Ayahs 40:21–27ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔
(سابقہ اقوام کا انجام)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق کہا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، حضور خاتم النبیین ﷺ کی رسالت ، قرآن کی حقانیت اور جزائے عمل کا انکار کرتے تھے ، فرمایا کیا یہ لوگ زمین میں چلے ؟ پھرے نہیں (آیت) ” فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین کانوا من قبلھم “۔ تاکہ وہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟ فرمایا ان سے پہلی قوموں کے لوگ (آیت) ” کانوا ھم اشد منھم قوۃ واثارا فی الارض “۔ وہ ان سے قوت میں بھی زیادہ تھے اور وہ زمین میں نشانیاں بھی زیادہ چھوڑ گئے تھے ، وہ لوگ بڑے بڑے مضبوط قلعوں میں رہتے تھے ، بعض پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر مکان بناتے تھے ، بڑے بڑے گنبد اور مینار تعمیر کرتے تھے ، ان کی عمارات کے نشانات آج بھی کھنڈرات کی صورت میں گزرنے والوں کو درس عبرت دے رہے ہیں تو کیا ان لوگوں نے چل پھر کر ان کا انجام نہیں دیکھا ؟ مکہ کے لوگ ہزاروں سال پرانے کھنڈرات پر سے گزرتے تھے یہ اجڑی ہوئی بستیاں بتلا رہی تھیں کہ انکے رہنے والے کبھی بڑے طاقتور اور بہادر ہوتے تھے ، بڑے ، دلدار اور صاحب جاہ واقتدار تھے مگر آج ان کا نام ونشان تک نہیں ملتا ، اللہ نے ان کی نافرمانی کی وجہ سے دنیا سے انکو ناپید کردیا اور آج ان کھنڈرات کے سوا ان کا کچھ نہیں بچا ، سورة سبا میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے متعلق فرمایا (آیت) ” وما بلغوا معشار ما اتینھم “۔ (آیت : 45) کہ ان کو تو پرانی اقوام کے عشرعشیر کے برابر بھی نہیں دیا گیا ، جب ان کو اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے نیست ونابود کردیا تو یہ لوگ انہی کے نقش قدم پر چل کر اس کی گرفت سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ ۔
فرمایا جب سابقہ اقوام کے لوگ حد سے بڑھ گئے (آیت) ” فاخذھم اللہ بذنوبھم “۔ تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کے بدلے میں پکڑ لیا اور گناہوں میں سرفہرست کفر ، شرک اور ظلم و زیادتی ہے ، وہ لوگ انہی معاصی میں نہ صرف مبتلا تھے بلکہ ان پر اصرار کرتے تھے ، لہذا اللہ کی گرفت آگئی ، (آیت) ” وما کان لھم من اللہ من واق “۔ پھر اللہ کے سامنے ان کو بچانے والا کوئی نہیں تھا ، چناچہ کسی قوم پر آگ کا عذاب آیا کسی پر طوفان بادو باراں مسلط ہوا کسی کو چیخ نے آلیا ، کسی کو پانی میں غرق کردیا گیا اور کسی کی شکلیں تبدیل کردی گئیں مگر ان کو اس عذاب سے بچانے والا کوئی نہ تھا ، لہذا پرانی قوموں کے آثار دیکھ کر ان سے نصیحت حاصل کرنی چاہئے محض سیر و تفریح اور فوٹوگرافی کرنا مناسب نہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان نشانات کو آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے عبرت کا سامان بنایا ہے جب حضور ﷺ غزوہ تبوک کے سفر پر گئے تو راستے میں قوم ثمود کے کھنڈرات سے گزرے تھے ، آپ وہاں سے عاجزی کے ساتھ سر کر جھکاتے ہوئے گزر گئے اور فرمایا کہ لوگو ! خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو توبہ کرو ، کہیں تم پر بھی ایسا ہی عذاب نہ آجائے تو اس قوم پر آیا تھا ، ان آثار قدیمہ سے عبرت پکڑو ، اور عاجزی کرتے ہوئے گزرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ راضی ہو اور ہمیں عذاب سے محفوظ رکھے ۔
فرمایا ان اقوام پر عذاب آنے کی وجہ یہ تھی (آیت) ” ذالک بانھم کانت تاتیھم رسلھم بالبینت فکفروا “۔ کہ ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر انہوں نے انکار کردیا ، اللہ تعالیٰ کا نبی خود ایک نشانی ہوتا ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے ہاتھ پر معجزات کا اظہار فرمایا ، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کتاب یا صحیفہ ، نبی کی تعلیمات ، اس کا عمل اور اس کا چہرہ مبارک سب نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول لے کر آئے مگر کفار نے کسی چیز کو تسلیم نہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فاخذھم اللہ “۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑ لیا اور عذاب میں مبتلا کردیا ۔ (آیت) ” انہ قوی شدید العقاب “۔ بیشک اللہ تعالیٰ زور آور اور سخت سزا دینے والا ہے ، اللہ تعالیٰ منکرین اور مکذبین کو مہلت دیتا رہتا ہے مگر جب کوئی قوم حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر اس کو گرفت میں لے لیتا ہے جو کہ بہت سخت ہوتی ہے پرانی اقوام کے یہ حالات اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے اور بعد میں آنے والوں کے لیے بطور عبرت ذکر فرمائے ہیں ۔
(فرعون اور اس کے حواری)
آگے اللہ تعالیٰ نے چند سرکشوں کا حال ذکر کیا ہے (آیت) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا وسلطن مبین “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجا ، موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ ان نشانیوں سے وہ معجزات مراد ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے ، ان میں دو معجزات عصا اور یدبیضا خاص طور پر مشہور ہیں ، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم المرتبت کتاب تورات بھی نشانی ہے ، ان معجزات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو غلبہ عطا فرمایا تھا اور کھلی سند سے وہ تائید مراد ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے آپ بڑے بڑے جابروں کے سامنے حق کا کلمہ پیش کرنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے تھے بلکہ دو ٹوک بات کہہ دیتے تھے ۔
