارشاد ہوتا ہے وتلک الجنۃ التی اور ثموھا یہی ہے وہ جنت جو تم کو وراثت میں دی گئی ہے بما کنتم تعملون ان اعمال کے بدلے میں جو تم انجام دیتے تھے اگرچہ جنت میں داخلہ ایمان کی بنیاد پر ہوگا لیکن ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ درجہ اور مرتبہ تو اعمال کی وجہ سے ہی حاصل ہوگا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی کامیابی کا ذکر کیا ہے۔ وہاں ان الذین امنوا وعملوا الصلحت (البینۃ 7- ) کی شرط لگائی ہے اور جنت کی وراثت کا مطلب یہ ہے کہ یہ بنی نوع انسان کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی میراث ہے جنہیں اولا جنت میں رکھا گیا اور پھر زمین پر اتار دیا گیا ۔ آپ کو آدم (علیہ السلام) کی یہ میراث ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے ملے گی۔
فرمایا اس جنت میں لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ تمہارے لئے بہت سے پھل ہوں گے ومنھا تاکلون جن میں سے تم کھائو گے۔ یہ پھل سدا بہار ہوں گے اور کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ جونہی کسی درخت سے کوئی پھل توڑا جائے گا اس کی جگہ فوراً دوسرا پھل آجائے گا اور اس طرح یہ لامتناہی سلسلہ جاری رہے گا۔ جب کوئی جنتی کسی پھل کی خواہش کرے گا۔ درخت جھک کر اس کے قریب آجائے گا اور وہ اسے آساین کے ساتھ توڑ کر کھالے گا۔
گنہگاروں کا انجام
ترغیب کے بعد اب اگلی آیت میں تربیب کو بھی بیان کیا ہے ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون بیشک مجرم اور گنہگار لوگ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں کفر ، شرک ، نفاق اور الحاد کا شیوہ اختیار کیا اور کبائر و صغائر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کے لئے سخت عذاب ہوگا لایفترعنھم جو ان سے ہلکا بھی نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ متواتر تیزی میں رہے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ وھم فیہ مبلسون کہ وہ اس عذاب میں آس توڑ بیٹھیں گے یعنی مایوس ہوجائیں گے کہ اب یہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ سورة الشوریٰ میں گزر چکا ہے کہ جب ظالم لوگ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ یقولون ھل الی مرد من سبیل (آیت 44- ) تو کہیں گے کیا یہاں سے نکلنے کی کوئی صورت ہے ؟ مگر وہ جہنم سے خراج کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔
فرمایا وما ظلمنھم ہم نے اہل دوزخ پر کوئی زیادتی نہیں کی ہم نے تو دنیا میں ان کو راحت کے تمام سامان مہیا کئے۔ اس کے ساتھ عقل و شعور دیا ، ابنیاء اور کتب بھیجیں ، مبلغ اور منذر آئے اور سا طرح ہدایت کے تمام ذرائع مہیا کئے حکمرانوں نے کفر و شرک کا راستہ چھوڑا لہٰذا ہم نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی ۔ ولکن کانوھم الظلمین بلکہ یہ خود ہی ظالم اور بےانصاف تھے انہوں نے اپنے اختیار اور ارادے سے غلط راستہ اختیار کیا اور اس طرح جہنم میں پہنچ گئے ہم نے تو ان پر بالکل ظلم نہیں کیا۔
Ayahs 43:77–83ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ملنے والی بعض نعمتوں کا ذکر فرمایا۔ پھر محرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور ان سے عذاب میں تحخفیف نہیں کی جائے گی۔ گنہگار مایوس ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اس انجام کو پہنچے ہم نے تو ان کے لئے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے تھے مگر خود انہوں نے توحید کا انکار اور معاد پر یقین نہ لا کر اپنی عاقبت کو خربا کرلیا اس طرح اللہ نے ان لوگوں کی تھوڑی سی کیفیت بیان کردی۔
داروغہ جہنم سے درخواست
