Ayahs 40:61–68ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ ہدایت اور گمراہی کی وضاحت بھی کی گئی تھی قیامت کے برحق ہونے کی بات تھی اور دعا کا مسئلہ بھی بیان ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر وقت اس کے دامنے دت بدعا رہو ، جو شخص تکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کریگا ، اس کو ذلیل و خوار کر کے جہنم میں داخل کیا جائیگا ۔
جیسا کہ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ، حوامیم کی ساری سورتیں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد پر مشتمل ہیں چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضمون مختلف انداز سے بیان ہو رہے ہیں توحید کا مسئلہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے اور آج کے درس میں بھی توحید کے عقلی دلائل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کی بات بھی سمجھا دی گئی ہے ۔
(لیل ونہار کی افادیت)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا ہے تاکہ تم اس میں سکون پکڑ سکو اللہ تعالیٰ نے رات کی واضع ہی ایسی بنائی ہے کہ اس میں قدرے ٹھنڈک ہوتی ہے کبھی دھیمی روشنی اور کبھی تاریکی ہوتی ہے جو نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں درندوں ، چرندوں ، اور کیڑے مکوڑوں کو بھی آرام کرنے میں مدد دیتی ہے ، انسان ہوں یا جانور چوبیس گھنٹے تو کام نہی کرسکتے ، اپنے اعضاء کی تحلیل شدہ قوی کی بحالی کے لیے سب کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے ، لہذا اللہ تعالیٰ رات کو پھیلا کر ان کے لیے آرام و سکون کا موقع بہم پہنچا دیتا ہے ، بیشتر جاندار رات کے وقت آرام کرتے ہیں اور اگلے دن کے کام کے لیے پھر سے تازہ دم ہوجاتے ہیں ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے رات کو اپنی حکمت اور جانداروں کی مصلحت کے لیے بنایا ہے تاکہ اس میں آرام پکڑ سکیں ۔
فرمایا (آیت) ” والنھار مبصرا “۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے دن کو دیکھنے والا بنایا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ دن کو سورج کی روشنی کی وجہ سے انسان ہر چیز آسانی سے دیکھ سکتا ہے اور پھر اپنے کام کاج میں مصروف ہوجاتا ہے ، انسان جو بھی پیشہ اختیار کرتا ہے وہ صنعت ہو یا زراعت ، تجارت ہو یا کوئی علمی کام ، ملازمت ہو یا کوئی محنت مزدوری ، اس کے لیے عام طور پر دن کا وقت ہی موزوں ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے رات کو آرام کا ذریعہ بنایا ہے اسی طرح دن کو کام کرنے کا موقع فراہم کیا ہے ، اگر رات اور دن کی یہ تقسیم نہ ہو تو مخلوق کے لیے معمولی طریقے سے زندگی گذارنا مشکل ہوجائے ، ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے دن میں سونے کا ذکر بھی کیا ہے ، یہ بھی ممکن ہے کہ جو شخص رات کی ڈیوٹی پر متعین ہے ، لازم ہے کہ وہ دن کے وقت آرام کرے گا ، چونکہ ہر جاندار کے لیے آرام ضروری ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا یہ نظام قائم کردیا ہے ۔
رات اور دن دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” وجعلنا الیل والنھار ایتین “۔ (بنی اسرائیل ، 12) ہم نے رات اور دن کو دو نشانیوں بنایا ہے ، رات کو تاریک اور دن کو روشن کیا ہے تاکہ تم دن کے وقت روزی تلاش کرو اور رات کے ذریعے تقویم کا حساب رکھ سکو ، یہ لیل ونہار خود بخود کسی حادثے کے نتیجے میں نہیں پیدا ہونے بلکہ (آیت) ” یقلب اللہ الیل والنھار “۔ (النور : 44) اللہ تعالیٰ ان کو پلٹیاں دے کر ان میں امتیاز پیدا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے نظام شمسی کا ایک ایسا سلسلہ قائم کردیا ہے کہ جس کے ذریعے رات اور دن آگے پیچھے آتے رہتے ہیں کبھی رات بڑی ہوجاتی ہے اور دن چھوٹا اور کبھی دن بڑا ہوتا ہے اور رات چھوٹی ، موسموں کا تغیر وتبدل بھی اسی نظام قدرت کے ساتھ وابستہ ہے ، ان مختلف موسموں کی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں ہر موسم کی الگ الگ پیداوار ہوتی ہے جس میں انسان اور جانور چرند ، پرند اور کیڑے مکوڑے اپنی اپنی خوراک اور گرمی سردی کی ضروریات پوری کرتے ہیں بہرحال فرمایا کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے اور دن کو کام کاج کے لیے وضع کیا ہے ۔
(انسان کی ناشکرگزاری)
اللہ تعالیٰ نے تو انسانوں کی مصلحت کے لیے دن رات جیسا یہ مفید نظام قائم کیا ہے کیونکہ (آیت) ” ان اللہ لذو فضل علی الناس “۔ وہ لوگوں پر بڑا ہی فضل اور مہربانی کرنے والا ہے ۔ (آیت) ” ولکن اکثرالناس لا یشکرون “۔ مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں یعنی اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے اور سب سے بڑی ناشکری یہ ہے کہ اس منعم حقیقی کی ذات ، صفات یا عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرایا جائے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو لاکھوں ، کروڑوں نعمتیں عطا کی ہیں جن میں سے رات اور دن کی تخلیق کا ذکر اسی آیت میں ہوا ہے چاہئے تو یہ تھا کہ انسان اپنی زبان عمل اور اعضاء جوارح سے ہر ہر نعمت کا شکریہ ادا کرتے مگر فرمایا کہ لوگوں کی اکثریت ناشکر گزار ہی ہے ۔
فرمایا (آیت) ” ذلکم اللہ ربکم “۔ یہی ہے اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار (آیت) ” خالق کل شیئ “۔ جو ہرچیز کا خالق ہے ، اس کے علاوہ ہر چیز مخلوق ہے خواہ وہ عالم بالا میں ہو یا عالم زیریں میں جنت ، دوزخ ملائکہ ، جنات انسان اسی کے پیدا کردہ ہیں ، ہر قسم کے جانور اور کیڑے مکوڑے خواہ وہ ارضی ہوں یا بحری جنگلی ہوں یا صحرائی ، سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور وہی سب کا خالق ہے ، جب ہر چیز کا وہ خالق ہے تو (آیت) ” لا الہ الا ھو “۔ اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں ، عبادت صرف اسی کی کی جاسکتی ہے (آیت) ” فانی تؤفکون “۔ مگر تم خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر کدھر پھرے جاتے ہو ، جب خالق وہ ہے نعمتیں اس نے عطا کی ہیں مدبر اور متصرف وہ ہے تو پھر تم کس کی نذر ونیاز دیتے ہو کس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہو اور کسی کی حد سے زیادہ تعظیم کرتے ہو ؟ کیا یہ بےعقلی اور ناشکری کی بات نہیں ہے ؟
