42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمعالم العرفان

Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

پس اسی لیے آپ دعوت دیں اور مستقیم ایک جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے ، اور نہ پیروی کریں ان لوگوں کی خواہشات کی ، اور آپ کہہ دیں کہ میں ایمان لانا ہوں اس چیز پر جو اللہ نے نازل کی ہے کتاب سے ، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان ، اللہ ہی ہے ہمارا پروردگار اور تمہارا بھی ، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے ، کوئی جھگڑا نہیں ہے ہمارے اور تمہارے درمیان ، اللہ تعالیٰ اکٹھا کرے گا ہم سب کو اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر بیان کیا کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء کا دین یکساں رہا ہے۔ جو دین اللہ نے نوح (علیہ السلام) کو دے کر بھیجا تھا ، وہی دین حضرات ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی عطا فرمایا اور تمام انبیاء کو حکم دیا کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ۔ ایسا نہ ہونے پائے کہ کوئی شخص دین کو مان لے اور کوئی نہ مانے ۔ یا دین کے بعض حصے کو مان لیا جائے اور بعض سے اعراض کیا جائے۔ فرمایا جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں یہ مشرکوں پر گراں گزرتی ہے۔ پھر اللہ نے تفرقہ پیدا کرنے والوں کی مذمت میں فرمایا کہ انہوں نے ہدایت کے آجانے کے بعد محض سر کشی ، خود غرضی اور عناد کی بناء پر تفرقہ ڈالا ، وگرنہ حق و صداقت کے واضح دلائل آجانے کے بعد اختلاف کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ فرمایا ، اگر اللہ کے ہاں یہ امر طے شدہ نہ ہوتا کہ وہ سرکشوں کو دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے اور قیامت والے دن ہی قطعی فیصلہ کرے گا ، تو وہ ان سرکشوں کی فوری گرفت کر کے دنیا میں ہی ان کو سزا دے دیتا ۔ (1) دعوت علی الدین اب آج کی اس مختصر آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دین کے دس زریں اصول بیان کردیے ہیں ۔ اسی طرح آیت الکرسی بھی نہایت جامع آیت ہے جس میں گیارہ دلائل ذکر کیے گئے ہیں ۔ چونکہ اہل کتاب نے ضد اور عناد کی وجہ سے دین میں تفرقہ پیدا کر رکھا تھا۔ اسی لیے فرمایا فلذلک فادع اسی وجہ سے آپ دعوت دیں ۔ ایک کا اشارہ اہل کتاب کے ضد اور عناد کی طرف بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو دین اور توحید کی دعوت بوجھل معلوم ہوتی ہے ، لہٰذا آپ ان کو پوری استقامت کے ساتھ دعوت الیٰ الدین تا کہ انہیں کوئی شبہ باقی نہ رہے ۔ اس ذلک کا اشارہ خود دین اور توحید کی طرف بھی ہو سکتا ہے کہ آپ بھی اسی دین کی طرف دعوت دیں جس کی طرف پہلے انبیاء کرام دعوت دیتے آئے ہیں اور جس دین کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ہے چناچہ اس آیت میں بیان کردہ پہلا اصول دعوت الی الدین ہے۔ (2) استقامت علی الدین پہلی بات تو یہ تھی کہ آپ دین کی طرف دعوت دیں ، اور دوسر ییہ کہ واستقم کما امرت اور مستقیم یہ ہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ استقامت سے مرادیہ ہے کہ انسان صحیح دین ، عقیدہ ، توحید اور ایمان پر قائم رہے اور کسی خود غرضی ، لالچ یا بد عقیدہ کی وجہ سے اس کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے پائے استقامت علی الدین بہت بڑی حقیقت ہے مگر مشکل کام ہے۔ گزشتہ سورة حم السجدۃ میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ ان الذین فالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تنزیل علیھم الملئکۃ ( آیت : 30) بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر مستقیم رہے ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ۔ استقامت علی الدین کا حکم اللہ نے سورة ہود میں بھی اپنے پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو دیا ہے۔ فاستقم کما امرت ومن تاب معک ولا تطغوا ( آیت : 112) آپ اور جنہوں نے آپ کے ساتھ توبہ کی ، دین پر مستقیم رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے ، اور حد سے تجاوز نہ کریں اسی واسطے تو حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا ہے۔ وجہ یہی ہے کہ اس میں استقامت پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا اور یہ بڑا دشوار کام ہے ۔ استقامت کا مطلب یہی ہے کہ ایمان اور توحید کے عقیدے پر سختی سے کار بند رہیں اور اس میں کسی قسم کی ہداہنت یا کمزوری نہ آنے دیں لوگوں کی طعن وتشنیع کو برداشت کریں ، لوگوں کی مخالفت اور تکالیف پر صبر کریں ۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ قرب قیامت میں ایک دور بھی آئے گا کہ دین پر ثابت قدم رہنا اس قدر مشکل ہوجائے گا جیسے جلتے ہوئے کوئلوں کو ہاتھ میں پکڑ لینا لوگ کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی میں مبتلا ہوچکے ہوں گے ۔ اس قسم کے ماحول میں ایمان اور توحید پر قائم رہنا بڑا مشکل کام ہوگا ۔ (3) خواہشات کے اتباع سے اجتناب اللہ تعالیٰ نے دین کا تیسرا اصول یہ بتایا ہے ولا تتبع اھواء ھم آپ ان ( مخالفین) کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ۔ ظاہر ہے کہ مخالفین ہر قسم کی تدابیراختیار کرکے آپ کو آپ کے دین سے برگشتہ کرنے اور اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے۔ مگر اللہ نے خبردار کردیا کہ آپ اپنے دین اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے رہیں اور ان کی خواہش کی پیروی سے پرہیز کریں ۔ خواہش کی پیروی کرنا دراصل شیطان کے نقش قدم پر چلنا ہوتا ہے ۔ سورة بقرہ میں جہاں اہل کتاب کا تحویل قبلہ کے متعلق ذکر ہے۔ وہاں اللہ نے اپنے نبی کو مخاطب کر کے فرمایا ہے وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآئَہُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِلا اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ( آیت : 145) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آ چکا ہے ، تو آپ نا انصافیوں میں سے ہوجائیں گے ، چناچہ مشرکین مکہ نے حضور ﷺ کو استقامت علی الدین سے باز رکھنے کے لیے طرح طرح کے لالچ بھی دیے تا کہ آپ ان کے عقائد کے خلاف کوئی بات نہ کریں ۔ ولید بڑا امیر کبیر آدمی تھا۔ دس بیٹے تھے جن میں سے صرف چار کو اللہ نے اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی ۔ بیشمار بھیڑ بکریاں اور اونٹ تھے ، بہت سے غلام تھے کم از کم ایک لاکھ دینار تجارت میں گردش کر رہے تھے۔ وہ کہنے لگا کہ اگر آپ میری بات مان جائیں تو میں اپنی آدمی جائیداد آپ کو دینے کے لیے تیار ہوں ۔ شیبہ نے پیش کش کی کہ میں اپنی حسین و جمیل بیٹی سے نکاح کیے دیتا ہوں ، آپ ہمارے عقیدے کے خلاف اتنی سختی کا مظاہرہ نہ کریں غرضیکہ مشرکین مکہ نے لالچ اور رعب ہر طرح کے حربے آزمائے تا کہ کسی طرح آپ ان کی بات مان لیں مگر الہل نے فرمایا کہ آپ ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں۔ (4) کتب سماویہ پر ایمان ارشاد ہوا وقل امنت بما انزل اللہ من کتب اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میں ایمان لایا ہوں اس چیز پر جو اللہ نے کتاب کی صورت میں نازل فرمائی ہے تمام کتب سماویہ پر ایمان لانا بھی ایمان کا لازمی جزو ہے ۔ اللہ نے حضور ﷺ کو حکم دے دیا کہ آپ اعلان کردیں کہ میں وحی الٰہی پر ایمان رکھتا ہوں اور اس کے خلاف تمہاری باتوں کو تسلیم نہیں کرسکتا ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چار مستقل کتابیں زبور ، تورات ، انجیل اور قرآن نازل فرمائیں اور ان کے علاوہ مختلف انبیاء پر ایک سو چھوٹے چھوٹے صحائف بھی نازل فرمائے۔ ان میں سے 39 صحائف موجود بائیبل میں بھی پائے جاتے ہیں ، تا ہم قرآن کے علاوہ تمام کتب و صحائف میں تحریف ہوچکی ہے۔ اللہ کی آخری کتاب قرآن حکیم ہے جو کہ تمام کتب سماویہ کا جامع اور تحریف سے پاک ہے۔ اللہ نے اہل کتاب کو اپنی کتب کا نگران بنایا مگر وہ تو ان کی حفاظت نہ کرسکے ۔ اس کے بعد اللہ نے اپنی آخری کتاب قرآن کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا ۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون ( الحجر : 9) اس ذکر یعنی قرآن کریم کو ہم نے نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی تا قیامت حفاظت کریں گے۔ بہر حال چوتھا اصول دین تمام کتب سماویہ پر ایمان لانا ہے۔ (5) قیام عدل اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) آپ یہ بھی کہہ دیں وامرت لا عدل بینکم مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کرو۔ عدل و انصاف بہت بڑی حقیقت ہے اور قرآن پاک میں جا بجا اس کو قائم کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ مثلاً سورة المائدہ میں ہے اعدلوا ھو اقرب للتقوی ( آیت : 8) انصاف کرو کیونکہ یہ تقویٰ اور پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔ سورة الانعام میں ارشاد ہوا ہے واذا قلتم فاعدلوا ولو کان ذا قربی ( آیت 53) جب بات کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ اگرچہ کوئی فریقہ تمہارا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو ۔ سورة النساء میں اللہ کا فرمان ہے واذا حکمۃ بین الناس ان تحکموا بالعدل ( آیت : 58) جب تم لوگوں کے درمیان بطور حاکم حج یا قاضی فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ سورة النحل میں ہے ان اللہ یامر بالعدل والاحسان ( آیت : 90) اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے ، اس کا دامن کسی وقت نہ چھوڑو ۔ سورة الحجرات میں جہاں اللہ نے دو مومن گروہوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوجانے کا ذکر کیا ہے وہاں فرمایا فاصلحوا بینھما بالعدل واقسطوا ان اللہ یحب المقسفین ( آیت : 9) ان دو گروہوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ عدل ان چار بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی شرائع میں قائم رہے ہیں اور یہ اصول کسی امت سے بھی ساقط نہیں ہوئے۔ یہ ہیں (1 ) طہارت (2) اخباث یعنی عاجزی (3) سماحت یعنی بری چیزوں سے پرہیز اور (4) عدل ، جب کسی انسان میں عدل کا بلکہ پیدا ہوجاتا ہے تو پھر نظام حکومت کو چلانا آسان ہوجاتا ہے۔ عدل سے ان اور ظلم سے بدامنی پیدا ہوتی ہے ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جس مومن کے دل میں عدل کی صفت پختہ ہوجاتی ہے تو پھر اس کے اور ملا د اعلیٰ کے فرشتوں کے درمیان مناسبت پیدا ہوجاتی ہے ۔ غرضیکہ ظلم کو مٹانا اور عدل کو قائم کرنا بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ حضور ﷺ فرمان ہے وان کل زی حق حفۃ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو کہ انصاف کا یہ تقاضا ہے مگر آج دنیا میں سب سے ناپید چیزانصاف ہی ہے جو کہیں نہیں ملتا۔ چھوٹی عدالتوں سے لے کر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک کی عدالتیں موجود ہیں مگر عدل نہیں ملتا ۔ پولیس اور سکیورٹی کا وسیع انتظام موجود ہے مگر امن قائم نہیں ہوتا ۔ بڑے بڑے افسران ہیں ، وسیع عملہ ہے مگر ان کی اپنی تنخواہ اور مراعات سے غرض ہے ۔ فرائض کی بجا آوری کا احساس ختم ہوچکا ہے ، ان گنت تعداد میں جیلیں موجود ہیں مگر مجرموں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ اصل بات یہی ہے کہ عدل کا فقدان ہے اور جب تک عدل قائم نہیں ہوتا دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ انسان کے لیے تین چیزیں نجات دہندہ اور تین چیزیں ہلاکت خیز ہیں ۔ نجات دہندہ تین چیزیں ہیں ( 1) العدل فی الرضا والغضب خوشی اور غصے کی حالت میں عدل کا دامن تھامنے رکھنا۔ (2) القصد فی الغنی والفقص آسودگی اور تنگ دست میں میانہ روی اختیار کرنا۔ (3) خشیۃ اللہ فی السروالعلانیۃ ظاہر و باطن میں خوف خدا کو پیش نظر رکھنا ۔ ہلاکت خیز چیزیں یہ ہیں ۔ (1) شخ مطاع بخل کی اطاعت کرنا یعنی مال کی موجودگی میں اپنی ذات بال بچوں اور محتاجوں پر خرچ نہ کرنا ۔ (2) ھوی متبعا شریعت کی بجائے خواہش کے پیچھے چلنا جس پر شیطان راضی ہوتا ہے ۔ (3) اعجاب المرء بنفسہ آدمی کا اپنی رائے کو ہی اعلیٰ سمجھنا چاہئے وہ حق کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کو قائم کروں۔ (6) اللہ تعالیٰ کی ربوبیت فرمایا دین کا چھٹا اصول یہ ہے اللہ ربنا و ربکم اے پیغمبر ! آپ اعلان فرما دیں کہ ہمارا اور تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے ، تمام تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں ۔ خالق بھی وہ ، مالک بھی وہ ہے۔ وہی ہر چیز کا موجد ہے ، لہٰذا عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے۔ والھکم الہ واحد ( البقرہ : 163) تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے ۔ وہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے۔ اس کے سوا کوئی کسی کی بگڑی نہیں بنگ سکتا ، غرضیکہ ہمارا اور تمہارا پروردگار تو وہی ہے ۔ پھر تم کفر اور شرک والی باتیں کیوں کرتے ہو ؟ جب اس کو رب تسلیم کرلیا ہے تو پھر اسی پر بھروسہ رکھو ! اور اپنے تمام معاملات اور حاجات اسی کے سامنے پیش کرو۔ (7) اعمال اپنے اپنے فرمایا ساتویں بات ہے لنااعمالنا ولکم اعمالکم ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہیں ۔ ہر شخص جو بھی نیک و بدل اعمال انجام دیگا ، ان کا ذمہ دار وہ خود ہے اور اسے ان اعمال کی جزاملے گی یا ان کی سزا بھگتنا ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کل نفس بما کسبت رھیۃ (المدثر : 38) ہر نفس اپنی کمائی کا گروی شدہ ہے۔ اس نے اس دنیا میں جو کچھ بھی اچھا یا برا کمایا اس کا بدلہ اس کو مل کر رہے گا ۔ کوئی شخص ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ اور نہ ہی ایک کے اعمال دوسرے کے کام آئیں گے ۔ کسی کو نیکی دوسرے کے کام نہیں آئے گی اور نہ ہی ایک کی برائی دوسرے کے سر پر ڈالی جائے گی ۔ اس لیے فرمایا کہ یاد رکھو ! ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ (8) عدم تنازعات فرمایا آٹھویں بات یہ ہے لا حجۃ بیننا و بینکم ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی متنازعہ بات نہیں ہے۔ ہم اللہ کو وحدہٗ لا شریک تسلیم کرتے ہیں ۔ رب ہمارا بھی وہی ہے جو تمہارا ہے ، ہر ایک کے لیے اس کے اپنے اعمال ہی کام آئیں گے ، تو پھر تمہارے اور ہمارے درمیان جھگڑے والی کون سی بات رہ جاتی ہے ؟ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ (9) قیامت کو اجتماع عام فرمایا اللہ یجمع بینا قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہم سب کو اکٹھا کریگا ۔ اس دن کسی کے ساتھ رد رعایت نہیں ہوگی ۔ این ما تکونوا یات بکم اللہ جمعیا ً ( البقرہ : 148) تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تم سب کو لے آئیگا ۔ لوگ خواہ قبروں میں ہوں گے یا درندوں اور مچھلیوں کے پیٹ میں ان کے ذرات ہوا میں منتشر ہوچکے ہوں گے یا پانی میں بہا دیئے گئے ہوں گے اللہ تعالیٰ سب کو جمع کر کے اپنے سامنے زندہ کھڑا کرلے گا ۔ پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے۔ (10) رجوع الی اللہ احوال اصول یہ ہے والیہ المصیر سب کو اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے کوئی شخص کتنی بھی لمبی زندگی پا لے مگر بالآخر اسے موت کا پیالہ پینا ہے اور پھر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہے۔ اس میں فرمانبردار اور نافرمان یا موحد اور مشرک و کافر کی کوئی تخصیص نہیں ۔ سب کو اسی کی طرف جانا ہے ، اللہ نے یہ اٹل اصول بتلا دیئے ہیں ۔ جن کا انکار کوئی ہٹ دھرم شخص ہی کرسکتا ہے۔
Ayahs 42:16–19

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں بعد اس کے کہ اس کی بات کو قبول کیا گیا ۔ ان کی دلیل کمزور ہے ان کے رب کے نزدیک اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے شدید عذاب ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے اتاری ہے کتاب حق کے ساتھ اور ترازو بھی اور آپ کو کیا خبر شاید کہ قیامت قریب ہو

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جلدی کرتے ہیں اس کے بارے میں وہ لوگ جو ایمان نہیں کرنے اس پر ، اور وہ جو ایمان لاتے ہیں ڈرنے والے ہیں ۔ اس سے ، اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ بر حق ہے ، آگاہ رہو ! بیشک جو لوگ جھگڑا کرتے ہیں قیامت کے بارے میں ، البتہ وہ گمراہی میں دور جا پڑے ہیں

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اپنے بندوں کے ساتھ ، وہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے ، اور وہ قوت والا اور غالب ہے