اب آج کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے الہ دوزخ کی بےقراری کا کچھ حال بیان کیا ہے۔ ارشاد ہتا ہے ونا دوایملک دوزخی لوگ جہنم کے داروغہ مالک کو پکاریں گے۔ اے مالک لیقص علینا ربک اپنے پروردگار سے درخواست کرو کہ وہ ہمارا فیصلہ ہی کر دے۔ فیصلہ سے مراد موت ہے۔ کہیں گے کہ ہم سخت تکلیف میں ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے اس عذاب میں تخفیف نہیں کرتا تو پھر ہمیں موت ہی دے دے تاکہ ہم اس عذاب سے تو چھوٹ جائیں۔ دنیا میں بھی بعض اقوات انسان بیماری یا کسی دوسری مصیبت سے تنگ آ کر خودکشی کرلیتا ہے کہ اسے مصیبت سے نجات مل جائے تو دوزخ والے بھی عذاب سے تنگ آ کر موت کی تمنا کریں گے۔ مگر وہاں موت بھی نہیں آئے گی۔ اللہ نے سورة طہ میں مجرم کی جہنم میں حالت یہ بیان فرمائی ہے لای موت فیھا ولایحی (آیت 40) نہ وہاں موت آئیگی اور نہ ہی زندگی کی کوئی سہولت ہوگی۔ بلکہ وہاں تو تکلیف ہی تکلیف ہوگی جس سے تنگ آ کر دوزخ والے موت کی تمنا کریں گے۔ مگر وہ بھی نہیں آئیگی اہل دوزخ کی اس قسم کی پکار کا ذکر سورة الاعراف میں بھی بیان ہا ہے ۔ اہل دوزخ اہل جنت سے درخواست کریں گے ان افیضوا علینا من المآء او مما رزقکم اللہ قالوآ ان اللہ حرمھما علی الکفرین (آیت 50- ) ہوں ایک گھونٹ پانی یا جو کچھ اللہ نے تمہیں روی دی ہے اس میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو ۔ مگر آگے سے جواب آئے گا کہ اللہ نے یہ اشیاء کافروں پر حرام کردی ہیں۔ لہٰذا تمہیں ان نعمتوں میں سے کچھ نہیں مل سکتا۔
اس آیت کریمہ میں دوزخ کے فرشتے کا نام مالک ذکر کیا گیا ہے سورة المدثر میں ہے علیھا تسعۃ عشر (آیت 30) دوزخ پر انیس فرشتے مقرر ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالک نامی فرشتہ ان سب کا نگران ہ گا جس سے دوزخ والے درخواست کریں گے اپنے پروردگار سے کہو کہ وہ ہمارا فیصلہ ہی کر دے یعنی ہمیں موت ہی دے دے۔ مگر قال انکم ماکثون وہ کہے گا۔ بیشک تم اسی مقام میں رہنے والے ہو یعنی تمہاری درخواست قبول نہیں کی ئیگی تم نہ تو بیان سے نکل سکو گے اور نہ ہی تمہیں موت آئے گی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہیں رہنا ہوگا ۔ اللہ نے اسی قسم کی حالت کا ذکر سورة فاطر میں بھی کیا ہے۔ فرمایا کافروں کے لئے جہنم کی آگ ہوگی۔ وھو یصخرخون وبا ربنا اخرجنا نعمل صالحاً غیر الذی کنا نعمل (آیت 37) وہ اس میں چیخیں چلائیں گے کہ پروردگار ہمیں یہاں سے نکال لے۔ اب ہم اچھے اعمال انجام دیں گے۔ مگر جواب آئے گا آج ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں رہے گا۔ فرمائے گا قال اخسوا فیھا ولاتکلمون (المومنون 108- ) ذلیل ہو کر دوزخ میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام بھی نہ کو۔ میں تمہارا کوئی عذر سننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔
امام ترمذی نے بعض تابعین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کافر لوگ دوزخ میں ایک ہزار برس تک چیختے چلاتے رہیں گے کہ ہمیں کچھ راحت مل جائے عذاب میں تخفیف ہوجائے یا پھر موت ہی آجائے مگر کچھ جواب نہیں آئے گا۔ پھر ایک ہزار سال کے بعد یہ جواب آئے گا کہ ذلیل ہو کر یہیں دوزخ میں پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام بھی نہ کرو لقد جئنکم بالحق بیشک ہم تمہارے پاس سچا دین لائے ہیں جو صحیح اصولوں پر قائم و دائم ہے اور جس میں انسانیت کی فلاح کا پروگرام موجود ہے ولکن اکثرکم للحق کرھون مگر تم میں سے اکثر لوگ حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔ فرمایا لوگوں نے دنیا میں خود ساختہ دین بنا رکھا تھا۔ قوم برادری اور مکی رسم و رواج پر چلتے رہے حق کا تمسخر اڑاتے ہے اور آج جب گرفت میں آگئے ہیں تو یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ یا موت کے متلاشی ہیں۔ آج ان کی بات نہیں سنی جائیگی بلکہ انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہیں دوزخ میں رہنا ہوگا۔
