Ayahs 40:38–45ربط آیات :
جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اسی کی قوم کے ایک مرد مومن اللہ تعالیٰ کی نبی کی جان بچانے کے لیے آگے آئے اس شخص کا نام قرآن نے تو ذکر نہیں کیا ، تاہم بعض مفسرین نے حزقیل یاسمعان نام بتایا ہے ، اس شخص نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، اس مرد مومن نے قوم کو خدا کے عذاب سے ڈریا اور ان کے کردار پر سخت تنقید کی مگر فرعون نے کہا میری بات مانو اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خاتمہ کر دو ورنہ یہ تمہارا دین بھی بگاڑ دے اور زمین میں بھی فساد بھی برپا کرے گا ۔
(نیکی کا راستہ)
فرعون کی اس بات کے جواب میں مرد مومن نے اپنا رد عمل ظاہر کیا (آیت) ” وقال الذی امن “۔ اور کہا اس شخص نے جو ایمان لا چکا تھا (آیت) ” یقوم اتبعون “۔ اے میری قوم ! میری بات کا اتباع کرو ، میرے پیچھے مگر (آیت) ” اھدکم سبیل الرشاد “۔ نیکی کے راستے کی طرف میں تمہاری راہنمائی کرتا ہوں مطلب یہ کہ فرعون نے جس راستے کی طرف اشارہ کیا ہے ، وہ تو ظلم و زیادتی اور قتل ناحق کا راستہ ہے ، اس کو اختیار کرو گے تو سب اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے آؤ میں تمہیں بھلائی کا راستہ بتاتا ہوں اور یہ وہی راستہ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کیا ہے اور جس سے مراد یہ ہے کہ کفر وشرک سے باز آجاؤ ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرلو ، ظلم و زیادتی کو چھوڑ دو اور سرکشی اور بغاوت سے کنارہ کشی اختیار کرلو ، اس کے بجائے عدل و انصاف کا راستہ اختیار کرو جو کہ نیکی کا راستہ ہے ۔
پھر اس مرد مومن نے یہ بھی کہا (آیت) ” یقوم انما ھذہ الحیوۃ الدنیا متاع “۔ اے میری قوم کے لوگو ! یہ دنیا کی زندگی تو برتنے کا سامان ہے ، یہ دنیا فانی ہے اور اس کی عیش و بہار چند روزہ ہے ، پھر ختم ہو جائیگی (آیت) ” وان الاخرۃ ھی دار القرار “۔ اور آخرت کا گھر ہی دائمی ٹھہرنے کی جگہ ہے ، یہ مضمون سورة العنکبوت میں بھی بیان ہوا ہے (آیت) ” وان الدار الاخرۃ لھی الحیوان (آیت : 64) اور ہمیشہ کی زندگی کا مقام آخرت کا گھر ہی ہے ، بلکہ یہ زندگی تو محض کھیل تماشہ ، لہو و لعب اور عیش و عشرت کا نام ہے عقلمند آدمی کو اس زندگی پر مفتون نہیں ہونا چاہئے بلکہ آخرت کو دائمی زندگی کی فکر کرنی چاہئے ۔
(نیکی اور برائی کا بدلہ)
اسی حقیقت کے پیش نظر مرد مومن نے اپنی قوم کو یہ بات سمجھائی ، (آیت) ” من عمل سیئۃ فلا یجزی الا مثلھا “۔ کہ جس شخص نے برا عمل انجام دیا اس کا بدلہ اسی برائی کے برابر ہوگا ، یعنی جتنی برائی کی ہے اس سے زیادہ سزا ملے گی ، (آیت) ” ومن عمل صالحا من ذکر اوانثی “۔ اور مرد یا عورت میں سے جس نے بھی نیک عمل کیا (آیت) ” وھو مومن “ بشرطیکہ وہ مومن ہو (آیت) ” فاولئک یدخلون الجنۃ “۔ پس وہ جنت میں داخل ہوں گے (آیت) ” یرزقون فیھا بغیر حساب “۔ اور اسمیں انہیں بیشمار روزی نصیب ہوگی ،
نیکی کا کام خواہ مرد کرے یا عورت ان کو برابر اجر ملے گا ، کیونکہ مکلف ہونے میں مرد اور عورت برابر ہیں ، جس طرح مرد قوانین الہیہ کا پابند ہے ، اسی طرح عورت بھی ذمہ دار ہے اس لحاظ سے تو برابر ہیں مگر ان کے دائرہ ہائے کار مختلف ہیں ، مرد کا کام ہے کہ وہ محنت کرکے باہر سے کما کر لائے اور عورت پر فرض ہے کہ بچوں کی پرورش اور گھر کی دیکھ بھال کرے ، بعض کام مشترکہ طور پر انجام دیے جاسکتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہیں جو صرف مرد کے دائرہ کار میں یا صرف عورت کے دائرہ کار میں آتے ہیں بہرحال قانون کے دونوں پابند ہیں اور مراتب کا اصول دونوں کے لیے یکساں ہے ، اسی طرح انجام کی خرابی مردوں کے لیے بھی ویسی ہی ہے جیسی عورتوں کے لیے ناپسندیدہ ہے بہرحال فرمایا کہ جس مرد یا عورت نے ایمان کی حالت میں کوئی نیک کام انجام دیا تو وہ قابل قدر ہوگا اگر کسی کا ایمان درست نہیں اس میں کفر ، شرک یانفاق کی ملاوٹ ہے تو اس کی کوئی نیکی بھی قابل قبول نہیں ہوگی ، بلکہ اس کا بڑا عمل بھی رائیگاں جائے گا ۔
(نجات اور دوزخ کی طرف دعوت)
قوم فرعون کے ایماندار آدمی نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے کہا (آیت) ” ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ “۔ اے میری قوم کے لوگو ! کیا ہے مجھے کہ میں تمہیں نجات کی طرف دعوت دے رہا ہوں میں تمہیں متنبہ کر رہا ہوں کہ کفر وشرک اور ظلم و زیادتی کو ترک کر کے ایمان نیکی اور خیر خواہی اختیار کرلو تو نجات پا جاؤ گے ورنہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے گا اس کے برخلاف (آیت) ” وتدعوننی الی النار “۔ تم لوگ مجھے دوزخ کی آگ کی طرف بلا رہے ہو ، یعنی (آیت) ” تدعوننی لا کفر باللہ واشرک بہ “۔ تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کا ارتکاب کروں اور شرک بھی ایسا (آیت) ” مالیس لی بہ علم “۔ کہ جس کا مجھے علم ہی نہیں (آیت) ” وانا ادعوکم الی العزیز الغفار “۔ اور تمہارے لیے میری دعوت غالب اور بخشش کرنے والے پروردگار کی طرف سے اس مرد مومن نے اپنی دعوت اور قوم کی دعا کا موازنہ کرکے کہا کہ عجیب بات ہے کہ میری اور تمہاری دعوت میں بعد المشرقین ہے ، میں تمہیں ایمان ، نیکی ، توحید اور آخرت کی زندگی کی طرف بلا رہا ہوں جبکہ تم اپنے ساتھ مجھے بھی دوزخ میں دھکیلنا چاہتے ہو ، ذرا غور تو کرو کہ تم کدھر جا رہے اور میں تمہیں کس طرف بلا رہا ہوں ، نیک اور ابدی راحت کا راستہ کون سا ہے اور دائمی عذاب کا شکار ہونے کی راہ کون سی ہے میں تو چاہتا ہوں کہ تم اب بھی سنبھل جاؤ اور کفر وشرک اور اللہ تعالیٰ کے نبی کی ایذاء رسانی کو ترک کرکے خدائے غفار کی بخشش کے مستحق بن جاؤ وہ بڑا مہربان ہے ، انسان جب بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ مہربانی فرماتا ہے اور سابقہ کوتاہیاں معاف کرکے انسان کو اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہے ، وہ تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے اور ہر لحاظ سے غالب اور متصرف ہے ۔
