42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 42:1–6

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف ، اور (اس نے وحی نازل کی ہے) ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے گزرے ہیں ، وہ اللہ جو غالب اور حکمت والا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہ بلندی اور عظمت والا ہے

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اوپر سے ، اور فرشتے تسبیح بیان کرتے ہیں اپنے رب کی تعریف کے ساتھ ، اور بخشش طلب کرتے ہیں ان کیلئے جو زمین میں ہیں آگاہ رہو بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور نہایت مہربان ہے

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے بنائے ہیں اس کے سوا کار ساز ، اللہ ہی نگہبان ہے ان پر ، اور آپ نہیں ہیں ان کے ذمہ دار

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الشوریٰ ہے ۔ اس کی آیت 38 میں اہل ایمان کی باہمی مشاورت کا ذکر ہے اور اسی سے اس سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے پہلے قریبی دور میں پچھلی سورة حم السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة کی ترپن 53 آیا ت ہیں اور یہ پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔ اس میں 883 الفاظ اور 3588 حروف ہیں۔ مضامین سورة یہ سورة مبارکہ بھی حوامیم سبعہ میں شامل ہے۔ ان سورتوں کو قرآن کریم کا لب لباب کہا گیا ہے کیونکہ ان میں عام طور پر اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی صداقت اور معاد ہی کا ذکر ہے ، تا ہم بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ۔ اگرچہ حوامیم میں مذکورہ چاروں بنیادی اصولوں کا ذکر ہے تا ہم مختلف سورتوں میں مختلف مضامین پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے۔ مثلاً گزشتہ سورة حم السجدۃ میں توحید کے عقلی دلائل پر زیادہ زور دیا گیا تھا اور اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا زیادہ ذکر ہے ۔ اس کے علاوہ دعوت الیٰ القرآن بھی اس سورة کا موضوع ہے ، پھر توحید باری تعالیٰ کا رد ، اللہ کی صفات پر ایمان اور اس کی نعمتوں اور حکمتوں کا تذکرہ ہے۔ کفار و مشرکین اور اہل کتاب کی طرف سے اہل ایمان کو سخت ممانعت کا سامنا تھا ، لہٰذا اس سورة میں حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کے لیے تسلی کا مضمون بھی آ گیا ہے۔ دین کے بنیادی اصولوں میں معاد اور جزائے عمل کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ اسی سورة مبارکہ میں دنیوی زندگی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے دنیا کے اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا مگر ساتھ تنبیہ کی گئی ہے کہ انسان دنیا کی رونق میں اس قدر منہمک نہ ہوجائے کہ آخرت کو فراموش ہی کر دے بلکہ آخرت کی فکر کی بھی دعوت دی گئی ہے۔ اللہ نے اہل ایمان اور ان کے نیک اعمال کا ذکر کیا ہے اور اچھی جزاء کی خوشخبری سنائی ہے اور دوسری طرف کفار و مشرکین کے قبیح اعمال اور ان کے برے انجام کا ذکر بھی کیا ہے۔ علاوہ ازیں اس سورة میں اللہ نے اجتماعیت ، شورانیت اور خلافت کے اصول بھی بیان کیے ہیں۔ حروف مقطعات باقی حوامیم سورتوں کی طرح اس سورة کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے اور اس کی پہلی دو آیات انہی حروف پر مشتمل ہے۔ حم عسق ان حروف سے متعلق مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض اسے سورة کا نام بتاتے ہیں یعنی اس سورة کا نام الشوریٰ کے علاوہ حم عسق بھی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ حروف کسی مفہوم پر دلالت کرتے ہیں یہاں پر ان حروف کا مفہوم یہ ہے کہ یہ سورة حکمت اور معارف پر مشتمل ہے چناچہ یہ مفسرین فرماتے ہیں ح سے حکمت اورء سے معارف مراد ہے ۔ اس طرح س سے سورة ق سے قرآن اور ع سے علم مراد ہے۔ جو شخص حکمت اور معارف کی ان باتوں کو پیش نظر رکھے گا ، اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبولیت حاصل ہوگی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ تمام حروف مقطعات میں اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ مثلاً یہاں پر ح سے مراد حلم کہ بردباری اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۔ م سے مرا د مجد ہے اور مجید اللہ کی صفت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی بزردگی پر دلالت کرتی ہے اسی طرح ع کا اشارہ علم کی طرف س کا سنا یعنی خدا کی بلندی کی طرف اور ق سے قدرت خداوندی مراد ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ دراصل اللہ نے اپنے حلم ، مجد ، علم ، بلندی اور قدرت کی قسم اٹھا کر اگلی بات کی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ ح سے وحی الٰہی سے مراد ہے اور م سے حضرت محمد ﷺ یا مقام محمود جس پر آپ قیامت کے دن فائز ہوں گے۔ بعض نے ح سے حوض کوثر اور م سے ملک مراد ہے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نزل بلہ الروح الامین علی قبلک لتکون من المنذرین ( الشعرائ : 193 ، 194) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا علم حضور ﷺ کے قلب مبارک پر بذرعہ نازل فرمایا تا کہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت کو امام ثعلبی (رح) نے حضرت علی ؓ کے حوالے سے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ان حروف سے قرب قیامت میں پیش آنے والے فتنوں کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ ح سے حرق یعنی جلانا ، م سے مہلکہ یعنی ہلاکت ع سے عذاب ، س سے مسخ اور ق سے قذف کے اشارات ملتے ہیں ۔ گویا قرب قیامت میں آتش زدگی ، ہلاکت ، عذاب کا نزول ، زمین میں دھنس جانا ، جیسے اکثر واقعات پیش آئیں گے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے قلعی معانی تو کوئی نہیں بیان کرسکتا کیونکہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی وضاحت کی ہے اور نہ حضور ﷺ سے تشریح منقول ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے جو بات مجھے کشف یا ذوقی طور پر سمجھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حروف مفصل مضامین کے مخففات ہوتے ہیں ۔ جس طرح کوئی شخص بی اے ایم اے یا پی ایچ ڈی سے جان لیتا ہے کہ یہ حروف کسی شخص کے علم و فن کی طرف دلالت کرتے ہیں یا جس طرح کوئی شخص قاضی ، مفتی یا سلطان وغیرہ الفاظ سے وسیع حقیقت اخذ کرلیتا ہے ، اسی طرح حروف مقطعات کے نیچے بھی سورة کا مکمل موضوع پایا جاتا ہے جو ان حروف سے ظاہر ہوتا ہے ۔ گویا یہ حروف سورة کے تفصیلی مضامین کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ عالم بالا سے بعض حقائق اس متدنس جہان میں لوگوں کے باطل عقائد و اعمال سے ہیں ۔ باطل پرست لوگوں سے بحث مباحثہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں باطل عقائد و اعمال کا رد ہونا ہے تو شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف سے اسی بات کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ تا ہم عام مفسرین اور خصوصاً امام جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ زیادہ سلامتی والی بات یہ ہے کہ ان حروف سے متعقل ہی عقیدہ رکھا 1 ؎ جائے۔ اللہ اعلم بمراد بذلک اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان سے کیا مراد ہے اور ان حروف سے جو بھی اللہ کی مراد سے ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ ظاہر ہے کہ انسان کو ہر چیز کا علم حاصل ہونا تو ممکن نہیں لہٰذا بعض چیزوں پر ایمان بالغیب ہی لانا پڑتا ہے ۔ تو انحروف سے متعلق بھی ایمان بالغیب ہی ہونا چاہئے کہ ان کا جو بھی اللہ کے نزدیک مطلب ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ یہ پانچ حروف مقطعات دو آیتوں میں سمو دیے گئے ہیں حضر ت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ قرآن کریم کے ہر ہر حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں ، لہٰذا جو شخص ان پانچ حروف کی تلاوت کرتا ہے ، اگرچہ وہ ان کا مفہوم نہیں سمجھتا مگر حضور کے فرمان کے مطابق وہ کم از کم پچاس نیکیوں کا مستحق تو ضرور بن جاتا ہے ان حروف کا بہر حال یہ فائدہ تو ضرور ہے۔ وحی کا نزول اس سورة کا آغاز بھی اللہ نے وحی الٰہی کے بیان سے کیا ہے اور پھر سورة کے آخری حصے میں زیادہ تر یہی مضمون ہے ۔ وحی کا لغوی معنی وہ مخفی اشارہ ہے جو تیزی کے ساتھ واقع ہو چونکہ اللہ کا فرشتہ وحی کا القا نہایت تیزی کے ساتھ مخفی طور پر نبی کے قلب پر کرتا ہے ۔ اس لیے اس کو وحی کہا جاتا ہے ۔ نزول وحی کی کیفیت کو صاحب وحی کے علاوہ کوئی دوسرا شخص نہیں جان سکتا ۔ وحی الٰہی بڑی مشکل اور بھاری چیز ہوتی ہے ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ نزول وحی کے وقت ایک قسم کا اصلاح ہوتا ہے یعنی صاحب وحی کی ذات مادیت ، بشریت سے نکل کر ملکیت کی طرف 1 ؎۔ جلالین ص 4 چلی جاتی ہے ۔ اور اس کا ربط اس طرف ہوجاتا ہے پھر فرشتہ عالم بالا سے کلام الٰہی لا کر نبی کے قلب میں ڈال دیتا ہے اور اسی طرح وحی کا نزول عمل میں آتا ہے۔ ارشاد ہتا ہے کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ کی طرف وحی بھیجتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک آنے والے تمام انبیاء کی طرف اللہ نے وحی نازل فرمائی ، کسی پر کم اور کسی پر زیادہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض انبیاء (علیہم السلام) پر اللہ نے ان کی پوری زندگی میں صرف چار دفعہ وحی نازل فرمائی ، بعض پر پچاس مرتبہ اور بعض پر چار سو مرتبہ ، اللہ نے حضور خاتم النبین ﷺ پر چالس ہزار دفعہ وحی نازل فرمائی۔ عظمت خداوندی ارشاد ہوتا ہے کہ وحی کو نازل کرنے والی ذات خداوندی ہے اللہ العزیز الحکیم جو کمال قدرت کا مالک اور حکمتوں والا ہے وہ زبردست ہے کہ تمام قوتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں اور وہ غاب ہے اور حکیم بایں معنی کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ۔ فرمایا لہ ما فی السموات وما فی الارض اسی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور کچھ سے زمین میں ۔ ہر چیز کا خالق بھی وہ ہے اور مالک بھی وہی ہے ، تمام بندے بھی اس کے ہیں اور سب پر حکم بھی اسی کا چلتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں وھو العلی العظیم وہ باعتبار ذات وراء الوراء یعنی بہت بلند ہے حتیٰ کہ اس کی ذات تک کسی مخلوق کی رسائی نہیں اور اپنی صفات کے اعتبار سے ہ بڑا عظمت والا ہے۔ تحکاد السموات یتفطو ن من فوقھن قریب ہے کہ اللہ کے جلال و عظمت کی وجہ سے اوپر سے آسمان پھٹ رہا قرآن پاک میں اس قسم کے الفاظ اس موقع پر استعمال کیے ہیں ۔ جہاں اس کی ناراضگی جوش میں ہوتی ہے ۔ مثلاً سورة مریم میں فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں کہ خدائے رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے یہ تو نہایت بری بات ہے تکاد السموات یتفطرن منہ وتنشق الارض و تخر الجبال ھذا ( آیت : 90) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریز ہ ریزہ ہوجائیں اس بات سے کہ وہ کہتے ہیں خدائے بیٹا بنا لیا ہے ، ایسی باتوں سے خدا تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے مگر چونکہ وہ غفور اور رحیم بھی ہے اس لیے مہلت دیتا رہتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کا مقررہ وقت پر ہی محاسبہ کریگا ۔ فرشتوں کی دعائیں فرمایا والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم اور اللہ کے فرشتے تسبیح بیان کرتے ہیں اپنے پروردگار کی اس کی تعریف کے ساتھ ، فرشتوں کی تسبیح وتحمید کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ آسمان پر ایک بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہیں جہاں اللہ کا کوئی فرشتہ رکوع و سجود اور اس کی تسبیح وتحمید میں مصروف نہ ہو ۔ فرشتے ہمیشہ اللہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں ویستغفرون لمن فی الارض اور اہل زمین کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں ۔ پچھلی سورة المومن میں موجود ہے کہ اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (آیت : 7) حاملین عرش اور اس کے ارد گرد والے فرشتے اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی تعریف کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عظمتوں کو معاف کر دے ۔ سورة المومن میں صرف اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائوں کا ذکر ہے ۔ جب کہ آیت زیر درس میں زمین پر بسنے والے ہر شخص کے لیے بخشش عامہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ فرشتوں کی ان دعائوں کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کی جلد گرفت نہیں کرتا اور انہیں مہلت دیتا رہتا ہے شاید کہ باز آجائیں اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو یہ ہے کہ اگر وہ فوری گرفت کرتا تو زمین پرچلنے پھرنے والی کوئی چیز نظر نہ آتی ۔ فرمایا الا ان اللہ ھو الغفور رحیم آگاہ رہو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے جو فرشتوں کی دعائوں کو قبول کر کے اپنے بندوں کی خطائیں معاف کرتا رہتا ہے اور کافروں اور نافرمانوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا رہتا ہے۔ غیر اللہ سے کار سازی کی امید ارشاد ہوتا ہے والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا لیا ہے۔ اللہ حفیظ علیھم اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے ، وہی ان کے رازوں کو جانتا ہے اور وہی ان سے انتقام لینے والا ہے ۔ فرمایا وما انت علیھم بوکیل اے پیغمبر ! آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ آپ کا کام تو پیغام الٰہی کو پہنچا دینا ہے ، بات سمجھا دینا اور اس کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کرنا ہے ۔ ان کے اعمال کی حفاظت کرنا اور پھر برے اعمال پر گفت کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔ اس دنیا میں اللہ ان کے کاموں سے واقف ہے وہ قیامت والے دن بھی ان کے سامنے لا کھڑا کرے گا ۔ پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئیگی اور ٹھیک ٹھیک فیصلے ہونگے ۔ آپ اپنا کام کرتے جائیں اور ان کا معاملہ اللہ کو سونپ دیں ۔ وقت آنے پر وہ خود ہی ان سے باز پرس کرلے گا ۔ انہوں نے غیر اللہ کو کار ساز بنا کر اللہ کی غیرت کو چیلنج کردیا ہے اللہ تعالیٰ خود ان سے نپٹ لے گا ۔
Ayahs 42:7–12

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طریقے سے ہم نے وحی اتاری آپ کی طرف قرآن عربی زبان میں تا کہ آپ ڈر سنائیں ام القریٰ اور اس کے ارد گرد والوں کو ، اور آپ ڈر ا دیں جمع ہونے والے دن سے جس میں کوئی شک نہیں ایک فریق جنت میں اور دوسرا فریق بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوگا

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر چاہتا اللہ تعالیٰ تو کردیتا ان کو ایک ہی امت ، لیکن وہ داخل کرتا ہے جس کو چاہے اپنی رحمت میں ، اور ظلم کرنے والوں کے لیے نہیں ہوگا کوئی ساتھی اور نہ کوئی مدد گار

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا بنا لیے ہیں ان لوگوں نے اس کے سوا کار ساز ؟ پس اللہ ہی کار ساز ہے ، اور وہی زندہ کرتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس بات میں تم اختلاف کرو ، پس اس کا حکم اللہ کی طرف ہے اللہ میرا پروردگار ، اسی پر میں بھروسہ رکھتا ہوں ، اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا ، اس نے بنائے ہیں تمہاری لیے تمہاریجانوں میں سے جوڑے اور مویشوں میں سے بھی جوڑے ، پھیلاتا ہے تمہیں اس میں ، نہیں ہے اس کی مثل کوئی چیز ، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے پاس ہیں چابیاں آسمانوں کی اور زمین کی ، کشادہ کرتا ہے روزی جس کے لیے چاہے اور تنگ کردیتا ہے ، بیشک وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

وحی الٰہی کی حقانیت وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے گزشتہ درس میں وحی الٰہی کا ذکر سابقہ انبیاء کے تسلسل میں کیا گیا تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء پر کم و بیش وحی کا نزول ہوتا رہا ہے اور اب یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ ہر وحی کا نزول نبی کی قومی زبان میں ہوتا ہے ، چناچہ سورة ابراہیم میں موجود ہے وما ارسلنا من رسول الا بلسان قوم لیبین لھم ( آیت : 4) ہم نے ہر رسول کو اس کی قومی زبان میں بھیجا تا کہ وہ اپنی قوم کو بات اچھی طرح واضح کرسکے ۔ جب نبی اور قوم کی زبان ایک ہوگئی تو لا محالہ وحی الٰہی بھی اسی زبان میں نازل ہوگی ۔ اسی لئے فرمایا کہ ہم نے آپ کی طرف وحی کی قرآن پاک جو کہ آپ کی قومی زبان عربی میں ہے۔ جزائے عمل کیوں ضروری ہے ؟ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے لیے جزائے عمل کا واقع ہونا چار وجوہات کی بناء پر ضروری ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق فطرت اور اس کے قوائے ظاہرہ و باطنہ چاہتے ہیں کہ اس کو عمل کا بدلہ ضرور ملنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں ملکیت اور بہمیت دونوں قسم کی قوتیں ودیعت کی ہیں ۔ اور انسان ذاتی طور پر چاہتا ہے کہ اس کی ملکیت اس کی بیہمت پر غالب رہے تا کہ اسکے حالات فطرت کے مطابق درست رہیں ۔ اس کے بر خلاف اگر بہمیت ملکیت پر غالب آگئی تو اس کا نتیجہ الٹ نکلے گا۔ اب ملکیت کو غالب رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان میں ایسے امور کی انجام دہی کے لیے طہارت یعنی پاکیزگی پائی جائے ، اگر نجاست والے کام کرے گا ، خواہ وہ ظاہری نجاست ہو یا روحانی ، تو اس سے اس کا مزاج بگڑ جائے گا ، علاوہ ازیں ملکیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان خبات یعنی عاجزی کو اختیار کرے ، اگر غرور وتکبر میں پھنس گیا تو ناکام ہوجائے گا ۔ انسان کے لیے تیسری خصلت سماحت بھی ہونی چاہئے یعنی وہ فیاض اور نرم دل ہو اور خود غرضی اور حسات سے پرہیز کرتا ہو اور چوتھی صفت یہ ہے کہ انسان میں عدل پایا جائے یعنی وہ علم و جور کی خصلت سے پاک ہو ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ انسان میں ملکیت کے غلبہ کے لیے اس میں مذکورہ چار صفات یعنی طہارت ، اخبات ، سماحت اور عدل کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس کا مزاج بگڑ کر بہمیت کی طرف چلا جائے گا ۔ شاہ صاحب (رح) مثال کے طور پر سمجھاتے ہیں کہ گھاس خور جانور بھیڑ بکری ، گائے ، اونٹ وغیرہ جب تک گھاس اور چارہ کھاتے رہیں گے ان کا مزاج درست رہے گا اور جب یہ گوشت کھانے لگیں گے تو ان کا مزاج بگڑ جائے گا ۔ اسی طرح انسانی فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ایسے کام انجام دے جس سے اس میں ملکیت کا عنصر ہیمیت کے عضر پر غالب رہے۔ غرضیکہ جزائے عمل کی پہلی وجہ تو خود فطرت انسانی کا تقاضا ہے کہ یہ ضرور واقع ہونا چاہئے کیونکہ اس کے بعد انسان کے اچھے اور برے اعمال میں تمیز بےمعنی ہوجاتی ہے۔ جزائے عمل کے واقع ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مقرب مخلوق یعنی ملاء اعلیٰ کے فرشتے ہر انسان کے لیے دعا یا بد دعا کرتے ہیں ، جو انسان اچھے اعمال انجام دیتے ہیں تو فرشتے ان کے حق میں بخشش کی دعائیں کرتے ہیں۔ سورة المومن کے پہلے رکوع میں خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حاملین عرش اور اس کے ارد گرد حلقہ باندھنے والے فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید بیان کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں ویستغفرون للذین امنوا اور اہل ایمان کیلئے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں ۔ جب اللہ کے بندے ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیتے ہیں تو فرشتوں سے خوشی کی شعائیں نکلتی ہیں ، جو ایک طرف تو اس نیک آدمی پر پڑتی ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی جاتی ہیں اور اگر کوئی آدمی برے کام کرتا ہے تو فرشتوں س غیب کی شعائیں اٹھتی ہیں اور ان کے مونہوں نے بد دعائیں نکلتی ہیں ۔ تو اس دعا یا بد دعا کا نتیجہ بھی جزائے عمل کی صورت میں ضروری ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور انبیاء (علیہم السلام) پر شرائع نازل فرمائے ہیں اور انسانوں کو ان کی پابندی کرنے والوں کو اچھاصلہ اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو سزا ملے ۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا فرمان ہے وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ( النسائ : 64) ہم نے ہر رسول کو اس لیے بھیجا تا کہ لوگ اس کی پیروی کریں اب اگر کوئی شخص اپنے نبی کی پیروی کرتا ہے اور کوئی نہیں کرتا تو وہ برابر نہیں ہو سکتے لہٰذ بعثت انبیاء (علیہم السلام) کا تقاضا بھی ہے کہ اطاعت کنندہ کو جزاء اور منکر کو سزا دی جائے اور یہی جزائے عمل ہے۔ تبلیغ قرآن کے ذرائع جزائے عمل کے دن سزا سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام اور شرائع اپنے ابنیاء کے واسطہ سے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ ہر نبی پورے طریقے سے حق تبلیغ ادا کرتا ہے اور پھر اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص ایمان کو قبول نہیں کرتا تو وہ سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما کنا معذبین حتی نبعت رسولا ً ( بنی اسرائیل : 15) ہم کسی قوم کو سزا نہیں دیتے جب تک کہ اس کے پاس اپنا رسول نہ بھیج لیں ۔ اور نبی اپنی قومی زبان میں کلام کرتا ہے ، اگر نبی کی زبان قوم کی زبان سے مختلف ہو تو پھر اعتراض آئے گا کہ ہم اللہ کے احکام کو اچھی طرح سمجھ نہیں پائے ، یہ اعتراض گزشتہ سورة حم السجدۃ میں ذکر ہوچکا ہے کہ اگر ہم اس قرآن کو غیر عربی زبان میں نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں ہماری زبان میں کیوں نہیں بیان کی گئیں کیا خوب ہےء اعجمی و عربی (آیت : 44) کہ قرآن عجمی زبان میں ہے جب کہ ہم عربی بولنے والے ہیں ۔ الغرض ! تبلیغ قرآن کا ایک ذریعہ تو عربی زبان ہے جو اس کے اولین مخاطبیین کی زبان ہے۔ انہوں نے پہلے خود اس کو سمجھا اور پھر آگے دوسروں تک پہنچایا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں نازل فرمایا ہے لینذر امر القریٰ ومن حولھا تا کہ آپ ڈرا دیں بستیوں کی جڑ یعنی مکہ مکرمہ اور اس کے اردگرد والوں کو چونکہ آپ عربوں کی طرف اسی زبان میں مبعوث ہوئے ، اس لحاظ سے آپ قومی نبی ہیں قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہ ِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا (الاعراف : 158) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اے دنیا جہان کے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ گویا اس لحاظ سے آپ بین الاقوامی نبی بھی ہیں ، مگر آپ کی یہ حیثیت آپ کی اپنی قوم یعنی عربوں کے واسطہ سے ہوگی سب سے پہلے آپ نے اپنی قوم کو دین کو علم سکھایا اور پھر انہوں نے آگے دنیا میں اس کو پہنچایا ، اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! ہم نے تمہیں امت معتدل بنایا ہے لتکونوا شھداء عل الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (البقرہ : 143) تاکہ تم تمام دنیا کے معلم بن جائو اور اللہ کا رسول تمہارا معلوم ہوجائے۔ بہ حال تبلیغ قرآن اور تبلیغ دین کا کام حضور ﷺ کی قوم کے واسطہ سے نسلا ً بعد نسلا ً چلا آ رہا ہے جو تا قیام اسی طرح جاری رہے گا ، چناچہ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ یہ قرآن میری طرف اس لیے وحی کیا گیا ہے کہ میں تمہیں اس کے ذریعے ڈرائوں ومن بلغ ( الانعام : 19) اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچے۔ نزول قرآن کی غایت بہر حال اللہ نے نزول قرآن کا ایک مقصد تو یہ بیان فرمایا ہے آپ مکہ والوں اور ارد گرد والوں کو ڈرائیں ۔ اس مقام پر شہر مکہ کے لیے ام القریٰ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی بستیوں کی جڑ یا بنیاد ہے ، ابتداء میں کرہ ٔ ارض مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے خانہ کعبہ والی جگہ پر خشکی کا ابھار پیدا کیا اور پھر اسی کو پھیلا کر ساری زمین بنا دی گئی ۔ اسی لیے شہر مکہ کو زمین کی ناف بھی کہتے ہیں کہ زمین کا پھیلائو اسی مقام سے شروع ہوا ، مکہ مکرمہ کو ام القریٰ اس لحاظ سے بھی کہتے ہیں کہ اس کو دنیا بھر کی بستیوں میں فضلیت حاصل ہے ۔ جب حضور ﷺ والسلام ہجرت کے موقع پر مکہ مکرمہ کو چھوڑ رہے تھے تو آپ نے پلٹ کر اس بستی کی طرف نگاہ ڈالی اور فرمایا اے مکہ کی سر زمین ! تم اللہ کے نزدیک تمام خطوں سے بہتر خطہ ہو ، اگر میری قوم کے لوگ مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں تیرا پڑوس چھوڑ کر کبھی نہ جاتا ۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ قرآن ہم نے اس لیے اتارا ہے تا کہ آپ اہل مکہ اور ارد گرد والوں کو ڈرائیں وتنذر یوم الجمع لا ریب فیہ او جمع ہونے کے دن یعنی قیامت کے روز سے بھی ڈرائیں جس کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس دن جزائے عمل کی منزل آئے گی جس کے نتجے میں فرق فی الجنۃ و فریق فی الشعیر ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ کا شکار ہوگا ۔ ایمان لا کر توحید کے راستے پر چلنے والا اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا اور کفر ، شرک اور معاصی کا مرتکب جہنم رسید ہوگا ۔ فرمایا آپ اس دن کی ہولناکیوں سے بھی لوگوں کو خبردار کردیں ، بہر حال یہ ذمہ داری سب سے پہلے عربوں پر عائد ہوتی ہے اور پھر ان کے واسطہ سے اگلی نسلیں ذمہ دار ہیں کہ وہ خدا کا دین آئندہ نسلوں تک پہنچائیں ۔ آج ہم بھی ذمہ دار ہیں کہ دین حق کو صحیح طریقے سے آنے والی نسلوں تک پہنچائیں اور اسی طرح ہر دور کے لوگوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسلام میں جبر نہیں دو فریقوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی فرقہ بنا دیتا یعنی سب کو جبراً اطاعت پر مجبور کردیتا ، مگر یہ اس کی حکمت کے منافی ہے ۔ اس کا عام اعلان ہے کہ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے بر حق ہے فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ( الکہف : 29) اب جس کا جی چاہے اس پر ایمان لائے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ اگر کفر کرے گا تو آگے اس کے لیے جہنم بھی تیار ہے اللہ نے خبردار کردیا ہے مگر جبر نہیں کیا ۔ اس کا قانون یہ ہے کہ لا اکراہ فی الدین قدتبین الرشد من الغنی (البقرہ : 256) دین میں جبر نہیں ہے ہدایت گمراہی سے الگ ہوچکی ہے ۔ اب یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے یا گمراہی کا ۔ بعض لوگوں نے اس ضمن میں مسلمانوں کو بد نام کرنے کی کوشش کی ہے کہ بعض مسلمان حکمرانوں نے لوگوں کو زبردستی اسلام میں داخل کیا ہے ۔ اس قسم کا پراپیگنڈا اور نگ زیب عالمگیر (رح) کے خلاف خاص طور پر کیا جاتا ہے مگر یہ درست ہیں ہے ۔ خلافت راشدہ اور اس کے بعد کسی مسلمان حکومت نے غیر مسلموں کو دین میں زبردستی داخل کرنے کی کوشش نہیں کی ، البتہ دیگر اقوام نے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک ضرور کیا ہے ۔ سپین میں دو کروڑ مسلمان آباد تھے مگر عیسائویں نے یا تو انہیں قتل کردیا یا جبراً عیسائی بنا لیا ۔ روسی لوگوں کو زبردستی تاشترا کی بناتے ہیں اور اسی طرح ہندو ، بدھ اور سکھ بھی اپنا اپنا مذہب قبول کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ فرمایا اللہ کسی پر جبر نہیں کرتا ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے والظلمون ما لھم من وبی ولا نصیر اور جو لوگ ظالم ہیں یعنی کفر و شرک کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ، ان کا نہ کوئی کار ساز ہوگا اور نہ مدد گار ، ایسے لوگ قیامت والے دن پکڑے جائیں گے اور پھر سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس لیے ضروری ہے کہ وہ خالق اور مالک ہے اور نبی کی اطاعت اس لیے فرض ہے کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچانے پر مامور ہوتا ہے ۔ اس کے بعد مسلمان حاکم علمائے حق ، مبلغ دین ، قاضی اور مفتی کی اطاعت بھی ضروری ہے مگر اس وقت تک جب تک وہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں رہے۔ اگر ان میں سے کوئی شخص خلاف قرآن و سنت بات کریگا تو وہ قابل قبول نہیں ہوگی ، سورة النساء میں اللہ کا فرمان ہے اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور تم میں سے جو صاحب اور میں ان کو بھی اور اگر کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہوجائے۔ فردہ الی اللہ والرسول ( آیت : 59) تو ایسے معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ، کسی حاکم ، عالم قاضی ، مفتی وغیرہ کی خلاف قرآن و سنت کوئی بات قابل قبو ل نہیں ہوگی ۔ فرمایا امر اتخذو من دونہ اولیاء کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا لیا ہے ، حالانکہ فاللہ ھوا الولی کار ساز تو فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وھو یحییٰ الموتی اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے وھو علی کل شی قدیر اور وہی ہر چیز پر قدر ت رکھنے والا ہے اسی کو کار سازسمجھنا چاہئے اور اس کی توحید پر ایمان لانا چاہئے ، اور تمام حاجات میں اسی کو پکارنا چاہئے۔ اختلافی مسائل میں خدائی فیصلہ ارشاد ہوتا ہے وما اختلفتم فیہ من شیء اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے فحکمہ الی اللہ تو اس کا حکم یعنی فیصلہ اللہ کی طرف سونپ دینا چاہئے۔ یہ ایک اہم اصول ہے مگر لوگ اسے ترک کر کے اکثر مصائب میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اگر تمام باہمی تنازعات اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق حل کرلیے جائیں تو دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جائے ، مگر افسوس کہ ہر فرد ، جماعت گروہ یا حکومت من مانی کرتے ہیں اور پھر اس کے لیے جواز تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اپنے تمام معاملات اللہ کے دین اور شریعت کے سامنے پیش کردیتے ۔ دیکھ لیجئے ، ایران اور عراق کے درمیان ایک چھوٹے سے خطے شط العرب کا جھگڑا ہے ۔ جس پر سات سال سے جنگ ہو رہی ہے دونوں مسلمان ملک ہیں مگر کسی فیصلے پر پہنچنے سے قاصر ہیں ۔ اغیارنے مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں ہتھیار رکھتی ہیں وہ تو واپس نہیں لے سکتے مگر یہاں ایک تھوڑی ہی جگہ کے لیے کشت و خون ہو رہا ہے جس میں اب تک سات لاکھ ایرانی اور پانچ لاکھ عراق ہلاک ہوچکے ہیں اور جو مالی نقصان ہو رہا ہے ، اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا ۔ سورة الحجرات میں اللہ کا فرمان ہے کہ اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں فاصلحوا بینھما ( آیت : 9) تو ان میں صلح کرا دو ، مگر یہاں صلح پر کوئی بھی فریق آمادہ نہیں حالانکہ دنیا بھر کی مسلمان حکومتیں اس کے لیے کوششیں کرچکی ہیں۔ آخر یہ اللہ کے فیصلے سے روگردانی نہیں تو اور کیا ہے ؟ ( اب یہ جنگ ختم ہوچکی ہے) عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں۔ پھر جب ندامت ہوتی ہے تو اس کا ازالہ تلاش کرنے لگتے ہیں ۔ علماء کے پاس اس وقت آتے ہیں جب طلاق واقع ہوچکی ہوتی ہے ۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے غصے میں آ کر طلاق دے دی ہے ۔ اب اس کا کوئی حل نکالو تا کہ بیوی سے علیحدگی کی نبوت نہ آئے افسوس یہ ہے کہ لوگ طلاق دینے سے پہلے نہیں پوچھتے کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے تا کہ بعد میں مشکلات پیش نہ آئیں ۔ بات وہی ہے کہ لوگ اپنے معاملات کو اللہ کی طرف لوٹانے کی بجائے من مرضی کرتے ہیں اور پھر مصیبت میں پھنس جاتے ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے اصول بتلا دیا ہے کہ جس بات میں اختلاف پیدا ہوجائے اس میں اللہ کا فیصلہ حاصل کرو۔ توکل علی اللہ فرمایا ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت یہ ہے اللہ میرا پروردگار میں تو اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ والیہ انبیب اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ فاطر السموات والارض ود بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا جعل لکم من انفسکم ازواجا ً اس نے بنائے ہیں تمہارے لیے تمہاری جانوں میں سے جوڑے ، گویا اللہ تعالیٰ نے تفریق جنس کر کے کسی کو مرد بنا دیا اور کسی کو عورت و من الانعام ازواجا ً اور جانوروں کے بھی جوڑے جوڑے یعنی نر اور مادہ بنائے ہیں تا کہ سلسلہ تولد و تناسل اسی طرح قائم ہے یدرء کم فیہ اللہ تعالیٰ پھیلاتا ہے تم کو اس میں فیہ سے مراد تدبیر یا شکم مادر یا پھر زیادہ بہتر بات زمین ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو زمین میں بکھیر دیتا ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ لفظ زمین تو عربی میں مونث ہے جب کہ فیہ کی ضمیر مذکر ہے تو اس لحا ظ سے فیہ کا معنی اس زمین میں نہیں بلکہ اس مقام پر ہوگا ۔ سورة الملک میں بھی زمین میں پھیلانے کے لیے ذرا استعمال ہوا ہے قل ھو الذین ذرا کم فی الارض والیہ تحشرون ( آیت : 24) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے۔ جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور پھر تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے۔ بے مثال ذات الٰہی آگے ارشاد ہوتا ہے لیس کمثلہ شی اس کی مثل کوئی چیز نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات بےمثل اور بےمثال ہے ۔ عام طور پر لوگ دو بیماریوں کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں ۔ ایک شرک اور دوسری تشبیہ ، شرک یہ ہے کہ اللہ کی صفت انسان یا کسی دوسری مخلوق میں مانی جائے ، مثلاً یہ کہ اللہ کے علاوہ فلاں انسان جن یا فرشتہ بھی عالم الغیب ، قادر مطلق یا مختار مطلق ہے اور تشبیہ یہ ہے کہ انسان کی صفت خدا تعالیٰ میں مانی جائے ۔ مثلاً بیوی بچے ہونا انسان یا دیگر مخلوق کی صفت ہے ، مگر یہی صفت خدا تعالیٰ میں مانی جائے کہ فلاں اس کی بیوی اولاد ہے ۔ جیسے عقیدہ انبیت والے کہتے ہیں وقالو اتخذ الرحمن ولد ( مریم : 88) کہ خدائے رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے ، حالانکہ خدا تعالیٰ کا نہ کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ مجازی اور نہ ہی اس نے مسیح (علیہ السلام) کو حاجت روائی کا اختیار دے دیا ہے۔ فرمایا وھو السمیع البصیر اللہ کی ذات سننے والی اور دیکھنے والی ہے لہ مقالید السموات والارض آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے پاس ہیں یعنی ہر چیز کا متصرف وہی ہے۔ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر کشادہ کرتا ہے روزی جس کو چاہے اور تنگ کردیتا ہے جس کی چاہے ، وہ اپنی حکمت کے مطابق رزق کی تقسیم کرتا ہے کیونکہ انہ بکل شی علیم ہر چیز کو جاننے والا وہی ہے وہ اپنے علم کے مطابق ہی تصرف کرتا ہے۔
Ayahs 42:13–14

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

مقرر کیا ( اللہ تعالیٰ نے) تمہارے لیے وہ دین جس کی تاکید کی ( اللہ نے) نوح (علیہ السلام) کو ، اور وہی جس کی وحی کی ہے ہم نے آپ کی طرف اور جو تاکید کی ہم نے ابراہیم ، موسیٰ اور عیسٰی (علیہم السلام) کو ( اور کہا ) کہ قائم رکھو دین کو اور نہ تفرقہ ڈالو اس میں ، بھاری ہے مشرکوں پر وہ چیز جس کی طرف آپ ان کو دعوت دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی منتخب کرتا ہے اپنی طرف جس کو چاہتا ہے ، اور راہ دکھاتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع لاتا ہے

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور نہیں تفرقہ ڈالا ان لوگوں نے مگر بعد اس کے کہ آ چکا ان کے پاس علم ، سر کشی کرتے ہوئے اپنے درمیان ، اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے طے ہوچکی ہے تیرے پروردگار کی طرف سے ایک مقرر ہ مدت تک تو البتہ فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان اور بیشک وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے ان کے بعد البتہ وہ اس میں تردد انگیز شک میں ہیں

