41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 41:1–8

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کلام) اتارا ہوا ہے رحمان اور رحیم کی طرف سے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

ایک کتاب ہے کس آیتوں کی تفصیل کی گئی ہے ، یہ قرآن عربی زبان میں ہے ، ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

یہ خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا ہے ، پس اعراض کیا ہے ان میں سے اکثر نے ، پس وہ نہیں سنتے۔

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہا انہوں کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں ، اس چیز سے کہ جس کی طرف آپ بلاتے ہیں ، اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہیں اور ہمارے درمیان اور آپ کے درمیان پردہ ہے ، پس آپ اپنا کام کرتے جائیں ۔ بیشک ہم اپنا کام کر رہے ہیں

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ( اے پیغمبر ! بیشک میں تو انسان ہوں تمہارے جیسا ، وحی کی جاتی ہے میری طرف کہ بیشک تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے ، پس سیدھے ہو اس کی طرف ، اور بخشش طلب کرو اس سے ، اور ہلاکت سے شرک کرنے والوں کے لیے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

وہ جو نہیں دیتے زکوٰۃ اور آخرت کا وہ انکار کرنے والے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

بیشک و ہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے اعمال کیے ان کے لیے غیر منقطع اجر ہے

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة حم السجدہ ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے نام فصلت اور اقوات بھی ذکر کیے جاتے ہیں ، تا ہم زیادہ مشہور نام حم السجدہ ہی ہے۔ یہ سورة جو امیم سبعہ کی دوسری سورة سے یہ ساتوں سورتیں مکی زندگی کے آخری دور میں یکے بعد دیگرے اسی ترتیب کے ساتھ نزول ہوئیں جو ان کی ترتیب تلاوت ہے ، جیسا کہ پچھلی سورة المومن کی تشریح میں بیان کیا تھا ۔ یہ تمام سورتیں لباب القرآن یعنی پورے قرآن پاک کا خلاصہ اور نچوڑ ہیں ۔ اس سورة مبارکہ کی چون آیات اور چھ رکوع ہیں اور یہ آٹھ نو الفاظ اور 3406 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح حوامیم سبعہ میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی اصول و عقائد یعنی توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد ہی کا ذکر ہے۔ گزشتہ سورة المومن میں توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کا مضمون غائب تھا تو اس سورة میں بھی توحید کا ذکر ہے۔ رسالت کا ذکر بھی ہے کہ یہ بھی دین کا بنیادی رکن ہے جب کہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار و مشرکین اس کا انکار کرتے تھے۔ قرآن کریم کی طرف خصوصی دعوت دی گئی ہے اور اس کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا گیا ہے۔ وقوع قیامت اور جزائے عمل کے مسئلہ کو بھی اس سورة میں خاصی اہمیت دی گئی ہے ۔ بہر حال دعوت الی التوحید ، دعوت الی الایمان اور دعوت الی القرآن اس سورة کے خاص موضوعات ہیں ۔ اس سورة میں نافرمان اور سر کش لوگوں کا حال اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جو سلوک کیا اس کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ نافرمان کی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ استقامت علی الدین بھی اسی سورة کا ایک موضوع ہے جس کا ذکر پہلے یہ درس میں آ رہا ہے اور پھر آگے بھی آئے گا ۔ ہر انسان خطا کار ہے ، لہٰذا ہر شخص کو اپنے گناہوں اور خطائوں سے معافی طلب کرنے کی تلقین کی گئی ہے ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی اصطلاح کے مطابق دین کے چار بنیادی اصولوں طہارت ، اغبات ، سماحت اور عدل بھی اس سورة میں بیان ہوئے ہیں ۔ آپ ہی کی اصطلاح میں تین حجابات یعنی حجاب طبع ، حجاب رسم اور حجاب سوء معرفت کا ذکر بھی آ رہا ہے ، چناچہ ایک حجاب کا ذکر پہلے درس میں ہی آ گیا ہے۔ بہر حال ان تمام حواسم سبعہ میں دین کے بنیادی عقائد و اصو ل بیان ہوئے ہیں ۔ اس لیے ان کو لباب القرآن یعنی سارے قرآن کا خلاصہ اور نچوڑ کہا جاتا ہے حروف مقطعات ۔ پچھلی سورة کی طرح اس سورة کا آغاز بھی حروف مقطعات حم سے ہوا ہے۔ بعض مفسرین تقریب فہم کے لیے ان حروف میں ہے ۔ ح کا اشارہ حمد اور م کا اشارہ رحمان اور رحیم کی طرف بتاتے ہیں ۔ اس طرح مطلب یہ بنتا ہے کہ ہر قسم کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو رحمان اور رحیم ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ ح کا اشارہ حاوی ہونے کی طرف ہے یعنی یہ سورة پانچ علوم پر حاوی ہے اور م سے مراد ماحی یعنی مٹانے والی ہے۔ اس سورة کے پڑھنے اور اس پر ایمان لانے سے انسانوں کے غم اور پریشانیاں دور ہوئی ہیں ۔ اور انسان صحیح راستے پر گامزن ہو کر منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے ، غرضیکہ یہ سورة علوم حقہ پر حاوی ہے۔ بعض یوں بھی فرما رہے ہیں کہ ح کا اشارہ حکمت اور م کا اشارہ رحمان و رحیم کی طرف ہے اور مطلب یہ بنتا ہے کہ یہ سورة خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے سراسر حکمت پر مبنی ہے۔ بایں ہمہ سب سے بہتر بات وہی ہے جو امام جلال الدین سیوطی (رح) نے بیان (جلالین صفحہ 4) کی ہے کہ اللہ اعلم بمراد بذلک ان حروف کی مراد کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس کو جو بھی مراد ہے ہمارا اس پر ایمان ہے ہمیں ان کے معافی میں کرید نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ ان کو خود اللہ کے رسول نے وضاحت کے ساتھ بیان نہیں فرمایا ۔ ویسے بھی ہر شخص کے ہر چیز کا جاننا ضروری نہیں ہے کیونکہ انسانوں کا علم بہت ہی محدود ہے ۔ سورة بنی اسرائیل میں جہاں روح کے متعلق سوال کا ذکر آتا ہے ۔ وہاں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما اوتیتم من العلم الا قلیلا ( آیت ، 85) تمہیں لیے معاملات میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تمہیں بہت ہی قلیل علم عطا کیا گیا ہے ، اور پھر یہ بھی ہے کہ ہر شخص کو علم میں الگ الگ حصہ دیا گیا ہے۔ سورة یوسف میں ہے۔ فوق کل ذی علم علیم ( آیت : 76) ہر علم والا دوسرے علم دے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ یہ تدریج قائم رہی ہے اور ان سب پر اللہ تعالیٰ کی ذات حاوی ہے۔ قرآن کریم کی حقانیت آغاز سورة میں قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کا بیان ہے تنزیل من الرحمن الرحیم یہ کلمہ پاک بڑے مہربان اور نہایت رحم کرنے والے خدا نے عزوجل کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ یہ ایسا کلام ہے جس میں انسانی کے تمام مسائل کے حل کے لیے اصول بیان کیے گئے ہیں کتب فضلیت ایتہ یہ ایسی کتاب ہے جس کی آیات کی تفصیل بیان کردی گئی ہے۔ اس کتاب میں ترغیب اور ترہیب ہے ، وعدہ اور وعید ہے اجمال اور تفصیل ہے ۔ ذکر دنیا اور ذکر عقبی ہے ارض و سما کی مختلف اشیاء کی تفصیل ہے۔ دلائل عقاد اور ان کی تشریح و تفصیل ہے۔ قرانا عربیا یہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا ہے اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کو کسی دوسری زبان میں بھی نازل کرسکتا تھا اس نے تورات اور انجیل کیو عبرانی اور سریانی زبان میں نازل فرمایا ۔ مگر چونکہ حضور ﷺ خود عربی تھی اور اس کتاب کے اولین مخاطبین بھی عربی زبان جانتے تھے ، لہٰذا اللہ نے اس کو عربی زبان میں بھی جانتے تھے ، لہٰذا اللہ نے اس کو عربی زبان میں اتارا نماز میں قرآن پڑھنے کا حکم ہوا فافرء واما تیسم من القران (المزمل : 20) جتنا ہو سکے قرآن پڑھیں ۔ قرآن چونکہ عربی زبان میں ہے ، لہٰذا نماز میں اس کے اصل الفاظ کی تلاوت ضروری ہے اگر عربی الفاظ کی بجائے اس کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں پڑھا جائے گا تو نماز نہیں ہوگی ، کیونکہ اس میں قرآن پڑھنے کا حکم ہے اور اس کا ترجمہ قرآن نہیں ہوگا ۔ بلکہ صرف ترجمہ ہوگا ۔ فرمایا یہ قرآن عربی زبان میں ہے لقوم یعلمون ان لوگوں کے لیے جو سمجھ اور علم رکھتے ہیں ، جو لوگ اس سے اعراض برتتے ہیں اور اس کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرنے اور ان کے لیے یہ قرآن کیسے مفید ہو سکتا ہے ؟ قرآن سے اعراض جس طرح پیغمبر اسلام کو اللہ نے بشر اور نذیر کا لقب عطا فرمایا ہے اسی طرح اس قرآن کے متعلق بھی ارشاد ہے بشیراً و نذیراً کہ یہ بھی خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا ہے مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے۔ فاعرض اکثرھم کہ اکثر لوگوں نے اس سے اعراض کیا ہے یعنی اس کی طرف توجہ ہی نہیں دی ۔ فرمایا فھم لا یسمعون وہ گویا اس قرآن پاک کو سننے کے لیے بھی تیار نہیں ، یہ کتاب لا تعداد نصیحتوں پر مشتمل ہے۔ اس میں پوری زندگی لائحہ عمل موجود ہے ۔ مگر لوگوں کی اکثریت اس کی طرح متوجہ ہی نہیں ہوتی ، بلکہ بعض ہنجاروں کا حال تو یہ ہے وقالو قلوبنا فی اکثر مما تدعونا الیہ کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ جس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں ۔ ہمارے دل اس چیز کی طرف سے پردے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ مطلب یہ کہ آپ کی دعوت ہمارے دلوں میں اترتی ہی نہیں ۔ سورة بقرہ میں ہے وقالوا قلوبنا غلف (آیت : 88) وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ، ہم تمہاری کتاب کو دل میں جگہ نہیں دے سکتے بلکہ ہم اپنی کتاب کو ہی مانتے ہیں ۔ مشرک لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم کسی کتاب کو نہیں جانتے ، ہم تو اپنے آبائو اجداد کے عقائد اور ان کی رسومات کو ہی مانتے ہیں اور انہی پر عمل پیرا رہیں گے۔ فرمایا قرآن کی طرف سے ایک تو ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور دوسری وہ کہتے تھے وفی اذاننا وقر اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے یعنی ہمارے کان قرآن پاک یا وحی الٰہی کی طرف لگتے ہی نہیں اور ان میں تمہاری کوئی بات داخل ہی نہیں ہوتی ۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سب قرآن حکیم سے اعراض کرتے تھے اور مختلف حیلوں بہانوں سے اس سے دور رہتے تھے۔ اس کے علاوہ مشرک لوگ یہ بھی کہتے تیھ ومن بیننا و بینک حجاب ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ حائل ہے ۔ ہم ا کی دوسرے کے نظریہ کو قبول نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا ہم سے توقع نہ رکھو کہ ہم قرآن کی باتوں کو سن کر تسلیم کرلیں گے ، لہٰذا فاعمل اننا عملون آپ اپنا کام کرتے رہیں ۔ ہم اپنی ڈگر پر چلتے رہیں گے ، مطلب یہ کہ کفار و مشرکین نے کہی اور قرآن کی بات سننے سے مکمل طور پر اتار کردیا۔ نبی اکرم ﷺ کی بشریت کفار و مشرکین کی اس ہٹ دھرمی کے جواب میں اللہ نے فرمایا ۔ قل اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں پر واضح فرما دیں انما انا بشرمثلکم بیشک میں تو تمہارے جیسا انسان ہی ہوں ۔ میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میں کوئی فرشتہ ہوں یا نعوذ باللہ مجھ میں کوئی الوہیت والی بات ہے ۔ میں تو کسی کا حاجت روا اور مشکل کشا نہیں بلکہ تمہارے خاندان اور قبیلے کا تمہارے جیسا انسان ہوں ۔ اللہ مجھ میں اور تم میں فرق یہ ہے یوحی الی کہ میری طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے میں اور ہر نبی دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوجاتا ہے۔ نزول وحی انتہائی درجے کا شرف ہے جو اللہ کے نبیوں کو حاصل ہوتا ہے ۔ نبی اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں مگر وہ اس وحی الٰہی کو دوسرے تک پہنچانے پر مامور ہوتے ہیں جو ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ میر ی طرف وحی کی گئی ہے انما الھکم الہ واحد کہ بیشک تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ اس کا کوئی ساتھی اور شریک نہیں وہ خداوند قدوس اپنی ذات وصفات ، عبادت و اختیار اور علم وقدرت میں یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ وہ ہر چیز کا حالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے ۔ وہ علم کل مختار کل ، بدیع اور خاطر ہے ، لہٰذا مستحق عبادت بھی صرف وہی ہے ۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ اس کے سامنے عاجزی اور نیاز مندی کا اظہار کرے ، اسی کے سامنے نذر و نیاز پیش کرے ، اس کی رضا کی خاطر مالی قربانی پیش کرے اور اپنے قلب و قالب کو اسی کی طرف لگائے کیونکہ معبود بر حق صرف اور صرف وہی ہے اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ۔ استقامت الی اللہ فرمایا جب الٰہ صرف وہی ہے فاستقیموا البیہ تو اسی کی طرف سیدھے ہو اپنے عقیدے اور اعمال میں استقامت اختیار کرو اور دل میں غیر یقینی کیفیت نہ پیدا ہونے دو ، اسی کو اپنا خالق ، مالک اور معبود سمجھو اور اسی کے سامنے سر نیازخم کرو۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کو استقامت اس وقت نصیب ہوتی ہے ۔ جب اس میں یہ چاروں صفات یعنی حمارت ، اخبات ، سماحت اور عدالت پائی جائیں ۔ امام رازی (رح) اس کو آسان طریقے سے اس طرح بتاتے ہیں کہ استقامت دو چیزوں کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے اور وہ ہیں لتعظیم لامر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعظیم و تعمیل کی جائے ولشفقت علی خلق اللہ اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ شفقت و مہربانی کا سلوک کیا جائے۔ ان دو صفات کا حامل شخص مستقیم بحال سمجھا جائیگا ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے احکام کی تعظیم وہی شخص کرے گا جس کا دل پاک ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہوگا ۔ اور صرف اس کی عبادت کرتا ہوگا ۔ فرمایا ایک تو اللہ کی طرف سیدھے ہوجائے ، اسی کی طرف رجوع رکھو اور دوسرے واستغفروہ اپنے گناہوں ، خطائوں اور غلطیوں کی اس سے بخشش طلب کرتے ہو ۔ ہر انسان خطا کار ہے مگر بہتر خطا کار وہ ہے جو توبہ کرلیتا ہے ، لہٰذا اللہ نے یہ اصول بھی بتلا دیا کہ ہر وقت اپنے پروردگار سے استغفار کرتے رہو ۔ خود حضور ﷺ ایک ایک مجلس میں سو سو دفعہ استغفار کرتے تھے حالانکہ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کرنے کا اعلان فرما دیا تھا۔ مشرکین کے لیے ہلاکت فرمایا ان تمام واضح حقائق کے باوجود اگر مشرک لوگ ایمان نہیں لاتے وویل للمشرکین تو ان کے لیے ہلاکت ، تباہی اور بربادی ہے ۔ وہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے ۔ فرمایا یہ وہ مشرک ہیں الذین لا یوتون الزکوٰۃ جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ۔ وھم بالاخرۃ ھم کفرون اور وہ جو آخرت کا انکار کرتے ہیں یعنی وقوع قیامت اور جزائے عمل کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ظاہر ہے کہ جو محاسبہ اعمال پر ہی یقین نہیں رکھتا جو بعث بعد الموت کو ہی نہیں مارتا وہ آخرت کے لیے تیاری کیا کرے گا۔ وہ تو ساری عمر غفلت میں ظاہر کردیا ہے اسی لیے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لیے ہلاکت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت تو مدنی زندگی میں جا کر ہوئی تھی مگر اس مکی سورة میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا کیا مطلب ؟ مفسرین اس کے متعلق دو باتیں بیان کرتے ہیں ۔ پہلی بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت نہیں بلکہ اس کا نصاب مدنی زندگی کے دوسرے سال میں ہوا تھا جس کے بعد زکوٰۃ کی باقاعدہ ادائیگی شروع ہوگئی اور لوگ سونا چاندی ، مال مویشوں یا غلہ وغیرہ سے زکوٰۃ کا مقررہ حصہ نکالنے لگے ۔ تا ہم جہاں تک زکوٰۃ کی فرضیت کا تعلق ہے تو یہ مکی دور میں ہی لازم ہوچکی تھی ۔ جس کی بناء پر ہر مسلمان کو اپنے مال کا کچھ نہ کچھ حصہ غربا و مساکین کے لیے علیحدہ کرنا پڑتا تھا ، چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم نبوت کے پہلے ہی سال میں نازل ہونے والی سورة المزمل میں میں موجود ہے واقیمو الصلوٰۃ واتوا الزکوۃ ( آیت : 20) یعنی نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ مفسرین کو یہ دوسری بات یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ خطاب چونکہ مشرکین سے ہے کہ وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تو اس سے مراد مال کی زکوٰۃ نہیں بلکہ دل کی زکوٰۃ مراد ہے۔ زکوٰۃ کا لغوی معنی پاکیزگی ہے اور مشرکین سے زکوٰۃ کے مطالبے سے مراد ان کی طہارت قلب ہے کہ وہ اپنے دلوں کو کفر ، شرک اور معاصی سے پاک کر کے اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان لے آئیں ۔ ظاہر ہے کہ ایمان کے بغیر انسان پاک نہیں ہو سکتا اور مشرکوں کے متعلق تو اللہ کا واضح ارشاد موجود ہے۔ انما المشرکون نجس ( التوبہ : 28) بلا شبہ مشرک لوگ نا پاک ہیں لہٰذا انہیں مسجد حرام کے قریب آنے سے منع کردیا گیا ۔ بہر حال ہلاکت و بربادی کی وعید ان لوگوں کو سنائی گئی ہے جو اپنے دلوں کو نور ایمان سے منور نہیں کرتے اور آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ ایمان والوں کے لیے لا متناعی اجر مشرکین کو سخت وعید سنانے کے بعد فرمایا ان الذین امنوا وعملوالصلحت وہ لوگ جو اللہ کی وحدانیت اس کے رسولوں ، ملائکہ ، اس کتاب کتابوں اور وقوع قیامت پر ایمان لے آئے۔ اور پھر نیک اعمال بھی انجام دیے۔ انہوں نے نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃجی سے اچھے کام کیے۔ صدقہ و خیرات کیا ، جہاد کیا ۔ اللہ کے راستے میں قربانی کی اور لوگوں کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کیا ۔ فرمایا لھم اجر غیر ممنون اللہ نے ہاں ان کے لیے لا متناعی اجر ہے۔ ممنون کے دو معانی آتے ہیں۔ ایک معنی تو قطع کرنا آتا ہے یعنی ایسا اجر جو کبھی منقطع نہیں ہوگا بلکہ اہل ایمان کو آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملتا رہے گا۔ اس دنیا میں کسی درخت سے ایک دفعہ پھل اتارلیا جائے تو پھر وہ اگلے موسم میں ہی دوبارہ آتا ہے مگر جنت کے درخت ایسے ہوں گے کہ جونہی کوئی پھل اتارا اس کو جگہ فوراً دوسرا پھل لے لے گا اور اس طرح یہ غیر متناعی ہی انعام کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ غیر ممنون کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ کے انعام پر احسان نہیں جتلایا جائیگا ۔ من کا معنی احسان بھی ہوتا ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا لا تبطلو صدقتکم بالمن والاذی ( آیت : 264) اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر باطل نہ کرلو ، تو مفسرین نے یہ دونوں معافی بیان کیے ہیں ۔
Ayahs 41:9–12