فرمایا (آیت) ” لاجرہ “ یہ بالکل سچی ، پکی اور قطعی بات ہے ، (آیت) ” انما تدعوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا ولا فی الاخرۃ “۔ کہ تم مجھے حس کی طرف دعوت دیتے ہو اس کی دنیا اور آخرت میں کوئی دعوت نہیں وہ نہ تو خود کوئی کام کرسکتے ہیں یعنی کسی کی دعا کو قبول کرسکتے ہیں اور نہ وہ کسی سے قبول کروا سکتے ہیں ان میں سے بعض تو شجر حجر وغیرہ بےجان چیزیں ہیں ، مگر وہ بیچارے کسی کی دعا کو کیسے قبول کریں گے ، انہیں تو کسی بات کا شعور ہی نہیں ، اور جو ہستیاں ذی روح اور ذی جان ہیں وہ ویسے ہی بےاختیار ہیں ، اللہ تعالیٰ نے انہیں کوئی اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کریں یا اللہ تعالیٰ سے جبرا کوئی بات منوا لیں ، اختیار تو سارے کا سارا قادر مطلق کے پاس ہے جو ہر چیز کا خالق مدبر اور متصرف ہے اور میں تمہیں اسی وحدہ لا شریک کی طرف بلاتا ہوں جو حاجت روائی اور مشکل کشائی پر قادر ہے ۔
سورة الاحقاف میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” ومن اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ وھم عن دعآئھم غفلون “۔ (آیت : 5) اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو ایسی ہستی کو پکارے جو قیامت تک اس کو جواب نہ دے سکے ، اور ان کے پکارنے کی خبر تک نہ ہو اس مرد مومن نے کہا کہ تم مجھے ایسی ہستیوں کی طرف دعوت دے رہے ہو جو جواب دینا تو درکنار وہ بات سننے سے بھی عاری ہیں ، لہذا اس بات میں غور کرو اور میری دعوت کو قبول کرلو جو مبنی برحق ہے ایسا ہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورة الرعد میں بھی بیان فرمایا ہے کہ غیر اللہ کو پکارنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص (آیت) ” کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغد “۔ (آیت : 14) اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے کہ وہ خود بخود اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس شخص تک کبھی نہیں آتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ظاہری ذرائع کو استعمال نہیں کرے گا مطلب یہ ہے کہ شجر وحجر ، بتوں اور اہل قبور کو پکارنا لایعنی ہے ، اللہ وحدہ لاشریک کو پکارنا ہی کار آمد ہو سکتا ہے ۔
سورة الاحقاف میں اس طرح بھی آیا ہے (آیت) ” واذا حشر الناس کانوا لھم اعدآء وکانوا بعبادتھم کفرین “۔ (آیت : 6) جب قیامت والے دن تابع اور متبوع اکھٹے کیے جائیں گے اور تابعین اپنے متبوعین سے مدد کی درخواست کریں گے تو وہ اس کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی پرستش سے انکار کردیں گے وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو تم نے تو شیطان کی بات مان کر کفر اور شرک کا راستہ اختیار کیا آج ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے ، بہرحال اس مرد مومن نے ہر طریقے سے قوم کو بات سمجھانے کی کوشش کی اور انہیں آخرت کی گرفت سے بھی ڈرایا اور پھر ساتھ یہ بھی کہا (آیت) ” وان مردنا الی اللہ “۔ اور ہمارا پھرنا تو اللہ وحدہ لاشریک کی طرف ہی ہے قیامت والے دن سب اسی کی عدالت میں حاضر ہوں گے ، حساب کتاب ہوگا ، جزائے عمل کی منزل آئے گی (آیت) ” وان المسرفین ھم اصحب النار “۔ اور پھر حد درجہ زیادتی کرنے والے ہی دوزخ میں جائیں گے اور یاد رکھو تمہارا یہ فرعون ، ہامان قارون اور دیگر بڑے بڑے ائمۃ الکفر تمام جہنمیوں کے لیڈر ہوں گے ۔
(حرف آخر)
آخر میں اس اللہ کے ایماندار بندے نے نہایت دلسوزی اور ہمدردی کے انداز میں قوم کو خطاب کیا (آیت) ” فستذکرون ما اقول لکم “۔ جو باتیں میں آج تمہیں بتلا رہا ہوں ان کو آگے چل کر یاد کرو گے ، میری یہ نصیحت اس وقت یاد آئیگی جب گرفتار بلا ہو کے مگر اس وقت کی پیشمانی کچھ کام نہ آئے گی اور تمہیں عذاب الہی کا مزا چکھنا پڑے گا میری نصیحت پر عمل کرنے کا وقت آج ہے ، اگر سمجھ جاؤ گے تو بچ جاؤ گے وگرنہ تمہارا ٹھکانا جہنم ہی ہوگا ، نیز فرمایا کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، میں نے حق نصیحت ادا کردیا (آیت) ” وافوض امری الی اللہ “۔ اور اب میں اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں وہ جو چاہے گا میرے ساتھ سلوک کرے گا ، کیونکہ (آیت) ” ان اللہ بصیر بالعباد “۔ بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر نگاہ رکھنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ کون سا بندہ کس درجے میں جا رہا ہے ۔
توحید پرست ہے یا کافر ومشرک ، اس سے کوئی عمل پوشیدہ نہیں ، جزا یا سزا کا فیصلہ وہ خود کرے گا لہذا میں تو اپنا معاملہ اسی کے سپرد کرتا ہوں ۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس سارے معاملے کا انجام بھی بیان فرما دیا (آیت) ” فوقہ اللہ سیات مامکروا “۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کفار کی بری تدبیر سے بچا لیا ، اس مقام پر ہ کی ضمیر مرد مومن کی طرف لوٹائی جائے تو معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کفار کی برائیوں سے بچا لیا ، اور اگر اس ضمیر کو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹایا جائے تو یہ بھی درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے حواریوں کے شر سے بچا لیا ، اور دشمنان کی تمام تدابیر ناکام ہوگئیں ۔
قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب فرعون اور اس کے حواری موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے درپے تھے تو وہ اس مرد مومن کو کیسے معاف کرسکتے تھے جس نے علی الاعلان موسیٰ (علیہ السلام) کی حمایت کا اظہار کردیا تھا ، چناچہ صاحب تفسیر مدارک اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ کا یہ بندہ مذکورہ نصائح کر کے وہاں سے بھاگ کر کسی پہاڑی علاقے میں روپوش ہوگیا ، فرعون نے اس کی گرفتاری کے لیے ایک ہزار فوجی مامور کیے ، مگر خدا کی قدرت کو ان میں سے پانچ سو آدمی تو دوران تلاش ہی کسی حادثہ کا شکار ہو کر مر گئے ، اور باقی پانچ سو آدمیوں نے سرتوڑ کوشش کی مگر وہ مرد مومن کو تلاش کرنے میں ناکام رہے ، پھر جب وہ فرعون کے پاس ناکام واپس لوٹے تو اس نے ان سب کو مروا دیا کہ یہ اپنے فرض کی انجام دہی میں ناکام ہوئے ہیں ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس ایماندار آدمی کو کفار کی بری تدبیر سے بچا لیا ۔