فرمایا (آیت) ” کذلک یؤفک الذین کانوا بایت اللہ یجحدون “۔ اسی طرح وہ لوگ بھی پھیرے جاتے تھے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے مطلب یہ کہ تم سے پہلے منکرین بھی اسی طرح اندھیرے میں ٹکریں مارتے رہے ، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق کے پیچھے بھاگتے رہے ، ان سے مشکل کشائی اور حاجت روائی چاہتے تھے ۔
جس طرح وہ کفر وشرک میں مبتلا ہو کر ناکام ہوئے ، اسی طرح تم بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر دائمی ناکامی کا منہ دیکھو گے ، انسان اگر صرف تخلیق کی نشانی میں غور وفکر کرے تو اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے مگر یہ تو اپنے اردگرد پھیلے ہوئے لاکھوں دلائل میں سے کسی میں غور ہی نہیں کرتے ، پھر یہ راہ راست پر کیسے آسکتے ہیں ؟
(زمین وآسمان کے فوائد)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ یعنی ٹھہرنے کی جگہ بنا دیا زمین کے علاوہ دوسرے کرے ، چاند ، سورج ، ستارے ، مریخ وغیرہ انسان کے لیے قیام گاہ نہیں بن سکتے کیونکہ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کی اشیاء پیدا ہی نہیں کیں ، اگر کوئی سائنسدان زمین کے علاوہ فضا یا کسی دوسرے سیارے میں جائے گا تو بالکل عارضی طور پر جائے گا انسان کی مستقل اور طبعی قیام گاہ زمین ہی ہے جہاں اسے ضرورت کی ہر چیز میسر ہے فرمایا ایک تو زمین کو قرار گاہ بنایا (آیت) ” والسماء بناء “۔ اور آسمان کو تمہارے لیے بمنزلہ چھت کے بنا دیا ، یہ ایسے ہی نظر آتا ہے جیسے کوئی قبہ یا خیمہ ہو جو زمین کے اوپر تنا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے زمین آفات وبلیات سے محفوظ ہے سورة الانبیاء میں ہے (آیت) ” وجعلنا السمآء سقفا محفوظا “۔ (آیت : 32) ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنا دیا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی تخلیق اور اس کی افادیت کا ذکر کیا ہے ۔
(مصور حقیقی کی تصویر کشی)
پھر فرمایا ، اللہ تعالیٰ کا یہ احسان بھی یاد کرو (آیت) ” وصورکم فاحسن صورکم “۔ اس نے تمہیں شکل و صورت بخشی اور بہت اچھی صورت عطا کی ، اللہ تعالیٰ مصور حقیقی ہے اس نے انسان کو (آیت) ” فی احسن تقویم “۔ (التین ، 4) بہترین صورت میں پیدا کیا ، سورة آل عمران میں ارشاد ہے (آیت) ” ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشآء “۔ (آیت : 6) اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو رحم مادر میں تمہاری تصویر کشی کرتا ہے جیسے چاہتا ہے ، اگرچہ بعض لوگوں کی شکل و صورت واجبی ہوتی ہے اور بعض بدشکل بھی ہوتے ہیں ، لیکن بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب سے بہتر شکل و صورت میں پیدا فرمایا ہے اور اسے تمام مخلوق پر شرف عطا کیا ہے ، تصویر سازی مصور حقیقی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ، اسی لیے کسی شخص کو کسی جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں بلکہ حرام ہے ، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والے سے کہے گا کہ میں نے تو تصویر بنا کر اس میں جان بھی ڈالی تھی ، اب تم بھی اس میں جان ڈالو جب وہ ایسا نہیں کرسکے گا تو اللہ تعالیٰ سخت مؤاخذہ کرے گا ، زیب وزینت کے لیے بےجان اشیاء عمارت پہاڑ ، دریا ، سورج ، چاند وغیرہ کی تصویر تو بنائی جاسکتی ہے مگر کسی جاندار کی تصویر بنانا اور پھر اسے دیوار کی زینت بنان قطعی حرام ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے ، جس گھر میں کتا یا تصور ہوتی ہے وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا فرمایا ہے ۔
(پاکیزہ روزی)
فرمایا (آیت) ” ورزقکم من الطیبت “۔ اے انسانو ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے روزی عطا کی ہے ، روزی تو تمام جانداروں ، درندوں ، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی مل رہی ہے مگر ان کی روزی کے ساتھ پاکیزگی کی شرط نہیں ہے پاکیزہ رزق اللہ تعالیٰ نے صرف انسان کو مہیا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے صرف وہی رزق انسان کے لیے حلال اور طیب کیا ہے جو اس کی جسمانی اور ورحانی صحت اور پاکیزہ اخلاق کے لیے ضروری ہے ، اور جن چیزوں سے جسم ، روح اور اخلاق میں نجاست پیدا ہوتی ہے ، وہ حرام قرار دی گئی ہیں ، چناچہ مردار ، خون خنزیر کا گوشت ، اور نذر غیر اللہ جسمانی اور روحانی نجاست پیدا کرتے ہیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے لیے حرام کردیا ہے ، روحانی نجاست میں غیر الہ کی نذر کے علاوہ غصب شدہ اور چوری کا مال ، رشوت اور دھوکہ دہی ہے حاصل ہونے والی چیزیں بھی مال حرام میں شمار کی گئی ہیں ، ان کے استعمال سے ذہن میں فساد پیدا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے صرف حلال اور پاک چیزیں ہی بطور رزق استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔
فرمایا (آیت) ” ذلکم اللہ ربکم “۔ یہ ہے تمہارا پروردگار جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا ، تمہیں بہترین صورت میں تخلیق کیا اور پھر طیبات میں سے روزی بہم پہنچائی ، (آیت) ” فتبرک اللہ رب العلمین “۔ پس بڑی برکت والا ہے اللہ تعالیٰ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے فرمایا حقیقت میں (آیت) ” ھو الحی “۔ وہی زندہ ہے اور دوسروں کو زندگی بخشنے والا ہے وہی زندگی کا سرچشمہ ہے (آیت) ” لا الہ الا ھو “۔ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے کہ جس کی پرستش کی جائے ، لہذا (آیت) ” فادعوہ “۔ اپنی مشکلات اور حاجات میں اسی کو پکارو ، اس حال میں کہ (آیت) ” مخلصین لہ الدین “۔ خالص اسی کے لیے اطاعت کرنے والے ہو ، اس کی عبادت و ریاضت میں شرک اور ریا کی ملاوٹ نہ کرو ، گذشتہ سورة الزمر میں بھی گزر چکا ہے ، (آیت) ” فاعبد اللہ مخلصا لہ الدین “۔ (آیت) آپ اللہ کی عبادت کریں اس حال میں کہ خالص اسی کی اطاعت کرنے والے ہوں ریا کی وجہ سے نیک اعمال نامقبول ہوجاتے ہیں ، جب کہ شرک سے تو اصلا سارے اعمال برباد ہی ہوجاتے ہیں ، لہذا اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہونی چاہئے (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “۔ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، وہی تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے اور وہی ہر قسم کی عبادت کا حق دار ہے ۔
(شرک کی ممانعت)
ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ﷺ (آیت) ” قل انی نھیت ان عبدالذین تدعون من دون اللہ “۔ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے تو منع کردیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، خاص طور پر (آیت) ” لما جآء نی البینت من ربی “۔ جب کہ میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس واضح نشانیاں اور دلائل قدرت بھی آ چکے ہیں ، لہذا میں تو اللہ تعالیٰ کی ذات اس کی صفات اور اس کو پکارنے میں کسی کو شریک نہیں بنا سکتا ، فرمایا آپ یہ بھی اعلان کردیں ، (آیت) ” وامرت ان اسلم لرب العلمین “۔ کہ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کا ہی تابع فرمان بن جاؤں ، اسلام کا معنی انقیاد اور اطاعت ہوتا ہے یعنی قلب و قالب ، دل وجان اور پوری عقیدت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرنا ، فرمایا میں تو اسی طرح سے اللہ تعالیٰ کا مکمل اطاعت گزار ہوں ۔
(تخلیق انسانی کے ادوار)
آگے تخلیق انسانی کے حوالے سے قیامت کی بات بھی سمجھائی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھو الذی خلقکم من تراب “۔ خدا کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں مٹی جیسی حقیر اور بےجان چیز سے پیدا کیا ، لوگ اس مٹی کو پاؤں تلے روندتے ہیں اس پر گندگی پھینکتے ہیں اور اس کو بڑی بےقدری سے استعمال کرتے ہیں ، نوع انسانی کے جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے تخلیق فرمایا اور پھر نسل انسانی کو (آیت) ” ثم من نطفۃ “۔ قطرہ آب سے چلایا یہ ایک ایسا ناپاک قطرہ ہوتا ہے کہ جسم ، یا کپڑے کو لگ جائے تو دھوئے بغیر چارہ نہیں ہوتا اور لوگ اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں ، بہرحال یہ قطرہ شکم مادر میں ایک چلے یعنی چالیس دن تک اسی حالت میں رہتا ہے اور پھر اس میں تغیر پیدا ہونے لگتا ہے دوسرے چلے میں یہ قطرہ آب منجمند خون میں تبدیل ہوجاتا ہے اور تیسرے چلے میں (آیت) ” ثم من علقۃ “۔ گوشت میں تبدیل ہو کر ایک لوتھڑا سا بن جاتا ہے اور پھر اس میں ہڈیاں پیدا ہوتی ہیں ، ان پر گوشت چڑھایا جاتا ہے اور بچے کے اندرونی اعضاء درست ہوتے ہیں جسم کے اوپر والے حصے میں کھال بن جاتی ہے اور پھر چوتھے چلے میں اس مجسمہ میں روح الہی داخل کردی جاتی ہے ، نو ماہ کے عرصہ میں بچہ مکمل ہوجاتا ہے تو فرمایا (آیت) ” ثم یخرجکم طفلا “۔ ‘ پھر اللہ تعالیٰ تمہیں بچے کی شکل میں شکم مادر سے باہر نکالتا ہے (آیت) ” ثم لتبلغوا اشدکم “۔ پھر تم بڑھتے بڑھتے اپنی قوت اور جوانی تک پہنچ جاتے ہو (آیت) ” ثم لتکونوا شیوخا “۔ پھر جب زندگی کا زیادہ حصہ گزار چکتے ہو تو بڑھاپے کو پہنچ جاتے ہو اور تمہارے قوی مضمحل ہونے لگتے ہیں جس طرح تم کمرزوری سے قوت کی طرف آئے اسی طرح سے قوت سے کمزوری کی طرف سفر شروع ہوجاتا ہے ۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کی قدرت یہ ہے (آیت) ” ومنکم من یتوفی من قبل “۔ کہ تم میں سے بعض جوانی کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بعض بچے تو پیدا ہی مردہ حالت میں ہوتے ہیں ، بعض ایک دو سانس لے کر اور بعض ایک دو دن میں ختم ہوجاتے ہیں بعض کی عمر مہینوں اور سالوں تک دراز کرتا ہے اور بعض کو عین شباب میں اپنے پاس بلا لیتا ہے ہر انسان کی عمر اللہ تعالیٰ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ، جسے پورا کرکے وہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تاکہ تم پورا کرو مقررہ مدت کو یعنی بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اور اللہ کے مقررہ کردہ وقت تک زندہ رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی عمر یکساں نہیں بنائی اور ہر ایک کے لیے جو مدت مقررہ کی ہے وہ پورا کرتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر راہی ملک عدم ہوجاتا ہے ۔
(معاد پر دلیل)
فرمایا انسانی زندگی کے تمام ادوار ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے (آیت) ” ولعلکم تعقلون “۔ تاکہ تم عقل سے کام لو اور سوچو سمجھو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارا نظام حیات کیسی حکمت اور مصلحت کے تحت قائم کر رکھا ہے اور اس بات میں بھی غور کرو کہ جس اللہ تعالیٰ نے تمہیں نیست سے ہست میں لا کر زندگی میں اتنے تغیر وتبدل پیدا کیے ہیں وہ تمہیں مرنے کے بعد آخرت کے دور میں بھی ضرور پہنچائے گا جس طرح ہر انسانی کی زندگی اور موت کا ایک وقت مقرر ہے ، اسی طرح کائنات کا بحیثیت مجموعی بھی ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آئے گا تو ہر چیز پر موت وارد ہو جائیگی ، پھر اللہ تعالیٰ نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرے گا ، تمام انسانوں اور جنوں کو دوبارہ پیدا کرے گا ، حشر کا میدان قائم ہوگا ہر ایک کا محاسبہ اعمال ہوگا ، اور جزائے عمل کے فیصلے ہوں گے اگر انسان ذرا بھی غور کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ جس اللہ نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اسی طرح وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس طرح معاد کا مسئلہ آسمانی سے سمجھ میں آجاتا ہے ۔
فرمایا (آیت) ” ھو الذی یحی ویمیت “۔ خدا کی ذات وہی ہے جو تمہیں زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے ، (آیت) ” فاذا قضی امرا “۔ پھر جب وہ کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرلیتا ہے (آیت) ” فانما یقول لہ کن فیکون “۔ تو حکم دیتا ہے کہ ہوجاؤ تو وہ چیز فورا ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ انسان کی ابتدائی تخلیق بھی اپنے حکم سے کرتا ہے ، پھر وہی ہر ایک کو موت سے ہمکنار کرتا ہے اور پھر آخر میں وہی دوبارہ بھی زندہ کر کے اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور محاسبہ اعمال اور جزائے عمل کی منزل آئے گی ۔
Ayahs 40:69–78ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔
ّ (آیات الہی میں جھگڑا)
اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ لوگ ان میں جھگڑا کرتے ہیں اور ان کو تسلیم نہیں کرتے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم تر الی الذین یجادلون فی آیت اللہ “۔ کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں ؟ آیات سے مراد معجزات ، دلائل اور احکام ہیں بعض لوگ ان پر خواہ مخواہ اعتراض کرتے ہیں جس کی وجہ محض ان کا عناد ضد اور ہٹ دھرمی ہے وگرنہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات برحق ہیں ، گذشتہ سورة میں گزر چکا ہے کہ آیات الہی میں جھگڑے سے مقصود حق کو کمزور اور باطل کو غالب کرنا ہے ، فرمایا اس قسم کی باتیں کرکے (آیت) ” انی یصرفون “۔ یہ لوگ کدھر پھیرے جا رہے ہیں ، مطلب یہ کہ ایسے لوگ صراط مستقیم کو چھوڑ کر گمراہی کے راستے پر چل رہے ہیں ۔
