40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 40:1–6

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

بخشنے والا ہے گناہ کو ، اور توبہ قبول کرنے والا ہے سخت عذاب والا ہے ، طاقت والا ہے ، نہیں کوئی الہ اس کے سوا ، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

نہیں جھگڑا کرتے اللہ کی آیتوں میں مگر وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، پس نہ آپ کو دھوکے میں ڈالے ان لوگوں کا چلنا پھرنا شہروں میں ۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح سے ، اور بہت سے فرقوں نے ان کے بعد ، اور ارادہ کیا ہر ایک امت نے اپنے رسول کے بارے میں کہ اس کو پکڑ لیں ، اور جھگڑا کیا انہوں نے باطل کے ساتھ تاکہ گرا دیں اس کے ساتھ حق کو ، پس میں نے پکڑا ان کو ، پس کس طرح ہوئی میری سزا ۔

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح ثابت ہوا تیرے کا رب کا کلمہ ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا ، بیشک وہ دوزخ والے ہیں ۔

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة المؤمن ہے ، سورة کے آخری حصے میں فرعون کے خاندان کے ایک مومن آدمی کا تذکرہ ہے جس سے اس سورة کا یہ نام تجویز کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ سورة الغافر اور سورة الطول بھی اسی سورة کے نام ذکر کیے جاتے ہیں یہ دونوں نام سورة ہذا کی تیسری آیت میں آمدہ الفاظ سے ماخوذ ہیں یہ سورة مکی زندگی کے درمیانہ عرصہ میں سورة الزمر کے بعد نازل ہوئی اس کی پچاسی آیت اور نو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 1192 الفاظ اور چار ہزار حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) اس سورة مبارکہ سے حوامیم سبعہ یعنی حم والی سات سورتوں کی ابتداء ہو رہی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ سات سورتیں پورے قرآن کریم کا لب لباب اور نچوڑ ہیں اور گذشتہ سورة الزمر حوامیم سبعہ کی تمہید ہے بعض روایات میں حوامیم کو دیباچۃ القرآن کی زینت بھی کہا گیا ہے ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر اسلام کے بنیادی عقائد توحید رسالت ، معاد اور قرآن کی صداقت وحقانیت ہی کا بیان ہے جس سے حاصل ہے اگر یہ درست ہوگیا تو نیک اعمال میں بھی مقبول ہوں گے اور اگر عقیدے میں ہی بگاڑ رہا تو پھر اعمال کسی کام نہیں آئیں گے ، چناچہ مکی سورتوں میں زیادہ تر اسی طرف توجہ دی گئی ہے ، تاہم کچھ ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں ، اس سورة مبارکہ میں مذکورہ مضامین کے علاوہ پیغمبر اسلام کے لیے تسلی کا مضمون بھی ہے اور کافروں کا انذار بھی کیا گیا ہے ۔ (حروف مقطعات حم) سورة کا آغاز حروف مقطعات حم سے ہوتا ہے تمام حروف مقطعات کے بارے میں یہ امر مسلم ہے کہ ان حروف کا حقیقی معنی نہیں بتایا جاسکتا ۔ مفسرین کرام کو امام جلال الدین سیوطی (رح) کی اس بات (1) (جلالین ص 4) سے اتفاق ہے ” اللہ اعلم بمرادہ بذالک “۔ ان حروف سے جو بھی مراد ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ برحق ہے ، تاہم صحابہ کرام کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین میں سے حضرت علی ؓ اور عبداللہ ابن عباس ؓ سے تقریب فہم کے لیے ان حروف سے متعلق بعض باتیں منقول ہیں ، اسی طرح بعض بزرگان دین نے قیاس کی بناء پر اور بعض نے کشف والقا کی بناد پر بعض معانی بیان کیے ہیں مگر حق بات وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے ۔ شیخ ابن عربی فتوحات مکیہ میں بیان کرتے ہیں کہ ” حم “ دو حروف پر مشتمل مکمل آیت ہے ، ان حروف میں ح کا اشارہ حق کی طرف اور م کا اشارہ محمد (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سمجھیں گے ، اور مطلب یہ ہوگا کہ حضرت محمد ﷺ جو کچھ بھی لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ سراسر حق پر مشتمل ہے اور اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، بعض فرماتے ہیں کہ ح کا اشارہ حکیم اور م کا اشارہ ملک کی طرف ہے ، گویا یہ حروف حکیم اور ملک کا مخفف ہیں اور اس لحاظ سے حم کا مطلب یہ ہوگا کہ حکم بھی پروردگار عالم کا ہے اور بادشاہی بھی اسی کی ہے ، ظاہر ہے کہ پوری کائنات کی بادشاہی اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس میں حکم بھی اسی کا چلتا ہے تکوینی حکم تو اللہ تعالیٰ کا کائنات میں ہر وقت جاری ہے اور شرعی حکم بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر مکمل کردیا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ کائنات کے تمام تقلیات اور تصرفات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے انجام پا رہے ہیں ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اور چوتھی صدی کے عظیم مفسر قرآن امام ابن جریر (رح) اور بعض دیگر حضرات کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات حروف حم کو اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک میں شمار کرتے ہیں ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ” الر ، حم ۔ اور ن اللہ تعالیٰ کے اسم رحمن کی طرف اشارہ کرتے ہیں بعض کہتے ہیں حم اللہ تعالیٰ کا بہت ہی بابرکت نام ہے حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ جنگ کے موقع پر اپنے مجاہدین کے لیے کوئی شعار یعنی شناختی نشان مقرر کردیتے تھے ، ایسے ہی ایک موقع پر جنگی نشان حم لا ینصرون “ مقرر کیا گیا تھا ، بعض شعراء کے کلام سے بھی حم کے اسم الہی ہونے کا اشارہ ملتا ہے ، مثلا ۔ یذ کرنی حم والرمح شاجر فھلا تلی حم قبل التقدیم : جب جنگ چھڑ چکی ہے اور نیزے چل رہے ہیں تو اس وقت حم کا واسطہ پیش کرتا ہے بھلا جنگ چھڑنے سے پہلے یہ واسطہ کیوں نہ پیش کیا ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حم کے ذریعے سورة کا خلاصہ ظاہر کیا گیا ہے ” ح “ سے مراد حث یعنی برانگیختہ کرنا اور م سے مراد منہیات سے منع کرنا ہے ، اور یہ دونوں چیزیں ہر سورة کا حصہ ہیں کہ اچھے امور پر برانگیختہ کیا جاتا ہے ترغیب دلائی جاتی ہے اور ناجائز کاموں سے روکا جاتا ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے ذریعے سورة کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے جس طرح تعلیمی سندات بی اے ، ایم اے ، بی ایچ ڈی ، وغیرہ بعض الفاظ کے مخفف ہوتے ہیں یا جیسے جج ، قاضی یا امیر کے الفاظ سے ان کے حاملین کا عہدہ اور ان کے فرائض سمجھ میں آتے ہیں ، اسی طرح ” حم “ کے حروف سورة کا عنوان ہیں ، جن سے سورة کے مضامین پر روشنی پڑتی ہے ۔ شاہ صاحب (رح) کشفی طور (3) پر ان حروف کی حقیقت اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عالم بالا سے نازل ہونے والی نورانی چیز اس مادی جہاں میں آکر یہاں کے اعمال فاسدہ اور کفار کے اقوال و اعتقاد باطلہ کے ساتھ ٹکراتی ہے جس کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان امیتاز پیدا ہوتا ہے ۔ یہ حروف ” حم “ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ظاہر ہے کہ ساری سورة کفار کے ساتھ بحث مباحثہ ، ترغیب وترہیب ، اظہار حق اور تردید عقائد باطلہ پر ہی مشتمل ہے ، لہذا ان مضامین کو حروف حم کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے ۔ ّ (تنزیل القرآن) حوامیم سبعہ کی پہلی سورة میں حروف ” حم “ کے بعد قرآن پاک کی حقانیت وصداقت اور اس کے منزل من اللہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ، اور یہ ساتوں سورتوں کا خاصہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ “۔ یہ کتاب یعنی قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے پیغمبر پر اتارا گیا ہے یہ کسی انسان یا خود پیغمبر کا کلام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے پر نازل فرمایا ہے اور اس کو نازل کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ ہے جو ” العزیز “ کمال قدرت کا مالک ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے اور اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی ، تمام غلبہ اور قوت اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے ، اور وہ ذات ” العلیم “۔ بھی ہے کائنات کے ذرے ذرے سے باخبر ہونا خاصہ خداوندی ہے ، مخلوق میں سے کوئی بھی ایسی ہستی نہیں جو علیم کل ہو ، بلکہ (آیت) ” واللہ بکل شیء علیم “۔ (الحجرات : 16) ہر چیز کو جاننے والا صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے اللہ تعالیٰ نے اس بات کو دوسرے انداز میں اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” الا یعلم من خلق ، وھو اللطیف الخبیر “۔ (الملک : 14) کیا اللہ تعالیٰ ہی کسی چیز کو نہیں جانتا جو کہ خود ہر چیز کا خالق ہے ؟ وہ نہایت ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ذرے ذرے کا علم رکھتا ہے اور یہ صفت کسی اور میں نہیں پائی جاتی ۔ نزول کتاب کے حوالے سے اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات بیان کی گئی ہیں پہلی دو صفات تو بیان ہوگئیں کہ وہ عزیز اور علیم ہے ، آپ آگے تیسری صفت یہ بیان ہو رہی ہے (آیت) ” غافر الذنب “۔ وہ گناہوں کو بخشنے والا ہے وہ اپنی مخلوق پر بڑا مہربان ہے ، جب کوئی بندہ نادم ہو کر اس کے دروازے پر آجاتا ہے تو اس کی رحمت جوش میں آکر اس کی تمام خطائیں معاف کردیتی ہے اللہ کی چوتھی صفت یہ ہے (آیت) ” وقابل التوب “۔ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ کوئی شخص بڑے سے بڑا گناہ کرنے کے بعد بھی اگر سچے دل سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے وہاں اس میں پابندی اس قدر ہے کہ یہ توبہ عذاب کے آنے یا موت کی حالت طاری ہونے سے پہلے پہلے کرلی جائے جب عذاب آجائے یا انسان پر غر غرے کی حالت طاری ہوجاتی ہے تو پھر توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی پانچویں صفت یہ بیان ہوئی ہے (آیت) ” شدید العقاب “ وہ سخت عذاب دینے والا ہے جب کوئی مجرم اپنے جرائم پر اصرار کرتا چلا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتا تو پھر وہ سخت عذاب میں مبتلا کرنے پر قادر ہے ، وہ کسی باغی کو چھوڑتا نہیں ، اللہ تعالیٰ کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ ” ذی الطول “۔ یعنی صاحب قوت و طاقت ہے طول کا معنی افضل بھی آتا ہے اور طاقت بھی جیسا کہ سورة النساء میں ہے (آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا “۔ (آیت : 25) جو تم میں سے آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی طاقت نہیں رکھتا وہ لونڈی کے ساتھ نکاح کرے بہرحال تفضل اور مقدرت دونوں صفات طول میں داخل ہیں ، پھر فرمایا (آیت) ” لا الہ الا ھو “۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں عبادت کے لائق صرف وہی ذات ہے ، یہ اس کی ساتویں صفت ہے اور آٹھویں صفت یہ ہے (آیت) ” الیہ المصیر “۔ کہ سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے ، انسان کی یہ زندگی آخری زندگی نہیں کہ جس کے بعد معاملہ ختم جائے گا بلکہ اسے برزخ اور آخرت کی زندگی بھی گزارنا ہے ، مرنے کے بعد قیامت کو پھر اسے اٹھایا جائے گا اور ہر انسان کو اپنے پروردگار کی عدالت میں پیش ہو کر اپنے عقائد و اعمال کا حساب دینا ہے ، اس لیے فرمایا کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ (آیات انہی میں مجادلہ) پہلے نزول قرآن کا ذکر کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جس کی آٹھ صفات بھی بیان کیں ، آگے اس کتاب الہی کے متعلق شکوک و شبہات رکھنے والوں اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” مایجادلہ فی آیت اللہ لا الذین کفروا “۔ نہیں جھگڑا کرتے اللہ تعالیٰ کی آیتوں مگر وہی جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کر رکھا ہے ، اس جھگڑے سے متعلق جھگڑا مراد نہیں بلکہ ایسا جھگڑا مراد ہے جس کے ذریعے حق کو مغلوب کرنے کی کوشش کی جائے ، ظاہر ہے کہ کافر لوگ ہمیشہ حق کو مٹانے کے درپے رہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے جھگڑے ، بحث ، مباحثے اور مناظرے کے علاوہ ہر قسم کے حربے استعمال کرتے ہیں ، ہاں وہ بحث مباحثہ کرنے کی اجازت ہے جو احسن طریقے سے کیا جائے ، خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت اور بہت ہو عظمت کے ذریعے دعوت دیں (آیت) ” وجادلھم بالتی ھی احسن “۔ (النحل ، 125) اور جب کسی غیر مذہب سے بحث و مباحثہ کی نوبت آئے تو احسن طریقے سے انجام دیں ، فرمایا (آیت) ” فلایغررک تقلبھم فی البلاد “۔ اور ان بےدین اور دشمن خدا لوگوں کا شروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے کفار کی عیش و عشرت اور آرام و آسائش کی زندگی دیکھ کر آپ دھوکہ میں نہ پڑیں یہ سہولتیں ان کے اچھا ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت دی جا رہی ہے ، وہ جب چاہے گا انہیں گرفت میں لے لے گا ۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ نے تاریخی مثال بیان فرمائی ہے کہ جس طرح آپ کے زمانے کے لوگ اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور اس کی کتاب کی تکذیب کر رہے ہیں اسی طرح (آیت) ” کذبت قبلھم قوم نوح “۔ ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی تکذیب کی (آیت) ” والاحزاب من بعدھم “۔ اور بہت سے فرقوں اور گروہوں نے قوم نوح کے بعد بھی تکذیب کی ، نوح (علیہ السلام) کے بعد بڑی طاقتور قومیں دنیا میں پیدا ہوئیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو جھٹلایا اور وقوع قیامت کا انکار کیا (آیت) ” وھمت کل امۃ برسولھم لیاخذوہ “۔ ایسی ہر امت نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اسے پکڑ کر ہلاک کردیں ، قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ہلاک کرنے کا مشورہ کیا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکانے کی سعی کی گئی ، اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو قتل کردیا گیا خود حضور ﷺ کے متعلق بھی کفار نے قتل کا منصوبہ بنایا مگر ناکام رہے (آیت) ” وجادلوا بالباطل لیدحضوا بہ الحق “۔ نیز ان لوگوں نے باطل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے جھگڑا کیا تاکہ اس کے ذریعے حق کو گرا دیں ، کمزور کردیں یا مٹا دیں ، فرمایا یہ تو اپنی سکیم میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ (آیت) ” فاخذتھم “۔ میں نے ان کو گرفت میں لے لیا ، وہ لوگ ذلیل و خوار ہوئے (آیت) ” فکیف کان عقاب “۔ پھر میری سزاکیسی ثابت ہوئی جس نے مکذبین کی جڑ بنیاد ہی اکھاڑ کر رکھ دی ہے اور وہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے ۔ آگے پھر نزول قرآن کے زمانے کے کافروں کے متعلق فرمایا (آیت) ” وکذلک حق کلمۃ ربک “۔ اسی طرح ثابت ہوگئی تیرے رب کی بات (آیت) ” علی الذین کفروا ان لوگوں پر جنہوں نے شیوہ اختیار کیا سابقہ منکرین کی طرح یہ بھی عذاب الہی سے بچ نہ سکے (آیت) ” انھم اصحب النار “۔ بلاشبہ یہ لوگ جہنم کا شکار ہونے والے ہیں ، یہ بھی اپنی قبیح حرکات سے باز آنے والے نہیں ہیں ، لہذا لامحالہ خدا کی گرفت میں آکر جہنم رسید ہوں گے ۔
Ayahs 40:7–9