حضرت قتادہ (رح) اور صاحب تفسیر در منثور فرماتے ہیں کہ اس مرد مومن کو بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ بحر قلزم سے نجات دلائی تھی بہرحال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور یہ ایماندار آدمی تو فرعون اور اس کے حواریوں کی بری تدبیر سے بچ گئے ، (آیت) ” وحاق بال فرعون سوء العذاب “۔ مگر برے عذاب نے آل فرعون کو گھیر لیا ، چناچہ فرعون اپنے لاؤ لشکر اور حواریوں سمیت بحر قلزم کی موجوں میں غرق ہوگیا ، اور جتنے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تعاقب کیا تھا ، ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا البتہ جو لوگ اپنے گھروں میں رہے اور تعاقب میں شریک نہ ہوئے وہ بھی بچ گئے ۔
Ayahs 40:46–50ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے توحید اور جزائے عمل کی بات سمجھانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آل فرعون کا ذکر کیا کہ انہوں نے کسی طرح سرکشی کی ، حق کی مخالفت کرتے رہے ، موسیٰ (علیہ السلام) کو تکالیف پہنچائیں اور آخر میں قتل کے درپے ہوئے اس دوران میں قوم فرعون میں سے ایک مرد مومن نے آل فرعون کو نصیحت کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی مخالفت کی اور پھر اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ، اللہ تعالیٰ نے اس مرد مومن اور موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے حواریوں کی بری تدبیر سے بچا لیا اور خود انہی کو عذاب میں مبتلا کیا ، دنیا میں تو وہ بحر قلزم میں غرقی ہوئے اور اب عالم برزخ میں بھی ان کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے ، جب کہ آخرت کا دائمی عذاب ابھی آنے والا ہے ۔
(برزخ میں جزا وسزا کا مسئلہ)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا “۔ ان کو صبح وشام آگ پر پیش کیا جاتا ہے ، اس وقت فرعون اور اس کے حواری عالم برزخ میں ہیں اور اسی دوران کی کیفیت بتلائی جا رہی ہے کہ انہیں ابھی سے صبح شام آگ پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ آخرت میں ابدی جہنم کا تھوڑا سا نمونہ ابھی سے چکھ لیں ۔ (آیت) ” ویوم تقوم الساعۃ “۔ اور پھر جب قیامت برپا ہوگی ، اس دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیں گے (آیت) ” ادخلوا ال فرعون اشد العذاب “۔ کہ آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو ، یہ سزا ان کو اس لیے دی جا رہی ہے کہ دنیا کی زندگی میں یہ لوگ بڑے سرکش ، مغرور اور حد سے تجاوز کرنے والے تھے ۔
یہ آیت منجملہ ان دس آیات میں سے ہے جن میں بزرخ یا عذاب قبر کا ذکر ملتا ہے ، ان آیات سے متبادر ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد کفار ، مشرکین اور دیگر گنہگاروں کو قبر میں تکلیف پہنچتی ہے ، جب کہ اہل ایمان اور نیکی والوں کو راحت نصیب ہوتی ہے تمام بڑے بڑے مفسرین امام بیضاوی (رح) امام ابوبکر جصاص (رح) ، امام رازی (رح) ، صاحب مدارک (رح) وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کی رو سے عذاب قبر برحق ہے ، لہذا برزخ کے ثواب و عذاب کا مسئلہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک متفق علیہ ہے ، البتہ بعض گمراہ فرقے معتزلہ ، رافضی ، چکڑالوی اور پرویزی وغیرہ عذاب قبر کے منکر ہیں اور وہ عالم بزرخ میں انسان کے جسم وروح کے تعلق اور پھر احساس راحت والم کو تسلیم نہیں کرتے ۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے قبر کے عارضی عذاب اور پھر آخرت کے دائمی عذاب کا ذکر فرمایا ہے ، البتہ اہل ایمان کے لیے راحت کا ذکر سنت میں مذکور ہے ، عذاب قبر کا ذکر کم وبیش ستر (70) احادیث صحیحہ میں آتا ہے ، قبر میں دفن کیے جانے والے شخص کا ذکر تو عام ہے کہ دفن کے فورا بعد منکر نکیر نامی فرشتے قبر میں آکر مردے سے سوال و جواب کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس پر راحت یا تکلیف والی منزل ضرور آتی ہے ، اور اگر کسی شخص کو دفن ہی نہ کیا گیا ہو ، اسے جانوروں نے کھالیا ہو ، آگ نے جلا دیا ہو یا پانی میں غرق ہوگیا ہو ، اس کے ذرات ہوا میں اڑ گئے ہوں یا مٹی میں مل گئے ہوں ہر صورت میں سوال و جواب کی منزل ضرور آتی ہے مگر اس کی کیفیت کا علم ہمیں اس وقت نہیں ہوتا ، اس سارے مرحلے کا صحیح صحیح ادراک تو مرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر مجھے بہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ مردوں کی سزا کی جو کیفیت میں دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں بھی دیکھا دی جائے وہ ایسی ہولناک کیفیت ہے کہ اگر کوئی دیکھ لے تو تو مردوں کو دفن ہی نہ کرے ، حضور ﷺ نے عذاب قبر سے بچاؤ کی یہ دعا بھی تعلیم فرمایا ہے جو کہ نماز میں درود شریف کے بعد پڑی جانے والی دعاؤں میں شامل ہے ” اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر واعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال واعوذبک من فتنۃ المحیا والممات “۔ اے اللہ ! میں تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے ، مسیح دجال کے فتنہ سے ، اور زندگی اور موت کے فتنہ سے ۔ اور زندگی اور موت کے فتنہ سے ، صحیح حدیث میں آپ کا یہ فرمان بھی موجود ہے کہ قبروں میں تمہاری بہت بڑی آزمائش ہوگی اور دجال کے فتنہ کے وقت بھی ، لہذا جو شخص عذاب قبر کا انکار تاویل کے ساتھ کرتا ہے ، وہ گمراہ اور بدعتی ہے اور جو آدمی سرے سے ہی عذاب وثواب قبر کا منکر ہے اس پر کفر لازم آتا ہے ، یہ مسئلہ شفاعت کے مسئلہ کی مانند ہے کہ جو اس کا تاویل کے ساتھ انکار کرے وہ گمراہ اور بدعتی ہے اور جو مطلقا انکار کرتا ہے اس پر تکفیر کا فتوی لگتا ہے ۔
(قبر کا عذاب)