فرمایا ہم نے بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کو (آیت) ” الی فرعون وھامن وقارون “۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف ، ان میں سے فرعون تو سخت جابر اور ڈکٹیٹر تھا ، جو کہتا تھا (آیت) ” انا ربکم الاعلی “۔ (النزعت : 24) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ، اس نے یہ بھی کہا تھا (آیت) ” انا احی وامیت “۔ (البقرہ : 258) میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں ، اور دوسرے جس شخص کا اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر فرمایا ہے وہ فرعون کا وزیر ہامان تھا ، یہ شخص آج کل کی بیورو کریسی یعنی نوکر شاہی کا مکمل نمونہ تھا یہی شخص تھا جو فرعون کو غلط مشورے دے کر لوگوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑتا تھا ، نوکر شاہی کا یہ پرانا طریقہ ہے کہ وہ برسراقتدار شخص کے سامنے امور سلطنت کا ایسا نقشہ پیش کرتے ہیں کہ اقتدار پر قابض ان کا مشورہ ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور اس طرح ظلم وجور کا بازار گرم ہوجاتا ہے ، اور تیسرا شخص قارون تھا جو اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا فرد تھا مگر اس نے فرعون کا اعتماد حاصل کر رکھا تھا ، یہ بڑے بڑے کاموں کے ٹھیکے لیتا تھا جس کی وجہ سے اس شخص نے بےپناہ دولت جمع کر رکھی تھی حتی کہ خود قرآن کریم کے بیان کے مطابق (آیت) ” ان مفاتحہ لتنوٓء بالعصبۃ الی القوۃ “۔ (القصص 76) اس کے خزانوں کی چابیاں ایک طاقتور جماعت اٹھاتی تھی تو یہ شخص سرمایہ داری کا ایک نمونہ تھا ، الغرض ! یہاں پر مذکورہ تین شخصیات میں سے فرعون ڈکٹیٹر تھا ہامان بیوروکریٹ اور قانون سرمایہ دار تھا ۔
(برصغیر کی ہولناک تاریخ)
برصغیر کی دو صد سالہ سالبقہ تاریخ بڑی بھیانک تصور پیش کرتی ہے ہزاروں میل دور سے آکر انگریز نے بیورو کریسی اور سرمایہ داری نظام کے بل بولتے پر ہی ہندوستان پر قبضہ کیا تھا ، انگریز سولہویں صدی میں بطور تاجر برصغیر میں داخل ہوئے ، ستارہویں صدی میں انہیں تجارت پر مکمل غلبہ حاصل ہوگیا اور اٹھارویں صدی میں بڑی گہری سازشوں کے ذریعے کابل سے لے کر رنگون تک کے علاقے پر سیاسی طور پر بھی قابض ہوگئے ، یہاں پر انہوں نے اپنے مفاد کی حفاظت کے لیے نوکر شاہی ، جاگیرداری اور سرمایہ داری کا نظام رائج کیا اور پھر دو سو سال تک اس پر برصغیر میں سیاہ وسفید کے مالک رہے انہوں نے اس خطہ ارضی میں بالکل فرعون ، ہامان اور قارون کا کردار ادا کیا ، لوگوں کو خطاب دیے ، بڑی بڑی جاگیریں دیں ، نوکریاں دیں اور اس طرح انہیں اپنی حمایت پر آمادہ کیا چناچہ انگریز کا یہ پروردہ طبقہ اپنی قوم وملک کے مفاد کے خلاف انگریزوں کے مفاد کی حفاظت کرتا رہا ۔
اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کے بعض بندے پیدا ہوتے رہے جنہوں نے اس ظالمانہ نظام کی ڈٹ کر مخالفت کی مولانا عبید اللہ سندھی (رح) بھی انہی میں سے تھے ، انگریزوں نے تنگ آکر آپ کو ملک بدر کردیا ، آپ مکہ مکرمہ چلے گئے ایک دن خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ انگریز کا خفیہ پولیس والا پیچھے پیچھے چل رہا تھا ، آپ نے مڑ کر دیکھا تو فرمایا ، ظالم ، تم خانہ خدا میں بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتے مطلب یہ کہ انگریز آپ کی تحریک سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ دیار غیر میں بھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے ، پھر بعض حضرات کی کوشش سے آپ کو ہندوستان واپس آنے کی اجازت ملی آپ نے واپس آکر کہا کہ محض اس لیے یہاں واپس آیا ہوں تاکہ قوم کے نوجوانوں اور عام مسلمانوں کو بتا دوں کہ تم خطرناک روش پر چل رہے ہو ، اس ظالمانہ نظام کو بدلنے کی کوشش کرو ، میں چشم تصور میں بڑے بڑے طوفان اٹھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ، اب بھی وقت ہے کہ سنبھل جاؤ اور انگریز کی غلامی کا جوتا اتار پھینکو۔
ّ (فرعون کا جبرواستبداد)
فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا تاکہ ان کو پیغام حق سنائیں ، مگر انہوں نے حق کو تو قبول نہ کیا (آیت) ” فقالوا سحرکذاب “۔ بلکہ الٹا موسیٰ (علیہ السلام) پر اتہام لگا دیا گیا کہ یہ جادوگر ہے اور سخت جھوٹا آدمی ہے العیاذ باللہ ۔ آگے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تینوں شخصوں کو خباثت کا اس طرح ذکر کیا (آیت) ” فلما جآء ھم بالحق من عندنا “۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس حق بات لے کر آئے ہماری طرف سے فرعون اور اس کے حواری کہنے لگے (آیت) ” قالوا اقتلوا ابنآء الذین امنوا معہ “۔ کہ جو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو (آیت) ” واستحیوانسآء ھم “۔ اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو بچوں کو قتل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی تعداد نہ بڑھنے پائے اور ان میں سے کوئی مخالفت پر آمادہ نہ ہو ، اور عورتوں کو زندہ رہنے دینے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ ان کو لونڈیاں بنا کر ان سے خدمت لی جائے ، چناچہ فرعون نے اس سکیم پر کئی سال تک عمل کیا اور تفسیری روایات کے مطابق نوے ہزار بچے ان کے والدین کی آنکھوں کے سامنے قتل کروا دیے ، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اتنے ظلم و استبداد کے باوجود (آیت) ” وما کید الکفرین الا فی ضلل “۔ کافروں کا داؤ بیچ گمراہی کی نذر ہوا ، ان کی ہر تدبیر ناکام ہوئی انہوں نے اپنی سلطنت کو بچانے کے لیے اتنی کثیر تعداد میں قتل ناحق کئے مگر ان کا یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوا ، اللہ نے ایک ایسے بچے کے ہاتھوں ان کا تختہ الٹا جس کی انہوں نے خود پرورش کی تھی ، یہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے جنہوں نے فرعون کے محل میں پرورش پائی مگر آپ ہی ساری قوم کی غرقابی کا باعث بنے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی تدبیر کافروں کے مقابلے میں کامیاب ہوئی ۔