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ( اے پیغمبر ! ) کیا تم لوگ کفر کرتے ہو اس ذات کے ساتھ جس نے پیدا کیا ہے زمین کو دو دن ہیں اور ٹھہراتے ہو تم اس کے لیے شریک ، یہ ہے پروردگار سب جہانوں کا

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور رکھے ہیں اس نے اس ( زمین میں بوجھل پہاڑ اس کے اوپر اور برکت رکھی ہے اس میں ، اور مقدر کی ہیں اس میں اسکی خوراکیں چار دن میں ، یہ برابر ہے پوچھنے والوں کے لیے

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر ارادہ کیا اس نے اسمان کی طرف اور وہ دھواں تھا پس کہا اس سے اور زمین سے ، آئو تم خوشی سے یا نا خوشی سے ، کہا ان دونوں نے کہ آئے ہیں ہم خوشی سے

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر بنایا ان کو سات آسمان دو دن ہیں ، اور وحی کی ہر آسمان میں اس کا معاملہ ، اور رونق بخشی ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ اور محفوظ کردیا اس کو ، یہ ہے ٹھہرایا ہوا اندازہ زبردست خدا کا جو سب چیزوں کی خبر رکھتا ہے

ربط آیات پہلے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت اور اس کا وحی الٰہی ہونا بیان کیا اور ساتھ یہ بھی کہ یہ مفصل کتاب ہے ۔ جو عربی زبان میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ نے اس کی غر ض وغایت بیان کی اور ساتھ مشرکوں کا رد فرمایا ۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان مبارک سے کہلوایا کہ میں تو تم جیسا انسان ہوں اور میری طرف وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود بر حق ایک ہی معبود ہے۔ اس کے بعد اللہ نے استقامت علی الدین کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ترغیب دی ۔ مشرکین کا شکوہ بیان ہوا کہ وہ پاکیزگی اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے بر خلاف ایمان اور نیکی والوں کے لیے اللہ کے ہاں بےانتہا اجر ہے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے پانی بعض نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ہے جو کہ اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے۔ تخلیق ارض بطور دلیل توحید ارشاد ہوتا ہے قل آپ ان لوگوں سے کہہ دیں ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین کیا تم اس ذات کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا ؟ زمین کی پیدائش کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اتنے بڑے کرے کو بنانا جس میں ساتھ حصے پانی اور صرف ایک حصہ خشکی ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ دیگر سیاروں کی طرح یہ بھی ایک سیارہ ہے جو اتنے حجم کے باوجود فضا میں معلق ہے اور جدید سائنس کے مطابق یہ زمین اپنے محور کے گرد چوبیس گھنٹے میں چکر پورا کرتی ہے اور سال بھر میں سورج کے گرد چکر کاٹتی ہے۔ اتنے بڑے نظام کو قائم کرنا اللہ وحدہٗ لا شریک کا ہی کام ہے ۔ مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے۔ و تجعلون لہ ان دادا ًکہ تم کے لیے شریک ٹھہراتے ہو ۔ ہر چیز کا خالق تو اللہ ہے ، باقی ہر چیز اس کی عاجز مخلوق ہے مگر تم دوسروں کو اس کا ساتھی اور شریک بناتے ہو حالانکہ ذلک رب العلمین تمام جہانوں کا پروردگار تو ہے ۔ یہ اللہ ت تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا ہے۔ فرمایا زمین کو تخلیق کیا وجعل فیھا رواسی من فوقھا اور اسی سے اس کے اوپر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ زمین کا توازن برقرار رہے اور اس میں اضطراب نہ پیدا ہو ۔ پھر اللہ نے زمین کی خصوصیت بیان فرمائی وبارک فیھا کہ اللہ نے اس میں برکت رکھ دی ۔ برکت مقدس زیادتی کو کہا جاتا ہے ۔ گویا اللہ نے زمین کو ایسی خاصیت عطا فرمائی ہے کہ اس پر رہنے والے ہر جاندار کی ضروریات زندگی کو اسی کے ساتھ وابستہ کردیا ۔ انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ، کیڑے ، مکوڑے اور تمام آبی جانور اپنی غذائی اور دیگر ضرویات اسی زمین سے حاصل کرتے ہیں ۔ پھر خاص طور پر فرمایا وقدر فیھا اقواتھا اللہ نے جانداروں کے لیے خوراک کا سامان زمین میں رکھ دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ایسی صلاحیت رکھ دی ہے کہ وہ انسانوں کے علم از فہم گندم ، چاول ، مکئی وغیرہ پیدا کر رہی ہے اور اپنی چیزوں کا بھوسہ جانروں اور مویشوں کی خوراک بنتا ہے۔ پھر اللہ نے زمین کے مختلف حصوں میں مختلف آب و ہوا اور درجہ حرارت رکھا ہے اور اسی کے مطابق وہاں اناج ، پھل اور چاول پیدا ہوتا ہے ۔ بعض چیزیں مختلف علاقوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں اور بعض چیزیں خاص خاص خطوں کی خصوصیت ہوتی ہیں ۔ بعض علاقوں میں غلہ کی فراوانی ہوتی ہے اور بعض میں پھلوں کی جس خطے میں جس چیز کی کمی یا نایابی ہوتی ہے وہ دوسرے خطے سے حاصل کرلی جاتی ہے اور اسی طرح دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگوں کو ہر خطے کی پیداوار پہنچتی رہتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق اپنی حکمت اور اس پر بسنے والے انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے مطابق کی ہے۔ زمین کی سطح نہ تو اتنی نرم ہے کہ اس میں رکھی جانے والی اشیاء دھنس جائیں اور نہ لوہے اور پتھر کی طرح اتنی سخت ہے کہ اس میں کاشتکاری ہی نہ ہو سکے ۔ اسی زمین کو نرم کر کے اس میں کاشتکاری ہوتی ہے اور خوراک کا بندوبست کیا جاتا ہے اور پھر یہ ہے کہ مردوں کو سمیٹنے والی بھی یہی زمین ہے۔ فوت ہونے والے انسان کو اسی کے سپرد کردیا جاتا ہے اگر زمین میں یہ صلاحیت نہ ہوتی تو مردوں کے تعفن سے جانداروں کا رہنا بھی مشکل ہوجاتا ۔ اس کے علاوہ کتنی ہی چیزیں ہیں جو انسان کے فائدے کے لیے اس کے اندر سے مع دنیات کے طور پر نکالی جاتی ہیں تمام دھاتیں جو ضروریات زندگی کا اہم حصہ ہیں ۔ اسی زمین سے نکلتی ہیں ۔ لوہا ، تانبہ ، کوئلہ حتیٰ کہ سونا اور چاندی بھی زمین کی پیداوار ہے جو کہ انسانی زندگی کے اہم عناصر ہیں ۔ اللہ نے زمین کی تہہ میں پانی کے بڑے بڑے ذخائر جمع کردیئے ہیں جن سے کنوئیں اور ٹیوب ویل کے ذریعے چوبیس گھنٹے پانی نکلتا رہتا ہے مگر یہ ذخائر ختم نہیں ہوتے۔ پانی ایک ایسی نعمت ہے کہ ہوا کے بعد ہر جاندار کی زندگی کا انحصار اسی پر ہے ۔ آج کے مشینی دور میں پٹرول کی حیثیت مسلم ہے۔ اگر یہ نہ ہے تو تمام متمدن ملکوں کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ جائے ۔ بہت سی مشینیں اور موثر گاڑیاں بند ہوجائیں اور دیہات کے بہت سے حصے روشنی سے محروم ہوجائیں ۔ یہ پٹرول ، تیل اور گیس وغیرہ سب زمین کی پیداوار ہیں ۔ غرضیکہ تمام ضروریات زندگی زمین کی مرہون منت ہیں ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کی تخلیق دو دن میں کی ۔ پھر اس میں بڑے بڑے بوجھل پہاڑ لکھے ، اس میں برکت رکھی اور تمہاری غذائوں کا سامان اسی میں پیدا کیا ، اور یہ سب کچھ فی اربعۃ ایام چار دنوں میں پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ سواء للسائلین یہ برابر ہوگیا پوچھنے والوں کے لیے یعنی ان کے سوال کا جواب مکمل ہوگیا ۔ جب کسی سوال کرنے والے نے سوال کیا تو اللہ نے بتلا دیا کہ اس نے دو دن میں زمین کا پیدا کیا اور دو دن میں زمین کی باقی اشیاء کی تخلیق کیا اور اسی طرح زمین اور فیہا کا سلسلہ چا ر دن میں مکمل ہوگیا ۔ سائلین سے مراد محتاج لوگ بھی ہو سکتے ہیں ، اگر یہ معنی لیا جائے تو مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے لیے زمین میں یہ سب کچھ رکھ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مخلوق تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ انسان ہوں یا جانور ، چرند ہوں یا پرند ، کیڑے مکوڑے ہوں یا آبی مخلوق سب اسی کے در کے محتاج ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان اپنی حاجات زبان قال سے یعنی بول کر طلب کرتا ہے جب کہ دیگر مخلوق زبان حال سے مانگ رہی ہے۔ ہر جاندار حتیٰ کہ درخت بھی اپنی بےزبانی اور عاجزی کے ساتھ اپنی ضروریات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ درخت کا ایک ایک پتہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ مجھے پانی روشنی ، گرمی اور آکسیجن کی ضروریات ہے اور اللہ تعالیٰ برابر اسے یہ چیزیں بہم پہنچا رہا ہے ۔ غرضیکہ سائلین سے محتاج مخلوق بھی مراد ہو سکتی ہے۔ آسمانوں کی تخلیق زمین کی چار دن میں تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے آسمانوں کی پیدائش کا ذکر فرمایا ہے ثم استوی الی السماء پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ارادہ کیا وھی دخان اور یہ ایک دھواں سا تھا۔ دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور آسمان کا مادہ ایک ہی تھا۔ اسی کے ایک حصے سے آسمان اور اس کے ستارے اور سیارے بنائے۔ والارض بعد ذلک رحھا ( التزعت : 30) اس کے بعد زمین کو بچا دیا ۔ زمین بھی ایک گول کرہ ہے مگر بہت بڑا ہونے کی وجہ سے اس کی سطح بچھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ نے آسمان کا ارادہ کیا ۔ فقضھن سبع سموت فی یومین پھر ان کو سات آسمان بنادیا دو دن ہیں ۔ چار دن میں زمین اور اس کی اشیاء تیار کی تھیں اور پھر دو دن میں ساتوں آسمان مکمل کیے ۔ گویا چھ دن میں اللہ نے زمین و آسمان کا سارا سلسلہ قائم کردیا۔ اس بات کا ذکر قرآن کے مختلف مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورة الاعراض میں ہے اِنَّ رَبَّکُمُ اللہ ُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ (آیت : 54) اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں تخلیق کیا ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس مقام پر اللہ نے جس دن کا ذکر کیا ہے۔ اس کی مقدار کیا ہے ، ہماری زمین تو نظام شمسی کا ایک حصہ ہے اور اس کا ایک دن چوبیس گھنٹوں کا شمار ہوتا ہے مگر جب ابھی یہ نظام ہی قائم نہیں ہوا تھا ، اس وقت دن کی مقدار کیا تھی ۔ اس ضمن میں سورة السجدہ میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی آسمان سے لے کر زمین تک کے ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر وہ ایک دن اس کی طرف صعود کرے گا ۔ کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ( آیت : 5) جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ اگر اس سے یہ دن مراد ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ ہزار سال کے وقفہ میں پیدا کیا ۔ اور قیامت والے دن کے تذکرہ میں ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتلائی گئی ہے ۔ جیسے فرمایا تعرج الملئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ ( المعارج : 4) جس کی طرف جبرائیل (علیہ السلام) اور فرشتے چڑھتے ہیں ایک دن جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ بہر حال زمین و آسمان کی چھ دنوں میں تخلیق سے اس دنیا کے دن مراد نہیں بلکہ ایک خاص وقفہ مراد ہے۔ یہاں پر ایک یہ اشکال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ چاہتا تو زمین و آسمان کے نظام کو ایک لمحے میں بھی پیدا کرسکتا تھا مگر اس نے چھ دن کا وقفہ کیوں ٹھہرایا ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس میں بھی اللہ نے انسانوں کے لیے ایک مصلحت اور ایک تعلیم رکھی ہے کہ کوئی کام جلد بازی نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہر کام آہستہ آہستہ بتدریج اور اطمینان کے ساتھ انجام دینا چاہئے کیونکہ ” تعجل کا ر شیاطین بورد “ یعنی جلد بازی شیطان کا کام ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ آہستگی ، سکون اور اطمینان کی طرف سے ہے جبکہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ زمین و آسمان کی اطاعت گزری زمین و آسمان کی تخلیق کار ذکر کر کے درمیان میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی اطاعت گزاری کا ذکر بھی فرمایا ہے ۔ فقال لھا وللارض۔ اللہ نے آسمان اور زمین دونوں سے فرمایا ائتیا طوعا او کرھا تم دونوں آئو اور تعمیل حکم کرو ۔ خوشی سے یا ناخوشی سے اس کے جواب میں زمین اور آسمان نے کہا قالتا اتینا طائعین ہم دونوں خوشی سے اطاعت کے لیے حاضر ہوتے ہیں ۔ سوال و جواب یا تعمیل حکم صرف انسانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی کوئی حکم دے سکتا ہے اور وہ چیز جواب دہی کی مکلف ہے اللہ نے پہاڑوں کے متعلق فرمایا لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہ ِ (الحشر : 21) اگر ہم یہ قرآن پہاڑوں پر نازل کرتے تو وہ خشیت ِ الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ۔ گویا خدا تعالیٰ نے پہاڑوں میں بھی اتنی صلاحیت اور اتناشعور رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو سنتے ہیں۔ سمجھتے ہیں اور تعمیل حکم کرتے ہیں ، تو فرمایا کہ ہم نے زمین اور آسمان کو اطاعت گزاری کے لیے کیا تو انہوں نے بسر و چشم اسے قبول کیا ۔ اس قسم کی مثال حضور ﷺ کے فرمان میں بھی ملتی ہے۔ آپ نے فرمایا : احد جبل یحبنا ونحبہ احد ایک پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ جامد چیزوں میں اللہ تعالیٰ کا عطاکردہ شعور اور تعمیل حکم کی صلاحت موجود ہوتی ہے۔ فرمایا ہم نے سات آسمان دو دنوں میں تخلیق کیے ۔ سورة الملک میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے الذی خلق سبع سموت طبا قا ( آیت : 3) جس نے سات آسمانوں کو تہہ بہ تہہ بنا دیا واوحی فی کل سماء امر ھا اور ہر آسمان میں اس کے کام کے مطابق حکم بھیجا ۔ یقینی بات ہے کہ جس طرح زمین پر خدا تعالیٰ کی مخلوق آباد ہے ، اسی طرح آسمانوں پر ہوگی ، لہٰذا اللہ نے اس مخلوق کے مناسب حال ہی اپنا حکم دیا ، پھر آسمان دنیا کے متعلق فرمایا وزیتنا السماء الدنیا بھا ببح ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ مزین کردیا ۔ چھوٹے چھوٹے ستارے اور بڑے بڑے سیارے رات کو چراغوں کی طرح روشن نظر آتے ہیں ۔ سب سے بڑا چراغ سورج ہے جب وہ طلوع ہوتا ہے تو باقی سارے چراغ ماند پڑجاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔ البتہ اندھیری راتوں میں ان کی سرخ پہلی زرد اور نیلی روشنی خوب رونق بخشی ہے۔ اس کے علاوہ فرمایا کہ ان ستاروں اور سیاروں کو ہم نے وجفظا حفاظت کا ذریعہ بنایا ۔ نزول قرآن سے پہلے شیاطین کا اوپر آسمانوں پر جانا عام تھا ۔ وہ فرشتوں سے کچھ باتیں سن لیتے اور پھر آ کر اپنے کاہنوں کو بتاتے جو اس میں سو جھوٹ ملا کر اپنے سائلین کو بتاتے ۔ نزول قرآن کے بعد اللہ نے شیاطین کو اوپر جانے سے روک دیا ۔ اس کا ذکر سورة جن میں موجود ہے۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے آسمانوں کو چھوا تو ان کے پر یداروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھرا ہوا پایا چناچہ اب جو جن یا شیاطین اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں ، انہیں آگے سے شہاب پڑتے ہیں اور اس طرح اللہ نے حفاظت کا انتظا م بھی کردیا ۔ فرمایا ذلک تقدیر العزیز العلیم یہ اندازہ ٹھہرایا ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا جو کمال قدرت کا مالک ، غالب اور ذرے ذرے کا علم رکھنے والا ہے وہ ہر ایک کے اعمال ، احوال اور ضروریات سے واقف ہے۔ الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخیر ( ملک : 14) کیا وہ نہیں جائے گا جس نے پیدا کیا ہے حالانکہو ہ باریک بین اور ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔ مطلب یہی ہے کہ وہ ہرچیز کو جانتا ہے اور پھر اپنے علم اور حکمت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ۔ اللہ نے توحید کے عقلی دلائل بیان کیے ہیں تا کہ لوگ ان میں غور و فکرکریں اور شرک سے باز آجائیں۔
Ayahs 41:13–18

