Ayahs 39:1–4نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزمر ہے ۔ اس سورة کے آخری رکوع میں جنت اور جہنم کی طرف جانے والے گروہوں کا ذکر ہے۔ زمر ، زمرہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے گروہ یا ٹولہ ہوتا ہے تو سورة کا نام اسی مناسب سے الزمر رکھا گیا ہے ۔
یہ سورة مکی زندگی میں نبوت کے چھٹے یا ساتویں سال میں نازل ہوئی جب کہ صحابہ کی ایک جماعت نے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی۔ اس سورة مبارکہ کی پچھتر آیات ، آٹھ رکوع ، 192 الفاظ اور چار ہزار حروف ہیں۔
مضامین سورة :
اس سورة مبارکہ کے مضامین بھی سابقہ سورة ص کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ اس سورة کی ابتداء اور انتہاء میں قرآن پاک کے بطور نصیحت ہونے کا ذکر تھا۔ تو اس سورة کی ابتداء اور انتہاء میں بھی یہی مضمون آرہا ہے۔ وہاں پر شروع ، وسط اور آخر میں توحید و رسالت کا ذکر تھا تو یہاں بھی ایسا ہی ہے ویسے مکی سورة ہونے کے ناطے اس سورة میں بھی چاروں بنیادی عقائد ، توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت کا ہی زیادہ تر تذکرہ ہے اور کچھ ضمنی مسائل بھی ہیں اس سورة کے بعد سات حوامیم سورتیں آ رہی ہیں جن میں سے ہر ایک حروفم مقطعات حم سے شروع ہوتی ہے بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ سات سورتیں پورے قرآن پاک کا لب لباب ہیں اور مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة الزمر حوامیم سورتوں کی تمہید ہے کہ دین کا خلاصہ اور نچوڑ اس سورة میں بیان کردیا گیا ہے اور وہ ہے (آیت) ” فاعبداللہ مخلصا لہ الدین “۔ یعنی عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرو ، اس حالت میں کہ صرف اسی کے لیے اطاعت کو خالص بتانے والے بن جاؤ ۔
اس سورة مبارکہ میں توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ شرک کا رد ہے اور چاروں بنیادی مسائل میں سے توحید کا پہلو زیادہ نمایاں ہے قرآن کی حقانیت کے ساتھ ساتھ اس سے مستفید ہونے والے لوگوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں اور اس سے اعراض کرنے والوں کا انجام بھی بیان ہوا ہے ، مشرکین کے ساتھ بحث و مباحثہ کا ذکر ہے اور ان کا انذار بھی کیا گیا ہے اس سورة مبارکہ میں جزائے عمل کا مسئلہ بھی بیان ہوگیا ہے ۔
(قرآن کی حقانیت)
سابقہ سورة کی طرح اس سورة کی ابتداء بھی قرآن کریم کی حقانیت وصداقت سے ہو رہی ہے ، مشرک لوگ اس کو وحی الہی تسلیم نہیں کرتے تھے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بار بار واضح کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” تنزیل الکتب من اللہ “۔ کتاب کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یہ کسی مخلوق کو کلام نہیں اور نہ یہ پیغمبر اسلام کا گھڑا ہوا ہے بلکہ اس کو تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمایا ہے اور یہ ایسی کتاب ہے (آیت) ” لاریب فیہ “ جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، اگر کوئی شخص اس میں شک کا اظہار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے دماغ کی کجی کی علامت ہے جس طرح بھینگے آدمی کو ایک چیز دو نظر آتی ہے اور یرقان کے مریض کو ہر چیز زرد نظر آتی ہے اسی طرح دماغ کے ٹیڑھے آدمی کو قرآن حکیم کے وحی الہی ہونے میں شکل نظر آتا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے اس کے تمام اصول صحیح اور واقعہ کے مطابق ہیں ، یہ خدا کا بےمثل کلام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے سب سے آخری کتاب کے طور پر نازل فرمایا ۔
فرمایا یہ قرآن اس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو ” العزیز “ یعنی کمال قوت کا مالک ہے وہ ہر چیز پر غالب ہے لہذا اس قرآن کی تکذیب یا مخالفت کرنے والے کو سزا دینے پر بھی قادر ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات ” الحکیم “ بھی ہے ، وہ تمام حکمتوں کا مالک ہے ، یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ منکرین اور مکذبین کی فوری گرفت نہیں کرتا ، بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے اس کا ارشاد ہے (آیت) ” واملی لھم ان کیدی متین “۔ (القلم : 45) میں ایسے لوگوں کو ڈھیل دیتا رہتا ہوں مگر میری تدبیر بڑی سخت ہے جب چاہوں گا پکڑ لوں گا اللہ تعالیٰ کا ہر حکم حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتا ہے مگر اس کا ادراک بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے ۔
(اخلاص فی العبادت)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق “۔ بیشک ہم نے اس کتاب کو آپکی طرف حق کے ساتھ اتارا ہے ، اور اس کی غرض وغایت یہ ہے (آیت) ” فاعبداللہ مخلصا لہ الدین “ “ کہ آپ عبادت کریں اللہ تعالیٰ کی اس حال میں کہ آپ خالص اسی کی اطاعت اور بندگی کرنے والے ہوں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں ، تمام صحف سماویہ اور تمام شرائع الہیہ کی یہی تعلیم ہے ، تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے اسی بات کی تبلیغ کی اور تمام عقلمند اور فطرت سلیمہ رکھنے والے لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عبادت صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہونی چاہئے ، اس کے علاوہ کوئی بھی مستحق عبادت نہیں ہے ، پھر تاکیدا فرمایا (آیت) ” الا للہ الدین الخالص “ خبردار ، آگاہ رہو کہ خالص اطاعت ، صرف اللہ تعالیٰ کا ہی حق ہے یہ اطاعت کسی دوسری ذات کے لیے نہیں ہوسکتی ،۔