فرمایا جھگڑا کرنے والے لوگ وہی ہیں (آیت) ” الذین کذبوا بالکتب “۔ جنہوں نے اللہ کی کتاب یعنی قرآن کریم کو جھٹلا دیا اور اسے وحی الہی ہونا تسلیم نہ کیا (آیت) ” وبما ارسلنا بہ رسلنا “۔ اور اس چیز کو بھی جھٹلا دیا جو ہم نے رسولوں کو دے کر بھیجا ہے ، اللہ کے نبیوں کو دی جانے والی چیز میں دین شریعت احکام اور معجزات شامل ہیں ، کفار ومشرکین نے ان سب چیزوں کی تکذیب کی فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” فسوف یعلمون “۔ کہ ان کو عنقریب پتہ چل جائے گا کہ یہ کس قدر غلطی میں مبتلا تھے ، (آیت) ” اذالاغلل فی اعناقھم “۔ جب کہ طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے (آیت) ” والسلسل “۔ اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی اغلال غل کی جمع ہے جس کا معنی گلے کا طوق ہے اور یہ ذلت کی علامت ہے سلاسل یعنی پاؤں کی بیڑیوں کی متعلق سورة الحاقہ میں آتا ہے سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعا “۔ (آیت : 32) کہ یہ ستر ستر گز لمبی ہوں گی جن میں مجرموں کو جکڑا جائے گا (آیت) ” یسبحون “۔ پھر ان کو گھسیٹا جائے گا (آیت) ” فی الحمیم “۔ کھولتے ہوئے پانی کی طرف لفظ ” حمیم “۔ اضداد میں سے ہے اس کا معنی مخلص دوست بھی ہوتا ہے اور یہ لفظ گرم اور ٹھنڈے پانی پر بھی بولا جاتا ہے اس مقام پر سخت گرم کھولتا ہوا پانی مراد ہے جب مجرموں کو پیا تنگ کرے گی ، اور وہ پانی مانگیں گے تو انہیں گھسیٹ کر کھولتے ہوئے پانی کے قریب لایا جائے گا جسے وہ پی نہیں سکیں گے ، اور ایک آدھ گھونٹ اندر چلا بھی گیا (آیت) ” فقطع امعاء ھم (محمد : 15) تو وہ ان کی آنتیں کاٹ نیچے پھینک دے گا اس کے بعد کیا ہوگا ؟ (آیت) ” ثم فی النار یسجرون “۔ ان کو آگ میں جھونک دیا جائے گا یعنی جہنم میں پھینک دیا جائے گا ، فرمایا اس وقت ان بدبختوں کو پتہ چلے گا کہ وہ آیات الہی اور انبیاء کی طرف سے لائے جانے والے معجزات ، شرائع اور احکام کو کس طرح جھٹلاتے رہے ۔
(معبودان باطلہ کی تلاش)
فرمایا (آیت) ” ثم قیل لھم این ما کنتم تشرکون “۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ آج کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے تھے (آیت) ” من دون اللہ کے علاوہ دنیا میں جن سے غلط توقعات وابستہ کر رکھی تھی ، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اور ان کو نذر ونیاز پیش کرتے تھے ، بتلاؤ آج وہ کہاں ہیں اور تمہاری مدد کے لیے کیوں نہیں آتے ؟ (آیت) ” قالوا ضلوا عنا “۔ مجرم جواب دیں گے کہ ہمارے وہ جعلی معبود تو آج ہم سے گم ہوگئے ہیں کہیں نظر نہیں آتے ، صاحب تفسیر کشاف علامہ زمخشری (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اتنی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ سوال ہوگا کہ وہ سامنے نہیں آسکیں گے مجرم کہیں گے کہ وہ تو آج بھاگ گئے (آیت) ” بل لم نکن ندعوا من قبل شیئا “۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے قبل ہم کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے ، مطلب یہ کہ جن معبودان باطلہ پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے آج پتہ چلا کہ ان کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ، دراصل ہم کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے ، ہم نے ان کو بلاوجہ سفارشی یا مختار سمجھ رکھا تھا اور امید رکھتے تھے کہ یہ ہمیں مشکل وقت میں چھڑا لیں گے مگر آج تو وہ ہم سے گم ہوگئے ہیں اور ہمارے کسی کام نہیں آسکتے ، دنیا میں یہ ہماری سخت بھول تھی اس وقت یہ لوگ اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے فرمایا جس طرح سے بےوقت کا اعتراف مفید نہیں ہوگا ،
(آیت) ” کذلک یضل اللہ الکفرین “۔ اسی طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ کا فروں کو گمراہ کردیتا ہے ان کی نیت اور ارادے اچھے نہیں ہوتے ، ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں تکبر اور غرور میں مبتلا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دنیا میں راہ راست نصیب نہیں ہوتا اور وہ زندگی بھر بھٹکتے رہتے ہیں ۔
(جرم اور سزا)
فرمایا آج ان کی گردنوں میں طوق ، پاؤں میں بیڑیاں اور جہنم رسیدگی اس وجہ سے ہے (آیت) ” ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض بغیر الحق “۔ کہ تم دنیا کی زندگی کی دوران ناحق خوشی مناتے رہتے تھے ، (آیت) ” وبما کنتم تمرحون “۔ اور اس وجہ سے بھی کہ تم اتراتے تھے یعنی غرور کرتے تھے ، فرح مطلقا بری چیز نہیں ہے بلکہ اچھے کام پر خوشی کا ہونا اچھی بات ہے ، بعض اوقات جب کوئی نعمت ملتی ہے تو ایمان والے خوش ہوتے ہیں اور یہ ایمان کی نشانی ہے مگر یہاں اس خوشی کا ذکر ہو رہا ہے جو ناحق ہو اور جس کے پس پردہ اکٹر غرور اور شیخی ہو ایسی خوش درست نہیں ہے ، فرمایا چونکہ تم دنیا میں ناحق خوشی میں مبتلا تھے ، (آیت) ” اخلوا ابواب جھنم “۔ آج اس کے بدلے میں جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ، خلدین فیھا “۔ جہاں تم ہمیشہ رہو گے ، دروازوں کا مطلب یہ ہے کہ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مجرمین اپنے اپنے مخصوص دروازوں سے جہنم میں داخل ہوں گے فرمایا (آیت) ” فبئس مثوی المتکبرین “۔ پس کتنا برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا اسی تکبر کی وجہ سے کفر اور شرک کا ارتکاب کیا ، اللہ تعالیٰ کی کتاب ، احکام اور آیات کو جھٹلایا ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی ، لہذا اب اس غرور کی سزا بھی بھگتو “۔
ّ (نصرت الہی کا وعدہ)