جب تمام تر دھمکیوں اور کاروائیوں کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) تبلیغ حق سے باز نہ آئے (آیت) ” وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ ولیدع ربہ “۔ تو فرعون اپنے حواریوں سے کہنے لگا ، مجھے چھوڑ دو کہ میں خود موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروں اور یہ اپنے رب کو پکارے جس کو اپنا حمایتی اور کارساز سمجھتا ہے ، پھر ہم دیکھ لیں گے کہ کون اس کو بچاتا ہے ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ شاید فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خود قتل کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ اس کے درباری حواری آپ کے معجزات دیکھ چکے تھے اور ڈر گئے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی گرفت میں نہ آجائیں ، کہتے ہیں کہ فرعون خود بھی خوفزدہ ہوچکا تھا مگر لوگوں کے حاصلے بلند کرنے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت پر کمربستہ رکھنے کی غرض سے اس کی ڈینگیں مارتا تھا کہ لاؤ میں اس کو خود قتل کرتا ہوں پھر کہنے لگا اس شخص کو اپنے راستے سے ہٹانا ہی پڑے گا کیونکہ (آیت) ” انی اخاف ان یبدل دینکم “۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین ہی نہ بدل ڈالے یعنی تمہاری کفریہ اور شرکیہ رسم رواج کر ہی نہ الٹ پلٹ دے لوگ اس کے وعظ سے اثر قبول کرتے ہیں لہذا عافیت اسی میں ہے کہ اس شخص کا کام تمام کردیا جائے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری ۔
مکہ کے مشرک خود حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے متعلق کہتے تھے کہ یہ لوگ صابی (بےدین) ہوگئے ہیں جو آباؤ اجداد کے طریقے کو چھوڑ چکے ہیں ، لہذا ان کے بہکاوے میں آکر اپنے آبائی دین کو ترک نہ کردینا شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ سے کہا (آیت) ” اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد آبآؤنا “۔ (ہود : 87) کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پوجا ہمارے آباؤ اجداد کرتے آئے ہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اپنے دین کو ترک کردیں ۔
الغرض فرعون نے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک تو اس وجہ سے قتل کرنا چاہتا ہوں کہ کہیں یہ شخص تمہارا دین ہی تبدیل نہ کر دے اور دوسری وجہ یہ ہے (آیت) ” اوان یظھر فی الارض الفساد “۔ کہ کہیں یہ زمین میں فساد برپا نہ کر دے ، اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم لوگ اس کی بات مان گئے تو یہ حکومت کا تختہ الٹ دیگا اور اس طرح فساد فی الارض کا باعث بنے گا سورة اعراف میں ہے کہ فرعون کے حواریوں نے کہ یہ شخص جادوگر ہے (آیت) ” یرید ان یخرجکم من ارضکم (آیت : 110) اور تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دینا چاہتا ہے تاکہ خود اقتدار پر قبضہ کرلے مقصد یہ تھا کہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) سے متنفر ہوجائیں اور ان کی بات نہ مانیں ، حقیقت یہ ہے کہ کفر شرک ، سرکشی غرور وتکبر اور قتل ناحق بجائے خود بہت بڑا فساد فی الارض ہے جس کا فرعون اور اس کے حواری ارتکاب کر رہے تھے مگر الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر لگا رہے تھے امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اضلال فی الشرائع یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت کو بگاڑنے کا نام ہی فساد ہے ، کفر ، شرک ، معاصی اور بدعات سے زمین بگڑتی ہے اور ایمان ، توحید ، نیکی اور اطاعت سے اس کی اصلاح ہوتی ہے مگر فرعون الٹا موسیٰ (علیہ السلام) کو بدامنی کا طعنہ دے رہا تھا ۔
(موسی (علیہ السلام) کا استفاذہ)
پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے حواریوں کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی (آیت) ” وقال موسیٰ انی عذت بربی وربکم من کل متکبر “ کہنے لگے میں ہر متکبر شخص سے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں وہ متکبر (آیت) ” لا یؤمن بیوم الحساب “۔ جو قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا ، ظاہر ہے کہ جس کا وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین نہیں ہے وہ برائی اور ظلم وستم سے کیسے بچ سکتا ہے ، برائی سے تو وہ شخص بچے گا جو جانتا ہے کہ مجھے ہر عمل کا حساب دینا ہے اور جو حساب کے دن کو ہی نہیں مانتا وہ شتر بےمہار ہے جدھر چاہے چلا جائے اور جو چاہے کرتا پھرے ۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا اللہ نے قبول فرمائی اور آپ کو فرعون اور اس کے حواریوں کی دست برد سے پناہ میں رکھا وہ آپ کو قتل نہ کرسکے بلکہ خود ساری قوم پانی میں غرق ہوگئی ، مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت (آیت) ” انی عذت ۔۔۔۔۔۔۔ الخ “۔ ایک ورد بھی ہے جو شخص دن میں سو مرتبہ اس کو پڑے گا اللہ تعالیٰ اس کی اسی طرح حفاظت کریگا جب موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون سے حفاظت فرمائی ،