ربط آیات پہلے وحی الٰہی کی حقانیت کا ذکر ہوا پھر اللہ نے عربی زبان میں نزول قرآن اور اس کی غرض وغایت بیان فرمائی رسالت کا مسئلہ بیان کیا اور شرک کا ذکر فرمایا ۔ متنازعہ مسائل کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کرو ، پھر اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کا حکم دیا اور اس کی یہ صفت بیان کی کہ وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ۔ اللہ نے انسانوں اور جانوروں کو جوڑوں کی شکل میں مذکر و مؤنث پیدا کیا ہے وہ ان ان سب کو اپنی قدرت تامہ سے زمین میں بکھیرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بےمثل اور بےمثال ہے ۔ تمام چیزوں کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اور اسے ہر شے پر تصرف حاصل ہے ۔ رزق میں وسعت اور تنگی بھی وہی فرماتا ہے۔ وحی الٰہی کوئی انوکھی چیز نہیں بلکہ یہ تو ہر نبی پر نازل ہوتی رہی ہے اللہ نے تمام انبیاء کو یہی حکم دیا کہ وہ دین کو قائم رکھیں اور تمام لوگوں کو بھی دین اختیار کرنے کی تلقین کی ۔ اس طرح اللہ نے منکرین دین کا رد بھی فرمایا۔ مشروع دین اب اللہ نے دین حق کا انکار کرنے والوں کا شکوہ کیا ہے کہ دین تو ایک حقیقت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے شرع لکم من الدین اللہ نے تمہارے لیے ایک دین مقرر کیا ہے۔ شریعت دراصل کھاٹ کو کہتے ہیں جس پر اترکر لوگ پانی حاصل کرتے ہیں ۔ اسی مناسبت سے شریعت کو بھی دین کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کے ذریعے اپنی روحانی تشگی کو دور کرتے ہیں۔ شریعت کے احکام معلوم کر کے ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ اس طرح برائیوں سے بچ جاتے ہیں اور اپنی زندگی کو درست کرلیتے ہیں ۔ تو فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر فرمایا ہے ما وصی بہ نوحا ً جس کی تاکید اللہ نے نوح (علیہ السلام) کی تھی والذین اوحیان الیک اور یہ وہی دین ہے جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف بھی کی ہے ، نیز فرمایا کہ یہی وہ دین ہے وما وصینا بہ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ جس کی تاکید ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کی ۔ اس مقام پر اللہ نے حضور ﷺ سمیت پانچ اولو العزم انبیاء کا تذکرہ کر کے فرمایا کہ ان سب کو یہی تاکید کی ان اقیمو الدین کہ وہ دین کو قائم کریں۔ قرآن و سنت میں دین ، ملت اور شریعت اصطلاحات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ دین کا معنی جزا بھی ہوتا ہے جیسے سورة الفاتحہ میں ہے ملک یوم الدین اللہ تعالیٰ جزا یا انصاف کے دن کا مالک ہے۔ دین کا معنی اطاعت بھی ہوتا ہے جیسے فرمایا فاعبد اللہ مخلصاً لہ الدین (الزمر : 2) آپ اللہ کی عبادت کریں ، خالص اس کی اطاعت کرتے ہوئے غرضیکہ دین اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ وہ ضابطہ حیات ہے جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی مرضیات کو پا سکتے ہیں اور اس کی نامرضیات سے بچ سکتے ہیں ۔ اس ضابطہ کے اصول مستقل ہوتے ہیں جن میں کوئی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوتا ، مثلاً توحید باری تعالیٰ ، رسالت انبیاء ، کتب سماویہ ، وقوع قیامت ، جزائے عمل وغیرہ ایسے اصول ہیں جن میں کسی بھی نبی کے زمانہ میں کوئی اختلاف نہیں رہا بلکہ یہ تمام ادوار میں مستقل طور پر نافذ العمل رہے ہیں اور ان پر ایمان لانا ہر نبی کی امت کے لیے ضروری رہا ہے ۔ یہی دین ہے جو اللہ نے ہر امت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ ملت سے مراد کلیات یعنی موٹے موٹے اصول ہیں اور یہ بھی تمام انبیاء کے لیے یکساں رہے ہیں ۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) لکھتے ہیں کہ ملت ابراہیمی سے پہلے صابی دور میں اور پھر ملت خیفیت میں یہ چار اصول یعنی توحید ، طہارت ، نماز اور صوم یکساں طور پر نافذ رہے ہیں ۔ مگر صابیوں نے بعد میں ان اصولوں کو بگاڑ دیا اور ستارہ پرستی اختیار کر کے شرک میں مبتلا ہوگئے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ چار اصول طہارت اخباث ، عاجزی ، سماعت خسیس چیزوں سے چکنا اور عدل کسی نبی کی شریعت میں بھی منسوخ نہیں ہوئے اور آج ہماری شریعت میں منسوخ نہیں ہوئے اور آج ہماری شریعت میں بھی ان کو مستقل حیثیت حاصل ہے۔ سورة الانبیاء میں اللہ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کر کے فرمایا ہے ۔ ان ھذہ امتکم امۃ وحدۃ ( آیت : 92) تمہاری یہ امت یعنی ملت ایک ہی ملت ہے جو سارے انبیاء میں قدر مشترک ہے غرضیکہ دین اور ملت ہر دور میں ایک ہی رہے ہیں ۔ دین بنیادی عقائد ہیں اور ملت موٹے موٹے اصول ۔ البتہ ان عقائد اور اصول کی جزیات ، تشریحات اور تفصیلات کو شریعت کہا جاتا ہے۔ سورة المائدہ میں فرمان باری تعالیٰ ہے بکل جعلنا منک شرعۃ ومنھا جا ( آیت : 48) تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے جدا جدا شریعت اور راستہ مقرر کردیا ہے ۔ دین اور ملت کے بر خلاف ہر امت کی شریعت مختلف رہی ہے ، مثلاً پہلی امتوں میں بہن بھائی کا نکاح جائز تھا لیکن بعد میں اس کو حرام قرار دے دیا گیا ۔ بعض شریعتوں میں اونٹ کا دودھ اور گوشت جائز نہیں تھا ، مگر آخری امت میں یہ بالکل جائز ہے ، بہر حال مختلف امتوں کی شرائع یعنی فروعی اور جزوی مسائل مختلف رہے ہیں ۔ اس بات کی وضاحت حضور ﷺ نے اس طرح فرمائی ہے۔ نحن معاشر الانبیاء بنو علات دینناواحدہم انبیاء کا گروہ علاقی بھائی ہیں ہمارا دین ایک ہے مگر شریعتیں جدا جدا ہیں ۔ علاقی بھائی دہ ہوتے ہیں جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں مطلب یہ کہ دین اور ملت تو تمام امتوں کی یکساں ہیں مگر ان کی شرائع الگ الگ ہیں ۔ فرقہ بندی کی ممانعت اللہ نے اپنے اولو العزم انبیاء کو تاکید اً حکم دیا کہ دین کو قائم رکھو ولا تتقرقوا فیہ اور اس میں تفرقہ ڈالو ، تفریق کا معنی یہ ہے کہ دین کے کسی اصول کو مان لے اور کسی کو نہ مانے ، یا کسی نبی کی نبوت پر ایمان لانے اور کسی کا انکار کر دے ، بلکہ سارے انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے اگر کسی شخص نے دین کا انکار تو نہیں کیا مگر اس کے حکم کی تاویل غلط کردی ہے ، تو یہ بھی تفرقہ ہی سمجھاجائے گا ، مطلب یہ کہ من پسند بات کو مان لیا اور ناپسند کو چھوڑ دیا ۔ یہ دین پر عمل نہیں ہوگا بلکہ تفرقہ ہوگا ۔ ایسے ہی تفرقوں سے گمراہ فرقے پیدا ہوتے ہیں جو جہنم کا ایندھن بنتے ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے فرما ایا کہ وہ ہر تفریق نہ پیدا کرو بلکہ ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ (البقرہ : 208) دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص بعض احکام کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے وہ شیطان کے نقش قدم پر چل کر تفرقہ بازی کا مرتکب ہوتا ہے اور اسی چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اختلاف محمود البتہ ایک قسم کا اختلاف اچھا بھی ہے ۔ ایسا اختلاف اصول اور ملت میں نہیں بلکہ فروعات میں ہوتا ہے۔ اس اختلاف کا تعلق سمجھ اور اجتہاد کے ساتھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی تشریح خود نہیں کی بلکہ یہ کام اپنے نبی کے سپرد کیا ہے اور بعض معاملات کی تشریح مجتہدین کے سپرد کی گئی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ بھلایہ لوگ قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے ۔ اگر یہ غیر اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر یہ اس کو پیغمبر اور اپنے صاحب امر لوگوں کو طرف لوٹاتے لعلم الذین یستبطونہ منھم ( النسائ : 83) تو وہ صحیح حل نکال کر پیش کردیتے۔ صاحب امر ہے مراد مسلمان احکام بھی ہیں اور امت کے علماء اور فقہاء بھی لہٰذا اگر کسی مسئلہ میں شرعی فتویٰ کی ضرورت ہو یا کسی حکم کی وضاحت مطلوب ہو تو ایسا علماء اور فقہاء کے سامنے پیش کرنا چاہئے تا کہ وہ اپنی علمی تحقیق و تجسس کی روشنی میں اس کا حل پیش کرسکیں ۔ یہ قرآن کی تعلیم ہے ، ظاہر ہے کہ جب کوئی معاملہ انسانی عقل و فہم سے حل کیا جائے گا تو اس میں اختلاف کی گنجائش ہوگی ، لہٰذا ایسا اختلاف مذموم نہیں بلکہ محمود ہوگا ۔ ہدایت کا راستہ آگے ارشاد ہوتا ہے کبر علی المشرکین ماتد عو ھم الیہ وہ چیز مشرکوں پر بھاری ہے جس کی طرف آپ ان کو دعوت دیتے ہیں ۔ آپ ان کو ایمان اور توحید کی طرف بلاتے ہیں اور یہی بات ان پر گراں گزرتی ہے وہ اپنے باطل معبودوں کی عبادت کرنے ، ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے ، ان کو نذر و نیاز پیش کرنے سے باز آنے والے ن ہیں اور نہ ہی وہ شرکیہ رسوم سے تائب ہونا چاہتے ہیں اسی لیے ان کو توحید کی بات ناگوار گزرتی ہے ۔ فرمایا ہدایت اور گمراہی کا ایک ضابطہ یہ ہے اللہ یجنبی الیہ من یشاء اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے اپنی طرف جس کو چاہتا ہے ویھدی الیہ من بنیت اور اپنی طرف رہنمائی کرتا ہے اس شخص کی جو رجوع رکھتا ہے مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کا راستہ اسی کے لیے واضح کرتا ہے جس میں ہدایت حاصل کرنے کا جذبہ موجود ہو ۔ سورة العنکبوت میں بھی فرمان باری تعالیٰ ہے والذین جاھد وافینا الھم بینھم سلبنا (آیت : 69) جو لوگ کوشش کر کے ہمارے طرف آنا چاہتے ہیں ، ہم ان کے لیے اپنا راستہ واضح کردیتے ہیں اور وہ اس راستے پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ جو شخص برائی کو ترک ک کے حق کا طالب بن جائے اس کی توبہ بھی قبول ہوجاتی ہے اور صحیح راستہ بھی مل جاتا ہے۔ فرقہ بندی کی وجہ فرمایا وما تفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیا بینھم ان گمراہ فرقوں نے نہیں تفرقہ کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آ گیا ۔ اپنے درمیان سر کشی کرتے ہوئے ۔ اہل کتاب کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس اللہ کی کتابیں آئیں ، انبیاء (علیہم السلام) نے ہدایت کو واضح کیا مگر انہوں نے خود عرضی ، ضد ، عناد اور آپس کی سر کشی کی بناء پر دین کے اصولوں میں اختلاف کیا ، کسی نے کسی چیز کا بالکل انکار کردیا اور کسی نے غلط معنی پہنچا دیا اور اس طرح وہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ولو لا کلمۃ سبقت من ربک الی جل مسمی لقضی بینھم اگر تیرے پروردگار کی طرف سے پہلے سے ایک طے شدہ بات نہ ہوتی تو ایک مقررہ وقت تک ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور طے شدہ بات یہ ہے کہ ہر چیز کا قطعی اور آخری فیصلہ قیامت والے دن ہوگا کیونکہ ہر چیز کا قطعی فیصلہ دنیا میں نہیں ہو سکتا ۔ اس کے لیے اللہ نے قیامت کا وقت مقرر کر رکھا ہے ، اگر ایسی بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافروں ، مشرکوں اور سر کشی کرنے والوں کو اسی دنیا میں فوراً سزا دے دیتا ، مگر اس کا قانون یہ ہے واملی لھم ان کیدی متین ( القلم : 45) وہ مہلت دیتا رہتا ہے اور اس کی تدبیر بڑی کامیابی ہے جب کوئی شخص سرکشی اختیار کرتا ہے تو وہ ایک مقررہ مدت تک مہلت دیتا ہے اور پھر اس کو گرفتار کرلیتا ہے ، فرمایا اگر اللہ کا یہ قانون نہ ہوتا تو ان لوگوں کو فوراً سزا میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ اہل کتاب کا تردد فرمایا یہ بات بھی سن لیں وان الذین اور ثوالکتب من بعد ھم اور بیشک وہ لوگوں جن کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا لفی شک منہ مریب وہ البتہ تردد انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اس کا مصداق اہل کتاب ہیں جو پورے طریقے پر ایمان نہیں لائے اور بعض چیزوں میں شک کرتے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جب اہل کتاب کے پاس اللہ کی آخری کتاب قرآن حکیم آیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کرنے کی بجائے اس کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کردیا ۔ اس کی تعلیمات کو غلط بتانے لگے اور اس کو وحی الٰہی تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، انہوں نے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کے متعلق بھی دروغ گوئی سے کام لیا جس کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے۔ بہر حال فرمایا کہ جن لوگوں کو بعد میں کتاب دی گئی وہ بھی شک و تردد میں پڑگئے اور اس پر صحیح طریقے سے ایمان نہ لائے۔