42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 42:24–29

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ پس اگر چاہے اللہ تعالیٰ تو مہر کردے آپ کے دل پر ، اور اللہ تعالیٰ مٹاتا ہے باطل کو ، اور ثابت کرتا ہے حق کو اپنے کلمات کے ساتھ ، بیشک وہ جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کو

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جو قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں سے اور معاف کرتا ہے برائیاں اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور وہ سنتا ہے دعا ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے ، اور زیادہ دیتا ہے ان کو اپنے فضل سے ، اور کفر کرنے والے لوگ ، ان کے لیے عذاب شدید ہے

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ پھیلا دے روزی اپنے بندوں کے لیے ، تو البتہ سر کشی کریں وہ زمین میں ، لیکن اتارتا ہے وہ ایک اندازے کے ساتھ جو چاہے ، بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ خبر رکھنے والا ، اور ( ان کے حالات کو) دیکھنے والا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جو اتارتا ہے بارش کو بعد اس کے کہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں ، اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت ، اور وہ کار ساز اور تعریفوں والا ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا اور جو پھیلایا ہے ان دونوں کے درمیان جانوروں میں سے ، اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر بھی ، جب چاہے قدرت رکھتا ہے

ربط آیات پہلے توحید ، معاد اور جزائے عمل کا ذکر ہوا ، اور نیک و بد آدمیوں کا انجام بیان کیا گیا ۔ پھر گزشتہ آیت میں رسالت کا ذکر تھا ۔ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا لا اسئلکم علیہ اجرا ًمیں اس تبلیغ حق پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ، میں تو صرف قرابتداری کا لحاظ چاہتا ہوں کہ کم از کم مجھے ایذاء تو نہ پہنچائو ۔ اب آج کی پہلی آیت بھی رسالت ہی کے تسلسل میں ہے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں اور جزائے عمل کا تذکرہ ہے۔ افترا علی اللہ کی نفی ارشاد ہوتا ہے امر یقولون افتری علی اللہ کذبا ً کیا یہ منکرین اور مکذبین کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا ہے ؟ یعنی قرآن پاک اللہ کا کلام نہیں ، بلکہ یہ نبوت کا دعویدار خود ساختہ کلام کو اللہ کی طرف منسوب کر رہا ہے ۔ اللہ نے ایسے لوگوں کا رد فرمایا ہے اور وحی الٰہی کی حقانیت کو اس انداز سے پیش کیا ہے کہ تم کہتے ہو کہ یہ خدا کا کلام نہیں ۔ یاد رکھو ! فان یشاء اللہ یختم لی قلبک اے پیغمبر ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر کر دے ، آپ کا دل مائوف ہوجائے اور پھر اس میں وحی الٰہی یا کوئی دوسری صحیح بات داخل ہی نہ ہو سکے ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر مکمل قدرت رکھتا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرتا ۔ لہٰذ اللہ کا پیغمبر ہمیشہ سچی بات کرتا ہے جس کی بنیاد وحی الٰہی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ ایسے پیغمبر پر افتراء کا الزام لگانا اور اس کی طرف غلط باتیں منسوب کرنا درست نہیں ۔ ہ حق کے بغیر کچھ نہیں کہتا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آیت زیر درس کو سورة بنی اسرائیل کی اس آیت کے تناظر میں سمجھنا چاہئے وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (بنی اسرائیل : 86) اگر ہم چاہیں تو آپ کی طرف نازل کی گئی وحی کو آپ سے ہٹا دیں ۔ اس مقام پر بھی ایسی ہی بات کی گئی ہے کہ ہم نے کمال مہربانی سے آپ پر اپنی کتاب بصورت وحی نازل کی ہے اور جس طرح یہ آپ کے قلب مبارک پر نازل کی ہے۔ اسی طرح ہم آپ کے دل کو سر بمہر بھی کرسکتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز داخل ہی نہ ہونے پائے ، بھلا یہ لوگ آپ پر افتراء کا الزام کیسے لگاتے ہیں ؟ فرمایا حقیقت یہ ہے ویمح اللہ الباطل اللہ تعالیٰ اس وحی کے ذریعے باطل کو مٹاتا ہے ویحق الحق بکلمتہ اور اپنے کلمات کے ذریعے صحیح بات کو ثابت کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر اور وحی کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور شیطانی وساوس کو مٹاتا ہے اور اپنے کلمات کو بذریعہ وحی اپنے انبیاء پر نازل فرما کر حقیقت کو واضح کردیتا ہے اور اس طرح گویا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ فرمایا انہ علیہ بذات الصدور وہ سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے ، وہ ہر شخص کے فعل ، نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ شاہ عبد القادر (رح) اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اوپر کیوں جھوٹ بولنے دے گا ۔ وہ چاہے تو دل کو بند کر دے کہ مضمون ہی نہ آئے جس کو باندھ سکے ، اور چاہے تو کفر کو مٹا دے ، پھر پیغام بھیجے ، خدا تعالیٰ کسی غلط بات کو بغیر نبی کے واسطے کے بھی مٹانے پر قادر ہے ، مگر وہ اپنی باتوں سے دین کی باتوں کو ثابت کرتا ہے ، اس واسطے نبی پر اپنا کلام بھیجتا ہے ، چاہے تو اللہ ہر کام کرسکتا ہے ، دل کو بند کر دے اس پر کوئی چیز نازل نہ ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرتا ہے ۔ باطل کو مٹاتا ہے اور اس طرح اپنے کلمات یعنی نبی پر کلام نازل فرما کر حق کو ثابت کرتا ہے اور باطل کو ملیا میٹ کردیتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کے مخفی رازوں ، نیت ، ارادے اور باریک ترین باتوں کو جانتا ہے جن کو کوئی دوسرا نہیں جان سکتا ، یہ رسالت کا بیان ہوگیا ۔ توبہ اور اسکی قبولیت ارشاد ہوتا ہے وھو الذین یقبل التوبۃ عن عبادہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے ۔ ویعفوا عن السیات اور برائیوں کو معاف کرتا ہے ویعلم ما تفعلون اور جو کچھ تم کرتے ہو ۔ اس کو جانتا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ جب اس کے بندے اس کی طرف رجوع کریں تو وہ ان کی لغزشوں سے در گزر کر کے ان کی توبہ کو قبول فرما لے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے التوبۃ الندم یعنی پشیمانی کا نام توبہ ہے ، جو شخص گناہ کرنے کے بعد نادم ہوگیا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو یہی توبہ ہے جس کی قبولیت کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تفسیر کثاف ، تفسیری مظہری اور امام بیضاوی (رح) نے بیان کیا ہے کہ حضرت علی ؓ کی خلافت کے زمانے میں ایک دیہاتی آدمی مسجد نبوی میں آیا اور جلدی جلدی استغفر اللہ استغفر اللہ کہنے لگا ۔ حضرت علی ؓ نے اس شخص کو بلا کر کہا کہ استغفار کا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے بلکہ یہ تو منافقوں کا طریقہ ہے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ حضرت مجھے توبہ کا صحیح طریقہ بتلا دیجئے ، تو آپ نے فرمایا کہ سچی توبہ کے لیے چھ شرائط کا پورا کرنا ضروری ہے جو یہ ہیں ۔ (1) سابقہ گناہوں پر نادم ہو۔ (2 ) دوران گناہ جو فرائض ترک کیے ہیں ان کو لوٹا یا جائے۔ (3) کسی دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کی ہے تو اس کی تلافی کرے۔ (4) جس طرح گناہ کے زمانے میں اپنے نفس کو گناہ پر آمادہ کرتا ہے ، اب تو بہ کے بعد نفس کو اسی طریقے سے اللہ کی اطاعت کے لیے ہموار کرے۔ (5) جس طرح گناہ کے ارتکاب سے گناہ کی لذت اٹھاتا تھا ، اب اطاعت کر کے اس کی لذت بھی حاصل کرے۔ (6) گناہ کے زمانے میں ہنستا تھا اب اسی قدر رونے کی کوشش کرے۔ غرضیکہ زبان سے توبہ توبہ کرنا اور گناہ پر اصرا ر کرنا کچھ مفید نہیں ہوگا بلکہ توبہ کی قبولیت کے لیے اس کے لوازمات کی تکمیل بھی ضروری ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ، گناہوں سے در گزر کرتا ہے۔ ویستجیب الذین امنوا وعملوالصلحت اور ان لوگوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے ۔ دعا بہترین عبادت ہے ، اللہ کا فرمات ہے ۔ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان ( البقرہ : 186) جب کوئی دعا کرنے والا دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں بشرطیکہ دعا کرنے والا ایماندار ہو ۔ اللہ کے نبی نے دعا کی قبولیت کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ جب کوئی بندہ اللہ سے کوئی سوال کرتا ہے تو یا تو اس کا سوال پورا کردیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کی دعا کی وجہ سے دعا کرنے والے کی کوئی مصیبت ٹال دی جاتی ہے اور یا پھر اس کی دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ بنا کر رکھ لیا جاتا ہے ، لہٰذا ہر انسان کو ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہئے۔ فرمایا وہ سنتا ہے دعا ان لوگوں کی جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے ویزید ھم من فضلہ اور انہیں اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرتا ہے ، وہ اپنے بندے میں جس قدر خلوص پاتا ہے اسی قدر اپنی رحمت میں اضافہ کردیتا ہے وہ اپنی مصلحت اور حکمت کے مطابق جتنا چاہے عطا کردیتا ہے۔ اس کی کوئی تحدید نہیں ہے والکفرون لھم عذاب شدید اس کے بر خلاف کافروں کے لیے اللہ کے ہاں سخت عذاب بھی تیار ہے ۔ جو شخص اس کی توحید کو قبول نہیں کرتا ، اس کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل نہیں کرتا ، وہ اس کے شدید عذاب کا مستحق بن جاتا ہے۔ رزق کی کشادگی اور تنگی تاریخ عالم شاہد ہے کہ انبیاء کی نبوت کو تسلیم کرنے کے راستے میں ایک رکاوٹ ان کی کمزور مالی حیثیت بھی رہی ہے ۔ دنیا کے اکثر و بیشتر متموں اور آسودہ حال لوگوں نے ہی رسالت کا انکار کیا ۔ ان کا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ نبی کو ایک امیر کبیر آدمی ہونا چاہئے جس کے پاس محلات ہوں ، باغات ہوں ، نوکر چاکر اور آرام و راحت کے تما م اسباب مہیا ہوں ، بھلا ایک نادار آدمی کو کیسے نبی تسلیم کرلیا جائے ۔ خود حضور ﷺ کی رسالت پر بھی یہی اعتراض تھا لَوْ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف : 31) یہ قرآن مکہ اور طائف کی دو بڑی بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اتارا گیا ، کیا اس کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ اگلی آیت میں اللہ نے اسی اعتراض کا جواب دیا ہے کہ منصب نبوت کے لیے امارت و غربت معیار نہیں ہے ۔ دنیا میں رزق کی کشادگی یا تنگی تو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے تعلق رکھتی ہے ، وہ جس کو چاہتا ہے زیادہ دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کہ دیتا ہے اور پھر آسودہ حال ہونا اللہ کے ہاں پسندیدگی کا کوئی معیار تو نہیں ، وہ بعض اوقات نافرمانوں کو بےحساب نعمتیں عطا کرتا ہے ، دولت کی فروانی ہوتی ہے ، دنیا کی زندگی کے لیے اسباب راحت موجود ہوتے ہیں مگر بالآخر وہ جہنم کے کنندہ ناتراش ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بعض صالحین کو دنیا کی زندگی میں تنگی میں ڈال دیتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اللہ کے ہاں مبغوض ہوتے ہیں ۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق (النمل : 71) کہ اس نے روزی کے معاملہ میں بعض کو بعض پر برتری عطا فرمائی ہے۔ تو یہاں پر ارشاد ہوتا ہے ولو بسط اللہ الرزق بعبادہ لبغوا فی الارض اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے روزی کشادہ کر دے تو وہ زمین میں سر کشی کرنے لگیں ، نہ خدا تعالیٰ کو پہچانیں اور نہ اس کی اطاعت کریں ۔ عالم ارواح والی حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کے سامنے ان کی اولاد کی تمام روحیں پیش کی گئیں ت انہوں نے ان کے درمیان اونچ نیچ دیکھ کر بارگاہ رب العزت میں عرض کیا رب لولا سویت بین عبادک ۔ پروردگار ! تو نے اپنے بندوں کے درمیان مساوات کیوں نہیں قائم کی ، تو اللہ نے فرمایا کہ اگر میں سب کو برابر کر دوں تو مجھے کوئی نہیں پہچانے گا ۔ اللہ نے بندوں کے درمیان اپنی حکمت کے مطابق رزق میں کمی بیشی کی ہے۔ دو اس دنیا میں کسی کو زیادہ دیتا ہے اور کسی کو کم ، اگر سب کو یکساں کر دے تو لوگ سر کشی کرنے لگ جائیں ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کو کس حال میں رکھنا ہے ، کس کے ساتھ کون سی چیز زیادہ مناسب ہے اور کس صورت میں اس کا امتحان لینا ہے۔ معاشی یکسانیت غیرفطری ہے اس زمانے میں اشتراکیت کے دعویدار معاشی مساوات کا بڑا پراپیگنڈا کرتے ہیں حالانکہ یہ ایک غیر فطری چیز ہے ، اشتراکیت کی قانون سازی کری سے پہلے مزدک نے کی تھی۔ وہ لوگوں کے …ہر چیز کے مساوات کا فاش شناسی کرائیں کے نظریہ کے مطابق عورت بھی ایک منفرد چیز ہونی چاہئے۔ جو کسی ایک کی ملکیت … روس کی موجود اشتراکیوں نے تو بعض چیزوں مثلاً بیوی ، مکان ، سواری وغیرہ کو فرا…میں شمار کیا ہے تا ہم معیشت کے تمام وسائل کے مشترک ہونے کے یہ بھی وسائل ہیں کہ تمام وسائل پر حکومت کا کنٹرول ہونا چاہئے ، چناچہ یہ لوگ اس اشتراکی نظا م کے گزشتہ ساٹھ ستر سال سے تجربات کر رہے ہیں مگر اونٹ کس کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا ۔ یہاں پر تشدد کے سوا کچھ نہیں ، لوگوں کو اشتراکی نظریات پر مجبور کیا جاتا ہے جب کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ، ہمارے بزرگوں نے تو اشتراکی نظریہ کی ابتداء میں ہی کہہ دیا تھا کہ اس نظام کا تجربہ کر کے بھی دیکھ لو ، تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ خلاف فطرت ہے اور ناکام ہے آج ستر سال کے بعد اشتراکی نظام ناکام ہوچکا ہے حتیٰ کہ اس کا پرورش کرنے والا ملک روس خود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ختم ہوگیا ہے۔ اس طرح ہمارے بزرگوں کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے ذہنی اور جسمانی قویٰ بھی یکساں نہیں رکھے ایک نہایت زیرک اور عقلمند آدمی ہے تو دوسرا سرسری ذہن کا مالک ہے کوئی جسمانی لحاظ سے بڑا مضبوط ہے جب کہ دوسرا کمزور جسم والا ہے ۔ پھر انہی ظاہری اور باطنی قویٰ کی نسبت سے ان کے اشغال کا مختلف ہونا بھی لازمی امر ہے ۔ کوئی ایک کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے تو دوسرا دوسرے کام کا زیادہ اہل ہے ، لہٰذا ہر اہل اور نااہل ، کمزور اور صحت مند ، ہنر مند اور غیر ہنر مند جاہل اور عالم میں مساوات کیسے قائم ہو سکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے عدم مساوات خود قائم کی ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ اگر وہ سب کے لیے روزی کے دروازے یکساں کشادہ کردیتا ہے تو لوگ دنیا میں سر کشی کرنے لگتے اور سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ۔ سرمایہ دارانہ نظام معیشت اشتراکی نظام معیشت کے بر خلاف مغربی ممالک ، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے ۔ اس نظام میں دولت کے کمانے اور خرچ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ، ہر شخص ہر جائز یا ناجائز ذرائع سے جتنی چاہے دولت اکٹھی کرسکتا ہے۔ یہ ملوکیت اور شہنشاہٹ کا نظام ہے اور قرآن کی رو سے یہ بھی باطل ہے ۔ اس نظام کا ماحصل یہ ہے کہ دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہو کر باقی لوگ بنیادی حقوق سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔ امیر آدمی امیر برادر غریب بیچارہ غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ بعض لوگ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہیں جہاں انہیں آرام و آسائش کی ہر سہولت میسر آتی ہے جب کہ بعض لوگوں کو سر چھپانے کیلئے چھونپڑی بھی نصیب نہیں ہوتا ، یہی اس نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ اسلامی نظام معیشت بر خلاف اس کے اسلام نے ایک صاف ستھرا نظام معیشت دیا ہے ، جو مذکورہ دونوں نظاموں سے مختلف ہے ۔ اسلام ہر جائز اور ناجائز ذرائع سیاکتساب زر کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کلو مما فی الارض حللا طیبا ( البقرہ : 168) لوگو ! زمین کی حلال اور طیب چیزیں کھائو یعنی حرام کے قریب نہ جائو ، مگر آج دنیا میں اس پابندی کو کون قبول کرتا ہے ؟ دولت حاصل ہونی چاہئے خواہ شراب فروشی ، سمگلنگ ، چوربازاری ، جوا یا فلم انڈسٹری کے ذریعے حاصل ہو ۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کے مصرف پر بھی کوئی پابندی نہیں ، کوئی بیس لاکھ کی کوٹھی بنائے اور چالیس لاکھ کا سامان تعیش جمع کرلے کھیل تماشے اور عیاشی اور فحاشی پر دولت خرچ کرے۔ کوئی نہیں پوچھتا ، مگر اسلام اس افراط تفریط کی اجازت نہیں دیتا ۔ اسلام کے نظام معیشت کی رو سے یہ نیک و بد انسان کو اس کے کم از کم بنیادی حقوق تو ضرور ملنے چاہئیں ۔ اسے کھانا ، پینا ، لباس ، رہائش اور تعلیم کی بنیادی سہولتیں بہر حال ہونی چاہئیں ۔ خواہ کم تر درجہ کی ہوں مگر ہر معاملے میں سب برابر ہوں ۔ یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ایک غیر فطری امر ہے کوئی دال کھائے ، گوشت کھائے یا سبزی کھائے ، بہر حال اسے کھانا میسر آنا چاہئے۔ اسی طرح خواہ معمولی چھپر ہو رہائش کی سہولت ملنی چاہئے۔ بیماری کی حالت میں علاج معالجہ کی سہولت ہوتا کہ انسان کام کاج اور اللہ کی عبادت کرسکے اسی طرح ہر شخص کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں ۔ اسلام یہ حقوق دیتا ہے مگر برابری کو تسلیم نہیں کرتا ۔ فرمایا اگر اللہ تعالیٰ سب کے لیے رزق تو کشادہ کردیتا ہے تو لوگ زمین میں سر کشی کرنے لگتے ۔ ولکن یتنزل بقدر مای یشاء بلکہ وہ ایک خاص اندازے کے مطابق رزق کو نازل کرتا ہے اور جس شخص کے لیے جتنا مناسب سمجھتا ہے ، عطا کرتا ہے ، انہ بعباد خبیر بصیر بیشک بیشک وہ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح واقف ہے اور یہ چیز اس کی نگاہ میں ہے۔ وہ اپنے علم اور حکمت کی بناء پر رزق کی تقسیم کرتا ہے اور یہ تقسیم خود بندوں کے لیے بھی ان کے بہترین مفاد میں ہوتی ہے۔ دلائل قیامت اور قدرت اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت اور جزائے عمل کا مسئلہ سمجھایا ہے اور ساتھ ساتھ وحی الٰہی کا فلسفہ بھی آ گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذین ینزل الغیب من بعد ما نسوا اللہ کی ذات وہ ہے جو بارش کو نازل کرتا ہے جب و وہ لوگ مایوس ہوجاتے ہیں ۔ ینشر رحمتہ اور اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے۔ بارش ہوتی ہے تو ہر وہ زمین میں نئی زندگی پیدا ہوتی ہے ، اس میں نشونما کی قوت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس میں پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو بکھیر دیتا ہے اور انسان ، جانور ، پرندے حتیٰ کہ کیڑے مکوڑے بھی اللہ کی اس رحمت سے مستفید ہوتے ہیں اور خوراک اور پانی جیسی نعمتیں حاصل کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ زندگی کو برقرار رکھ سکتے ہیں ۔ فرمایا وھو الولی الحمید اللہ تعالیٰ ہی ہر امت کا کار ساز اور تعریفوں والا ہے ۔ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے وہ بہر حال تعریفوں کے لائق ہے ہر شخص کا کام بنانے والا بھی وہی ہے۔ انسان لاکھ ٹکریں مارے اس کی منشاء کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا یہ گویا وحی الٰہی کی دلیل ہوگئی۔ فرمایا ومن ایتہ خلق السموات والارض آسمانوں اور زمین کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کا یہ عظیم نظام قائم کر رکھا ہے ۔ جس کے سامنے ہر مخلوق عاجز ہے۔ وما بث فیھما من دابۃ اور آسمانوں اور زمین کے درمیان جاندروں کو بکھیر دینا بھی اس کی قدرت کی نشانی ہے بھلا اس کے بغیر کون ہے جو اس کی مخلوق کی اقسام کا ہی احاطہ کرسکے۔ آسمانوں پر دیگر جاندار تو نہیں ہیں ۔ البتہ اللہ کی لطیف مخلوق ملائکہ ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری مخلوق بھی ہو سکتی ہے۔ جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، زمین کی مخلوق سے تو ہم کس قدرواقف ہیں جن میں بلند ترین ہستی خود انسان ہیں ۔ باقی چرند ، پرند ، درندنے ، کیڑے ، مکوڑے اور اس سے کئی گنا زیادہ آبی مخلوق ہے ۔ غرضیکہ بری ، بحری اور فضائی دس لاکھ سے بھی زیادہ قسم کی مخلوق اللہ نے پیدا کر رکھی ہے۔ یہ سب اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، اگر انسان صرف اسی چیز میں غور کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا ہے اور پھر پھیلا دیا ہے ۔ وھو علی جمعھم اذا یشاء قدیر اسی طرح وہ جب چاہے گا ۔ ان سب کو اکٹھا کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس کا فیصلہ ہے کہ قیامت برپا ہوگی ، ہر چیز فنا ہو جائیگی اور پھر وہ محاسبہ اعمال اور جزاء و سزا کے لیے سب کو دوبارہ زندہ کر کے اپنے سامنے لا کھڑا کرے گا ۔ سورة البقرہ میں بھی ارشاد خداوندی ہے این ما تکونوا یات بکم اللہ جمعیا ً (آیت : 148) تم جہاں کہیں بھی ہو گے ، وہ تمہیں جمع کرلے گا ۔ کوئی شخص قبر میں دفن ہو یا اس کے جسم کے ذرات ہوا اور پانی میں منتشر ہوچکے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ سب کو جمع کر کے پھر اس کو اصلی شکل میں پیدا کر دے۔ اس نے اس کام کے لیے ایک وقت مقرر کررکھا ہے جب وہ وقت آجائے گا ۔ تو اللہ تعالیٰ سب کو اکٹھا کرلے گا ، یہ وقوع قیامت اور جزائے عمل کی دلیل بھی ہوگی ۔
Ayahs 42:30–36

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو پہنچی ہے تم کو کوئی مصیبت ، پس اس وجہ سے جو کمایا ہے تمہارے ہاتھوں نے اور در گزر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ بہت کی خطائوں سے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے زمین میں ، اور نہیں ہے تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی کار ساز اور نہ کوئی مدد گار

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں چلنے والی کشتیاں سمندر میں مثل پہاڑوں کے

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر و ہ چاہے تو روک دے ہوا کو ، پس ہوجائیں وہ ٹھہرے ہوئے اس کی پشت پر ، پس اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر کرنے والا اور شکر کرنے والا ہے

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ہلاک کر دے ان کو اس وجہ سے جو انہوں نے کمایا ، اور وہ بتوں سے در گزر فرماتا ہے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور تا کہ جان لیں وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ نہیں ہے ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

پس تمہیں جو کوئی چیز دی گئی ہے ، پس یہ سامان ہے دنیا کی زندگی کا ، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والی چیز ان لوگوں کے لیے جو ایمان لانے اور اپنے پروردگار پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں

ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مصائب نتیجہ اعمال دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی بیماری ، پھر جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر وہ شکوہ بھی کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں فرمایا وما صابکم من مصبیبۃ فبما کسبت ایدیکم تمہیں جو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا کہ وہ بلا وجہ کسی کو مصیبت میں مبتلا کر دے بلکہ ہر آمدۃ تکلیف انسان کے کسی اپنے ہی کردہ اعمال کے بدلے کے طور پر نازل ہوتی ہے ۔ سورة روم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ظہر الفساد فی الیر والبحر بما لسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض ندی عملو ( آیت : 8) خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ۔ بہر حال اللہ کا فرمان ہے کہ کوئی شخص نیک ہو یا بد اس کو پہنچنے والی تکلیف بلا وجہ نہیں آتی بلکہ اس کے لیے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ ہاں اللہ کا یہ اصول بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ ہر برے عمل پر گرفت نہیں کرلیتا بلکہ ویعفوا عن کثیر ان میں سے بہت سی کوتاہیوں سے در گزر فرماتا ہے اور ان کے لیے انسان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتا ، تا ہم تکلیف پہنچانے کا حق اس کے پاس محفوظ ہوتا ہے ، بہر حال یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ بیشتر مصائب و پریشانیاں لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے آتی ہیں ۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ اصول عاقل اور بالغ لوگوں کے لیے ہے خواہ وہ نیک ہوں یا بد ، البتہ انبیاء کرام اس قانون سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہمعصوم ہوتے ہیں ، اور ان سے اعمال بد سر زد نہیں ہوتے ، اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ پریشانیوں اور مصائب انبیائے کرام (علیہ السلام) کو بھی بہت زیادہ لا حق ہوئیں اس طرح نا بالغ بچے ہیں جو ابھی مکلف نہیں ، لیکن تکلیفیں ان کو بھی آتی ہیں ۔ تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انبیاء اور غیر مکلفین کے مصائب کی وجہ ان کے اعمال نہیں ہوتے بلکہ ان کی حقیقت اور حکمت کچھ اور ہی ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ ان کو پیش آنے والی تکالیف ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بن جاتی ہوں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی اہل ایمان کو پہنچنے والی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف بھی اس کے گناہوں اور لغزشوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو کانٹا چبھ گیا ہے ۔ ٹھوکر لگ گئی ہے یا کوئی خراش آگئی ہے ، کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوگیا ہے تو یہ اس کے اعمال سوا کا کفارہ ہوتا ہے ، تا ہم عام قانون یہی ہے کہ آدمی اچھا ہو یا برا اس کے مصائب میں اس کے اعمال کا دخل ہوتا ہے ، البتہ بیشتر اوقات اللہ تعالیٰ گرفت نہیں کرتا بلکہ معاف کردیتا ہے۔ جس طرح وہ دنیا میں در گزر فرماتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ وہ برزخ اور آخرت میں بھی معاف فرما دے یا وہاں پر گرفت کرے ، یہ اس کی منشاء پر موقوف ہے ۔ بہر حال اس کے در گزر کا قانون دنیا ، برزخ اور آخرت سب پر حاوی ہے۔ راہ فرار ممکن نہیں فرمایا وما انتم بمعجزین فی الارض اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو زمین میں ، اگر کوئی شخص چاہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ، کوئی غلطی کوتاہی اور گناہ کر کے اللہ تعالیٰ کے تسلط سے بھاگ جائے یعنی اس کی گرفت سے باہر ہوجائے تو ایسا ممکن نہیں ۔ کوئی شخص کسی قلعے میں پناہ لے لے جنگلوں اور صحرائوں میں چھپ جائے ، کسی پہاڑ کی غار میں پناہ گزین ہوجائے ، وہ اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا اور نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے کا یہی مطلب ہے۔ فرمایا تم اس سے بھاگ کر کہاں جائو گے وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کار ساز اور نہ کوئی مدد گار ۔ مصیبت کے وقت کوئی بھی کام نہیں آئے گا ، اس آیت میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، قدرت کاملہ اور جزائے عمل کا ذکر ہوگیا ۔ دلائل قدرت اور وحدانیت اللہ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کے سلسلے میں فرمایا ومن ایتہ الجوار فی الجر کالا علام اس کی قدرت کے دلائل میں سے پہاڑوں کی مانند سمندر میں چلنے والی کشتیاں بھی ہیں ۔ جو ارء ، جاریہ کی جمع ہے جس کا معنی پانی میں چلنے والی ۔۔۔۔۔ کشتی ہوتا ہے ۔ جیسے طوفان کے موقع پر فرمایا انا لما طغا الماء حملنکم فی الجاریۃ ( الحاقۃ : 11) جب نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں عظیم سیلاب آیا تو ہم نے تمہیں پانی میں چلنے والی کشتی پر سوار کردیا ۔ اس زمانے میں تو جاریہ سے مراد بادبانی کشتی ہی لیا جاتا تھا مگر بعد میں بحری ذرائع نقل و حمل نے بڑی ترقی کی ہے۔ پہلے سینمر چلے ، پھر کوئلے یا تیل سے چلنے والے لاکھوں ٹن وزنی ، جہاز اور ٹینکر معرض وجود میں آگئے۔ یہ اتنے بڑے بڑے جہاز ہیں جنہیں پہاڑوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ حاجیوں کے لیے مخصوص سفینہ حجاج گیارہ منزلہ تھا ، اس کی چار منزلیں پانی میں اور سات اوپر تھیں اور دیکھنے میں پہاڑ نظر آتا تھا ، اب ختم ہوچکا ہے۔ فرمایا اللہ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے پانی کی سطح پر رواں دواں کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ایک سوئی جیسی چھوٹی چیز تو پانی میں ڈوب جاتی ہے۔ مگر ہزاروں اور لاکھوں ٹن وزنی جہاز ، لاکھوں ٹن سامان لیے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں ۔ فرمایا ان یشا یکسن الریح اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو روک دے فیظللن رواکد علی ظھرہ پس وہ پانی کی پشت پر ٹھہرے ہوئے ہوجایا پرانے زمانے میں بادبانی کشتیوں کے ذریعے سفر کا انحصار ہوا پر ہوتا تھا۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ہی روک دے تو ایسی صورت میں کشتی بھی پانی کی سطح پر رک جائے گی ۔ یہ تو اس زمانے کی بات تھی ، آج بھی جب اللہ تعالیٰ کی منشاء ہوتی ہے تو بڑے بڑے جہاز سطح آب پر رک جاتے ہیں ۔ انجن میں کوئی نقص پڑجائے یا سخت طوفان برپا ہوجائے تو جہاز کو روکنا پڑتا ہے ، بلکہ بعض اوقات کسی حادثے کی صورت میں بڑے ہے جہاز بھی تباہ ہو سکتا ہے ۔ بعض اوقات جہاز کسی سمندری چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے ، کبھی خشکی پر چڑھ جاتا ہے ، آگ لگ جاتی ہے اور اس طرح بڑا جانی و مالی نقصان ہوجاتا ہے۔ سمندر کی وسعت اور اس سے اٹھنے والی پہاڑوں جتنی اونچی اونچی میں بڑے سے بڑے جہاز کی حیثیت بھی ایک تنکے سے زیادہ نہیں ہوتی ، یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے لے کر دیو ہیکل جہازوں کو پانی کی سطح پر چلا رہا ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور بیشک اس میں نشانیاں میں ہر صابر و شاکر آدمی کے لیے ، ان نشانات قدرت سے وہی لوگ مستفید ہو سکتے ہیں جو ہر تکلیف اور مصیبت پر صبر کے دامن کو تھامے رکھتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت میسر آتی ہے ، صحت اور آسودگی حاصل ہوتی ہے تو اس کی قدر دانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ اگلی آیت میں اللہ نے اسی پہلی بات کا اعادہ کیا ہے او یوبقھن بما کسبوا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں کو ان کی کارکردگی کی بناء پر ہلاک کر دے ، جونہی کوئی شخص کسی ظلم و زیادتی یا گناہ کا مرتکب ہو اللہ تعالیٰ فوراً گرفت کر کے اسے ہلاک کر دے ، کیونکہ وہ اس پر بھی قادر ہے ، مگر ویعف عن کثیر وہ اکثر گناہ گا روں سے در گزر ہی فرماتا ہے ، ان کی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے ، دنیا میں در گزر کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ چاہے تو برزخ یا آخرت میں سزا دے دے یا اگر چاہے تو اپنی مہربانی سے وہاں بھی معاف فرما دے اور یہ اس کی شان کریمی کا اظہار ہوگا۔ فرمایا سزا دینے کا ایک مقصد یہ بھی ہے ویعلم الذین یجادون فی ایتناتا کہ جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں ما لھم من محیص کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے جھگڑا کرنے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، رسالت ، وحی الٰہی قیامت اور شرائع اور قوانین الٰہیہ کا انکار کیا جائے اور اس سلسلے میں اہل حق کے ساتھ جھگڑا کیا جائے ، اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو فوراً پکڑے تو انہیں کوئی چھڑانے والا نہیں ہوگا ، ان کی تمام تدابیر ناکام ہوجائیں گی ، کیونکہ تمام تدابیر تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی توحید اور جزائے عمل کی دلیل ہوگی۔ متاع دنیا اور آخرت اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساز و سامان کا مقابلہ آخرت کی ابدی زندگی اور اس کے انعامات کے ساتھ کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے فما اوتیتم من شی فمتاع الحیوۃ الدنیا تمہیں یہاں پر جو چیز بھی دی جاتی ہے یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے کہ انسان اسے اپنی چند روزہ حیات میں استعمال کرے حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز عارضی ہے حتیٰ کہ انسان کا اپنا وجود عمر صحت اور تمام لوازمات زندگی نا پائیدار ہیں۔ اس سے خدا تعالیٰ کا مقصد انسان کو یہ سمجھانا ہے کہ وہ اس عارضی دنیا اور اس کے عارضی سازو سامان کو ہی سب کچھ سمجھ کر اسی پر ہی مفتون نہ ہوجائے ، بلکہ اس کی نگاہ اس کی ابدی زنا کی اور اس کے سازو سامان پر ہونی چاہئے کیونکہ وما عند اللہ خیر وابقی جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس دنیا کے سازو سامان سے بہتر بھی ہے ، اور دیرپا بھی ، اللہ کے ہاں ملنے والے انعا و اکرام کی کیفیت اور مقدار کی نسبت اس دنیا کی زندگی اور ساز و سامان کے ساتھ کچھ بھی نہیں اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اس میں کبھی کمی نہیں آئے گی ، مگر یہ ان لوگوں کے لیے ہے للذین امنوا جنہیں ایمان لانے کی توفیق نصیب ہوئی ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کے رسولوں کتسب سماویہ وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین کیا ۔ اس مقصد کے لیے ادنیٰ درجہ تو یہ ہے انسان مذکورہ چیزوں پر صدق دل سے ایمان لے آئے اور کمال درجہ یہ ہے کہ انسان ایمان لا کر اس پر عائد شدہ فرائض بھی ادا کرے۔ ایسے لوگوں کی کیفیت اللہ نے گزشتہ سورة میں بیان کردی ہے کہ جنت کی خوشخبری ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر مستقیم رہتے ہوئے نہ صرف فرائض و واجبات کو ادا کیا بلکہ سنن اور مستحبات کی پابندی بھی کی ۔ فرمایا آخرت ان کے لیے ہے جو ایمان لائے وعلی ربھم یتوکلون اور جو اپنے پروردگار پر مکمل بھروسہ بھی رکھتے ہیں ۔ اللہ نے کامیاب لوگوں کی علامات بھی بیان کردی ہیں ۔ اب یہ انسانوں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کی عارضی رونق پر مفتون ہونے کی بجائے آخرت کی دائمی زندگی اور اس کے دائمی انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے یہ نسخہ بھی بتلا دیا کہ انسان کے پاس ایمان کی دولت ہونی چاہئے۔ ایما جس قدر مضبوط ہوگا ، اور اس کی درجہ جس قدر اعلیٰ ہوگا اسی قدر انسان کے انعامات میں بھی اضافہ ہوگا ، اور پھر ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد اور بھروسہ بھی ضروری ہے۔
Ayahs 42:37–43

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو بچتے ہیں بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے ، اور جب وہ غصے میں آتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے حکم مانا اپنے پروردگار کا اور قائم کی نماز اور انکا معاملہ آپس میں مشورے سے طے ہوتا ہے ، اور جو کچھ ہم نے ان کو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان پر سر کشی کی جاتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور بدلہ برائی کا ہے برائی اس جیسی ، اور جس نے معاف کردیا اور صلح کرلی ، پس اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ نہیں پسند کرتا ظلم کرنے والوں کو

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور البتہ جس نے بدلہ لیا اس پر ظلم کیے جانے کے بعد ، پس یہ لوگ ہیں کہ نہیں ان پر کوئی الزام

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

بیشک الزام ان لوگوں پر ہے جو ظلم کرتے ہیں لوگوں پر ، اور سر کشی کرتے ہیں زمین میں ناحق ، یہی لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کردیا ، بیشک یہ البتہ ہمت کے کاموں میں سے ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں جزائے عمل کا ذکر تھا اور ساتھ دنیا اور اسکے سازو سامان کی نا پائیدار ی کا بیان تھا ، اللہ نے فرمایا کہ جو چیز اس کے پاس ہے وہ بہتر اور دیرپا ہے ، مگر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے اولین شرط ایمان لانا اور پھر اس کے بتلائے ہوئے فرائض و واجبات کو پورا کرنا ہے ، نیز عقیدے کی درستگی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ بھی ضروری ہے۔ کبائر اور فواحش سے اجتناب اب آج کے درس میں اللہ کے ہاں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کی بعض مزید صفات بیان کی گئی ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کامیابی حاصل کرنے والے وہ لوگ ہیں والذین یجتنبون کبیر ازالم والواحش جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ کبائر اور صغائر گناہ قرآن و سنت کی اصطلاح ہے کبائر کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئٰتِکُمْ (النسائ : 31) اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے گناہ نیکی کے کام انجام دینے کی وجہ سے خود بخود ہی معاف کرتا رہے گا ، معمولی لغزشیں اور صغائر تو انسان سے اکثر ضرور ہوتے رہتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نیکی کے کاموں کی وجہ سے بلا توبہ ہی معاف کردیتا ہے ، مگر کبیرہ گناہوں کی معافی توبہ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی اور جو شخص کبائر سے نہیں بچتا ، تو کبائر اور صغائر سب پر مؤاخذہ ہوگیا کبائر میں بہت زیادہ فساد ہوتا ہے ۔ جس وجہ سے انسان کا دین ، اخلاق اور سوسائٹی سب خراب ہوجاتے ہیں ۔ کبیرہ گناہ میں پہلے درجے پر کفر ، شرک ہے پھر قتل ناحق ، زنا ، چوری ، سحر ، پاکدامنوں پر تہمت بازی ، سود خوری ، یتیم کا مال کھانا ، جھوٹی گواہی دینا اور ظلم و زیادتی وغیرہ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی وعید سنائی ہے ۔ جن پر لعنت بھیجی ہے یا اپنی ناراضگی کا اعلان کیا ہے۔ جہاں تک فواحش کا تعلق ہے یہ بھی کبائر میں داخل ہیں لیکن فواحش میں عریانی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے ۔ فواحش میں زنا اور اس کے لوازمات عریانی ، برہنگی اور نیم برہنہ تصاویر ، ناچ گانا اور خاص طور پر قوت شہوانیہ سے متعلق باتوں میں بےباک ہونا شامل ہے۔ مردوں اور عورتوں کا اختلاط ، ستر کی عدم پابندی اور ذہنی کنجوسی بھی بےحیائی کے کاموں میں دخل ہے ، ان تمام فواحش سے اللہ نے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے۔ در گزر اور اقامت صلوٰۃ آخرت کی دائمی بہتری کے مستحقین کی اللہ نے ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے واذا ما غضبوا ھم یغفرون کہ جب وہ غصے کی حالت میں ہوتے ہیں تو در گزر کرتے ہیں ۔ غصے کو پی جاتے ہیں اور معاف کردیتے ہیں ۔ غصے کی طاقت رکھنے کے باوجود غصے پر قابو پا لینا اور در گزر کرلینا بہت بری بات ہے اور انسان کی فوز و فلاح کی ضامن۔ پھر فرمایا اللہ کے دیرپا انعامات کے مستحق وہ لوگ بھی ہیں والذین استجابوا لربھم جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم پر لبیک کہا واقاموالصلوٰۃ اور نماز کو قائم کیا ، اللہ کے ہر حکم اور اس کے نبی کے ہر فرمان کی بجا آوری بالعموم اور نماز کی ادائیگی بالخصوص ہر شخص سے مطلوب ہے اور جو ان صفات پر پورا اترتے ہیں ، وہ یقینا اللہ کے مقبول بندے ہوتے ہیں۔ باہمی مشاورت اللہ نے اگلی صفت یہ بیان فرمائی ہے۔ وامرھم شوریٰ بینھم ان کے معاملات باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں ۔ جن امور میں اللہ تعالیٰ کا صریح حکم یا اللہ کے نبی کی سنت اور شریعت میں کوئی واضح صراحت موجود نہیں ہے ان امور کو باہمی مشاورت کے ذریعے انجام دینے کا حکم ہے اس قسم کے معاملات غیر منصوصہ کہلاتے ہیں البتہ منصوبہ امور مثلاً نماز ، روزہ ارکان اسلام یا منہیات دین میں مشاورت کی ضروت نہیں ہوتی ، کیونکہ شریعت کا صریح حکم موجود ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا ہی لازم ہوتا ہے۔ مشاورت کی اہمیت اگرچہ ہر معاملہ میں مستحسن ہے مگر اجتماعی امور میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔ امور سلطنت کی بطریق حسن انجام دہی کے لیے بہت سے انتظامی قوانین نافذ کرنا پڑتے ہیں مثلاً امن وامان کے قیام کے لیے پولیس کی ضرورت ہوتی ہے ، ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے فوج ضروری ہے ٹریفک کی باقاعدگی کے بعض ضمنی قوانین (By Lawa) تشکیل دینے پڑتے ہیں ۔ بعض تجارتی ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے۔ چوربازاری ، ذخیرہ اندوزی ، ملاوٹ اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوتے ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات ، تجارت اور صلح و جنگ کے قوانین کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جن کے متعلق قرآن و سنت میں واضح ہدایت نہیں ملتیں بلکہ محسن اجمالی ہدایات (Guideunes) ملتی ہیں جب کہ مفصل قوانین باہمی مشاورت سے ہی طے کیے جاسکتے ہیں اور ایسے معاملات میں اللہ تعالیٰ نے مشورے کا حکم دیا ہے۔ مسلمانوں میں باہمی مشاورت کا حکم سورة آل عمران اور بعض دیگر سورتوں میں بھی موجود ہے۔ مثلاً خود حضور ﷺ کو اللہ نے حکم دیاوشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہ ِ (آل عمران : 159) آپ اپنے رفقاء سے مشورہ کرلیا کریں ، اور پھر جب کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا دیں ۔ اس موقع پر مفسرین کرام بحث کرتے ہیں کہ پیغمبر (علیہ السلام) پر مشورہ کرنا واجب تھا یا مستحب ۔ امام ابوبکر جصاص (رح) اپنی تفسیر ” احکام القرآن “ میں لکھتے ہیں کہ یہ واجب تھا یعنی جس معاملہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی وحی موجود نہیں تھی اس معاملہ میں آپ کا اپنے صحابہ ؓ سے مشورہ کرنا ضروری تھا۔ چناچہ غزوہ احد کے موقع پر حضور ﷺ کی ذاتی رائے یہ تھی کہ شہر کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے ، مگر صحابہ ؓ کی اکثریت شہر سے باہر کھلے میدان میں جنگ کرنے کے حق میں تھی ۔ چناچہ یہ جنگ مدینہ سے باہر کوہ واحد کے دامن میں لڑ ی گئی۔ مقصد یہ کہ جب خود پیغمبر (علیہ السلام) کے لیے بھی مشورہ کرنا ضروری تھا تو باقی لوگوں کے لیے تو بطریق اولیٰ ضروری ہوگا۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ مشورے کے اس زریں اصول کو مسلمان حکمرانوں نے ضائع کردیا ہے جس کی وجہ سے نظام خلافت تباہ ہوگیا ہے حقیقت یہ ہے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ مشاورت سے مستثنیٰ نہیں تو باقی لوگ اس اصول سے کیسے اعراض کرسکتے ہیں مگر خود غرضی کی وجہ سے ہر طرف من مانی ہو رہی ہے جس کا نتیجہ مسلمان بحیثیت مجموعی بھگت رہے ہیں ۔ طبرانی شریف میں حضور ﷺ کا فرمان موجود ہے کہ جب کوئی پیچیدہ مسئلہ پیدا ہوجائے تو اپنے لوگوں سے مشورہ کرلیا کرو ۔ پھر مشورہ کرنے کا بھی کوئی اصول ہے کہ اس معاملہ میں ان لوگوں سے رابطہ قائم کیا جائے جو دین اور دنیا دونوں کے معاملات کو سمجھتے ہیں ۔ نیکوکار اور عبادت گزار ہوں ، نہ کہ فاسق ، فاجر اور ناہنجار لوگوں سے مشورہ کیا جائے ۔ غرضیکہ سمجھدار یعنی اصحاب حل و عقد کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب اچھے اذہان اور صلاحیت والے لوگ آپس میں مشورہ کرتے ہیں تو بہتر بات کھل کر سامنے آجاتی ہے ، چناچہ جس کام میں مشورہ کرلیا گیا ہو ، اس میں نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جس معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کی رائے متفق ہوجائے ۔ میں اس کی مخالفت نہیں کروں گا ۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ سوائے مجبوری کے سفر نہ کرو ۔ اور اگر سفر پر جانا ہی پڑے تو اکیلے نہ جائو بلکہ جماعت بنا کر جائو اور پھر جماعت میں اپنا ایک امیر منتخب کرلو جس کی ہدایات کے متعلق سفر اختیار کرو۔ اس طرح دوران سفر ضبط و نظم پیدا ہوگا کیونکہ اللہ کو بد نظمی ہرگز پسند نہیں ۔ ویسے بھی ید اللہ علی الجماعۃ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے یعنی اس کی مہربانی اور تائید شامل حال ہوتی ہے۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے من شذ شذ فی النار جو جماعت سے الگ ہوگیا وہ جہنم کی آگ میں پھینک دیا گیا ۔ جب تک کوئی گمراہ شخص بھی جماعت کے ساتھ رہیگا ۔ اس پر شیطان اپنا ہاتھ نہیں ڈال سکے گا البتہ جب وہ جماعت سے علیحدہ ہوجائے گا یا اپنا عقیدہ الگ کرلے گا تو پھر اس پر شیطان سوار ہوجائے گا ۔ تمام فتنے یہیں سے اٹھتے ہیں ۔ الغرض دین کا کام ہو یا دنیا کا ہو ، مشورہ کرلینا بہت ضروری ہے ۔ حضور ﷺ ہر اس مہم میں صحابہ ؓ سے مشورہ کرلیا کرتے تھے جس کے متعلق وحی نازل نہیں ہوتی تھی ۔ اسی طرح خلفائے راشدین ؓ تمام اجتماعی معاملات مشورے سے طے کرتے تھے لہٰذا ان کے کاموں میں خیر و برکت کا نزول ہوتا تھا مشورہ کے لیے دین دار اور اہل لوگوں کا ہونا ضروری ہے ، وگرنہ بےدین اور بد دیانت لوگ تو ہمیشہ غلط مشورہ ہی دیں گے۔ انفاق فی سبیل اللہ آگے اللہ نے کامیاب لوگوں کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ومما رزقنھم ینفقون وہ ہماری عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اخراجات میں سب سے پہلے فرائض آتے ہیں کہ امن کا پورا کرنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔ فرائض کے تارک کے لیے مستجاب پر خرچ کچھ مفید نہیں ہوگا۔ جس طرح جائز مدات میں خرچ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح ناجائز امور میں خرچ کرنے کی ممانعت بھی آنی ہے۔ فضول خرچی ، اسراف و تبذیر ، رسومات فاسدہ ، امور تفتیش وغیرہ پر خرچ کرنا بلا شبہ حرام اور ناجائز ہے اور ایسا کرنے والے لوگ عند اللہ ماخوذ ہوں گے۔ بدلہ لینے کا اجازت ارشاد ہوتا ہے والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون اور وہ لوگ کہ جب ان پر ظلم و زیادتی یا سر کشی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں ۔ امام ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے پر زیادتی کرتا ہے اور مظلوم میں استقامت ہے ۔ تو ظالم سے بدلہل ینا چاہئے کیونکہ اگر ایسے شخص سے نرمی اختیار کی گئی تو اس کا ظلم بڑھتا جائے گا اور پوری سوسائٹی کو خراب کر دے گا ۔ ایسے حالات میں بدلہ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔ ہاں ! یہ ضروری ہے فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَااعْتَدٰی عَلَیْکُمْ (البقرہ : 194) کہ زیادتی کرنے والے پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی اس نے کی ہے۔ اگر زیادہ تکلیف پہنچائو گے تو ظلم میں شمار ہوگا ۔ اللہ نے یہاں یہ قانون مقرر کردیا ہے وجز و سیئۃ سیتئۃ مثلھا برائی کا بدلہ کے مثل ہی ہے یعنی اس سے زائد نہیں ۔ یہ محض عدل و انصاف کے تقاضا کی تکمیل ہے وگرنہ اصولی طور پر برائی کا بدلہ برائی سے نہیں بلکہ بھلائی سے دینا چاہئے ۔ البتہ فرمایا فمن عفا واصلح جس نے معاف کردیا اور صلح کرلی فاجرہ علی اللہ تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اللہ تعالیٰ اس کی صلح جوئی کا اس کو بہتر بدلہ عطا فرمائیگا ۔ یہی زیادہ بہتر ہے ، لیکن جہاں فساد کے پھیلنے کا خطرہ ہو اور بدلہ لینے کی طاقت بھی ہو تو پھر بدلہ لینا زیادہ بہتر بلکہ ضروری ہوجاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ بات اچھی طرح یاد رکھو انہ لا یحب الظلمین کہ وہ ظلم و زیادتی کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا ، جتنا کسی کا قصو رہے اس کے مطابق ہی سزا دو ۔ قصاص کا مسئلہ سورة المائدہ میں بیان ہوچکا ہے۔ ان النفس بالنفس والعین بالعین الخ یعنی جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بھی قصاص ہے ، البتہ جو کوئی معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفاروبن جائے گا۔ فرمایا ولمن انتصر بعد ظلمہ جس شخص نے بدلہ لیا اس پر ظلم کیے جانے کے بعد فاولئک ماعلیھمء من سبیل تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے ، وہ قصاص لے سکتا یا حاکم کے ذریعے سزا دلوا سکتا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ انما السبیل علی الذین یظلمون الناس الزام تو ان لوگوں پر ہے جو ابتداء ظلم کرتے ہیں یا انتقام لیتے وقت حد سے بڑھ جاتے ہیں ، مثلاً اگر کسی کا ایک کان کٹا ہے تو وہ بدلے میں دونوں کان کاٹ دے یا اگر کسی نے ایک انگلی کاٹی ہے۔ تو وہ قصاص میں و ہ انگلیاں کاٹ دے ، یہ زیادتی ہے اور ایسا کرنے والا مورد الزام ہوگا ۔ فرمایا الزام ان لوگوں پر بھی ہے ویبغون فی الارض بغیر الحق جو زمین میں ناحق بغاوت کرتے ہیں کسی کے مال و جان کو نقصان پہنچاتے ہیں یا کسی کی عزت و آبرو میں خلل ڈالتے ہیں ۔ کسی کو حق تلفی کرتے ہیں ۔ شرائع کو توڑتے ہیں یا معاشرے میں بد نظمی پیدا کرتے ہیں۔ تو فرمایا اولئک لھم عذاب الیم ایسے لوگ درد ناک عذاب کے مستحق ہوتے ہیں ، ان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے۔ صبر اور معانی فرمایا ولمن صبر و غفر اور اگر مظلوم نے صبر کا دامن تھام لیا ، تکلیف کو برداشت کر کے ظالم کو معاف کردیا تو بسا اوقات اس کے اچھے نتائج نکل آتے ہیں اور ظالم لوگ تائب ہوجاتے ہیں ، اگرچہ بدلہ لینا بالکل جائز ہے مگر معاف کردینا افضل ہے ، گویا صبر کرنا در گزر کرنا اور معاف کردینا بہتر ہے ان ذلک لمن عزم الامور بلا شبہ یہ بڑے عزم و ہمت کے کاموح میں سے ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے جو اللہ کے لیے تواضع کریگا اللہ اس کو بلند کرے گا ، گویا جس نے انتقام نہ لیا ، اللہ تعالیٰ اس کو بہتر اجر عطا فرمائے گا ۔