امام بیضاوی (رح) ، امام زمحشری اور بعض دوسرے بڑے بڑے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اخلاص فی العبادت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک ہو ، اگر عبادت میں شرک یا دکھاوے کی ذرا بھی ملاوٹ ہے تو عبادت خالص نہیں رہے گی اور یہی چیز عبادت کی نامقبولیت کی علامت ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ دکھاوے کی عبادت کا میں کوئی اجر نہیں دوں گا بلکہ ایسا شخص الٹا ماخوذ ہوگا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیری اس عبادت کا میرے پاس کچھ بدلہ نہیں جس کو دکھانے کے لیے یہ عبادت کی تھی اس کا بدلہ اور اجر بھی اسی سے جا کرلے مگر وہ بیچارہ کہاں سے اجر دے گا ؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسا عبادت گزار عبادت و ریاضت کرنے کے باوجود اس کے اجر سے محروم رہے گا غرضیکہ عبادت کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ یہ شرک اور ریا کی آمیزش سے پاک ہو ، سورة الکہف میں فرمایا (آیت) ” فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا “ (آیت 110) جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھے اعمال انجام دے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شرک کی ملاوٹ نہ کرے اخلاص فی العبادت جبھی پیدا ہوگا ، جب انسان کا ایمان کامل ہوگا اور ایمان کا کمال یہ ہے کہ یہ شرک وریا سے پاک ہو ، حدیث شریف (1) (فیض القدیرص 216 ج 1 بحوالہ مستدرک عن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں آتا ہے ” اخلص فی دینک یکفیک قلیل من العمل “۔ یعنی اپنے دین میں اخلاص پیدا کرو اگر ایسا ہوگا تو تھوڑا عمل بھی کفایت کر جائے گا اور اگر اخلاص نہ ہوا تو بڑے سے بڑا عمل بھی رائیگاں جائے گا ، سورة ابراہیم میں موجود ہے (آیت) ” مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرماداشتدت بہ الریح فی یوم عاصف “۔ (آیت ، 18) کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے تیز آندھی راکھ کو اڑا لے جاتی ہے جب اعمال میں شرک و ریا کی آمیزش ہوگی تو ان میں وزن نہیں ہوگا ، اور وہ گردغبار کی طرح اڑ جائیں گے سورة القارعہ میں بھی ہے کہ قیامت والے دن جن لوگوں کے اعمال وزنی ہوں گے وہ دل پسند آرام میں ہوں گے (آیت) ” واما من خفت موازینہ ، فامہ ھاویۃ ۔ اور جس کے وزن ہلکے ہوں گے ، اس کا مرجع ہاویہ دوزخ ہے حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ ایمان سے خالی لوگوں کے پہاڑوں جیسے اعمال بھی گرد و غبار کی طرح اڑ جائیں گے ۔
ایک صحابی ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ جب میں صدقہ خیرات کرتا ہوں تو میرے ذہن میں دو باتیں آتی ہیں ، ایک یہ کہ مجھے اس صدقہ خیرات کا آخرت میں بدلہ ملے اور دوسرا یہ کہ لوگ میری تعریف کریں تو کیا مجھے ایسے صدقہ خیرات کا فائدہ پہنچے گا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، جو عمل ریا کے لیے کیا جائے گا ، خدا کے ہاں اس کا کوئی بدلہ نہیں ملے گا ، بلکہ خدا ایسے عمل کو باطل کردیتا ہے ، جس طرح شک کرنے سے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں ، اسی طرح ریا کاری سے بھی نیکی ضائع ہوجاتی ہے اور احسان جتلانا بھی عمل کو برباد کرنے کے مترادف ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقہ سے ہونی چاہئے کہ اس میں شرک ، ریا اور بدعت کی ملاوٹ نہ ہو ، ہر عبادت اللہ تعالیٰ اس کے رسول اور شریعت مطہرہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کی جائیگی تو اس کا فائدہ ہوگا ، ورنہ وہ ضائع ہو جائیگی ۔
آگے مشرکوں کی تردید میں ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیآئ “۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو حمایتی اور کارساز بنا لیا ہے وہ کہتے ہیں (آیت) ” ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ لزلفی “ ہم تو ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کا قرب دلا دیں ” زلفی “ کا معنی درجہ اور مرتبہ ہوتا ہے ، یعنی ہمارا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں ، عبادت انتہا درجے کی تعظیم کو کہتے ہیں اور یہ قول وفعل اور عمل ہر طریقے سے ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو کارساز سمجھنا اس کی تعظیم کرنا ، نذارنے پیش کرنا ان کی عبادت کرنے کے مترادف ہے اور مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ ہماری سفارش کرکے ہمیں اللہ کا قرب دلادیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا یہ عقیدہ ہی غلط ہے کیونکہ غیر اللہ کی عبادت ہی تو کفر ، شرک اور بغاوت ہے ، یہ چیز اخلاص کے بھی خلاف ہے اور اصول کے بھی اور ان کی سفارش بھی جبری قسم کی سفارش ہے کہ ان کے خود ساختہ معبود ان کو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑا کر اس کا قرب دلا دیں گے ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب ایمان اور اخلاص کے بغیر کبھی حاصل نہیں ہو سکتا ۔
فرمایا (آیت) ” ان اللہ یحکم بینھم فیکم فیہ یختلفون “۔ بیشک اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ان چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں اب تو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود انہیں بچا لیں گے ، مگر اس بات کا حتمی فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ہی ہوگا اور وہاں پتہ چلے گا کہ وہ انکے کسی طرح کام آتے ہیں فرمایا (آیت) ” ان اللہ لا یھدی من ھو کذب کفار “۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی راہنمائی نہیں کرتا جو جھوٹا اور ناشکرگزار ہو ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ غیر کی عبادت کا عقیدہ رکھنا تو خالصتا کذب اور افتراء ہے ظاہر ہے کہ غلط عقیدہ رکھنے والا آدمی اور پھر اس پر اصرار کرنے والا جھوٹا ہے جب تک وہ اس اصرار کو ترک نہیں کرے گا ظلم کو ترک کرکے عدل کا طالب نہیں ہوگا اور کفر اور شرک کی بجائے حق کا طالب نہیں ہوگا اسے ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی ، اس طرح جو شخص سچی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور غلط عقیدہ رکھتا ہے وہ گویا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفران کر رہا ہے لہذا ایسے شخص کو بھی راہ راست کی طرف راہنمائی نہیں حاصل ہوسکتی ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ غیر اللہ کو حامی وناصر اور کارساز جاننے والا عقیدہ باطل ہے ، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی کسی کو اس کا قرب نہیں دلا سکتا اور نہ کوئی اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کرسکتا ہے ، سفارش تو اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی سے ہوگی (آیت) ” من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ “۔ (البقرہ : 255) کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے ؟ کوئی بھی نہیں ، سفارش صرف اس شخص کے لیے ہوگی جس کا عقیدہ درست ہوگا وگرنہ ناشکرگزاروں کو تو راہ راست نصیب نہیں ہوتا ۔