Ayahs 40:28–33ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے کفر وشرک کی تردید اور مشرکین کو تنبیہ کے انداز میں پہلے لوگوں کا حال ذکر کیا ، اور ان سرکشوں کا بھی جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبوث فرمایا یہ فرعون ، ہامان ، اور قارون ، تھے جنہوں نے غلط تدبیریں سوچ کر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مشن کو ناکام کرنا چاہا ، حتی کہ آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، فرعون دل میں موسیٰ (علیہ السلام) سے خوف بھی کھاتا تھا کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر واضح نشانیاں دیکھ چکا تھا مگر لوگوں میں اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے کہتا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے مت روکو ، یہ شخص تمہارے دین کو تبدیل اور زمین میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے ، مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے متکبر اور قیامت پر ایمان نہ لانے والے شخص سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی ۔
(مرد مومن کی حق گوئی)
آج کی ابتدائی آیت میں ایک مرد مومن کا ذکر آرہا ہے جس نے فرعون اور اس کی قوم کو منع کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے سے باز رہیں جس کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا پروردگار تسلیم کرتا ہے ، یہ وہی مرد مومن ہے جس کے نام پر اس سورة کا نام المؤمن ہے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فرعون کی قوم میں سے صرف تین آدمی مشرف بہ ایمان ہوئے ، ایک تو فرعون کی بیوی ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے ، وہ بلاشبہ بلند مرتبہ خاتون تھیں دوسرا ایماندار شخص وہ ہے جس نے شہر کے دوسرے سرے سے آکر موسیٰ (علیہ السلام) کو اطلاع دی کہ تمہارے ہاتھوں ایک قبطی کے قتل کے بدلے میں (آیت) ” ان الملایاتمرون بک لیقتلوک “۔ (القصص ، 20) لوگ تمہارے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں ، لہذا جان بچانے کے لیے شہر سے فورا نکل جاؤ ، مفسرین فرماتے ہیں کہ تیسرا ایماندار شخص یہی مرد مومن تھا جس کا تذکرہ آج کے درس میں ہو رہا ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون “۔ اور کہا ایک مرد مومن نے جو فرعون کی قوم سے تھا (آیت) ” یکتم ایمانہ “۔ مگر اپنے ایمان کو چھپا رکھا تھا ، چونکہ فرعون اور اس کے حواری اہل ایمان پر طرح طرح کے مظالم ڈھا رہے تھے اس لیے یہ واقعہ پیش آنے تک اس شخص نے اپنا ایمان مخفی رکھا ہوا تھا مگر جب اس نے دیکھا کہ پانی سر سے گزر رہا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا منصوبہ بن رہا ہے تو اس سے نہ رہا گیا اور اس نے اپنی قوم کے سامنے ضمیر کی آواز کو ظاہر کردیا اور کہنے لگا (آیت) ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “۔ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ؟ اور یہ شخص اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا محض زبانی دعویدار نہیں بلکہ (آیت) ” وقد جآء کم بالبینت من ربکم “۔ اور تحقیق اپنے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نشانیاں بھی لایا ہے تم نے اس کے معجزات عصا اور یدبیضا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے ہیں ، اس کی واضح تعلیم بھی سن لی ہے مگر پھر بھی اس پر ایمان لانے کی بجائے اس کے قتل کے درپے ہو رہے ہو کس قدر افسوسناک بات ہے ۔
(ایمان کا اخفائ)
اس مرد مومن نے عرصہ تک اپنے ایمان کو چھپائے رکھا مفسرین اس مسئلہ میں کلام کرتے ہیں کہ اپنے ایمان کو ظاہر نہ کرنے والے شخص کے متعلق کیا حکم ہے ؟ اس ضمن میں یہ بات امام مالک (رح) کی طرف منسوب کی جاتی ہے کہ ایسا شخص ایماندار نہیں سمجھا جائیگا جس نے زبان سے ایمان کا اقرار نہ کیا ہو اگرچہ ایمان اس کے دل میں موجود ہو ، ہاں اگر اسے کسی ظالم اور جابر حکمران کی طرف سے خطرہ ہو تو وہ اس کے سامنے بیشک اظہار نہ کرے مگر اسے تنہائی میں زبان سے اقرار ضرور کرلینا چاہئے ، ورنہ وہ صحیح معنوں میں مومن نہیں ہوگا ، بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر دل میں ایمان موجود ہے تو زبان سے اقرار ضروری نہیں کیونکہ زبان کا اقرار تو احکام کے اجراء کیلئے ضروری ہوتا ہے ، مثلا کسی شخص پر اسلامی قوانین اس وقت نافذ ہوں گے جب وہ زبان سے اپنے ایمان اور اسلام کا اقرار کریگا وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے گا تو اس کے لیے نکاح و طلاق یا موت کی صورت میں تجہیز وتکفین اور وراثت کے احکام لاگو ہوں گے ، تاہم اگر وہ دل سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے احکام پر ایمان رکھتا ہے تو وہ ایماندار ہی سمجھا جائے گا ، اگرچہ وہ کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کے خوف سے ایمان کو چھپا رہا ہو ، تاہم تنہائی میں اقرار اس کے لیے ضروری ہوگا ۔
(تقیہ کا باطل عقیدہ)