عذاب قبر سے متعلق صحیح حدیث میں آتا ہے کہ بعض گنہگاروں پر قبر اس قدر سکڑتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجاتی ہیں یہ ضغظ قبر کہلاتا ہے ، قبر میں منکر نکیر کے سوال و جواب کا ذکر بھی صحیح احادیث میں آتا ہے اور یہ بھی کہ مومن آدمی صحیح جواب دیتا ہے تو فرشتے اس کو تسلی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آرام سے سو جاء برخلاف اس کے کافر ، مشرک یا بدعقیدہ آدمی صحیح جواب نہیں دیتا تو اس کو سزا ملتی ہے ، بعض روایات میں آتا ہے کہ فرشتے ایسے شخص کو کانوں کے درمیان ہتھوڑے کے ساتھ اتنی شدید ضر لگاتے ہیں کہ اگر وہ ضرب کسی سخت ترین چٹان پر ماری جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے ، اس ضرب کی آواز انسانوں اور جنوں کے سوا ہر چیز سنتی ہے ، پھر بعض لوگوں پر ننانوے (99) سانپ مسلط کرنے گا ذکر بھی ملتا ہے جو اسے ڈستے رہتے ہیں بہرحال عذاب قبر احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ، آیات قرآنی بھی اس کی تصدیق کرتی ہیں ، لہذا اس پر یقین رکھنا چاہئے بعض معتزلہ قسم کے لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کے حیثیت پتھر کی سی ہوتی ہے اور اس کے لیے سزا یا جزا کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، مگر یہ نظریہ باطل ہے ۔
صحیح احادیث میں عذاب قبر میں تخفیف کا ذکر بھی ملتا ہے ، مثلا حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں اس قسم کے دو واقعات ملتے ہیں ، پہلا واقعہ یہ ہے کہ آپ بعض قبروں پر گزرے تو آپ نے ان پر دو سبز ٹہنیاں رکھوا دیں اور فرمایا کہ ان قبر والوں کو عذاب ہو رہا تھا ، مگر کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ان میں سے ایک تو چغل خور تھا اور دوسرا شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا ، صحیح حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ پیشاب سے بچو کیونکہ عام طور پر عذاب قبر اسی وجہ سے ہوتا ہے ۔
آپ کو دوسرا واقعہ دوران سفر کا ہے آپ نے حضرت جابر ؓ سے فرمایا کہ درخت سے دو شاخیں کاٹ کر ایک اس جگہ پر رکھ دو اور دوسری اس جگہ پر حضرت جابر ؓ نے ایسا ہی کردیا اور پھر دریافت کیا ، حضور ! اس کا کیا مطلب ؟ آپ نے فرمایا کہ ان جگہوں میں دو قبروں والوں کو سزا ہو رہی تھی اور میں نے چاہا کہ ان کے عذاب میں تخفیف کی سفارش کروں ، لہذا یہ دو ٹہنیاں رکھوا دی ہیں ۔
(عذاب کا احساس)
یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد قبر میں جو عذاب ہوتا ہے یہ صرف روح کو ہوتا ہے یا اس میں جسم میں بھی شریک ہوتا ہے بعض حضرات تو صرف روح کے احساس عذاب کے قائل ہیں لیکن اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ روح کو تکلیف جسم کے تعلق کے ساتھ ہوتی ہے البتہ یہ اشکال باقی رہتا ہے کہ اگر کسی شخص کا جسم معدوم ہوچکا ہے ، مثلا کوئی درندہ کھا گیا یا جل کر راکھ ہوگیا تو اس صورت میں جسم اور روح کا تعلق کیسے قائم ہوتا ہے صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اگر انسانی جسم کے تمام عناصر بھی گل سڑ جائیں تب بھی اس کا کچھ نہ کچھ حصہ باقی رہتا ہے مثلا بخاری ، مسلم ، مسند احمد ، اور موطا امام مالک ، میں موجود ہے کہ انسان کی دمچی کی ہڈی ضروری باقی رہتی ہے اور پھر قیامت کو اسی سے انسان کا ڈھانچہ دوبارہ کھڑا کیا جائے گا ، بہرحال جسم کے کسی ایسے حصے کے ساتھ روح کا تعلق فی الجملہ قائم رہتا ہے جس کی وجہ سے جزاء یا سزا کے احساس کا تعلق اس مجموعہ کے ساتھ ہوتا ہے ، اس کی مثال ایسے ہے جیسے انسان کے جسم کی اگر کسی ایک انگلی کو تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے الغرض ! عالم برزخ میں جزا یا سزا کا احساس روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے ، مگر اس کو کوئی دوسرا آدمی دیکھ نہیں سکتا ۔
امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ارشاد کے مطابق عذاب قبر کو تسلیم کرلے ، اگر ہم اس کی کیفیت معلوم کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں کیونکہ ہمارے پاس وہ آنکھیں نہیں جن کے ذریعے ہم عذاب وثواب کا مشاہدہ کرسکیں ، آپ اس کی مثال اس طرح بیان کرتے ہیں کہ آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کے قریب ایک شخص سویا ہوا ہے ، اس کو خواب میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے جل رہا ہے ، ڈوب رہا ہے ، سانپ ڈس رہا ہے یا اس پر کوئی آفت آگئی ہے جس کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہو کر کانپ رہا ہے اور بعض اوقات اس کی چیخیں بھی نکل جاتی ہیں مگر پاس والے آدمی کو اس کی تکلیف کا کچھ ادراک نہیں ہوتا اس طرح عذاب قبر کا ادراک اس جہاں میں رہنے والوں کو نہیں ہوتا ، بلکہ اس کو وہی محسوس کرتا ہے جو اس میں مبتلا ہوتا ہے ۔
مفسر قرآن قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) تفسیر مظہری میں بیان کرتے ہیں کہ اس دنیا سے چلے جانے والے مومنوں کی ارواح تو علیین میں چلی جاتی ہیں اور کافروں کی ارواح سجین میں ، قرآن پاک میں دونوں کا ذکر موجود ہے ، اور ان کے اجسام تو قبروں میں ہوتے ہیں پھر ان روحوں کا تعلق اجسام کے ساتھ کیسے قائم رہتا ہے تو قاضی صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ روح اور جسم کے اس اتصال کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، اسی اتصال کی وجہ سے جزا یا سزا کا احساس روح اور جسم کے مجموعے کو ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی بھائی کی قبر پر جا کر سلام کہتا ہے ، تو اہل قبر اس کو سنتا ہے اور اس کا جواب بھی دیتا ہے ، مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہر عالم کے احکام الگ الگ ہیں کان کے عالم کو آنکھ نہیں جان سکتی ، اور آنکھ کا عالم کان کے عالم سے بےبہرہ ہے ، اسی طرح عالم بززخ کے احوال کو عالم دنیا والے نہیں جان سکتے جب خود وہاں پہنچتے ہیں تو حقیقت حال واضح ہوتی ہے ۔
(بززخ دنیا کا تتمہ ہے)
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ عالم بزرخ کا تعلق عالم دنیا سے ہے یا عالم آخرت ہے ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ عالم برزخ اسی جہان دنیا کا تتمہ ہے اس کو اس طرح سمجھ لیں کہ عالم برزخ کے واقعات اس جہان کی نسبت سے ایک باریک جالی یا پردے کے پیچھے پیش آ رہے ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ سکتے ، جب حشر برپا ہوگا اور یہ پردہ اتر جائے گا ، تو تمام چیزیں کھل کر سامنے آجائیں گی ، اس وقت عالم برزخ کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو کوئی چیز غیر معمولی طریقے سے سمجھا دے اس کی مثال خدا تعالیٰ کی رؤیت والی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے پروردگار کو اس جہان میں نہیں دیکھ سکتے ، جب تک کہ مر کر دوسرے جہاں میں نہ چلے جاؤ ۔