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص طور پر کتاب کا ذکر فرمایا اور اپنے پیغمبر کی زبان سے کہلوایا کہ میں اس پر ایمان لایا ۔ دراصل گزشتہ آیت میں اللہ نے دین کے دس اصول بیان فرمائے ہیں یعنی دعوت الی الدین ، استقامت علی الدین ، خواہشات کا عدم اتباع ، کتب سماویہ پر ایمان قیام عدل ، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، اعمال کا بدلہ ، قیامت کا اجتماع اور رجوع الی اللہ عدم تنازعات اب ان آیا ت میں بھی کتاب الٰہی اور قیامت کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔ دین کے خلاف کمزوری ارشاد ہوتا ہے والذین یحاجون فی اللہ من بعدی ما استجیب لہ اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے دین ، توحید یا کتاب کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ، بعد اس کے کہ اللہ کی بات کو قبول کرلیا گیا ہے یعنی بعض سمجھدارلوگوں پر دلائل واضح ہوچکے ہیں اور وہ اللہ کی توحید اور اس کی کتاب پر ایمان لا چکے ہیں ۔ اس کے باوجود بعض لوگ مسلسل انکار کر رہے ہیں اور حجت بازی سے کام لے رہے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا حجتھم دا حضۃ عند ربھم ان کی دلیل ان کے پروردگار کے نزدیک کمزور ہے۔ داحضۃ کا لغوی معنی پھسلنا ہوتا ہے جیسے کوئی شخص گارے یا دلدل میں پھسل جاتا ہے مطلب یہ کہ ان کا یہ جھگڑا اور دلیل پھسلنے والی یعنی بالکل کمزور ہے ، ان کے پاس کوئی پکی دلیل نہیں ہے جو ان کے باطل اعتقاد کے حق میں پیش کی جاسکے۔ فرمایا چونکہ یہ لوگ جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں وعلیھم غضب اور ان پر اللہ کا غضب اور ناراضگی ہے کیونکہ یہ حق کو ٹھکرا رہے ہیں اور محض حجت بازی کی بناء پر حق کو تسلیم نہیں کرتے۔ ولھم عذاب شدید اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ اس عذاب کے مستحقین میں مشرک اور اہل کتاب دونوں شامل ہیں کیونکہ دونوں اپنی کٹ حجتی سے دین حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ نزول کتاب اور میزان اللہ نے کتاب کے متعلق فرمایا اللہ الذی انزل الکتب بالحق اللہ کی ذات وہ ہے جس نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ۔ اس کتاب کا سارا پروگرام حق و صداقت پر مبنی ہے اور اس میں کسی قسم کے باطل کی کوئی گنجائش نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ( حم السجدہ : 42) نہ اس کے گزشتہ ادوار کے واقعات کے بیان میں کوئی غلط بات ہے اور نہ آئندہ پیش آنے والے حالات وواقعات غلط ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اللہ نے اس کتاب کو مکمل حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے اور اس کے ساتھ دوسری چیز والمیزان یعنی میزان کو بھی نازل کیا ہے ۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ میزان سے مراد عام ترازو بھی ہو سکتا ہے کہ جس کے ذریعہ ماپ تول میں انصاف قائم کیا جاتا ہے تا کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ سورة الرحمن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِِ وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کیا یہ کہ ترازو میں حد سے تجاوز نہ کرو اور وزن کو انصاف کے ساتھ درست کرلو اور تول میں کمی نہ کرو ، اسی طرح سورة الطففین میں ماپ اور تول میں کمی کی مذمت بیان کی گئی ہے واذا کالو ھم او وزنوھم یخسرون تو گویا ایک میزان تو یہ ہے جس کے ذریعے تو لا ماپا جاتا ہے اور جس کے متعلق فرمایا کہ ماپ اور تول میں کمی نہ کرو ۔ ایک موقع پر حضور ﷺ بازار تشریف لے گئے ۔ آپ نے تاجروں کو خطاب فرمایا ، اتجار کے گروہ ! قد ولیتم امرین ھلکت فیہ الامر السالفۃ قبلکم ( ترمذی) تمہیں دو چیزوں کا ذمہ دار بنایا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کئی امتیں تباہ ہوئیں ، فرمایا دو چیزیں المکیال والمیزان ایک ماپ ہے اور دوسری تول جب ان قوموں نے ماپ اور تول میں کمی کی تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ اگر تم بھی انہیں کے نقش قدم پر چلو گے ، تو تمہارا حشر بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا ۔ بہر حال ترازو سے یہ مادی اشیاء گز ، ہیٹر ، کلو گرام ، من ، سیر ، لیٹر وغیرہ بھی مراد ہو سکتی ہیں اور اس سے عقل سلیم بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوگ اچھی اور بری چیز میں امتیاز کرسکتے ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ میزان سے مراد اخلاق ہے کہ اچھا اخلاق بھی ترازو کی مانند ہوتا ہے۔ جو ہر چیز کو پرکھ سکتا ہے ۔ اسی طرح بعض اصحاب میزان سے مراد عدل لیتے ہیں ۔ اللہ نے انصاف کو بھی ایک میزان قرار دیا ہے اور اسے گزشتہ آیت میں مذکورہ دین کے دس اصولوں میں شمار کیا ہے وامرت لا عدل بینکم (آیت : 15) اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں تمہارے درمیان عدل کو قائم کروں۔ غرضیکہ بعثت انبیاء ، نزول کتب ، ظاہری اور باطنی حواس کی درستگی ، عقل سلیم اور عدل و انصاف سب انسانی رہنمائی کے لیے وسائل ہیں ۔ یہ تمام ذرائع مہیا ہونے کے باوجود اگر لوگ ، توحید ، کتاب اور رسالت کا انکار کرتے ہیں تو تعجب انگیز بات ہے۔ وقوع قیامت کا علم منکرین قیامت تمسخر کے طور پر قیامت کے بارہ میں پوچھتے تھے متی ھذالوعدان کنتم صدقین ( الملک : 25) اگر تمہیں یقین ہے کہ قیامت ضرور برپا ہوگی تو بتلائو کہ وہ کب واقع ہوگی ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا وما یدریک لعل الساعۃ قریب تمہیں کیا خبر ، شاید کہ قیامت قریب ہی ہو ۔ جو چیز آنے والی ہے وہ بہر حال قریب ہے کیونکہ اس نے بالآخر آنا ہے اور جو چیز گزر جاتی ہے وہ بعید ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے واپس آنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا ۔ اما م ابن عربی فرماتے ہیں کہ قیامت کی دو قسمیں ہیں یعنی قیامت صغریٰ اور قیامت کبری ، بڑی قیامت تو اپنے وقت پر اجتماعی طور پر سب کے لیے آئیگی اور اس کے وقوع کے وقت کا علم اللہ نے کسی کو نہیں دیا ۔ البتہ قیامت صغریٰ انسان کے ہر وقت قریب ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے من مات فقد قامت قیامۃ جو مر گیا اس کی تو قیامت واقع ہوگئی کیونکہ قبر عقبیٰ کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے جس میں انسان موت کے فوراً بعد پہنچ جاتا ہے چونکہ انسان کو اپنی موت کے وقت کا علم نہیں ہے ۔ اس لیے یہ قیامت صغریٰ تو بہر حال ہی قریب ہے۔ فرمایا یستعلجل بھا الذین لا یومنون بھا قیامت کے لیے وہی لوگ جلدی کرتے ہیں جو اس پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ قیامت کی ہولناکیوں سے یکسر بےفکر ہیں۔ کھیل تماشے اور معاصی میں انہماک رکھتے ہیں ، اس لیے ازراہ تمسخر کہتے ہیں کہ قیامت اگر آنی ہے تو پھر آ کیوں نہیں جاتی ۔ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو ابھی قیامت کو لے آئو اور ہمیں تباہ کر کے رکھ دو ۔ اسی لیے فرمایا کہ جو لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے وہی اس کی جلد آمد کو طلب کرتے ہیں ۔ اس کے بر خلاف والذین امنوا مشفقون منھا جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہیں وہ اس سے ڈراتے بھی ہیں ۔ انہیں ہر وقت فکر رہتی ہے کہ پتہ نہیں آگے کیا صورت حال پیش آئے گی ۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کو قیامت کے وقوع کا خوف ہوگا وہ اس کے لیے تیاری بھی کرے گا ۔ اور آگے کے لیے نیکی کا کچھ سامان پیدا کریگا ۔ نیز کفر ، شرک اور معاصی سے پرہیز کریگا ، کیونکہ اسے محاسبہ اعمال کی منزل نظر آتی ہوگی ۔ ایسے ہی ایمان داروں کے متعلق اور ویعلمون انھا الحق وہ جانتے ہیں کہ قیامت بر حق ہے ۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یہ ضرور واقع ہو کر رہے گی اہل ایمان کو قیامت کا اتنا ہی یقین ہوتا ہے جتنا خود اپنے وجود کا جس طرح کوئی شخص اپنی پیدائش اور اپنی ذات کا انکار نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح وہ قیامت کی صداقت کا بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ اللہ کا فرمان ہے انما توعدون لواقع ( المرسلات : 7) جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے ۔ اس دن ہر انسان کو اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ فرمایا الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید آگاہ رہو کہ جو لو گ قیامت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں یعنی اس کے وقوع میں شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں وہ حق سے دور گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اب ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ صفات باری تعالیٰ آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور تصرف کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے ارشاد ہوتا ہے اللہ لطیف بعبادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے یہ اس کی نرمی کا نتیجہ ہے کہ وہ ہر گناہ گار کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ دیتا رہتا ہے ۔ ابن ماجہ اور ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناع بعوضۃ ما سقی کافرا منھا شربۃ ماء اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قدروقیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کا ذکر ایک گھونٹ پانی بھی عطا نہ کرتا ۔ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ انکار کرنیوالوں پر بھی نرمی کرتا ہے اور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ لطیف کا معنی نرمی کرنے والا بھی آتا ہے اور باریک بین بھی یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ذرہ ذرہ حالات سے واقف ہے۔ وہ خالق اور مالک ہے الا یعلم من خلق وھو الطیف الخبیر ( الملک : 4) کیا وہ نہیں جائے گا جس نے پیدا کیا ؟ وہ تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے یرزن من یشاء وہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے اور جس قدر چاہے بعض اوقات نافرمانوں کو بہت زیادہ عطا کرتا ہے جب کہ ایمان اور نیکی والوں کو تنگی میں رکھتا ہے بعض اوقات نیکو کاروں کو بھی رزق سے وافر حصہ عطا کرتا ہے۔ رزق کی تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جس کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا فرماتا وھو القوی العزیز وہ قوت کا سر چشمہ یعنی بہت زیادہ طاقتور والا اور غالب اور زبردست بھی ہے۔ اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا ، نہ کوئی اس کی کسی سکیم کو ناکام بنا سکتا ہے۔ اس کی تدبیر تمام تدابیر پر غالب ہے ۔ صاحب معارف القرآن مولانا مفتی محمد شفیع (رح) نے حضرت مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو شخص اس آیت کا اخلاص کے ساتھ روزانہ ستر بار ورد کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے روزی کا سامان بہم پہنچاتا رہے گا ۔
Ayahs 42:20–23

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص چاہتا ہے آخرت کی کھیتی ہم زیادہ کرلیا گے اس کے لیے اس کی کھیتی میں ، اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ، ہم دیں گے اس کو اس میں سے ، اور نہیں ہوگا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے لیے کوئی شریک ہیں جنہوں نے مقرر کی ہے ان کے لیے دین میں وہ چیز جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ، اور اگر نہ ہوتی فیصلے کی ایک بات تو البتہ ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ، اور بیشک ظلم کرنے والے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

دیکھو گے تم ظالموں کو ڈرنے والے ہو گے اس سے جو کمایا انہوں نے ، اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہوگا ، اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے ، وہ جنت کے باغوں میں ہوں گے ، ان کے لیے جو چاہیں گے ہوگا ان کے رب کے پاس ، یہ ہے فضلیت بڑی

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے ، آپ کہہ دیجئے ( اے پیغمبر ! ) ( اے لوگو ! ) میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ بدلہ مگر دوستی قرابت میں ، اور جو شخص کمائے گا بھلائی ہم زیادہ کریں گے اس کے اندر اس کی خوبی ، بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور قدر دان ہے