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو اٹھا رہے ہیں عرش کو اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ تسبیح بیان کرتے ہیں تعریف کے ساتھ اپنے رب کی ، اور ایمان رکھتے ہیں اس پر ، اور بخشش طلب کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے (اور کہتے ہیں) اے ہمارے پروردگار ! وسیع ہے ہر چیز پر تیری رحمت اور علم پس بخش دے ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور بچا ان کو آگ کے عذاب سے ۔

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! اور داخل کر ان کو رہنے کے باغوں میں جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو نیک ہوں ان کے آباؤ اجداد میں سے اور ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے ۔

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور بچا ان کو برائیوں سے اور جس کو تو بچائے برائیوں سے پس بیشک تو نے اس پر مہربانی فرمائی اور یہ ہے وہ بڑی کامیابی ۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت اور اس کا وحی الہی کے ذریعہ منزل من اللہ ہونا بیان ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات کا ذکر ہوا اور انکار کرنے والوں کا شکوہ بیان ہوا ، یہ کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں جو کہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ان سے پہلے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی پاداش میں ہلاک کیا ، باطل کے ذریعے حق کو مغلوب کرنے والوں کو اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام یاد کرلینا چاہئے ، فرمایا تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے کہ کافر لوگ ضرور دوزخ میں جائیں گے ۔ ّ (حاملین عرش فرشتے) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا انجام بیان فرمایا ہے مگر اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت و حکمت اور جلال و بزرگی کا تذکرہ ہے ، مضمون کی ابتداء حاملین عرش فرشتوں کے ذکر سے ہوتی ہے ، ارشاد خداوندی ہے (آیت) ” الذین یحملون العرش “۔ وہ فرشتے جو عرش عظیم کو اٹھائے ہوئے ہیں (آیت) ” ومن حولہ “۔ اور جو عرش کے ارد گرد طواف کر رہے ہیں ۔ عرش کے اردگرد گھومنے والوں کا تذکرہ گذشتہ سورة کے آخر میں بھی ہوچکا ہے ۔ (آیت) ” وتری الملئکۃ حافین من حول العرش “۔ (الزمر۔ 75) اور تو دیکھے گا فرشتوں کو جو عرش کے اردگرد چکر لگا رہے ہیں ، بہرحال حاملین عرش اور اس کے ارد گرد والے فرشتے ملاء اعلی میں پہلے درجے کے فرشتے ہیں ، سورة الحاقہ میں ہے کہ آج تو عرش الہی کو تھامنے والے چار فرشتے ہیں مگر (آیت) ” یومئذ ثمنیۃ “۔ (آیت : 17) قیامت والے دن ان کی تعداد آٹھ ہوجائے گی ، شاہ عبدالعزیز (رح) اپنی تفسیر عزیزی میں بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حالات نارمل ہیں اس لیے عرش کو تھامنے کے لیے چار فرشتے ہی کافی ہیں مگر قیامت والے دن اللہ کی قہری تجلیات نازل ہوں گی ، جس کی وجہ سے ثقل بہت بڑھ جائے گا ، لہذا اس دن حاملین عرش کی تعداد دگنی کردی جائیگی ۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” اذن لی احدث “۔ مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں حاملین عرش فرشتوں کے متعلق یہ بیان کر دوں کہ ہر فرشتے کی جسامت اس قدر بڑی ہے کہ اس کی کان کی لو سے لے کر کندھے تک سات سو سال کی مسافت ہے ، فرشتوں کی تخلیق کے متعلق امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں رقمطراز (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 23 ج 1) ہیں کہ اللہ نے انسان کی مصلحت کی خاطر فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے اربوں کھربوں سال پہلے پیدا فرمایا ، فرشتوں کے سات (2) (الخیر الکثیرص 46 ، 47) طبقات ہیں ، سب سے بلند ملاء اعلی کی جماعت ہے جن میں حاملین عرش بھی شامل ہیں ، پھر حاملین حول العرش فرشتے ہیں جو عرش الہی کا طواف کر رہے ہیں ، اس کے بعد علیین کے فرشتے ہیں ، پھر جنت کے فرشتے ، آسمانوں ، فضا اور زمین کے فرشتے ، یہ تمام ملائکہ اللہ تعالیٰ کے لطیف مخلوق ہیں جو ہر وقت احکام الہی کی تعمیل میں مصروف رہتے ہیں ۔ شاہ رفع الدین دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حاملین عرش فرشتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی چار صفات ابداع ، خلق ، تدبیر اور تدلی کا اظہار ہو رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بدیع یعنی موجد ہے ، اس نے آسمان و زمین کو بغیر مادے اور آلے کے پیدا کیا ، وہ خالق ہے کہ اس نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا وہ مدبر بھی ہے کہ ہر چیز میں توازن برقرار رکھنا اور ہر چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانا اسی کا کام ہے اور پھر اس کی صفت تدلی کا مفہوم یہ ہے کہ جب شکم مادر میں انسان کی ساخت مکمل ہوجاتی ہے تو اس کی روح پر اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم کا عکس پڑنا ہوجاتا ہے جس کے ذریعے روح کا تعلق عالم بالا کے ساتھ قائم رہتا ہے ۔ حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ اس وقت تو اس کائنات کی نسبت سے اللہ تعالیٰ کی مذکورہ چار صفات کا ظہور ہو رہا ہے مگر قیامت والے دن ان کے ساتھ چار مزید صفات شامل ہوجائیں گی ، ان میں سے ایک صفت انکشاف ہے کہ اس دن ہر چیز کو کھول دیا جائے گا ، یعنی کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی فرماتے ہیں کہ دوسری صفت کمال ہے کہ اس دن ہر چیز اپنی حد کمال تک پہنچی ہوگی پھر تیسری صفت تقدیس ہے ، اس دن ہر قسم کی نجاست دور ہو کر ہر طرف طہارت اور پاکیزگی کا دور دورہ ہوگا ، اور چوتھی صفت عدل ہے ، کہ اس دن مکمل عدل و انصاف ہوگا ، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی چونکہ یہ صفات آٹھ ہوجائیں گی ، اس لیے حاملین عرش فرشتوں کی تعداد بھی چار سے بڑھ کر آٹھ ہوجائے گی ۔ (عرش عظیم کی ساخت) عرش عظیم کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہ پر آیا ہے مثلا سورة توبہ کی آخری آیت میں ہے (آیت) ” وھو رب العرش العظیم “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی عرش عظیم کا رب ہے عرش اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مخلوق ہے ، مفسرین کرام عرش کی ساخت کے متعلق فرماتے ہیں کہ عرش کے علاوہ اس کے نیچے کی تمام کائنات کی نسبت اس کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی صحرا میں ایک چھوٹا سا کیڑا ، چھلہ یا انگوٹھی پڑی ہو ، صاحب روح المعانی (رح) بیان کرتے ہیں اور بعض آثار میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کو ایک سبز رنگ کے جوہر سے پیدا کیا جس کی کیفیت کو مخلوق میں سے کوئی نہیں جان سکتا ، کیونکہ اس کا تعلق عالم غیب سے ہے بہرحال عرش کی جسامت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی تیز رفتار پرندہ عرش کے پائے کے ساتھ اسی (80000) سال تک اڑتا رہے تو بھی پائے کی مسافت طے نہیں کرسکتا ۔ (فرشتوں کی تسبیح) فرمایا کہ حاملین عرش اور اس کے اردگرد طواف کرنے والے فرشتے (آیت) ” یسبحون بحمد ربھم “۔ اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی تعریف کے ساتھ ، وہ (آیت) ” وسبوح قدوس “۔ کا ورد کرکے اللہ تعالیٰ کی تقدیس وتنزیہہ بیان کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہر نقص ، عیب اور کمزوری سے پاک ہے ، گویا یہ فرشتے ہر وقت تسبیح وتحمید میں مصروف رہتے ہیں ، اس کے علاوہ (آیت) ” ویؤمنون بہ “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا پورا یقین اور ایمان رکھتے ہیں ، ایمان بہت بڑی حقیقت ہے ، اسی لیے انسانوں کو بار بار تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے ایمان کو درست کرلیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات ، توحید ، کتب ، انبیاء اور قیامت پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک تسلیم کرلیں ۔ (بخشش کی دعائیں ) فرمایا فرشتوں کا ایک فرض منصبی یہ بھی ہے (آیت) ” ویستغفرون للذین امنوا “۔ کہ وہ اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں اس سے ایمان والوں کے درجات کا اظہار مقصود ہے گذشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ کافر لوگ جہنم رسید ہوں گے ، مگر مومنوں کے متعلق فرمایا کہ ان کے لیے ، اللہ تعالیٰ کی پاک مخلوق فرشتے بخشش کی دعائیں مانگتے ہیں ، اے پروردگار ، ان کی خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرما دے ۔ سورة الشوری میں ہے کہ فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی تعریف کے ساتھ (آیت) ” ویستغفرون لمن فی الارض “۔ (آیت ، 5) اور زمین کے ہر باسی کے لیے یعنی عام انسانوں کے لیے بمعنی مغفرت کی دعائیں کرتے ہیں کہ مولا کریم ! ان کو فوری سزا نہ دے بلکہ مہلت دے دے شاید کہ یہ کافر اور مشرک بھی ایمان لے آئیں اور تیرے غضب سے بچ جائیں ، البتہ اہل ایمان کے لیے خاص طور پر بخشش کی دعائیں کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ فرشتے یہ بھی عرض کرتے ہیں (آیت) ” ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلما “۔ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر وسیع ہے تو رحمان ورحیم اور علیم کل ہے ، اللہ تعالیٰ کا خود اپنا بیان ہے (آیت) ” ورحمتی وسعت کل شیء “۔ (الاعراف۔ 150) میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے سزا تو میں خاص مجرموں کو ہی دیتا ہوں مگر پوری کائنات میری رحمت سے ہی مستفید ہو رہی ہے ، تو فرشتے عرض کرتے ہیں ! مولا کریم ! تیری رحمت اور علم ہر چیز پر وسیع ہے (آیت) ” فاغفرللذین تابوا “۔ پس بخشش دے ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کرلی جو اپنی غلطی کو تسلیم کرکے تیری طرف رجوع رکھتے ہیں نیز (آیت) ” واتبعوا سبیلک “۔ جو تیرے راستے پر چلتے ہیں ایمان اور نیکی کا جو راستہ تیرے نبیوں نے بتایا وہ اس پر گامزن ہیں ، لہذا ہماری درخواست ہے (آیت) ” وقھم عذاب الجحیم “۔ کہ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالے ۔ (جنت میں داخلہ کی دعائیں) اللہ تعالیٰ کے فرشتے یہ دعا بھی مانگتے ہیں (آیت) ” ربنا وادخلھم جنت عدن “۔ اے اللہ ! مذکورہ اہل ایمان کو رہائش کے باغوں میں داخل فرما جنت عدن کا معنی ایسا باغ ہے جو رہائش کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے ، عام باغات میں تو درخت اور پودے وغیرہ ہی ہوتے ہیں مگر قابل رہائش باغات میں رہائش کی تمام سہولتیں بھی میسر ہوتی ہیں ، تو فرشتوں کی دعا یہ ہوتی ہے کہ مولا کریم ! اپنے ان بندوں کو رہائش باغات (جنت عدن) میں داخل فرما (آیت) ” التی وعدتھم “۔ جن کا تو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے ، نہ صرف ان کو جنت عدن میں داخلہ عطا فرما ، بلکہ (آیت) ” ومن صلح من ابآئھم “۔ اور ان کے آباؤ اجداد میں سے نیکی والے لوگوں کو بھی یہ نعمت عطا فرما ، یہ سب ایمان کی برکت ہے کہ فرشتے نہ صرف اہل ایمان بلکہ ان کے نیک آباؤ و اجداد بیویوی اور اولاد کے لیے بھی ایسی ہی دعائیں کرتے ہیں ۔ حضرت انس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ سے محبت رکھتا ہوں اگرچہ میں ان جیسے نیکی کے کام تو نہیں کرسکتا مگر مجھے اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ مجھے ان بزرگوں کی معیت نصیب ہوگی ، مقصد یہ کہ ایمان اور فرشتوں کی دعا کی بدولت اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے لواحقین کو بھی انہیں کے ساتھ ملا دے گا ۔ شاہ عبدالقادر (رح) یہ نکتہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ کوئی آدمی اچھا عمل کرتا ہے مگر اس کے لواحقین اس درجہ کو نہیں پہنچ پاتے مگر اللہ تعالیٰ ایمان اور ان کے نیک جذبہ کی برکت سے انہیں بھی اعلی مقام عطا کرے گا ، اگرچہ وہ نیک کام کثرت کے ساتھ نہیں کرسکے مگر ان میں جذبہ تو موجود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو ہم بھی نیک کام انجام دیں آخری آیت میں موجود ہے ، کہ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور پھر ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کو بھی اہل ایمان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے اعمال میں کسی قسم کی کمی نہیں کریں گے ، اہل ایمان اس بات پر خوش ہوجائیں گے کہ ان کے لواحقین بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں ، الغرض ! فرشتے اہل ایمان اور ان کے لواحقین کے حق میں دعائیں کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات بھی بیان کریں گے (آیت) ” انک انت العزیز الحکیم “۔ پروردگار ! بیشک تو غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی ، تو ہر چیز پر قادر ہے لہذا غالب ہے اور اہل ایمان کو ملنے والے انعامات تیری حکمت کے عین مطابق ہیں ۔ (معاصی سے بچاؤ کی دعا) اللہ کے مقرب فرشتے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ پروردگار ! (آیت) ” وقھم السیات “۔ اپنے ان نیک بندوں کو برائیوں سے محفوظ رکھ کیونکہ (آیت) ” ومن تق السیات یومئذ فقد رحمتہ “۔ جس کو تو نے آج برائیوں سے بچالیا ، بیشک تو نے اس پر مہربانی فرمائی اگر کوئی شخص دنیا میں کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی سے بچ گیا تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر خاص مہربانی فرمائی ہے ، اس کی حقیقت تو قیامت کو ہی کھلے گی ، کیونکہ دنیا میں صحیح پتہ نہیں چلتا کہ کون شخص گناہوں میں ملوث ہے اور کس کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا ہے ، فرمایا (آیت) ” وذلک ھو الفوز العظیم “۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ دنیا میں ایمان نصیب ہوجائے ، اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے راستے پر حسب توفیق چلتا رہے اور برائیوں سے بچ جائے ، جو شخص ایسی حالت میں قیامت کے دن میدان حشر میں حاضر ہوگا ، اس کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوگئی ، اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہوجائے گی ، عزت نصیب ہوگی اور وہ جنت عدن میں پہنچ جائے گا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے فرشتے دعائیں کرتے ہیں ۔
Ayahs 40:10–12

