42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 42:44–50

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس کو اللہ تعالیٰ بہکا دے ، پس نہیں ہے اس کے لیے کوئی کام بنانے والا اس کے سوا ، اور دیکھے گا تو ظلم کرنے الوں کو جب وہ عذاب کو دیکھیں گے اپنے سامنے اور کہیں گے ، کیا ہے کوئی پھرجانے کی طرف راستہ ؟

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور دیکھے گا تو ان کو کہ پیش کیے جائیں گے اس (آگ) پر اور جھکی ہوئی ہوں گی ان کی نگاہیں ذلت سے ، اور دیکھیں گے وہ ذلیل نگاہوں سے ، اور کہیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے ، بیشک نقصان اٹھانے الے وہ لوگ ہیں جنہوں نے نقصان میں ڈالا اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن ، سنو ! بیشک ظلم کرنے والے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی کار ساز کہ ان کی مدد کرے اللہ کے سوا ، اور جس کو اللہ بہکا دے پس نہیں ہے اس کے لیے کوئی راستہ

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

قبول کرو اپنے پروردگار کی بات کو قبل اس کے کہ آجائے وہ دن کہ جس کے لیے پھیرنا نہیں ہے اللہ کی جانب سے نہیں ہوگی تمہارے لیے کوئی جائے پناہ اس دن اور نہیں ہوگا تمہارے لیے انکار کرنے کا کوئی موقع

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پس اگر اعراض کیا ان لوگوں نے تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر ، نہیں ہے آپ کے ذمے مگر پہنچا دینا ، اور بیشک جب ہم چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے مہربانی تو اترانے لگتا ہے اس کے ساتھ ، اور اگر پہنچی ہے ان کو کوئی برائی ان کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تو بیشک انسان ناشکر گزار ہوتا ہے

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی ، پیدا کرتا ہے جو چاہے ، بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا جوڑ جوڑا دیتا ہے ان کو بیٹے اور بیٹیاں ، اور بناتا ہے جس کو چاہے بانجھ ، بیشک وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بہت سے اہم اصول بیان فرمائے تھے جن پر انسانیت کی فوز و فلاح کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ، کبائر اور بےحیائی سے اجتناب ، غصے کی حالت میں در گزر ، حکم الٰہی کی تعمیل نماز کا قیام ، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں باہمی مشاورت ، خدا کی عطا کردہ روزی میں سے مستحقین پر انفاق ، سرکشی کرنے والے سے انتقام مگر در گزر کی پسندیدگی وغیرہ موٹے موٹے اصول ہیں جو اللہ نے گزشتہ درس میں بیان کیے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کی بات سمجھائی ہے۔ پھر رسالت اور توحید کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی کی دو اصناف کو اپنی قدرت اور حکمت بالغہ کے شاہکار کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی ہدایت اور گمراہی کے ضمن میں ارشاد فرمایا ہے۔ ومن یضلل اللہ فمالہ من وبی من بعدہ اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کے لیے اس کے سوا کوئی کار ساز نہیں ۔ اللہ تعالیٰ رحیم ، کریم ، عادل اور ہادل ہے وہ کسی کو یونہی گمرہ نہیں کرتا بلکہ اسی شخص کو گمراہ کرتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس شخص کے دل میں ہدایت کے حصول کا شوق اور … ۔ ضد عناد اور ہٹ دھرمی سے خالی ہو ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے بقایا ہدایت کے راستے واضح کردیتا ہے مطلب یہ کہ ضدی ، عنادی اور بےانصاف آدمی ہی ہدایت سے محروم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حواس ظاہرہ اور باطنہ سے نوازا ہے۔ فہم اور علم دیا ہے اس کی رہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں ۔ کتابیں نازل فرمائی ہیں اور پھر انسان کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی میں سے جو نسا راستہ چاہے اختیار کرلے ۔ اللہ کسی کو زبردستی صراط مستقیم سے نہیں بہکاتا ، البتہ اگر کوئی آدمی اپنے اختیار اور ارادہ سے غلط راستے پر چل نکلتا ہے تو پھر وہ اس کو زبردستی روکتا بھی نہیں ۔ بلکہ نولۃ ما تولی و نصلہ جھنم ( النسائ : 115) وہ جدھر جانا چاہتا ہے ہم ادھر ہی کی توفیق دے دیتے ہیں اور بالآخر وہ جہنم رسیدہو جاتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کی گمراہی کی وجہ اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے حَسَدًا مِّنْ عِنْدِاَنْفُسِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ (البقرہ : 109) کہ حق کے واضح ہوجانے کے باوجود انہوں نے اس بات سے حسد کیا کہ اللہ کا آخری نبی بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں سے آ گیا ہے ، ان کا خیال تھا کہ جو شرف بنی اسرائیل کو اپنے وقت میں حاصل رہا ہے وہ کسی دوسری قوم کو نہیں ملنا چاہئے ، حالانکہ وہ نادان جانتے تھے کہ بنو اسحاق اور بنو اسماعیل ایک ہی باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ، لہٰذا اگر اللہ نے بنو اسحاق کے بعد بنو اسماعیل کو عظمت عطا فرمائی ہے تو اس میں حسد کی کیا بات ہے ، سب کا جد امجد تو وہی اللہ کا خلیل ہے۔ اس واضح ضد اور عناد کے باوجود اہل کتاب میں سے بھی بعض انصاف پسند لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ تعصب کی عینک اتار کر دیکھا تو حقیقت ان کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے اسلام کو قبول کرلیا ۔ خود حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں حضر ت عبد اللہ بن سلام ؓ نے اسلام قبول کیا جو یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ اللہ نے ان پر ہدایت کے دروازے کھول دیے اور وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوگئے۔ ابھی دو سال قبل ہندوستان کا ایک بہت بڑا ہندو اچاریہ مسلمان ہوگیا تھا ۔ اس نے دو مضامین میں ڈاکٹریٹ (P.H.D) کیا ہوا تھا۔ بارہ زبانیں جانتا تھا۔ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ اسلام ہی سب سے سچا مذہب ہے کسی نے کہا اسلام میں تو حلال و حرام کی بہت سی پابندیاں ہیں ، پھر تم نے اسے کیسے قبول کرلیا ؟ تو کہنے لگا کہ انسان انہی پابندیوں کو قبول کر کے ہمیشہ کے لیے آزاد ہوجاتا ہے اور اس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے ، اس کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت بھی نصیب ہوئی اور اپنی بیوی اور بچی سمیت دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا ۔ آجکل وہ بھوپال میں رہتا ہے ، کچھ عرصہ پہلے فرانس کے ایک سائنس دان نے بھی انصاف سے کام لیا تو اللہ نے اس کو بھی ہدایت دے دی اور وہ بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگیا ۔ نیک نیت اور انصاف پسند آدمی تو کبھی نہ کبھی ہدایت کو پا لیتا اور جو ابلیس والے فکر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ بہکا دے اس کا خدا کے سوا کوئی کار ساز نہیں جو اس کو راہ راستہ کی طرف لاسکے۔ ظالموں کا انجام آگے اللہ نے ظالموں کی حالت زار بیان فرمائی ہے اور ظاہر ہے کہ سب سے بڑا ظلم تو کفر اور شرک ہے اس کے بعد درجہ بدرجہ قتل ناحق ، حق تلفی آبروریزی وغیرہ ظلم کی فہرست میں آتے ہیں ۔ اللہ نے اپنی کاموں کے مرتکبین کے متعلق فرمایا وتری الظلمین لما راو العذاب اور تو ایسے ظالموں کو دیکھے گا کہ جب وہ اس عذاب پر نگاہ ڈالیں گے جس میں وہ مبتلا ہونے والے ہوں گے یقولون ھل الی مرد من سبیل تو اس وقت کہیں گے کہ کیا دنیا میں واپس لوٹ جانے کی کوئی صورت ہے ؟ اس مقام پر مجرمین کی واپس جانے کی خواہش کا ذکر آخرت کے حوالے سے کیا گیا ہے ، تا ہم جب کسی شخص کی انفرادی موت کا وقت قریب آجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور موت کے فرشتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت بھی انسان اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصلحین (المنفقون) پروردگار ! اگر تو مجھے تھوڑی سی مہلت دے دیتا تو میں صدقہ و خیرات کر کے تیرے نیک بندوں میں شامل ہوجاتا ، مگر اللہ نے فرمایا ہے کہ جب کسی کی موت کا مقررہ وقت آ پہنچتا ہے تو پھر ہرگز مہلت نہیں دی جاتی ۔ سورة ابراہیم میں یہ مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ظالم لوگ عذاب والے دن کہیں گے ۔ رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ ونَتَّبِعِ الرُّسُلَ (آیت : 44) پروردگار ! ہمیں تھوڑی سی مہلت عطا کرتا کہ ہم تیری دعوت توحید کو قبول کرلیں اور تیرے پیغمبروں کا اتباع کرلیں ۔ اللہ فرمائے گا ، کیا تم اس سے پہلے قسمیں کھا کر نہیں کہا کرتے تھے کہ تم پر کوئی زوال نہیں آئے گا ؟ اب جب کہ دوسرا جہاں آنے والا ہے تمہیں اتباع رسل کی خواہش پیدا ہوئی ہے ، یہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ غرضیکہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر واپسی کی خواہش کریں گے۔ اللہ نے فرمایا وترنہم یعرضون علیھا خشعین من الدل آپ ان کو دیکھیں گے وہ ذلت کی وجہ سے جھکی ہوئی آنکھوں سے دوزخ کے عذاب پر پیش کیے جائیں گے۔ ینظرون من طرف خفی اور وہ ذلیل نگاہوں سے دیکھیں گے۔ خفی کا معنی پوشیدہ بھی ہوتا ہے اور ذلیل بھی ، مطلب یہ ہے کہ اس دن ندامت کی وجہ سے نظریں اوپر نہیں اٹھا سکیں گے اس لیے ذلت آمیز مخفی نگاہوں سے دیکھیں گے۔ وقال الذین امنوا ان الخسرین الذین خسروا انفسھم واصلیھم یوم القیمۃ اس دن اہل ایمان لوگ کہیں گے کہ بیشک نقصان اٹھانے والے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت والے دن خسارے میں ڈال دیا ، ان لوگوں کو اپنے حسام ، عمریں ار قوی گویا کہ زندگی کے قیمتی سرمایہ کو ضائع کردیا۔ انہوں نے اس طرح سرمایہ سے ایمان اور نیکی خریدنے کی بجائے کفر ، شرک ، معاصی اور بدعات کو خریدا یہ خود تو گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے اپنے اہل و عیال کو بھی لے ڈوبے کیونکہ عام طور پر بیوی بچے بھی اپنے بڑوں کے ہی تابع ہوتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔ قیامت والے دن واضح ہوجائیگا کہ انہوں نے دنیا میں رہ کر خسارے کا سودا کیا اور پھر آواز آئے گا الا ان الظلمین فی عذاب مقیم آگاہ رہو کہ ظالم لوگ ایسے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ جس سے کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔ فرمایا وما کان لھم من اولیاء ینصرونھزمن دون اللہ ان کے لیے کوئی کار ساز نہیں ہوگا ، جو اللہ کے سوا ان کی مدد کرسکے ، ظالم لوگ اس دن بےیارو مدد گار رہ جائیں گے اور یہ بھی یاد رکھو ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل جس کو اللہ تعالیٰ اس کی ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے گمراہ کر دے اس کو ہدایت کا راستہ نہیں مل سکے گا ۔ دنیا میں ہدایت سے محروم رہے گا اور آخرت میں عذاب مقیم کا شکار ہوگا جس سے باہر نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اس برکت سے بچنے کے لیے اللہ نے فرمایا استجیبوا لربکم اپنے پروردگار کے حکم کو تسلیم کر کے اس پر عمل پیرا ہو جائو من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹل نہیں سکتا ۔ وہ یقینا آ کر رہے گا ، لہٰذا اس دن سے پہلے پہلے ایمان لے آئو ۔ اور یاد رکھو ! مالکم من ملجا یومئذ وما لکم من نکیر اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اور نہ تمہارے لیے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی ۔ دنیا میں تو تم کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے پھر انکار بھی کردیتے تھے یا دنیا کی نظروں میں چھپ بھی جاتے تھے ، مگر قیامت والے دن نہ تو کہیں بھاگ کر جان بچا سکو گے اور نہ اپنے کردہ اعمال سے انکار کرسکو گے ، اس دن ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی اور پھر تمہیں اپنے عقائد و اعمال کا حساب چکانا ہی پڑے گا ۔ …… آگے رسالت کا مسئلہ بھی آ گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے اللہ کے نبی ! تمہاری تمام تر خیر خواہی اور تبلیغ کے باوجود فان اعرضوا اگر یہ لوگ اعراض کریں ۔ آپ کی بات پر توجہ نہ دیں فما ارسلنک علیھم حفیضا تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا کہ آپ ان کو حق کی بات منوا کر ہی چھوڑیں ۔ فرمایا ایسی بات نہیں ہے آپ ان کے مسلسل انگار کی وجہ سے دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں اور ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں ۔ سورة الغاشیہ میں ہے لست علیھم بمصیطر ( آیت : 33) آپ ان پر کوئی داروغہ تو نہیں ہیں کہ انہیں پکڑکر زبردستی حق کی طرف لے آئیں گے ۔ ان علیک الا البلغ آپ کے ذمے تو خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے سورة الرعد میں اللہ نے مزید وضاحت فرما دیا ہے فانما علیک البلغ وعلینا الحساب ( آیت : 40) بیشک آپ کے ذمے پیغام پہنچا دینا ہے اور پھر ان سے حساب لینا ہمارا ذمہ ہے۔ دوسری جگہ فرمایا افانت تکرہ الناس حتیٰ یکونوا مومنین ( یونس : 99) کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ضرور ایماندار بن جائیں ؟ نہیں بلکہ قدتبین الرشد من الفی ( البقرہ : 256) ہدایت اور گمراہی واضح ہوچکے ہیں ۔ اب جو شخص اپنے اختیار اور ارادے سے گمراہی کے راستے پر چلے گا تو پھر وہ اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے بھی تیار رہے۔ انسان کی دوزخی اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کی نا شکری کا حال اس طرح بیان فرمایا ہے۔ وانا اذا اذفنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا بیشک جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتا ہے یعنی جب اسے دنیا میں آرزو راحت نصیب ہوتا ہے ، مال و دولت ، عزت و جاہ حاصل ہوتا ہے ، تو پھر بھولے نہیں سماتا اور کہتا ہے کہ یہ میرے علم و ہنر کا ثمرہ ہے۔ میں اس قابل تھا کہ مجھے یہ چیزیں حاصل ہوتیں ۔ دوسرے لفظوں میں وہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کو خاطر میں نہیں لاتا اور نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے وان نصبھم سیتۃ بما قدمت ایدیھم اور اگر ان کو ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے ، اپنی غلط کرتوتوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں گرفتارہو جاتے ہیں فان الانسان کفور تو بیشک انسان ناشکر گزار بن جاتا ہے تکلیف کے وقت وہ خدا تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا یہ ذلت و رسوائی میرے ہی حصے میں آنے والی تھی ؟ غرضیکہ اللہ نے عام انسان کی یہ حالت بیان فرمائی ہے کہ آسودگی میں غرو ر وتکبر کرتا ہے اور مصیبت میں ناشکر گزار بن جاتا ہے۔ اس کے بر خلاف ایک مومن آدمی ہر حالت میں راضی برضا رہتا ہے۔ راحت آتی ہے ، تو شکر اد کرتا ہے اور تکلیف آتی ہے تو منجانب اللہ سمجھ کر اسے برداشت کرتا ہے۔ اولاد مطابق منشائے خداوندی اگلی آیت میں اللہ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا اظہار اس طرح فرمایا ہے للہ ملک السموات والارض آسمانوں کی بلندیوں اور زمین کی پستیوں میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے ۔ وہی ہر چیز کا مالک اور متصرف ہے۔ یخلق ما یشاء وہ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہے۔ ہر تخلیق اس کی منشاء اور حکمت پر منحصر ہوتی ہے ۔ خاص طور پر انسان کی تخلیق کے متعلق فرمایا یھب لمن یشاء اناثا و یھب لمن یشاء الذکور وہ جس کو چاہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہے بیٹے دیتا ہے۔ یعنی تفریق جنس کا معاملہ خالصتا ً اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق لڑکے اور لڑکیوں کی تقسیم کرتا ہے۔ سورة القیامۃ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس نے قطرہ آب سے اور پھر خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے انسان کی تخلیق فرمائی فجعل منہ الزوجینت الذکرو انثی ( آیت : 39) پھر ان میں نر اور مادہ کے جوڑے جوڑے بنا دیئے۔ فرمایا جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے اویزوجھم ذکرانا وانا ثا یا ان کو بیٹے اور بیٹاں جو ڑوں کی شکل میں دیتا ہے ہر شخص کے حالات کے مطابق بعض کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں صفتیں عطا کردیتا ہے ویجعل من یشاء عقیما ً اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے یعنی نہ لڑکی دیتا ہے اور نہ لڑکا بلکہ بعض لوگ عمر اولاد سے محروم رہتے ہیں ، یہ اس کی قدرت کاملہ کا کام ہے ، اولاد کے سلسلے میں انسان چار قسم کے گروہوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں جن کی اولاد میں (1) صرف لڑکیاں ہوں یا (2) صرف لڑکے ہوں (3) لڑکے اور لڑکیاں دونوں صفتیں ہوں اور یا (4) کچھ بھی نہ ہو ۔ نسل انسانی انہی چار گروہوں میں منقسم ہے۔ مشہور ہے کہ حضر ت ابراہیم (علیہ السلام) کے صرف بیٹے تھے اور لوط (علیہ السلام) کی صرف بیٹیاں تھیں اور حضور ﷺ کو اللہ نے بیٹیاں بھی دیں اور بیٹے بھی جب کہ یحییٰ (علیہ السلام) سے بالکل محروم رہے۔ تخلیق انسانی میں اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت کار فرما ہے۔ وہ چاہے تو آدم (علیہ السلام) کو بغیر والدین کے پیدا کردے اور حضرت حوا ؓ کو ماں کے بغیر صرف باپ سے پیدا کر دے ۔ ادھر عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ باپ نہیں ہے صرف ماں سے پیدا ہوئے اور عام انسانوں کو اللہ نے مردوزن دونوں کے اختلاط سے پیدا فرمایا ہے یہ سب اس کی کمال قدرت کی نشانیاں ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ یروجنھم کا بعض مفسرین یہ معنی بھی کرتے ہیں کہ چاہے تو ایک ہی حمل میں لڑکا اور لڑکی دونوں پیدا فرما دے۔ ہمارے قریبی ساتھی نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے ہاں تین جڑواں بچے تولد ہوئے جن میں دو بچیاں اور ایک بچہ تھا۔ 50؁ء میں ایک کسان کے گھر میں بیک وقت آٹھ پکوں کی پیدائش کی خبر آئی تھی اور اس قسم کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں کہ ایک ہی حمل میں دو یا زیادہ بچے پیدا ہوئے اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ میاں بیوی بالکل تندرست ہیں علاج کرواتے ہیں ۔ تعویز گنڈے وغیرہ بھی آزماتے ہیں مگر عمر بھر ٹکریں مارنے کے باوجود کچھ نہیں ہوتا ۔ بات واضح ہے کہ تخلیق اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انہ علیم قدیر بیشک وہ سب کچھ جانتا بھی ہے اور ہر چیز پہ قدرت بھی رکتا ہے ، نہ کوئی اس کی ذات میں شریک ہے نہ صفات میں ، نہ تدبیر میں اور نہ تصرف میں ، وہ جو چاہے کرے ، اس کی حکمت و مصلحت میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا ۔
Ayahs 42:51–53

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور نہیں ہے کسی انسان کے لائق کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے مگر وحی کی صورت میں یا پردے کے پیچھے سے یا وہ کسی پیغام لانے والے کو بھیجے ، پس وحی پہنچائے وہ اس کے حکم سے جو چاہے ، بیشک وہ بلند وہ حکمتوں والا ہے