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں نے تمہیں ڈر سنا دیا ہے سخت ، عذاب کا جیسا قوم عاد اور ثمود پر

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب آئے ان کے پا س اللہ کے رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے ( تو انہوں نے کہا کہ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، تو وہ لوگ کہنے لگے کہ اگر چاہتا ہمارا پروردگار تو نازل کرتا فرشتوں کو ، بیشک ہم تو اس چیز سے جو تم لے کر آئے ہو ، انکا کرنے والے ہیں

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

بہرحال قوم عاد نے تکبر کیا زمین میں ناحق اور کہا انہوں نے کہ کون ہے ہم سے زیادہ طاقت والا ، کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ جس نے ان کو پیدا کیا ہے وہ زیادہ طاقت والا ۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ جس نے ان کو پیدا کیا ہے وہ زیادہ طاقت والا ہے۔ پس وہ لوگ ہماری نشانیوں کا انکار کرتے تھے

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

پس بھیجی ہم نے ان پر بڑے زور کی تند ہوا کئی دن جو مصیبت کے تھے ، تا کہ ہم چکھائیں ان کو رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت رسوا کن ہوگا ، اور ان کی مدد نہیں کی جائیگی

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور بہر حال قوم ثمود ، پس ہم نے ان کو ہدایت کا راستہ دکھایا ، پس انہوں نے پسند کیا اندھے پن ( گمراہی) کو ہدایت کے مقابلے میں۔ پس پکڑا ان کو سخت ذلت ناک کڑک کے عذاب نے اس وجہ سے جو کچھ وہ کماتے تھے