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور پکارے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا) اللہ تعالیٰ کی ناراضگی زیادہ بڑی ہے تمہاری اپنی جانوں پر ناراضگی سے ، جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم کفر کرتے تھے ۔

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! تو نے موت دی ہمیں دو دفعہ اور زندہ کیا دو دفعہ ، پس ہم اقرار کرتے ہیں اپنے گناہوں کا پس کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ جب پکارا جاتا تھا اللہ وحدہ لا شریک کو تو تم کفر کرتے تھے اور اگر شرک کیا جاتا تھا اس کے ساتھ تو تم یقین کرلیتے تھے پس حکم اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو بلند اور بڑا ہے ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں پہلے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کا وحی الہی ہونا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات بیان ہوئیں اور کافروں کے طرز عمل کا شکوہ کیا گیا اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کا حال بیان کیا اور ان کے انجام سے خبردار کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کے رسول کے ساتھ عناد رکھنے والے ضدی لوگوں کی مخالفت کا حال بیان ہوا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مرتبے اور انکے انجام کا ذکر کیا ، فرمایا کہ حاملین عرش اور اس کے اردگرد طواف کرنے والے ملائکہ مقربین اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں جن کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں جنت عدن میں ٹھکانا عطا فرمائے گا ۔ (کفار کی حسرت) اب آج کے درس میں کفار کی اس پریشانی اور حسرت کا ذکر کیا ہے جو ان کو قیامت کے روز پیش آئے گی ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اس دنیا میں کفر کا شیوہ اختیار کیا ، یعنی اللہ کی ذات ، صفات ، توحید ، ایمان ، شریعت ، انبیاء ، کتب سماویہ ، ملائکہ اور آخرت کے دن کا انکار کیا ” ینادون “ ان کو پکار کر کہا جائے گا ۔ (آیت) ” لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم “۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی زیادہ بڑی ہے تمہاری اپنی جانوں پر ناراضگی سے ، قیامت والے دن جب کفار کو اپنا انجام نظر آنے لگے گا تو انہیں اپنی سابقہ کارکردگی پر سخت افسوس ہوگا جس کی بناء پر وہ اپنے آپ پر نفرت اور ناراضگی کا اظہار کریں گے کہ ہم دنیا میں غلط راستے پر کیوں چلتے رہے جس کی وجہ سے یہ انجام بد دیکھنا پڑا مگر ادھر سے آواز آئے گی کہ آج اللہ تعالیٰ تم سے جس قدر ناراض ہے تمہاری اپنی جانوں پر ناراضگی تو اس کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتی یعنی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی تمہاری ناراضگی سے زیادہ شدید ہے ، فرمایا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی تو اس وقت بھی بڑی تھی (آیت) ” اذ تدعون الی الایمان “۔ جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی (آیت) ” فتکفرون “۔ تو تم اسے قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے ، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کے نبی آئے ، کتابیں آئیں جن کے ذریعے تمہیں اللہ تعالیٰ کے احکام اور شرائع پہنچائے گئے مگر تم اس وقت غرور وتکبر میں مبتلا تھے اور ہر چیز کا انکار کر رہے تھے جب تمہیں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال سے ڈرایا جاتا تھا ، تو اس وقت بھی انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کوئی قیامت نہیں ، نہ کوئی محاسبہ اعمال ہے اور نہ کوئی سزا اور جزا “۔ اللہ تعالیٰ تو اس وقت بھی تم سے سخت ناراض تھا ، آخر وہ کیوں ناراض نہ ہوتا ، جب کہ تم حق کی بجائے باطل کے پروگرام کو سربلند کرنا چاہتے تھے اور توحید کی بجائے شرک وکفر کو اختیار کر رکھا تھا ۔ (دنیا میں واپسی کی خواہش) غرجی کہ قیامت والے دن کافر لوگ حسرت ویاس کا اظہار کریں گے ” قالوا “ اور ساتھ عرض کریں گے (آیت) ” ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “۔ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندگی بخشی (آیت) ” فاعترفنا بذنوبنا “۔ پس ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سے واقعی غلطیاں ہوئی ہیں اور ہم نے برے کام انجام دیے ہیں (آیت) ” فھل الی خروج من سبیل “۔ پس کیا ہے نکلنے کا کوئی راستہ ، مطلب یہ ہے کہ کس طرح ہم واپس دنیا میں کر جا کر اپنے سابقہ اعمال کی تلافی کرلیں اور نیک اعمال انجام دینے لگیں ۔ اس مرتبہ ہم کفر وشرک سے بیزاری کا اعلان کرکے ایمان اور توحید کو قبول کرلیں گے تو کیا ٰیہاں سے نکل کر واپس جانے کی کوئی صورت ہے ؟ مگر یہ ناممکن ہوگا ، سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حقیقت یہ ہے (آیت) ” ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ “۔ (آیت 28) کہ اگر انہیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو پھر وہی برے کام ہی کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ ان کی استعداد کو جانتے ہیں لہذا وہ انہیں دنیا میں دوبارہ واپس نہیں بھیجیں گے ۔ (دوہری موت وحیات) دو مرتبہ موت وحیات کے متعلق مفسر سدی (رح) کہتے ہیں کہ پہلی موت اس دنیا میں آتی ہے اور انسان کو برزخ میں سوال و جواب کے لیے زندہ کیا جاتا ہے اس کے بعد اس پر دوسری مرتبہ موت طاری ہوتی ہے اور حشر کے دن اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، اس طرح گویا ہر انسان کے لیے دو اموات اور دو زندگیاں ہوگئیں مگر جمہور مفسرین جن میں امام بیضاوی (رح) ، امام ابن جریر (رح) ، امام ابن کثیر (رح) صاحب بیان القرآن (رح) ، عبداللہ بن عباس ؓ ، عبداللہ بن مسعود (رح) حضرت قتادہ (رح) ، امام ضحاک (رح) ، اور دیگر بڑے بڑے مفسرین شامل ہیں ، فرماتے ہیں کہ پہلی موت سے مراد وہ موت ہے جب انسان پیدائش سے پہلے بےجان لوتھڑا تھا ، پھر حمل کے چوتھے مہینے میں شکم مادر میں اس ڈھانچے میں اللہ تعالیٰ نے روح الہی ڈالی تو اس کو زندگی حاصل ہوگئی ، پھر جب انسان پیدا ہو کر اپنی زندگی پوری کرتا ہے تو اس پر اس دنیا میں موت طاری ہوجاتی ہے ، یہ اس کی دوسری موت ہوگئی اور قیامت والے دن دوبارہ زندگی اس کی دوسری زندگی شمار ہوگی ، اس نظریے کے ثبوت میں مفسرین سورة بقرہ کی آیت ، 28 پیش کرتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون “۔ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کس طرح کفر کرتے ہو ، حالانکہ تم مردہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کیا پھر وہ تم پر موت طاری کرتا اور قیامت کو پھر زندہ کرے گا ۔ مفسر حقانی (رح) فرماتے ہیں کہ آخرت کی زندگی کا آغاز عالم برزخ سے ہوجاتا ہے جب کسی انسان کو قبر میں دفن کردیا جاتا ہے تو اس کی روح کو دوبارہ لوٹا دیا جاتا ہے اور پھر اس مرنے والے سے قبر کے سوال و جواب ہوتے ہیں ، اس ابتدائی حساب کتاب کے بعد بھی روح کا تعلق جسم کے ساتھ کسی درجے تک قائم رہتا ہے ، جبھی تو اس کو سزا یا راحت کا احساس ہوتا رہتا ہے ، قرآن کی بعض آیات اور متعدد احادیث صحیحہ سے برزخ کی سزا یا جزا کا ثبوت ملتا ہے بعض معتزلہ قسم کے فرقوں نے اس کا انکار کیا ہے مگر یہ گمراہی اور کفر کے مترادف ہے قبر کی زندگی کو مکمل قید کی بجائے ادنی درجے کی حوالات کی زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے بعض کہتے ہیں کہ پہلی زندگی سے مراد عہد الست والی زندگی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے تمام ارواح انسانی کو نکال کر ان سے عہد و پیمان لیا تھا (آیت) ” الست بربکم قالوا بلی “۔ (اعراف 82) اللہ تعالیٰ نے پوچھا تھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ، تو سب نے جواب دیا تھا کیوں نہیں تو ہی ہمارا پروردگار ہے ، اس عہد کے اللہ تعالیٰ نے سب پر موت طاری کردی اور یہ انسان کی پہلی موت ہے پھر انسان کی پیدائش کے وقت دوسری زندگی دی اور پھر جب اس کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو دوبارہ موت دے دیتا ہے پھر جب حشر قائم ہوگا تو انسان کو دوسری دفعہ زندگی نصیب ہوگی اس طرح دو اموات اور دو زندگیاں ہوگئیں ۔ (شرک کا خمیازہ) فرمایا حشر والے دن کافر لوگ سخت مشکل میں ہوں گے اور خود اپنے آپ پر ناراضگی اور نفرت کا اظہار کریں گے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ کفرتم “۔ یہ اس وجہ سے کہ دنیا میں جب تمہیں اللہ وحدہ لا شریک کی طرف بلایا جاتا تھا کہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی معبود برحق مانو ، اسی پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ تو تم اس دعوت کا انکار کردیتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہمارے سفارشی بھی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دے رکھا ہے ، وہ ہماری بگڑی بنا دیتے ہیں اور اللہ کا قرب دلاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر الوہیت کی چادر ڈال رکھی ہے اور یہ ہماری مشکلات کو حل کروا دیتے ہیں چناچہ تم نے دنیا میں کسی کو خدا تعالیٰ کا بیٹا تسلیم کیا اور کسی کو مختار مانا بعض کے متعلق یہ عقیدہ قائم کرلیا کہ ہم براہ راست خدا کو راضی نہیں کرسکتے ، ہم ان معبودوں کو راضی کرتے ہیں تاکہ یہ آگے اللہ تعالیٰ کو راضی کر کے ہمیں بچا لیں ، غرضیکہ تم نے کفر کے حق میں طرح طرح کے فلسفے بنا رکھتے تھے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کا انکار کرتے تھے (آیت) ” وان یشرک بہ تؤمنوا “۔ اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تھا ، اس کے ساتھ دوسروں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کی جاتی تھی اور ان کو سجدے کیے جاتے تھے تو تم اس پر یقین کرلیتے تھے کہ یہ بالکل ٹھیک ہو رہا ہے مطلب یہ کہ تم ایمان اور توحید کا انکار کرتے تھے اور شرکیہ کاموں پر خوش ہوتے تھے ، یہ اسی جرم کا نتیجہ ہے جو تمہارے سامنے ہے اور تمہیں اپنی سابقہ زندگی پر افسوس ہو رہا ہے اور خود اپنے آپ سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہو آج تم اس مصیبت سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہو اور دوبارہ دنیا میں جا کر سابقہ اعمال کی تلافی کرنا چاہتے ہو مگر اب یہ موقع نہیں مل سکتا ، عمل کی دنیا ختم ہو کر جزائے عمل کی منزل آچکی ہے ، اب تمہیں اپنی کمائی کا مزا چکھنا ہی ہوگا ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” فالحکم للہ العلی الکبیر “۔ آج فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جو بلندو برتر اور بڑائی کا مالک ہے آج کسی دوسرے کا حکم نہیں چل سکتا ، ہرچیز اللہ وحدہ لا شریک کے اختیار میں ہے تمہیں طوعا وکرھا اسی کے حکم کے سامنے اپنی گردن کو جھکانا ہوگا ، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔
Ayahs 40:13–20