مشرکین سے مقابلہ
آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا ہے۔ دنیا میں کافر و مشرک ہمیشہ دین حق کی مخالفت کرتے ہیں۔ مکہ اور عرب کے کافروں اور مشرکوں نے بھی دین حق کو مغلوب کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اللہ نے اسی بات کا ذکر فرمایا ہے ام ابرموآ امرا کیا انہوں نے پختہ چیز ٹھہرا لی ہے کسی کام کا پختہ ارا دہ کرلیا ہے تو پھر سن لیں فانا مبرمون ہم نے بھی پختہ ارادہ کرلیا ہے اور ان کی ہر تدبیر کو ناکام بنا نے پر تل گئے ہیں۔ کفار و مشرکین حضور ﷺ اور دین اسلام کے خلاف طرح طرح کے منصوبے بناتے تھے ، سازشیں کرتے تھے مگر اللہ نے فرمایا ۔ ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر المکرین (انفال 30- ) یہ لوگ بھی پوشیدہ تدبیریں کرتے ہیں اور ہم بھی کرتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ہی بہترین تدبیر کنندہ ہے۔ اسی کی تدبیر غالب آئیگی ۔ چناچہ اللہ نے کافروں کے سارے منصوبے ناکام بنا دیئے اور وہ اسلام کا راستہ نہ روک سکے۔
اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے مکہ کے کافر اور مشرک سخت نالاں تھے بالآخر انہوں نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ دین اسلام کو پھینکنے سے روکنے کے لئے دونوں طریقے استعمال کرو۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو شخص …… کرنے کی کوشش کرے اس پر تشدد کرو تاکہ وہ اسلام کا خیال چھوڑ دے اور اگر اس طریقے سے کام بنتا نظر نہ آئے تو لالچ دے کر بھی دین سے روکنے کی کوشش کرو۔ چناچہ شاہ عبدالقادر کے الفاظ میں کافروں نے مل کر مشورہ کیا کہ تمہارے غافل ہونے کی وجہ سے اس نبی کی بات بڑھی ہے۔ آئندہ جو شخص اس دین میں آئے اس کے رشتہ داروں کو مار کر اس شخص کو اپنے پرانے دین میں واپس آنے پر مجبور کردیں۔ جو اجنبی شخص شر میں آئے اسے بتا دو کہ وہ اس نبی کے پاس نہ بیٹھے ۔ اس فیصلے کے مطابق جب پتہ چلتا کہ کسی کا رشتہ دار سالام کی طرف راغب ہے تو اس کو سخت تکالیف پہنچائی جاتیں۔ حضرت عثمان کو ان کے چچا نے بڑی تکلیف پہنچائی کسی کے بھائی کو مارا کسی کے ماموں کو تکلیف دی چناچہ مکہ کے رہنے والے برادری کے اعتبار سے تشدد کرتے تھے اور اگر کوئی شخص باہر سے آتا تو اس کو نبی (علیہ السلام) کے خلاف اکساتے اور پراپیگنڈا کرتے کہ یہ شخص دیوانہ ہے ، الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے لہٰذا اس کے قریب نہ جانا۔
اعشی عرب کا مشوہر شاعر تھا جو ضاحبتہ العرب یعنی عرب کا باجا کہلاتا تھا۔ بڑے اثر و رسوخ کا مالک تھا ، جونہی کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف کوئی شعر کردیا فوراً مشہور ہوجاتا اور لوگ اس کی بات پر یقین کرلیتے بعض کتابوں میں ہے کہ یہ شخص مکہ آیا اور اس نے حضور ﷺ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس سے ابوجہل اور اس کی پارٹی کو سخت تشویش پیدا ہوئی کہ اگر یہ شخص محمد سے متاثر ہوگیا تو پھر سارا عرب پیچھے لگ جائے گا اور اسلام کا راستہ روکنا مشکل ہوجائے گا۔ چناچہ انہوں نے اعشیٰ شاعر کو اناج سے لدے ہوئے سو اونٹ محض اس لئے دیے کہ وہ حضور ﷺ سے ملاقات نہ کرسکے۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص اناج لے کر واپس جا رہا تھا کہ راستے میں اونٹ سے گرا ، گردن ٹوٹ گئی اور وہیں مر گیا۔ بہرحال مشرکین مکہ نے لالچ دے کر اعشی کو حضور ﷺ سے دور رکھا۔