اب آگے نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ہے دنیا میں کفار ، مشرکین اور مکذبین کی طرف سے بڑی تکلیف دہ باتیں سننا پڑتی ہیں اور جسمانی اذیتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مصائب پر (آیت) ” فاصبر ان وعداللہ حقا “۔ صبر کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے جو پورا ہو کر رہے گا اور نافرمانوں کو ضرور سزا ملے گی ، اللہ تعالیٰ نے سورة الروم میں فرمایا ہے (آیت) ” وکان حق علینا نصر المؤمنین “۔ (آیت : 47) اہل ایمان کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے آپ دل برداشتہ نہ ہوں ، اپنا کام جاری رکھیں ، صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھیں ، اللہ تعالیٰ ضرور آپ کی مدد کرے گا ، اور بالاخر آپ ہی کامیاب ہوں گے یہ مکی دور کے آخری حصے کی سورتیں ہیں جب مسلمان سخت تکالیف برداشت کر رہے تھے ، پھر جلدی ہی آپ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے ، اسلامی ریاسیت کی بنیاد پڑی اور پھر آپ کو پے درپے کامیابیاں حاصل ہونے لگیں حتی کہ جس مکہ مکرمہ سے آپ راتوں رات ہجرت کے لیے نکلے تھے اسی شہر میں آپ فاتحانہ انداز میں داخل ہو ہوئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ظاہری کامیابی کا وعدہ بھی پورا فرما دیا ،
بدر کے مقام پر کفار کے ستر بڑے بڑے لیڈر قتل ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بہت بڑی کامیابی عطا فرمائی تھی ، کفار کی لاشیں ایک کنوئیں میں پھینک دی گئی تھیں حضور ﷺ اس کنوئیں کی منڈیر پر کھڑے ہوگئے اور بڑے بڑے ائمۃ الکفر مقتولین کو آواز دے کر کہا ، اے ابوجہل ، اے تبہ ، اے شیبہ اللہ نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ تو اس نے آج پورا کردیا بتلاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہار ساتھ جو وعدہ کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا ہے یا نہیں ؟ آج تمہیں تمہاری بدکرداری کی سزا ملی یا نہیں ؟
(ایفائے عہد کا وقت)
فرمایا آپ صبر کریں اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے (آیت) ” فاما نرینک بعض الذی نعدھم “۔ بس ، تو ہم آپ کو دکھا دیں گے وہ چیز جو ان سے ہم وعدہ کرتے ہیں اور آپ کے مخالفین سے وعدہ یہ ہے (آیت) ” سیھزم الجمع ویولون الدبر “۔ (القمر : 45) کہ عنقریب یہ جماعت شکست کہا جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے ، مطلب یہ کہ یہ وعدہ یا تو ہم آپ کی زندگی میں ہی پورا کردیں گے اور آپ اسے پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ۔
(آیت) ” او نتوفینک “۔ یا ہم آپ کو وفات دے دیں گے اور اس کے بعد یہ وعدہ پورا ہوگا ۔
تاریخ شاہد ہے کہ عرب کا خطہ خود حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں اسلام کے زیرنگیں آگیا کفر کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور یہ واقعہ 2 ھ میں جنگ کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھا دیا ، پھر آہستہ آہستہ سارا عرب کفار ومشرکین سے پاک ہوگیا البتہ دوسرے ممالک آپ کی وفات کے بعد خلفائے راشدین کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے زمانے میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، شام ، روم ، فلسطین ، اور افریقہ وغیرہ آپ کے بعد فتح ہوئے بہرحال اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا اس کا کچھ حصہ آپ کی زندگی میں پورا ہوگیا اور کچھ حصہ بعد میں پورا ہوا فرمایا (آیت) ” فالینا یرجعون “۔ بالاخر یہ سب ہماری طرف ہی لوٹائے جائیں گے سب کو قیامت والے دن ہمارے روبرو حاضر ہونا ہے اور اپنے اپنے عقائد و اعمال کا حساب دینا ہے ، پھر ہم جزائے عمل کے فیصلے کریں گے آپ تسلی رکھیں ، ان کا فیصلہ ہو کر رہے گا ،
(سابقہ انبیاء کا اسوہ)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تسلی کے سلسلے میں ہی پہلے نبیوں کا حال بھی بیان کیا ہے (آیت) ” ولقد ارسلنا رسلا من قبلک “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو بھیجا (آیت) ” منھم من قصصنا علیک “۔ ان میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ کے سامنے بیان کردیے ہیں ۔ (آیت) ” ومنھم من لم نقصص علیک “۔ اور بعض کے حالات ہم نے آپ کے سامنے بیان نہیں کیے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بائیس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے نام ذکر کردیے ہیں اور بعض نے حالات تفصیل کے ساتھ اور بعض کے اجمالا بیان کیے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور رسل کو اپنے احکام اور دین کی سربلندی کے لیے دنیا میں بھیجا اور انہوں نے اپنے اپنے دور میں ہر قسم کی تکالیف برداشت کرکے حق کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ، حضرت ابوذر غفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے نبیوں کو دنیا میں مبعوث فرمایا ہے ، تو فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ بیس ہزار جن میں سے صاحب کتاب و شریعت رسول تین سو پندرہ اور باقی سارے صاحب وحی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام تھے غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے بعض کے حالات آپ کے سامنے بیان کئے ہیں اور بعض کے نہیں ۔
سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے ایک ہی مقام پر اٹھارہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ کرکے فرمایا ہے (آیت) ” اولئک الذین ھدی اللہ فبھداھم اقتدہ (آیت : 91) یہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ، لہذا آپ بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں سورة الانعام ہی میں ہے (آیت) ” وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین “۔ (آیت : 49) ہم نے ہر رسول کو بشارت سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تمام انبیاء ایمان اور نیکی کے کاموں پر جنت کی بشارت دیتے رہے اور کفر وشرک اور بداعمالی پر ڈر سناتے رہے ، مطلب یہ کہ انذار وتبشیر انبیاء اور رسل کے فرائض منصبی میں شامل ہے ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء ، ورسل کے تفصیلی حالات بیان کیے ہیں اور بعض کے بالکل نہیں کیے تاہم ہر اہل ایمان کے لیے تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے یہ تسلی کا مضمون بھی آگیا ۔
(معجزہ غیر اختیاری چیز ہے)