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہی ہے جو دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں اور اتارتا ہے آسمان کی طرف سے تمہارے لیے روزی ، اور نہیں نصیحت حاصل کرتا مگر وہ شخص جو رجوع رکھتا ہے ۔

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

پس پکارو اللہ تعالیٰ کو (اس حال میں) کہ خالص کرنے والے ہو ، اسی کی اطاعت اگرچہ ناپسند کرتے ہیں اس کو کفر کرنے والے ۔

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ بلند درجوں والا ہے ، عرش کا مالک ہے اتارتا ہے روح (وحی) اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے تاکہ ڈرائیں وہ ملاقات کے دن سے ۔

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ ظاہر ہونے والے ہوں گے ، نہیں مخفی ہوگی اللہ تعالیٰ کے سامنے ان میں سے کوئی چیز کس کے لیے ہے بادشاہی آج کے دن ، اللہ تعالیٰ کے لیے جو اکیلا اور دباؤ والا ہے ۔

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا نہیں زیادتی ہوگی آج کے دن بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے ۔

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ڈرا دیں آپ ان کو قریب آنے دے دن سے جب کہ دل گلوں تک پہنچ رہے ہوں گے نہیں ہوگا ظالموں کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی جسکی بات مانی جائے ۔

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور جس چیز کو سینے چھپاتے ہیں۔