حضرت ضحاو پہلی زندگی میں کاہن اور مشہور معالج تھے۔ انہوں نے بھی نبی (علیہ السلام) سے ملنا چاہا لوگوں نے روکنا چاہا مگر اس نے کہا کہ اگر بقول تمہارے شخص دیوار سے تو میں اس کا شافی علاج کروں گا چناچہ مسلم شریف کی روایت کے مطابق جب حضرت ضحاد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے سامنے وہی خطبہ ارشاد فرمایا جو آپ عام طور پر جمعہ میں سنتے رہتے ہیں۔ ان الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ من یھدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضل فلا ھادی لہ واشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ان محمد عبدہ ورسولہ اما بعد جو نبی آپ نے یہ خطبہ سنا۔ پس گرویدہ ہوگیا۔ علاج کرنے کے لئے آیا تھا مگر اپنا علاج کروا بیٹھا ۔ کہنے لگا لوگ غلط کہتے ہیں کہ یہ شخص مجنون ہے۔ اس کی زبان سے تو اللہ نے وہ کلام جاری کیا ہے جس کا اثر سمندر کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے۔ بہرحال حضرت ضماد اسی مجلس میں مسلمان ہوگئے۔
دین حق سے روکنے کی کوشش گزشتہ ادوار میں بھی ہوتی رہی ہے چناچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق بھی سورة الاعراف میں موجود ہے کہ وہ لوگ راستوں پر بیٹھ کر ڈاکے ڈالتے تھے و تصدون عن سبیل اللہ (آیت 86- ) اور دوسرا کام یہ کرتے تھے کہ اللہ کے راستے سے روکنے تھے۔ ان کا طریقہ بھی یہی تھا کہ کبھی تشدد کے ذریعے روکتے اور کبھی لالچ کے ذریعے۔
دور حاضر کے متشا دین
اہل حق پر تشدد کرنے والے ہر زمانے میں رہے ہیں اور آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔ روسی ، چینی ، ویت نامی اشتراکی تشدد کے ذریعے اسلام کا راستہ روک رہے ہیں۔ روسی اور چینی مسلمانوں پر اقتصادی اصلاحات کے نام پر بڑا تشدد کیا گیا۔ انہیں نماز ادا کرنے سے اور قرآن کی لاوت سے زبردستی روکا گیا حتی کہ مسلمانوں نے اپنی مذہبی کتب تہہ خانوں میں چھپا لیں اور اپنے مذہبی شعائر چھپ چھپا کر ادا کرنے لگے اب تو کچھ نرمی ہوگئی ہے ۔ وگرنہ سٹالن وغیرہ نے تو مذہب اختیار کرنے والوں کو جان سے مار دینے کا حکم دے رکھا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران سٹالن نے چار چار ہزار آدمیوں کو قتل کرنے کے بعد ناشتہ کیا۔ مسجدوں اور دیگر عبادت خانوں کو مسمار کردیا گیا۔ بھارت میں ہندو بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ اب تک بابری مسجد کے تنازعہ میں سینکڑوں آدمی ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہی کام عیسائی مشنریاں انجام دے رہی ہیں۔ وہ کتابیں شائع کر کے مسلمانوں کو عیسائی بناتے ہیں۔ سکولوں ، کالجوں اور ہسپتالوں کے ذریعے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ لوگ لالچ میں آ کر عیسائیت اختایر کرلیتے ہیں۔ عیسائیوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام کے خلاف اس قدر پراپیگنڈا کرو کہ اگر وہ عیسائی نہ بھی بن سکیں تو کم از کم مسلمان بھی نہیں رہیں۔
فلسطین کے مسلمان جس بربریت کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ ساری دنیا پر عیاں ہے بچوں اور عورتوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ بیچارے گھر بار چھوڑ کر کیمپوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ فلپائن کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں انہیں مورد یعنی قزاق مسلمان کہا جاتا ہے۔ وہ بیچارے اکثریتی صوبوں میں اپنا حق مانگتے ہیں مگر ان پر جبر کیا جاتا ہے۔ قبرص میں ترک مسلمانوں پر سخت تشدد کیا جا رہا ہے 1961 ء میں چالیس ہزار ترک قبرصیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ اب وہ ملک کے ایک کونے میں پناہ گزین ہوچکے ہیں اور بنیادی ضروریات زندگی سے بھی محروم ہیں۔ کافر طاقتیں دنیا بھر میں مسلمانوں کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں بلکہ انہیں تشدد کے ذریعے مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کا پختہ وعدہ ہے سیھزہ الجمع ویولون الذین (القدور 45- ) عنقریب یہ طاغوتی طاقتیں شکست کھا جائیں گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔ چناچہ تھوڑے ہی عرصہ بعد اللہ کا وعدہ پورا ہوا۔ اسلام کو سینکڑوں سال تک غلبہ رہا۔ ترک مسلمانوں نے چار سال تک اسلام کا دفاع کیا۔ پھر جب یہ سازشوں کا شکار ہونے لگے تو ان میں کمزور ی آگئی انگریزوں کو غلبہ حاصل ہوگیا تو انہوں نے مسلمان سلطنتوں کو تباہ و برباد کردیا۔ ان کو علم سے محروم کردیا اور مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔
فرمایا اگر انہوں نے خفی تدبیر کی ہے اور اسلام کے خلاف سازشوں کا جال پھیلایا ہے تو ہم تدبیر کرنے والے ہیں۔ اہ یحسبون انا لا نسمع سترھم ونجولھم کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے۔ فرمایا بلی کیوں نہیں ؟ ہم ان سے متعلق بھیجے ہوئے فرشتے ان کی تمام پوشیدہ تدبیروں کو لکھتے رہتے ہیں۔ ہمارے کراماً کاتبین ان کی ہر چیز نوٹ کر رہے ہیں اور یہ ساری مثل قیامت والے دن ہمارے سامنے پیش ہوگی اور پھر ان کے متعلق آخری فیصلے ہوں گے۔
خدا تعالیٰ کے لئے اولاد کی گواہی
اللہ نے ارشاد فرمایا قل اے پیغمبر نبی ت عقیدہ رکھنے والے ان کافروں اور اہل کتاب سے کہہ دیں ان کے ن للرحطرولد اگر خدائے رحمان کی کوئی اولاد ہوتی فانا اول العبدین تو میں سب سے پہلے عبادت کرتا ہوتا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت کو ماننے والا ہوں ، لہٰذا میں تمہاری اس بات کو نہیں مانتا کہ خدا تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر ان نافیہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں اور حقیقی اور نہ مجازی لہٰذا میں خدا تعالیٰ کا اولین عبادت گزار ہوں حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت قتادہ نے ہی مطلب بیان کیا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عبد کا ایک معنی انکار کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ترجمہ یہ ہوگا کہ اگر خدا نے رحمان کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کا انکار کرتا درجہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی اولاد تسلیم کرلی جائے تو پھر اس کو قدیم کی بجائے حادث ماننا پڑے گا اور یہی چیز اس کی صفات عالیہ کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ ازلی اور ابدی ہے اولاد ہونا مخلوق کی صفت ہے جو کہ کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقص ، عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بات بطور فرض کرنے کے کہی گئی ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ فرض کرلو اگر خدائے رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی تعظیم و تکریم کرنے کے لئے تیار ہوتا۔ مگر یہ چیز محال ہے۔ نہ خدا تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے اور نہ میں اس کی تعظیم کے لئے تیار ہوں غرضیکہ فرمایا سبحن رب السموت والآرض پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب العرش جو عرش عظیم کا بھی رب ہے۔ وہ پاک اور منزہ ہے عما یصنون ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ یہ عزیز (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کے فرزند بتاتے ہیں ، فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ یہ غلط کہتے ہیں۔ فتعلی اللہ عما یشرکون (الاعراف 190- ) اللہ تعالیٰ کی ذات ان کے شرک سے بلکل پاک ہے۔
فرمایا فذرھم یخوضوا ان کو چھوڑ دیں اور باطل چیزوں میں گھسنے دیں یہ لوگ شرکیہ اور کفر یہ عقائد میں ہی پھنسے رہیں ویلعبوا اور کھیل کود میں بنے رہیں ۔ حتی یلقوا یومھم الذی یوعدون یہاں تک یہ اس دن سے جاملیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور وہ دن قیامت کا دن ہے جب ان کو اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے عقیدہ و عمل کی جواب دہی کرنا ہوگی۔ سورة الانبیاء میں فرمایا وعدا علینا انا کنا فعلین (آیت 104) ہمارا یہ وعدہ ہے جسے ہم ضرور پورا کر کے رہیں گے اور انہیں اپنے اعمال کی سزا بھگتنی پڑے گی۔