(ولدیت کا باطل عقیدہ)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ولدیت کے باطل عقیدے کا رد کیا ہے لوگ مسیح (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے تھے ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے یا مخلوق میں سے کسی اور کو خدا کی اولاد تسلیم کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ جو چاہیں خدا سے کروا سکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لوارادہ اللہ ان یتخذ ولد “۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی اولاد بنانا چاہتا تو ظاہر ہے (آیت) ” لاصطفی مما یخلوق مایشآئ “۔ وہ اپنی مخلوق میں سے ہی جس کا چاہتا منتخب کرتا ، اللہ تعالیٰ خالق ہے اور باقی سب مخلوق ہے ، لہذا اگر وہ کسی کو اولاد بنانے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کی مخلوق میں سے ہی کوئی ہوتا اور دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اولاد اپنے باپ کی ہم جنس ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ خالق اور مخلوق ہم جنس بن جاتے اور یہی چیز حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ (الشوری 11) خدا کی مانند کوئی چیز نہیں ہے لہذا خالق اور مخلوق کا ہم جنس ہونا بھی ناممکن ہے مطلب یہ ہوا کہ چونکہ خالق اور مخلوق کا ہم جنس ہونا محال ہے فرمایا ” سبحنہ “ وہ ذات تو ہر قسم کے عیب ، نقص ، کمزوری اور اولاد سے پاک ہے لوگوں نے ولدیت کا عقیدہ غلط طور پر بنا رکھا ہے ، سورة جن میں اللہ تعالیٰ نے جنوں کی زبان سے کہلوایا ہے (آیت) ” وانہ تعلی جد ربنا ما اتخذا صاحبۃ والاولدا “۔ (آیت 3) ہمارے رب تعالیٰ کی ذات بہت بلند ہے اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد ، وہ ایسی چیزوں سے پاک ہے (آیت) ” ھو اللہ الوادۃ القہار “۔ وہ یگانہ ہے اور قہار ہے کہ ہر چیز اس کے دباؤ میں ہے کوئی چیز اس کے تسلط سے باہر نہیں ، وہ جب چاہئے گا ولدیت کا باطل عقیدہ رکھنے والوں کو گرفت میں لے لیگا ، اللہ تعالیٰ نے اصول دین بتلا دیا ہے کہ اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کی عبادت کرو آگے توحید کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔
Ayahs 39:5–7ربط آیات :
قرآن حکیم کی صداقت اور وحی الہی کی حقا انیت کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کے اصل الاصول (آیت) ” فاعبد اللہ مخلصالہ الدین “ کی حقیقت کو آشکارا فرمایا کہ عبادت خالص اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہئے جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک ہو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں اور انہیں جزائے عمل کی منزل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے مبرا اور منزہ ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ولدیت کے عقیدہ کی نفی کی اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اولاد بنانا چاہتا تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی مخلوق میں سے ہی کسی کو منتخب کرتا ، اور اولاد کے ہم جنس ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں ہوسکتا ، تو اس طرح گویا اللہ تعالیٰ اپنی ہی مخلوق کا ہم جنس ٹھہرتا اور یہی اس کے لیے عیب والی بات ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عیب ، نقص اور کمزوری سے پاک ہے تو معلوم ہوا کہ ولدیت کا عقیدہ بھی من گھڑت اور باطل ہے ۔
(دلائل توحید (1) نظام کائنات)
عقیدہ توحید بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اس کے کچھ عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے (آیت) ” خلق السموت والارض بالحق “۔ جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ، یعنی کائنات کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت اور مصلحت کے تحت واقع ہوئی ہے اس سے ان لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے جو پورے نظام کائنات کو عبث خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی ان کا خالق نہیں ، بس یہ چیزیں شروع سے اسی طرح چلی آرہی ہیں اور اسی طرح چلتی رہی گی ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے ، اس کی ابتدا بھی ہے اور اس کی انتہاء بھی لازما ہوگی ، سورة آل عمران کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان نیک بندوں کا تذکرہ فرمایا جو راض وسما کی تخلیق میں غور وفکر کرتے ہیں اور وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں (آیت) ” ربنا ماخلقت ھذا باطلا “۔ (آیت : 191) پروردگار ! تو نے یہ سب کچھ بیکار محض پیدا نہیں کیا ، بلکہ بنی نوع انسان کی مصلحت کے لیے اپنی خاص حکمت کے تحت ان کی تخلیق فرمائی ہے ۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے (آیت) ” یکور الیل علی النھار ویکور النھار علی الیل “۔ جو رات کو دن پر لپٹیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے ، اس نے شب وروز کا یہ نظام اپنی حکمت بالغہ کے ساتھ قائم کردیا ہے جن کی آمد ورفت میں ذرا فرق نہیں پڑتا بلکہ ہر رات اور ہر دن اپنے اپنے مقررہ وقت پر یکے بعد دیگر آتے ہیں شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دن اور رات ایک پر دوسرا چلا آرہا ہے اور تھوڑا یعنی کمی بیشی نہیں ہوتی بلکہ یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے دن چلا گیا تو رات آگئی اور رات گئی تو دن نمودار ہوگیا ، اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر ولا الیل سابق النھار “۔ (یس۔۔۔ ) نہ تو سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ ہی رات دن سے پہلے آسکتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک نہایت ہی متوازن نظام قائم کردیا ہے جس کے ذریعے انسان اور دیگر جاندار اپنی ضروریات زندگی حاصل کرتے رہتے ہیں دن کے وقت انسان کام کاج کرکے اپنے لیے روزی کا سامان کرتے ہیں علم حاصل کرتے ہیں ، عبادت کرتے ہیں اور نیکی کے دوسرے اشغال انجام دیتے ہیں پھر جب وہ کام کاج سے تھک جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رات کو لے آتا ہے جس میں وہ آرام کرکے اپنی قوی کو بحال کرتے ہیں اور اگلے دن کے اشغال کے لیے پھر تازہ دم ہوجاتے ہیں ۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے (آیت) ” وسخر الشمس والقمر “۔ جس نے سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہے (آیت) ” کل تجری لاجل مسمی “۔ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چل رہا ہے اللہ تعالیٰ نے شمس وقمر کی تخلیق اور ان کی مسلسل روانی میں بھی انسانوں کی مصلحت کے کیسے کیسے سامان پیدا کیے ہیں ، شمس وقمر کی ایک تو یومیہ حرکت ہے جس سے شب وروز پیدا ہوتے ہیں دونوں اپنی اپنی منازل میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر دن اور رات ان کی منزل مختلف ہوتی ہے ، اس اختلاف کی وجہ سے سال بھر کے موسموں کا تغیر وتبدل واقع ہوتا ہے جن کے دوران مختلف پھل اور مختلف اجناس پیدا ہوتی ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتی ہیں یہ نظام کائنات اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت تک جاری رہیگا اور پھر جب وہ چاہے گا اس پورے نظام شمس وقمر کو درہم برہم کرکے قیامت برپا کر دے گا اور پھر دوسرا نظام قائم کرے گا ، اسی لیے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت تک چل رہا ہے ۔
فرمایا (آیت) ” الا ھوالعزیز الغفار “۔ آگاہ رہو کہ جس خدا تعالیٰ نے یہ نظام کائنات قائم کر رکھا ہے ، وہ کمال قوت کا مالک ہے اور بہت بخشش کرنے والا ہے ، یہ اس کی قوت کا ایک ادنی مظاہرہ ہے کہ اس نے چاند سورج ، زمین ، اور دیگر لاکھوں گنا بڑے سیارے قائم کر رکھے ہیں جو سب کے سب ایک مربوط نظام کے تحت اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں ، پھر اس کی شان غفاری بھی ہے کہ وہ مجرموں کو فورا گرفت میں نہیں لیتا بلکہ مہلت بھی دیتا ہے ، پھر جب کوئی سچے دل سے تائب ہو کر اس کی طرف رجوع کرلیتا ہے ، برائیوں کو چھوڑ کر نیکی کی طرف راغب ہوجاتا ہے اور ایمان کو قبول کرلیتا ہے ، تو اس کی عفو ومغفرت بھی جوش میں جوش میں آجاتی ہے اور وہ بندوں کے گناہوں کو معاف کرکے انہیں اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہے ۔
(2) (تخلیق نسل انسانی)
نظام کائنات کو بطور دلیل توحید پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کی تخلیق کو بھی اپنی وحدانیت اور قدرت کاملہ کی دلیل بنایا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” خلقکم من نفس واحدۃ “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ، (آیت) ” ثم جعل منھا زوجھا “۔ پھر اسی میں سے اس کا جوڑا بھی بنایا ہے ، اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ کی تخلیق مراد ہے ، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نسل انسانی کے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق کیا ، اور پھر آپ ہی کی پسلی سے آپ کی زوجہ حوا ؓ کو بھی نکالا ۔ پسلی چونکہ ٹیڑھی ہوتی ہے اس لیے ہر عورت میں فطرتا کجی پائی جاتی ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عورت سے اسی حالت میں کام لیتے رہو اور اس کی کجی کو درست کر نیکی کوشش نہ کرو ، کہیں یہ ٹوٹ یہ نہ جائے ، بہرحال نفس واحد سے تخلیق کا مضمون اللہ تعالیٰ نے سورة النساء کے آغاز میں بھی بیان فرمایا ہے اے لوگو ! اللہ سے ڈر جاؤ جس نے (آیت) ” خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونسآء “۔ (آیت : 10) تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ، پھر اسی میں سے اس کا جوڑا تخلیق کیا ، اور پھر ان دونوں میں سے کثیر تعداد میں مردوں اور عورتوں کو پھیلا دیا ، چناچہ آج دنیا کی پانچ ارب کی آبادی صرف ایک جان سے ہی پھیلی ہے ، (آیت) ” کی قدرت کاملہ کی یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے ۔
(3) مویشیوں کے آٹھ جوڑے)
اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی تیسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” انزل لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج “۔ اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے اتارے ، ان جانوروں کی تفصیل سورة الانعام میں موجود ہے کہ ان سے مراد اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری نر اور مادہ مراد ہیں ، یہ حلال جانور ہیں اور انہی کی قربانی بھی کی جاتی ہے ، یہ جانور خاص طور پر انسان کے خادم ہیں اور لوگ ان سے کئی طرح سے مستفید ہوتے ہیں ، اونٹ بار برادری اور سواری کے کام آتا ہے گائے بیل ہل جوتنے میں بڑے مفید ہیں اور ان کے ذریعے کنوئیں سے پانی بھی کھینچا جاتا ہے بھیڑ اور بکریاں خاص طور پر اون پیدا کرتی ہیں جو لباس اور دیگر ضرورت زندگی میں کام آتی ہے ، اس کے علاوہ ان جانوروں کا گوشت اور دودھ بکثرت استعمال ہوتا ہے اور ان کی کھال اور ہڈیاں بھی انسانی ضروریات میں کام آتی ہیں یہ پالتو جانور ہیں اور انسان مزاج کے بہت قریب ہیں لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کرکے انسانی خدمت پر مامور کردیا ہے ۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ ان جانوروں کے لیے تخلیق کی بجائے نزول کا لفظ استعمال کیا ہے حالانکہ یہ جانور کہیں اوپر سے تو نہیں نازل ہوتے بلکہ زمین پر ہی پیدا ہوتے ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کا یہ بھی ایک اسلوب بیان ہے اور یہ ان جانوروں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے لوہے کے متعلق بھی فرمایا ہے (آیت) ” وانزلنا الحدید فیہ باس شدید ومنافع للناس “۔ (الحدید ، 25) اور ہم نے لوہا اتارا جس میں شدید خطرہ بھی ہے اور لوگوں کے لیے فوائد بھی ، اسی طرح لباس کے لیے بھی نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے (آیت) ” یبنی ادم قد انزلنا علیکم لباسا یوادی سواتکم وریشا “۔ (اعراف ، 26) اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا جو کہ تمہاری ستر پوشی اور زینت کے کام آتا ہے ، ان تمام مقامات پر نزول کا معنی کہیں اوپر سے اتارنا نہیں بلکہ پیدا کرنا ہی ہے ۔
بعض مفسرین نے لفظ نزول کی بعض توجیہات بھی کی ہیں ، وہ فرماتے ہیں ، کہ جانوروں کی زندگی کا مدار پانی اور چارے پر ہے اور پانی کو اللہ تعالیٰ بارش کی صورت میں اوپر کی طرف سے نازل کرتا ہے جس سے سبزہ پیدا ہونا ہے اور جانوروں کی خوراک بنتا ہے ، لہذا ان جانوروں کو مجازی طور پر نازل کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
بعض فرماتے ہیں کہ جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ کو جنت سے اتارا گیا تھا ، اسی طرح بعض دیگر اشیاء مثلا حجرا اسود اور خوشبو کو بھی جنت سے اتارنے کا ذکر ملتا ہے ، اسی طرح ان مویشیوں کو بھی جنت سے ہی اتارا گیا اس لیے ان کے لیے ” انزل “ کا لفظ استعمال ہوا ہے بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ ” انزل “ کا مادہ ” نزل “ نہیں بلکہ ” نزل “ ہے جس کا معنی مہمان نوازی ہوتا ہے یہ آٹھ قسم کے جانور بھی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی خدمت اور مہمان نوازی کے لیے پیدا کیے ہیں لہذا ان کے لیے ” انزل “ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔
(4) (شکم مادر میں پرورش)
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا چوتھا نمونہ اس طرح ذکر فرمایا ہے (آیت) ” یخلقکم فی بطون امھتکم خلقا من بعد خلق “۔ وہی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے ایک درجے کے بعد دوسرے درجے پر یعنی شکم مادر میں تمہاری نشونما بتدریج مرحلہ اور عمل میں آتی ہے ، اس بات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے کئی مقامات پر کیا ہے مثلا سورة المؤمنون میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا پھر اس کو ایک مضبوط جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا ، پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا ، پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں ، پھر ہڈیوں پر گوشت پوست چڑھایا ، پھر اس کو نئی صورت میں تیار کردیا (آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخالقین “۔ (آیت : 14) بڑا بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے غرضیکہ فرمایا ہم نے ماں کے پیٹ میں تمہاری مرحلہ وار نشونما کی اور وہ بھی (آیت) ” فی ظلمت ثلث “۔ تین اندھیروں کے اندر دیکھ لیں ، جہاں بچہ پرورش پاتا ہے وہاں ایک تو ماں کے پیٹ کا اندھیرا ہوتا ہے پھر رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرا اندھیرا اس جھلی کا ہوتا ہے جس کے اندر بچہ نشونما پاتا ہے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو تمہیں تین اندھیروں میں حد کمال تک پہنچاتا ہے حالانکہ دنیا کی کوئی بھی مشینری اندھیرے میں کام نہیں کرسکتی بلکہ ذرا بھی برقی رو میں خرابی واقع ہوجائے تو سارا کام بند ہوجاتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی لگائی ہوئی فیکٹری ہے جس میں روشنی کی بھی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تہہ در تہہ اندھیروں میں انسان کو (آیت) ” فی احسن تقویم “۔ (التین ۔ 4) بہترین شکل و صورت میں پیدا فرماتا ہے ، اور یہ بھی اس کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہے ۔
(دعوت غور وفکر)
فرمایا (آیت) ” ذلکم اللہ ربکم “ یہ ہے تمہارا پروردگار جس کی صفات بیان ہوئی ہیں اور جس نے تمہاری مصلحت کے لیے کائنات کا نظام قائم کر رکھا ہے (آیت) ” لہ الملک “ اسی کی بادشاہی ہے اور اس کی سلطنت میں اس کا کوئی شریک نہیں (آیت) ” لا الہ الا ھو “۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، عبادت کے لائق تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو خالق ، مالک ، ہو اور واجب الوجود ہو جب یہ صفات ان کے سو کسی ذات میں نہیں پائی جائیں تو پھر معبود برحق بھی اس کے سوا کوئی نہیں فرمایا حقیقت تو یہ ہے (آیت) ” فانی تصرفون “۔ مگر تم کدھر پھیرے جا رہے ہو تم اس کو چھوڑ کر کس کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے ہو کس کی نذر ونیاز دیتے ہو اور کس کے سامنے سربسجود ہوتے ہو معبود برحق تو وہ ہے ۔