امام غزالی (رح) اس بات کو اس طرح سمجھاتے ہیں کہ تم اس کو تو تسلیم کرتے ہو کہ جبرائیل (علیہ السلام) حضور ﷺ پر نازل ہوتے تھے مگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کی آنکھیں انکا مشاہدہ کرنے سے قاصر تھیں ، جب حضور ﷺ خود بتلاتے تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے تھے تو پھر پتہ چلتا تھا ، ایک موقعہ پر حضور ﷺ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس تشریف فرما تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور عرض کیا کہ میری طرف سے عائشہ ؓ کو بھی سلام کہہ دیجئے آپ نے یہ پیغام دیا تو حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ! میری طرف سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو سلام کہہ دیں ، اور ساتھ یہ بھی کہا ” تری مالا تری “۔ حضور ! جو کچھ آپ دیکھتے ہیں وہ ہم تو نہیں دیکھ سکتے ، غرضیکہ ہر مومن نزول وحی پر ایمان رکھتا ہے مگر اسے دیکھ نہیں سکتا اسی طرح اگر وحی پر ایمان ہے تو پھر قبر میں فرشتوں کی آمد ، سوال و جواب اور جزا وسزا پر بھی ایمان رکھنا چاہئے ۔
بہرحال فرمایا کہ فرعونیوں کو عالم برزخ میں صبح وشام آگ پر پیش کیا جاتا ہے پھر جب قیامت برپا ہوگی ، جزا اور سزا کی منزل آئے گی تو فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو سخت عذاب میں داخل کر دو ، ان کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا ، اور یہ ان کے لیے قطعی اور دائمی سزا ہوگی ۔
(تابع اور متبوع کا مکالمہ)
آگے اللہ تعالیٰ نے دوزخ میں جانے والے بعض لوگوں کے مکالمے کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذ یتحاجون فی النار “۔ اور جب کہ دوزخ میں پہنچنے والے آپس میں جھگڑا کریں گے (آیت) ” فیقول الضعفؤا للذین استکبروا “۔ پس کمزور لوگ مغرور اور متکبر لوگوں سے کہیں گے (آیت) ” انا کنا لکم تبعا “۔ ہم تو دنیا میں تمہارے تابع تھے تمہارا ہر حکم مانتے تھے ، تمہاری ہاں میں ہاں ملاتے تھے ۔ (آیت) ” فھل انتم مغنون عنا نصیبا من النار “۔ تو کیا آج تم دوزخ کے کچھ حصے سے ہمیں بچا سکتے ہو ؟ ہم دنیا میں تمہارے پیچھے لگ کر اس نتیجے کو پہنچے ہیں اب ہمارا کچھ تو دکھ بانٹو اور سزا کا کچھ حصہ اٹھا لو (آیت) ” قال الذین استکبروا “۔ اس وقت متکبر لوگ جواب دیں گے بھلا ہم تمہاری کیا مدد کرسکتے ہیں (آیت) ” انا کل فیھا “۔ آج تو ہم سب دوزخ میں پڑے ہیں اور برابر ہیں ، ہم تمہارا بوجھ کیسے اٹھا سکتے ہیں ؟ اور ساتھ یہ ہی کہیں گے (آیت) ” ان اللہ قد حکم بین العباد “۔ اب اللہ نے بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا ہے اہل ایمان کو راحت کے مقام میں اور مجرموں کو یہاں پہنچ دیا ہے لہذا اب ہمارے اور تمہارے عذاب میں نہ تخفیف ہو سکتی ہے اور نہ ہی یہ دور ہو سکتا ہے ، اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی عذاب میں مبتلا رہنا پڑے گا ،
(تخفیف عذاب کی درخواست)
جب تابعین اپنے متبوعین سے مایوس ہوجائیں گے ، تو پھر جہنم کے داروغوں کو رجوع کریں گے (آیت) ” وقال الذین فی النار لخزنۃ جھنم “۔ اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے داروغوں میں سے کہیں گے ۔ (آیت) ” ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب “۔ کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے عذاب میں ایک دن کے لیے ہی تخفیف کر دے ، کم از کم ایک دن تو ہمیں اس مصیبت سے نجات ملے (آیت) ” قالوا اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت “۔ وہ جواب دیں گے ، کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلی نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ کیا انہوں نے تمہیں اللہ کے احکام شرائع اور دلائل نہیں پہنچائے تھے کہ تم ایمان لے آتے ؟ (آیت) ” قالوا بلی “۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں ، اللہ کے رسول تو ہمارے پاس آئے تھے اور انہوں نے ہمیں ہر نیک وبد سے آگاہ کردیا تھا ، مگر یہ ہماری بدبختی تھی کہ ہم نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور کفر وشرک اور معاصی میں مبتلا رہے (آیت) ” قالوا فادعوا “۔ فرشتے کہیں گے ، پس اب پکارتے اور چیختے چلاتے رہو ، مگر کوئی شنوائی نہیں ہوگی ، (آیت) ” وما دعوا الکفرین ان فی ضلل “۔ اور کافروں کی پکار کا گمراہی یعنی ناکامی کے سوا کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا ان کے مسلسل چیخنے چلانے پر بھی عذاب میں تخفیف نہیں ہوگی ، سورة المؤمنون میں بھی ایسا ہی مضمون گزر چکا ہے کہ مجرم لوگو کہیں گے کہ پروردگار ! ہماری کمبختی ہم پر غالب آگئی اور ہم راستے سے بھٹک گئے جس کی وجہ سے ہمیں دوزخ کا منہ دیکھنا پڑا ، پھر وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عرض کریں گے کہ ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے نکال لے ، ہم آئندہ نافرمانی نہیں کریں گے ، مگر وہاں سے جواب آئے گا (آیت) ” قال اخسؤا فیھا ولا تکلمون “۔ (آیت : 108) دوزخ میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو ، اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو ، میں تمہاری کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ مجرم لوگ ہزار سال تک رب العزت کی بارگاہ میں چیختے چلانے رہیں گے مگر اتنے عرصہ کے بعد یہ جواب آئے گا کہ مجھ سے کلام نہ کرو اور ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں پڑے رہو۔
Ayahs 40:51–60ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ ہوگا ، جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا ، پھر اللہ نے دوزخ میں تابعین اور متبوعین کے جھگڑے کا ذکر کیا کہ تابعین اپنے متبوعین سے عذاب میں تخفیف کرانے کے لیے کہیں گے مگر وہ اپنی بےبسی کا اظہار کردیں گے پھر اہل دوزخ جہنم کے داروغوں سے تخفیف عذاب کی درخواست کریں گے مگر ان کی یہ چیخ و پکار بھی رائیگاں جائے گی اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔
اب اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ہے ، مشرکوں اور کافروں کی ایذاء رسانیوں کے مقابلہ میں صبر و استقلال کی تعلیم دی ہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی بارگارہ میں دعا کرنے کا مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔
(نصرت الہی کا وعدہ)
اہل ایمان کی تسلی کے لیے ارشاد خداوندی ہے (آیت) ” انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد “۔ بیشک بہ تحقیق ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی اس دنیا کی زندگی میں بھی اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی قیامت برپا ہو کر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور لوگوں کے حق میں یا ان کے خلاف گواہ پیش کیے جائیں گے مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں میں اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی نصرت کا وعدہ فرمایا ہے اور انہیں تسلی دی گئی ہے کافروں اور مشرکوں کی طرف سے کتنی بھی تکلیف دہ باتیں سننی پڑیں یا ان کی طرف سے کتنی بھی تکالیف پہنچیں آپ صبر سے کام لیں ، دل برداشتہ نہ ہوں اس کا دستور ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی ضرور مدد کرتا ہے ۔
اس موقع پر امام ابن جریر (رح) نے یہ اشکال پیش کیا ہے کہ دنیا میں تو بعض انبیاء اور ایمان والوں کو سخت تکالیف بھی پہنچی ہیں اور شکست بھی آئی ہے حتی کہ بعض انبیاء کو شہید بھی کردیا گیا جیسے زکریا (علیہ السلام) اور یحیٰ (علیہ السلام) اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ویقتلون النبیین بغیر الحق “۔ (البقرہ : 61) اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل پر ذلت ومسکنت مسلط ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی وہ اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے تو ایسی صورت میں نصرت الہی کا کیا مطلب ہے اس کا جواب خود امام صاحب (رح) اور بعض دوسرے مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو تو دنیا میں بھی کامیابی فرمائی حتی کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور خود آنحضرت ﷺ کو بھی خلافت ارضی سے نوازا ، اور یہی ان کی اس دنیا میں مدد ہے ، البتہ جن انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور مومنین کو دنیا میں غلبہ حاصل نہیں ہوسکا اور وہ تکالیف ہی برداشت کرتے رہے انکی نصرت بایں معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مخالفین سے ضرور انتقام لیا ہے ، ان کو نیست ونابود کیا ہے اور پیغمبروں کے مشن کو دنیا میں جاری رکھا ہے یہی ان کی نصرت اور پھر کامیابی کی دلیل ہے ، اللہ تعالیٰ حق پرستوں کی قربانیوں کو ضائع نہیں کرتا خواہ درمیان میں کتنے ہی اتار چڑھاؤ کیوں نہ آئیں ، مگر مشن انہی کا کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں تو ان کی کامیابی یقینی ہے ۔
بعض اوقات اہل ایمان میں کچھ کمزوریاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے وقتی طور پر ناکامی بھی ہوتی ہے ، مگر اللہ کا یہ واضھ فرمان موجود ہے ، غم نہ کھاؤ پریشان نہ ہو (آیت) ” وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین “۔ (آل عمران 39) بالاخر تم ہی بلندو برتر رہو گے ، بشرطیکہ تم صحیح ایماندار ہو ، یہ تو ظاہری فتح وشکست کی بات ہے ، البتہ بااعتبار دلیل اور حجت تو حق ہمیشہ غالب رہتا ہے ، اور پھر جب حشر برپا ہوگا تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کو عزت اور بلندی عطا فرمائے گا اور مخالفین وہاں بھی ذلیل و خوار ہی ہوں گے ، اسی لیے فرمایا کہ ہم اپنے بندوں کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جب قیامت برپا ہوگی اور اولین وآخرین سب جمع ہوں گے ۔
فرمایا وہ ایسا دن ہوگا (آیت) ” یوم لا ینفع الظلمین معذرتھم “۔ کہ اس دن ظالموں کا کوئی عذر یا بہانہ مفید نہیں ہوگا ، ان کی کوئی دستگیری نہیں ہوگی ۔ (آیت) ” ولھم اللعنۃ ان پر لعنت اور پھٹکار ہوگی ، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور دھکیل دیے جائیں گے ، جس کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” ولھم سوء الدار “۔ کہ ان کے رہنے کے لیے بہت برا ٹھکانا ہوگا ، ظاہر ہے کہ اس سے مراد جہنم کا ٹھکانا ہے جہاں پر سخت ترین عذاب کا سامنا کرنا ہوگا ۔
(صبر و استقامت کی تلقین)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ الھدی “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت عطا فرمائی (آیت) ” واورثنا بنی اسرآء یل الکتب “۔ اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا اس کتاب سے مراد کتاب تورات ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی ، اور وارث بنانے کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اس کتاب کے احکام پر علمدر آمد کا مکلف بنایا ، یہ ایسی عظیم المرتب کتاب ہے جو کہ (آیت) ” ھدی وذکری لاولی الالباب “۔ عقلمندوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ احسان جتلایا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دیکر عظیم الشان کتاب کا وارث بنایا اور یہ ایسی کتاب ہے جو قرآن پاک کے بعد شمع ہدایت ہے ۔