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے وحی کی ہے آپ کی طرف روح اپنے حکم سے ، آپ نہیں جانتے تھے کہ کیا ہے کتاب اور نہ ایمان ، لیکن ہم نے کیا اس کو نور ، ہدایت دیتے ہیں ہم اس کے ساتھ جس کو چاہیں اپنے بندوں میں سے ، اور بیشک البتہ آپ رہنمائی کرتے ہیں سیدھے راستے کی طرف

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

راستہ اس اللہ کا جس کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں ، آگاہ رہو ! اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں تمام کام

ربط آیات گزشتہ درس میں معاد کا ذکر تھا کہ قیامت والے دن جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دنیا میں واپسی کا کوئی راستہ تلاش کریں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہوگا بلکہ وہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب مقیم کا شکار بن جائیں گے۔ پھر رسالت کے ضمن میں اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) آپ مشرکین کی ایذاء رسانیوں سے دل برداشتہ نہ ہوں ۔ آپ حق تبلیغ ادا کرتے ہیں ۔ ان کو راہ راست پر لے آنا آپکی ذمہ داری نہیں ہے ، آپ صرف اپنا کام کرتے جائیں ۔ پھر اللہ نے انسان کی ناشکر گزاری کا ذکر فرمایا کہ جب انہیں آسودگی حاصل ہوتی ہے تو خوش ہوجاتے ہیں اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انسان ناشکر گزاری کا اظہار کرتا ہے ، پھر اللہ نے اپنی صفت تخلیق کا ذکر کیا کہ لڑکے یا لڑکیاں دنیا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق کسی کو بیٹے عطا کرتا ہے ، کسی کو بیٹیاں ، کسی کو دونوں اصناف اور کسی کو بالکل بانجھ بنا دیتا ہے اللہ تعالیٰ ہر کام اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق انجام دیتا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا ۔ خدا تعالیٰ سے ہم کلامی بعض مشرکین اعتراض کرتے تھے کہ یہ شخص کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے ، اگر یہی بات ہے تو پھر یہ وحی ہم پر کیوں نہیں نازل ہوتی اور اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا ۔ اگر خدا تعالیٰ ہم سے ہم کلام ہوجائے تو ہم جان اور اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا ۔ اگر خدا تعالیٰ ہم سے ہم کلام ہوجائے تو ہم جان سکیں گے کہ یہ اپنے نبی سے بھی کلام کرتا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے۔ انسانی جسم کی ساخت اور اس کے قوی میں کلام الٰہی کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ انسان کی صلاحیتیں تو اس قدر کمزور ہیں کہ وہ کسی فرشتے کو بھی اپنی اصلی شکل میں دیکھنے کی آب نہیں لاسکتے چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہم کلام ہوں ، یہ ممکن نہیں ہے مشرکین کا یہی اعتراض سورة الانعام میں بھی مذکور ہے۔ وقالوا لولا انزل علیہ ملک وہ کہتے تھے کہ آپ پر فرشتہ اپنی اصلی شکل و صورت میں کیوں نہیں نازل ہوتا تا کہ ہم بھی اسے دیکھیں اور پھر ایمان لے آئیں ، مگر اللہ نے فرمایا ولو انزلنا مکا لقضی الامر ( آیت : 8) اگر ہم فرشتے کو اس کی اصل شکل میں بھیج دیں تو معاملہ کا فیصلہ ہوجائے یعنی یہ لوگ اس کو دیکھنے کی تاب نہ لا کر ہلاک ہوجائیں جب ایک عام انسان فرشتے کو نہیں دیکھ سکتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے جلوے کو کیسے برداشت کرسکتا ہے ؟ البتہ اللہ کے نبیوں کی تربیت خاص طریقے پر ہوتی ہے ، ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے ، مگر وہ بھی براہ راست نہیں بلکہ ان تین صورتوں میں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اس مادی اور عنصری جہان میں تو رویت ملائکہ یا خدا سے ہم کلامی ممکن نہیں البتہ عالم برزخ اور عالم آخرت میں ممکن ہے کیونکہ وہ جہان اس جہان سے بہت منتقل ہو کر اس لطیف جہان میں پہنچیں گے تو ان کے قوائے سامعہ اور باصرہ وغیرہ میں بہت زیادہ وسعت پیدا ہوجائے گی ۔ سوۃ ق میں ارشاد ہے فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآئَ کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ (آیت : 22) اس دن پردہ اٹھ جائے گا اور پھر انسانی بصارت میں بہت تیزی آ جائیگی اور بہت دور کی چیزیں بھی نظر آنے لگیں گی حتیٰ کہ عالم بالا میں عرش ، فرتے ، جنات وغیرہ تک انسانی نگاہ پہنچ سکے گی اور انسان کے قوی بھی اتنے مضبوط ہوجائیں گے جو ان کی رویت کو برداشت کرسکیں گے۔ عالم برزخ میں خدا تعالیٰ سے ہم کلامی کی مثال ایک حدیث سے ملتی ہے حضرت جابر ؓ کے والد حضرت عبد اللہ ؓ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے او اپنے پیچھے واحد بیٹا حضرت جابر ؓ اور نو بیٹیاں چھوڑ گئے تھے ۔ حضرت جابر ؓ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے سلسلے میں اکثر پریشان رہتے تھے حضور ﷺ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم کیوں پریشان رہتے ہو ۔ تیرے باپ کو وہ مرتبہ حاصل ہوا ہے کہ عالم برزخ میں اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے۔ جو کسی دوسرے شخص سے نہیں کیا ، بہر حال اس مادہ جہاں میں انسانی قوی اس قابل نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہو ماسوائے ان تین صورتوں کے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا ہے۔ (1) کلام بذریعہ وحی فرمایا ہر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے الا وحیا ً مگر بذریعہ وحی ، وحی کے بہت سے معانی آتے ہیں ۔ مثلاً لغت کے امام ابن ابی بکر ابن عبد القادر رازی (رح) اپنی کتاب ” مختار الصحاح “ میں لکھتے ہیں لو حی الکتاب گویا وحی کا لفظ کتاب پر بھی بولا جاتا ہے۔ وحی کا معنی لکھنا بھی آتا ہے اور وحی کا لفظ اشارے پر بھی بولا جاتا ہے مثلاً فاوحی لھا القراء فاستقر اللہ نے زمین کی طرف اشارہ کیا تو وہ بک گئی ، استقرر پکڑ لیا ، اسی طرح وحی کا معنی مخفی کلام بھی ہوتا ہے ۔ جس میں تیزی کا مفہوم پایا جاتا ہے یعنی جو چیز کسی کو سرعت کے ساتھ القاء کی جائے وہ وحی کہلاتی ہے۔ جیسے سورة الانعام میں فرمایا ، ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے شیاطین کو یہ پیغمبر کا دشمن بنایا ہے۔ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا ( آیت : 112) جو ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے ، اسی طرح وحی کا اطلاق پیغام پر بھی ہوتا ہے وحی قرآن پاک کی اصطلاح ہے جس کے مذکورہ مختلف معانی وارد ہوتے ہیں ۔ وحی کی قسمیں وحی کی ایک قسم خاص ہے جو وحی رسالت یا وحی نبوت کہلاتی ہے اور یہ صرف اللہ کے رسولوں یا نبیوں کی طرف ہوتی ہے۔ اللہ کے رسول اور نبی اس وحی کے امین ہوتے ہیں اور اسے آگے دوسروں تک پہنچاتے ہیں ۔ وحی کی ایک قسم وہ ہے جو انبیاء پر بھی ہوتی ہے ۔ اس وحی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی بات کسی کو مخفی طریقے سے سمجھا دی جاتی ہے یا اس کی طبیعت اور مزاج میں اس کو ڈال دیا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا واوحی ربک الی النحل ( النحل : 68) تیرے پروردگار نے شہدمیوں کی طرف وحی کی کہ وہ پاکیزہ پھلوں اور پھولوں کا رس چوسیں ، اسے اپنے پی میں جمع کریں اور پھر شہد کی صورت میں باہر نکالیں ۔ اللہ نے یہ پیغام کسی فرشتے کے ذریعے نہیں پہنچایا بلکہ شہد کی مکھیوں کو بالطبع یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ وہ ایسا کریں ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف وحی کرنے کا بھی ذکر آیا ہے۔ اذ اوحینا الی امک ما یوحی (طہٰ : 38) اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم نے تمہاری والدہ کی طرف وحی کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دو ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس طریقے سے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی دست برد سے محفوظ رکھا ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ نے یہ وحی فرشتہ بھیج کر کی ہو یا پھر طبیعت میں براہ راسہ القا کردیا ہو کہ یہ بھی وحی ہی کی ایک قسم ہے۔ اس قسم کا اشارہ بیداری میں بھی ہو سکتا ہے اور خواب کی حالت میں بھی ، عام لوگوں کے لیے اس قسم کی وحی قطعی نہیں ہوتی ، البتہ انبیاء (علیہم السلام) کے لیے ایسا القا قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔ اس کی مثال سورة الفتح میں ملتی ہے لقد صدق اللہ ورسولہ الرء یا بالحق ( آیت 27) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا کہ تم مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا تو اپنے سر منڈوا کر اور بال کتروا کر امن وامان کے ساتھ داخل ہو گے چناچہ حضور ﷺ کا یہ خواب صرف بحرف پورا ہوا ، گویا بعض اوقات اللہ اپنے نبیوں کو خواب کے ذریعے احکام پہنچا دیتا ہے اور کبھی غیب سے آواز آتی ہے جسے ہاتف کہتے ہیں کہ نبی اس بات کو سمجھ لیتے ہیں ، البتہ غیر نبی پر جو وحی آتی ہے وہ صرف الہام کی ایک شکل ہوتی ہے جو کہ شریعت نہیں ہوتی ۔ وحی نبی اور غیر نبی میں یہی فرق ہے ۔ سورة مریم میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کی طرف وحی کا ذکر بھی آیا ہے۔ آپ کی زبان کو کلام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ آپ حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے فاوحی الیھم ان سبحوا بکرۃ وعشیا ( آیت : 11) اور انہیں اشارے سے فرمایا کہ وہ صبح و شام اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے رہیں ۔ یہاں پر وحی کا معنی اشارہ ہے ، بہر حال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان سے براہ راست کلام نہیں کرتا سوائے تین صورتوں میں جن میں سے پہلی صورت وحی ہے ، جب ایسی وحی نبی پر ہوگی تو یہ شریعت ہوگی اور جب غیر نبی پر ہوگی تو اسے الہام سمجھا جائے گا ۔ (2) پس پردہ کلام اللہ نے کلام کرنے کی دوسری صورت یہ بیان فرمائی ہے اومن وری حجاب کہ یہ کلام پردے کے پیچھے سے ہوگا ۔ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جہان میں کسی سے براہ راست کلام نہیں کرتا ۔ اس دنیا میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا۔ جیسے فرمایا وکلم اللہ موسیٰ تکلیما ( النسائ : 164) جب کوہ طور پر آپ نے آگ دیکھی تو اس طرف چل دیے ۔ وہاں پہنچے تو آپ ایک درخت سے پھوٹتی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔ اس وقت آواز آئی انی انا ربک ( طہٰ : 12) اننی انا اللہ ( طہٰ : 14) اے موسیٰ میں تیرا پروردگار ہوں ، میں تیرا اللہ ہوں ۔ یہ حجاب نوری تھا یا حجاب ناری تھا جس کے پیچھے سے اللہ نے کلام کیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو دیکھا نہیں ۔ اور جب آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے اور پھر جب اللہ نے اپنی تجلی کوہ طور پر ڈالی تو موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے ، غرضیکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ براہ راست کلام نہیں کرتا بلکہ یا تو وحی بھیجتا ہے یا پھر پس پردہ کلام کرتا ہے ۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ایک موقع پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ایک دفعہ میں اللہ تعالیٰ کے بہت ہی قریب ہوگیا ، فرمایا ، کتنا قریب ؟ عرض کیا ، میرے اور پروردگار کے درمیان صرف ستر ہزار پردے حائل رہ گئے۔ مطلب یہ کہ اللہ کی مقرب مخلوق فرشتے بھی اس کو حجاب نوری میں دیکھتے ، سنتے اور اس سے کلام کرتے ہیں ، تو انسان کے ساتھ بھی پردے کے پیچھے سے کلام ہو سکتا ہے ، براہ راستہ نہیں ہو سکتا۔ (3) کلام برسالت رسول اس جہان میں کلام کرنے کی اللہ نے تیسری صورت یہ بیان فرمائی ہے او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشاء انہ علی حکیم یا اللہ تعالیٰ کوئی پیغام لانے والا بھیج دے جو اس کے حکم سے جو چاہے وحی پہنچائے۔ بیشک وہ بلند اور حکمتوں والا ہے ۔ پیغام لانے والے سے مراد اللہ کا فرشتہ ہے جو کبھی اپنی اصل شکل میں آتا ہے اور کبھی انسانی شکل میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ میں نے جبرائیل امین کو صرف دو دفعہ اس کی اصل شکل میں دیکھا ہے۔ پہلی دفعہ ابتدائے وحی کے زمانہ میں اور دوسری دفعہ معراج کے موقع پر اور نہ عام طور پر آپ حضرت وحیہ ابن خلیفہ کلبی (رح) کی شکل میں پیغام لے کر آتے تھے اور بعض اوقات کسی اجنبی آدمی کی شکل میں بھی آجاتے تھے ۔ احادیث میں اس کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا مثل سلسلۃ الجرس گھنٹی کی سی آواز آتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کا بشریت سے ملکیت کی طرف انسلاخ کر رہے ہیں ۔ پھر فرشتے کا راستہ قلب کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے اور وہ دل میں القاء کردیتا ہے جیسے فرمایا نزل بہ الروح الامین علی قلبک لتکون من المنذین ( الشعرائ : 193 ، 194) اس کو آپ کے دل پر امانت دار فرشتے نازل کیا ہے تا کہ آپ نصیحت کرنے والوں میں ہوجائیں ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ وحی کی حالت سخت شدید ہوتی ہے ، حتیٰ کہ سخت سردی کے موسم میں بھی آپ کی پیشانی مبارک پر پسینہ آجاتا تھا۔ وحی کی دو قسمیں ہیں بعض اوقات الفاظ اور مفہوم دونوں چیزیں القا ہوتی ہیں اس کو وحی مسئلو کہتے ہیں اور بعض اوقات الفاظ القا نہیں ہوتے بلکہ صرف مفہوم ہوتا ہے ۔ اس کو غیر مسلو کہتے ہیں ۔ ایسی صورت میں حضور ﷺ اپنے الفاظ میں مفہوم کو بیان کردیا کرتے تھے ( جیسا کہ بعض احادیث کیونکہ قرآن تمام کا تمام وحی متلو کی شکل میں نازل ہوا ہے) بہر حال اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کے اعتراض کا جواب دیا اور وحی الٰہی کی مختلف صورتیں بیان فرمادیں۔ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء اور رسل پر وحی بھیج وکذلک اوحینا الیک روحا ً من امرنا اسی طریقے سے ہم نے آپ کی طرف وحی بھیج اپنے حکم سے ایک روح اس مقام پر روح کے دو معانی ممکن ہیں ۔ روح کا معنی قرآن پاک بھی ہو سکتا ہے اور وحی لانے والا فرشتہ بھی ، قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے اس کو روح اس لیے کہا گیا ہے کہ جس طرح روح انسانی جسم میں داخل ہو کر اس کو زندگی بخشتی ہے اسی طرح قرآن پاک جہالت کی وجہ سے مردہ دنوں کو زندہ کرتا ہے اور روح سے مراد روح الامین یعنی جبرائیل (علیہ السلام) بھی ہے جیسا کہ قرآن میں موجود ہے نزل بہ الروح الامین ( الشعرائ : 193) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) اس قرآن کو لے کر نازل ہوئے ، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس مقام پر روح سے مراد قرآن پاک ہے جو انسان کی حیات جاودانی کا ذریعہ بنتا ہے قرآن پاک کے متعلق سورة ابراہیم کے آغاز میں فرمایا کہ یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے لتخرج الناس من الظلمت الی النور تا کہ آپ لوگوں کو جہالت اور معاصی کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی کی طرف لے آئیں ، یہ قرآن یقینا لوگوں کو کفر اور شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید اور ایمان کی روشنی میں لے آتا ہے ، لہٰذا اس کو روح کہا گیا ہے۔ ایمان اور کتاب آگے اللہ تعالیٰ کا پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب ہے ما کنت تدری ما الکتب ولا الایمان آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ تو درست ہے کہ نزول کتاب سے پہلے آپ اس کتاب سے متعلق تفصیلات نہیں جانتے تھے مگر ایمان کی نفی تو محال معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہر نبی نزول وحی سے پہلے بھی مومن ہی ہوتا ہے ۔ کسی بھی نبی سے ایمان کے بر خلاف کفر یا شرک کا ارتکاب آنکھ جھپکنے کے برابر بھی محال ہے کیونکہ اللہ ہر نبی کی عصمت کا خود ذمہ دار ہوتا ہے اور کسی نبی سے کوئی گناہ بھی سرز د نہیں ہونے دیتاچہ جائیکہ وہ ایمان کے خلاف کوئی فعل کرے ۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس مقام پر ایمان سے مراد نماز ہے یعنی نزول وحی سے پہلے آپ نہ قرآن سے واقف تھے اور نہ نماز کی تفصیلات سے کیونکہ نماز کا طریقہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی سکھایا تھا۔ ایمان بمعنی نماز کی مثال سورة البقرہ میں بھی ملتی ہے۔ جب نبی (علیہ السلام) کو بیت المقدس سے بیت اللہ شریف کے قبلہ مقرر کیے جانے کا حکم ہوا تو بعض لوگوں کا خیال پیدا ہوا کہ ہماری ان نمازوں کا کیا ہوگا ، جو ہم سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھتے رہے ہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما کان اللہ لیضیع ایمانکم ( آیت : 143) ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان یعنی نمازوں کو ضائع کر دے۔ تمہاری وہ نمازیں بھی اللہ کے ہاں درجہ قبولیت کو پہنچتی ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر ایمان سے مراد شرع کے تفصیلی احکام میں ، یعنی ایمان تو تھا مگر تفصیلی احکام کا علم نزول وحی کے ساتھ ہی ہوا ۔ البتہ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ نزول وحی سے پہلے اللہ کے نبی قطیب باطنی کے درجے میں ہوتے ہیں ۔ نبی آخر الزمان بھی ایمان ، توحید ، کفر اور شرک سے تو واقف تھے مگر ان کی تفصیلات معلوم نہیں تھیں جو اللہ نے بذریعہ وحی نازل فرمائیں ، اسی لیے فرمایا کہ آپ کتاب اور ایمان کو نہیں جانتے تھے۔ قرآن ذریعہ ہدایت ولکن جعلنہ نور الھدی بہ من نشاء من عبادنا بلکہ ہم نے قرآن پاک کو ایسا نور بنا کر بھیجا ہے کہ جس کے ذریعے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بدنوں میں سے جسے چاہیں اور جس طرح یہ قرآن پاک ذریعہ ہدایت ہے اسی طرح وانک لتھدی الی صراط مستقیم آپ بھی لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں صراط اللہ الذی لہ ما فی السموات وما فی الارض اور وہ راستہ اس وحدہٗ لا شریک کا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ یہ ایسا سیدھا راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت کے مقام تک پہنچاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ قرآن اور نبی کی ذات دونوں صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔ اس سے توحید کا مسئلہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ ہر چیز کا خالق ، مالک ، مدبر اور متصرف اور اللہ تعالیٰ ہے ، وہ ہمہ دان اور ہمہ بین ہے ۔ قدرت کاملہ کا مالک ہے۔ وہ وحدہٗ لا شریک ہے۔ معادہ تذکرہ سورۃ کے آخر میں معاد کا ذکر بھی فرمایا الا الی اللہ تصیرالامور خبردار ! تمام کاموں کا انجام خدا تعالیٰ کی طرف ہی پہنچنے والا ہے۔ سورة النزعت میں فرمایا الی ربک منتھھا ( آیت : 24) جس طرح ہر چیز کا آغاز خدا کی طرف سے ہے اسی طرح ہر چیز کا انجام بھی اسی کی طرف ہونے والا ہے۔ انسانوں کے تمام اعمال نیکی اور بدی سب خدا کے سامنے پیش ہونے والے ہیں ۔ کفار و مشرکین کی نافرمانی اور نیکیوں کی اطاعت و فرمانبرداری سب خدا کی بارگاہ میں پہنچنے والی ہیں ۔ جہاں ہر شخص کو اپنے عقیدہ و اعمال کافر کو وافر جواب دینا پڑے گا۔