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے حق کے ساتھ اور جن کو یہ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ نہیں فیصلہ کرتے کسی چیز کا بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ سننے والا اور دیکھنے والا ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ باتیں ہوتی تھیں تو ان پر یقین کرلیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج کے دن فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مجرموں کو سزا ضرور ملے گی اور ان کے باہر نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی ۔ (نشانات قدرت) اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بعد نشانانت پیش کیے ہی جو دلائل توحیدی ہیں اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا ذکر بھی کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھو الذی یریکم ایتہ “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے ان نشانیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی عظمت سمجھ میں آسکتی ہے فرمایا ایک نشانی یہ ہے (آیت) ” وینزل لکم من السمآء رزق “۔ کہ وہ تمہارے لیے آسمان کی طرف سے روزی نازل فرماتا ہے سوۃ الذریت میں وضاحت کے ساتھ فرمایا ہے (آیت) ” وفی السمآء رزقکم وما توعدون “۔ (آیت : 32) اور آسمانوں میں ہے تمہارا رزق اور جو تم سے وعدہ کیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ رزق کا حکم اوپر سے آتا ہے تو تقسیم ہوتا ہے اور جو تم سے موت کا وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ ضرور آنے والی ہے اس کا حکم بھی عالم بالا سے ہی آتا ہے بہرحال روزی کا آسمان کی طرف سے نزول ایک تو اس وجہ سے ہے کہ اس کا حکم اوپر سے آتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بارش بھی اوپر کی طرف سے بادلوں کے ذریعے آتی ہے جس سے زمین میں روئیدگی پیدا ہوتی ہے اور پھر رزق کا سامان اناج ، پھل ، سبزیاں وغیرہ پیدا ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے سورة نمل میں اسی بات کو ایک دوسرے انداز میں بیان کیا ہے (آیت) ” ومن یرزقکم من السمآء والارضء الہ مع اللہ “۔ (آیت : 64) تمہیں آسمان و زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ روزی رساں فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ بارش برسا کر زمین سے پھل اناج اور سبزیاں پیدا کرسکے ، اگر انسان صرف ایک اسی دلیل میں غور وفکر کرلے تو اسے اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آجائے اور وہ شرک میں کبھی ملوث نہ ہو ، مگر فرمایا (آیت) ” وما یتذکر الا من ینیب “۔ نصیحت وہی شخص حاصل کرتا ہے جو خدا کی طرف رجوع رکھتا ہے جو شخص اپنی غلطی سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیتا ہے وہی ان دلائل میں غور وفکر کرکے صحیح نتیجے پر پہنچ سکے گا ۔ (توحید پر استقامت) فرمایا جب آسمان کی طرف سے روزی اللہ تعالیٰ ہی نازل فرماتا ہے (آیت) ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ تو پھر بندگی اور اطاعت بھی خالص اسی کے لیے کرنے والے بنو اور کسی کو اس کا ساجھی اور شریک نہ بناؤ ۔ خالص اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو ۔ (آیت) ” ولوکرہ الکفرون “۔ اگرچہ کفر کرنے والے اس چیز کو ناپسند ہی کریں ، آگے اللہ تعالیٰ کی شان بیان ہو رہی ہے کہ وہ ذات ” رفیع الدرجت “۔ بلند درجات والی ہے ، یہاں پر درجات کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام صفات کامل درجے کی ہیں گویا وہ ذات تمام خوبیوں کی صفات کے ساتھ متصف ہے ، اس کی صفات میں کوئی نقص یا عیب نہیں ، وہ بلند صفات کا مالک ہے ، یہ تو رفیع الدرجات کا لازمی معنی ہوگیا لیکن بعض مفسرین اس کا متعدی معنی بھی کرتے ہیں ، رفیع صفت مشبہ کا صیغہ ہے جو فاعل کے معنی میں آتا ہے یعنی وہ درجات کو بلند کرنے والا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء ، شہداء اور حسب المراتب دیگر صالحین کے درجات کو بلند کرنے والا ہے اس کا ارشاد ہے ، (آیت) ” ولکل درجت مما عملو “۔ (الاحقاف ، 19) ہر شخص کے لیے اس کے عمل کے مطابق درجات ہوں گے وہی درجوں کو بلند کرنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ (آیت) ” ذوالعرش “۔ یعنی عرش عظیم کا مالک بھی ہے ، یہ عرش الہی بہت بڑی چیز ہے ، جس کو اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اور اس کے اردگرد والے فرشتے اس کا طواف اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید بیان کر رہے ہیں عرش پر ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تجلیات نازل ہوتی رہتی ہیں جو سارے کائنات کو رنگین بناتی ہیں ، اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ، اور پھر وہ پلٹ کر واپس جاتے ہیں ، بہرحال اللہ تعالیٰ عرش عظیم کا مالک ہے ۔ ّ (وحی الہی کا نزول) آگے اللہ تعالیٰ کی یہ صفت بھی بیان ہوئی ہے (آیت) ” یلقی الروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ “۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح اتارتا ہے ، روح کا اطلاق وحی الہی پر بھی ہوتا ہے اور روح انسانی پر بھی ، وحی کا لفظی معنی پوشیدہ بات ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں پر وحی نازل فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور شریعت دوسرے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ، نزول وحی کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع کرکے حضرت خاتم النبیین ﷺ پر ختم کردیا ہے ، وحی کے ذریعے نازل ہونے والی اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن حکیم کا پروگرام اب قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے نافذ العمل ہے اس کے بعد نہ وحی کا نزول ہوگا نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی کتاب ۔ فرمایا وحی الہی کے نزول کا مقصد یہ ہے (آیت) ” لینذر یوم التلاق “۔ تاکہ جس پر وحی الہی نازل ہونی ہے وہ ملاقات یعنی قیامت کے دن سے ڈرا دے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اس وحی کے ذریعے لوگوں کو ڈرا دے ۔ تلاق کا لغوی معنی آپس میں مل جانا ہوتا ہے اور قیامت والے دن سب لوگ مل جائیں گے یعنی اکھٹے ہوجائیں گے ، اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ظالم اور مظلوم اکھٹے ہوجائیں گے اور پھر ایک دوسرے پہ کی گئی زیادتی کا بدلہ طلب کریں گے ، اسی طرح عابد اور معبود اور قاتل اور مقتول بھی اکٹھے ہونگے اور آپس میں جھگڑا کریں گے ، غرض قیامت والے دن سب اگلے پچھلے اکٹھے ہوجائیں گے اور اپنے اپنے اعمال کا نتیجہ حاصل کریں گے ، فرمایا نزول وحی کا مقصد یہ ہے کہ اس دن سے لوگوں کو ڈرا دیا جائے ، کہ دنیا میں کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی اس دن سزا بھگتنی پڑے ۔ (بادشاہی صرف اللہ کی) اسی قیامت والے دن کے متعلق فرمایا (آیت) ” یوم ھم بارزون “۔ جس دن وہ ظاہر ہونے والے ہوں گے بروز کا معنی باہر نکلنا ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ جس دن لوگ قبروں سے باہر نکلیں گے ، اس وقت کھلے میدان میں ہوں گے جہاں کوئی شجر ، حجر ، پہاڑ یا آڑ نہیں ہوگی ، بلکہ ہر شخص دوسرے کو اپنے سامنے پائے گا (آیت) ” لا یخفی علی اللہ منہم شیء “۔ اللہ کے سامنے روپوش بھی ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات حکومت بھی انہیں تلاش کرنے میں ناکام رہتی ہے مگر اس دن کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی حتی کہ لوگوں کے سینوں کے راز بھی کھل کر سامنے آجائیں گے ، اس وقت آواز آئے گی بتلا ؤ (آیت) ” لمن الملک الیوم “۔ آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اس وقت کوئی جواب نہیں سے سکے گا دنیا کے بڑے برے جابر حکمران اور فوجی جرنیل انگشت بدنداں ہو گے اور کسی کو دم مارنے کی ہمت نہیں ہوگی ، سب خاموش ہوں گے ، پھر اللہ تعالیٰ خود ہی جواب دے گا (آیت) ” للہ الواحد القہار “۔ آج بادشاہی صرف خدائے یکتا کی ہے جو دباؤ والا ہے اس کے سامنے ہر چیز مغلوب ہے آج اسی کا حکم غالب ہے ۔ مفسرین کرام تفسیری روایات بیان کرتے ہیں کہ جب صور پھونکا جائے گا تو ساری مخلوق ہلاک ہوجائے گی ، سوائے جبرائیل (علیہ السلام) ، میکائیل (علیہ السلام) ، اور اسرافیل (علیہ السلام) ، کے اللہ تعالیٰ فرمانے گا کہ اب کون باقی رہ گیا ہے ، اسرافیل (علیہ السلام) ، عرض کرے گا ، پروردگار ! تیری ذات ہے اور جبرائیل (علیہ السلام) ، اور میکائیل (علیہ السلام) ، ہیں ، ان کے علاوہ تیرا یہ بندہ اسرافیل ہے ، جو صور پھونکنے پر مامور ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا جبرائیل (علیہ السلام) ، اور میکائیل (علیہ السلام) کو بھی فنا کر دو ، پھر ایسا ہی ہوگا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ اسرافیل (علیہ السلام) سے کہے گا کہ تم بھی مرجاؤ تو وہ بھی ہلاک ہوجائے گا اور کوئی بھی باقی نہیں بچے گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ آج بادشاہی کس کی ہے ، بڑے بڑے ظالم ، جابر اور دعویدار کہاں گئے مگر کوئی جواب نہیں آئے گا ، پھر اللہ تعالیٰ خود ہی فرمائے گا کہ آج کے دن بادشاہی صرف اللہ کی ہے جو واحد اور قہار ہے ۔ (جزائے عمل کی منزل) ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” الیوم تجزی کل امر بما کسبت “۔ آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ ملے گا ، دنیا میں اس نے جو بھی اچھا یا برا عمل کیا ہے اس کی جزا یا سزا ملے گی ، سورة المدثر میں ہے (آیت) ” کل نفس بما کسبت رھینۃ “۔ (آیت : 38) اس دن ہر شخص اپنی کمائی کا مرہون ہوگا ، یعنی اس میں پھنسا ہوا ہوگا ، اس نے دنیا میں رہ کر اپنے اندر جو بھی اعمال کردار یا اخلاق جمع کیے ہیں ، وہ سب محفوظ ہوں گے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ سب سامنے آجائے گا اور ہر شخص کو اس کا بھگتان کرنا پڑے گا ، مگر ایک بات ہے (آیت) ” لا ظلم الیوم “۔ آج کے دن کسی پر زیادتی نہیں ہوگی ، دنیا میں تو لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرتے رہے اور ایک دوسرے کا حق ناجائز طریقے سے غصب کرتے رہے مگر آج حق و انصاف کا بول بالا ہوگا ، اسی لیے اس دن کو (آیت) ” یوم الدین “۔ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ پورے پورے بدلے کا دن ہوگا ، پھر اللہ تعالیٰ حساب کتاب شروع کرے گا (آیت) ” ان اللہ سریع الحساب “۔ بیشک وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ، وہ ہر ایک کے عقیدہ اور عمل کے مطابق فیصلہ کرے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی ۔ پھر تاکیدا فرمایا (آیت) ” وانذرھم یوم الازفۃ “۔ آپ ان کو فریب آنے والے دن سے ڈرا دیں ، اس سے مراد قیامت ہے کہ وہ قریب ہی آنے والی ہے شیخ ابن عربی (رح) کی زبان میں اس سے قیامت صغری اور قیامت کبری دونوں مراد ہیں ، قیامت صغری تو ہر شخص پر بصورت موت وارد ہوتی ہے اور حضور ﷺ کا فرمان ہے (1) (مرقاۃ شرح مشکوۃ ص 234 ج 10 بحوالہ دیلمی عن انس ؓ مرفوعا) ” من مات فقد قامت قیامتہ “۔ جو مر گیا اس کی قیامت تو واقع ہوگئی ، عقبی کی منازل میں پہلی منزل برزخ ہے ، اور دوسری منزل حشر نشر ہے اور پھر اگلی منزل دوزخ یا جنت ہے اور قیامت کبری وہ ہے جب ہر چیز فنا ہوجائے گی اور پھر نئی زمین اور نیا آسمان ہوگا سب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا ، حساب کتاب ہوگا اور جزا وسزا کے فیصلے ہوں گے ، تو فرمایا ان لوگوں کو قریب آنے والے دن یعنی قیامت صغری اور قیامت کبری سے ڈرا دیں اور اس وقت حالت یہ ہوگی (آیت) ” اذ القلوب لدی الحناجر کا ظمین “۔ کہ خوف و دہشت کے مارے دل اچھل کر گلوں تک آجائیں گے اور وہ ان کو دبا رہے ہوں گے ، خاموشی طاری ہوگی اور کوئی لب کشائی نہی کرسکے گا ، انفرادی موت کے وقت بھی انسان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے اور اجتماعی قیامت کے وقت بھی ایسی ہی حالت ہوگی فرمایا ان کو اس دن کی سختی سے ڈراویں (آیت) ” ماللظلمین من حمیم “۔ اس دن ظالموں یعنی کافروں اور مشرکوں کے لیے کوئی مخلص دوست نہیں ہوگا جو ان کی رفاقت اور دلجوئی کرسکے ، دنیا میں تو بہت سے دوست خلوص و محبت کا دعوی کرتے ہیں ، مگر وہاں کوئی مخلص دوست نہیں ہوگا ۔ (آیت) ” ولا شفیع یطاع “۔ اور نہ کوئی سفارشی ہوگا ، جس کی بات مانی جائے یعنی سفارش قبول کی جائے ، اس دنیا میں تو لوگ رشوت اور سفارش سے کام نکال لیتے ہیں مگر وہاں ایسی بات نہیں ہوگی ، تمام فیصلے حق و انصاف کی بنیاد پر ہوں گے ۔ (حق و انصاف کے فیصلے) (آیت) ” یعلم خآئنۃ الاعین وما تخفی الصدور “۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں میں پویشیدہ چیزوں کو بھی جانتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کی نیت اور ارادہ سے بھی واقف ہے ، اللہ تعالیٰ نے سورة النور میں مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھیں ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کسی نامحرم پر اچانک نظر پڑجائے تو وہ معاف ہے اور اگر دوبارہ قصدا پڑے گی تو قابل مواخذہ ہوگی ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دوسرا کوئی جانے یا نہ جانے مگر اللہ تعالیٰ تو آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور لوگوں کے سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے (آیت) ” واللہ یقضی بالحق “۔ وہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ہر شخص کو اس کی محنت کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ہر مظلوم کی داد رسی کی جائے گی ۔ فرمایا ، اللہ تعالیٰ تو حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے (آیت) ” والذین یدعون من دونہ “۔ اور جن کو یہ کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں ، ان سے حاجت روائی اور مشکل کشائی چاہتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” لا یقضون بشیء “۔ وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے اور نہ ان کے پاس طاقت ہے ، لہذا ان کو پکارنا خود پکارنے والوں کے لیے وبال جان بن جائے گا ، فرمایا ، یاد رکھو ! (آیت) ” ان اللہ ھو السمیع البصیر “۔ بیشک اللہ تعالیٰ وہی ہے سننے والا اور دیکھنے والا ، اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ، وہ اپنے علم اور قائم کردہ نظام کے تحت فیصلہ کریگا جو قطعی اور آخری ہوگا ۔