پھر اللہ تعالیٰنے حضور ﷺ اور آپ کے متبعین کو تسلی دی اور فرمایا (آیت) ” فاصبر ان وعد اللہ حق “۔ آپ صبر کریں ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے ، وہ اپنے وعدے کے مطابق تمہیں ضرور کامیابی اور بلندی سے سرفراز فرمائے گا اور ساتھ ساتھ (آیت) ” واستغفر لذنبک “۔ آپ اپنے گناہ کی بخشش طلب کریں یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کے لیے گناہ کا لفظ استعمال کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبی صغائر اور کبائر سے پاک ہوتے ہیں ، اس ضمن میں مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ ہر شخص کا گناہ اس کے درجے کے مطابق ہوتا ہے ، بعض لوگ صغائر میں ملوث ہوتے ہیں اور بعض کبائر میں بھی ، بعض ایسے بھی ہوتے ہیں ، جو صغائر وکبائر دونوں سے پاک ہوتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں جن کی معمولی سی لغزش بھی ان کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے ، اگرچہ وہ گناہ نہیں ہوتا ، تو یہاں یہ گناہ سے مراد عام لوگوں کا گناہ نہیں بلکہ نبی کی معمولی سے معمولی لغزش مراد ہے کہ آپ اس پر بھی استغفار کریں ، کیونکہ بعض اوقات معمولی لغزش پر بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت آجاتی ہے جیسا کہ یونس (علیہ السلام) کا واقعہ سورة الصفت میں گزر چکا ہے چناچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ دن میں سو سور بار استغفار کیا کرتے تھے شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ ہر بندے کی تقصیر اس کے درجے کے مطابق ہوتی ہے ، لہذا ہر بندے کو ہمیشہ استغفار کرتے رہنا چاہئے ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اگرچہ صغائر اور کبائر سے پاک ہوتے ہیں مگر ذرا سی غفلت پر بھی سو سو بار استغفار کرتے ہیں۔ گناہ سے بخشش طلب کرنے کا یہی مطلب ہے ۔
(اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید)
پھر ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار اور پروردگار کی تسبیح بیان کریں اس کی تعریف کے ساتھ پچھلے پہر بھی اور صبح کے وقت بھی مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ تسبیح و تمحید میں نماز بھی داخل ہے اور پچھلے پہر سے مراد ظہر سے عشاء تک کی چار نمازیں اور ابکار سے مراد فجر کی نماز ہے اس طرح گویا اس آیت میں پانچویں نمازوں کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے اس قسم کا اشارہ سورة بنی اسرائیل میں بھی موجود ہے وہاں فرمایا (آیت) ” اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل وقرآن الفجر “۔ (آیت : 78) اس آیت کی تفسیر میں بھی مفسرین بیان کرتے ہیں کہ دن ڈھلے (دلوک الشمس) سے لے کر رات کے اندھیرے (غسق الیل) میں چار نمازیں ظہر تا عشاء آجاتی ہیں اور فجر کی نماز قرآن الفجر میں آجاتی ہے بہرحال تسبیح وتحمید سے عام ذکر و اذکار سبحان اللہ ، الحمد للہ وغیرہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے ، اور پانچوں نمازیں بھی اس میں آجاتی ہیں کیونکہ نماز بھی تسبیح وتحمید اور دعا کر مرکب ہے تو فرمایا اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید بیان کیجئے پچھلے پہر اور صبح کے وقت ۔
فرمایا (آیت) ” ان الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن اتھم “۔ بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر کسی سند یا دلیل کے جو ان کے پاس پہنچی ہو ، ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ان فی صدورھم الا کبر ماھم ببالغیہ “۔ کہ ان کے سینوں میں غرور بھرا ہوا ہے مگر وہ اس تک پہنچنے والے نہیں یعنی کامیاب نہیں ہوں گے مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل ، احکام اور مسائل آ چکے ہیں مگر یہ اپنے غرور وتکبر کی بناء پر بلاوجہ ان میں جھگڑا کرتے ہیں اور اللہ کی آیات کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرنا چاہتے تمام بڑے بڑے ڈکٹیٹر دولت مند اور سرکش لوگوں نے ہمیشہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اتباع سے گریز کیا ہے کیونکہ اگر وہ نبیوں کی نبوت کو تسلیم کرلیں تو پھر ان کی اپنی چوہدراہٹ جاتی رہتی ہے ، تو فرمایا کہ ان ناہنجاروں کے سینے غرور وتکبر سے بھرے رہتے ہیں مگر یہ اس کی انتہا تک نہیں پہنچ سکیں گے یعنی کامیاب نہیں ہوں گے بایں ہمہ (آیت) ” فاستعذ باللہ “۔ آپ ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں تاکہ یہ لوگ آپ کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکیں (آیت) ” انہ ھو السمیع البصیر “۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ، ایسے موقع پر پناہ طلب کرنے کا طریقہ بھی حضور ﷺ نے سکھایا ہے کہ یوں دعا کیا کرو ” اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرورھم “۔ اے اللہ ہم تیری ذات کو ان دشمنان دین کے مقابلے میں لاتے ہیں اور ان کے شرور سے پناہ چاہتے ہیں ، لہذا تو ہی ہماری حفاظت فرما ۔
ّ (بعث بعد الموت کی دلیل)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لخلق السموت والا رض اکبر من خلق الناس “۔ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کی پیدائش سے بڑا کام ہے (آیت) ” ولکن اکثر الناس لا یعلمون “۔ مگر اکثر لوگ سمجھ سے کام نہیں لیتے اور انسانوں کی بعث بعد الموت کو محال خیال کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو ذات آسمانوں اور زمین جیسی بڑی بڑی اشیاء کو تخلیق کرسکتی ہے اس کے لیے انسان جیسی چھوٹی سی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا کونسا مشکل کام ہے جب کہ پہلے سے اس کا نمونہ بھی موجود ہے ، تو انسان کس غرور وتکبر کی بنا پر وقوع قیامت ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل کا انکار کرتے ہیں کیا اتنی سی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ؟
پھر فرمایا ذرا غور کرو (آیت) ” وما یستوی الاعمی والبصیر “۔ کہ ایک اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے ، اسی طرح (آیت) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت ولا المسیئ “۔ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دینے والے اور بدکار اور گنہگار لوگ بھی برابر نہیں ہو سکتے ، جب یہ ہماری نظروں میں بھی برابر نہیں ہو سکتے تو پھر جزائے عمل کے اعتبار سے کیسے برابر ہو سکتے ہیں کہ سب کو یونہی چھوڑ دیا جائے اور ان کے اعمال وکردار کا کوئی فیصلہ نہ کیا جائے گا۔ فرمایا (آیت) ” قلیلا ما تتذکرون “۔ بہت ہی کم لوگ ان حقائق سے نصیحت حاصل کرتے ہیں وگرنہ اکثر گمراہ ہی رہتے ہیں فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” ان الساعۃ لاتیۃ لا ریب فیھا “۔ بلاشبہ قیامت برپا ہونے والی جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، اللہ تعالیٰ سب کو دوبارہ زندہ کرکے اپنے سامنے کھڑا کریگا اور ان سے اس زندگی کے اعمال کا حساب لے گا اور پھر جزا یا سزا کا حتمی فیصلہ کرے گا ، اس واضح حقیقت کے باوجود فرمایا (آیت) ” ولکن اکثر الناس لا یؤمنون “۔ لوگوں کی اکثریت وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین نہیں رکھتی اگر قیامت پر ایمان ہوتا تو اس کے لیے تیاری کرتے ، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور آخرت کے لیے توشہ تیار کرتے مگر یہ تو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کی اکثریت کے سامنے قیامت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ، یہ اس کے لیے تیاری کیا کریں گے ؟