یاد رہے کہ ایمان کا مذکورہ اخفا شیعوں کے عقیدہ تقیہ سے مختلف ہے اور اس سے وہ عقیدہ ثابت نہیں ہوتا ، اس عقیدہ کی رو سے شیعہ حضرات اپنے دین کے بعض اجزاء کو ہمیشہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اسے عین دین بھی سمجھتے ہیں اور یہی عقیدہ باطل ہے ، آج کے پریس کے زمانہ میں لوگ شیعوں کے اس قسم کے عقائد پڑھ کر حیران ہوتے ہیں ، اب تک تو یہ حضرات اپنے بعض عقائد کو چھپاتے رہے ہیں مگر اب وہ کتابوں کی اشاعت کی وجہ سے ظاہر ہو رہے ہیں اور معلوم ہو رہا ہ کے کہ یہ عقائد حق سے کس قدر دور ہیں ہاں کفار ، ومشرکین کے شر سے بچنے کے لیے ان کے ساتھ ظاہری طور پر دوستانے کی اجازت دے دی گئی ہے جیسے سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ واسطہ نہ رہا (آیت) ” الا ان تتقوا منھم تقۃ “۔ ہاں اگر تمہیں ان کی طرف سے جان ومال کا خطرہ ہو تو ظاہری طور پر دوستانے کے اظہار کی اجازت ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دین کو ہر وقت چھپائے رکھو بلکہ جب بھی موقع ملے اپنے دین کا اظہار ضروری ہوگا ۔
ّ (حضور ﷺ کے واقعات سے مماثلت)
اس مرد مومن نے جس طرح فرعونیوں کے سامنے حق بات پیش کی اور کہا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، اسی طرح کے بعض واقعات خود حضور ﷺ کے ساتھ بھی پیش آئے ، ایک موقع پر حضرت علی ؓ منبر پر تشریف فرما تھے آپ نے دوران خطاب لوگوں سے دریافت کیا کہ بتلاؤ ” اشجع الناس “۔ یعنی لوگو میں بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ہمیں تو معلوم نہیں ، اس پر آپ نے خود ہی فرمایا کہ ہمارے معاشرے میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ بہادر ہیں ، اس کا ثبوت یہ ہے ایک دفعہ حضور ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ مشرکین نے آپ کو پیٹنا شروع کردیا اتنے میں صدیق اکبر ؓ نے لوگوں کو دھکے دے کر پیچھے ہٹایا اور زبان سے یہی لفاظ دہرائے ” اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ “ کیا تم ایسے شخص کے قتل کے درپے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے ؟ ـ ایسے ہی ایک دوسرے موقعہ مشرکین حضور ﷺ پر زیادتی کر رہے تھے ۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو پتہ چلا تو فورا پہنچے اور آپ کو مشرکین کے ظلم وستم سے چھڑانے کی کوشش کی تو مشرک کہنے لگے یہ کون شخص ہے جو محمد (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہمدرد ہے ؟ بتایا گیا کہ یہ ابن ابی قحافہ ہے ، مشرکین نے آپ کو بھی پیٹنا شروع کردیا اور اس قدر مارا کہ آپ کے سر کے بال ہی اڑ گئے ، آپ نے اس وقت بھی یہی آیت تلاوت فرمائی ” ظالمو ! تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “ یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت علی ؓ منہ پر کپڑا ڈال کر خوب روئے ۔
(جھوٹ اور سچ میں امتیاز)
بہرحال اس مرد مومن نے سمجھایا کہ تم کیوں موسیٰ (علیہ السلام) کے درپے آزار ہو (آیت) ” وان یک کاذبا فلیہ کذبہ “۔ اگر یہ شخص تمہارے زعم کے مطابق جھوٹا ہے تو اسکے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا تم اس معاملہ میں کیوں پریشان ہوتے ہو ؟ (آیت) ” وان یک صادقا “۔ اور اگر وہ سچا ہے اور یقینا سچا ہے (آیت) ” یصبکم بعض الذی یعدکم “۔ تو تمہیں وہ چیزیں پہنچ کر رہیں گے جن کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے مطلب یہ کہ اگر تم نے اس کی سچی دعوت کو ٹھکرا دیا اور اس کو اذیت پہنچائی تو پھر خدا کی گرفت تم پر یقینا آئے گی تم اس سے بچ نہیں سکتے ، لہذا تمہیں اپنی فکر کرلینی چاہئے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار نہ ہوجاؤ ، فرمایا (آیت) ” ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف کذاب “۔ بیشک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والے اور سخت جھوٹے آدمی کو راہ نہیں دکھاتا ایسا شخص صراط مستقیم سے محروم ہی رہتا ہے ، لہذا تم کسی کاروائی سے پہلے اپنے انجام کو اچھی طرح سوچ لو ۔
(مرد مومن اور فرعون کا مکالمہ)
اس مومن آدمی نے یہ بھی کہا (آیت) ” یقوم لکم الملک الیوم ظاھرین فی الارض “۔ اے میری قوم کے لوگو ! تمہارے لیے آج کے دن بادشاہی ہے اور میں زمین میں تمہی غالب ہو ، آج تو تم اس عارضی اقتدار پر اترا رہے ہو ، مگر یہ تو بتاؤ (آیت) ” فمن ینصرنا من باس اللہ ان جآء نا “۔ بھلا کون ہماری مدد کرے گا ، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اگر وہ ہمارے پاس آگیا ؟ آج تو تم لاؤ لشکر اور سازوسامان رکھتے ہو جس کو چاہتے ہو قتل کردیتے ہو اور جس کو چاہتے ہو زندہ رہنے دہتے ہو ، ہر طرح سے بااختیار ہو ، مگر جب اللہ کی گرفت آگئی تو پھر تمہارے ظاہری اسباب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
اس کے جواب میں (آیت) ” قال فرعون “۔ فرعون کہنے لگا (آیت) ” ما اریکم الا ما اری “۔ میں تو تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھ رہی ہے کہ یہ شخص ہمارے دین کو خراب کرنا چاہتا ہے ، لہذا اس کا کام تمام کردینا چاہئے اور پھر پورے وثوق سے کہنے لگا (آیت) ” وما اھدیکم الا سبیل الرشادا “۔ میں تو تمہاری راہنمائی صرف بھلائی کے راستہ کی طرف کر رہا ہوں ، میں تمہارا خیرخواہ ہوں اور تمہیں آنے والی مصیبت سے بچانا چاہتا ہوں لہذا میری رائے یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرکے اپنے دین اور اقتدار کو بچا لو ، دنیا کے ہر ظالم اور مستبد کا یہی طریقہ کار ہے کہ وہ اپنے ظالمانہ نظام کو ہی صحیح قرار دیتا ہے ، حالانکہ یہ سراسر گمراہی ہے ، ظلم وستم کفر وشرک کا راستہ ہے ، بھلا وہ کیسے بہتر ہو سکتا ہے ، ؟ آج دنیا کی سپر پاورز بھی فرعون کے نقش قدم پر چل رہی ہیں ، وہ بھی اپنے اپنے مروجہ نظام کو ہی بہتر کہتی ہیں اور پوری دنیا میں نافذ کرنے کی خواہش مند ہیں اور اسی بناء پر ان دو بڑی طاقتوں میں آپس میں بھی کشمکش چل رہی ہے ، امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کا داعی ہے جب کہ روس اشتراکی نظام معیشت کا حامی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں نظام باطل ہیں صحیح پروگرام وہی ہے جو اسلام پیش کرتا ہے ۔