اگلے حصہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اصولی طور پر بات بیان کردی ہے (آیت) ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ کسی رسول یا نبی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی یا معجزہ پیش کرسکے ، مکی زندگی میں کفار ومشرک طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے کبھی کہتے زمین میں چشمے جاری کردیں کبھی کہتے تیرے پاس کھجوروں اور انگوروں کے باغا ہونے چاہئیں ، کبھی کہتے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے تمہارے لیے سونے کا گھر ہونا چاہئے یا آسمان پر چڑھ جا اور ہمارے سامنے کتاب لے کر آ جسے ہم پڑھ سکیں اس کا ذکر سورة اسرائیل میں موجود ہے ، مگر اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ کہہ دین میرا پروردگار پاک ہے (آیت) ” ھل کنت الا بشرا رسولا “۔ (آیت : 93) میں تو ایک انسان رسول ہوں ، مطلب یہ کہ معجزات پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے اسی اصول کو یہاں بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی رسول کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی یا معجزہ پیش کرسکے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ہاتھوں پر بیشمار معجزات دکھائے اور خود حضور خاتم النبیین ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ معجزات عطا کیے مگر یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا ، کسی نبی کے اختیار میں نہ تھا ، الغرض ! اللہ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ صبر سے کام لیں سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کا اسوہ پیش نظر رکھیں اور اپنا مشن کمزور نہ ہونے دیں ۔
(جزائے عمل کی منزل)
فرمایا آپ تسلی رکھیں (آیت) ” فاذا جآء امر اللہ قضی بالحق “۔ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا ، تو حق کے ساتھ فیص (رح) کردیا جائے گا ہر کافر ، مشرک اور بدعقیدہ کا محاسبہ ہونے والا ہے جب ان کا مقدمہ پیش ہوگا تو ان کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا جس کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” وخسر ھنالک المبطلون “۔ کہ باطل پرستوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑے گا کفر شرک اور غرور وتکبر کرنے والوں اور غلط عقائد رکھنے والوں کا فیصلہ ہوجائے گا ، ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جلنا ہوگا ، اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ۔
Ayahs 40:79–85ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی تردید فرمائی اور ساتھ ساتھ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی کہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں مگر بالاخر کامیابی اللہ کے نبیوں کو ہوئی اور مکذبین دنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام اور دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے اب آج کی آیات میں پہلے کچھ دلائل توحید بیان ہوئے ہیں اور پھر کفار و مشرکین کی توجہ سابقہ اقوام کی طرف دلائی گئی ہے جو ان سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقتور تھے مگر وہ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے اس وقت انہوں نے توبہ کی مگر اس بےوقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ حاصل نہ کرسکے ۔
(مویشی بطور نشانات قدرت)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام “۔ خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہارے لیے مویشی پیدا کیے ہیں ان جانوروں کو تخلیق اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں غور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی واحدانیت سمجھ میں آتی ہے ، یہ جانور انسان کی نسبت جسامت اور قوت میں بہت بڑے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت و حکمت سے انہیں انسان کے تابع کردیا ہے اور وہ ان سے بڑے بڑے کام لیتے ہیں ۔
انعام کا لفظ مویشیوں میں سے خاص طور پر اونٹ کے لیے بولا جاتا ہے اور سورة الانعام میں مذکور بہیمۃ الانعام سے انسان کے خدمتگار آٹھ قسم کے نرومادہ مویشی مراد ہیں جن میں اونٹ گائے بھینس ، بھیڑ اور بکری شامل ہیں یہ وہ جانور ہیں جن کو انسان گھروں میں پالتے ہیں اور یہ انسان سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو مسخر کر کے انسان کی خدمت پر مامور کردیا ہے اور لوگ ان سے سواری اور باربرداری کا کام لینے کے علاوہ ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور ان کی کھالیں بال چربی اور ہڈیاں بھی استعمال میں لاتے ہیں ان جانوروں کے علاوہ بعض دیگر جانور بھی انسان کی مختلف طریقوں سے خدمت کرتے ہیں جن کے متعلق سورة النحل میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” والخیل والبغال والحمیرلترکبوھا وزینۃ “۔ (آیت : 80) یہ گھوڑے خچر اور گدھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے سواری اور باربرداری ، نیز زینت کے لیے پیدا فرمائے ہیں یہ جانور بہیمۃ الانعام کے علاوہ ہیں ، صرف سواری اور باربرداری کے کام آتے ہیں مگر ان کا گوشت حلال نہیں ہے ۔
(جانوروں کے فوائد)
بہرحال اللہ تعالیٰ نے انعام یعنی مویشیوں کا ذکر کرکے ان سے حاصل ہونے والے فوائد کے متعلق فرمایا (آیت) ” لترکبوا منھا “۔ تاکہ تم ان میں سے بعض پر سواری کرو مذکورہ آٹھ قسم کے حلال جانوروں میں سے سواری کے لیے اونٹ سب سے زیادہ کار آمد ہے آج تو سواری اور باربرداری کے لیے بڑی بڑی گاڑیاں ، ٹرک ، بحری اور ہوائی جہاز معرض وجود میں آچکے ہیں مگر پرانے زمانے میں اونٹ ہی ایک ایسا جانور تھا جو سواری اور باربرداری کے لیے زیادہ استعمال ہوتا تھا ریگستانی علاقوں میں اسے صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے اور یہ تپتی ریت پر کئی کئی دن تک بھوکا پیاسا سفر کرسکتا ہے ، آج بھی جن صحراؤں میں جدید ذرائع نقل وحمل میسر نہیں وہاں اونٹ ہی کام دیتا ہے ، اونٹ کے علاوہ بیل بھی کسی حد تک سواری اور باربرداری کا کام دیتا تھا ، مگر اس لحاظ سے اس کی افادیت تقریبا معدوم ہوچکی ہے بقیہ یہ جانور ہل یا خراس میں جوتا جاتا ہے ، باقی دو حلال جانور بھیڑ اور بکری ہیں جب کہ سورة الانعام میں ” فراشا “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی یہ پست قد جانور ہیں اور سواری کے قابل نہیں ہے بلکہ ان کا گوشت کھایا جاتا ہے اور بال اور کھالیں استعمال ہوتی ہیں ، ان کی سواری کے علاوہ فرمایا (آیت) ” ومنھا تاکلون “۔ تم ان میں سے کھاتے ہو یہ حلال جانور ہیں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اور قربانی کے لیے بھی یہ آٹھ قسم کے جانور مخصوص ہیں ۔
بہیمۃ الانعام کے علاوہ باقی جانوروں میں سے گھوڑا سواری کے لیے بڑا کارآمد جانور ہے پرانے زمانے میں یہ جنگوں میں خاص طور پر استعمال ہوتا تھا ، حضور ﷺ نے گھوڑے کی بڑی تعریف فرمائی ہے کہ قیامت تک کیلئے یہ ایک مفید جانور ہے جس کی پیشانی پر اللہ نے خیر کو باندھ دیا ہے ، اس زمانہ میں جدید آلات حرب وضرب کی وجہ سے اگرچہ گھوڑے کی جنگی اہمیت بہت حد تک کم ہوچکی ہے ، مگر پھر بھی یہ معدوم نہیں ہوئی اور آج بھی دنیا کی کوئی فوج گھوڑا سواروں کے ایک حصہ سے خالی نہیں ، پہاڑی علاقوں میں جہاں مشینی ذرائع سے سامان اور خوراک پہنچانا ممکن نہیں ہوتا ، وہاں آج بھی گھوڑے ، خچر اور گدھے ہی کام دیتے ہیں ۔