ربط آیات پہلے قرآن پاک پر ایمان لانے کا ذکر ہوا اور اس کتاب کی عظمتوں کا بیان ہوا پھر گزشتہ درس میں قیامت اور محاسبے کا ذکر تھا اللہ نے منکرین قیامت کا رد فرمایا ۔ نیز فرمایا کہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ۔ اس کی تدبیر بہت باریک ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے روزی پہنچاتا ہے وہ تمام قوتوں کا سر چشمہ اور غالب ہے۔ آخرت اور دنیا کی کھیتی آج کی پہلی آیت میں وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی کا بیان ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے من کان یرید حرث الاخرۃ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے نزدلہ فی حرثہ تو اس کے لیے ہم اس کو کھیتی میں اضافہ کردیں گے ۔ کھیتی سے مراد کاشتکاری ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جس میں انسان سخت محنت کرتا ہے تو پھر کچھ عرصہ کے بعد جا کر اسکو اس کی محنت کا پھل اناج ، سبزی یا پھلوں کی صورت میں ملتا ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی کو بھی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو شخص اس دنیا میں ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے کے بعد عبادت و ریاضت کے ذریعے محنت کرتا ہے۔ وہ گویا ایسی کھیتی پر کام کر رہا ہے جس کا پھل اسے مرنے کے بعد آخرت میں جا کر ملے گا ۔ جو بھی اس دنیا میں آتا ہے وہ اپنا وقت تو بہر حال پورا کرتا ہے اور دو زن زندگی محنت کرتا ہے مگر آگے ان میں دو گروہ پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جو آخرت کے لیے محنت کرتا ہے کہ اس محنت کا بدلہ اسے دوسری دنیا میں جا کر ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں یعنی اس کھیتی کے پھل میں اضافہ کردیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون ہے کہ نیکی کرنے والے شخص کو ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثال لھا ( الانعام : 161) مگر زیادہ سے زیادہ اجر کی کوئی تحدید نہیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو لاکھوں کروڑوں گنا بدلہ عطا فرمادے۔ آگے دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا ومن کان یرید حرف الدنیا جو شخص دنیا کی کھیتی کا طلب گار ہے اور آخرت کے لیے اس کے دل میں تڑپ ہی نہیں ہے۔ فرمایا نوتہ منھاہم اس کو اس دنیا میں ہی دے دیتے ہیں وما لہ فی الاخرۃ من نصیب مگر آخرت میں اس کے لیے کچھ حصہ نہیں ہوگا ۔ اللہ نے سورة النجم میں ایسے لوگوں کی ذہنیت کا تجزیہ اس طرح کیا ہے ذلک مبلغھم من العلم ( آیت : 30) ان کے علم کی انتہاء دنیا کے مفاد تک ہی ہے ۔ وہ اسی دنیا میں سے زیادہ سے زیادہ سازو سامان اور آرام اور راحت کے طلب گار ہیں اور آخرت کی فکر ہی نہیں ہے ، لہٰذا انہیں اسی دنیا میں حصہ مل جائے گا ۔ اس مقام پر یہ امر وضاحت طلب ہے کہ اللہ نے آخرت کے خواہشمند کے لیے فرمایا ہے کہ ہم اس کی محنت کی کمائی میں مزید اضافہ کردیں گے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے ، مگر دنیا کے طالب کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم اس میں سے کچھ دے دیں گے یعنی ضروری نہیں کہ اس کی خواہش مکمل طور پر پوری ہو بلکہ ہم اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق کچھ نہ کچھ حصہ ادا کردیں گے ، مگر ساتھ یہ بھی فرما دیا ثم جعلنا لہ جھنم ( بنی اسرائیل : 18) پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بھی تیار کررکھی ہے ، کیونکہ اس نے نیت اور ارادے سے آخرت کی طلب ہی نہیں کی اور ہمیشہ اسی دنیا کی پیش نظر رکھا اور اسی کے لیے تگ و دو کرتا رہا ۔ شرکاء کا علیحدہ دین آیت : 13 میں اللہ کا یہ فرمان گزر چکا ہے شرع لکم من الدین کہ تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا گیا ہے جو سابقہ انبیاء کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا۔ نیز اللہ نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بھی کہلوایا ہے امنت بما انزل اللہ من کتب ( آیت : 15) میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لا چکا ہوں ۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ اللہ نے تمام امتوں کے لیے ایک ہی دن مقرر کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس دین کے منکرین سے متعلق یہ سوال اٹھایا ہے ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین ما لم یاذن بہ اللہ کیا ان لوگوں کے کوئی شریک ہیں جنہوں نے کوئی ایسا دین مقرر کر رکھا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی ، گویا انہوں نے اپنا کوئی علیحدہ ہی دین بنا رکھا ہے۔ اور اگر کوئی ہے تو وہ کونسا ہے ؟ ھا توا برھانکم ان کنتم صدقین ( النمل : 64) اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو کوئی دلیل پیش کرو ، نیز بتائو کہ انہوں نے حلال و حرام کا کون سا ضابطہ مقرر کیا ہے ، کونسی عبادات ضروری قرار دی گئی ہے اور معاشرتی ، معاشی ، سیاسی اور اخلاقی حدود وقیود کیا مقرر کی ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ شرکاء نے نہ تو کوئی علیحدہ دین بنایا ہے اور نہ اس کے لیے کوئی ضابطہ مقرر کیا ہے ، البتہ مشرکین کی خود ساختہ رسوم دین حق اور شریعت کے سراسر خلاف ہیں ۔ مالم ینزل بہ سلطنا ً ( الاعراف : 33) جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ اس جملہ میں جہاں شرک کا ابطال ہے وہاں بد عات کا رد بھی پایا جاتا ہے ۔ تمام بدعات لوگوں کی خود ساختہ ہیں اور انہیں اللہ نے ہرگز مقرر نہیں فرمایا ۔ بدعات کا ثبوت نہ تو قرآن میں ہے نہ سنت رسول میں ، نہ عمل صحابہ کبار ؓ میں اور نہ مجتہدین و فقہاء (رح) کے قیاس میں موت کی تمام رسومات از قسم قل ، چالیسواں ، سالانہ عرس ، قبروں کی پختگی ، ان پر چراغاں اور چادر پوشی سب خود ساختہ بدعات ہیں اور یہ بھی شرک کی طرح دین کے خلاف ایک بغاوت کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کے لیے سزا مشرکین کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ولولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم اگر پہلے سے ایک فیصلہ شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان فوری طور پر فیصلہ کردیا جاتا یعنی اللہ کے باغیوں کو اسی دنیا میں مبتلائے عذاب کردیا جاتا ۔ اور وہ طے شدہ امر یہ ہے کہ ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون ( السجدۃ : 25) کہ جن امور میں یہ اختلاف کرتے ہیں ان کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا ۔ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا قانون امہال و تدریج کا ر فرما ہے وہ سر کشوں کو مہلت دیتا ہے ، شاید کہ وہ تو بہ قبول کرلیں اور پھر اس نے قطعی فیصلہ کے لیے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے ، اسی دن سارے حتمی فیصلے ہوں گے اس لیے فرمایا کہ اگر ایک طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان لوگوں کا فوراً فیصلہ کردیا جاتا وان الظلمین لھم عذاب الیم اور بیشک ظلم یعنی کفر ، شرک کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ فرمایا تری الظلمین مشفقین مما کسبو اور آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنی کمائی سے ڈرنے والے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ لوگ میدان حشر میں پہنچیں گے تو دنیا میں کردہ اعمال ان کے سامنے ہوں گے۔ ان کا کفر ، شرک ، سرکشی ، معاصی وغیرہ سب نظر آئیں گے اور پھر وہ جان لیں گے کہ آج اپنے برے عقائد و اعمال کی بدولت پھنس گئے۔ اس وقت وہ بڑے خوفزدہ ہوں گے اور حقیقت یہ ہے وھو وافع بھم کہ ان کا کارکردگی کا وبال ان پر پڑنے والا ہوگا ، وہ اس دن بچ نہیں سکیں گے۔ اہل ایمان کے لیے انعامات والذین امنوا وعملوا الصلحت اور وہ لوگ جو ایمان لائے نیک اعمال انجام دیے ۔ ایمان سے مراد اللہ کی ذات ، اس کی صفات ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں ، ملائکہ بعث بعد الموت اور تقدیر پر ایمان لانا ہے اور ہر قسم کے کفر اور شرک سے بیزاری کا اظہار بھی ہے ۔ ایمان کی مثال میں نے ابھی عرض کی ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا قل امنت بما انزل اللہ من کتب آپ کہہ دیں کہ میں اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا کہ یہ بر حق ہے اسی طرح باقی تمام چیزوں پر یقین رکھنا بھی جزو ایمان ہے ۔ اسی طرح کفر و شرک سے بیزاری کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کی واذا قال ابراھیم لابیہ وقومہ اننی برء مما تعبدون ( الزخرف : 26) ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان تمام چیزوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ تو فرمایا جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج نیک اعمال ہیں ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص ان عبادات کو انجام دے گا بشرطیکہ وہ ٹھیک طور پر ایماندار ہو تو وہ کامیاب ہوجائے گا ۔ خواہ و ہ سفرکرے یا گھر میں بیٹھا رہے ۔ بہر حال بنیادی طور پر نیک اعمال میں عبادت اربعہ ہیں اور اس کے بعد صدقہ خیرات ، صلہ رحمی ، حسن معاشرت ، تعلیم و تعلم ، غریب پروری وغیرہ بھی نیک اعمال میں شامل ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا فی روضت الجنت وہ بہشتوں کے باغوں میں ہوں گے ۔ لھم ما یشاء ون عند ربھم ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں ہر وہ چیز ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اس پاک مقام پر پاک خواہش ہی پیدا ہوگی ۔ کسی جنتی کے دل میں کوئی ردی خواہش پیدا ہی نہیں ہوگی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کی ہر خواہش کو پورا فرمائے گا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک جنتی آدمی عرض کرے گا کہ پروردگار ! مجھے کھیتی باڑی کا بڑا شوق ہے ۔ اللہ فرمائے گا ۔ اے آدم کے بیٹے ! کیا جنت کی نعمتوں سے تیرا پیٹ نہیں بھرا ، کیا تو ان چیزوں سے راضی نہیں ہوا ؟ عرض کریگا ۔ مولا کریم ! میں تیری عطا کردہ نعمتوں سے بڑا خوش ہوں ۔ مگر کا شتکار ہیں میری دلی خواہش ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا ، کھیت تیار کیا جائے گا ، پھر اس میں بیچ ڈالا جائے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے فصل اگ آئے گی اور پھر پک جائیگی فصل کٹ کر اناج کے ڈھیر لگ جائیں گے اور اس طرح اللہ اس شخص کی خواہش فوراً پوری فرما دیں گے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں جنت تک پہنچا دے اور یہ ہر مومن کی دلی تمنا ہے ۔ تو فرمایا وہاں پر سرخ یا قوت کے گھوڑے پر سوار ہو کر جہاں چاہو گے اڑتے پھرو گے ۔ گھوڑا تمہیں بلا خوف وخطرمنزل مقصود تک پہنچائے گا ۔ الغرض ! جنت میں ہر جنتی کی ہر خواہش پوری ہوگی فرمایا ذلک ھو الفضل الکبیر پر بہت بڑے دجے کی فضلیت ہے جسے اللہ تعالیٰ نصیب فرمادے۔ دوسری جگہ فرمایا فمن زخرج عن النار وادخل الجنۃ فقدفاز (آل عمران : 185) جو دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین امنوا وعملو الصلحت یہ وہی چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور نیک اعمال انجام دینے والوں کو دینا ہے کہ جنت میں انہیں ہر قسم کا آرام و راحت نصیب ہوگا اور ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ۔ بے لوث تبلیغ آگے اللہ تعالیٰ نے رسالت کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے پیغمبر کی زبان سے بےلوث تبلیغ دین کا اعلان کروایا ہے۔ قل لا اسئلکم علیم اجرا اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میں تبلیغ حق کے سلسلے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا بلکہ میرا یہ فرض منصبی اور بےلوث خدمت ہے۔ سورة الشعراء میں اللہ نے مختلف نبیوں کی زبان سے یہی کہلوایا ہے وما اسئلکم علیہ من اجرا ان اجری الا علی رب العلمین ( آیت : 164) میں تم سے اس کام پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا بلکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ ہاں میرا مطالبہ صرف اس قدر ہے الا المودۃ فی القربی میں قرابت داری میں دوستی چاہتا ہوں ۔ حضرت عبد اللہ عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ہاں اتنی بات ہے کہ تم قرابت داری کا تو کچھ لحاظ رکھو ۔ تم میرے خاندان کے لوگ ہو اور خاندانی لوگ ایک دوسرے کا بڑا لحاظ کرتے ہیں ، تم اگر میرے پروگرام کو قبول نہیں کرتے توقرابتداری کا لحا ظ کر کے سہی ، مجھے ایذا تو نہ پہنچائو ، ہمیں اپنا کام کرنے دو ، تم مانو یا نہ مانو ، یہ تمہاری مرضی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ۔ مگر تم صلہ رحمی کرتے ہوئے آپس میں قرابتداری اور رشتہ داری کا لحاظ تو رکھو ۔ مطلب یہ کہ صرف میری بات نہیں بلکہ میرے ماننے والے دوسرے لوگ بھی تمہاری برادری اور خاندان کے لوگ ہیں ان سب کا لحاظ رکھو۔ حضور ﷺ سواری پر کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے راستے میں آپکی سواری روک لی اور عرض کیا ، حضور ! مجھے کوئی ایسی بات بتلائیں جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان لائو ، اسی کی عبادت کرو ۔ فرائض بجا لائو اور صلہ رحمی کرو ۔ ظاہر ہے کہ صلہ رحمی میں سب سے پہلے قرابت دار آتے ہیں ۔ والدین ، اقربا ، رشتہ دار ، پھر برادری کے لوگ ، پھر ساری مسلمان قوم ، پھر ساری بنی نوع انسان کے ساتھ درجہ بدرجہ صلہ رحمی ضروری ہے ۔ غرضیکہ صلہ رحمی بہت بڑی چیز ہے اور اس میں بڑوں ، چھوٹوں ، اپنوں ، بیگانوں ، اہل محلہ ، اہل شہر اور اہل ملک اور پھر اہل ایمان سب کے حقوق آتے ہیں اور اللہ کا فرمان ہے وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ (بنی اسرائیل : 26) قرابت داروں کو ان کا حق اور کرو اور مسکینوں کا اور مسافروں کا بھی ، اور سب سے پہلا حق اللہ نے والدین کا رکھا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں ہی ارشاد ہے ۔ تیرے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ عبادت صرف اسی کی کرو وبالوالدین احسانا ً ( آیت : 23) اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ، ان کی خدمت کرو ، اور جب وہ بوڑھے ہوجائیں تو ان کے سامنے اف تک بھی نہ کرو۔ یہ سب کچھ قرابتداری میں آتا ہے جس کے متعلق اس مقام پر فرمایا کہ میں تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا سوائے اس کے کہ قرابتداری کا لحاظ تو رکھو جو کہ ہر جگہ ایک مسلمہ اصول ہے ۔ امام حسن بصری (رح) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قربیٰ سے مراد اللہ تعالیٰ کا قرب ہے یعنی میں اپنی ذات کے لیے تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ تم نیک اعمال انجام دے کر اللہ کا قرب حاصل کرلو ۔ اہل بیت سے محبت حضرت سعید ابن جبیر (رح) اور امام زین العابدین (رح) نے اس آیت سے حضور ﷺ کے قرابتدار مراد لیے ہیں یعنی میں تم سے کچھ نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ میرے قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک رکھو۔ حضور ﷺ کے اہل بیت اور قرابتداروں کے ساتھ محبت رکھنا اور ان کا ادب و احترام اپنی جگہ مسلم ہے ۔ اگرچہ اس آیت کا یہ مصداق نہ ہو اور پھر اہل سنت کا یہ بھی مسلک ہے کہ جس طرح حضور ﷺ کے قرابتداروں کے ساتھ محبت ضروری ہے۔ اسی طرح آپ کے صحابہ کرام ؓ اور ازواج مطہرات ؓ کی محبت اور ادب و احترام بھی ضروری ہے ۔ حضرت حضرت علی ؓ ، امام حسن ؓ ، امام حسین ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو مومن سمجھ کر صحابہ ؓ کے ساتھ بغض رکھا جائے اور ازواج مطہرات سے نفرت کی جائے ، یہ ہرگز روا نہیں ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرو کیونکہ وہ خالق اور مالک ہے اور تمہاری تمام ضروریات پوری کرتا ہے ، پھر فرمایا کہ مجھ سے بھی محبت رکھو کیونکہ میں تمہیں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت ؓ اور میرے صحابہ ؓ کے ساتھ بھی محبت رکھو۔ فرمایا من احبتھم فجتی احبھم ومن بغضھم فیغضی بغضھم جو میرے صحابہ ؓ کے ساتھ محبت رکھتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے رکھتا ہے اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتا ہے وہ گویا مجھ سے بغض رکھتا ہے آپ کا ارشاد ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے ساتھ محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان کے ساتھ بغض منافقت کی علامت ہے اسی طرح حضرت علی ؓ کے ساتھ محبت ایمان کا جزو ہے اور ان کے ساتھ نفرت منافقین کا کام ہے ۔ آپ نے انصار سے محبت کو بھی ایمان کی علامت بتایا۔ حرف آخر اس آیت کریمہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی تفسیر راجح ہے کہ لوگو ! میں تم سے کوئی ذاتی معاوضہ نہیں مانگتا ، بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ کم از کم قرابت داری کا لحاظ کرتے ہوئے تکلیف تو نہ پہنچائو ۔ قرابت داری کا خیال تو غیرمذہب والے بھی رکھتے ہیں ۔ تم میری بات مانو یا نہ مانو ، تمہاری مرضی ، مگر صلہ رحمی کا دامن تو نہ چھوڑو۔ فرمایا ومن یقترف حسنہ نزدلہ فیھا حسنا اور جو شخص بھلائی کمانے کا ہم اس کی خوبی زیادہ کردیں گے یعنی اس کا بدلہ بڑھا کردیں گے۔ ان اللہ غفور شکور بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور نہایت ہی قدر دان ہے ۔ وہ معمولی عمل پر بھی بہت زیادہ اجر عطا کردیتا ہے اور بندوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے در گزر فرماتا ہے۔