(کفر اور شکر کا تقابل)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان اور کفر کی حقیقت بھی سمجھا دی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان تکفروا “۔ اگر کفر کرو گے (آیت) ” فان اللہ غنی عنکم “۔ تو بیشک اللہ تعالیٰ تم سے بےپرواہ ہے انسان لاکھ بار بھی کفر کرے ، اللہ تعالیٰ کو کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ اور نہ اس کے ایمان لانے سے خدا تعالیٰ کی شان میں کوئی اضافہ ہوجاتا ہے اس کو کوئی مانے یا نہ مانے اس کی شان ربوبیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ، بلکہ کفر کرنے کا نقصان خود کفر کرنے والے کی ذات پر پڑتا ہے اور وہ کمال مطلب تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کو نجات حاصل ہو سکتی ہے اور اگر کوئی شخص ایمان اور توحید پر کاربند ہوتا ہے تو اس کا فائدہ خود اسی کی ذات کو پہنچے گا وہ راحت کے مقام خطیرۃ القدس تک پہنچ جائے گا اسے ترقی نصیب ہوگی تجلی اعظم سے تعلق قائم ہوجائے گا اور بالآخر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مقام میں پہنچ جائے گا اور اگر کفر کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ تو بےپرواہ ہے ، البتہ (آیت) ” ولا ۔۔۔۔۔۔ لعبادہ الکفر “۔ وہ اپنے سے کفر بات کو پسند نہیں کرتا اگرچہ وہ ایسا کرنے کی توفیق دے دیتا ہے اور کسی کو زبردستی روکتا نہیں ، اس نے نیکی اور بدی ، ایمان اور کفر دونوں راستے واضح کردے ہیں اور انسانوں کو اختیار دے دیا ہے ۔ (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر “۔ (الکہف ، 29) جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا راستہ اختیار کرے مگر ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ جو کفر کا راستہ پکڑے گا ، اس کے لیے آگے جہنم بھی تیار ہے ۔
فرمایا ، کفر کے بالمقابل (آیت) ” وان تشکروا “ اگر تم شکر ادا کرو گے ۔۔۔۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوجائے گا ، اس مقام پر کفر کے مقابلے میں ایمان کی بجائے شکر لایا گیا ہے ، امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں پر کفر سے عام کفر یعنی اللہ کی ذات ، صفات ، توحید ، رسل ، کتب سماویہ ، ملائکہ اور معاد کا انکار ہی مراد ہے اور شکر سے ایک خاص چیز مراد ہے ، آپ شکر کی تعریف میں لکھتے ہیں ” حلۃ مرکبۃ من قول و اعتقاد وعمل “۔ یعنی شکر قول اعتقاد اور عمل کا مرکب ہے ، قول یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا زبان سے اقرار کرے ، اعتقاد یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کا دل میں یقین ہو اللہ تعالیٰ کے رسولوں ، وحی الہی ، اس کی کتابوں اور قیامت پر ایمان ہو اور عمل یہ ہے کہ انسان اپنے اعضاء وجوارح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لائے تو فرمایا جس شخص میں یہ تینوں چیزیں پائی جائیں گی وہ گویا صحیح معنوں میں شکر کرنے والا ہوگا چناچہ یہاں پر شکر کے لفظ میں ایمان بھی موجود ہے ، اس لیے اس کو کفر کے مقابلہ میں لایا گیا ہے کہ شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ راضی ہوگا ۔
(بوجھ اپنا اپنا)
پھر فرمایا یاد کرو (آیت) ” ولا تزر وازرۃ وزر اخری “۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھانے کا ، بلکہ ہر ایک کو اپنے عقیدے اور عمل کا خود بھگتان کرنا ہوگا ، وہاں نہ کوئی رشتہ دار کام آئے گا اور نہ ہی کوئی ترجمان یا وکیل کھڑا ہو سکے گا جو کسی کی طرف سے جوابدہی کرسکے ، بلکہ (آیت) ” کل نفس تجادل عن نفسہا “۔ (النحل : 111) ہر شخص کو خود اپنا جھگڑا پیش کرنا ہوگا ، گویا ہر شخص کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا ۔
فرمایا (آیت) ” ثم الی ربکم مرجعکم “۔ پھر تم سب کا تمہارے پروردگار کی طرف ہی لوٹنا ہوگا سب کو اس کی عدالت میں لازما ذاتی طور پر پیش ہونا ہوگا ، (آیت) ” فینبئکم بما کنتم تعملون “۔ پھر وہ تمہیں بتلا دے گا جو کچھ کام تم دنیا میں کرتے تھے اس نے تمہارا ایک ایک قول ، فعل اور عمل محفوظ کرکے رکھا ہوا ہے اور قیامت والے دن تمہارے سامنے پیش کر دے گا ، وہ علیم کل ہے کہ اسے تمہارے ہر عمل کا علم ہے اور مختار کل ہے کہ وہ انہیں حاضر کرنے پر بھی قادر ہے ، اور پھر اس کا علم اس قدر وسیع ہے (آیت) ” انہ علیم بذات الصدور “۔ کہ وہ سینوں کے مخفی رازوں کو بھی جانتا ہے وہ ایسے بھیدوں سے بھی واقف ہے جن کو دنیا میں تمہارے سوا کوئی نہیں جانتا تھا وہ تمام رازوں کو افشا کر دے گا اور پھر ہر عمل کا حساب کتاب ہوگا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے ۔
Ayahs 39:8–10ربط آیات :
سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس حال میں کہ صرف اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرنے والے ہو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی طرح بھی شریک نہ بناؤ نہ اس کی ذات میں ، نہ صفات میں اور نہ ہی ولدیت کا عقیدہ رکھو ، اللہ تعالیٰ واحد اور قہار ہے اور ساری کائنات اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی کے تصرف میں ہے ، پھر فرمایا انسانوں کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جان سے کی ہے اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور تمہارے فائدے کے لیے مویشیوں کے آٹھ جوڑے بنائے ، تمہاری پیدائش بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب طریقے سے کی ماؤں کے پیٹوں کے اندھیروں میں تمہارا ڈھانچہ تیار ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہی تمہارا پروردگار اور مستحق عبادت ہے پھر فرمایا کہ اگر تم اس کی وحدانیت کا انکار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تو بےپرواہ ہے تمہارے کفر کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ، نہ اس کو کچھ نقصان پہنچ سکے گا مگر وہ اپنے بندوں سے کفر کی بات کو پسند نہیں کرتا ، اور اگر تم اس کا شکر ادا کرو گے تو وہ تم سے راضی ہوگا ، پھر فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے حتی کہ وہ سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق ہی بدلہ ملے گا ۔
(انسانی فطرت کے دو رخ)