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور بچا لیا ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور وہ بچتے تھے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور اپنی نعمتوں اور قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ اس کا توازن برقرار رہے۔ زمین میں انسانوں اور جانوروں کی مصلحت کے لیے روزی کے اسباب پیدا کیے اور اس کو با برکت بنادیا ۔ پھر اللہ نے سات آسمانوں کو جداجدا کردیا ۔ ہر آسمان کو اس کی مخلوق کے مناسب حال حکم جاری فرمایا ۔ آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا اور اسے شیاطین اور جنات کی رسائی سے محفوظ کردیا ۔ یہ سب انعامات الٰہیہ ہیں اور توحید کے عقلی دلائل بھی ہیں ۔ اگر انسان ان میں غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ اور وہ کفر و شرک سے بچ سکتا ہے۔ سخت عذاب کی وعید ارشاد ہوتا ہے ہ ان تمام تر دلائل قدرت کے باوجود فان اعرضوا اگر یہ کافر اور مشرک لوگ اعراض کریں ۔ توحید کا انکار کریں اور نصیحت کی بات کو قبو ل نہ کریں فقل تو اے پیغمبر ! اپ ان سے واضح طور پر کہہ دیں انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود کہ میں تمہیں ڈراتا ہوں یعنی خبردار کرتا ہوں اس سخت عذاب سے جیسا کہ وہ قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ ان قوموں نے بھی خدا کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تھا اور نصیحت کی باتوں سے اعراض کیا تھا تو ان پر بڑی سخت قسم کی افتاد پڑی جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اگر تم بھی انہی کے نقش قدم پر چلو گے تو تمہارا عشر بھی ان اقوام سے مختلف نہیں ہوگا ۔ امام زمحشری (رح) نے اپنی تفسیر کثاف میں مورخ ابن اسحاق اور بعض محدثین کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک موقع پر ابو جہل اور دیگر سرداران قریش جمع تھے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ محمد نے ہم میں تفریق ڈال دی ہے ۔ ہمارے دین کی عیب جوئی کرتا ہے ۔ اس کو مغلوب کرنے کے لیے کوئی ایسا شخص اس کے پاس جائے جو جادو ، کہانت اور شعرو شاعری میں اس سے آگے ہو ۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے عتبہ بن ربیعہ کو موزوں ترین آدمی قرار دیا اور پھر آنحضرت ﷺ کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں بھیجا ، چنانہ عتبہ نے حضور ﷺ سے پہلا سوال یہ کیا کہ تو اچھا ہے یا تیرا باپ عبد اللہ ، پھر کہا کہ تم بہتر ہو یا تمارے جد امجد عبد المطلب اور ہاشم آپ خاموش رہے وہ شخص کہنے لگا کہ اگر تو اپنے آبائو اجداد کو اچھا سمجھتا ہے تو پھر وہ تو انہی معبودوں کی پوجا کرتے تھے جن کی ہم کر رہے ہیں اور اگر تو اپنے آپ کو بہتر سمجھتا ہے تو بات کر کہ ہم تیری بات بھی سنیں ۔ پھر کہنے لگے خدا کی قسم اپنی قوم کے لیے تجھ سے زیادہ ضرر رساں کوئی نہیں ہوا جس نے ہماری شیرازہ بندی کو توڑ کر ہمارے اتفاق کو نفاق میں بدل دیا ہے سن ! اگر تجھے مال کی طلب ہے تو ہم تمہیں عرب کا امیر ترین آدمی بنا سکتے ہیں ۔ اگر تجھے اچھے نکاح کی خواہش ہے تو ہم میں سے جس کی بیٹی چاہے اسی کے ساتھ نکاح کرا دیتے ہیں ۔ جب یہ کہہ کر عتبہ قدرے خاموش ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا بس جو کچھ کہنا تھا کرلیا ؟ کہنے لگا ، ہاں آپ نے فرمایا ۔ اب میری بات سنو ! چناچہ آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورة حم السجدۃ کی تلاوت شروع کردی اور اس کی تیرہویں آیت مثل صعقۃ عاد وثمود تک ، پڑھ دیا ۔ بقیہ سے نہ رہا گیا اور اس نے اپنا ہاتھ حضور ﷺ کے منہ پر رکھ دیا اور کہنے لگا ، خدا کے لیے خاموش ہو جائو ، پھر وہ شخص اکابرین قریش کے پاس واپس جانے کی بجائے اپنے گھر میں آ کر بیٹھ گیا اور کسی سے بات تک نہ کی ۔ اس پر سرداران قریش کو تشویش ہوئی کہ شاید عتبہ بھی محمد ﷺ کے دام میں آ کر بےدین ہوگیا ہے پھر جب انہوں نے خود عتبہ سے گفتگو کرے کے تفصیلات معلوم کرنا چاہیں تو وہ غصے میں آ کر کہنے لگا کہ میں نے کاہنوں اور شاعروں کا کلام سنا ہے ۔ ساحروں کی باتوں سے بھی واقف ہوں مگر محمد ﷺ کی بات کچھ اور ہی ہے ، تم جانتے ہو کہ محمد نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔ اب مجھے خطرہ لا حق ہوگیا ہے وہ جس قوم عاد اور ثمود کے عذاب سے ڈراتا ہے وہ عذاب کہیں تم پر بھی نہ آجائے ۔ امام زمحشری (رح) فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے پس منظر میں اللہ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کی دعوت سے اعراض کریں تو آپ اعلان کردیں کہ میں تمہیں اس سخت عذاب سے خبر دار کرتا ہوں جو قوم عاد اور قوم ثمود پر آیا تھا۔ رسولوں کی پے در پے آمد آگے اللہ نے مذکورہ اقوام میں رسولوں کی آمد اور ان کی دعوت کا کچھ حال بیان کیا ہے۔ اذ جاء تھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم جب ان کے پاس اللہ کے رسول آئے ان کے آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ قوم عاد کے پاس تو اللہ کے ایک رسول ہود (علیہ السلام) آئے تھے اور قوم ثمود کی طرف اللہ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مبعوث فرمایا تھا مگر یہاں پر رسولوں کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے کہ ہر قوم کے پاس بہت سے رسول آئے مگر ہمارے پاس ان کی تفصیل نہیں ہے ۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ہی رسول کے لیے جمع کا صیغہ لایا گیا ہو کیونکہ اللہ نے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں ۔ سب کا مشن تو ایک ہی تھا ۔ اس کی مثال حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ملتی ہے۔ آپ اپنی قوم کی طرف واحد رسول تھے مگر قوم کی طرف سے جہاں آپ کی تکذیب کا ذکر ہے وہاں اللہ نے فرمایا نوم لما کذبوا الرسل اغرقنھم ( الفرقان : 37) جب قوم نوح نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو غرق کردیا جس طرح سب رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح کسی ایک کی تکذیب سب کی تکذیب کے مترادف ہے۔ تو قوم عاد اور ثمود نے اپنے ایک ایک رسول کی تکذیب کر کے گویا تمام رسولوں کی تکذیب کی ، اسی لیے فرمایا کہ جب ان کے آگے اور پیچھے سے بہت سے رسول آئے۔ رسولوں کے قوم کے آگے اور پیچھے سے آنے کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو ماضی کے حالات بھی بتائے اور آئندہ پیش آنے والے حالات سے بھی آگاہ کیا ۔ یا اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ کے رسولوں نے ہر جہت ، ہر طریقے اور ہر اسلوب سے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ اس کی مثال ابلیس کے مکالمہ میں بھی ملتی ہے۔ جب اس نے آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اللہ نے اسے راندہ ٔ درگاہ ٹھہرایا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ میں تیرے راستے میں بیٹھوں گا ۔ بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَیْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِہِم (الاعراف : 17) اور پھر آگے ، پیچھے دائیں اور بائیں سے آ کر تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا یہاں بھی دائیں بائیں آگے ، پیچھے سے مراد دنیا ، عقبیٰ ، خواہشات اور دین ہیں کہ ان راستوں سے آ کر تیرے بندوں کو تجھ سے دور کرنے کی کوشش کروں گا ۔ الغرض ! یہاں بھی آگے اور پیچھے سے یہی مراد ہے کہ اللہ کے رسولوں نے لوگوں کو ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی ۔ ان کی دعوت یہ تھی الا تعبدوا الا اللہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کیونکہ تمہارا خالق ، مالک ، مدبر ، متصرف ، حاجت روا اور مشکل کشا صرف وہی ہے ، لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ۔ دعوت تعتیہ کا انکار اس دعوت کا ردعمل یہ تھا قالو لو شاء ربنا لا نزل ملئکۃ کہنے لگے اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو نصیحت کرنے کے لیے کسی فرشتے کو بھیج دیتا اور اس طرح ہم اس کی دعوت کو قبول بھی کرلیتے۔ فانا بما اسلتم بہ کفرون مگر جو چیز تم لے کر آئے ہو اس کو ہم ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس کا صریح انکار کرتے ہیں ۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم کسی فرشتے کو تو اللہ کا فر ستارہ تسلیم کرسکتے ہیں مگر اس کو اللہ کا نبی کیسے مان لیں جو ہماری طرح کا انسان اور ہمارے خاندان اور برادری کا آدمی ہے ۔ اس طرح گویا کفار نے نہ صرف اپنے نبیوں کا انکار کیا بلکہ ان کی لائی ہوئی کتابوں ، دین اور شریعت کا بھی انکار کردیا ۔ اور اس طرح وہ توحید اور رسالت دونوں چیزوں کے منکر ٹھہرے۔ قوم عاد کا غرور آگے اللہ نے قوم عاد کی خباثت اور اسی کا ذکر کیا ہے۔ فرمایا فاما عاد فاستکبروا فی الارض بغیر الحق ہر حال قوم عاد ، پس انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا ۔ وقالوا من اشد منا قوۃ اور کہنے لگے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ انہیں اپنی جسمانی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا ۔ بڑے کڑیل جوان تھے ، بڑے صناع اور کاریگر تھے ۔ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے تھے اور پہاڑوں کو تراش تراش کر خوبصورت مکان بناتے تھے۔ کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے جس کو سزا سے ہمیں ڈراتے ہو ۔ شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں کہ اس قوم کو اپنی جسمانی قوت پر بڑا غرو ر تھا اور یہی چیز ان کی تباہی کا باعث بنی ۔ اللہ نے ان کے اس تکبر کے جواب میں فرمایا اولم یروا ان اللہ الذی خلقھم ھو اشد منھم قوۃ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک وہی اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ طاقتور ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ یہ لوگ اپنی قوت کی طرف تو دیکھتے ہیں مگر اس خدا تعالیٰ کی طاقت کی طرف دھیان نہیں کرتے جو ان کا خالق ہے اور جس نے ان کو بھی قوت عطا کر رکھا ہے جس پر وہ اترا رہے ہیں ۔ فرمایا وکانوا بایتنا یجحدون اور اس طرح وہ ہماری نشانیوں کا انکار کرتے تھے ، انہوں نے دلائل توحید ، رسالت اور انبیاء کی تمام نصائح کی باتوں پر یقین نہ کیا بلکہ صاف انکار کردیا ۔ تند ہوا کا عذاب اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فارسلنا علیھم ریحاصرصرا پس ہم نے ان پر تند ہوا بھیج دی ۔ اللہ نے قوم عاد کا غرور توڑنے کے لیے اپنی ایک کمزوری مخلوق ہو کہ ان پر مسلط کردیا جو متواتر سات رات اور آٹھ دن تک چلتی رہی اور پوری قوم کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ۔ یہ اس قدر تیز ہوا تھی کہ نہ کوئی انسان زندہ بچا نہ جانور ۔ درخت ، مکان اور دیگر تنصیبات بھی تباہ و برباد ہوگئیں ۔ سورة الحاقہ میں اللہ کا فرمان ہے کہ اس قوم کے کڑیل جوانوں کی لاشیں اس طرح پڑی تھیں کانھم اعجاز نخل خاویۃ ( آیت : 7) گویا کہ وہ کھجور کے تنے ہوں ۔ فھل تری لھم من باقیہ ( آیت : 8) پس کیا تم نے دیکھا کہ ان میں کوئی بھی باقی بچا ۔ نہیں بلکہ سارے کے سارے ہلاک ہوئے ۔ فرمایا یہ تند ہوا چلی فی ایام نحسات نحوست کے دنوں میں دن بذات خود کوئی بھی نحوست والا نہیں ہوتا ، سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں ، مگر یہاں نحوست سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے لیے یہ دن منحوس ثابت ہوئے جن پر اچانک عذاب آ گیا اور وہ ملیا میٹ ہوگئے۔ ہمارے ہاں بعض دنوں کو جو منحوس خیال کیا جاتا ہے ۔ یہ مشرکانہ بات ہے ۔ فرمایا ہم نے یہ تند ہوا ان پر اس لیے چلائی لنذیقھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا تا کہ ہم ان کی زندگی میں رسوا کن عذاب کا مزہ چکھائیں ، چناچہ اسی ہوا سے وہ تباہ ہوئے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ نے قوم ہود کے مغرب سے چلنے والی گرم لو کے ذریعے تباہ کیا ۔ فرمایا یہ سزا تو ان کو اس دنیا میں ملی ولعذاب الاخرۃ اخری اور آخرت میں ملنے والا عذاب تو مزید رسوا کن ہے ۔ اخری اسم تفصیل کا صیغہ ہے یعنی بہت زیادہ رسوا کرنے والا ۔ وھم لا ینصرون اور پھر ان کی کسی جانب سے کوئی مدد نہیں کی جائیگی ۔ جس سے ان کی مصیبت ٹل سکے۔ قوم ثمود کی ہلاکت پھر اللہ نے دوسری قوم کا حال ذکر کیا واما ثمود اور بہر حال قوم ثمود فھدینھم ہم نے ان کو بھی ہدایت کا راستہ فاستحبوا الحمی علی الھدی مگر انہوں نے ہدایت کی بجائے ، اندھا پن یعنی گمراہی کو پسند کیا ، انہوں نے نجات کے راستے سے آنکھیں بند کرلیں اور ہلاکت کے راستے کو اختیار کرلیا ، وہ ہدایت کے راستے کو چھوڑ کر گمراہی کے راست پر چل پڑے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا فاخذنھم صعقۃ العذاب الھون پس ان کو ذلت ناک عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا ۔ اس قوم پر دو قسم کی سزائیں آئیں ، ایک تو اوپر سے سخت قسم کی کڑک یا چیخ آئی اور نیچے سے اللہ نے زلزلہ بھی بھیج دیا ۔ اللہ نے فرمایا فاصحبوا فی دیاریھم جثمین ( ہود : 94) وہ اپنے گھروں میں گھنٹوں کے بل گر پڑتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب زلزلہ کی صورت میں زمین حرکت کرتی ہے تو آدمی کھڑا نہیں رہ سکتا بلکہ گر پڑتا ہے ۔ قوم ثمود کا بھی یہی حال ہوا اور وہ دونوں قسم کی سزائوں سے ہلاک ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے پوری نافرمان قوم میں سے کسی فرد واحد کو بھی زندہ نہیں چھوڑا ۔ فرمایا یہ اس وجہ سے بما کانوا یکسبون کہ جو کچھ وہ کماتے تھے ۔ انہوں نے جس قسم کے اعمال بد کا ارتکاب کیا اس کی پاداش میں ہلاک ہوگئے۔ اللہ نے فرمایا و نجیت الذین امنوا اور ہم نے نجات دی ان لوگوں کو جو ایمان لائے۔ جو لوگ صالح (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ، وہ بچ گئے ۔ وکانوا یتقون اور وہ کفر ، شرک اور معاصی سے بچتے تھے ۔ اللہ نے ان کو اس دنیا کے عذاب سے بھی بچا لیا اور آخرت میں بھی بچ جائیں گے۔