سورة النمل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اسوقت تو تمہاری سواری کے لیے اونٹ ، خچر اور گدھے موجود ہیں مگر آئندہ زمانے میں (آیت) ” ویخلق مالاتعلمون “۔ (آیت : 8) وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کر دیگا جنہیں آج تم نہیں جانتے ، چناچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سواری اور بار برداری کے لیے بہت سے جدید ترین ذرائع بھی پیدا کردیے ہیں ، آج کے سائنسی دور میں نقل وحمل کے لیے مشینی ذرائع ایجاد ہوچکے ہیں جن میں موٹر گاڑیوں سے لے کر ہوائی اور بحری جہاز تک شامل ہیں جو انسانوں کی روز افزوں آبادی کے استعمال میں آ رہے ہیں ۔
فرمایا (آیت) ” ولکم فیھا منافع “۔ تمہارے لیے مویشیوں میں مزید کئی فوائد بھی ہیں سواری کرنے اور گوشت کھانے کے علاوہ لوگ ان کا دودھ بھی استعمال کرتے ہیں جو کہ انسان کی بہترین اور مقوی غذا ہے بھیڑ بکری اور اونٹوں کے بالوں سے طرح طرح کے کام لیے جاتے ہیں ان سے گرم کپڑے اور قالیں بنائے جاتے ہیں ان کی کھالیں جوتے بنانے کے کام آتی ہیں اور ہڈیاں مصنوعی کھاد میں استعمال ہوتی ہیں ، غرضیکہ ان جانوروں کے جسم کا کوئی حصہ بھی فائدے سے خالی نہیں ، اسی لیے فرمایا کہ اس میں تمہارے لیے بہت سے فوائد ہیں اور یہ بھی (آیت) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “۔ کہ تمہارے دلوں میں جو کام ہیں ان تک تم ان جانوروں پر سوار ہو کر پہنچ سکو معاشرے میں ہر شخص کو دوسرے سے کام پڑتا ہے اور اس کے لیے جانا پڑتا ہے تجارت اور حصول علم کے لیے دورا دراز کا سفر بھی اختیار کرنا پڑتا ہے ، غرضیکہ تمہارے دل میں جو بھی حاجت ہے اس کے حصول میں یہ جانور معاون بنتے ہیں۔
(ذرائع نقل وحمل)
فرمایا وعلیھا وعلی الفلک تحملون “۔ تمہیں ان چوپائیوں کی سواری بھی مہیا کی جاتی ہے اور کشتیوں پر بھی سوار کیا جاتا ہے خشکی میں جانوروں کے علاوہ مشینی گاڑیاں میں اور بحری سفر کے لیے چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے لے کر بڑے بڑے جہاز مہیا کیے گئے ہیں چناچہ آج کے اس جدید دور میں بھاری سامان کی نقل و حرکت بحری راستوں سے ہوتی ہے جو کہ خشکی اور ہوائی راستوں کی نسبت سستی پڑتی ہے خشکی پر سفر کے لیے بسیں ، ویگنیں ، ائرکنڈینشڈگاڑیاں معرض وجود میں آچکی ہیں بڑے بڑے ٹرک اور ٹریلر بار برداری کے لیے مصروف عمل ہیں ، اب ہوائی جہاز جیسی تیز ترین سواری بھی دستیاب ہے جس کے ذریعے دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک نہایت قلیل قوت میں بڑا آرام دہ سفر کیا جاسکتا ہے اور سامان کی ترسیل ہو سکتی ہے ، ہوائی جہاز کی ایجاد کے لیے گذشتہ آٹھ صدیوں سے تگ ودو ہو رہی تھی بڑے بڑے انجینئر اور سائنسدان چاہتے تھے کہ کوئی ایسی سواری ہونی چاہئے جس کے ذریعے پرندوں کی طرح ہوا میں اڑ سکیں ، لوگ آٹھ سو سال تک تجربات کرتے رہے حتی کہ 1904 ء میں ہوائی جہاز کی پہلی اڑان معرض وجود میں آئی اب یہ صنعت اتنی ترقی کرچکی ہے کہ لوگ فضائی سیاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں اب تک جو کچھ سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں اب آگے آگے پتہ نہیں کیا کچھ ایجاد ہونے والا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان سواریوں کی بنیاد کا ذکر کرکے ان کی افادیت کا احسان جتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کس قدر آسانیاں پیدا کردی ہیں ۔
فرمایا (آیت) ” ویریکم ایتہ “۔ ایسی چیزوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرو (آیت) ” فای آیت اللہ تنکرون “۔ مگر تم اللہ کی کس کس نشانی کا انکار کرو گے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو بنی نوع انسان کی مصلحت کی لی کے ایسی ایسی چیزیں پیدا کیں مگر یہ حضرت انسان ہے کہ اپنے اور ان چیزوں کے خالق کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اغیار کے دروازے پر جا کر انکی نذر ونیاز پیش کرتا ہے اور اس طرح گویا اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی مرتکب ہوتا ہے ۔
ّ (نافرمان قوموں کا انجام)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کی سرکشی اور ان کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” افلم یسروا فی الارض “۔ کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ (آیت) ” فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم “۔ تاکہ وہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ، فرمایا یہ تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں (آیت) ” کانوا اکثر منھم “۔ پہلے لوگ تعداد میں بھی زیادہ تھے (آیت) ” واشد قوۃ “۔ اور طاقت میں بھی بڑھے ہوئے تھے (آیت) ” واثار فی الارض “۔ اور زمین میں اپنے نشانات چھوڑنے کے اعتبار سے بھی وہ لوگ ان سے بہت آگے تھے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں پرانے مصریوں ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ قدیم ہندوستانیوں ، فارسی ، رومی ، اور یونانیوں وغیرہ کا حال بیان کیا ہے عاد اور ثمود کی قوم کا ذکر ہے ، قوم لوط اور قوم صالح نے حالات مذکورہ میں یہ لوگ نزول قرآن کے زمانے کے عربوں سے بہت کثیر تعداد میں اور بڑے طاقتور تھے ان میں بڑے بڑے کاریگر اور صناع تھے جو پہاڑوں کو تراش تراش کو ان میں گھر بنالیتے تھے اور اہرام مصر جیسی بڑی بڑی عمارات تعمیر کرتے تھے فرمایا جب ہماری گرفت آئی (آیت) ” فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون “۔ تو ان کی اس جملہ کمائی نے کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ اللہ نے ان قوموں کو ان کی سرکشی اور بغاوت کی وجہ سے صفحہ ہستی سے ناپید کردیا ۔
(علم وہنر پر غرور)