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ناشکر گزاری کا حال اس طرح بیان فرمایا (آیت) ” واذا مس الانسان ضر “ اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے ” دعا ربہ منیبا الیہ “ تو پکارتا ہے اپنے پروردگار کو اس کی طرف رجوع رکھتے ہوئے اس انسان کی حالت عجیب ہے مصیبت کے وقت یہی سمجھتا ہے کہ اس کو دور کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں لہذا اسی کے سامنے گڑگڑاتا ہے (آیت) ” ثم اذا خولہ نعمۃ منہ “۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتا ہے یعنی جب تکلیف دور ہوجاتی ہے کوئی بیماری تھی تو شفا مل گئی ، تنگدستی تھی تو خوشحالی آگئی ، بےاولاد تھا تو اولاد مل گئی ، غرضیکہ جب کوئی نعمت حاصل ہوجاتی ہے ” نسی ما کان یدعوا الیہ من قبل “۔ تو پھر وہ اپنی اس پہلی حالت کو بالکل ہی بھول جاتا ہے جس کی طرف وہ پکارتا تھا ، گویا کہ اس کو کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں تھی چاہئے تو یہ تھا کہ جب اس کی تکلیف دور ہوچکی تو اپنے پروردگار کا شکریہ ادا کرتا جس کو وہ تکلیف کے وقت پکارتا تھا اور جس نے اس مصیبت کو رفع کردیا ، مگر انسان اس قدر ناشکر گزار ہے کہ اپنی اس سابقہ تکلیف کو ہی بھول جاتا ہے اور لہو ولعب میں مبتلا ہو کر ناشکر گزاری کا مظاہرہ کرتا ہے فرمایا ایک تو وہ تکلیف کے رفع ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا اور دوسرا ظلم یہ کرتا ہے (آیت) ” وجعل للہ ان دادا “ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھرانے لگتا ہے مصیبت تو اللہ تعالیٰ نے دور کی تھی مگر وہ نذر ونیاز دوسروں کی دینے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی تکلیف فلاں بزرگ کی وجہ سے دور ہوئی ہے یا یہ فلاں ستارے یا سیارے کے اثرات کا نتیجہ ہے اور پھر اس غلط عقیدہ کا پراپیگنڈا بھی کرتا ہے ” لیضل عن سبیلہ “ تاکہ دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے گمراہ کردے ، پھر یہ شخص اپنے قول ، فعل اور عمل سے دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو بالکل فراموش کردیتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ ان لوگوں کو واضح طور پر کہہ دیں ” تمتع بکفرک قلیلا “۔ اپنے اس کفر کے ساتھ تھوڑا عرصہ تک فائدہ اٹھا لو ، اپنے اس باطل عقیدے کے سایہ میں اس دنیا کی زندگی میں عیش و آرام کرلو ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ہے لیکن بالآخر (آیت) ” انک من اصحب النار “۔ بیشک تم دوزخ والوں میں سے ہو تمہارے اس شرک اور ناشکری کا بدلہ تمہیں دوزخ کی صورت میں ملے گا جہاں سے رہائی کی کوئی صورت نہیں ہوگی ، اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورة العنکبوت میں اس طرح بیان فرمایا (آیت) ” فاذا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین ، فلما نجھم لی البر اذا ھم یشرکون “۔ (آیت 65) جب مشرک لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں اور وہ کشتی گرداب میں پھنس جاتی ہے تو اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے خالصتا اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو پھر اس کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں اور اس نجات کو دوسروں کے ساتھ منسوب کرنا شروع کردیتے ہیں فرمایا یہ کتنے ناشکر گزار لوگ ہیں جو تنگی کے وقت تو اسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، مگر خوشحالی کے وقت اس کو فراموش کردیتے ہیں اور اس آسودگی کا سہرا دوسروں کے سر پر باندھ دیتے ہیں ۔
(نیک وبد کا تقابل)
آگے اللہ تعالیٰ نے نیک وبد میں تقابل کے طور پر فرمایا ہے (آیت) ” امن ھو قانت “ بھلا وہ شخص جو کہ اطاعت کرنے والا ہے (آیت) ” اناء الیل ساجدا وقائما “۔ رات کی گھڑیوں میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے (آیت) ” یحذر الاخرۃ “۔ اور وہ آخرت سے ڈرتا بھی ہے (آیت) ” ویرجوا رحمۃ ربہ “۔ اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے ، فرمایا کہ کیا ایسا خدا پرست انسان نافرمانوں اور ناشکر گزاروں کے برابر ہو سکتا ہے ؟ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا ۔
اس مقام پر لفظ قانت استعمال ہوا ہے جس کا معنی ہم نے اطاعت کرنے والا کیا ہے قنوت کا لفظ نماز کی ایک خاص حالت کے متعلق بھی آیا ہے (آیت) ” وقوموا للہ قانتین “۔ (البقرہ : 238) یعنی نماز کے لیے ایسی حالت میں کھڑے ہو کر خدا کے سامنے عاجزی کرنے والے ہو نگاہ کو بالکل نیچے رکھو اور دائیں بائیں التفات نہ کرو ، نہ کپڑوں کے ساتھ کھیلو اور نہ کسی اور شغل میں مشغول ہو ، اس کے علاوہ قنوت کا معنی لمبی قرات کرنا بھی ہوتا ہے حدیث میں آتا ہے ” افضل الصلوۃ طول القنوت “ افضل نماز وہ ہے جس میں لمبی قرات کی جائے ، البتہ فقہائے کرام میں اس بات میں اختلاف ہے کہ لمبی قرات زیادہ افضل ہے یا زیادہ سجدے کرنا افضل ہے بعض فرماتے ہیں کہ سجدہ بڑی بلند عبادت ہے جس سے قرب الہی حاصل ہوتا ہے ، لہذا زیادہ سجدے کرنے میں فضیلت ہے لیکن امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں قرات زیادہ کرنے میں زیادہ فائدہ ہے ۔
بہرحال قنوت کا معنی اطاعت ہوتا ہے اور نماز میں قنوت کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پورے سکون کے ساتھ سجدے کی جگہ پر نگاہ رکھتے ہوئے نہایت عجز و انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو تو فرمایا جو شخص سکون کے ساتھ قیام و سجود کرتا ہے آخرت سے ڈرتا ہے اور خدا کی رحمت کا امیدوار ہے وہ نافرمانوں کے برابر ہرگز نہیں ہو سکتا ۔
پھر فرمایا ’ قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیں (آیت) ” ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون “ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے یعنی عالم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں ؟ بالکل نہیں ، ایماندار اور فاجر برابر نہیں ہو سکتے اگر ایسا ہو تو پھر تو اندھیرنگری بن جائے ، نیکی اور بدی کا معیار ہی باقی نہ رہے ، علم وجہالت خلط ملط ہوجائیں ، فرمایا یہ دونوں گروہ مساوی نہیں ہوسکتے علم کا حاصل کرنا تو فرائض میں داخل ہے علم کے بغیر انسان نہ خدا کی ذات کو پہچان سکتا ہے نہ اس کی صفات کو ، نہ توحید کو ، نہ آخرت کے معاملات اور نہ ہی حقوق کی ادائیگی میں تمیز کرسکتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ اہل علم اور بےعلم کبھی برابر نہیں ہو سکتے ، فرمایا (آیت) ” انما یتذکر اولوالالباب “۔ ایسی مثالوں سے تو صاحب عقل و دانش ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں ۔