(مرد مومن کی طرف سے انذار)
مرد مومن نے قوم کو ان کے انجام سے ڈرانے کی کوشش بھی کی (آیت) ” وقال الذی امن “۔ اور کہا اہل ایمان آدمی نے (آیت) ” یقوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب “۔ اے میری قوم کے لوگو ! میں تم پر اگلی جماعتوں کے دن کا خوف کھاتا ہوں ، یعنی مجھے ڈر ہے کہ تم پر بھی وہی گرفت نہ آجائے تو پہلی قوموں پر آئی اور وہ تباہ وبرباد ہوئے ، انہوں نے بھی اپنے انبیاء کو جھٹلایا اور ان کو تکالیف پہنچائیں تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے کہیں تم پر بھی عذاب کا وہی دن نہ آجائے (آیت) ” مثل دب قوم نوح وعاد وثمود والذین من بعدھم “۔ جیسا کہ قوم نوح (علیہ السلام) اور قوم عاد اور ثمود پر آیا ہے ، اور ان کے بعد والے لوگوں پر بھی آیا ، قوم نوح کے حال سے تو فرعون بھی واقف تھا ان کو قوم ثمود اور عاد کی تباہی کا حال بھی معلوم تھا اور ان کے حالات زبان زد عام تھے ، یہ لوگ ان کی اجڑی بستیوں کے کھنڈرات بھی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے تھے لہذا ان کو مرد مومن نے یاد دلایا کہ تم بھی سابقہ اقوام کی روش پر چل کر ان پر آنے والے عذاب کا شکار نہ ہوجانا مجھے سخت ڈر لگ رہا ہے اور یاد رکھو کہ اگر تمہیں کوئی مصیبت آئے گی تو تمہاری اپنی کارکردگی کی وجہ سے (آیت) ” وما اللہ یرید ظلما للعباد “۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بندوں پر زیادتی نہیں کرتا وہ تو صرف انہی کے جرائم کی ان کو سزا دیتا ہے ۔
اس مرد مومن نے یہ بھی کہا (آیت) ” ویقوم انی اخاف علیکم یوم التناد “۔ سے میری قوم کے لوگو ! میں تمہیں چیخ و پکار کے دن سے ڈراتا ہوں اس سے مراد حشر کا دن ہے جس دن لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے ، سخت افراتفری کو عالم ہوگا جیسے چیخ و پکار کے دن سے ڈراتا ہوں ، اس سے مراد حشر کا دن ہے جس دن لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے سخت افراتفری کا عالم ہوگا ، جسے چیخ و پکار سے تعبیر کیا گیا مومن آدمی نے کہا کہ میں تمہیں اس دن کی سختی سے ڈراتا ہوں (آیت) ” یوم تولون مدبرین “۔ جس دن تم پشت پھیر کر بھاگو گئے ، اللہ تعالیٰ کے قہر سے سخت خوف زدہ ہو گے ۔ (آیت) ” مالکم من اللہ من عاصم “۔ مگر اس دن تمہیں اللہ کے سامنے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا اس دن کوئی دستگیری نہیں کرسکے گا ، اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کو دم مارنے کی ہمت نہ ہوگی کہ تمہاری کوئی مدد کرسکے ، لہذا تم موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے جرم کا ارتکاب نہ کرو ، ورنہ سخت عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے ، (آیت) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد “۔ یاد رکھو ! جس شخص کو اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ، اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کی استعداد کی صلاحیت سے واقف ہے ، وہ اس آدمی کو گمراہ کرتا ہے جو اپنی ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر اپنی استعداد کو ہی بگاڑ چکا ہو ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہی نہ کرے اسے صراط مستقیم کیسے نصیب ہو سکتا ہے ؟ لہذا تم ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو اور اللہ کے نبی کو ایذاء نہ پہنچاؤ اس مرد مومن نے اپنی قوم کو یہ نصیحتیں کیں اس کا بیان آگلی آیات میں بھی جاری ہے ۔
Ayahs 40:34–37ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید اور جزائے عمل کی بات سمجھانے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جس وقت آپ نے فرعون ، ہامان ، اور قارون ، کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام رکھا تو انہوں نے آپ کو ساحر اور کذاب کہہ دیا ، فرعون خاص طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانے کے لیے بری تدبیریں سوچنے لگا ، اس نے اپنے حواریوں سے کہا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے دو ، موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر متکبر کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ۔ اس دوران میں فرعون کی قوم کا ایک مرد مومن سامنے آگیا جو اپنے ایمان کو چھپا رہا تھا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم ایک ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتا ہے اور وہ تمہارے پاس کھلی نشانیاں بھی لے آیا ہے ، کہنے لگا اگر موسیٰ (علیہ السلام) غلط بیانی سے کام ہیں تو اس کو جھوٹے کا وبال انہی پر پڑے گا ، اور اگر وہ سچے ہیں تو تمہیں اپنی فکر کرنی چاہئے کہ کہیں یہ بیان کردہ وبال تم پر نہ آپڑے ۔