فرمایا ان لوگوں کا حال یہ تھا (آیت) ” فلما جآء تھم رسلھم بالبینت “۔ جب ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے (آیت) ” فرحوا بما عندھم من العلم “۔ تو وہ اس علم کی بناء پر اترا گئے جو ان کے پاس تھا ، اسی غرور وتکبر کی بناء پر انہوں نے اللہ کے نبیوں ان کے دن شریعت اور کتابوں کو تسلیم نہ کیا امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے پاس علم معاش یعنی دنیا کی زندگی گزارنے کا علم تو تھا ، مگر ان کے پاس علم معاد نہیں تھا جس کو بروئے کار لا کر وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہو سکتے تھے ، بلکہ آخرت کی دائمی زندگی کو بھی بہتر بنا سکتے تھے ان کے پاس دین کا علم نہیں تھا جس کے ذریعے وہ عقیدہ ، اعمال اور اخلاق کو درست کرسکتے ۔
محض معاش کا علم تو آج بھی دنیا میں بہت زیادہ ہے آج سائنس اور ٹیکنا لوجی کا زمانہ ہے ، علم طب وجراحت اپنے عروج پر ہے ، صنعت وحرفت کی بدولت نئی نئی چیزیں سامنے آرہی ہیں ، مگر وہ علم نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے نبیوں پر بذریعہ وحی نازل ہوا ، موجودہ زمانے میں امریکہ ، روس ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ اپنے آپ کو بڑا ترقی یافتہ سمجھتے ہیں مگر ان کا سارا علم وہنر معیشت کے گرد گھومتا ہے اور وہ اسی کو علم کل سمجھتے ہیں اور اصل علم کی طرف نہیں آتے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں کسی نے ایک بہت بڑے فلسفی سے کہا کہ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر کر ان سے اکتساب فیض کریں اور ان کی دعوت کو قبول کریں ، تو وہ شخص کہنے لگا کہ ہم تو خود عالم فاضل اور مہذب آدمی ہیں ، ہمیں موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کی کوئی ضرورت نہیں نبیوں کی تعلیم وتربیت تو جاہل لوگوں کے لیے ہوا کرتی ہے وہ ان کی راہنمائی کرتے ہیں ، ہمیں تو ضرورت نہیں ۔
ایرانیوں میں ۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق اس قسم کا غرور اور تعصب پایا جاتا تھا وہ کہتے تھے کہ ہمارے پاس دانشور لوگ موجود ہیں ، ہم تعلیم یافتہ ہیں ہماری سلطنت قدیم زمانہ سے چلی آرہی ہے ان گوہ کھانے والے عرب شتر بانوں کو کس چیز کا علم ہے یہ ان پڑھ لوگ ہیں ہم ان سے کی سیکھیں گے ؟ وہ گویا عربوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے شاہنامہ فردوسی میں بھی قسم کا تاثر ملتا ہے کہ یہ عرب کے صحرائی لوگ ہیں انہیں کس چیز کا علم ہے ؟ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ کسی افلاطون یا کسی دوسرے بڑے فلاسفر سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق دریافت کیا تو اس فلسفی نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا امتحان لینا چاہا کہتے ہیں کہ اس نے آپ سے سوال کیا کہ اگر زمین وآسمان ایک کمان کی شکل اختیار کرلیں اور دنیا میں ظاہر ہونے والے تمام حوادثات کو تیر تصور کرلیا جائے اور اس تیر کمان کو چلانے والا خود خدا ہو تو پھر اس تیر کمان کے حملے سے بچاؤ کی کیا صورت ہو سکتی ہے ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہی ایک صورت ہے کہ دوڑ کر خدا تعالیٰ کے دامن میں پناہ حاصل کرلی جائے ، قرآن پاک میں موجود ہے (آیت) ” ففروا الی اللہ “۔ اللہ کی طرف دوڑ کر جاؤ تو ہر شر سے پناہ حاصل ہوجائے گی تو اس شخص نے یہ جواب سن کر اقرار کیا کہ ایسے مشکل سوال کا جواب نبی کے بغیر کوئی نہیں دے سکتا ، یہ واقعی اللہ کے نبی ہیں مگر ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہم خود مہذب لوگ ہیں نبی تو جاہلوں کی تربیت کے لیے آتے ہیں ، اس طرح وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کو ٹھکرا دیتے تھے اور اپنے فلسفہ کو ہی برتر سمجھتے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزئون “۔ کہ انہیں اسی چیز نے گھیر لیا جس کو وہ انبیاء کے استہزاء کا ذریعہ بناتے تھے ان کے خود ساختہ فلسفے اور ان کا علم وہنر ہی ان کی ہلاکت کا باعث بن گیا ۔
(بےوقت ایمان غیر مفید ہے )
پھر کیا ہوا ؟ (آیت) ” فلما راوا باسنا “۔ جب انہوں نے ہمارے عذاب کو اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ لیا (آیت) ” قالوا امنا باللہ وحدہ “۔ کہنے لگے ، کہ ہم ایمان لے آئے یعنی ایک خدا کی وحدانیت کو تسلیم کیا ، اللہ تعالیٰ کے انبیاء ، معجزات اور کتابوں پر ایمان لائے (آیت) ” وکفرنا بما کنابہ مشرکین “۔ اور جن چیزوں کو ہم خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے ، اب ان کا انکار کرتے ہیں فرمایا (آیت) ” فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوا باسنا “۔ مگر ہمارا عذاب دیکھنے کے بعد ان کا ایمان لانا ان کے لیے کچھ مفید نہ ہوا ، حضور ﷺ کا
ارشاد مبارک ہے کہ انسان کا ایمان اس وقت غیر مفید ہوجاتا ہے جب اس پر غرغرے کی حالت طاری ہوجائے یعنی وہ قریب المرگ ہوجائے غیب کے پردے اٹھ جائیں اور موت کے فرشتے نظر آنے لگیں دوسری غیر مفید صورت وہ ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے آثار نظر آنے لگیں پوری تاریخ انسانی میں صرف یونس (علیہ السلام) کی قوم ایسی ہے کہ عذاب کے آثار شروع ہوگئے تو انہوں نے توبہ کی ، گڑگڑائے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرکے عذاب کو ٹال دیا ، بعض مفسرین کہتے ہیں کہ قوم یونس (علیہ السلام) پر ابھی عذاب آیا نہیں تھا صرف بعض نشانیاں ہی ظاہر ہوئی تھیں ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا وہاں جب خدا کا عذاب پورے طریقے سے نظر آنے لگے تو اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے فرعون نے بھی غرقابی کے وقت کہا تھا (آیت) ” قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوآء یل “۔ (یونس ، 9) میں بنواسرائیل کے خدا پر ایمان لایا جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اللہ نے اس وقت کا ایمان لانا قبول نہ کیا اور فرمایا (آیت) ” آلئن وقد عصیت قبل “۔ (یونس : 91) اب ایمان لاتے ہو جب جان حلق تک پہنچ چکی ہے حالانکہ اس سے پہلے غنڈہ گردی کرتے رہے بہرحال فرمایا کہ سابقہ نافرمان قوموں نے بھی عذاب کو دیکھ کر توحید کا اقرار اور شرک کا انکار کیا مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” سنت اللہ التی قد خلت فی عبادہ “۔ یہ اللہ کا اس کے بندوں میں دستور ہے جو پہلے گزر چکے ہیں ، کہ جب وہ عذاب کو دیکھ کر غلطی کا اقرار کرتے ہیں تو پھر ان کا ایمان اور اعتراف مفید نہیں ہوتا (آیت) ” وخسرھنالک الکفرون “۔ چناچہ ایسے مواقع پر کافروں نے ہمیشہ نقصان بھی اٹھایا ، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی اور وہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑگئے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس خسارے سے محفوظ رکھے ۔