(تقوی کی منزل)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے خوف خدا کی تلقین فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل یعباد الذین امنوا اتقوا ربکم “۔ اے پیغمبر ! آپ میرے ان بندوں کو کہہ دیں جو ایمان لے آئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہیں کہ کہیں ان کی کوئی نافرمانی نہ ہوجائے کہیں کفر ، شرک اور نفاق میں ملوث نہ ہوجائیں ، ایسا نہ ہو کہ ہم میں شقاوت پیدا ہوجائے ، اور ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوجائیں ، اسی لیے فرمایا کہ میرے بندو ! اپنے قول وفعل عمل اور اخلاق میں نہایت محتاط رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تقوی کا معنی (1) (الطاف القدس مترجم ص 93) محافظت است برحدود شرع کرتے ہیں ، یعنی شریعت کی حدود کو قائم رکھنے کا نام تقوی ہے سب سے پہلے اپنے اعتقاد اور ایمان کی حفاظت کرو اس میں کفر ، شرک اور بدعقیدگی کو داخل نہ ہونے دو ، اپنے ایمان کو بری نیت ، حسد ، بغض اور گندے اخلاق سے پاک رکھو ، فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ “۔ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کو اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے انہیں ان کی نیکی کا بدلہ ضرور ملے گا البتہ شرط یہ ہے کہ اس نیکی کی تہ میں ایمان موجود ہو ، اللہ تعالیٰ نے یہ ایک واضح اصول بتلا دیا ہے (آیت) ” فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ “۔ (الانباء : 14) جس شخص نے کوئی نیکی کا کام کیا بشرطیکہ وہ ایماندار ہو تو اس کی محنت کی ناقدری نہیں کی جائے گی بلکہ اس کی نیکی کا بدلہ ضرور دیا جائے گا ، یہاں بھی فرمایا کہ اس دنیا میں نیکی کے کام کرنے والوں کو آخرت میں لازما اچھا بدلہ ملے گا ۔
(ہجرت کا حکم)
اب آیت کے اگلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حالات کے مطابق ہجرت کر جانے کی ترغیب دی ہے ، اس حکم کے نزول کے وقت تک نبوۃ کے پانچ یا چھ سال گزر چکے تھے اہل ایمان کفار کی ایذارسانیوں کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے دو گروہ حبشہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وارض اللہ واسعۃ “ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی وسیع ہے لہذا اگر حالات بالکل نامساعد ہوجائیں تو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت ہے مطلب یہ کہ جب کسی مقام پر کفار کا غلبہ ہو اور خدا کے دین کو قائم رکھنا مشکل ہوجائے تو پھر ایمان اور دین کی حفاظت کے لیے اس جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا چاہئے ” شان الہجرۃ لشدید “ ہجرت میں تکلیف بھی بڑی اٹھانا پڑتی ہے وطن ، عزیز و اقارب ، زمین ومکان اور کاروبار ہرچیز کو چھوڑنا پڑتا ہے لہذا یہ مشکل کام ہے پھر دوران ہجرت مشکلات بھی پیش آسکتی ہیں ، دشمن کا خطرہ ہوتا ہے مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر رہائش اور کاروباری مسائل پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات آب وہوا بھی موافق نہیں آتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہجرت کا درجہ بھی بہت بڑا رکھا ہے اہل ایمان مہاجرین اور مجاہدین کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” اعظم درجۃ عند اللہ “۔ (التوبہ : 20) اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا بہت بڑا مرتبہ ہے اور یہ کامیاب لوگ ہیں اسی لیے حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے لیے ہجرت کی دعا بھی فرمائی ہے ” اللھم امض لاصحابی ھجرتھم ولا تردھم علی اعقابھم “۔ اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو نافذ فرما اور انکو واپس نہ پلٹنا کیونکہ ہجرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہجرت دین اور ایمان کی حفاظت کی خاطر کی جاتی ہے تاہم بعض اوقات ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے ، مثلا اگر کسی جگہ انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا یا اسے رزق حلال نصیب نہیں ہوتا تو اس پر ہجرت فرض ہوجاتی ہے جب مکہ فتح ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اب مکہ دارالاسلام بن گیا ہے لہذا یہاں سے ہجرت کا حکم ختم ہوگیا ہے ہاں اگر بعد میں کسی جگہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو ہجرت کا حکم نافذ العمل سمجھا جائے گا ۔
(صبر کا بےحساب اجر)
فرمایا جنہوں نے دین اور ایمان کی خاطر ہجرت کی اور مشکلات کو عبور کیا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا (آیت) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “۔ تو ایسے صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بلاحساب پورا بدلہ دے گا ، اللہ تعالیٰ نے ہر نیکی کے کام کے لیے اجر کی تحدید فرمائی ہے لیکن صبر کے متعلق فرمایا کہ اس کا اجر بےحساب ہوگا جس کی کوئی حد مقرر نہیں ، توحید ، ذکر الہی ، شکر نماز ، شعائر اللہ کی تعظیم وغیرہ کی طرح صبر بھی ملت ابراہیمی کا ایک بہت بڑا اصول ہے ۔
امام غزالی (رح) صبر کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کے مختلف مقامات ہیں کبھی جسمانی تکلیف پر صبر کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے برداشت کرنے کی توفیق طلب کی جاتی ہے کبھی اجتماعی مصائب پر صبر کی ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی صبر کے بغیر نہیں ہو سکتی ، وضو ، نماز روزہ ، حج جہاد وغیرہ کی انجام دہی میں صبر و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے ، معاصی سے بچاؤ کے لیے صبر کرنا پڑتا ہے غرضیکہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر صبر کا اظہار بےانتہاء اجر کا باعث ہوگا ۔