اس مرد مومن نے یہ بھی کہا کہ آج تو اقتدار ارضی تمہارے پاس ہے اور غرور میں مبتلا ہو کر دندناتے پھرتے ہو مگر جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آگئی تو پھر تمہیں کون بچائیگا ؟ مگر فرعون اپنی ضد پر اڑا رہا اور کہنے لگا کہ میں تو تمہارے سامنے وہی بات پیش کرتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہ یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹا دینا چاہئے ورنہ وہ تمہارے طور طریقے اور دین کو بدل ڈالے گا اور تمہارے اقتدار پر بھی قبضہ کرلے گا ، اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ مجھے ڈر ہے کہ تم پر بھی عذاب الہی کا وہی دن نہ آجائے جو تم سے پہلے قوم نوح ، قوم ثمود ، اور قوم عاد ، پر آیا ، لوگو ! میں ڈرتا ہوں کہ تم پر چیخ و پکار کا دن آئے گا تو تم بشت پھیر کر بھاگو گے مگر اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی بچانے والا نہ ہوگا ۔
(بعد از وقت افسوس)
آج کے درس کی ابتدائی آیات میں مرد مومن ہی کی تقریر جاری ہے اور پھر آگے فرعون کی ایک تدبیر کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد جآء کم یوسف من قبل بالبینت “۔ اور البتہ تحقیق آئے تمہارے پاس یوسف (علیہ السلام) اس سے پہلے کھلی باتیں لے کر (آیت) ” فما زلتم فی شک مما جآء کم بہ “۔ مگر تم برابر شک میں رہے اس چیز کے متعلق جو وہ لے کر آئے (آیت) ” حتی اذا ھلک “۔ حتی کہ جب آپ فوت ہوگئے ۔ (آیت) ” قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا “۔ تو تم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعد ایسا رسول نہیں بھیجے گا اس مرد مومن نے نصیحت آموز انداز میں اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ دیکھو ! اس سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبی بنا کر بھیجا مگر ان کی زندگی میں تم نے ان کو تسلیم نہ کیا مگر جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو پھر تم نے ان کی عظمت کو تسلیم کیا اور اقرار کیا کہ ان جیسا عظیم المرتبت نبی آب کہاں آئے گا گویا ان کے جانے کے بعد تمہیں افسوس ہوا ، اسی طرح آج موسیٰ (علیہ السلام) تم میں موجود ہیں مگر تم ہو کہ ان پر ایمان لانے کی بجائے اس کے قتل کے درپے ہو یاد رکھو ! جب یہ بھی دنیا سے چلے گئے تو یوسف (علیہ السلام) کی طرح تمہیں پھر افسوس ہوگا کہ تم نے ان کو تسلیم کیوں نہ کیا اور ان پر ایمان کیوں نہ لائے ۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تقریبا چار سو سال پہلے ہوئے ہیں مگر مرد مومن ان کا حوالہ اب دے رہے ہیں ، اس ضمن میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس وقت کے فرعون نے بڑی لمبی عمر پائی تھی اور وہی فرعون تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے زمانے سے زندہ چلا آرہا تھا ، اس مرد مومن نے اس کو یاد دلایا کہ تم یوسف (علیہ السلام) کا انکار کر کے پچھتائے تو اب موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کر کے بھی پچھتاؤ گے ، البتہ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جس طرح یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے مختلف ہیں اسی طرح ہر دو زمانوں کے فرعون بھی مختلف تھے ، اور جس یوسف (علیہ السلام) کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یوسف (علیہ السلام) بن یعقوب (علیہ السلام) نہیں بلکہ ان کے بعد کے دور کے یوسف بن افراہیم (علیہ السلام) تھے اور یہ بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ، آپ بھی اللہ کے نبی تھے ، انہوں بیس سال تک تبلیغ دین کی مگر قوم نے تسلیم نہ کیا اور ان کی وفات کے بعد ان کو سمجھ آئی تو بڑا ملال آیا ۔
شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ یہ حضرت یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) ہی ہیں ، اہل مصر نے آپ کی نبوت کو تسلیم نہ کیا آپ عرصہ تک مصر کے سیاہ وسفید کے مالک رہے اور اس دوران میں انہوں نے نظام سلطنت کو نہایت احسن طریقے سے چلایا ، خاص طور پر قحط کے سات سالوں میں آپ نے غلہ کی فراہمی کا جو بندوبست کیا وہ نہایت ہی عمدہ تھا جس کی وجہ سے دیگر ممالک کے برخلاف اہل مصر کو کوئی دقت پیش نہ آئی پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو نظام سلطنت میں بگاڑ پیدا ہونے لگا تو اس وقت لوگوں کو آپ کی نبوت اور استعداد کی قدر معلوم ہوئی تو پھر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کی زندگی میں ہم ان کو تسلیم نہ کرسکے ۔
الغرض ! اس مرد مومن کی تقریر کا مقصد اپنی قوم کو یہ باور کرانا تھا کہ نعمت کی قدر اس کے زوال کے بعد ہوتی ہے ، چناچہ یوسف (علیہ السلام) کی قدر بھی لوگوں کو ان کے جانے کے بعد ہوئی ، اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کرنے پر تمہیں بعد میں افسوس ہوگا فرمایا (آیت) ” کذلک یضل اللہ من ھو مسرف مرتاب “۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مسرف اور شک کرنے والے کو بہکا دیتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ ہدایت سے محروم رہتے ہیں ۔
(دلوں پر مہر)