(دعا کی اہمیت)
آگے اللہ تعالیٰ نے دعا کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” وقال ربکم ادعونی استجب لکم “۔ اور تیرے پروردگار کا فرمان ہے کہ مجھے پکارو ، میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا ، نیز فرمایا (آیت) ” ان الذین یستکبرون عن عبادتی “۔ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں ، سیدخلون جھنم داخرین “۔ وہ عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے آیت کے پہلے حصے میں (آیت) ” ادعونی “۔ کا لفظ ہے یعنی مجھے پکارو یا میرے سامنے دعا کرو اور دوسرے حصے میں (آیت) ” عن عبادتی “۔ ہے یعنی جو لوگ میری عبادت سے غرور کرتے ہیں وہ جہنم رسید ہوں گے ، اس سے معلوم ہوا کہ دعا اور عبادت ایک ہی چیز یا دوسرے لفظوں میں دعا بھی عبادت ہی کا حصہ ہے مفسرین فرماتے ہیں کہ عبادت کا اطلاق نماز ، روزہ حج ، زکوۃ اور دیگر عبادات کے علاوہ دعا پر بھی ہوتا ہے ، اس مقام پر عبادت سے مراد خاص طور پر دعا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے دست دعا دراز نہیں کرتا وہ گویا متکبر ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت ہی بری خصلت ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے (1) (مشکوۃ ص 194 ج 1) ” الدعاء مخ العبادۃ “۔ یعنی دعا عبادت کا مغز ہے آپ کا یہ بھی فرمان ہے ” لیس شیء اکرم علی اللہ من الدعائ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں دعا سے زیادہ کوئی چیز عزت والی نہیں ہے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ” من لم یسال اللہ یغضب علیہ “۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے ، ترمذی شریف میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” الدعآء ھو والعبادۃ “۔ کہ دعا ہی عین عبادت ہے ، اور پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ، (آیت) ” وقال ربکم ادعونی ۔۔۔۔۔۔ الخ)
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مختلف قسمیں ہیں مثلا (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “۔ والی دعا فرض ہے جس میں درخواست کی جاتی ہے کہ مولا کریم ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا ، اور اس پر چلا ، ایک دعا سنت ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب تم تشہد میں بیٹھو تو درود شریف کے بعد بہتری کی جو دعا پسند ہو وہ مانگو ، اسی طرح میدان عرفات میں حاجی کے لیے دعا کرنا سنت کے درجے میں ہے ، دعا کی ایک قسم حرام اور مکروہ ہے اور وہ یہ کہ انسان صرف دنیا کی لذات طلب کرے اور آخرت کو فراموش کر دے ، قطع رحمی یا معصیت کی دعا مانگے یا کوئی ایسی چیز طلب کرے جو محال ہو ، تو ایسی دعائیں درست نہیں ہیں بلکہ مکروہ اور حرام ہیں انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا میں اپنی جائز ضروریات کی دعا کرے اور آخرت میں بھی بھلائی کا سوال کرے اس کے علاوہ ہر قسم کے شر سے پناہ مانگنا مستحب ہے ۔
(مستجاب الدعوت لوگ)
حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق بعض لوگ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں اور ان کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا ، مثلا والد کی دعا اور اولاد کے حق میں مستجاب ہوتی ہے ، اور اگر والد اولاد پر ناراض ہے تو اس کی بددعا فورا لگے گی ، اسی طرح سفر کی دوران مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے ، مظلوم کی دعا بھی رد نہیں ہوتی ،
اسی طرح روزے دار اور حاکم عادل کی دعا کو شرف قبولیت حاصل ہوتا ہے بیمار کی دعا بھی مقبولیت کے درجے میں ہوتی ہے جب تک وہ تندرست نہ ہو حاجی جب تک حج کرکے واپس اپنے گھر نہ پہنچ جائے اس کی دعا مقبول ہوتی ہے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے پس پشت دعا کرے تو فرشتہ آمین کہتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ تجھے بھی ایسا ہی عطا فرمائے ، غرضیکہ بعض لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ۔
(ترک دعا کا مسئلہ)
بعض بزرگان دین کا مقولہ ہے کہ عام طور پر دعا کا کرنا سنت اور مستحب ہے لیکن بعض اوقات اس کا ترک بھی افضل ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جانے لگا تو آپ سے کہا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے بچاؤ کی دعا کریں تو آپ نے فرمایا علمہ بحالی حسبی من سوالی “۔ یعنی میرے متعلق اللہ تعالیٰ کا علم میرے سوال سے بہتر ہے ، وہ خود میری حالت سے واقف ہے لہذا سوال کی کیا ضرورت ہے ؟ اسی لیے بعض فرماتے ہیں کہ اگر معاملے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سونپ دیا جائے تو ترک دعا بھی دعا ہی کی ایک قسم ہے ، انسان کہہ دے کہ مولا کریم ! میں تیری رضا پر راضی ہوں ، تو میرے متعلق جو بھی فیصلہ کرے مجھے منظور ہے ، برصغیر کے مولانا حسرت موہانی (رح) دین دار آدمی تھے انہوں نے بھی اپنے شعر میں کہا ہے ۔
مرضی یار کے خلاف نہ ہو
اس لیے لوگ میرے لیے دعا نہ کریں :
اس طرح گرجرانوالے کے مجید لاہوری (رح) کہتے ہیں : ۔
خدا جب راز عسرت جانتا ہے
کہو تو کیا کہوں آخر خدا سے :
یہ تفویض کا مقام ہے کہ اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے اور اس قسم کا تصور زاہد لوگ رکھتے ہیں ، عام آدمی کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا لہذا ہمیں عام قانون کے مطابق ہر وقت دعا مانگتے رہنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو لوگ میرے سامنے دعا نہیں کرتے وہ گویا اپنی بڑائی اور تکبر کا اظہار کرتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے ، ایسے لوگ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ۔