آگے مسرف اور مرتاب لوگوں کے انجام کے متعلق فرمایا (آیت) ” الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن اتھم “۔ وہ مسرف اور شکی لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں بغیر کسی سند کے جھگڑا کرتے ہیں ۔ (آیت) ” کبر مقتا عند اللہ وعند الذین امنوا “۔ ان کا یہ جھگڑا اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان کے نزدیک بہت بڑی ناراضگی کی بات ہے ، ایسے جھگڑالو لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار “۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے ، ہر مغرور اور سرکش دل پر جو لوگ حق کو تسلیم کرنے کی بجائے اکٹر دکھاتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے دلوں پر اس سے معلوم ہوا کہ شک وتردد کی وجہ سے انسان گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور جھگڑا کرنے کے نتیجہ میں اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور وہ ہدایت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتا ہے ۔
(خدا کی شان میں گستاخی)
نصیحت کی یہ باتین سن کر فرعون کا رد عمل یہ تھا (آیت) ” وقال فرعون “ کہ فرعون نے کہا (آیت) ” یھامن ابن لی صرحا لعلی ابلغ الاسباب “۔ اے ہامان ! میرے لیے ایک اونچا مینار بناؤ شاید کہ میں راستوں پر پہنچ جاؤں اسباب السموت فاطلع الی الہ موسیٰ “۔ یعنی میں آسمانوں کے راستوں پر پہنچ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے الہ کو جھانک کر دیکھ سکوں ، یہ ہر رور کہتا ہے کہ اس کا خدا اوپر ہے ذرا میں دیکھوں کہ وہ کیسا ہے اور اس کے پاس کتنی قوت اور اعتبار ہے کہنے لگا (آیت) ” وانی لا ظنہ کاذبا “۔ میں تو اس معاملہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھتا ہوں ، مطلب یہ کہ آسمانوں پر کوئی خدا نہیں ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) خواہ مخواہ ہمیں ڈراتا رہتا ہے اور اس کی طرف سے عذاب کی وعید سناتا ہے یہ فرعون کا استہزاء تھا وگرنہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو جھانک کر دیکھ سکتا ہے یہ تو فرعون کی محض حجت بازی تھی ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ قرب قیامت میں یاجوج وماجوج ٹھکانوں سے نکل کر زمین میں پھیل جائیں گے اور تمام چیزوں کو درہم برہم کردیں گے اس کے بعد وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے وہ تیر خون آلود واپس آئے گے تو خوب نعرے ماریں گے کہ ہم نے خدا کو بھی قتل کردیا ، اب کوئی ہمارا مقابلہ کرنے والا باقی نہیں رہا ، فرعون نے بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں اسی قسم کی گستاخانہ بات کی کہ میں اسے جھانک کر دیکھنا چاہتا ہوں ۔
روس کے ڈکٹیٹر سٹالن نے بھی اس قسم کی ہرزہ سرائی کی تھی ، یہ شخص مسلمان تھا مگر مارکس ازم کا قائل ہو کر اشتراکی بن گیا ، اس نے تیس سال تک روس پر مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کی ، اس نے پورے روس کو اپنے شکنجے میں اس قدر جکڑ لیا کہ نہ تو باہر کا کوئی نظریہ روس میں داخل ہو سکتا تھا اور نہ یہاں کے لوگوں کی زبوں حالی کی داستان باہر جاسکتی تھی ، ایک موقع پر اس نے اپنی تقریر میں اس حد تک یا وہ کوئی اور کی تھی کہ ہم نے زمین سے سرمایہ داروں کو ختم کردیا ہے اور نعوذ باللہ آسمان سے خدا کو کا خاتمہ کردیا ہے کہتا تھا مذہبی جنونیوں نے خدا کو ایک ہوا بنا رکھا ہے مذہب ایک افیون ہے جو سرمایہ داروں اور علماء نے لوگوں کو کھلا رکھی ہے تاکہ ان کا کام چلتا رہے اور وہ لوگوں کا خون چوستے رہیں ، غرض اسی قسم کے گستاخی لوگ ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔
بہرحال فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ ایک اونچا مینار تعمیر کرے تاکہ وہ اوپر چڑھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھ سکے ، اس کے متعلق بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ فرعون نے یہ بات محض مسخر کے طور پر کہی تھی وگرنہ ایسا کوئی مینار تعمیر ہی نہیں ہوا تھا اور نہ اسے اوپر جا کر خدا کو جھانکنے کا موقع ملا تاہم بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ مینار تو تعمیر کیا گیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے تباہ کردیا اور فرعون کو اس پر چڑھنے کا موقع نہ ملا ۔
(برے اعمال کی۔۔۔۔۔۔ )
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وکذلک زین لفرعون سوء عملہ “۔ اسی طریقے سے فرعون کا برا عمل اس کے لیے مزین کردیا گیا تھا ، سورة الانعام میں ہے (آیت) ” وزین لھم الشیطن ماکانوا یعملون “۔ شیطان نے ان کے برے اعمال کو مزین یعنی خوبصورت کرکے دکھایا مشرکوں اور کافروں کے نزدیک ان کے اعمال باطلہ بڑے خوشنما ہوتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم برا اچھا کام کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کام سو فیصدی غلط ہوتے ہیں ، اسی طرح سرکشوں نے اعمال بد کو بھی خوبصورت کرکے دکھایا جاتا ہے اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کا طریقہ بالکل ٹھیک ہے ، مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہی عقائد و اعمال ان کے لیے وبال جان بن جاتے ہیں ۔
فرمایا اسی طرح فرعون کا عمل اس کو مزین کر کے دکھایا گیا اور وہ (آیت) ” وصد عن السبیل “۔ سیدھے راستے سے روک دیا گیا وہ بزعم خود سمجھتا رہا کہ وہ بالکل درست راستے پر جا رہا ہے مگر ایسے غلط راستے پر چل کر دنیا میں ہی ذلیل و خوار ہو اور آخرت کے دائمی عذاب کا بھی مستحق بن گیا ، فرمایا (آیت) ” وما کید فرعون الا فی تباب “۔ فرعون کی ہر تدبیر ہلاکت کے گڑھے میں جا کر گری اس کی کسی تدبیر نے اسے کچھ فائدہ نہ دیا بلکہ وہ خود ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوگیا ، موسیٰ (علیہ السلام) کو ختم کرتے کرتے خود ہی بمع لشکر اور حواریوں کے صفحہ ہستی سے ناپید ہوگیا ، اس مرد مومن کی قوم کو نصیحت بھی جاری ہے ۔